Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 9
Rate this Novel
Tadbeer Episode 9
Tadbeer by Umme Hani
۔۔۔۔۔۔کافی دنوں سے گھر کے ماحول میں کشیدگی چھائی ہوئی تھی کامران کی حرکت کی وجہ سے پاپا اور مما کامران سے ٹھیک سے بات نہیں کر رہے تھے ۔۔۔۔اور میں نے ماہم سے بات چیت بلکل ترک کر دی تھی ۔۔۔۔جس رشتے میں وہ بندھ چکی تھی۔۔۔اس رشتے کے کچھ اور ہی تقاضے تھے ۔۔۔۔(مطلب میری بھابی) ۔۔۔۔اب ہمارے درمیان کی بے تکلفی اور دوستی کو کامران نا جانے کس رنگ سے دیکھتا ۔۔۔۔ماہم تو ویسے ان نزاکتوں سے عاری تھی مگر میں تو سمجھ سکتا تھا ۔۔۔۔اب اگر ماہم کی خواہش کامران ہی تھا تو اسے خوش رہنے کا حق ہے ۔۔۔۔میں کیوں اسکی زندگی میں زہر بھر دوں ۔۔۔۔۔۔میں نے خود کو کافی حد تک مصروف کر لیا تھا قاسم کے والد نے قاسم کی لاپروا طعبیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک نئے پروجیکٹ کی پوری زمہ داری ہم دونوں پر ڈال دی ۔۔۔۔آج کل میں اسی بھاگ دوڑ میں لگا ہوا تھا ۔۔۔۔آفس میں بھی ذیادہ تر سنجیدہ ہی رہتا تھا میرارویہ یکسر بدل کر رہ گیاتھاہر وقت مسکراہٹ چہرے پر سجائے رکھنے
والا شخص ۔۔یک دم سے چپ اور سنجیدہ سا لگنے لگے تو یہ بات دوسروں سے چھپی تو رہ نہیں سکتی ۔۔۔قاسم کافی دن سے مجھے خاموشی سے نوٹ کر رہا تھا اب وہ اتنا صبر آزما بھی نہیں تھا کہ مجھ سے پوچھے بنا رہتا
“عفان۔ گھر پر سب ٹھیک تو ہے “۔۔۔۔میں بظاہر فائل دیکھنے میں مصروف تھا مگر ذہنی طور پر کہیں بھی نہیں تھا نا آفس نا گھر ۔۔۔۔۔قاسم کی بات پر ذراسا چونک کر میں نے قاسم کی طرف دیکھا اسکی کھوجتی آنکھوں کو دیکھ کر میں خفیف سا مسکرانے لگا
“ہاں سب ٹھیک ہے تم کیوں پوچھ رہے ہو “۔۔۔۔اب میں فائل کے پیپر پلٹنے لگا ۔۔۔۔جیسے واقع اسی فائل کو پڑھ رہا ہوں
“یونہی میں دیکھ رہا ہوں تم کافی دنوں سے ڈسٹرب لگ رہے ہو۔۔۔۔بہت عرصے سے ہم ساتھ ہیں میں نے تمہیں پہلے کبھی اتنا سیریس نہیں دیکھا تمہارے چہرے پر تو مسکراہٹ تک غائب ہو چکی ہے جو
تمہارے مزاج کا حصہ تھی ۔”۔۔۔قاسم نے فائل میرے ہاتھ سے لیکر مجھے غور سے دیکھتے ہوئے کہا میں ہلکا پھلکا مسکرانے لگا ۔۔۔
“ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔بس کام کو ذرا سنجیدگی سے لینا چاہ رہا ہوں ۔۔۔۔”
“تو اسکے لئے یہ سڑی ہوئی شکل بنانا ضروری ہے ۔۔۔۔قسم سے اسوقت تو پکے مجنوں لگ رہے ہو جسے ابھی ابھی اسکی لیلی چھوڑ کہ بھاگ گئ ہو ۔۔۔۔یہ بڑی ہوئی شیو یہ بکھرے بکھرے بال” ۔۔۔۔ قاسم کی بات پر میں ایک کھوکھلاساقہقہ لگا کر رہ گیا ۔۔۔۔
“تمہاری سوچ بس لڑکیوں تک ہی محدود ہے ؟۔۔۔۔اور بھی بہت دکھ ہیں میری جان غم عاشقی کے سوا ۔۔”۔میرے شاعرانہ انداز پر وہ کھکھلا اٹھا ۔۔۔
