Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 32
Rate this Novel
Tadbeer Episode 32
Tadbeer by Umme Hani
“قاسم اٹھو” ۔۔۔۔فاریہ نے قاسم کو جھنجھوڑ کر اٹھایا تو وہ بھپر کر بولا
“کیا مصبت ہے فاری رات کو تو سکون سے سونے دیا کرو ۔”۔۔۔وہ کروٹ بدل کر اپنی جمائی لیتے ہوئے بولا
“اٹھوں نا قاسم مجھے بھوک لگ رہی ہے “۔۔۔۔فاریہ نے ملتجی لہجے میں کہا قاسم نے موندی موندی آنکھوں سے فاریہ کو دیکھا پھر گھڑی کی طرف نظر دوڑائی ۔۔۔۔
“تو میں کیا کروں ۔۔۔۔کک نظر آتا ہوں میں تمہیں جاؤں کچن میں جو کھانا ہے کھاؤں جا کر مجھے کیوں تنگ کر رہی ہو”۔۔۔۔قاسم نا گواری سے آنکھیں مسلنے لگا
“میں گئ تھی کچن میں فریج میں بھی کچھ خاص نہیں ہے ۔۔۔یوں کروں پیزا آڈر کر دو … میں اسی سے اپنا کام چلا لوں گئ۔۔”۔۔فاریہ نے بڑے آرام سے فرمائش کی قاسم یک دم اٹھ کر بیٹھ گیا فاریہ کی بے تکی فرمائش پر قاسم نے اسے کھا جانے والے انداز سے کہا
“اسوقت ۔۔۔۔ٹائم دیکھا ہے تم نے رات کے ڈھائی بجے رہے ہیں “
“ہاں تو کوئی بات نہیں انکی سروس چوبیس گھنٹے ہوتی ہے” ۔۔۔فاریہ کے چہرے پر بلا کا اطمینان تھا
قاسم نے ایک بھر پور نظر فاریہ پر ڈالی
“اپنا وزن دیکھا ہے تم نے۔۔۔۔ون کے جی روز گین کر رہی ہو تم ۔۔۔۔۔ابھی ایک مہینہ ہوا ہے شادی کو۔۔۔۔۔ بری اور جہیز کے کپڑے بھی تنگ ہونے لگے ہیں تمہیں۔۔۔۔جس حساب سے تم اپنا ویٹ گین کر رہی ہو نا فاری قسم سے دوسری شادی کر لوں گا سخت چڑ ہے مجھے موٹی لڑکیوں سے” ۔۔۔۔۔قاسم نے پیزا کیا منگوا کر دینا تھا ایک اچھا خاصا لیکچر ضرور فاریہ کو سنا دیا تھا۔۔۔وہ تو جھنجلاتے ہوئے بول کر دوبارہ لیٹ کر سو گیا مگر فاریہ ضرور فکرمند ہو گئ تھی وزن تو واقع اس کا پہلے سے بڑھ گیا تھا اور کپڑے بھی کچھ ٹائٹ ہو گئے تھے ۔۔۔مگر شادی کے فوری بعد سے دعوتوں کا جو سلسلہ شروع ہوا تو اب کہیں جا کررکا تھا ۔۔۔اب بھلا فاریہ کا اس میں کیا قصور تھا ۔۔۔۔یہ سب فاریہ سوچ رہی تھی ۔۔۔۔۔
*******………*******…..
رات کے تین بجے کمرے کا دروازہ کھل کر آہستہ سے بند ہونے کی آواز پر میری آنکھ کھل گئ۔۔۔کمرے میں ملجگی سی روشنی تھی میں نے کروٹ بدل کر صوفے پر نگاہ ڈالی تو صوفہ خالی تھا ۔۔۔۔نیند کی شدت سے میری آنکھیں نہیں کھل رہیں تھیں ۔۔۔سائیڈ ٹیبل پر ہاتھ مار کر اپنا موبائل پکڑ کر آن کیا تو رات کے تین بج رہے تھے با مشکل اٹھ کر کمرے سے باہر نکلا ماہم کا کمرہ بند تھا کچھ پیاس بھی محسوس ہو رہی تھی اس لئے نیچے اتر آیا کچن کی لائٹ تو بند تھی مگر ٹارچ لائٹ کی روشنی کے ہیولے سے نظر آ رہے تھے ۔۔۔۔ میں دبے پاؤں کچن میں داخل ہوا مجھے دیکھ کر کوئی جلدی سے ٹیبل کے نیچے بیٹھا تھا اور ٹارچ لائٹ بھی بند ہو گئ تھی پہلا شک میرا ماہم کی طرف ہی گیا تھا ۔۔۔میں نے کچن کی لائٹ آن کی فریج کھول کر پانی کی بوتل نکالتے ہوئے جان بوجھ کر میں تھوڑا سا جھک گیا کیونکہ فریج ٹیبل کے برابر ہی تھی ذراسا جھک کر میں ٹیبل کے نیچے بیٹھے شخص کو آرام سے دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔میرا شک ٹھیک تھا نیچے ماہم ہی بیٹھی تھی ساتھ میں پلیٹ میں کچھ کھانے کو بھی تھا شکر ہے اس کی نظر مجھ پر نہیں پڑی تھی میں نے بوتل نکالی ٹیبل پر رکھے گلاس میں پانی ڈال کر پیا اور واپس پلٹ گیا ۔۔۔اگر وہ مجھے دیکھ لیتی تو یقینا کھانا وہیں چھوڑ دیتی۔۔۔اور میں چاہتا تھا کہ وہ بھوکی نا رہے اس لئے خاموشی سے کمرے میں آ کر لیٹ گیا۔۔۔پندرہ بیس منٹ بعد وہ اسی طرح دبے پاؤں آکر صوفے پر لیٹ گئ ۔۔۔۔۔
