458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 13

Tadbeer by Umme Hani

ماہم اور کامران کی شادی کی سیٹ فکس ہو چکی تھی ۔۔۔۔میں نے بہت خوش دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامران کو گلے لگا کر مبارک باد دی ۔سب کے سامنے خوش ہونے کا ڈرامہ کرنا واقع بہت مشکل عمل ہے بس ایک مما ہی تھیں جو میرے حال سے واقف تھیں اس لئے خاموش تھیں ۔۔۔۔۔چند دنوں میں قاسم کی انگیجمنٹ تھی قاسم نے ہماری پوری فیملی کو انوائیٹ تھے مگر انہیں دنوں مما پاپا کو ان کے کسی دوست کاانویٹیشن پہلے ہی مل چکا تھا اس لئے انہوں نے تو معذرت کر لی ۔۔۔مگر کامران اور ماہم جانے لئے تیار ہو گئے ۔۔۔قاسم کی منگنی کا ارینجمنٹ اسکے بنگلے کے باہر لان میں ہی کیا گیا تھا ۔۔۔۔قاسم اور فاریہ توابھی منظر سے غائب ہی تھے ہم تینوں ایک ٹیبل پر بیٹھ گئے کچھ ہی دیر میں قاسم کی والدہ اور ڈیڈ ہمارے پاس گئے میں نے کامران اور ماہم کو ان سے متعارف کروایا ۔۔۔۔۔پھر انہوں نے باقی مہمانوں کو بھی ملنا تھا اس لئے بس کھڑے کھڑے

کچھ دیر ملکر وہ لوگ چلے گئے قاسم کی منگنی پر میرے کافی کلاس فیلو اور کولیگ بھی مدعو تھے اس لئے میں کامران سے اکسکیوز کر کے اٹھ کر چلا گیا پھر میں ان دونوں کے بیچ میں بیٹھ کر کرتا بھی کیا ۔۔۔۔۔۔کافی ٹائم بعد میری اپنے یونیورسٹی فیلو سے ملاقات ہوئی تھی اس لئے وقت گزرنے کا اندازہ ہی نہیں ہوا قاسم اور فاریہ کے اسٹیج پر آتے ہی ہم سب کی نظروں کا مرکز وہ دونوں ہی تھے تھری پیس سوٹ میں قاسم بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا فاریہ بھی بہت پیاری سی لڑکی تھی مگر مہک کے مقابلے میں ذرا کم ہی تھی ۔۔۔۔۔لیکن دونوں کے چہرے کی خوبصورت مسکان انکے اندرونی جذبات کی عکاسی ضرور کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ہال کی لائٹس آف ہو گئیں اور ڈسکو لائٹ اسٹیج پر جلنے لگی مہک جلوہ افروز ہوئی چھوٹی سی گرے کلر کی فینسی شارٹ شرٹ پر ڈارک بلو کلر کاوہ شرارہ پہنے انڈین گانے پر ڈانس کر رہی تھی ۔۔۔۔ بنا ڈوپٹے کے

وہ سب کی بے باک نظروں کا تعاقب بنی شاید خود کو ہیروئن تصور کر رہی تھی۔۔۔۔میں نے مہک کی طرف دوبارہ نظر ڈالنا بھی گوارا نہیں کیا ۔۔۔۔اسکے ڈانس کے بہت سے اسٹپ بہت بے باک تھے کہ کامران بھی نظریں جھکانے پر مجبور ہو گیا ماہم بھی خاموش بیٹھی رہی مگر ایک گانے کے فوری بعد گھر کے بزرگوں نے یہ سلسلہ ختم کر دیا ۔۔۔۔قاسم کی منگنی کی رسم شروع ہو گئ تھی ۔۔۔کچھ دیر بعد ہی میں نے قاسم کا گفٹ پکڑا اور کامران کو بھی ساتھ چلنے کا کہا مگر وہ ٹال گیا

