Tadbeer by Umme Hani NovelR50414

Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 55 (Part 1)

458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 55 (Part 1)

Tadbeer by Umme Hani

بہت سے دن دبے پاؤں گزر گئے ۔۔۔اب میں کافی سنبھل چکا تھا ۔۔۔۔۔ماہم بس ناشتے اور ڈنر پر ہی مجھے ڈائنگ میں نظر آتی تھی ۔۔۔۔رات کو پاپا نا جانے کیوں اوپر کے پورشن میں چکر کاٹنے لگے تھے میں نہیں چاہتا کہ پاپا کو مجھ پر شک ہو اس لئے میں خود بھی احتیاط برتنے لگا ابھی میں اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ اگر پاپا مجھے گھر اور بزنس سے بے دخل کر دیتے تو میں خود اپنے بل بوتے پر کچھ کر سکتا ۔۔۔۔۔اس لئے ان کا اعتماد جیتنا چاہتا تھا ۔۔۔۔مہک سے میری ہر دوسرے دن ملاقات ہو جاتی تھی ۔۔۔۔۔میرے جس دوست کا وہ فلیٹ تھا وہ کچھ عرصے کے لئے باہر کے ملک میں جا چکا تھا اس لئے میں مہک کو اکثر وہیں بلا لیتا تھا ۔۔۔۔۔چند دن بعد ہی میں نے مہک سے اپنے رویے کی معافی بھی مانگ لی تھی ۔۔۔۔وہ جب بھی مجھ سے یہ پوچھتی کہ میں نے اپنے مما پاپا سے اس کے متعلق بات کی میں ہمیشہ عفان پر الزام لگادیتا ۔۔۔۔کہ وہ نہیں چاہتا کہ تم اس گھر میں بیوی کی حثیت سے آؤ ۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ نا تو مہک کبھی عفان سے براہ راست پوچھے گی نا عفان کو اس بات کی خبر ہے کہ میرا مہک سے کیا تعلق ہے ۔۔۔۔کچھ دنوں سے مہک مجھے تھکی تھکی سے لگنے لگی تھی ۔۔۔۔۔مگر میں نے خاص نوٹس نہیں کیا ۔۔۔۔ہوش تو میرے اس دن اڑے جب مہک نے مجھے فون پر یہ بتایا کہ وہ اکسپکٹو ہے ۔۔۔۔میں نے مہک کو فلیٹ پر بلایا بہت پیار محبت سے اسے اس بات پر راضی کیا کہ وہ اپنا ابوشن کروا لے ۔۔۔۔۔اور اس سے یہ وعدہ بھی کر لیا کہ میں پاپا کو ضرور راضی کر لونگا ۔۔۔۔مہک میری باتوں میں آ گئ اور ابوشن بھی کروا لیا میں نے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔۔مہک اب روز مجھ سے اسی بات کا تقاضہ کرتی کہ میں جلدی ہی مما پاپا کو اسکے گھر بھیجوں کیونکہ اس کے پیرنٹس اب اسکے لئے رشتے دیکھنے لگے ہیں ۔۔۔۔ایک دن اسی بات کو لیکر میرا مہک سے جھگڑا ہو گیا

“آخر تم کیوں اب تک اس معاملے کو ٹال رہے ہو کامران ۔۔۔۔میری بھی مجبوری سمجھو “میں پہلے ہی مہک کے اس تذکرے سے عاجز آ چکا تھا اس لئے جو منہ آیابولتا چلا گیا

“نہیں کر سکتا میں تم سے شادی ۔۔۔۔”

“کیوں “

“کیونکہ ماہم ایسا نہیں چاہتی ۔۔۔۔”

“ماہم ۔۔۔۔اب اسے تم سے کیا غرض ہے ۔۔۔۔اسکی شادی عفان سے ہو چکی ہے تو تمہارے پیچھے کیوں پڑی ہے وہ “