********………********……..*********…….
صبح جب قاسم کی آنکھ کھلی تو فاریہ بستر پر موجود نہیں تھی قاسم نے اٹھ کر انگڑائی لیتے ہوئے اٹھا۔ اور کھڑی سے پردہ ہٹایا تاکہ کمرہ روشن ہو جائے مگر نیچے کا نظارہ دیکھ کر اسکا دل ودماغ یک دم ہی روشن ہو گیا تھا اسکی جمائی بیچ میں ہی رک گئ نیچے لان میں فاریہ قاسم کا ٹریک سوٹ پہنے لان کے گرد تیزی سے چکر لگا رہی تھی اور اسکی والدہ اور بہن بیچ میں رکھے ٹیبل پر چنے پوریاں لسی رکھے فاریہ کو پکار رہی۔ تھیں ۔۔۔۔
“بس بھی کرو فاریہ کیوں خود کو بھاگ بھاگ کر ہلکان کر رہی ہو ۔۔۔۔آجاوں اب ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے ۔”۔۔۔فاریہ ہانپتے ہوئے ان تک پہنچی تھی
“تائی اماں قاسم کہہ رہا تھا کہ میں موٹی ہو رہی ہوں ۔۔۔۔اس لئے واک کر رہی تھی پورے لان کے دو چکر لگائیں ہیں میں نے ۔۔۔فاریہ پھولے ہوئے سانس کے ساتھ بولی اور کرسی کھنچ کر بیٹھ گئ
“ارے قاسم کا تودماغ خراب ہے تم ناشتہ کرو ۔۔۔۔ایک دن میں میری بچی کو ہلکان کرنے پر تلا ہوا ہے ۔۔۔۔”
“نہیں تائی اماں میں یہ سب نہیں کھاؤں گئ قاسم کہہ رہا تھا گر میں موٹی ہو گئ تو وہ دوسری شادی کر لے گا “۔۔۔۔۔گرم گرم پوریاں چنے اور حلواہ دیکھ کر فاریہ کے منہ میں پانی بھر آیا تھا مگر قاسم کی دھمکی ان سب چیزوں پر بھاری تھی ۔۔۔۔
“دوسری شادی” ۔۔۔۔۔تائی اماں کا نوالہ ہاتھ میں ہی رہ گیا
“کم بخت کہیں کا۔۔۔۔ یہ دھمکیاں دے رہا ہے تمہیں ۔۔۔۔تم ناشتہ کرو ۔۔۔آنے دو ذرا اسے نیچے میں پوچھتی ہوں کہ کتنی شادیاں اور کرنی ہے اس نے” ۔۔۔۔تائی اماں کے خیالات سن کر فاریہ نے مزے سے چنے پلیٹ میں ڈالے اور پوری کھانے لگی ۔۔۔۔قاسم نے غصے سے پردے واپس کھنچ کر برابر کر دیے
“اس عورت کو سمجھانا اور کوہ کاف میں گھوم کر واپس زندہ لوٹ آنا ایک برابر ہے یعنی نا ممکن سی بات ہے ” ۔۔۔۔۔۔قاسم نے تولیہ گلے میں لٹکایا اور نہانے گھس گیا
**********…………..************……….******
میرے کمرے کا دروازہ دھیرے سے کھلا تو میرا ذہن مکمل طور پر بیدار ہو گیا کسی کے قدموں کی چاپ میرے نزدیک ا کر رک گئ ۔۔۔۔۔۔مجھے کسی کے سانسوں کی آواز اپنے قریب سنائی دینے لگی سانسوں کی گرم ہوا سے مجھے محسوس ہوا کوئی میرے بہت قریب ہے مگر یہ ماہم تو نہیں تھی اسکی آہٹ پر تو میرا دل گواہی دے دیتا تھا ۔۔۔۔پھر کون تھا میرے اتنے قریب
“تم کیوں زندہ ہو عفان ۔۔۔۔۔مر کیوں نہیں جاتے ۔۔۔۔”۔کامران کی اشتعال انگیز آواز میرے سماعتوں سے ٹکرائی ۔۔۔۔۔
“اتنے ڈھیٹ کیوں ہو ۔۔۔۔۔جب تک تمہاری یہ اکھڑی ہوئی سانسیں چل رہی ہیں وہ میری نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔اور مجھے اسے ہر حال میں اپنانا ہے ۔۔۔۔ اس لئے تمہیں تو مرنا ہی پڑے گا” ۔۔۔۔۔ کامران غیض وغصے سے بول رہا تھا ۔۔۔۔۔میں بے بسی سے بس اسکی بے حسی سن رہا تھا ۔۔۔۔پھر اچانک سے مجھے لگا کسی نے میرے ناک سے آکسیجن ماسک اتار دیا ۔۔۔۔میرا دم گھٹنے لگا میری تیزی سے اپنی آنکھوں کی
پتلیاں ہلانے لگا ۔۔۔۔اپنے زندہ ہونے کا یقین میں بس ایک اسی عمل سے ظاہر کر سکتا تھا ۔۔۔۔مجھے اب سانس لینے میں دکت سی ہونے لگی ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں میں سانس کھنچ کھنچ کر لینے لگا مجھے لگا اب میں بچ نہیں۔ پاؤں گا۔۔۔۔کچھ دیر اگر میری یہی کیفیت رہی تو میں۔ مر جاؤں گا۔۔۔۔لیکن کمرے کا دروازہ دوبارہ سے کھلا تو میرا ماسک دوبارہ سے میرے ناک پر لگ گیا ۔۔۔مگر اب بھی میرا سانس بحال نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔میری دل کی دھڑکنیں بھی بہت تیزی سے چل رہی۔ تھیں
“آپ اسوقت یہاں کیا کر رہے ہیں مسٹر ۔۔۔۔ڈاکٹر رمشہ کی آواز سنائی دی
“مم۔۔۔۔میں ۔۔۔وہ ۔۔۔۔”کامران ہکلایا۔۔۔