“چلیں بھائی آپ قاسم سے ملیں گئے نہیں “

“نہیں یار ۔۔۔میں کیا کرونگا ۔۔تمہارا دوست ہے” ۔۔۔۔وہ لا پروائی سے کندھے اچکا کر بولا

“ٹھیک ہے پھر میں ملکر آتا ہوں “

“عفان ایک منٹ”۔۔۔ مجھے روکنے کے بعد ماہم کامران کی طرف متوجہ ہوئی

“کامی مجھے بھی ساتھ جانا ہے ۔۔۔”

“تم کیا کرو گی جا کر ۔۔۔۔۔۔”

“مجھے بھی دلہن دیکھنی ہے “

“واٹ ۔۔۔۔دلہن دیکھنی ہے ۔۔۔۔۔ہنہ”کامران نے حیرت سے آنکھیں پھیلا کر ماہم کو دیکھا

“ہاں نا کامی اتنی دور سے تو ٹھیک سے نظر بھی نہیں آ رہی ۔۔۔۔میں جاؤں ۔۔”۔۔۔ماہم لجاجت سے بول رہی۔۔۔

“شیور جاؤں۔۔۔میں بھلا تمہیں روک سکتا ہوں ۔۔۔۔what a childish move….. جاو دیکھو جا کر دلہن ۔”۔۔۔کامران کا انداز تپا تپا اور مدافعانہ سا تھا

کامران کی اجازت ملتے ہی ماہم کے چہرے مسکراہٹ سج گئ کامران کو تھنکس کرتی ہوئی وہ میرے ساتھ اسٹیج پر چلی گئ اسوقت فاریہ اور قاسم اکیلے ہی بیٹھے تھے ۔۔۔ ماہم کا تعارف قاسم نے ہی فاریہ سے میری کزن اور بھابی کی حیثت سے کروایا ۔۔۔فاریہ کافی خوش مزاج سی لڑکی تھی ماہم سے بہت جلد ہی فرینکلی بات کرنے لگی ۔۔۔۔کچھ دیر ہم دونوں وہیں بیٹھے رہے ۔۔۔۔ واپسی پر مجھے کامران اپنے مطلوبہ ٹیبل پر جب نظر نہیں آیا تو ہم ادھر ادھر دیکھنے لگے کامران کو مہک کے پاس باتوں میں مصروف دیکھ کر میرا خون کھول اٹھا میں تیز قدم رکھتا ہوا ان دونوں کے پاس پہنچ گیا ماہم بھی میرے پیچھے آنے لگی

“تم کیا کر رہی ہو یہاں پر” میں سارے لحاظ بلائے طاق رکھ کر مہک سے بولا

“یہ تمہارا آفس نہیں ہے مسٹر ۔۔۔۔جہاں بنا اجازت میرے آنے پر تم بھڑک اٹھو گئے ۔۔۔میری مرضی جہاں مرضی آؤں جاؤں جس سے مرضی بات کرو “مہک اکڑ کر دو با دو جواب دینے لگی

“ہاں ضرور کرو مگر بہتر یہ ہو گا کہ مجھ سے اور میرے فیملی ممبر سے ذرا دور ہی رہو “میری بات پر مہک نے گردن گھما کر کامران کو گھورا تو وہ سٹپٹا گیا

“کیا ہوا عفان کیسے روڈلی بی ہیو کر رہے ہو ۔۔۔آخر کو مہک کزن ہے قاسم کی اور تمہاری کولیگ بھی ہے ۔۔۔پھر یہ طریقہ نہیں ہے لڑکیوں سے بات کرنے کا اگر تم دونوں میں کوئی مس انڈرسنڈنگ ہو گی ہے تو میں کلیر کروا دیتا ہو” ۔۔۔کامران نے اپنے تہی معاملہ سلجھانے کی کوشش کی مگرمہک تلملا کر بولی

“ایسے فضول شخص سے مجھے کوئی سروکار رکھنا ہی نہیں ہے “مہک منہ بگڑاتے ہوئے وہاں سے چلی گئ

