458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 25

Tadbeer by Umme Hani

جتنی دلکش وہ ساڑھی میں اس کمرے کے پر خمار ماحول میں لگ رہی تھی اتنے ہی خطرناک تیور اسکے چہرے پر تھے۔۔۔۔مجھے دیکھتے ہی تیز قدم اٹھاتی وہ میرے قریب کھڑی ہو کر کمر پر ہاتھ رکھے اپنا ایک آبرو چڑھائے غصے سے تن کر بولی

“میں پوچھ سکتی ہوں تم یہاں کیوں رکے تھے ۔۔۔”۔میں نے ماہم کو نظر انداز کر کر کے اپنا کوٹ اتار کر سامنے رکھی کرسی کی پشت سے لٹکادیا

“ہاں پوچھ سکتی ہو ۔۔۔میرے خیال سے تو تم پوچھ چکی ہوں ماہی “۔۔۔۔میراغیر سنجیدہ انداز اسے خاص پسند نہیں آیا تھا میں نے اسکے بگڑے تاثرات دیکھ کر میں نے مزید وضاحت دی

“یہ سب قاسم کا کیا دھرا ہے ۔۔پاپا سے بھی اسی نے اجازت لی تھی ۔۔۔مجھے بھی تمہاری طرح سب کچھ ہونے کے بعد ہی پتہ چلا ہے “۔۔۔۔میں نے بات کلیر کی مگر ماہم کے غصے پر کوئی اثر نہیں۔ پڑا ۔۔۔

“یہ سب کیا ہے عفان’ ۔۔۔ماہم کمرے کی طرف اشارہ کر کے پوچھنے لگی

“ایک حسین خواب ” ۔۔۔۔میں اسکی آنکھیں دیکھ کر بے خود سا ہو کر بولا

‘واٹ” ۔۔۔۔ماہم چلا کر بولی تو میں سنبھل گیا میری ساری بے خودی خماری کنارے جا لگی ۔۔۔۔ماہم کے تاثرات کچھ ایسے تھے میں نے بھی اسی کے انداز میں جواب دینا شروع کر دیے

“یہ سب کیا ہے۔۔۔۔ یہ تمہیں بھی نظر آ رہا ہے ماہی جیسے تمہاری یہ ساڑھی یہ سب تیاری تمہارے لئے ایک سرپرائز گفٹ تھا یہ سب بھی اسی گفٹ کا حصہ ہے ۔۔۔سب کی نظر میں تو ہم میاں بیوی ہیں نا “۔۔۔۔۔میں ماہم کے کچھ قریب ہو کر بولا ۔۔۔۔

ماہم نے ایک چبھتی ہوئی نظر مجھ پر ڈالی اور بیڈ پر رکھے اپنے ہینڈ بیگ سے اپنے کپڑے نکالنے لگی جو شاید صبح وہ پہن کر آئی تھی ۔۔۔اس سے پہلے کے وہ واش روم کا رخ کرتی میں نے اس کا راستہ روک لیا

“ماہی ابھی چینج مت کرو۔۔”۔۔۔میری فرمائش پر وہ تیکھے انداز سے مجھے گھورنے لگی

“کیوں۔۔۔۔۔ “

“تم کہتی ہو نا مجھے تعریف کرنا نہیں آتی ۔۔۔۔میں بتانا چاہتا ہوں تمہیں کہ تم مجھے کیسی لگتی ہو ۔”۔میں نے سوچا لگے ہاتھ اظہار کرنے میں کیا قباحت ہے ۔۔۔۔اگر اس نے برا منا بھی لیا تو کہہ دوں گا کہ مزاق کر رہا تھا ۔۔۔۔مگر ماہم کے خطرناک تاثرات دیکھ کر مجھے اپنا ارادہ ملتوی کرنا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔

“لیکن مجھے کچھ نہیں سننا ۔۔۔۔۔ایسی کوئی خواہش نہیں ہے مجھے ۔۔۔۔عفان مجھے وحشت ہو رہی ہے اس کمرے میں” ۔۔۔۔۔کچھ پل کے لئے ماہم نے اپنی آنکھیں میچ لیں ۔۔۔۔۔شاید اپنا غصہ ضبط کر رہی تھی پھر آنکھیں کھولیں تو آنکھوں کے کناروں پر نمی تھی لہجہ بھی پر نم سا تھا آنسوں کی آمیزش لئے ہوئے

“جب میں چینج کر کے آؤں مجھے یہ سب یہاں نظر نا آئے ۔”۔۔۔۔وہ بیڈ پر گلابوں سے بنے ہارٹ کی طرف اشارہ کر کے بولی اور ڈریسنگ روم میں چلی گئ میں اندر تک جھلس کر رہ گیا

“ہاں تمہیں بھلا کیوں خواہش ہو گئ مجھ سے کچھ سننے کی تمہارا کامران جو ہے تمہیں سنانے کے لئے ۔۔۔۔لیکن ماہی میں بھی دیکھتا ہوں تم مجھ سے اپنی بات کیسے منواتی ہو” ۔۔۔۔میں نے تپ کر سوچا اور مصصم ارادہ کر کے رہ گیا کہ ماہم کی بات ہرگز نہیں مانو گا ۔۔۔۔میں نے بیڈ پر بیٹھ کر اپنے شوز اتارے اور بیڈ پر چت لیٹ گیا ۔۔۔۔