“یہ کیا ہوا ہے انہیں یہ اس طرح سے سانس کیوں لے رہے ہیں “۔۔۔۔۔۔وہ شاید میرے قریب آکر بولی تھی پھر مجھے لگا میرا ماسک ٹھیک کرنے لگی آکسیجن بھی کچھ بڑھا دی ۔۔۔مجھے اب کچھ بہتر محسوس ہونے لگا تھا
“جب میں اندر آیا اسکا ماسک اتارا ہوا تھا ۔۔۔۔میں بھی وہی ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ آپ آگئیں آپ کا اسٹاف نہایت ہی کیر لیس ہے مریض کو بار بار چیک نہیں کرتا کیا “۔۔۔۔کامران کی مکاری شروع ہوچکی تھی۔۔۔۔۔میرا دل چاہا چیخ چیخ کر کہو کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے
“دیکھیں مسٹر بیوقوف کسی اور کو بنائیے گا ۔۔۔۔میں کچھ دیر پہلے ہی ان کو دیکھ کر گئ تھی ۔۔۔سب ٹھیک تھا ۔۔۔۔جو شخص ہل جل تک نہیں سکتا اس کا ماسک کیسے اتر سکتا ہے ۔۔۔۔اور آپ اسوقت یہاں آئے بھی کیسے ملاقات کا وقت تو کب کا ختم ہو چکا ۔۔۔۔۔آپ کو اندر آنے کی اجازت کس نے دی ۔۔۔ڈاکٹر رمشہ غصے سے بات کر رہی تھی ۔۔۔۔میرے دل کو کچھ اطمینان ہوا کہ چلو کوئی تو مسیحا ہے میرا یہاں پر
“دیکھیں ڈاکٹر صاحبہ مجھے لمبی چوڑی کہانیاں کرنی نہیں آتیں ۔۔۔۔آپ مجھے اپنی ڈیمانڈ بتائیے ۔۔۔۔اس آدھے سے زیادہ مرے ہوئے شخص کو آپ کب تک زندہ ثابت کر کے پیسے بٹوریں گئیں ۔۔۔اس کا قصہ ختم کرنے میں میری مدد کریں میں آپ کو منہ مانگی رقم دونگا “۔۔۔۔کامران کی حقیقت کھل کر میرے سامنے آ گئ تھی مگر مجھے اطمینان تھا کہ وہ ڈاکٹر ضرور کامران کو کھری کھری سنائے گی مگر یہ بھی میری خوش فہمی ہی ثابت ہوئی
“ویسے آپکی آفر بری نہیں ہے مسٹر اس پر سوچا جا سکتا ہے” ۔۔۔۔ڈاکٹر رمشہ کی بات سن کر مجھے افسوس ہونے لگا میری آخری امید بھی اس ڈاکٹر نے توڑ دی تھی غصے کے مارے میں اپنی آنکھیں تیزی سے گھمانے لگا ۔۔۔۔میری دھڑکنیں بھی تیزی سے چلنے لگیں ۔۔۔
“لیکن جو حرکت آپ ابھی کرنے جا رہے تھے وہ آپکے لئے مشکلات بھی بڑھا سکتی تھی مسٹر ۔۔۔۔۔۔؟
“کامران” ۔۔۔۔کامران نے اپنا نام بتایا
“جی مسٹر کامران ۔۔۔یہاں ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کے اندر ایمانداری کا کیڑا باقی ہے ۔۔۔اور جگہ جگہ کیمرے لگے ہیں یہاں تک کہ اس کمرے میں بھی کیمرہ موجود ہے ۔۔۔۔ہماری آواز اگر کوئی سن نا بھی پائے مگر ہماری حرکات و سکنات کیمرے سے چھپ نہیں سکتے ۔۔۔اس لئے ایسی کوئی خواہش پوری کرنے سے پہلے مجھے انفارم ضرور کر دیجیے گا تا میں سب کچھ سنبھال لوں” ۔۔۔۔وہ ڈاکٹر کے روپ میں ایک قاتلہ تھی جو چند پیسوں کے عوض انسانی جان کو موت کے گھاٹ اتارنے کو بھی تیار تھی۔۔۔ایک انسان ہونے کے ناطے اس کا دل ایک بار بھی نہیں لرزا ۔۔۔۔خدا کا خوف ایک بار بھی اسکے دل سے نہیں گزرا ۔۔۔۔وہ بھلا کیوں سوچے گی جب میرا ماں جایا ہی مجھے مارنے پر تلا ہوا ہے جب کامران کا دل ہی نہیں کانپا تو اس اجنبی لڑکی سے میں کیا توقع رکھ سکتا تھا مجھے مایوسی نے گھیر لیا میں نے اپنی آنکھوں کی حرکات کو روک دیا اور خود کو حالات کے دھانے پر چھوڑ دیا ۔۔۔میں اس بے بسی کی آخری حد میں تھا کسی کا کیا بگاڑ سکتا تھا ۔۔۔۔۔بس ایک اللہ کی ذات ہی تھی جو میری واقف حال تھی ۔۔۔۔میں دل ہی دل میں بس اسی ہی پکارنے لگا ۔۔۔۔
اے میرے اللہ مجھے اس بے بسی کی زندگی سے نجات دیدے یا مجھے زندوں میں شامل کر دے یا پھر ہمیشہ کی ابدی نیند میں سلا دے ۔۔۔۔میں نہیں جانتا مجھے اس حال میں رکھنے میں تیری کیا مصلحت ہے۔۔مگر میں تھک چکا ہوں ۔۔۔ہار چکا ہوں میرا دل دل پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا مگر میری آنکھ میں آیک آنسوں کی بوند تک نہیں تھی ۔۔۔۔۔
*********………*******………*******…….****
صبح جب میں بیدار ہوا ماہم کمرے میں نہیں تھی۔۔۔۔میں تیار ہو کر ناشتے کے لئے ڈائنگ روم میں داخل ہوا تو سامنے ہی ماہم پاپا کے ساتھ بیٹھی تھی
“انکل آپ ناراض ہیں مجھ سے “۔۔۔۔۔۔ ماہم پاپا سے نا جانے کیا پوچھنا چاہ رہی تھی میں ماہم کے برابر والی کرسی پر بیٹھ گیا