” یہ کیا کر رہی تھی آپکے پاس بھائی”میرے استفسار پر کامران بوکھلا سا گیا

“کچھ نہیں یار اس دن تمہارے ساتھ رسٹورنٹ میں دیکھا تھا تو رسمی سی ہیلو ہائے ہو گئ “کامران نے مختصر سا جواب دیا ماہم بس ہم دونوں کہ شکل دیکھتے رہ گئ

******………

میں اٹلی میں ملنے والی جاب کے بارے میں بہت سنجیدہ تھا اس لئے موقع ملتے ہی ڈنر کے دوران ہی میں نے پاپا کو اپنے ارادے سے مطلع کیا تو وہ خفا ہونے لگے

“عفان جب تم یہاں سیٹل ہو تو پھر باہر جاب کرنے کا مقصد ۔۔۔۔”

“پاپا بس میں چاہتا ہوں مجھے وہاں بھی کچھ سیکھنے کو ملے ۔۔۔۔پھر اسمیں ایسا کوئی حرج بھی نہیں ہے۔۔۔”۔۔میرے سامنے کامران اور ماہم بھی بیٹھے تھے ۔۔۔۔کامران تو ویسے ہی میرے معاملے سے کا تعلق ہی رہا البتہ ماہم پریشان سی صورت بنائے بیٹھی تھی

“میں اس حق میں قطعی نہیں ہوں عفان ۔۔۔۔ “پاپا مان نہیں رہے تھے

“پاپا پلیز اگر میں کچھ چینج چاہتا ہوں تو آپ کو کیوں اعتراض ہے ۔۔۔۔”

“لیکن بیٹا “

“پاپا اسے میری خواہش سمجھ لیں ۔۔۔۔مجھے ایسا موقع بار بار نہیں ملے گا “

“او کے پر کتنے عرصے کے لئے” ۔۔۔۔پاپا کچھ نرم پڑے تو میں نے بھی سکون کا سانس لیا

“معلوم نہیں مگر کم از کم بھی چار یا پانچ سال کے لئے ۔۔۔۔”میری بات پر ماہم کے ہاتھ سے چمچ چھٹ کر اسکی پلیٹ میں گرا تھا ۔۔۔۔کامران کے گھورنے پر وہ نظری۔ جھکا کر دوبارہ سے کھانا کھانے لگی

“عفان تم دو ہی تو بچے ہو میرے ۔۔۔۔اور تم سے ہی تو میرے گھر کی رونق ہے ۔۔۔۔نہیں یہ بہت لمبا عرصہ ہے تمہارے بغیر ممکن ہی نہیں کہ ہم لوگ پانچ سال گزار لیں ۔۔۔میں تمہیں یہاں بھی بہت اچھی طرح سیٹل کر سکتا ہوں”

“پاپا میں خود سے کچھ کرنا چاہتا ہوں “۔۔۔اور اٹلی کونسا دوسرے جہان میں ہے کہ کبھی لوٹ کے نا آ

سکوں گا ۔۔۔آجایا کرو۔ گا چند دن کے لئے اور پھر آپ کو اور مما کو بھی بلالوں گا ۔۔۔۔پلیز پاپا مجھے جانا ہے ۔”۔۔۔پاپا کچھ نرم پڑ گئے ۔۔۔۔مما کچھ نہیں بولیں ایک وہیں تو رازداں تھی میری میرے جانے کی وجہ باخوبی جانتی تھیں اس لئے کوئی اختلاف نہیں کیا مگر ماہم ٹھیک سے کھانا بھی نہیں کھا پا رہی تھی بس چمچ سے چاول ادھر سے ادھر کرتے ہوئے کسی سوچ میں گم تھی میں نے بس لحظہ بھر اسے دیکھا اور وہاں سے اٹھ کر چلا گیا