“تمہیں اگر یہ سب اچھا نہیں بھی لگ رہا ماہم تو میں کیا کرو مجھے تو یہ سب کسی حسین خوب کی طرح محسور کر رہا ہے میں اپنے دل پر پابندیاں بھلا کیوں عائد کرو۔۔۔۔۔اپنے سارے خواب میں کس خوشی میں صرف اپنی آنکھوں تک محدود رکھو تمہاری آنکھوں کے رتجگے کیوں نا بنا دوں ۔۔۔میں نے سب کچھ ویسے ہی رہنے دیا کچھ ردوبدل نہیں کی ۔۔۔۔اور اپنا بازو اپنی آنکھوں پر رکھ کر آنکھیں بند کیے ماہم کا انتظار کرنے لگا ۔۔

۔۔۔جب وہ ڈرسنگ روم سے باہر آئی سب کچھ جوں کا توں دیکھ کر مزید تلملا گئ تھی میرے پاس آکر مجھے پکارنے لگی میرا نام لے کر مجھے مخاطب کرتی رہی ۔۔۔۔ایک بار دو بار تین بار مگر میں بھی ڈھیٹ بنا لیٹا رہا میں نے سوچا کہ وہ خود ہی تنگ آ کر ایسے ہی لیٹ جائے گی ۔۔۔۔مگر میں شاید بھول گیا تھا کہ وہ ماہی ہے ۔وہ کہاں مجھے بخشے گی ۔۔۔اس نے مجھے اچھی طرح سے جھنجوڑ کے رکھ دیا

“اٹھتے ہو کہ سر پھاڑو تمہارا “۔۔۔۔اسکے جارحانہ انداز پر میں بھی تلملا گیا غصہ تو ۔مجھے اس پر پہلے ہی آ رہا تھا

“کیا تکلیف ہے تمہیں ۔۔۔۔۔۔کیا ہر وقت جنگلی بلی بنی رہتی ہو ۔”۔۔۔میں نے اٹھتے ہوئے غصے سے کہا ۔۔۔اور بیڈ پر ٹیک لگائے بیڈ گیا

“ہاں ہوں میں جنگلی بلی اگر تم نے یہ گلاب یہ کینڈلز سب یہاں سے اٹھا کر پھنکے نہیں تو میں ” ۔۔۔۔وہ مجھ پر جھکے اپنی آنکھیں خطرناک حد تک پھلائے مجھے دھمکا رہی تھی

میں نے سے بازو سے پکڑ کر اپنے پاس بیٹھا لیا

“بیٹھو ادھر ۔۔۔۔مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ اتنی ہائپر کیوں ہو رہی ہو ۔۔۔۔۔”

“مسلہ کیا ہے میرے ساتھ ۔۔۔۔میرے ساتھ مسلہ یہ مسٹر عفان رضا کہ مجھے یہاں رکنا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔ ابھی کے ابھی مجھے گھر لیکر چلو میں نہیں سو سکتی یہاں ۔۔۔۔نا اس ماحول میں نا تمہارے ساتھ اس کمرے میں ۔”۔۔۔ماہم کی بات پر میرا دل سلگ کر رہ گیا تھا ۔۔۔میں نے بھی غصے سے بھپر کر جواب دیا

“اسوقت تو میں تمہیں کہیں نہیں لا جا سکتا ۔۔۔۔۔اور اب مجھے ڈسٹرب مت کرنا ‘۔۔۔۔میں نے بھی غصے سے انگلی اٹھا کر اسے تنبیہی انداز سے ٹوکا اور دوبارہ لیٹ گیا اپنی آنکھوں پر دوبارہ بازو رکھ لیا

“مت اٹھو یونہی لیٹے رہو ۔۔۔۔بھاڑ میں جاؤں تم ۔۔۔۔میں خود ہی یہ سب اٹھا کر پھنک دیتی ہوں ۔۔۔۔تکلیف تو مجھے ہو رہی ہے نا تمہیں فرق ہی کیا پڑتا ہے ۔”۔۔۔ماہم کی آواز آہستہ آہستہ دھیمی سی ہونے لگی پھر اسکی سسکیاں سنکر میں نے فورا سے آنکھوں سے اپنا بازو ہٹایا آنکھیں کھول کر فورا سے اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

وہ رو رہی تھی مگر کیوں ۔۔۔۔

‘”ماہی “

‘بات مت کرو مجھ سے ۔”۔۔۔۔وہ تڑپ کر بولی ۔۔۔۔میں کچھ پیچھے ہٹ گیا مگر اسکا رونا مجھے کون سا سکون بخش رہا تھا ۔۔۔۔اس لئے نہایت نرمی سے میں نے اس سے معذرت کی