“نہیں بٹیا میں تم سے کیون ناراض ہوں گا ۔”۔۔وہ بہت نرمی سے بات کر رہے تھے
“پھر مجھ سے دو دن سے بات کیوں نہیں کی” ۔۔۔۔وہ مجھے یکسر نظر انداز کیے پاپا سے شکوے شکایتوں میں مشغول تھی
“کیا بات کرتا بٹیا ۔۔۔۔کامران کی حرکتوں نے مجھے تمہارے سامنے نظریں اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑا ۔۔۔میں بہت شرمندہ ہوں تم سے ۔۔۔۔سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ بات کیسے کروں تم سے “
“آپ نے ایسا کیوں سوچا ۔۔۔۔۔آپ جانتے ہیں مجھے اپنے بابا بلکل نہیں یاد ۔۔۔۔۔وہ کیسے تھے ۔۔۔۔مجھ سے کتنا پیار کرتے تھے ۔۔۔لیکن آپکے ہوتے ہوئے مجھے یہ احساس کبھی نہیں ہو کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو آپ سے زیادہ پیار کرتے ۔۔۔اپ نے کبھی مجھے غیر نہیں سمجھا تو پھر اب کیوں” ۔۔۔۔پاپا نے شفقت سے ماہم کے سر پر ہاتھ پھیرا
“مجھے بھی تمہارے ہوتے ہوئے کبھی بیٹی کی کمی محسوس نہیں ہوئی لیکن اگر میری کوئی بیٹی ہوتی بھی تو وہ تمہارے جتنی پیاری نہیں ہوتی اور میں تو اتنا خوش نصیب ہوں کہ مجھے تمہارے جدا ہونے کا ڈر بھی نہیں ہے ۔۔۔۔تم ہمشہ میرے پاس رہو گی میری بیٹی بن کر” ۔۔۔۔پاپا اور ماہم کی جذباتی باتوں پر میں اور مما خاموش تھے مجھے آفس سے دیر ہو رہی تھی اور ماہم کا مجھے ناشتہ سرو کروانے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔میں چائے کی کیٹل اٹھائی اور کپ میں چائے ڈالنے لگا
“کتنی بار کہا ہے تم سے عفان کہ ماہم کے ہاتھ سے ناشتہ لیا کرو” ۔۔۔۔پاپا کی سرزش پر میں نے سلائس اٹھا کر جیم لگاتے ہوئے کہا
“ہاں تو آپ ہی یہاں ایموشنل سین کریٹ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں ۔۔۔آپ باپ بیٹی کے راز و نیاز کے چکر میں ۔۔۔میں آفس سے لیٹ ہو جاؤں گا ۔”۔۔میں جیم لگا چکا تھا اب سلائس کھاتے ہوئے بولا
” ویسے میں کب سے یہ سوچ تھا تھا کہ تم ابھی تک۔ خاموش کیوں ہو ۔۔۔حالانکہ جلنے کی بو تو مجھے کافی پہلے سے آ رہی ہے ۔”۔۔۔پاپا کے طنز پر سب سے زیادہ ہنسی ماہم کو ہی آ رہی تھی میں جو سلائس کھانے میں مصروف تھا میرا ہاتھ وہیں رک گیا ۔۔۔۔مما بھی ماہم کی ہنسی میں اس کا پورا پورا ساتھ دینے لگیں ۔۔۔میں نے باری باری تینوں کو خشمگین نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔تینوں ہی چپ ہو گئے مگر ماہم کی دبی دبی ہنسی ابھی بھی جاری تھی میں نے سلائس دوبارہ سے کھانا شروع کر دیا
“مما رات کو سونے سے پہلے ایک آدھا چکر کچن کا بھی لگا لیا کریں ۔۔۔۔بلی گھسنےلگی ہے کچن میں ۔۔۔۔میں نے خود اسے رات کو ٹیبل کے نیچے بیٹھے دیکھا تھا” ۔۔۔اس بار آملیٹ کانٹے سے کھاتے ہوئے ماہم کا ہاتھ رکا تھا ۔۔۔۔بے ساختہ اس نے میری طرف دیکھا میں بھی مسکرا کر اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئ پیشانی پر کئی بل ڈالے دوبارہ آملیٹ کھانےلگی
“اچھا مگر پہلے تو کبھی بلی نظر نہیں آئی” ۔۔۔۔مما کچھ متفکر سی لگنے لگیں
“مجھے تو لگ رہا تھا مما کہ وہ کچھ کھا بھی رہی تھی “۔۔۔۔۔میری بات پر ماہم کا نوالہ شاید گلے میں ہی اٹک گیا تھا اس نے جلدی سے پانی کا گلاس لیکر پانی پینا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔
“لیکن باہر کچھ بھی نہیں رکھا تھا سب کچھ تو فریج میں ہوتا ہے” ۔۔۔۔مما واقع فکرمند سی ہو گئیں تھیں
“ہو سکتا ہے مما اس بلی کی رسائی فریج تک بھی ہو ۔۔۔۔میری بات پر ماہم کو ااچھو سا لگ گیا وہ کھانسے لگی ۔۔۔
“۔کیا ہوا ماہم”
“نہیں کچھ نہیں خالہ ۔۔۔۔ٹھیک ہوں “
“عفان اگر تم نے بلی کو دیکھ ہی لیا تھا تو باہر ہی نکال دیتے “۔۔۔۔اس بار پاپا نے مجھ سے کہا
“توبہ کریں پاپا اس “جنگلی بلی” کا کیا بھروسہ حملہ کر دیتی مجھ پر ۔۔۔۔مما آپ پلیز رات کو کچن لوک کر کے سویا کریں “…جنگلی بلی پر میں نے ماہم کے ساتھ بیٹھے اسے ہلکی سے کہنی مار کر کہا تھا .