*********……..

کچھ دن سے ماہم بہت پریشان تھی نا ناشتہ ٹھیک سے کر رہی تھی نا ہی ڈنر ہی ٹھیک سے کھاتی تھی ۔۔۔۔بار بار مجھ سے بات کرنے کی کوشش کرتی تھی جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو مگر میں ان دنوں اپنے ڈاکومنٹس کمپلیٹ کرنے میں مصروف تھا ۔۔۔۔۔۔قاسم کا موڈ الگ خراب تھا ۔۔۔بار بار میرے ناجانے کی دعائیں بڑے زور و شور سے میرے سامنے ہی کرنے لگتا

“عفان اللہ کرے تم اٹلی جا ہی نا پاو۔۔۔۔تمہیں جاب سے انکار ہو جائے یا تمہیں آج ہی گھر جاتے ہوئے راہ چلتی لڑکی سے زور دار قسم کا عشق ہو جائے اور تم جانے کا ارادہ ملتوی کر دو ۔۔۔۔۔میں سو لوگوں میں کھانا تقسیم کروں گا آمین “۔۔۔دعاوں میں اٹھائے ہاتھ اب وہ منہ پر پھیرتے ہوئے پھر اپنی جیب سے کچھ ٹٹولنے لگا ۔۔۔۔پھر ایک تسبیح اسکے جیب سے برآمد ہوئی آنکھیں بند کیے تسبیح کے تیز تیز دانے گھماتے ہوئے پکا کوئی صوفی والا انداز وہ اپنائے

ہوئے تھا پھر ایک منٹ سے پہلے ہی وہ تسبیح کا ایک چکر گھما چکا تھا پھر آنکھیں کھولے بڑی عقیدت سے تسبیح چومتے ہوئے مجھ پر پھونکیں مارنے لگا

“میں نے یک دم اسے پیچھے دھکیلا

“یہ کیا فضول حرکتیں کر رہے ہو “

“ارے تمہیں نہیں پتہ بزرگوں کے بتائے ہوئے وظیفوں میں بڑا اثر ہوتا ہے ۔۔۔”۔

“جب بھی بولنا بکواس ہی کرنا ۔۔۔۔جاوں جا کر دیکھوں کمپیوٹر ڈانزائنگ مس حفصہ نے ریڈی کر لیا کہ نہیں ۔۔۔۔”

“تمہیں اس سے کیا ۔۔۔۔بعد میں تو یہ سارا بوجھ مجھ غریب کے نا تواں کندھوں پر ہی آنا ہے ۔۔۔۔۔تم بس اپنی اٹلی جانے کی تیاری کرو “۔۔۔۔۔قاسم کے شکوے پی ختم نہیں ہو رہے تھے ۔۔۔۔

*********……..*******…

میں آفس سے جلدی ہی واپس آگیا تھا ۔۔۔۔مما شاپنگ پر گئ تھیں شادی میں اب مہنیہ ڈیر ہی باقی تھا ۔۔۔۔۔میں نے کچن میں جھانک کر دیکھا کہ اگر رانی ہوئی تو اسے چائے کا بول دوں مگر وہاں ماہم رات کے کھانے میں مصروف تھی اسے دیکھ کر میں واپس لاونج کے صوفے پر بیٹھ کر سامنے ٹیبل پر پیر پسار کر لیٹنے کے انداز سے بیٹھ گیا ریموڈ ہاتھ میں لئے اسپوٹ چینل لگا کر میچ دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد ہی ماہم نے سامنے ٹیبل پر میرے سامنے چائے کا کپ رکھ دیا میں نے فوراسے پاؤں نیچے کر لئے اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

“تمہارے لئے چائے” ۔۔۔۔ماہم یہ بول کر میرے برابر میں ہی بیٹھ گئ

“لیکن میں نے تو تمہیں چائے کے لئے نہیں کہا ۔۔۔”

“لیکن مجھے معلوم ہے کہ تم چائے پینا چاہتے ہو ۔۔۔۔۔اتنا عرصہ ساتھ گزارا ہے ہم نے ۔۔۔اتنا تو سمجھتی ہوں میں تمہیں” ۔۔۔۔ماہم کی بات پر میں استزائیہ انداز میں مسکرانے لگا

