Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 38
Rate this Novel
Tadbeer Episode 38
Tadbeer by Umme Hani
میں نیند تھا جب ماہم کی گھٹی گھٹی سسکیوں کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی ۔۔۔۔میں نے نیم وا آنکھوں سے اپنے برابر دیکھا ماہم وہاں نہیں تھی میں نے سامنے دروازے پر دیکھ ماہم دروازے کے ساتھ لگی منہ پر ہاتھ رکھے رو رہی تھی ۔۔۔میں گڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا ۔۔۔اسوقت وہ دروازے کے پاس کھڑی رو کیوں رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہی کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔میں نے ہاتھ سے جمائی روکی آنکھیں مسلتے ہوئے بیڈ سے اٹھ کر ماہم کے پاس چلا گیا
عفان ۔۔۔۔مجھے دیکھ کر وہ میرے کندھے پر سر رکھے رونے لگی ۔۔۔۔میں بوکھلا سا گیا تھا
“ماہی ۔۔۔۔کیا بات ہے ۔۔۔۔میں اسے اپنے حصار میں لے لیا
“عفان میں۔ کچن میں پانی پینے گئ تھی ۔۔۔۔وہاں” ۔۔۔۔وہ بات اُدھوری چھوڑ کر پھر سے رونے لگی
“وہاں کیا ۔”۔۔۔میں اسکے بالوں کو نرمی سے سہلاتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا
“وہاں بلی تھی ۔۔۔۔میں ڈر گئ تھی عفان ۔۔۔اس لئے بھاگ کر اوپر آ گئ ۔۔۔۔”
“تم خود گئ ہی کیوں تھی نیچے ۔۔۔۔اور بھاگ کر کیوں آئی ہو ۔۔۔اگر تمہیں چوٹ لگ جاتی پھر ۔۔۔مجھے جگا دیتی ماہم ۔۔۔۔پانی میں تمہیں لا دیتا ۔۔۔”
“تم بہت گہری نیند میں تھے ۔۔۔۔رات بھی دیر تک اپنے لیپ ٹاپ پر بزی رہے تھے ۔۔۔۔تھک چکے تھے ۔۔۔” ماہم اب سر اٹھائے مجھے دیکھتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔آنسوں اب بھی اسکے رخسار پر لٹک رہے تھے ۔۔۔۔میں نے اسکے آنسوں اپنی ہی ہاتھ کی پشت سے صاف کیے
“پھر بھی تمہیں مجھے جگانا چاہیے تھا ۔۔۔۔تم جانتی ہو نا تمہارا یوں سیڑیاں بار بار چڑھنا اترنا ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔تمہارا خیال رکھنا میرا فرض ہے ۔۔۔۔تم اب خود اتنی رات کو نیچے نہیں جاؤں گئ ۔۔۔ او کے” ۔۔۔۔میں بہت نرمی سے اسے سمجھانے لگا
وہ اثبات میں سر ہلانے لگی ۔۔۔۔
“پانی پیا تم نے” ۔۔۔۔میں نے اسکے جھکے ہوئے سر کو اسکی تھوڑی پکڑ کر ذرا اوپر کر کے پوچھا وہ نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔
“بیٹھوں یہاں میں پانی لاتا ہوں تمہارے لئے” ۔۔۔۔۔میں اسکو دونوں شانوں سے پکڑ کر بیڈ پر بیٹھایا اور خود نیچے پانی لینے چلا گیا ۔۔۔۔ماہم پانی پی کر دوبارہ لیٹ گئ ۔۔۔۔اسکے بعد میں ماہم کا پہلے سے زیادہ خیال رکھنے لگا ۔۔۔اگر وہ صبح میرے آفس جانے کے ٹائم سو رہی ہوتی تو میں اسے جگاتا نہیں تھا خود ہی تیار ہو کر چلا جاتا تھا ۔۔۔۔رات کو ڈنر پر بھی ماہم کی پلیٹ میں سالن ڈال دیتا اسے روٹی کی ضرورت ہوتی تو اسکے بنا کہے روٹی اسکے ہاتھ میں تھما دیتا پانی کا گلاس بھر کر اسکے سامنے رکھ دیتا ۔۔۔ رات کو پانی کا جگ اور گلا میں خود ہی کمرے کے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیتا تاکہ اگر رات کو ماہم کو پیاس بھی لگے تو اسے نیچے نا جانا پڑے ۔۔۔۔
******…….******……*******……*********
قاسم اپنے کمرے میں ٹی وی دیکھ رہا تھا ۔۔۔برابر بیڈ پر سوئی ہوئی فاریہ ڈسٹرب ہونے لگی
“قاسم والیم تو کم کرو ٹی وی کا تمہیں نظر نہیں آ رہا میں سو رہی ہو ۔”۔۔۔فاریہ تیز والیم کی وجہ سے اٹھ بیٹھی تھی اب بھی نیم وا آنکھیں کھولے بولی
“اس کے علاؤہ تمہیں دوسرا کام ہی کیا ہے ۔۔۔ کھا لیا یا سو لیا ۔”۔۔قاسم نے تپ کر جواب دیا
“ذیادہ ٹونٹ مارنے کی ضرورت نہیں ہے مجھے ۔۔۔والیم کم کرو ورنہ صبح تائی اماں سے شکایت لگا دوں گی ۔”۔۔فاریہ تلخ ہو کر بولی نیند خراب ہونے کی وجہ سے کوفت سے قاسم کو دیکھنے لگی