“ٹھیک کہہ رہا ہے عفان تم رات کو کچن لوک کر کے سویا کرو ۔”۔۔پاپا نے بھی مما کو یہی مشورہ دیا
“تا کہ جن کو بھوکا رہنے کا شوق ہے انہیں اسکی سزا تو پوری پوری ملے” ۔۔۔۔یہ بات میں نے ماہم کی طرف ذرا جھک کر دھیرے سے کہی وہ مجھے گھورتے ہوئے دیکھنے لگی میں نے مسکرا کر اس پر یہ جتانے کی کوشش کی کہ اسکی رات کی کاروائی میں دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔وہ چائے پینے لگی ۔۔۔۔میں اٹھ کر آفس چلا گیا ۔۔۔۔۔
*****……..
میں آفس سے آج جلدی ہی گھر آ گیا تھا ۔۔۔۔لاونج میں ہی مجھے پاپا مما اور ماہم کی باتوں کی آوازیں آنے لگیں ۔۔۔۔لاونج میں تینوں بیٹھے کیرم کھیلنے میں مصروف تھے پاپا چند دنوں سے آفس نہیں جا رہے تھے ۔۔۔یقینا ماہم کو بہلانے کے لئے زیادہ وقت وہ اسی کے ساتھ گزار رہے تھے ۔۔۔۔میں پاپا کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ماہم۔ اور مما پاپا کے مقابل کشن پر بیٹھیں تھیں ماہم پاپا کے ساتھ کھیل رہی تھی اور مما اسکی ہیلپ کر رہیں تھیں گیم بس آخری گوٹ پر جا کر رک گئ تھی ۔۔۔۔
“اس بار تو میں ماہم کو ضرور ہرا دونگا “۔۔۔۔پاپا اپنی باری چلتے ہوئے پر امید لہجے سے کہا
“مت بھولیں انکل آپ نے پہلی گیم میں۔ یہی کہا تھا اور وہ بھی آپ ہار چکے ہیں” ۔۔۔۔ماہم ابرو چڑھاتے ہوئے اترائی تھی
“وہ تو تمہاری خالہ تمہارے ساتھ بیٹھی پوری پوری چیٹنگ کروا رہی ہے تمہیں ۔۔۔۔تم نے تو جیتنا ہی تھا “۔۔۔پاپا نے اپنا چشمہ نیچے کر کے مما کو گھورتے ہوئے ہمیشہ کی کی طرح سارا مدعا مما پر ڈال دیا
“ارے اگر آپ کو خود ہی کھیلنا نہیں آتا تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے” ۔۔۔۔مما حیرت کی ا اظہار کرنے لگیں ۔۔۔آخری گیم بھی ماہم جیت چکی تھی ۔۔۔۔
“اٹھاو اس گیم کو مجھے تم جیسے چیٹرز کے ساتھ کھیلنا ہی نہیں ہے “
“وہ آپکی مرضی مگر میری تین آئسکریم آپکی طرف ڈیو ہوچکی ہیں” ۔۔۔ماہم نے مسکراتے ہوئے فخر سے یاد دہانی کروائی اور گوٹ اٹھانے لگی
“ہاں تو میں کون سا مکر رہا ہوں ایک تو میں تمہیں آج ہی کھلا دیتا ہوں جاؤں شاباش تیار ہو کر آؤ ۔۔”۔پاپا کی بات پر وہ خوش ہو گئ اور کیرم سنبھال کر اوپر چلی گئ ۔۔۔۔میں بہت تھک چکا تھا س لئے صوفے کی پشت سے سر رکھے آنکھیں بند کر کے خود کو ریلیکس دینے لگا آج آفس میں کام بھی ذیادہ تھا شام میں چائے پینے کی بھی فرصت نہیں ملی تھی ۔۔۔۔اس لئے میں نے بند آنکھوں سے ہی مما سے چائے کی فرمائش کی
“مما پلیز ایک کپ چائے بنا دیں ۔۔۔۔۔”
“بیٹھی رہو صفیہ ۔۔۔چائے یہ ابھی نہیں پیے گا ۔”۔۔۔پاپا کی غیر متوقع بات پر میری پوری آنکھیں کھل گئیں
“کیوں” ۔۔۔۔مجھے حیرت بھی ہوئی تھی
“پہلے تم ماہم کو آئسکریم کھلانے لے جاوں گئے ۔”۔۔۔پاپا کے نئے شاہانہ آڈر پر میں تلملا گیا
“میں کس خوشی میں” ۔۔۔۔میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔
“۔۔اسوقت بہت تھک چکا تھا مزید کہیں جانے کا موڈ نہیں تھا میرا” ۔۔۔۔
“میرے ہارنے کی خوشی میں” ۔۔۔۔پاپا نے اپنا چشمہ ناک سے اوپر کرتے ہوئے بڑے فخر سے کہا جیسے ہارنے کے بجائے جیتنے کا جشن منا رہے ہوں میں نے تعجب کا اظہار کیا
“ہاریں آپ اور بھکتوں میں… بلکل نہیں ۔۔۔آج تو بہت تھکا ہوا ہوں” ۔۔۔۔میری بیزار سے صورت پر بھی پاپا نے کوئی خاص توجہ نہیں دی