“عفان سے وہ طلاق لے لے گی ۔۔۔۔محبت کرتی ہے مجھ سے ۔۔۔۔مہک میں ماہم سے شادی ضرور کرونگا ۔۔۔۔ہاں تم اگر میرا ساتھ چاہتی ہو تو بس اتنا دے سکتا ہوں کہ جیسے چل رہا ہے ویسے چلنے دو ۔۔۔۔”میں نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا ۔۔۔مجھے لگا مہک پھر سے فون کرے گی مگر اسکی کوئی کال نہیں آئی ۔۔۔۔چند دن بعد قاسم کی مہندی تھی جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ عفان کے ساتھ ماہم بھی جا رہی ہے ۔۔۔۔تو میرا غصہ آپےسے باہر ہو گیا ۔۔۔۔میں نے ماہم کے کمرے پر زور سے دستک دی ماہم کا کمرہ کھلتے ہی میں نے جب اسکے بیڈ پر اسکے ییلو شرارے کو دیکھا تو میرا خون کھول اٹھا ۔۔۔۔۔

“تم کہیں نہیں جاؤں گی ماہم اور عفان کے ساتھ تو بلکل نہیں “میں نے درشتی سے کہا

“لیکن کامی “وہ تذبذب سی ہونے لگی

“تم نہیں جاوں گی ماہم ۔۔۔۔”میں اٹل انداز سے رعب جماتے ہوئے کہا

“میں کیسے رک سکتی ہوں کامی بنا کسی وجہ کے “

“تو اب وجہ چاہیے تمہیں ۔۔۔میری بات ماننے کی وجہ چاہیے تمہیں “میں نے بے یقینی سے ماہم کو دیکھا ۔۔۔پہلی بار اس نے میری بات ماننے کی وجہ پوچھی تھی ۔۔۔میراغصہ بڑھنے لگا تھا سامنے ڈرسنگ ہر مجھے پرفیوم کی بہت سی شیشیاں نظر آئیں میں نے ماہم کا ہاتھ پکڑا اور ڈریسنگ کے سامنے لے گیا اسکے ڈرسنگ سے ایک پرفیوم اٹھایا اور دیور پر مار کے آدھا توڑ دیا

“وجہ بھی بتا دیتا ہوں تمہیں۔۔۔”اگلے ہی لمحے میں اس کانچ سے ماہم کا ہاتھ زخمی کر دیا ۔۔۔میری جارحیت پر ماہم کی ایک۔ چیخ سی نکلی وہ اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے کھنچنےگی

“یہ کیا کیا آپ نے کامی چھوڑیں میرا ہاتھ ۔۔۔”رونے لگی تھی ۔۔۔۔

“اس وجہ کے لئے تم ہی نے مجھے مجبور کیا ہے ۔۔۔۔میری بات سے اختلاف کا انجام تمہارے سامنے ہے “میری بات پر وہ سسک کر رہ گئ اسی اثنا میں عفان اندر داخل ہوا

۔۔۔۔ماہم کا ہاتھ میرے ہاتھ دیکھ کر عفان ماہم سے پوچھنے لگا کہ اسے چوٹ کیسے لگی ہے ۔۔۔۔مجھے پہلے ہی عفان پر غصہ تھا ۔۔۔۔عفان سے میری بحث بڑھ گئ ۔۔۔۔۔یہاں تک کے ہم دست و گریبان ہو گئے ۔۔۔۔پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ عفان کے کہنے پر ماہم کمرے سے باہر چلی گئ تھی ورنہ ماہم نے ہمیشہ عفان پر میری بات کو فوقیت دی تھی ۔۔۔۔مجھے عفان کا ماہم پر حق جتانا اتنا برا نہیں لگا جتنا ماہم کا عفان کی بات ماننا برا لگا ۔۔۔۔۔۔عفان میری ہر بات پر صرف یہ بولتا رہا کہ ماہم اسکی ہے ۔۔۔۔اور اس کا یہ جمعلہ میراغصہ مزید بڑھاتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔عفان کی تلخ باتیں اور ماہم پر اپنا حق جتانا مجھے سگا کر رکھ گیا تھا ۔۔۔۔میں اپنے کمرے میں آ کر یہی سوچتا رہا کہ یہ سمجھتا کیا ہے خود کو ۔۔۔عفان کی باتوں نے میرے اندر ضد سی پیدا کر دی تھیں۔۔۔۔

“تم شاید یہ بھول گئے ہو کہ ماہم محبت مجھ سے کرتی ہے ۔۔۔۔۔اب دیکھو کیا کرتا ہوں میں ” اگلے روز میں ماہم مجھے لان میں ہی مل گئ ۔۔۔بھولوں کو توڑ کر لان میں موجود بینچ پر رکھ رہی تھی اسپاساور کوئی نہیں تھا کریم بابا ہی گیٹ پر بیٹھے تھے ۔۔۔میں گاڑی پوچ میں پرک کر کے سیدھا ماہم کے پاس آ گیا