“اچھا نا ایم سوری” ۔۔۔۔میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا

“کیوں رو رہی ہو بتاؤں مجھے “۔۔۔میرے لہجے میں خود با خود ہی نرمی آنے لگی

“ہاتھ چھوڑو میرا ۔۔۔تمہیں اس سے کیا” ۔۔۔۔وہ اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑوانے لگی

“پہلے بتاؤں کیوں رو رہی ہو کیا بات تکلیف دے رہی ہے تمہیں ۔”۔۔۔ میری بات پر اس نے میری طرف دیکھا آنسوں اسکے رخساروں کو بھگو رہے تھے

“اس کمرے میں موجود ہر چیز ۔۔”۔۔۔۔وہ ہاتھ کی پشت سے آنسوں صاف کرتے ہوئے بولی

“ایسا کیا ہے اس کمرے میں پھول ہیں اور گلاب تو تمہارے فیورٹ ہیں اسکی خوشبوں بھی تمہیں پسند ہے ۔۔۔۔رہ گئ یہ کینڈل تو یہ بھی جل جل کر اب تو ویسے ہی بجھنے والی ہیں ۔۔۔۔پھر کیا فرق پڑتا ہے کہ میں اسے ایک کونے میں پھنک دوں یا یہیں رہنے دوں’ ۔۔۔میں نے بہت محبت سے اسے سمجھانا چاہا میں چاہتا تھا کہ یہ کمرہ یونہی سجا رہے۔۔۔۔مگر ماہم ایموشنل سی ہونے لگی

“عفان میں ایک جیتی جاگتی انسان ہوں ۔۔۔۔اپنے خوابوں کی کرچیاں اپنی پلکوں سے اٹھائی ہیں میں نے ۔۔۔۔مجھے تکلیف ہوتی ہے ۔۔۔۔تم نہیں سمجھ سکتے ۔۔۔پہلے ہی میں بہت ڈس ہارٹ ہو رہی تھی پھر یہ سب” ۔۔۔وہ پھر سے رونے لگی ۔۔۔۔اسکی آنکھوں میں اس وقت کرب اور اضطراب کے علاؤہ اور کچھ نہیں تھا ۔۔۔۔میں اسکے اس طرح سے رونے پر پریشان سا رہ گیا تھا

“پہلے یہ رونا بند کرو اور مجھے بتاؤں کیوں ڈس ہارٹ ہو ۔۔۔۔جو بھی تمہارے دل میں ہے مجھ سے کہہ دو ماہی میں ہوں نا” ۔۔۔۔میری دریا دلی مجھے کتنی مہنگی پڑنے والی اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا تو کبھی ماہم کو یہ فراخدلی دیکھاتا ہی نہیں بہرحال ماہم پر میری بات جلد اثر انداز ہو گئ تھی اس لئے اس نے آنسوں صاف کیے

“تم لڑکی نہیں ہو عفان اس لئے ویسا فیل نہیں کر سکتے جیسا میں فیل کرتی ہوں ۔۔۔لڑکیوں کے جذبات اور احساسات نازک ہوتے ہیں جب ٹوٹتے ہیں تو انہیں تکلیف ذیادہ ہوتی ہے” ۔۔۔وہ معصومیت سے بولی

” یعنی لڑکی کے جذبات اور احساسات جاننے کے لئے لڑکی ہونا شرط ہے “۔۔۔۔۔میرے استفسار پر ماہی مجھے بس دیکھنے لگی

‘نہیں ۔۔۔۔ماہی ۔۔۔۔۔ جذبات اور احساسات کا تعلق دل سے ہوتا ہے اور یہ مرداور عورت دونوں کے پاس ہوتے ہیں ۔۔۔فرق یہ ہے کہ انکے ٹوٹنے پر لڑکیاں آنسوں بہا کر دل ہلکا کر لیتی ہیں ۔۔۔اور مرد بات بات پر روتا نہیں ہے ۔۔۔۔مگر تکلیف تو دونوں کو برابر کی ہوتی ہے “۔۔۔۔میں اسکے رخساروں پر ٹہرے آنسوں کو اپنی انگلیوں کے پوروں سے کسی موتیوں کی طرح چنتے ہوئے بول رہا تھا اور وہ مجھے ایک ٹک دیکھے جا رہی تھی اسکی آنکھیں کاجل کے پھیلنے اور رونے کی وجہ سے آنکھوں کا گلابی پن ۔۔۔۔میں کچھ دیر مہبوت سا ان میں دیکھتا رہا لیکن اگر مزید دیکھتا تو شاید ہوش کھونے لگتا اس لئے اپنی نظروں کا زاویہ بدلتے ہوئے ماہی سے اسکی رونے کی وجہ دریافت کرنے لگا

“اب اصل بات بتاؤں ۔۔۔چار بجنے والے ہیں اور مجھے بوووہت نیند آ رہی ہے “۔۔۔میں نے اپنی جمائی روکتے ہوئے کہا نیند تو مجھے سچ میں بڑی شدت سے آ رہی تھی ۔۔۔۔۔پورے دن کا جاگا ہوا تھا

“تم سو جاوں عفان۔۔۔۔۔”