“واہ صاحب ۔۔۔۔آج انجینر بابو کو شاعری بھی کرنی آ گئ ۔۔۔اس کا مطلب لڑکی کا چکر تو پکا ہے ۔۔۔۔ورنہ تم اور شاعرانہ انداز دو مختلف باتیں ہیں ۔۔۔۔”
“ایسا کچھ نہیں ہے اب چلو اٹھو ہمدانی صاحب سے ملکر ڈراف چیک کر لیں ورنہ اگر تمہارے ڈیڈ آ گئے تو پورا مشاعرہ تمہیں سنادیں گئے وہ بھی بنا کسی وقفے کے”۔۔۔۔میں اپنی چیر سے کھڑا ہو گیا تو قاسم کو بھی نا چارہ اپنا موضوع بدلنا پڑا ۔۔۔۔قاسم سے میری بہت اچھی دوستی تھی مگر جو محبت ابتداسے پہلے ہی اپنے انجام کو جا پہنچی تھی اس کا ذکر میں قاسم سے کیا کرتا
**************…………….
میں نے ماہم سے بلکل لا تعلقی برت لی تھی۔۔۔کئ بار وہ مجھ سے وجہ پوچھ چکی تھی میں بہت روکھے سے انداز سے مصروفیت بڑھ جانے کا بہانہ کر کے اسے کترا کر گزر جاتا اس سے پہلے کہ وہ مجھ سے بات بڑھانے کی کوشش کرے میں گاڑی لیکر باہر نکل جاتا ۔۔۔۔رات کو ڈنر پر ہی لوٹتا تھا ۔۔۔۔میرے رویے سے ماہم کتنی پریشان تھی یہ اسکے چہرے پر میں آرام سے پڑھ سکتا تھا ۔۔۔۔لیکن میں بھی مجبور تھا ۔۔۔۔اپنے دل کو مزید اذیت میں نہیں رکھ سکتا تھا ۔۔۔۔اپنے پروجیکٹ کے سلسلے میں میں رات کو دیر تک جاگتا رہا ۔۔۔۔مگر مسلسل کام کرنے سے مجھے تھکن سی محسوس ہونے لگی نیند سے آنکھیں بوجھل ہونے لگیں زبردستی میں اپنی آنکھوں کو کھولنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔میں نے لیپ ٹاپ آف کیا ابھی بھی رپوٹ تیار کرنے میں کچھ دیر باقی تھی ۔۔۔مگر میں بری طرح تھک چکا تھا ۔۔۔میں نے کرسی کی
پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں اسوقت مجھے شدت سے چائے کی طلب محسوس ہو رہی تھی مگر اب میں اپنے کام کے لئے ماہم سے کہنا چھوڑ دیا تھا میں نے نیم وا آنکھوں سے گھڑی کی طرف دیکھا رات کا ایک بج رہا تھا میں نے ایک ہاتھ سے اپنے کندھوں کو ذرا سا دبایا اور آٹھ کر کمرے سے باہر آ گیا مجھے اب کچن میں جا کر خود چائے بنانی تھی اس سے پہلے مجھے چائے بنانے کا اتفاق کبھی اتفاقیہ طور پر بھی نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔ ماہم میرے کہنے سے پہلے ہی چائے بنا کر میرے سامنے رکھ دیتی تھی ۔۔۔۔اور اگر
میں لیٹ نائٹ کام کرتا تو ماہم کو بلا جھجک چائے کا بول دیتا ۔تھا۔۔۔میں یہی سوچتے ہوئے سیڑیاں اتر کر کچن میں داخل ہونے لگا تو ماہم کو دیکھ کر وہیں ٹھٹک کر رک گیا ماہم اسوقت اتنی رات کو سنک کا نل کھولے کھڑی تھی برتن دھو رہی تھی۔۔۔ مگر