“اچھا حیرت ہے مجھے کہ تمہیں اتنی معمولی سی بات کا اندازہ تو ہو گیا ۔۔۔۔ مگر اصل بات سے ہمیشہ انجان ہی رہی “۔۔۔۔نا چاہتے ہوئے میں میں اپنی زبان کو روک نہیں پایا تھا شکوہ کرنے سے

“کیا مطلب۔۔۔۔۔کون سی اصل بات “

“چھوڑو ۔۔۔وہ بات اب اتنی غیر اہم ہے کہ اس کا تذکرہ بھی اب بے معنی سا لگتا ہے” ۔۔۔۔۔میں نے کپ اٹھا کر لبوں پر لگا لیا ۔۔۔۔اور سارا دھیان سامنے لگے میچ پر مرکوز کر دیا ماہم مجھے ہی دیکھ رہی تھی

“عفان تم کیوں جا رہے ہو اتنی دور ۔۔۔پلیز مت جاؤ ۔”۔وہ گلوگیر لہجے میں بولی ۔۔۔۔

“کیوں نا جاؤں ۔”۔۔میرا لہجہ سرد ہو گیا ۔۔۔ آخر اب کیوں روکنا چاہتی ہے وہ مجھے۔۔۔۔ اسے کیوں اب میرے جانے کی فکر ستا رہی ہے ۔۔۔ ۔

“خالہ اور انکل بھی خوش نہیں ہیں دوپہر میں خالہ رو رہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔”

“میں وہاں سیٹل ہوتے ہی دونوں کو وہاں بلا لو گا” ۔۔۔۔۔۔میرے بے لچک لہجے پر وہ روہانسی سی ہو گئ

“اور میں ۔۔۔۔میں کچھ نہیں لگتی تمہاری ۔۔۔۔میرے بارے میں کچھ نہیں سوچا تم نے ۔”۔۔۔میں ماہم کا اداس چہرہ دیکھتا رہ گیا جو واقع میرے جانے کا سن کر مضطرب تھی مگر میں بھی بے بس تھا میری اور اسکی محبت کے جذبے میں بہت فرق تھا میں اسکے لئے صرف دوست تھا بچپن کا ساتھی مگر وہ ۔۔۔۔۔وہ میرے لئے میری متاع زندگی تھی ۔۔۔۔۔

“تم ۔۔۔۔۔تم بھی آ جانا مجھ سے ملنے اپنے کامران کے ساتھ ۔”۔۔۔میرے لہجے میں طنز خود با خود ہی گھلنے لگا تھا ۔۔۔۔

“میں نے نہیں آؤنگی کبھی تمہیں اپنی شکل بھی نہیں دیکھاوں گی” ۔۔۔۔ماہم کی بھرائی ہوئی آواز آنکھوں میں چمکتے آنسوں دیکھ کر مجھے اس پر اور بھی تاؤ آنے لگا

“یہ تو بڑا احسان کرو گی تم مجھ پر ۔۔۔۔تم مجھ سے ملنے کبھی مت آنا ماہم ۔”۔۔۔میں نے چائے کا کپ ٹیبل پر پٹخا اور اٹھ کر اوپر کی سیڑیاں چڑھنے لگا ماہم

حیران پریشان مجھے دیکھنے لگی شاید وہ سمجھیں تھی اسکی ایسی باتوں پر میں جانے کا ارادہ بدل دونگا ۔۔۔۔۔اس کی بات مان لوں گا ۔۔۔۔میرے ایسے جواب کی توقع اسے ہر گز نہیں تھی

*********………..=.

میری کوشش تھی کہ کامران کی شادی سے پہلے میں یہاں سے چلا جاؤں ۔۔۔۔رات کو بھی میں اپنے ویزے کے لئے کسی ایجنٹ سے ہی فون پر بات کر رہا تھا جب مما میرے کمرے میں داخل ہوئیں ۔۔۔۔میں نے بات مختصر کی اور فون بند کر دیا