“ماہی بتاؤں وجہ مجھے ۔۔۔۔ورنہ میں سو نہیں پاؤں گا ۔۔۔۔”

“شاید میری بات کی تمہارے نزدیک اتنی اہمیت نا ہو مگر سچ تو یہ ہے کہ جیسی ارینجمنٹ میں نے قاسم بھائی اور فاریہ کی شادی پر کی ہے ۔۔۔۔ایسا سب کچھ میں اپنی شادی پر چاہتی تھی ۔۔۔۔۔میں نے کامران سے اس بات کا تذکرہ بھی کیا تھا مگر اسے لگا میں اپنی شادی پر ایسا کر ہی سکتی مجھ میں اتنی ایبلٹی ہے ہی نہیں ۔۔۔۔۔ لیکن دیکھوں میں یہ سب کر کے دیکھا دیا ۔۔۔۔۔جیسا کبھی اپنے لئے سوچا تھا ۔۔۔۔۔”

میں خاموشی سے اسکی باتیں سننے لگا سوچنے لگا جبھی وہ ہر فنگشن کی واپسی پر اداس ہوتی تھی کل فنگشن کی واپسی پر رو ہی رہی تھی ۔۔۔۔ماہم مزید بولنے لگی

۔”اصولا تو مجھے خوش ہونا چاہیے تھا عفان ۔۔۔۔مگر میں خوش نہیں ہو پائی ۔۔یہ مت سمجھنا کہ مجھے فاریہ سے جیلیس فیل ہو رہی ہے۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ایسا نہیں ہے ۔۔۔۔لیکن یہ میرا خواب تھا ۔۔۔۔جو میں نے کامران کے لئے دیکھا تھا “۔۔۔۔بھل بھل آنسوں پھر سے اسکی آنکھوں سے بہنے لگے ۔۔۔۔۔پھر وہی کامران ۔۔۔۔۔میں تنگ آ چکا تھا اس کامران کے قصیدوں سے ۔۔۔۔مگر ماہم میرے ہر احساس سے بے خبر اپنی دھن میں بولے جا رہی تھی

“لیکن ہوا کیا عفان ۔۔۔۔۔میری شادی تو ویسے بھی نہیں ہوئی جیسے بہت سے عام سے لوگوں کی ہو جایا کرتی ہے ۔۔۔۔۔میں نے ایسے ہی کمرے کا خواب دیکھا تھا جیسا یہ ہے ۔۔۔۔مگر کامران کے لئے…. تم جانتے ہو اس نے کیا کہا تھا مجھ سے ۔۔۔۔اس نے کہا تھا۔۔۔کہ شادی کے رات وہ میرا استقبال پھولوں سے کرے گا میری راہوں کو گلابوں کی پتیوں سے بھر دے گا اور ان گلابوں کی پتیوں میں مجھے ایک بھی کانتا نہیں چبھے گا عفان میں گئ تھی اسکے کمرے میں اسی رات کو ۔۔۔۔ پہلا قدم رکھتے ہی میرے پیر گلابوں کی پتیوں پر پڑے تھے۔۔۔۔تم جانتے ہو اس میں واقع کوئی کانٹا نہیں لیکن پھر بھی میں بری طرح سے زخمی ہوئی تھی ۔۔۔۔مجھے وہ گلاب خاردار جھاڑیوں کی طرح نوچ رہے تھے عفان ۔۔۔۔۔پہلی بار میں نے یہ جانا کہ کانٹے تو صرف جسم کو کھرنچ لگاتے ہیں مگر پھول ۔۔۔پھولوں کے زخم توروح تک کو زخمی کر دیتے ہیں میرے سارے خواب ریزہ ریزہ ہو کررہ گئے ۔تھے ۔۔۔۔پھر بتاؤں ۔۔۔کیسے تمہارے ساتھ مجھے یہ سب اچھا لگ سکتا ہے ۔۔۔۔مطلب تم ۔۔۔۔جس کے بارے میں ۔۔۔۔میں کبھی اس طرح سے سوچ بھی نہیں سکتی” ۔۔۔۔۔وہ متواتر آنسوں بہائے بول رہی تھی ۔کامران کے نام پر میرے اعصاب چٹخنے لگتے تھے ۔۔۔۔کاش میں چپ چاپ سو جاتا کامران کی داستان تو نا سنی پڑتی کتنا آسان ہے ماہم کے لئے مجھ سے یہ سب کہنا ۔۔۔آخر اسے یہ کیوں سمجھ نہیں آتا کہ کامران کے الفاظ سن کر مجھ پر کیا بیت رہی ہے ۔۔۔۔اپنے شوہر کے منہ سے اسکی معشوقوں کے قصے کئ عورتوں نے سنے ہوں گئے مگر میں شاید پہلا مرد تھا جو اس دل چھو جانے والے ماحول میں بیٹھا اپنی بیوی کے منہ سے اسکے سابقہ منگتر کی پہلی رات کی خواہش سن رہا تھا ۔۔۔ماہم نے کامران کا نام لیکر میرے ہر خوشنما جذبے کو غارت کر کے رکھ دیا تھا میرے اندر آگ سی دہکنے لگی تھی ۔۔۔۔۔مگر ماہم کو بخشنے کے موڈ میں میں بھی نہیں تھا سب کچھ جانتے بوجھتے بھی میں اس سے وجہ پوچھنے لگا