“یہ ایک اور واحد کام ہے جو تم کھانے اور سونے کے علاؤہ کر رہی ہو ۔۔امی سے میری شکایتیں۔۔۔تمیز کے ساتھ اٹھ کر بیٹھوں اور میرے ساتھ یہ مووی دیکھوں ۔۔تم بھی کیا یاد کرو گی کہ قاسم عباس تمہیں یہ اعزاز بخش رہا ہے کہ تم اسکے ساتھ فلم دیکھ سکو ۔۔۔۔ویسے بھی کل چھٹی ہے سوتی رہنا دیر تک” ۔۔۔۔قاسم کے تفاخر پر فاریہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی اور غصے سے دانت کچکچا کر بولی
“اپنے یہ اعزاز تم اپنے پاس رکھو شرافت سے والیم کم کرو ورنہ نکلو کمرے سے باہر ۔۔”۔۔فاریہ کے جارحانہ انداز پر قاسم نے والیم اور تیز کر دیا
“قاسم ۔”۔۔۔فاریہ نے چلا کر کہا تو قاسم نے والیم اور بڑھا دیا ۔۔۔۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قاسم تکیے اور لحاف سمیت کمرے سے باہر تھا ۔۔۔فاریہ نے کمرے کا دروازہ لوک کیا اور لیٹ گئ ۔۔۔۔قاسم ہلکے ہلکے دروازے پر دستک دینے لگا
“فاریہ دروازہ کھولو ۔۔۔قاسم کے کئ بار دروازہ بجانے پر بھی جب دروازہ نہیں کھلا تو قاسم نے کچھ بلند آواز میں کہا
“فاریہ کی بچی کھولو دروازہ۔۔۔۔۔فاری۔”۔۔قاسم نے پیر دروازے پر مارا تو اپنا ہی پیر پکڑنا پڑا۔۔۔مگر فاریہ اور فاریہ کی بچی کسی نے بھی دروازہ کھولنے کی زحمت نہیں کی۔۔۔۔۔غصے سے پیج وتاب کھاتا ہوا وہ لاونج کے صوفے پر تکہ پھنکے لیٹ گیا۔۔۔۔نیند تو آ نہیں رہی تھی اور لانج کا ٹی وی لگا نہیں سکتا تھا سب سو چکے تھے اس لئے عفان کو فون کر دیا عفان کی ہیلو سن کر ہی فٹ سے بولا
“سوئے نہیں تم ابھی تک” ۔۔۔۔ہیلو ہائے کے تکلف سے بھی قاسم نے دو چار ہونے کی زحمت نہیں اٹھائی تھی
“نہیں بس سونے کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا پھر صبح سنڈے بھی تو ہے ۔۔۔۔”
“بیگم کو یقینا سو چکی ہو گی تمہاری “
“ہاں آجکل جلدی سو جاتی ہے “
“فاریہ کو بھی آج کل یہی مرض لاحق ہے اس لئے مجھے اندازہ تھا ۔۔۔۔جانتے ہو اس نے کیا کیا ہے۔میرے ساتھ “۔۔۔قاسم نے جلےبھنے انداز سے کہا
“میں کیسے جان سکتا ہوں ۔۔۔تم بتاؤں “۔۔۔عفان رات کے اس پہر قاسم کی پہلیاں بوجھنے موڈ میں بلکل نہیں تھا اس لئے صاف اس سے پوچھا
“کمرے سے نکال باہر کیا ہے اس نے مجھے” ۔۔۔۔وہ دھیرے سے بولا عفان کو بڑا تعجب سا ہوا سن کر
“وہ کیوں “۔۔۔عفان کے پوچھنے کی دیر تھی قاسم شاید اسی انتظار میں تھا مجھے پوری روداد سنا کر ہی اس کا ریڈیو بند ہوا
“بڑی ہمت دیکھائی ہے بھابی نے اتنا بڑا معرکہ سر کر لیا ۔۔۔تمہیں کمرے سے نکالنا کسی محاز سے کم تو نہیں ہے ۔”۔۔عفان کی داد دینے والا انداز قاسم کو زہر لگ رہا تھا
“اس کا خمیازہ اسے جب صبح بھکتنا پڑے گا پھر پتہ چلے گا اسے کہ قاسم سے پنگا لینے کا انجام کیا ہوتا ہے ۔”۔۔۔قاسم مزید تپ کر بولا
“کیا کرو گے تم”۔۔۔ عفان نے دلچسپی سے پوچھا
“یہ تو میری جان میں تمہیں کر کے بتاؤں گا تا کہ تمہاری ناقص عقل کو پتہ چلے کہ ایسی ہٹ دھرم بیوی کو منہ توڑ جواب کیسے دیا جاتا ہے” ۔۔۔۔قاسم ایسے مزے سے کہہ رہا تھا جیسے بس اسکی مرضی کے مطابق ہی ہو جائے گا
“چلو پھر بسٹ أف لک اینڈ بائے۔”۔۔۔عفان مدفعانہ انداز سے کہا ۔۔۔
“کیا مطلب ہے تمہارا کچھ دیر بات کر لو مجھ سے سخت بور ہو رہا ہوں ۔۔”۔۔
“ضرور کر لیتا مگر ماہی ڈسٹرب ہو جائے گی ۔۔۔یہ نا ہو کہ میں بھی کچھ دیر میں لاونج میں سونے کی جگہ تلاش کرتا پھرو ۔”۔۔عفان نے جان بوجھ کر ایسا نقشہ بیان کیا جس سے وہ دو چار تھا
“اس معاملے میں تم خوش نصیب ہو ۔۔۔بھابی بہت نائس نیچر کی ہیں تمہیں کمرے سے باہر نہیں نکالیں گی ۔۔۔”
“بس اللہ بھی اعمال کے حساب سے معاملے طے کرتا ہے ۔۔۔اور میری بیوی بھی عین میرے نیک اعمال کا نتیجہ ہے “۔۔۔عفان کی بات پر وہ کافی تپ کر بولا
“میرے خیال سے میں فون بند ہی کر دوں تو بہتر ہے” ۔۔۔۔قاسم نے غصے سے فون رکھ دیا
*******……..*********……..**********……****
ماہم ڈاکٹر رمشہ کی منتیں کر رہی تھی
“پلیز ڈاکٹر کچھ دن اور رک جائیں ۔۔۔شاید عفان کو ہوش آ جائے “