“میں انکار نہیں سنو گا عفان ۔۔۔بہت دنوں بعد آج میری بیٹی بہت خوش ہے ۔۔۔لے کر جاؤں اسے” ۔۔۔۔میں چپ تو ہو گیا ۔۔۔ مگر میرا موڈ کہیں جانے کا نہیں تھا مگر سامنے سے ماہم کو بلو کلر کے کاٹن کے سوٹ میں ہلکے سے میک میں تیار دیکھ کر میری تھکن جیسے دور ہو چکی تھی ۔۔۔۔ویسے وہ مجھے ہر رنگ میں اچھی لگتی تھی مگر نیلا رنگ ذیادہ جچتا تھا اس پر ۔۔۔۔شاید بڑے بوڑھے ٹھیک ہی کہتے تھے عورت اگر سجی سنوری نظر آئے تو مرد اپنی سارے دن کی تھکن بھول جاتا ہے ۔۔۔اس وقت میرے ساتھ تو کچھ ایسا ہی ہوا تھا ۔۔۔۔اسے اپنے قریب آتا دیکھ کر میں کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔
“جاؤں بٹیا “۔۔۔۔پاپا نے ماہم سے کہا اور میری طرف اشارہ کیا
“آپ نہیں جائیں گئے ۔”۔۔۔۔مجھے اپنے ساتھ دیکھ کر وہ حیرت سے پاپا سے پوچھنے لگی
“نہیں میں تو کچھ دیر آرام کروں گا بہت تھک گیا ہوں ۔۔۔”
“ہاں تین بار ہار کر تھکن تو ہونی ہی تھی آپ کو ۔۔۔۔آرام کو بنتا ہے أپ کا “۔۔۔مما کے طنز کا بھی پاپا پر کچھ خاص اثر نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔
“چلو اب” ۔۔۔میں نے ماہم سے کہا وہ سارے زمانے کی بیزاریت منہ پر سجائے میرے ساتھ چلنے لگی ۔۔۔۔۔
گاڑی میں بھی خاموش بیٹھی رہی ۔۔۔۔۔میں نے بھی بات نہیں کی ۔۔۔۔۔۔بس اسے دیکھتا ضرور رہا ۔۔۔۔وہ منہ موڑے بس اپنی ناراضگی ہی مجھے دیکھا سکتی تھی گاڑی میں نے آئسکریم پالر کے باہر کھڑی کی
“مجھے نہیں۔ کھانی آئسکریم واپس گھر چلو “۔۔۔۔اسکا روکھا سا لہجہ مجھے تپا کر رکھ گیا
“یہ تمہیں پاپا کے سامنے کہنا چاہیے تھا تا کہ مجھے بھی زحمت اٹھانی نا پڑتی ۔۔۔اب اگر آ ہی گئ تو کھا بھی لو “۔۔۔اتنی دیر میں ایک لڑکا آڈر لینے بھی پہنچ گیا میں نے ایک چوکلیٹ آئسکریم منگوائی
“میں منع کر چکی ہوں کہ مجھے آئسکریم کھانی ہی نہیں ہے تو کیوں منگوائی ہے تم نے” ۔۔۔۔۔ماہم کی غصیلے لہجے پر میں چپ ہی رہا ۔۔۔۔مجھے خاموش دیکھ کر وہ بھی منہ موڑے باہر دیکھنے لگی آئسکریم کا کپ میں نے اس لڑکے سے لیکر ماہم کی بڑھا دیا ۔۔۔۔خود بھی میں نے اپنے لہجے میں نرمی لانے کی کوشش کی آخر تو مجھے ہی ماہم کو منانا تھا ۔۔۔۔اسلئے سوچا کہ مجھے ہی اپنے رویے کو بدلنا چاہیے “چھوڑو غصہ اور یہ کھا لو “۔۔۔۔مگر ماہم نے میرا ہاتھ پیچھے جھٹک دیا
“میں نے کہہ جو دیا کہ مجھے نہیں کھانی سمجھ میں نہیں آتا تمہیں” ۔۔۔۔ماہم غصے سے چلا کر بولی ۔۔۔برا تو مجھے بھی بہت لگا تھا مگر میں نے پھر بھی ضبط سے کام لیتے ہوئے پھر سے ماہم کی طرف آئسکریم بڑھاتے ہوئے کہا
“او کے ۔۔۔۔۔۔۔۔بہت ہوچکا اب ختم بھی کرو ماہم یہ ناراضگی ۔۔۔۔لو کھاؤں اسے” ۔۔۔۔ماہم نے میری طرف تیکھی نظر ڈالی میرے ہاتھ سے آئسکریم چھین کر باہر پھنک دی ۔۔۔۔
“لو ہو گئ ختم ناراضگی ۔۔۔۔تم کیا سمجھتے ہو تمہاری ہر غلطی کا ازالہ آئسکریم سے پورا ہو جائے گا ۔”۔۔۔۔ وہ تلملا کر بولی ۔۔۔میرے تو سر لگی اور تلوں پر جا کر بجھی
“غلطی ۔۔۔۔۔۔۔کیا غلط کیا ہے میں نے” ۔۔۔۔میں نے با مشکل خود پر ضبط کیا مگر وہ کچھ نہیں بولی ونڈر اسکرین کے باہر دیکھتی رہی ۔۔۔۔میں نے گاڑی اسٹاٹ کی اور تیزی سے پارکنگ سے نکال کر میں روڈ پر لے آیا
“ماہی ضروری نہیں ہے کہ میں تمہاری ہر بدتمیزی اگنور کرتا رہوں ۔۔۔۔۔اور تمہارا جو جی میں آئے تم بولتی رہو ۔۔”۔۔۔میں بہت رش ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔ماہم نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔گھر کے پورج میں گاڑی کھڑی کرتے ہی میں گاڑی سے اتر کر اپنے کمرے میں چلا گیا اپنے کپڑے تبدیل کیے اور کمرے میں ہی بیٹھ کر اپنا غصہ ضبط کرتا رہا ۔۔۔