اسکے ہاتھ پر اب بھی بینڈیج بندھی ہوئی تھی مجھے اپنی جاہلانہ حرکت پر پل بھر کے لئے افسوس ہونے لگا ۔۔۔نا جانے غصے میں میں کیوں پاگل ہونے لگتا تھا ۔۔۔۔مجھے اپنی جانب آتا دیکھ کر ماہم وہی۔ ٹھٹھک گئ ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ ڈری ڈری اور خفا خفا بھی لگ رہی تھی ۔۔۔۔سارے پھول اٹھا کر اندر لاونج کی طرف بڑھنے لگی مگر میں اس کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔س وقت پاپا آفس میں تھے ۔۔اسئے مجھے فکر نہیں تھی

“کامی ہٹیں سامنے سے “

“ہاتھ دیکھاوں اپنا “میں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر کہا

“کیوں اب کیا کرنا ہے ۔۔۔۔کوئی نیا زخم دینا چاہتے ہیں مجھے “اسکے خفا موڈ پر ہسنے لگا

“تمہیں ہر بار یہی کیوں لگتا ہے کہ میں تمہیں زخم ہی دوں گا ۔۔۔۔”

“مجھے اندر جانا ہے کامی ۔۔۔۔۔اگر کسی نے دیکھ لیا تو ۔۔۔۔”وہ شاید خوفزدہ تھی

“او شٹ اپ ماہم ۔۔۔۔۔کوئی نہیں دیکھ رہا سوائے کریم بابا کے اور ان میں اتنی جرت نہیں کہ منہ کھول سکیں انکی فکر مت کرو ۔۔۔۔”میں اسکازخمی ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔

“ایم سوری ۔۔۔۔۔پتہ نہیں کل غصے میں ۔۔۔میں پاگل ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔لیکن بعد میں مجھے احساس ہوا کہ تمہیں کتنی تکلیف دے بیٹھا ہوں یقین کرو ماہم۔پوری رات تمہاری زخمی کا سوچ کر بہت دکھ ہوتا رہا مجھے ۔۔۔۔بس تم جب بھی مجھے عفان کے ساتھ نظر آتی ہو بے قابو ہونے لگتا ہوں ۔۔۔۔۔”میری بات پر ماہم نے ہاتھ مجھ سے کھنچ لیا

۔۔۔۔ پھر میں نے ماہم کو اس بات پر مجبور کرنا شروع کر دیا کہ وہ عفان سے طلاق کا مطالبہ کرے ۔۔۔۔ورنہ اس سے خلع لے لے ۔۔۔۔اور یہ بھی تاکید کی کہ وہ بار بار عفان سے میری محبت کا اظہار کرے ۔۔۔۔مجھے پتہ تھا یہ بات عفان سے برداشت نہیں ہو گی ۔۔۔۔اور جب عفان کو تکلیف ہو گی تو ہی مجھے چین آئے گا ۔۔۔۔مجھے یاد آنے لگا کہ جب ماہم میرے ساتھ لگ کر رونے لگی تھی تو عفان کی غصے کے مارے حالت بری تھی ۔۔۔۔۔اس دن میرے دل میں ایک نیا خیال ابھرا ۔۔۔۔یا یوں سمجھیں کہ ایک اور شیطانی خیال ۔۔۔۔۔

“میں ماہم کو عفان سے طلاق دلوا بھی دوں تو کیا میں اپنا سکتا ہوں ماہم کو ۔۔۔۔میں نے کچھ دیر کے لئے سوچا

“شاید نہیں ۔۔۔۔میرا مقصد ماہم تو کبھی نہیں تھی صرف عفان کو تکلیف میں دیکھنا مقصود تھا ۔۔۔۔اور یہ تکلیف زیادہ اذیت ناک ہے کہ وہ بیوی عفان کی رہے اور محبت مجھ سے کرتی رہے اور اسکا برملا اظہار بھی عفان سے کرتی رہے ۔۔۔۔کوئی بھی مرد ہو وہ بھی ایسا مرد جیسے اپنی بیوی سے بے پناہ محبت ہو اسکے منہ سے اسکے عاشق کے فسانے نہیں سن سکتا ۔۔۔۔ارے واہ ۔۔۔۔میں تو خواہ مخواہ ہی پریشان ہوتا رہا ۔۔۔۔مجھے ان سب باتوں سے لطف لینا چاہیے تھا۔۔۔میرے اندر پھر سے نیا جذبہ بیدار ہو گیا۔۔۔۔۔