“مسز عفان ایک سال ہو چکا ہے ہمہیں کوئی امید نظر نہیں آ کر رہی ۔۔۔۔یہ اپنی آنکھیں ہی کھول لیتے ہو ہم کچھ سوچ بھی لیتے مگر ۔۔مجھے افسوس ہے ۔۔۔مزید وقت دینا ہی بیکار ہے” ۔۔۔ڈاکٹر رمشہ اپنی وضاحتوں سے مطمئن کرنا چاہ رہی تھی جو جھوٹی تھیں میں ٹھیک تھا سب سن سمجھ رہا تھا ۔۔۔۔مگر وہ بکاؤ۔ ڈاکٹر میرا سودا کر چکی تھی ۔۔۔۔
“بس مجھے ایک آخری کوشش کر لینے دیں بس ایک دن اور” ۔۔۔ماہم بلک بلک کر اس سے التجا کر رہی تھی
“او کے کر لیجیے مگر مجھے ان سے ایسی کوئی امید نہیں” ۔۔۔دروازہ بند ہونے کی آواز پر میں سمجھ گیا تھا کہ ڈاکٹر جا چکی ہے ماہم کی رونے کی آواز اب بھی آ رہی تھی ۔۔۔اور مجھے اپنی موت سامنے نظر آ رہی تھی۔۔۔ماہم کے قدموں کی چاپ مجھے اپنے قریب آتے ہوئے سنائی دی
“عفان ۔۔۔۔آج میں آپکی منت سماجت نہیں کروں گی ۔۔۔نا آپ کو واسطے دونگی ۔۔آپ مت اٹھو ایسے ہی بے جان وجود کے ساتھ لیٹے رہو مگر ایک بات میری بھی سن لو” ۔۔۔ماہم کی آواز میرے کان کے بہت قریب سے آ رہی تھی ۔۔۔۔ شاید اور میرے چہرے کے بالکل قریب تھی اسکی گرم سانسوں کی گرمائش مجھے اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی
“زندہ میں بھی نہیں رہوں گی عفان ۔۔۔۔کل ایک جنازہ نہیں اٹھے گا دو اٹھیں گئے ۔۔۔ایک آپ کا دوسرا میرا ۔۔۔۔فرق صرف یہ ہو گا کہ آپ کو ڈاکٹر مار ڈالیں گے اور میں اپنے آپ کو خود ختم کر لوں گی ۔۔۔۔۔میرا وعدہ ہے آپ سے مرنے سے پہلے آپ میرے مرنے کی خبر ضرور سنو گئے ۔۔۔۔۔آپ سے جسم کا ہی نہیں میری روح کا بھی رشتہ ہے یہ کیسے ممکن ہے عفان کی سانس رک جائیں اور ماہم کی ڈھرکن چلتی رہے ۔۔۔۔۔اگر ماہم اب تک زندہ تھی تو صرف اس امید پر کہ عفان اسے مایوس نہیں کرے گا۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔آپ نے مجھ سے محبت کی ہی نہیں عفان ورنہ میری خاطر اٹھ جاتے ۔۔۔مگر میں نے کی ہے ۔۔۔میں آپ کو آپ کی خاطر مر کے دیکھاوں گی” ۔۔۔۔ماہم کی آواز دور ہونے لگی ساتھ ہی ساتھ میری دھڑکنوں کی رفتار بھی بڑھنے لگی
“ماہم کی باتیں کسی پھانس کی طرح میرے دل پر چبھ رہیں تھیں میرے اوسان خطا کررہی۔ تھیں ۔۔مجھے۔ خواہش ہوئی فی الوقت میرا ذہن مفقود ہوجائے میں وہ سوچ ہی نا سکوں جو ماہم کہہ رہی ہے ۔۔میں اپنی آنکھوں کو تیزی سے حرکت دینے لگا ۔۔۔میرے دماغ کی رگیں تن سی گئیں ۔۔ماہم کی باتوں کو سوچ سوچ کر میرے ذہن کی حالت ابتر ہونے لگی ۔۔۔وہ جھوٹ نہیں کہہ رہی تھی وہ واقع مر جائے گی ۔۔۔۔یہ خبر میں کیسے سن سکتا ہوں ۔۔۔کیسے سنو گا ۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔ سن سکتا ۔۔۔میرے عمر کا کیا ہوگا ۔۔۔۔میرا بچہ ۔۔۔۔میری ماہی ۔۔۔۔۔
“میرے اللہ یہ کیسی آزمائش ہے ۔۔۔۔کیا کرو میں ۔۔۔۔میری مدد کر میرے مالک ۔۔۔اسوقت تیرے علاؤہ میری بات نا کوئی سن سکتا ہے نا سمجھ سکتا ہے ۔۔۔تو لفظوں کا محتاج نہیں ہے میرے اللہ تو بند ہونٹوں کی صدائیں بھی سنتا ہے ۔۔۔۔تیرے علاؤہ میرے درد کا کوئی مسیحا نہیں ۔۔۔۔تو اپنے بندوں پر وہ بوجھ نہیں ڈالتا جو وہ سہہ نا سکیں ۔۔۔یہ سب بھی میری برادشت سے باہر ہے۔۔۔مجھے اپنی قوت سے قوت عطا فرما ۔۔۔۔بے شک تو کافی ہے اپنے بندوں کے لیے “۔۔۔ماہم باہر میرا ہاتھ پکڑے بلک رہی تھی رو رہی تھی اور میں اپنے آنسوں اپنے دل پر گرتے ہوئے محسوس کر رہا تھا ۔۔۔کیسی بے بسی کی زندگی تھی ۔۔۔۔ میں دل ہی دل میں آہ وازری کرنے لگا اللہ سے فریاد کرنے لگا ۔۔۔۔ اپنی آنکھوں کو پوری قوت سے کھولنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔کچھ ہی پل میں مجھے اپنی پلکوں میں لرزش سی محسوس ہونے لگی جیسے میری آنکھوں کے پپوٹے لرز رہے ہوں باہر کمرے میں جلتی ٹیوب لائٹ کی روشنی مجھے پہلے سے ذیادہ محسوس ہونے لگی ۔۔۔۔ماہم نے میرا ہاتھ۔ چھوڑ دیا ۔۔۔کمرے کا دروازہ زور سے بند ہوا