“۔آخر سمجھتی کیا ہے خود کو ۔۔۔۔اتنی بد تمیزی وہ جس کے لئے مجھ کر رہی ہے اسکی نظر میں ماہم کی کیا ویلیو ہے اگر وہ سن لے تو ہوش ٹھکانے آ جائیں محترمہ کے ۔۔۔۔۔میرا ساتھ تمہیں کبھی سزا لگتا ہے تو کبھی غلطی ۔۔۔۔۔بہت ہو چکا ماہم ۔۔۔۔تمہیں تو میں اب اس انداز سے سمجھاؤں گا کہ یاد کرو گی تم” ۔۔۔۔میرا غصے سے برا حال تھا راشد مجھے کھانے پر بلانے آیا تو میں نے کھانا کمرے میں ہی منگوا لیا ۔۔۔۔کھانا کھانے کے بعد میں نے راشد سے کہا کہ میرے کمرے میں موجود صوفے کو باہر نکال دے ۔۔۔۔راشد نے صوفہ باہر نکال دیا ۔۔۔۔میں۔ بیڈ پر ٹیک لگا کر اپنا لیپ ٹاپ کھولے بیٹھ گیا ۔۔۔
“اب دیکھتا ہوں تم کرتی کیا ہو ۔۔۔۔میں یہ سب باتیں اور روئیے بھلا کیوں برداشت کرتا رہوں ماہم کو اپنی غلطی کا احساس تک نہیں تھا ۔۔۔میں اپنا دل جلائے بے مقصد ہی لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلانے لگا اصل انتظار تو مجھے ماہم کا تھا ۔۔۔۔۔جب وہ کمرے میں داخل ہوئی میں نے اپنی نظریں لیپ ٹاپ پر مرکوز کر لیں ۔۔۔۔۔
ماہم نے جب صوفہ اپنی جگہ سے غائب دیکھا تو میرے پاس آ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔
“یہ صوفہ یہاں سے کس نے ہٹایا ہے” ۔۔۔۔وہ دوہاتھ کمر پر رکھنے مجھے گھور رہی تھی ۔۔
“میں نے ۔۔۔۔”
“کیوں”
“میرا کمرہ ہے میری مرضی” ۔۔۔۔میں نے نظریں۔ لیپ ٹاپ سے ہٹائے بغیر کہا وہ کمرے سے باہر جانے لگی
“کہاں جا رہی تم “۔۔۔۔میرے بلند لہجے پر وہ رک گئ
“اپنے کمرے میں “۔۔۔۔میری طرف وہ پشت کیے ہوئے ہی بولی
“واپس آؤں ماہی “
“نہیں ۔۔۔یہ تمہارا کمرہ ہے “
“ایک قدم بھی تم نے باہر نکلا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا تمہارے لئے” ۔۔۔۔میرے لہجے میں تلخی اتر آئی تھی
“تم سے برا کوئی ہے بھی نہیں۔”۔۔۔وہ بھی اسی لہجے میں بولی ویسے ہی میری طرف پشت کیے ہوئے ۔۔۔۔میں نے گہری سانس خارج کی
“ٹھیک ہے رکھو تم اس کمرے سے باہر پاؤں ۔۔۔۔پھر میں تمہیں بتاؤں گا کہ برا انسان کہتے کیسے ہیں ۔۔”۔میرے با رعب اور سخت لہجے پر وہ وہیں ٹھٹک گئ۔۔۔۔جم کر کھڑی رہی ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایا ۔۔۔کچھ پل وہیں کھڑے رہنے کے بعد پلٹ کر مجھے درشتگی سے دیکھا اور بیڈ کی دوسری جانب آ کر بیٹھ گئ مگر اپنا رخ دوسری جانب کر لیا ۔۔۔۔میں نے لیپ ٹاپ بند کیا اور سائیڈ پر رکھ دیا
اور اپنے غصے کو نارمل کرنے لگا ۔۔۔۔پھر ہموار لہجے سے ماہم سے بات کا آغاز کیا
“میں تمہارے رویے کی وجہ جاننا چاہتا ہوں “
“تم خود غرض ہو ۔۔۔۔مطلبی انسان ہو اور بے حس بھی ہو ۔۔۔۔۔بہت برے ہو ۔۔۔۔۔اور میرے دوست بھی نہیں ہو ۔”۔۔۔۔اتنی بد گمانیوں کا میں کیا حل کر سکتاتھا ۔۔۔۔
“یہ تم کیسے کہہ سکتی ہو “
“تم جانتے ہو میں دہرانا نہیں چاہتی” ۔۔۔۔وہ بھرائی ہوئی آواز سے بولی
میں گہری سانس لیکر رہ گیا
“چلو مان لیا۔۔۔۔ میں برا ہوں۔۔۔۔ خود غرض ہوں ۔۔۔۔مطلبی بےحس بھی ہوں ۔۔۔۔۔مگر کامران تو بہت اچھا ہے نا اپنی تمام تر محبتوں اور اچھائی کے با وجود ہر بار تمہیں بیچ منجھدار میں ڈوبنے کے لئے چھوڑ کر چلا جاتا ہے “۔۔۔۔میں نے بھی استزائیہ انداز سے کہا ۔۔۔اب میں یہ کہو کہ مجھے اسکی باتیں بری نہیں لگ رہیں تھیں تو سراسر جھوٹ اور غلط ہو گا ۔۔۔مجھے برا بھی لگ رہا تھا اور غصہ بھی آ رہا تھا
“تم کامران کو بیچ میں کیوں لائے ہو” ۔۔۔وہ غصے سے بولی
“اس لئے کہ وہ بیچ میں ہے ۔۔۔۔۔اسکی وجہ سے میرا ساتھ بھی تمہیں سزا لگتا ہے اور اسکی سزا بھی سزا نہیں لگتی ۔”۔۔۔میرے سخت لہجے پر اس نے کوئی جواب نہیں دیا بس آنسوں سے بھری آنکھوں سےمجھے دیکھنے لگی ۔۔۔۔پھر کچھ توقف کے بعد بولی