اسوقت ۔۔۔ماہم کی میری طرف پشت تھی میں نے کچھ غور کیا تووہ رو رہی تھی ۔۔۔۔میں مضطرب ساہو گیا پہلے تو جی میں آیا کہ ماہم سے رونے کی وجہ دریافت کروں مگر پھر رک گیا ۔۔۔۔میں بھلا کیوں پوچھوں ۔۔۔۔میں اب اتنا بھی اعلی ظرف انسان نہیں تھا کہ اس واقع کے بعد بھی ماہم سے پہلے جیسارویہ رکھتا۔۔۔۔میرے بجائے اسے کامران اپنی تمام تر بے اعتنائیوں کے ساتھ قبول تھا ۔۔۔۔ ماہم کو کبھی میری توجہ میری محبت کچھ بھی نظر نہیں آیا تو مجھے بھی کوئی اشتیاق نہیں یہ جاننے کا کہ وہ اس وقت کیوں رو رہی ہے ۔۔۔پہلے تو میں پلٹ کر جانے لگا مگر اسکی دبی دبی سسکیاں جیسے میرے پاؤں کی زنجیر بننے لگیں ۔۔۔وہ کیوں رو رہی تھی ۔۔مجرا دل ملول سا ہونے لگا ۔۔۔۔میں ماہم سے یہ تو نہیں پوچھنا چاہتا تھا کہ وہ رو کیوں رہی ہے ۔۔۔مگر اسے چپ ضرور کروا سکتا تھا ۔۔۔۔میں نے کچن کے کبنٹ کھول کر روز روز سے بند کرنے شروع کر دیے ۔۔۔۔وہ جھٹکا کھا کر پلٹی مگر میں نے ماہم کی جانب دیکھا تک
نہیں اس نے جلدی سے آنسوں صاف کیے ۔۔۔ ذرا سی کوشش کرنے پر چائے کی کیتلی مجھے نظر آ گئ میں نے کیتلی کوکنگ رینج پر رکھی ۔۔۔۔اور اوپر کے کبنٹ کھول کر چائے کی پتی اور چینی تلاش کرنے لگا ۔۔۔۔۔ماہم وہیں کھڑی مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔اور میں اسے مسلسل نظر انداز کئے ایسے اپنے کام میں مصروف تھا کہ جیسے وہ وہاں موجود ہی نا ہو ۔۔۔۔۔پھر ماہم نے ایک کبنٹ کھول کر چائے کی پتی اور چینی میرے سامنے شلف پر رکھ دی ۔۔۔۔میں نے ایک سرسری سی نظر ماہم کی روئی روئی آنکھوں کی طرف ڈالی ۔۔۔۔پھر چائے کی پتی کا ڈبہ کھول کر چمچ سے پتی کیتلی میں ڈالنے لگا ۔۔۔
“تھنکس میں یہی ڈھونڈ رہا تھا “۔۔۔میں نے اپنی نظریں جھکا لیں ۔۔۔چائے بنانے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا پھر ماہم بھی وہیں میرے پاس کھڑی تھی ۔۔۔۔
“مائے پلیر “۔۔۔۔ماہم نے زبردستی مسکرا کر کہا ور ہاتھ باندھے میرے برابر میں کھڑی ہو گئ
“ویسے ایک کپ چائے میں تین چمچ پتی نہیں ڈلتی مسٹر عفان رضا اور اتنی اسٹرونگ چائے پینے کی آپکو عادت بھی نہیں ہے” ۔۔۔۔میرے ہاتھ میں پکڑا چمچ وہیں رک گیا ۔۔۔اب میں کیا جانو کہ ایک کپ چائے میں کتنی پتی ڈلتی ہے ۔۔۔۔پھر ماہم کا یوں اجنبی لہجے میں مجھ سے بات کرنا بھلا مجھ سے کہاں برداشت ہو رہا تھا کچھ میں متعجب بھی تھا وہ کہاں ایسے تکلف سے بات کرتی تھی مجھ سے
“اگر آپ کی شان میں فرق نا پڑے تو لائیں میں چائے بنا دیتی ہوں” ۔۔۔۔ماہم نے آگے بڑھنے لگی مگر میں نے چائے پینے کا ارادہ ترک کیا اور برنر بند کر کے کچن سے باہر جانے لگا ۔۔۔۔
“اوہ تو اب میرے ہاتھ کی چائے بھی پسند نہیں رہی آپ کو ۔”۔۔۔ماہم کے طنز کو نظر کو خاطر میں نا لاتے ہوئے میں کچن سے نکل گیا تو وہ تلملا کر رہ گئ ۔۔۔۔۔