“کیوں ماہی میرے بارے میں کیوں نہیں سوچ سکتی۔۔”۔۔میرے سوال اور بے تاب نظروں پر ماہی تذبذب سی ہونے لگی

“یہ کیسا سوال ہے عفان ۔۔۔تم جانتے ہو وجہ” ۔۔۔۔۔وہ کچھ ہچکچاتے ہوئے بولی

“نہیں ماہی میں تو نہیں جانتا وجہ۔۔۔۔ تم بتاوں نا کیوں نہیں سوچ سکتی میرے بارے میں۔” ۔۔۔۔میں بلکل انجان سا بن گیا ۔۔۔میری ساری خواہشات کو وہ کامران کا نام لیکر ویسے ہی خاک میں ڈال چکی تھی اس لئے میرے لہجے میں جلن کی آمیزش تھی

“ظاہر ہے تم پورے ایک سال چھوٹے ہو مجھ سے ۔۔۔”۔وہ آنسوں پونچتے ہوئے بولی

“یہ وجہ ہے ۔۔”۔۔اسکی وجہ سن کر میرا اپنا سر دیوار سے پھوڑنے کو چاہا ۔۔۔ماہم نے اثبات میں سر ہلایا

“ہاں نا عفان ۔۔۔۔یہ کوئی چھوٹی وجہ تو نہیں ہے۔۔۔کبھی دیکھا یا سنا ہے تم نے کہ لڑکی اپنے شوہر سے بڑی ہو ۔۔۔ہمیشہ شوہر ہی بڑے ہوتے ہیں “۔۔۔۔۔۔اپنی اس لوجک پر وہ خود ہی مطمئن تھی اس کے لئے بس یہی کافی تھا مگر میرا خون کھول کر رہ گیا

“ہاں ماہی واقع ہی تاریخ میں آج تک ایسا کبھی کچھ ہوا ہی نہیں ہے ۔”۔۔۔ میں نے طنزیہ یہ بات ماہم سے کی تھی مگر وہ کہاں ایسے طنز سمجھتی تھی

“وہی تو میں بھی یہی کہہ رہی ہوں کتنے شرم کی بات ہے نا ۔۔۔۔سوچوں جب لوگوں کو پتہ چلے گا کہ میں تم سے بڑی ہوں کیا سوچیں گئے ہمارے بارے میں۔”۔۔میرے طنز کا جیسا منہ توڑ جواب مجھے ملا تھا میں مزید اس موضوع پر بحث کرنا ہی نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔

“ہمم۔۔۔۔بس یہی ایک وجہ ہے” ۔۔۔۔میں پوری دلچسپی سے اسکے بیوقوفانہ جوز سن رہا تھا ۔۔۔۔

“نہیں اور بھی بہت سی وجوہات ہیں ۔۔۔۔”

“مثلا دوسری وجہ کیا ہے” ۔۔۔نیند سے میری آنکھیں بند سی ہو رہی تھیں

“دوسری وجہ یہ کہ میں تم سے ڈرتی نہیں ہوں ۔۔۔۔۔”

“واٹ “۔۔۔۔۔ میری نیند یک دم غائب سی ہو گئ یہ بھلا کیا وجہ تھی مجھے نا پسند کرنے کی

“ہاں نا عفان ۔۔۔۔میں سچ میں تم سے بلکل نہیں ڈرتی ۔۔۔۔تمہارا کوئی رعب شوب ہی نہیں ہے مجھ پر۔۔۔۔آئی مین شوہر اگر چار پانچ سال بڑا ہو تو بیوی اسکے رعب میں رہتی ہے۔۔۔ سال بھر چھوٹے شوہر سے کون ڈرتا ہے بھلا” ۔۔۔۔۔یہ وجہ بھی بے تکی سی تھی مگر بہرحال ماہم کی نزدیک اس بات کی اہمیت ہو گی۔۔۔۔میں گہری سانس لیتے ہوئے سوچا

مگر یہ کون سا نا ممکن تھا ۔۔اسکی ۔یہ خواہش تو میں بڑے آرام سے پوری کر سکتا تھا۔۔۔میرے اندر کے مرد نے بڑے غیرت مندانہ انداز سے مجھے تسلی دی

“اور تیسری ۔۔۔۔”

“تیسری یہ کہ میں تم سے محبت نہیں کرتی “۔۔۔۔۔اس تیسری وجہ کی وضاحت میں سننا ہی نہیں چاہتا تھا کیونکہ میں جانتا تھا ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ ماہم پھر سے کامران۔ کا قصہ لیکر بیٹھ جائے میں نے بات فوراسے آگے بڑھا دی

“باقی اور وجہ “

“نہیں بس اتنی ہی” ۔۔۔۔ماہم کی بات ختم ہونے پر میں۔ نے دل میں شکر ادا کیا

“اب میں سو جاؤں”

‘ہاں ۔۔۔”