اب میں اپنے انہیں ہتھکنڈوں پر اتر آیا سب کے سامنے میں ماہم سے انجان بننے کی کوشش کرتا رہتا۔۔۔۔اس دن بھی میں نے یہی کیا۔۔۔۔ماہم قاسم کی شادی کی ساری ارینجمنٹ خود کروا رہی تھی اسی سلسلے میں ماہم کو قاسم کے گھرصبح پہنچنا تھا عفان جا چکا تھا ۔۔۔پاپا بھی ڈرائیور کے ساتھ چلے گئے تھے اور فاریہ کا ڈرائیور ابھی پہنچا نہیں تھا ۔۔۔۔۔میں نے ماہم اور مما کی باتیں سن لیں تھی ۔۔۔۔اسلئے میں نے مما سے کہا کہ میں ماہم کو چھوڑ دیتا ہوں ۔۔۔۔مگر مما انکار کرتی رہیں ۔۔۔۔مگر مما کو راضی کرنا میرے لئے مشکل نہیں تھا ۔۔۔۔میرے چند جذباتی جمعلوں پر مما نے ماہم کو میرے ساتھ بھیج دیا ۔۔۔۔۔میں نے پورے رستے ماہم سے کوئی بات نہیں کی وہ بھی چپ ہی رہی ۔۔۔۔۔قاسم کے گھر پاس میں نے گاڑی کھڑی کی قاسم کسی کام کے لئے باہر نکل رہا تھا ۔۔۔۔میں جان بوجھ کر وہاں کھڑا رہا تا کہ قاسم دیکھ لے کہ ماہم میرے ساتھ آئی ہے اور ظاہر ہے وہ یہ بات عفان کو ضرور بتائے گا ۔۔۔۔۔قاسم کی مجھ پر نظر پڑی تو وہ متحیر سا ہو گیا ۔۔۔۔لیکن چونکہ ہم ایک دوسرے کو دیکھ چکے تھے اس لئے وہ مرواتا مجھ سے شادی پر نا آنے کی وجہ دریافت کرنے لگا مگر میں روکھا سا ہی جواب دے کر وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔۔قاسم کے ولیمے پر عفان اور ماہم رات بھر واپس نہیں آئے تھے ۔۔۔۔اور نا جانے کیوں پوری رات میں سو نہیں پایا جلے پاؤں کی بلی بنا چکر کاٹتا رہا ۔۔۔۔۔۔ماہم کیوں واپس نہیں آئی ۔۔۔۔نا جانے کون کون سے وسوسے مجھے بے چین کرتے رہے میں اپنی کیفیت سمجھ نہیں پا ر ہا تھا ۔۔۔۔۔کچھ دن میرے بے چین ہی گزرے ۔۔۔۔جب بھی میں ماہم کو عفان کے ساتھ ہنستے مسکراتے دیکھتا میرا دل ڈوبنے لگتا تھا ۔۔۔۔۔جب میں اپنی کیفیت سے تنگ آ گیا تو اس بات کی پروا کیے بغیر کے رات کے تین بج رہے ہیں۔۔۔میں نے ماہم کے کمرے کادروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔ماہم گہری نیند سے جاگی تھی موندی موندی آنکھوں سے مجھے دیکھ کر حیران سی رہ گئ ۔۔۔

میں کیسے ہی اسکے کمرے میں داخل ہوا ماہم کے چہرے پر بیزاریت دیکھ کر میرا پارہ ہائی ہونے لگا ۔۔۔

“یہ آپ کیوں آ جاتے ہیں اگر کسی نے دیکھ لیا تو اس کا انجام جانتے ہیں آپ ۔۔۔۔”وہ بے حد پریشان تھی

“تو کیا کرو۔ماہم ۔۔۔۔بار بار اپنے دل کو بہلانے کے باوجود بے بس ہوں ماہم ۔۔۔۔تم کہتی کیوں نہیں ہو عفان سے کیوں نہیں چھوڑ دیتا اسے ۔۔۔۔میں اسکے کچھ قریب ہو کر بولا تووہ گھبرا کر پیچھے ہٹ گئ ۔۔۔۔چہرے پر گھبراہٹ کے مارے پسینہ نمودار ہونے لگا تھا ۔۔۔۔۔