**************………….
ماہم جو یہ آرزو لئے بیٹھی تھی کہ کامران اسے منائے گا ۔اسکی دل جوئی کرے گا ۔۔ مگر وہ ایسا لا تعلق ہوا کہ جیسے ان کے بیچ کچھ تھا ہی نہیں ۔۔۔۔ماہم جو امنگیں جگائے بیٹھی تھی کہ کامران اسکی تعریفیں کیا کرے گا اپنی محبت کا اظہار کیا کرے گا ماہم کو پا لینے پر خوشی کا اظہار کرے گا مگر وہاں ایک لمبی خاموشی تھی ۔۔۔۔اور جو عفان ماہم سے ہر بات شیر کیا کرتا تھا ۔۔۔۔ماہم کو اداس دیکھ کر گھٹنوں اسکی اداسی کی وجہ پوچھتا تھا ماہم کا موڈ خراب دیکھ کر اسے منانے کے کیا کیا جتن کرتا تھا ہفتے میں ایک دو بار آئسکریم تو ضرور کھلانے لے جاتا تھا ۔۔۔۔وہ بھی اس سے ایسی بے مروتی برت رہا تھا کہ جیسے ان میں پہلے سے کوئی شناسائی ہی نا ہو ۔۔۔۔۔۔ماہم نے کئی بار عفان سے وجہ بھی پوچھیں مگر وہ ٹال کر گھر سے نکل جاتا کئ گھنٹے وہ اس کا انتظار کرتی رہتی ۔۔۔۔کبھی اسکی پسند کا ڈشیز بناتی ۔۔۔آج بھی ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھتے ہی پاستے کا باول عفان کے سامنے رکھ دیا
“عفان میں۔ نے تمہارے لئے پاستا بنایا ہے ۔۔۔۔یہ لو ۔۔۔اس بار نئے طریقے سے بنایا ہے کھا کر بتاؤں کیسا ہے “۔۔۔۔ماہم نے بڑی آس سے عفان کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
“میں نے تو تم سے ایسی کوئی فرمائش نہیں کی تھی ماہی ۔۔۔۔اور میرا موڈ بھی نہیں ہے پاستا کھانے کا ۔۔۔بلا وجہ کی زحمت مت کیا کروں میرے لئے” ۔۔۔۔عفان نے ماہم کے ہاتھ سے باول پکڑ کر دوبارہ ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔۔اور سالن کا باول پکڑ کر پلیٹ میں ڈال کر روٹی کھانے لگا۔۔۔۔ماہم کا دل بجھ کر رہ گیا۔۔۔۔۔
“عفان ماہم نے اتنی محنت سے بنایا ہے بیٹا ۔۔۔بری بات ہے ۔۔۔تھوڑا چکھ ہی لو۔۔۔۔۔”صفیہ بیگم کو بھی ماہم کا بجھا بجھا چہرا دیکھ کر دکھ سا ہونے لگا تھا عفان کا ماہم سے یوں کترانا وہ تو سمجھ سکتی تھیں مگر ماہم۔ تو انجان ہی تھی ہر بات سے ۔۔۔۔۔اس میں ماہم کا بھلا کیا قصور تھا۔۔۔۔
“مما بلکل موڈ۔ نہیں ہے ۔۔۔۔۔”عفان نے مدافعانہ انداز سے کہا اور اپنے کھانے میں مصروف ہو گیا
“ماہم تم کیوں اس کے لئے خود کو ہلکان کرتی ہو۔۔۔۔۔آئندہ ضرورت نہیں ہے تمہیں پاستا واستا بنانے کی۔۔۔۔۔بہتر یہ ہے کہ میری پسند پر توجہ دو “۔۔۔کامران کے کرخت لہجے پر عفان نے کھانا وہیں چھوڑ دیا ۔۔۔۔وہ کرسی کھسا کر اٹھنے لگا تھا کہ رضا صاحب نے روک دیا
“عفان چپ چاپ بیٹھ کر کھانا کھاؤں ۔۔۔یہ حرکت ہے “