اور یک دم میری آنکھیں کھل گئیں میرے دل نے ماہم کو پکارا ۔۔۔۔کمرے کی تیز روشنی کی تاب میرے آنکھیں نہیں برداشت کر رہیں تھیں میری آنکھیں چندیا سی گئیں میں نے فورا آنکھیں بند کر لیں۔۔۔مگر پھر یہ خوف لا حق ہونے لگا کہ کہیں میری آنکھیں بند ہی نا رہ جائیں میں نے دوبارہ آنکھیں کھولیں ۔۔۔ٹیوب لائٹ کی روشنی میری آنکھوں میں۔ پڑنے لگی میں تیزی سے اپنی پلکیں جھپکنے لگا ۔۔۔۔کچھ دیر بعد جا کر میری آنکھیں روشنی کو برداشت کر سکیں اب میں پورے کمرے میں آنکھیں گھما کر کمرے کا جائزہ لینے لگا کمرے میں میرے علاؤہ کوئی نہیں تھا کمرے کا دروازہ دائیں جانب تھا میں میں گردن ہلانے سے قاصر تھا بامشکل ہی بند دروازے کو دیکھ پا رہا تھا جہاں سے ماہم گئ تھی ۔۔۔۔
“کاش کے کوئی ڈاکٹر ہی آ جائے ۔۔۔۔کیسے بتاؤں سب کو کہ میں دیکھ سکتا ہوں ۔۔۔ماہم کاش کے تم لوٹ آؤں آ کر دیکھوں اپنے عفان کو تمہاری محبت میں وہ آنکھیں کھولے تمہارا منتظر ہے ۔۔۔۔۔کیسے آواز دوں تمہیں کیسے پکار کر کہہ دوں کے ماہم۔۔کچھ مت کرنا خود کو ۔۔۔۔۔کیسے پکار کر تمہیں روک لوں ۔۔۔۔ماہی واپس آ جاؤں ۔۔۔۔
*******………*******……….********…….***
قاسم کا فون بند کر کے میں۔ نے لیپ ٹاپ بھی بند کر دیا ماہم میرے برابر میں سو رہی تھی ۔۔ کل سنڈے ہے چھٹی ہے ۔۔۔اور ایک یہ ہے کہ سونے سے ہی فرصت نہیں ہے ۔۔۔۔کیا تھا کہ کچھ دیر مجھے کمپنی ہی دیتی ۔۔۔۔قاسم بھی ٹھیک ہی کہتا ہے ۔۔۔بیوی جب ماں بن جائے تو اولاد اول اور شوہر ثانوی حیثیت رکھنے لگتا ہے ۔ابھی وہ دنیا میں آیا نہیں ہے تو ماہم کو میری پروا نہیں ہے ۔۔۔آئے گا تو پوچھے گی بھی نہیں ۔۔۔۔ماہم کو یوں بے فکر سوتے دیکھ کر نا جانے مجھے کیوں شرارت سی سوجی ۔۔۔میں نے اپنا لیمپ بند کیا اور لیٹ گیا ۔۔۔میں۔ نے ماہم کی گال پر ایک تھپڑ لگایا اور فورا سے آنکھیں بند کر لیں وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی ۔۔۔۔۔۔۔۔جلدی سے اپنا لیمپ کھولا سارے کمرے کا جائزہ لیا مجھے بھی دیکھا مجھے سوتا دیکھ کر وہ دوبارہ لیمپ بند کیا اور لیٹ گئ میرا ہاتھ زور سے پکڑ کر میرے کچھ قریب ہو کر آنکھیں بند کر لیں شاید کچھ خوفزدہ تھی ۔۔۔۔ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ ماہم نے میرا ہاتھ خود پکڑا ہو ۔۔۔۔ورنہ میں اکثر سوتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ لیتا کبھی اپنی آنکھوں پر اور وہ چڑنے لگی
“کیا ہے تمہیں ۔۔۔چھوڑو میرا ہاتھ “۔۔۔۔وہ اپنا ہاتھ کھنچنے لگتی
“تمہں کیا تکلیف ہے ۔۔حق ہے میرا” ۔۔۔۔میں اور مضبوطی سے پکڑ لیتا
“اس کا مطلب یہ تو نہیں تم رات بھر ہاتھ پکڑے رکھو گئے ۔۔”۔۔
“سمجھا کرو نا یار نیند اچھی آتی خواب بہت مزے کے آتے ہیں ۔۔۔تم اور میں ساتھ ساتھ خوابوں میں کہاں کہاں سیر نہیں کرتے “۔۔۔میری بات پر وہ ہسنے لگتی
“کہاں سیر کرتے ہو میرے ساتھ “۔۔۔۔۔
“باغوں میں سمندر پر جہاں چاہوں امیجن کر لوں “
“مجھے لگا اپنے بنائے ہوئے مال اور عمارتیں ہی دیکھنانے لے جاتے ہو گئے خواب میں بھی “
“اب میں اتنا بھی ان رومنٹک نہیں ہوں ۔۔۔۔”
“اچھا نا عفان مجھے نیند آ رہی ہے” ۔۔۔
“ہاں تو سو جاؤں “
“ایسے نہیں سو سکتی ہوں” ۔۔۔ہاتھ چھوڑو میرا” ۔
“نہیں ایسے ہی سونے کی عادت ڈالو” ۔۔۔۔
“نہیں ڈال سکتی” ۔۔۔
“ہو جائے گی ماہی ۔۔۔اور پھر تم نیند میں بھی میرا ڈھونڈا کرو گی” ۔۔۔۔۔۔میں نے آنکھیں بند کیے اسکے ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھ کر کہا ۔۔۔
“بہت ڈھیٹ ہو تم” ۔۔۔وہ آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔۔آج میرا ہاتھ اس نے خود پکڑ تھا پہلی بار یہ پیش قدمی ماہم کی طرف سے ہوئی تھی ۔۔۔اور پھر میرے قریب بھی تھی ۔۔۔کیا مضائقہ ہے اگر میرا ایک اور تھپڑ ماہم کو میرے اور بھی قریب کر دے ۔۔۔۔ اسی خیال کو عملی جامہ پہناتے ہوئے میں نے ماہم کے گال پر ایک اور تھپڑ لگا دیا مگر اس بار تھپڑ کچھ زیادہ ہی زور کا لگ گیا جس کی مجھے توقع نہیں تھی