“میں نے کہا ہے عفان سے مگر وہ ۔۔۔۔”

“اگر مگر نہیں سننا ہے مجھے ۔۔۔۔اسے فورس کرو کہ وہ تمہیں چھوڑ دے ۔۔۔۔”مجھے اندازہ تو تھا کہ عفان اب ایسا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا مگر نا چا ماہم کے منہ سن کر اسے جو اذیت ملنی تھی وہی میں دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔میں نے جان بوجھ کر ماہم کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔وہ مزید پریشان ہونے لگی

“ہاتھ ۔۔۔خھوڑیں کامران اور جائیں یہاں سے “

“کیوں میرا ہاتھ پکڑنا برا لگ رہا ہے تمہیں اور جو عفان کا ہاتھ تھامنے گھومتی کو وہ ۔۔۔۔مجھے کتنا برا لگتا ہے جانتی ہو تم ۔۔۔۔میری گرفت کچھ سخت ہوئی تو ماہم بلبلا اٹھی

“کامران آپ جانتے ہیں یہ سب میں رضا انکل کی خاطر رہی ہوں۔۔۔اپ میں اگر روکنے کی ہمت ہے تو آپ خود روکیں ۔۔۔۔۔ میں نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔وہ اپنا ہاتھ دوسرے ہاتھ سے دبانے لگی

“وہ میری بات سنیں تب نا ۔۔۔۔تم عفان کو سختی سے کہو کہ وہ تمہیں طلاق دے ورنہ تم خلع کا مقدمہ درج کروا دو گی ۔۔۔اگر وہ نا مانا تو میں تمہارا ساتھ دونگا خلع لینے میں “میری بات پر مس مجھے بے یقینی سے دیکھنے لگے ۔۔۔خوف کے سائے سے انکی آنکھوں میں منڈلا رہے تھے

“اتنا بڑا اسٹپ ۔۔۔خالہ اور رضا انکل تو کبھی مجھے معاف نہیں کرینگے ۔۔۔میں یہ نہیں کر سکتی ۔۔۔میں ۔۔۔ میں کرو گی عفان سے دوبارہ بات اسے منا لوں گی”ماہم پر سوچ انداز سے بول رہی تھی میں اسکے کمرے سے باہر نکل آیا۔۔۔۔جب تک ماہم نے وعدہ نہیں کر لیا میں نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا ۔۔۔۔۔دوسرے دن رات کو جب میں واپس آیا تو عفان ڈنر کے وقت ڈائنگ روم میں تھا ماہم بھی بہت سنجیدہ تھی ۔۔۔میں سمجھ گیا کہ ماہم نے ضرور عفان سے بات کی ہو گی ۔۔۔۔۔۔ اسوقت میں عفان کا اترا ہوا چہرہ دیکھ سکتا تھا ۔۔۔۔اسکی آنکھوں میں اضطراب اور کرب دیکھ کر حظ اٹھا رہا تھا ۔۔۔۔آج رات میں بہت سکون سے سویا تھا ۔۔۔۔اور صبح بہت فریش تھا ۔۔۔۔۔ناشتے پر عفان نے بس عجلت میں چائے ہی پی اور آفس کے لئے نکل گیا ۔۔۔۔میں اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ سے سمجھ ہی نہیں پایا کہ وہ کتنی تکلیف میں ہے ۔۔۔۔۔۔چند دن سے وہ ماہم سے بات بھی نہیں کر رہا تھا اس لئے میں بھی پر سکون تھا مگر میرا یہ سکون بھی زیادہ دن تک قائم نہیں رہ سکا ۔۔۔۔۔میں ڈنر کے بعد کافی دیر باہر لان میں ٹہلتا رہا ۔۔۔۔رات کو سونے کے ارادے سے جب اپنے کمرے میں جانے لگا تو عفان کے کمرے سے ماہم کی آواز سن کر وہیں ٹھٹک گیا رات کے بارہ بج رہے تھے ۔۔۔۔وہ اس وقت عفان کے کمرے میں کیا کر رہی تھی مما پاپا اپنی دعوت سے ابھی لوٹے ہی تھے ۔۔۔۔میں دروازے سے ذرا قریب ہو کر ان دونوں کی گفتگوں سنے کی کوشش کرنے لگا ماہم عفان سے اپنی کسی بات جواب طلبی مانگ رہی تھی مگر وہ مسلسل ٹال رہا تھا ۔۔۔۔۔۔مگر ماہم باضد تھی ۔۔۔۔پھر جس طرح عفان ماہم سے اپنی محبت اور اپنے حقوق کا اظہار کر رہا تھا ۔۔۔۔وہ میرے لئے نا قابل برداشت تھا ۔۔۔۔۔میں اپنی مٹھیاں بھنچے نا جانے کیسے ضبط کیے یہ سب سن رہا تھا ورنہ میرا دل تو یہی چاہ رہا تھا کہ عفان کا منہ توڑ دوں ۔۔۔۔۔۔مگر ماہم نے اسے۔ خلع کی دھمکی دی تو وہ بھی برہم ہو گیا ۔۔۔۔۔اس سے پوچھنے لگا کہ کس کے کہنے پر وہ خلع لینے کا بول رہی ہے ۔۔۔۔۔۔انکی ان بن سے میرا غصہ جاتا رہا پھر انکی باتوں سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ مما پاپا کے پاس ضرور جائیں گئے اس لئے میں اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔میرا دل پھر سے سرشار سا ہونے لگا ۔۔۔۔۔