“میں کھا چکا ہوں ۔۔۔۔”عفان نے غصے سے کامران کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“عفان روٹی کی عزت کرنا سیکھوں ورنہ یہ تمہیں کبھی بھی عزت سے نہیں ملے گی ۔۔۔۔۔کھانا کھاؤ ۔۔۔یوں سامنے پڑے رزق کی بے حرمتی ہوتی ہے کہ اسے چھوڑ کر کوئی آٹھ کر چلا جائے “عفان دوبارہ سے چپ چاپ کھانا کھانے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عفان کے رویے سے وہ بہت دلبرداشتہ ہو کر رہ گئ تھی ۔۔۔۔۔بس ایک رضا صاحب اور صفیہ بیگم ہی تھے جن کے رویے اور لہجے میں کوئی فرق نہیں آیا
تھا ۔۔۔۔۔بلکہ صفیہ بیگم ماہم کا اور بھی خیال رکھنے لگی۔ تھی اسے اور اہمیت دینے لگیں تھی ۔۔۔کامران کی پسند نا پسند سے اسے آگاہ کرتی رہتی ۔۔۔۔۔کھانے کے دوران بھی وہ ایک آدھ ایسی ڈش ضرور ماہم سے بنواتیں جو کامران کو پسند ہوتی ۔۔۔۔ماہم ہر بار اس امید پر پوری توجہ سے کامران کے لئے بناتی کہ شاید آج وہ اسکی تعریف کر دے ۔۔۔۔۔یا اسے آئسکریم کھلانے لے جائے ۔۔۔۔مگر کامران کا رویہ ویسا ہی تھا ۔۔۔گھر کے وہی سب افراد تھے مگر ماہم کو لگتا تھا کہ وہ اکیلی ہو کر رہ گئ ہے ۔۔۔۔۔رات کو دیر تک کچن میں وہ بلا وجہ ہی کاموں میں الجھی رہی ۔۔۔عفان کی بے اعتنائی پر ۔سنک کا نل کھولے آنسوں بہا رہی تھی جب کبنٹ کے زور سے بند ہونے پر پلٹ کر دیکھا تو عفان شاید کچھ ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔۔ماہم کچھ دیر تو اسکی مصروفیت دیکھتی رہی پھر سمجھ گئ کہ چائے کی طلب اسے یہاں کھنچ لائی ہے ۔۔۔ماہم کو حیرت اس بات پر تھی کہ عفان اسے بھی چائے کا کہہ سکتا تھا ۔۔۔۔عفان ایسے لاتعلقی سے برنر پر چائے کی کیتلی رکھے ادھر ادھر کے کبنٹ کھول کر چائے کی پتی ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔ماہم نے دونوں چیزیں نکال کر سامنے شلف پر رکھ دیں کی کافی دنوں سے وہ عفان کے روکھے رویے کو سہہ رہی تھی اس لئے کاٹ دار لہجے سے اسے بات کرنے لگی کہ شاید عفان کو اپنے رویے کا احساس ہو مگر وہ تو کچن سے ہی واپس چلا گیا ۔۔۔۔۔ماہم وہیں کرسی پر بیٹھ کر رونے لگی ۔۔۔۔اسے یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ اس نے عفان کو کہا کیا ہے ۔۔۔کیوں وہ اتنا روٹ ہو کر اس سے بات کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔
*******………=*********………
میں کمرے میں آکر میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔جو باتیں میرے اور ماہم کے مابین ہوئیں تھیں ۔۔۔۔اور جیسے وہ میری بے رخی پر پریشان تھی میں سمجھ گیا تھا کہ میری بے توجہی سے ماہم کو فرق پڑتا ہے میرا اس سے بات نا کرنا اسے محسوس ہوتا ہے ۔۔۔اور برا بھی لگتا ہے ۔۔۔۔یعنی ماہم مجھ سے؟ ۔۔۔۔۔۔نا جانے کیوں میں اس خوش فہمی میں مبتلہ ہو کر بہت مسرور سا ہونے لگا ۔۔۔۔