اسی شاکڈ میں میں اپنی آنکھیں بند کرنا بھی بھول گیا ماہم بہت بری طرح چونک کر اٹھی تھی ۔۔۔میرے اتنے قریب تو تھی کہ میری کھلی آنکھیں با آسانی دیکھ سکتی تھی اسے دیکھتے ہی میں نے جھٹ سے اپنی آنکھیں بند کر لیں مگر تب تک تیر کمان سے نکل چکا تھا ۔۔۔وہ سمجھ چکی تھی اسے پڑنے والے غائبانہ تھپڑ کے پیچھے کون ہے
“عفان “۔۔۔وہ بھرائی ہوئی آواز سے بولی اور میرا ہاتھ بھی زور سے جھٹک کر پیچھے کیا
“تمہیں شرم نہیں۔آئی مجھے تنگ کرتے ہوئے ۔۔۔کتنی زور کا تھپڑ مارا ہے تم نے مجھے” ۔۔۔وہ روندھلی آواز میں بولی مجھے اندازہ ہو چکا تھا کہ اب اس ڈرامے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس لئے آنکھیں کھول کر شرمندگی سے اسے دیکھنے لگا
“آ۔۔ئم سوری ماہی وہ” ۔۔۔۔
“شٹ اپ ۔۔۔۔تم ہاتھ کیسے اٹھا سکتے ہو مجھ پر” ۔۔۔وہ اپنا گال سہلاتے ہوئے اٹھ بیٹھی میں بھی اٹھ کر بیٹھ گیا چور نظروں سے ماہم کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔خود کو کوسنے لگا کہ کیا ضرورت تھی یہ سب کرنے کی مگر اب مجھے ماہم سے بات کرنی تھی
” ماہی میں نے اتنی زور سے نہیں مارنا تھا بس غلطی سے۔”۔۔۔میں کمزور سی وضاحت دینے لگا
“تم نے مجھے مارا ہی کیوں “۔۔۔۔وہ آنکھوں میں آنسوں لئے مجھ سے معصومیت سے پوچھ رہی تھی
“یار یونہی مذاق سے” ۔۔۔۔اب اگر میں اسے اصل وجہ بتاتا تو وہ یقینا مجھ سے ذیادہ ناراض ہو جاتی اور میرا ہاتھ تو کبھی نہیں پکڑتی ۔۔۔اس وقت میں اپنے اندر کتنی ندامت محسوس کر رہا تھا یہ میرا دل ہی جانتا تھا ۔۔۔۔
“مزاق سے” ۔۔۔۔۔وہ حیرت سے آنکھیں پھلائے مجھے دیکھنے لگی اور میں شرمساری سے آنکھیں چرانے لگا
“عفان میں تمہیں چھوڑو گی نہیں ۔۔۔۔تم ہوتے کون۔ ہو مجھ پر ہاتھ اٹھانے والے ۔”۔۔۔ماہم نے لحاف اتار کر ایک طرف پھنکا اور بیڈ سے نیچے اتر کر اپنے سلیپر پہنے لگی ۔۔۔۔مجھے چاروں طرف خطرے کی گھنٹیاں سنائی دینے لگیں وہ کافی غصے میں تھی
“کہاں جارہی ہو تم اسوقت “میں نے ذہن کی آواز بر وقت سنتے ہوئے لحاف ایک طرف کیا پھرتی سے اٹھ کر ماہم کے پاس آگیا
“نیچے خالہ کے پاس” ۔۔۔میں بھونچکا کر رہ گیا
“مما کے پاس ۔۔۔ماہی رات کے تین بج رہے ہیں ۔۔۔۔پاگل ہوگئ ہو کیا ۔۔۔۔”
“پاگل میں نہیں تم ہوگئے ہو ۔۔۔۔رات کے تین بجے مجھے اتنی زور کا تھپڑ مار کر تم کہہ رہے ہو کہ تم مزاق کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔یہ کونسا وقت تھا مزاق کا ۔۔۔وہ بھی اس قسم کا مزاق ۔۔۔خالہ سے نہیں۔۔۔ رضا انکل ۔۔۔ہاں رضاانکل سے شکایت لگاؤں گئ تمہاری” ۔۔۔میرے تو ہوش وحواس سب ہی گم ہونے لگے تھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ سچویشن کو ہینڈل کیسے کروں ۔۔۔۔
“کہیں نہیں جاؤں گی تم ۔۔۔بات سنو میری بیٹھوں ادھر ۔”۔۔۔میں نے اپنی سی کوشش کرنا چاہی
“نہیں بیٹھنامجھے عفان ۔۔۔۔مجھے شکایت لگانی ہے “۔۔۔۔وہ مسلسل بھرائی ہوئی آواز اور رونی صورت بنائے مجھ سے بات کر رہی تھی جیسے میری ذرا سی مزحمت پر رو دے گی ۔۔۔۔میں بھی انجانے میں کیسے چھیڑ بیٹھا تھا اس کا تو رونا ہی بند ہونے کا نام نہیں لیتا تھا ۔۔۔۔خود کو لعنت ملامت کرتا ہوا ماہم کی منت سماجت پر اتر آیا ۔۔۔۔
“ایم سوری” ۔۔۔
“نہیں “
“ماہی آئی ریلی سوری یار ۔۔پلیز معاف کر دو ۔۔۔۔اتنا زور سے بھی نہیں مارا تھا “
“عفان ۔۔۔میرے پڑا ہے مجھے معلوم ہے کتنی زور سے مارا ہے تم نے ۔۔۔۔آئی ہیٹ یو “۔۔۔۔وہ مجھے تاسف سے دیکھنے لگی۔۔۔
“معافی بھی مانگ رہا ہوں نا تم سے” ۔۔۔۔
“نہیں نا عفان ۔۔۔ نہیں۔ کرنا مجھے معاف ہٹو آگے سے” ۔۔۔۔وہ مجھے پیچھے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی مگر میں ایستاذہ کیے کھڑا رہا مگر سمجھ گیا تھا کہ وہ اب ٹلنے والی نہیں ہے نا ہی اپنے موقف سے ہٹنے والی ہے پھر بات بھی اسکی جائز تھی اس لئے ہار مانتے ہوئے بولا
“تم نے لازمی میری شکایت لگانی ہے” ۔۔۔میں نے آخری کوشش کرنی چاہی وہ اثبات میں سر ہلانے لگی
“میراسوری کہنا بھی کافی نہیں۔ ہے” ۔۔۔وہ منہ پھلائے خفگی سے نفی میں سر ہلانے لگی