مما میرے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گئیں ۔۔۔۔۔

“لگ گیا تمہارا ویزہ “

“کوشش میں لگا ہوا ہوں امید تو ہے کہ اسی ہفتے لگ جائے گا ۔۔۔۔”

“عفان میں تمہیں جانے سے نہیں روکو گئ جانتی ہوں کہ تم رکو گئے بھی نہیں ۔۔۔۔۔لیکن بس میری ایک التجا مان لو “۔۔۔۔مما آزردگی سے بول رہیں تھیں

“جی کہیے مما ۔۔۔۔۔”

“تم کامران کی شادی تک رک جاو۔۔۔۔”

“مما آپ جانتی ہے سب کچھ ۔۔۔پھر بھی یہ کہہ رہی ہیں “۔۔۔۔مما کی بات مجھے تکلیف میں مبتلہ کر گئ

“میں جانتی ہوں تمہارے لئے یہ سب بہت تکلیف دہ مرحلہ ہے مگر ۔۔۔۔میرے بارے میں بھی تو سوچو ۔۔۔۔

۔کیا میں تمہارے بغیر شادی خوشی سے دیکھ پاؤں گی ۔۔۔۔۔تمہیں باہر جاب کے لئے اجازت میں نے دل پر کیسے پتھر رکھ کر دی ہے یہ میں جانتی ہوں” ۔۔۔۔مما کی آنکھوں میں آنسوں جھلملانے لگے میں خاموش ہو گیا ۔۔۔۔

“بس بیٹا کچھ ہی ہفتوں کی تو بات ہے ۔۔۔۔۔کیا اپنی ماں کی خوشی کے لئے اتنا بھی نہیں کر سکتے “

“ٹھیک ہے مما ۔۔۔۔آپ کی خوشی مجھے اپنی اذیت سے ذیادہ عزیر ہے ۔۔۔۔شادی کے بعد ہی چلا جاؤں گا ۔۔۔چلیں اب مسکرائیے ۔۔۔۔۔مجھے آپ ہمیشہ ہنستی مسکراتی اچھی لگتی ہیں” ۔۔۔۔میں نے مما کے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔

مما میرا ہاتھ پکڑ کر چومنے لگیں

“تم میرے بہت بہادر بیٹے ہو عفان ۔۔۔۔۔”

“جی نہیں ۔۔۔۔۔آپ میری بہادر مما ہیں ۔۔۔اٹھیں اب بہت بھوک لگ رہی ہے چلیں کھانا کھاتے ہیں” ۔۔۔۔میں نے مما کو بازوں سے پکڑ کر کھڑا کیا اور ان کے ساتھ نیچے ڈنر کے لئے لے گیا

********…………********

کامران کی شادی کی شروعات بھی ہو گئ ۔۔۔۔آج کامران کی مہندی کا فنگشن تھا ۔۔۔۔۔ان دونوں کو ایک ساتھ ہی اسٹیج پر بیٹھایا گیا ۔۔۔۔۔کامران سفید شلوار قمیض اور ہیلو کلر کی واسکوٹ پہنے اور ماہم ۔ہیلو کلر کے شرارے میں۔۔۔۔۔ بنا میک اپ کے بھی ماہم کا چہرا دھمک رہا تھا ۔۔۔۔کتنے خوبصورت رنگ بکھرے ہوئے تھے ماہم کے چہرے پر ۔۔۔۔خلاف توقع کامران بھی خوشگوار موڈ میں تھا ماہم کے چہرے پر مسکراہٹ جیسے ٹہر سی گئ تھی ۔۔۔میں محویت سے ماہم کس دیکھنے لگا۔۔۔وہی معصومیت وہی دل موہ لینے والا انداز ۔۔۔کتنا خوش نصیب ہے کامران ۔۔میرے دل سے بس یہی دعا نکلی کہ ماہم ہمیشہ خوش رہے ۔۔۔۔۔کامران ماہم کے قریب ہو کر اسے سرگوشی کرنے لگا ماہم کا شرمایا ہوا چہرا دیکھ کر میں نے فورا سے نظریں بدل لیں ۔۔اور خود بھی وہاں سے ہٹ گیا سامنے مجھے قاسم اور فاریہ نظرآ گئے وہ دونوں بھی پورے ہال میں