“اب تم مجھے ساری زندگی یہی طعنہ دیا کرو گئے ۔۔۔بہت بڑا احسان جو کیا ہے تم نے مجھے اپنا کر ۔۔۔۔ظاہر ہے اپنا احسان تو جتلاو گئے مجھ پر ۔۔۔بہت مشکل ہوتا ہے نا اپنی بیوی کے منہ سے کسی اور کا اظہار محبت سننا ۔۔۔۔مگر بہت آسان ہے تمہارے لئے اپنی بیوی کو اسی شخص کا محبوب کہہ دینا اسی کے حوالے سے طعنے دینا….آئی ہیٹ یو “۔۔۔۔وہ پھر رونے لگی اپنا تکیہ درست کر کے لیٹ گئ ۔۔۔۔۔اسکی دبی دبی سسکیوں سے میں اسکی بات کے گرداب میں پھنس کر رہ گیا تھا ۔۔۔ایک طرف تو میں واقع اسے خائف تھا کہ وہ مجھ سے کئ بار کامران کی محبت کا اظہار کر چکی ہے ۔۔۔۔۔لیکن اس واقع کے بعد میں نے ماہم کے منہ سے کامران کا نام تک نہیں سنا تھا ۔۔۔۔۔اگر میں اسے اپنا ہی چکا تھا تو مجھے بھی دل کچھ بڑا کرنا چائیے تھا ۔۔۔۔کم از کم کامران کے حوالے سے اسے یوں طعنے تشنے نہیں دینے چائیے تھے ۔۔۔۔پھر سب کچھ کیا دھرا تو کامران کا ہی تھا ماہم بے قصور ہی تو تھی ۔۔۔۔نا وہ کامران کے منصوبے سے واقف تھی نا اسکے کھیلے جانے والے جھوٹی محبت کے کھیل سے ۔۔۔۔وہ پہلے ہی کامران کی وجہ سے ڈس ہارٹ ہے پھر میری باتیں ۔۔۔۔۔۔۔میں یہ سب سوچ کر نادم سا ہونے لگا ۔۔۔۔وہ اب بھی رو رہی تھی پہلے تو میں نے سوچا اسے چپ کرواں اپنے رویے کی معافی مانگ لوں ۔۔۔۔۔مگر ہمت ہی نہیں کر پایا چپ چاپ اپنی جگہ پر لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔کچھ دیر بعد ماہم کے رونے کی آوازیں بھی بند ہو گئیں شاید وہ سو چکی تھی ۔۔۔۔میں بھی سونے کی کوشش کرنے لگا
**********…………*********………..******
دوسرے دن رات ڈنر کے دوران میں نے پاپا سے کہہ دیا کہ وہ کامران کا کمرہ نیچے شفٹ کر دیں اور جتنی جلدی ہو سکے کامران کی شادی بھی کر دیں۔۔۔۔۔پاپا اور مما دونوں میری بات پر متفق تھے ۔۔۔ رات کو جب میں کمرے میں داخل ہوا بیڈ کے بیچ میں کشن سے بڑی نفاست سے ماہم ایک دیوار سی بنا کر اپنی سائیڈ پر اپنی اسکیچ بک لئے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔
“یہ سب کیا ہے ماہی “۔۔۔۔میں نے کشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا
“کیوں تمہاری نظر کمزور ہے تمہیں نظر نہیں آ رہا ” ۔۔۔۔اسکے لا پروا اور تلخ لہجے پر میں تپ کر رہ گیا تھا
“دو منٹ دے رہا ہوں تمہیں ۔۔۔یہ جو قطب مینار کھڑا کیا ہے نا تم نے ہٹاو اسے بیچ میں سے” ۔۔۔میں نے اسے گھورتے ہوئے کہا
“یہ یہیں رہے گا “۔۔۔۔ماہی نے اپنی اسکیچ بک بند کر کے سائیڈ پر رکھی اور لیٹ کر اپنی سائیڈ کا لمپ آف کیا اپنی آنکھوں پر بازو رکھے اپنی بات ختم کر چکی تھی ۔۔۔۔۔مجھے اس پر غصہ آنے لگا ۔۔۔۔
“اچھی بات ہے ۔۔۔مرضی ہے تمہاری ۔۔۔تم ایسے ہی خوش ہو تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں”۔۔۔۔ میں بھی چلتے ہوئے ماہم کے بیڈ کی سائیڈ پر آ کر ماہم کے برابر آ کر لیٹ گیا ۔۔۔۔میری اس حرکت پر وہ کرنٹ کی مانند آٹھ کر بیٹھ گئ
“تم یہاں کیا کر رہے ہو کر جاؤں اپنی جگہ پر” ۔۔۔۔وہ دانت کچکچا کر بولی
“جہاں تم وہاں ہم ۔۔۔۔تم اور میں الگ تھوڑی ہیں” ۔۔۔۔
میری بات پر وہ تپ سی گی تھی
“عفان جاؤں اپنی جگہ پر ۔۔۔۔۔”
“پہلے بیچ میں سے یہ انڈیا پاکستان کی باڈر لائن ہٹاؤ ۔۔۔۔ورنہ میں تو بہت صلح جو اور صابر قسم کا بندہ ہوں تمہارے ساتھ اتنی سی جگہ پر بھی گزارا کر لوں گا “۔۔میرے اطمینان بھرے جواب پر وہ مجھے قہر بھری نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔ماہم نے مجھے تو پلٹ کر جواب تو نہیں دیا لیکن کشن اٹھا کر سائیڈ پر رکھ دیے ۔۔۔۔میں بھی خاموشی سے اٹھ کر اپنی آکر لیٹ گیا ۔۔۔اس واقع کے بعد میں نے دوبارہ ماہم کے قریب آنے کی کوشش نہیں کی تھی اب مجھے صرف اسکی دلی آمدگی کا انتظار تھا ۔۔۔مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں تھا کہ میں اسے بیچ میں دیواریں کھڑی کرنے دوں