“او کے ۔۔۔لگا لینا میری شکایت ۔۔۔۔پڑوا لینا مجھے ڈانٹ ۔۔۔۔میرے کان کھنچوا کر ہی تمہیں سکون ملے گا تو ٹھیک ہے ماہی ۔۔۔کر لو اپنا شوق پورا ۔۔۔مگر اس وقت نہیں ۔۔۔مما پاپا کیا سوچیں گئے پریشان ہو جائیں گئے ۔۔۔صبح کا انتظار تو کر لو پلیز۔”۔۔۔کچھ وقت اسے میری بات سوچنے میں لگ گئ ۔۔۔پھر دوبارہ بیڈ پر لیٹ گئ ۔۔۔میں نے بھی سکون کا سانس لیا ۔۔۔۔کم از کم رات تو سکون سے گزرے گئ ۔۔۔۔صبح بھی میں ماہم کی منتیں کرتا رہا مگر وہ ماہم ہی کیا جو مان جائے ۔۔۔آئسکرئم شاپنگ کیا تھا جس کی میں نے اسے لالچ نا دی ہو مگر وہ بھی اپنے نام کی ایک ہی انٹیک پیس تھی نہیں ماننا تھا نہیں مانی اور مانی بھی اپنی شرائط پر
“اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں معاف کر دوں تو ویسے ہی معافی مانگو جیسے بچپن میں معافی مانگتے تھے”… وہ ہاتھ باندھے کڑے تیوروں سے منہ پھلائے بولی میں سن کر ہی ششدد سا رہ گیا مجھے ماہم سے بہرحال اس بات کی توقع تو ہر گز نہیں تھی
“کیا” ۔۔۔میں حلق کے بل چیخ پڑا
“تمہارا مطلب ہے ۔۔۔۔کان پکڑ کر ۔۔۔نیل ڈوان ہوکر” ۔۔۔۔مجھے لگا شاید میں غلط سمجھا ہوں میری حیرت سے پھیلی ہوئی آنکھوں کی پروا کیے بغیر اس نے اثبات میں سر ہلا کر اعتراف کیا
“ماہی میں اب شوہر بھی تو ہوں تمہارا ۔۔۔کیا اچھا لگوں گا ہوں معافی مانگتے ہوئے” ۔۔۔میں نے بھوندا سا جواز اسکے سامنے رکھا تھا
“مت مانگو میں جا رہی ہوں رضا انکل کے پاس” ۔۔۔اسکی سنگدلی سے میں زچ ہونے لگا ۔۔۔
“اچھا مانگ رہا ہوں معافی ۔۔۔کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔۔۔۔مگر سوچ لو شوہر سے یوں معافی منگوانے والی عورتیں سیدھا جہنم میں جاتی ہیں” ۔۔۔۔میں خوف خدا بھی یاد دلانا چاہتا کہ شاید وہ منع ہی کر دے
“اور بیوی پر ہاتھ اٹھانے والے کون سا جنت میں جائیں گے ۔۔۔۔تم نے ایک بار بھی یہ نہیں سوچا کہ میں بڑی ہوں تم سے” ۔۔۔۔اب ٹپ ٹپ اسکے آنسوں گرنے لگے تھے ۔۔۔میں بری طرح پچھتا رہا تھا
“اب یہ رونا بند کرو اپنا ۔۔مانگ رہا تم سے معافی” ۔۔۔۔میں نیل ڈاؤن ہوتے ہوئے بولا ۔۔۔اپنے کان پکڑے ماہم سے سوری کہتے ہوئے میری انا کی کیسی دھجیاں ہوئی۔ تھیں یہ مجھ جیسا غیرت مند شوہر ہی جان سکتا ہے ۔۔۔۔میں دل سے تہیہ کیا کہ آئندہ مزاق میں بھی ماہم سے ایسا مزاق نہیں کرو گا ۔۔۔۔
******…….*********……..********…….*****
قاسم صوفے پر بے ڈھنگے انداز سے سو رہا تھا ایک ٹانگ صوفے سے نیچے لٹک رہی تھی تکیہ کہیں لحاف کہیں اور قاسم کہیں ۔۔۔۔ اسکی والدہ فجر کی نماز کے لئے اٹھ کر لاونج میں آئیں قاسم کو صوفے پر سوتادیکھ کر اسےجگانے لگیں وہ بڑابڑا کر اٹھا تو سیدھا صوفے کے نیچے جا گرا ۔۔۔۔۔۔نیند تو سب سے پہلے ہی بھاگی تھی اسکی
“ائے ہائے لڑکے ۔۔۔یہاں کیا کر رہے تم” ۔۔۔قاسم نے زبردستی جمائی روکتے ہوئے ناراض سی نظروں سے ماں کو دیکھا
“آپ کو کیا لگے امی آپ بس بہو کے ناز نخرے اٹھایا کریں اور اسے سر پر چڑھائے رکھیں ۔۔۔۔کمرے سے دھکے مار کر نکالا ہے فاریہ نے مجھے” ۔۔۔۔۔قاسم کی امی منہ پر ہاتھ رکھ کر حیرت سے قاسم کو دیکھنے لگیں
“ذرا احساس نہیں ہے فاریہ کو میرا ۔۔۔دن رات محنت کر کے اسکی عیاشوں کا خیال رکھتا ہوں ۔۔ایک ۔۔۔امی ایک اتوار کا دن ہی ملتا ہے آرام سے نیند پوری کرنے کے لئے وہ اس چھوٹے سے صوفے پر نا جانے کیسے رات گزاری ہے میں نے” ۔۔۔۔قاسم نے چہرے پر بلا کی مسکنت اور بیچارگی سجاتے ہوئے ایک کی دس کر کے اپنی امی کو بتائیں تھیں اور اپنا قصور ویسے ہی گول کر دیا تھا مگر وہ ماں تھیں قاسم کے مزاج سے بھی واقف تھیں صوفے پر بیٹھ کر قاسم کو فہماشی نظروں سے دیکھنے لگیں ۔۔۔۔۔
“فاریہ ایسی تو نہیں کے ضرور تم ہی نے کچھ کہا ہوگا “
“امی آپ کو اپنی سگی اولاد پربھی بھروسہ نہیں ہے ۔۔۔ایسا کریں دفع کریں مجھے …بلکہ لعنت بھیجیں مجھ پر ۔۔۔آپ بس اپنی بہو کے چونچے اٹھائیں میں اپنا سارا سامان گیسٹ روم میں رکھنے لگا ہوں اور آج کے بعد وہیں رہوں گا” ۔۔۔۔قاسم نے غصے اور بیزاری سے کہا اور اٹھنے لگا