نظریں گھمائے شاید مجھے ہی ڈھونڈ رہے تھے میں خود ہی انکے پاس پہنچ گیا قاسم مجھے گلے ملا اور فاریہ ماہم سے ملنے اسٹیج پر چلی گئ میں اور قاسم ایک طرف ہو کر بیٹھ گئے ۔۔۔۔۔میرے لئے ویسے بھی ہر رسم بے معنی ہی تھی ۔۔۔۔میری کوشش تھی کہیں دور ہی رہوں ۔۔۔۔۔مجھے قاسم سے بات چیت کرتے ہوئے ابھی کچھ ہی وقت گزرا تھا کے سٹیج پر ایک ہنگامہ سا ہونے لگا شور کی آواز سن کر میں اور قاسم بھی اسٹیج کی طرف آ گئے ۔۔۔۔۔عورتوں کے جھمگھٹے کو پیچھے کرتے ہوئے جب میں نے سامنے دیکھ تو میرے ہوش ہی اڑ گئے

۔۔۔۔سامنے مہک پیلے جوڑے میں بلکل دلہن کی طرح تیار کامران اور ماہم کے بیچ میں نشے کی حالت میں بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔ممانی کی زبان قینچی کی طرح چل رہی تھی دوسری عورتوں کو بھی بھانت بھانت کی باتوں کا موقع مل گیا تھا مما بھی پریشان تھیں کامران نے مجھے دیکھ کر مہک کی طرف اشارہ کیا

” عفان یہ تمہاری دوست ہے نا شاید تم نے بلایا ہے اسے “کامران ہق و دق۔۔۔مہک کودیکھ رہا تھا ۔۔۔مہک کی آمد میرے لئے بھی حیران کن تھی ۔۔۔شایدمجھ سے بدلہ لینے کا یہ انداز اپنایا تھا اس نے

میں مہک کے سامنے کھڑا اسے پوچھنے لگا کہ وہ

یہاں کس کی اجازت سے آئی ہے

“کیوں آئی ہو تم یہاں پر مہک” ۔۔۔میں غصے سے پھنکار کر بولا

“اب یہ مت کہنا کہ کس کی اجازت سے آئی ہوں ۔۔۔۔تمہارے بھائی نے انویٹیشن دیا ہے مجھے ۔”۔۔ مہک کے جارحانہ اور نشے کے چور انداز پر کامران کی ہوائیاں اڑنے لگیں تھیں

میں نے چٹکی بجا کر دوٹوک انداز سے کہا

“اٹھو اور نکلو باہر یہاں سے اگر میرے بھائی نے رسمی طور پر تمہیں بلاوا دے بھی دیا تھا تو اس حالت میں آتے ہیں شادی پر ۔۔۔۔نکلو مہک یہاں سے ورنہ دھکے دے کر نکالوں گا”۔۔۔۔۔قاسم بھی آگے بڑھا اور مہک کا ہاتھ پکڑے اسے کھنچنے لگا

“چھوڑو مجھے قاسم میں مہمان خاص ہوں ۔۔۔۔کہاں لے جا رہے ہو مجھے” ۔۔۔۔مہک کے لڑکھڑاتے قدم دیکھ کر مما کی نا گواری عروج پر تھی قاسم اور فاریہ مہک کو لیکر چلے گئے فنگشن جیسے تیسے ختم ہوا۔۔

۔مگر اسکے بعد مما پاپا نے میری خوب کلاس لی انہیں نا جانے کیوں یہ لگا کہ مہک میرے بلانے پر آئی ہے ۔۔۔میرے بار بار انکار پر بھی انہیں میری بات پر یقین نہیں تھا