‘تھنکس” ۔۔۔۔میں نے منہ بگڑاتے ہوئے کہا اور لیٹ گیا

“میں کہاں سوں گی عفان” ۔۔۔۔۔دل تو چاہا کہ کہو بھاڑ میں جا کر سو جاو ۔۔۔۔

میں نے غصے سے پہلے ماہم کو دیکھا پھر بیڈ پر رکھے پھولوں کو زمین پر پھینکا ۔۔۔۔پھر سونے کا اشارہ کرتے ہوئے لیٹ گیا ۔۔۔۔نیند تو پہلے ہی مجھے بہت آ رہی تھی اس لئے پل بھر ہی لگا ہو گا میرے سونے میں ۔۔۔۔۔

نا جانے ماہم کب سوئی کب نہیں ۔۔۔۔۔مجھےخبر نہیں ۔۔۔۔

********……..********

وہ ماہم ہی تھی ۔۔۔میری ماہم ۔۔۔میرے پاس بیٹھ گئ “عفان ۔”۔۔۔ماہم کی آواز میں نے ناجانے کتنے مہینوں بعد اپنے کانوں سے سنی تھی ۔۔۔۔ اسکی آواز میں درد تھا آنسوں کی آمیزش تھی۔۔۔۔۔اداسی تھی ۔۔۔آزردگی تھی ۔۔۔۔میرا جی چاہا میں اپنی ساری قوتوں کو مجتمع کر کے اٹھ بیٹھو ۔۔۔میں ۔اپنی ماہی کو دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔اسکے آنسوں کو اپنی ہتھیلیوں میں جذب کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔وہ کیوں اداس تھی ۔۔۔۔کیوں اتنی ملول تھی کیوں غم زدہ تھی ۔۔۔۔۔

“عفان کیسے ہیں آپ ۔۔”۔۔ماہم کی آواز سے میری دھڑکنیں بڑی تیزی سے بڑھنے لگیں ۔۔۔۔

وہ رو نہیں رہی تھی مگر بہت آفسردہ سی تھی ۔۔۔۔اسکی آواز میں میں اداسی تھی یاسیت سی تھی ۔۔۔میں پھر سے خود کو ہلانے جلانے کی تگ ودو میں لگ گیا مگر کوئی فائدہ نہیں تھا

“مجھ سے پوچھوں گئے نہیں۔ کہ میں نے تمہیں آپ کیوں کہا ۔۔۔۔۔تم کیوں نہیں کہا ۔۔۔۔۔مجھ سے پوچھوں نا عفان ۔۔۔۔پوچھوں مجھ سے میں نے تمہیں “۔۔۔۔۔۔اس آگے بس اسکی سسکیاں سنائی دینے لگیں ۔۔۔۔

“تم نے کہا تھا کہ جب مجھے تم سے محبت ہو جائے ۔۔۔۔جب میری خواہش صرف تمہاری خواہشات کی تکمیل ہو تو میں تمہیں وہ سب درجے عطا کر دوں جس کے تم حقدار ہو ۔۔۔۔۔مجھے تمہاری ہر بات منظور ہے عفان بس تم ۔۔۔۔تم ایک بار مان جاؤں ۔۔۔۔مجھ سے نہیں برداشت ہوتی تمہاری یہ چپ ۔۔۔خدارا اٹھ بیٹھو ۔۔۔۔۔بات کرو مجھ سے” ۔۔۔۔۔وہ رو رہی تھی ۔۔۔بلک بلک کر رو رہی تھی ۔۔۔۔میری منتیں کر رہی تھی ۔۔۔۔اور میں کتنا بے بس تھا کہ اسے کے نا آنسوں صاف کر سکتا تھا نا چپ کروا سکتا تھا ۔۔۔۔۔

“میں وعدہ کرتی ہوں تم جو کہو گئے کبھی تمہاری بات نہیں ٹالوں گی ۔۔۔۔ہمیشہ تمہیں آپ کہہ کر مخاطب کروگی ۔۔۔۔تم رات کو دن کہو گئے میں بھی دن کہہ دوں گی ۔۔۔۔تم سے کبھی ناراض بھی نہیں ہوں گی ۔۔۔بس تم اٹھ جاؤں ۔۔۔۔میں نہیں رہ سکتی ہوں تمہارے بغیر” ۔۔۔۔میں اسکے رونے سے اذیت میں مبتلہ ہونے لگا تھا ۔۔۔اپنی حالت کو کوس رہا تھا ۔۔۔ماہم نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی آنکھوں پر رکھ لیا ۔۔۔۔اسکے آنسوں میرے ہاتھیوں سے بہہ کر بازو تک تیرنے لگے تھے

“کیسی محبت ہے تمہاری تمہیں میرا رونا برداشت نہیں تھا عفان میری آنکھوں سے آنسوں تم بہنے سے پہلے صاف کر دیتے تھے ۔۔۔۔اب تمہیں میرے آنسوں کیوں نہیں دکھتے ۔۔۔میری سسکیاں تمہیں کیوں بے تاب نہیں کرتیں ۔۔۔دیکھوں نا تمہاری ماہی تمہارے بغیر کتنا روتی ہے ۔۔۔۔۔عفان میری آنکھوں سے آنسوں کبھی خشک نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔۔میری سسکیاں کبھی دم نہیں توڑتیں ۔۔۔۔۔ اٹھ جاؤں نا “۔۔۔۔۔وہ رونے لگی