مگر کچھ دن گزرنے کے بعد جب میں نے ماہم سے پوچھا کہ عفان نے کیا جواب دیا تو ماہم نے مجھ سے صاف کہہ دیا کہ عفان اسے چھوڑنے پر راضی نہیں ہے ۔۔۔اور وہ مما پاپا کے خلاف بلکل نہیں جائے گی

“میں کچھ نہیں کر سکتی کامی ۔۔۔۔ور اگر آپ بھی کچھ نہیں کر سکتے تو چھوڑ دیں مجھے میرے حال پر ۔۔۔۔اسر بے شک آپ بھی اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرلیں ۔۔۔۔لیکن میں رضاانکل کے خلاف نہیں کھڑی ہو سکتی ۔۔۔۔”وہ ہچکچاتے ہوئے بول رہی تھی ڈری ہوئی بھی تھی مگر اسکے الفاظوں نے مجھے سلگا کے رکھ دیا تھا

“اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم عفان سے رشتہ نبھانا چاہتی ہو “میں نے پوری آنکھیں اسکی آنکھوں میں غصے سے گاڑتے ہوئے کہا وہ پزل سی یو کر پیچھے ہٹی

“ن۔۔۔نن ۔نہی۔ کامی ۔۔۔۔مگر میں احتجاج نہیں کر سکتی ۔۔۔رضا انکل کا مان چاہ کر بھی نہیں توڑ سکتی “میں استزائیہ ہنسی ہسنے لگا

“مطلب تو یہی ہوا نا ماہم کہ تمہیں سب قبول ہے ۔۔۔۔لیکن می۔ یہ ہونے نہیں دونگا ۔۔۔۔یہ بات تم اچھی طرح سے سمجھ لو ۔۔۔۔۔”میںوہر برساتی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے چلا گیا ۔۔۔۔

کمرے میں آکر بھی میری سوچ کا محور ماہم ہی تھی ۔اسکی بات نے مجھے کچھ دیر کے لئے مخبوط حواس سا کر دیا تھا ۔۔۔۔مجھے لگا ماہم اب مجھ سے کترانے لگی ہے ۔۔۔۔جان چھڑانا چاہتی ہے ۔۔۔۔اور یہ بات میری برداشت سے تو باہر تھی ۔۔۔۔کیسے وہ مجھ سے پیچھا چھڑا سکتی ہے ۔۔۔۔۔اور عفان کے ساتھ ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔ایسے نہیں ماہم ۔۔۔۔۔ایسے تم عفان کی ہو ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔ اگر تم سیدھے طریقے میری بات نہیں مان سکتی تو میں وہ ہر طریقہ آزماؤں گا جس سے عفان تمہیں خود چھوڑنے پر مجبور ہو جائے ۔۔۔۔ور پھر شروع کرسں گا میں اپنا اصل کھیل ۔۔۔۔۔میرے شیطانی ذہن نے پھر سے کام کرنا شروع کردیا اب مجھے بس موقع کی تلاش تھی