“ماہی تمہیں فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔میرا کترانا ۔۔میرا نظر انداز کرنا تمہیں چبھتا ہے تم سے برداشت نہیں ہوتا ۔۔۔۔یعنی میں تمہاری زندگی میں اہمیت رکھتا ہوں “۔۔۔۔۔یہ سوچ سوچ کر میں اندر ہی اندر خوش تھا ۔۔۔بہت خوش تھا ۔۔۔۔آج مجھے نیند بھی بہت اچھی آئی کافی دنوں سے میں سکون سے سو نہیں پارہا تھا ۔۔۔۔۔صبح ناشتے کے لئے جب میں ڈائنگ روم میں داخل ہوا ماہم کی آنکھوں کے پپوٹے سوجے دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ وہ رات بھر روئی ہو
گئ ۔۔۔۔۔میں کرسی کھنچ کر بیٹھ گیا ۔۔۔اپنے کپ میں چائے ڈالی۔۔۔۔اور پینے لگا ۔۔۔۔مجھے ماہم کو یوں دیکھ کر افسوس ہونے کے بجائے سکون کی لہر میرے دل ڈور گئ۔۔۔۔ماہم میری وجہ سے رات بھر روئی ہے میری وجہ سے ۔۔۔۔۔ظاہر ہے پھر رات بھر میرے بارے میں سوچتی بھی رہی ہو گی ۔۔۔۔مجھے نا جانے کیوں یک دم سی خوشی محسوس ہونے لگی ۔۔۔حالانکہ میں ایک ذی شعور انسان اتنا تو جانتا تھا کہ میرے اس خیال سے حاصل وصول کچھ نہیں ہے مگر دل نفع نقصان کی پروا کرتا ہی کب ہے ۔۔۔۔بس دل کے خوش ہونے کی کوئی خاص وجہ کہاں ہوتی ہے ۔۔۔۔۔دل سے ذیادہ خوش فہم۔۔۔۔ انسان کے وجود میں کوئی حصہ نہیں ہے ۔۔۔۔میرا نادان دل بھی بس اس لئے خوش تھا کہ کہیں نا کہیں میں ماہم کے لئے اہم ہوں ۔۔۔۔۔اسےمیرے رویے سے فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔۔
“خالہ مجھے ماموں کے گھر جانا ہے ۔۔۔۔اپ پلیز ڈائیور سے کہیں مجھے ناشتے کے بعد ہی ماموں کے گھر ڈراپ کر دے “۔۔۔۔ماہم اپنا چائے کا خالی کپ پیچھے کھسکاتے ہوئے بولی
“منور کے گھر” ۔۔۔مما نے تعجب سے ماہم سے پوچھا کیونکہ مما کے بنا وہ کہیں آتی جاتی نہیں تھی ماموں کے گھر بھی نہیں
“جی “وہ فیصلہ کن انداز سے بولی
“مگر ڈائیور تو چھٹی پر ہے ماہم دو تین دن بعد ہی لوٹ کر آئے گا” ۔۔۔۔مما کچھ الجھی الجھی سی بولیں شاید ماہم کی اطلاع انکے لئے غیر متوقع تھی
“کوئی بات نہیں بٹیا ۔۔۔تم تیار ہو جاؤں کامران تمہیں چھوڑ آئے گا “۔۔۔۔ پاپا نے ماہم کو تسلی آمیز لہجے میں کہا پر کامران جو اپنی چائے ختم کر چکا تھا اٹھنے کی تیاری میں تھا ۔۔۔برجستہ بولا
“نو وئے پاپا میں بلکل فری نہیں ہوں مجھے فیکڑی جلدی پہنچنا ہے آج میٹنگ ہے میری “
“وہ میں سب دیکھ لوں گا تم ماہم کو منور کے چھوڑ کر پہنچ جانا ۔”۔۔۔پاپا نے اسے انکار کا موقع ہی نہیں دیا