یہ کیسی بیماری تھی میری ۔۔۔۔میں سن رہا تھا ماہی کے آنسوں کو اسکے ہاتھ کے لمس کو محسوس کر رہا تھا ۔۔۔میری ہزار کوشش کے باوجود میرا وجود بے جان تھا ۔۔۔۔کمرےکا دروازہ کھلا تو ماہم کی سسکیاں بھی بند ہوگئیں ۔۔۔۔۔اس نے میرا ہاتھ بیڈ پر آرام سے رکھ دیا

“گڈ مارننگ مسز عفان ۔۔ہاو آر یو “۔۔۔۔یہ چہکتی آواز ڈاکٹر رمشہ کی تھی

“کیسی ہوسکتی ہوں جس کا شوہر پچھلے تین مہنے سے بے جان سا ہو کر زندگی کے نام پر صرف سانس لے رہا ہو” ۔۔۔ماہم افسردگی اور بھرائی ہوئی آواز سے بولی ۔۔۔۔۔

“مسز عفان آپ پریشان مت ہوں ایسے کیسز میں تو ایسا ہو جاتا ہے “

“پریشان ۔۔۔نہیں ڈاکٹر یہ لفظ بہت چھوٹا ہے

میں روز مرتی ہوں اور روز بس اس امید پر جیتی ہوں کہ شاید آج ۔۔۔۔۔أج میں جاؤں تو مجھے یہ سننے کو ملے کہ عفان کی حالت میں کچھ تو سدھار آیا ہے مگر جب یہاں آکر عفان کو بدستور ویسے ہی دیکھ کر میں پھر سے مرنے لگتی ہوں” ۔۔۔۔۔ماہم کی بھرائی ہوئی آواز پر میں بےکل سا ہونے لگا اسکے الفاظ مجھے اندر تک چھلنی کر رہے تھے

“آپ پلیز فکر مت کریں ۔۔۔۔میں نے کچھ دن پہلے ہی جوائن کیا ہے اور صبح سے آپکے ہسبینڈ کا کیس ہی اسڈی کر رہی ہوں انکی ساری رپورٹس پڑھ چکی ہوں اور اپنے سینئر سے ڈسکس بھی کر چکی ہوں ۔۔۔۔اصل میں میں ایک سائیکڑیس بھی ہوں ۔۔۔۔اور آجکل کومہ پیشنٹ کی سائیکی کو ہی اسڈی کرنے اور جاننے کی کوشش کر رہی ہوں ۔۔۔۔اور اسی پر ریسرچ کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔ایکچلی مسز عفان ہم کومہ پیشنٹ کی کنڈیشن کو سیم ہی سمجھتے ہیں کیونکہ وہ بظاہر وہ ہمیں سیم کنڈیشن میں ہی نظر آتے ہیں ۔۔لیکن ایکچل میں ایسا نہیں ہوتا پر پیشنٹ کی کنڈیشن الگ ہوتی ہے ۔۔جیسے زندہ جیتے جاگتے انسانوں کی سائیکی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے انکی فیلنگ اور بیماری کو ری کور کرنے طریقے مختلف ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔اسی طرح کومہ پیشنٹ بھی اپنی اس کنڈیشن سے مختلف طریقے سے نکلتے ہیں ۔۔۔۔۔اور اس کے لئے بھی ان کی ویل پاور کا عمل دخل ہوتا ہے ۔۔۔کچھ لوگ کومہ میں بے خبر نیندمیں ہی رہتے ہیں اور ذہنی اور اعصابی طور ہر ایک دم ہی بیدار ہوتے ہیں ۔۔۔وہ کتنا عرصہ کومہ میں سوتے رہیں ہیں انہیں اسکی خبر تک نہیں ہوتی۔۔۔۔۔لیکن کچھ پیشنٹ کے صرف اعصاب نیند میں ہوتے ہیں ۔۔۔۔زہنی طور پر وہ پورے ہوش وحواس میں ہوتے ہیں ۔ہمیں سن سکتے ہیں ۔۔۔ہماری باتوں کو سمجھ سکتے ہیں ۔۔۔۔محسوس بھی کر سکتے ہیں ۔۔۔۔مسزعفان میں چاہتی ہوں کسی دن آپ فرصت سے میرے پاس آئیں میں مسٹر عفان کے بارے میں بہت کچھ پوچھنا چاہتی ہوں آپ سے ۔۔۔۔۔انکی زندگی میں گزری ہر چھوٹی بڑی اور خاص بات جو شاید انکے کومہ سے نکلنے کے لئے معاون ثابت ہو ۔۔۔۔ “

“کیوں نہیں ڈاکٹر اینی ٹائم آپ جب کہیں گئ میں آ جاؤں گی بس میرا عفان ٹھیک ہو جائے” ۔۔۔۔ماہم کے انداز سے بے تابی چھلک رہی تھی