“اچھا اچھا چپکے بیٹھے رہو پوچھتی ہوں اس سے بھی” ۔۔۔۔قاسم کی والدہ نے اپنی گھر کی ماسی کو آواز دے کر کہا کہ وہ اوپر سے فاریہ کو بلا کر لائے کچھ ہی دیر میں فاریہ آنکھیں مسلتے ہوئے سیڑیاں اتر رہی تھی سامنے صوفے پر اپنی تائی اماں کے بگڑے موڈ کودیکھا پھر صوفے کے قریب زمین پر بیٹھے قاسم کودیکھ کر سمجھ گئ کہ اسی نے کوئی لگائی بجھائی کی ہوگئ ۔۔۔وہ خاموشی سے آ کر اپنی تائی اماں کو سلام کر انکے برابر میں بیٹھ گئ ۔۔۔۔
“کیا بات ہوئی ہے تم دونوں میں” ۔۔۔۔تائی اماں کے سخت لہجے پر اس نے تیکھی نظر قاسم پر ڈالی ۔۔وہ بھی فاریہ کو ہی گھور رہا تھا
“تائی اماں آپ قاسم سے پوچھ لیں” ۔۔۔وہ ناراضگی سے بولی
“کیوں تم سے کیوں نا پوچھو ۔۔۔۔ہو جاتا ہے میاں بیوی میں جھگڑا ۔۔۔غضب خدا کا ۔۔۔ اب یہ تو نہیں کہ شوہر کو کمرے سے دھکے دے کر نکال باہر کرو” ۔۔۔فاریہ نے حیرت سے پہلے تائی اماں کو دیکھا پھر قاسم کو ۔۔۔جس دبی سی مسکراہٹ سے فاریہ کو چڑانے کی کوشش کر رہا تھا
“تائی اماں ایک بار میری بات تو سن لیں”۔۔۔فاریہ نے منمناتے ہوئے اپنی صفائی
دینی چاہی۔۔۔
“کیا بات سنو تمہاری ۔۔۔ارے آج کل کی لڑکیوں کو تو ذرا شوہر کے احترام اور ادب کا علم ہی نہیں۔ ہے ۔۔۔۔شکر کرو کہ تمہارے تایا ابھی نماز کے لئے نیچے نہیں اترے ورنہ اچھی خبر لیتے تمہاری” ۔۔۔۔قاسم کی والدہ قاسم کی کہانی سن چکی تھیں اس لئے فاریہ کی سننے کو تیار نہیں تھیں ۔۔۔قاسم کی دبی دبی ہنسی سے فاریہ کی جان جل کر رکھی تھی قاسم کی والد جب قاسم کی طرف دیکھتی تو فورا سے اسکے چہرے پر مسکراہٹ کی جگہ بیچارگی ٹپکنے لگتی فاریہ اسکے پل میں بدلتے رنگ دیکھ کر اندر ہی اندر پیج تاب کھا کر رہ گئ تھی ۔۔۔۔
“۔وہ چھوڑی۔ امی ذرا یہ تو سوچیں اگر میرے بھائی بھابیاں یہاں موجود ہوتیں اور مجھے یوں لاوارث صوفے پر پڑے دیکھتے تو کیا امپریشن پڑتا میرا ان پر کتنا مزق اڑاتے وہ میرا کہ میرا اپنی بیوی پر کوئی رعب ہی نہیں ہے ۔”۔۔قاسم اپنی ماں کو مزید تپانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے ان بھائیوں بھابیوں کا ذکر کرنے لگا جو اسکی شادی دیکھ کر واپس انگلینڈ جا چکے تھے ۔۔۔۔
“میں تو کہتا ہوں امی فون کر کے سیدھا سیدھا چچا جو بلائیں وہی دماغ درست کریں گئے اس کا ۔۔۔”۔خلاف توقع فاریہ کچھ نہیں بولی چپ چاپ قاسم کی لن ترانیاں سنتی رہی وہ بھی نظریں جھکائے ۔۔۔۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے کسی کو بلانے کی ۔۔۔فاریہ تم سوری بولو قاسم کو اور دونوں جاؤں اپنے کمرے میں ۔۔۔۔تمہارے تایا آ گئے تو خیر نہیں ہے دونوں کی” ۔۔۔۔تائی اماں کے ڈانٹنے پر فاریہ نے قاسم سے سوری کہا
“سوری قاسم” ۔۔۔
“ٹھیک ٹھیک ہے ۔۔۔یہ تمہاری پہلی غلطی ہے اس لئے معاف کر رہا ہوں ورنہ میں بہت برا ہوں غصے کا ۔”۔۔۔میں کمرے میں جا رہا ہوں ۔۔میرا تکیہ اور لحاف تم اوپر لیکر آؤں ۔۔۔قاسم بارعب لہجے سے کہتے ہوئے اوپر چلا گیا ۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں فاریہ بھی قاسم کا تکیہ اور لحاف لیکر اوپر آ گئ ۔۔۔۔قاسم بیڈ پر پھیل کر لیٹ گیا فاریہ نے تکیہ بیڈ پر رکھا لحاف بھی بیڈ پر رکھ کر خود کمرے سے باہر جانے لگی
“تم کہاں جا رہی اب “
“نیچے” ۔۔۔وہ سنجیدگی سے بولی
“کیوں ابھی تو سب سو رہے ہیں تم کیا کرو گی نیچے جا کر ۔”۔۔
“مجھے نیند نہیں آ رہی ۔۔میرے یہاں رہنے سے تمہاری نیند ڈسٹرب ہو سکتی ہے اس لئے میں نیچے ہی ٹھیک ہوں” ۔۔۔فاریہ کا موڈ خراب دیکھ کر قاسم نے اسے مزید تپاتے ہوئے کہا
“یہ کہو نا بدلہ لینے کا سوچ رہی ہو ۔۔۔اب نیچے لاونج میں جا میرے خلاف پلان بناؤں گی کہ کیسے مجھے ڈیڈ سے ڈانٹ پڑوا سکو۔۔۔”
“ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے میرا ۔۔۔۔اور آج کے بعد تمہیں بھی کچھ نہیں کہو گی ۔۔ویسے بھی جب سے میری شادی ہوئی میں ایک بار بھی امی کے پاس رہنے نہیں گئ ۔۔۔فکر مت کرو دوپہر تک تمہیں میری شکل بھی نظر نہیں آئے گی ۔۔۔میں اپنے گھر چلی جاؤں گی اور پورے دس بارہ دن رہ کر آؤنگی ۔۔۔۔بہت شوق سے فل والیم میں ٹی وی دیکھنا تم “۔۔۔فاریہ کے تلملائے انداز کو وہ خوب انجوائے کر رہا تھا ۔۔۔۔
“صرف دس بارہ دن ۔۔۔۔بس ۔۔۔۔اس سے کیا ہو گا فاری کوئی تین چار ماہ رہ کر آو تو پتہ بھی چلے۔۔۔ یہ دن تو چٹکی بجاتے ہی گزر جائیں گئے” ۔۔۔قاسم نے چٹکی میں فاریہ کی بات اڑائی تھی ۔۔۔وہ کھل کر رہ گئ ۔۔۔۔فاریہ جو یہ سوچے بیٹھی تھی اسکی دھمکی پر قاسم اسے منانے کی کوشش کرے گا قاسم کی بے رخی اسے دکھی کرنے لگی تھی
“اچھا اب آ کر پاؤں دباوں میرا بہت درد کر رہا ہے” قاسم کے آگے حکم پر فاریہ کی وہ حیرت کی ا جھٹکا لگا تھا ۔۔۔۔
“کیا” ۔۔۔۔
“پوری رات صوفے پر سویا ہوں پیر لٹکا کر وہ بھی تمہاری بدولت آ کر خدمت کرو شوہر کی” ۔۔۔قاسم کی بے اعتنائی پر اسے غصہ آنے لگا اگر تائی اماں کا ڈر نا ہوتا تو سیدھا کر کے رکھ دیتی اسے ۔۔۔۔چپ چاپ آ کر قاسم کے پاؤں کے پاس بیٹھ کر اسکے پیر دبانے لگی
“ویسے چچی کے گھر جا کر تم کرو گی کیا فاری” ۔۔۔۔قاسم نے چہرے پر مصنوعی سنجیدگی سجا کر کہا
“میں کچھ بھی کرو تم سے میں مطلب ۔۔۔فاریہ کا انداز ہنوز تھا
“سارا مطلب ہی میرا ہے ۔۔ارے چچی سے تم میری غیبت چغلیاں ہی تو کرنی ہیں” ۔۔۔۔فاریہ نے اسے پلٹ کر کوئی جواب نہیں دیا
“اچھا اب بازو دباؤ میرا پوری رات ایک کروٹ پر سویا ہوں” ۔۔۔۔فاریہ نے بنا جواب دیے اسکے برابر میں بیٹھ کر اسکے بازو دبانے لگی قاسم نے دوسرے ہاتھ سے فاریہ کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔۔
“قاسم ہاتھ چھوڑو میرا” ۔۔۔فاریہ غصے سے بولی
“کیوں چھوڑو ۔۔۔۔نہیں چھوڑو گا پورا حق ہے میرا تم پر ۔۔”۔۔
“اپنے سارے حق یاد ہیں تمہیں” ۔۔فاریہ اپنا ہاتھ چھڑوانے کی نا کام کوشش کرتی رہی
“میں نے اپنے کون سے فرض میں کوتاہی کی ہے ۔۔۔کیا نہیں پورا کرتا میں تمہارا ۔۔۔۔”
“تمہیں بیوی کی نہیں ایک نوکرانی کی ضروت تھی جو تمہاری ٹانگیں دبا سکے تمہارے سارے کام کرتی رہے” ۔۔۔۔فاریہ نے اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا
“میں نوکرانی سمجھتا ہوں تمہیں ۔۔۔ٹھیک ہے جاؤں تم نیچے اور رضیہ کو اوپر بھج دینا باقی کے پاؤں میں اس سے دبوا لوں گا “۔۔۔قاسم نے فاریہ کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے گھر کی ملازمہ کا نام لے کر کہا
“یہ کہتے ہوئے ذرا شرم نہیں آئی تمہیں “فاریہ تپ کر بولی
“شرم کیوں آئےگی ۔۔۔یہ سب کام تو نوکرانیاں کرتی ہیں نا ۔۔۔وہ تو نوکرانی ہی ہے اب تمہیں کیا اعتراض ہے ۔۔۔آج کے بعد میرے سارے کام رضیہ کرے گی تم نہیں” ۔۔۔۔جلد ہی اپنی کہی ہوئی بات فاریہ کو اب بے معنی لگنے لگی
“قاسم” ۔۔۔فاریہ شرمندگی سے بولی
“اب کیا ہے یہ کام تو بیویاں نہیں کرتی ۔۔۔۔بیویاں تو اپنے شوہر کو کمرے سے آؤٹ کیا کرتی ہیں جیسے تم نےمجھے رات کو کیا تھا ۔”۔۔۔قاسم نے اسے مزید شرمندہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی
“میں سوری کہہ چکی ہوں”۔۔۔ فاریہ نے اپنی خفت چھاتے ہوئے کہا ۔۔۔
“مگر غصے سے ۔۔۔ورنہ شرمندگی نہیں ہے تمہیں” ۔۔قاسم نے صاف گوئی اختیار کی
“ایم سوری قاسم ۔۔۔لیکن تمہیں بھی ماننا پڑے گا کہ تم نے جان بوجھ کر والیم لاؤڈ کیا تھا “۔۔۔فاریہ نے قاسم کو اسکی غلطی کا احساس دلانا چاہتا
“اس لئے کہ مجھے تمہارے ساتھ وقت گزارنا تھا دو مہینے بعد میں رات کو فری ہوا تھا ۔۔میرا دل چاہ رہا تھا تمہارے ساتھ مووی دیکھوں مگر تمہیں تو بس اپنی نیند پیاری تھی ۔۔۔۔”
“کہا نا ایم سوری ۔۔۔تم یہی بات مجھے رات کو بھی کہہ سکتے تھے “
“میں نے کہا تھا ۔۔۔تم جانتی ہو میرا انداز ذرا مختلف ہی ہوتا ہے مگر میری نیت تو صاف ہی تھی ۔۔۔۔”
“اچھا چھوڑو بھی اب ناراضگی” ۔۔۔۔
“ٹھیک ہے ۔۔۔تم واقع شرمندہ ہو تو ٹھیک ہے مگر آئندہ خیال رکھنا