“نو پاپا آئی ول ناٹ لیو ایٹ آل ۔۔۔۔۔منور ماموں کا گھر جس پس ماندہ علاقے میں ہے وہاں کی تنگ گلیوں میں گاڑی بھی بامشکل ہی جاتی ہے مجھے تو آپ معاف ہی کریں تو بہتر ہے “۔۔۔۔کامران ناک بھوں چڑھا کر ایسے بولا جیسے کوئی بہت بری چیز دیکھ لی ہو
“اس بات کا کیا مطلب ہے اگر کوئی رشتےدار مالی اعتبار سے کم ہو تو اس سے میل ملاپ ترک کر دیا جائے “۔۔۔ پاپا کے ماتھے پر شکنیں بڑھنے لگی اور لہجے کی سختی بھی بڑھ گئ ۔۔۔۔ مگر کامران بھی ڈھیٹ ابن ڈھیٹ تھا بہت آرام سے نیپکن سے ہونٹوں کو تھتھپاتے ہوئے بولا
“میں تو ایسے ہی مقولے پر عمل کرنے پر قائل ہوں پاپا ۔۔۔۔انسان کو اپناحلقہ احباب اپنے اسٹینڈرڈ کے حساب سے رکھنا چائیے ۔”۔۔۔کامران اب بہت مطمئن انداز سے ٹیبل پر دونوں کہنیاں رکھے اور دونوں ہاتھ آپس میں ملا کر بولا پاپا تو پاپا مما بھی اسے غصے اور تعجب سے ملے جلے انداز سے گھورنے لگیں۔۔۔۔جو بھی تھا آخر منور ماموں مما کے سگے بھائی تھے اس لئے خاموش نہیں رہ پائیں
“پھر تو بیٹا میں بھی اسی اسٹنڈر سے آئی ہوں مجھ سے بھی تم اسی سوچ اور اسی انداز سے ملا کرو ۔۔۔۔” مما کڑے تیوروں سے بولیں
“اور میں بھی کوئی جدی پشتی امیر زادہ نہیں ہوں۔ ۔۔نا ہی سونے کا چمچہ منہ رکھ کر پیدا ہوا ہوں۔۔۔۔یہ فیکڑی جس کے بل بوتے پر تم اتنا اکڑ رہے ہو۔۔۔یہ کام بھی میں نے چھوٹے پیمانے پر شروع کیا تھا ۔۔۔۔اسلئے برخودار مجھے بھی تم لوئر کیٹگری میں سے ہی سمجھ لو ۔۔۔۔اور اس بات کو بھی مدنظر رکھنا کہ تم بھی ایک سرکاری ہسپتال میں پیدا ہوئے تھے “۔۔۔۔۔پاپانے ناک پر دھرا چشمہ انگلی سے اوپر دباتے ہوئے مزید بولے
“جن مادی چیزوں پر تم اتنا اکڑ رہے ہو نا میاں وہ تو میری بٹیا کا نصیب ہے جب سے وہ میری زندگی میں آئی ہے میں نے کبھی نا کامی کا منہ نہیں دیکھا اور تم اسے ہی منع کر رہے ہو ۔”۔۔۔پاپا کڑے تیوروں سے بولے تو کامران جھنجلا سا گیا
“آپ بات کو کیوں بڑھا رہے ہیں پاپا ۔۔۔عفان ہے نا چھوڑ دے گا ماہم کو ۔”۔۔۔کامران لاپروائی سے بولا مگر میں نے صاف انکار کر دیا
“نہیں بھائی مجھے آفس جلدی پہنچنا ہے ۔۔۔۔پہلی بار میں اتنے بڑے پروجیکٹ پر کام کر رہا ہوں میرے پاس تو سر کھجانے کی بھی فرصت نہیں ہے ۔۔۔۔۔اور ویسے بھی ماہم اب آپ کی ذمہ داری ہے آپ ہی نبھائیں تو ذیادہ بہتر ہے” ۔۔۔میرے دو ٹاک انداز پر کامران بھپر سا گیا
“میں پابندیوں کا قائل نہیں ہوں سمجھے ۔۔۔اور میری ذمےداری مجھے بتانے والے تم کون ہوتے ہو” ۔۔۔۔کامران اپنی کرسی پیچھے دھکیل کر کھڑا ہو گیا مجھے اسپاٹ لہجے میں کہہ کر ماہم کو گھور کر بولا