“ہاں لیکن آپ کو میری چند باتوں پر بھی عمل کرنا پڑے گا “

“جی کہیے ڈاکٹر “

“مجھے ڈاکٹر جواد نے بتایا ہے کہ آپ روز آتی ہیں بے تحاشہ روتی ہیں ۔۔۔۔۔پلیز مسز عفان آپکے ہسبنڈ کو لائف چاہیے آپکے رونے سے انکے اندر مایوسی بڑھے گئ اور مایوسی سے وہ کبھی بھی زندگی کی طرف نہیں لوٹ پائیں گئے ۔۔۔۔۔۔آپ جانتیں ہیں آپکے ہسبنڈ کی کنڈیشن پوزیٹو کیوں نہیں ہو رہی اس لئے کہ آپ ان سے ایسی کو پوزیٹو بات ہی نہیں کرتیں ۔۔۔۔میں چاہتی ہوں آپ ان سے اچھی اچھی باتیں کریں ان لمحات کو دوہرائیں جو آپ نے انکے ساتھ اچھے سے گزاریں ہیں ۔۔۔۔۔ہوسکتا ہے مسز عفان جو تبدیلی آپکے آنسوں نہیں لا پائے وہ اپنی کی مسکراہٹ لے آئے”

“مگر ۔۔۔۔۔”

“نون اگر مگر مسز عفان اب آپ روئیں گی نہیں”

‘میں ۔۔۔۔کوشش کرو گی “

“ڈس گڈ اب آپ جائیں اور کل مت آئیے گا ۔۔دو دن بعد آئیے گا “

“لیکن کیوں مجھے پورے دن میں بس انہیں لمحوں کا تو بے چینی سے انتظار ہوتا ہے ۔۔۔۔”

“میں نے کہا نا اب آپ روز ملنے نہیں آئیں گی ۔۔۔دو دن آپ خود کو ذہنی طور پر تیار کریں گی کہ آپ نے رونا نہیں ہے ۔”۔۔۔ڈاکٹر کی بار بار کی تاکید پر ماہم اسکی بات مان گئ ۔۔۔۔ماہم کیوں مان گی وہ کیوں مجھ سے روز ملنے نہیں آئے گی اور یہ ڈاکٹر ہوتی کون ہے

میری ماہی منع کرنے والی ۔۔مجھے غصہ آنے لگا ۔۔۔ماہی تم ڈاکٹر کی بات نہیں سنو گی ۔۔۔۔تم روز مجھ سے ملنے آؤں گی ۔۔۔۔میں ماہم کو پکارنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔میرے دل کی دھڑکنیں پھر سے تیز ہونے لگیں ۔۔۔میرے اوپر لگی دل کی دھڑکن کو نوٹ کرنے والی مشن کی ٹون ٹون میں بھی اضافہ ہو گیا مگر شاید کسی نے نوٹ ہی نہیں کیا ۔۔۔اسکے بعد دروازہ بند ہونے کی آواز کے ساتھ ہی سکوت سا چھا گیا

*********………*******……..********……*****

قاسم کی شادی کے بعد ماہم سے میری بات چیت قدرے کم ہو چکی تھی ۔۔۔۔کامران بھی اب آفس جانے لگا تھا مجھ سے بلکل قطعی تعلق کر چکا تھا ۔۔۔میں بھی کون سا مرا جا رہا تھا اس سے بات کرنے کے لئے ۔۔۔۔ایک دن لاونج میں میں اور مما چائے پی رہے تھے ۔۔۔میں نے جان بوجھ کر قاسم کی شادی ذکر چھیڑا

“مما قاسم کے ولیمے والے دن ماہی کو فاریہ لینے آئی تھی کہ اس کا ڈرائیور ۔”۔۔میں دانستہ قاسم کا نام نہیں لیا مما میری بات پر گڑبڑا سی گئیں

“وہ بیٹا ڈرائیور لیٹ ہو رہا تھا اور ماہم کا پہنچنا ضروری تھا ۔۔۔کامران بھی آفس کے لئے نکل رہا تھا اس لئے میں نے ہی ماہم کو کامران کے ساتھ بھیج دیا” ۔۔۔مما کے اعتراف پر میں غصے میں آ گیا

“کیوں بھیجا آپ نے کامران کے ساتھ روکا کیوں نہیں “۔۔۔۔میں نے چائے کا کپ ٹیبل پر پٹختے ہوئے سخت لہجے میں کہا

“بیٹا کامران اب بدل چکا ہے ۔۔۔تم دونوں کے رشتے کو قبول کر چکا ہے ۔۔۔۔”

‘مما پلیز میرا اور ماہی کا رشتہ انکے قبول کرنے اور نا کرنے کا محتاج نہیں ہے ۔۔۔۔آپ آئندہ ماہی کو کبھی بھی کامران کے ساتھ نہیں بھجیں گئ ۔۔۔۔”

یہ کہہ کر میں وہاں رکا نہیں اپنے کمرے میں چلا گیا