“ماہم کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں کہیں جانے کی جب تک ڈائیور نا آ جائے” ۔۔۔۔ماہم اس کے رعب دار لہجے پر سہم سی گئ ۔۔۔۔
“یہ کیا انداز ہے بات کرنے کا “۔۔۔۔۔پاپا تپ کر بولے
“پاپا پلیز یہ میرا پرسنل میٹر ہے اور میں اس میں کسی کی بھی دخل اندازی برداشت نہیں کروں گا۔۔۔۔”۔کامران کے بے لچک لہجے پر پاپا اشتعال میں آ گئے۔۔۔کچھ پاپا کامران کی منگنی والی حرکت کو ہی نہیں بھلا پائے تھے پھر ماہم سے وہ پیار بھی بہت کرتے تھے انہوں نے کبھی نا خود ماہم سے بلند لہجے میں بات کی تھی نا مما کو ڈانٹنے کی اجازت تھی پھر کامران کا یوں رعب جمانا پاپا اپے سے باہر ہو گئے
“کس خوش فہمی ہو تم ۔۔۔۔اگر تمہارے دماغ میں یہ خناس بھرا ہے کہ تمہارے رویے کی تم سے باز پرس نہیں ہو گئ تو منہ دھو کر رکھو اپنا ۔۔۔۔اگر تمہارا باپ ہونے کے ناتے میں ماہم کو تمہارے نام کی
انگوٹھی پہنا سکتا ہوں تو بلکل اسی طرح میں ماہم کا بھی باپ ہوں ۔۔میری بیٹی ہونے کے سارے ارمان ماہم نے پورے کیے ہیں ۔۔اسی حیثت سے انگوٹی اتار کر میں تمہارے منہ پر بھی مار سکتا ہوں ۔۔۔آج کے بعد مجھے شکایت نہیں چاہیے کامران” ۔۔۔۔کامران پاپا کی بات پر خاموشی سے اپنا بیگ اٹھائے چلا گیا پاپا اپنا غصہ ضبط کر کے رہ گئے ۔۔۔۔۔۔وہ ایسا ہی تھا اپنی بات کو مقدم رکھنے والا اور دوسروں کی بات کو لاپروائی سے اڑانے والا
“عفان ماہم کو تم خود چھوڑ کر آؤں گئے “۔۔۔۔پاپا کے غصے بھرے انداز پر میری انکار کی ہمت ہی نہیں ہوئی ۔۔۔۔حالانکہ میرا آفس پہنچنا اشد ضروری تھا ۔۔۔سارے ڈاکومنٹس میرے پاس تھے رات دیر تک بیٹھ کر میں نے پوری رپوٹ تیار کی تھی اور میٹنگ میں میری شمولیت ازحد ضروری تھی قاسم کے بار بار میسج آ رہے تھے ۔۔۔۔میں نے پھر بھی اثبات میں سر ہلا دیا
“جاؤں بٹیا جلدی سے تیار ہو جاؤں” ۔۔۔۔ماہم سے بات کرتے ہی پاپا کا لہجہ خود با خود ہی نرم اور شفقت سے بھر پور ہو جاتا تھا
“خالہ میں کچھ دن منور ماموں کے رہنا چاہتی ہوں “۔۔۔۔۔ماہم نے مما سے ہچکچاتے ہوئے کہا مما پہلے اس بات پر حیران تھی کہ ماہم اکیلے جانے کو کیسے تیار ہو گئ وہ کبھی مما کے بغیر کہیں نہیں گئ تھی اوپر سے وہاں رہنا مما سمجھ نہیں پا رہیں تھیں
“لیکن بیٹا تم جانتی تو ہو دو کمروں کا چھوٹا سا گھر ہے منور کا ۔۔۔۔تم کہاں عادی ہو ایسی جگہ رہنے کی پھر میں بھی تو تمہارے بغیر اداس ہو جاؤں گی۔۔۔۔۔”
“مما پلیز اسکی اپنی بھی کوئی ذاتی زندگی ہے اگر وہ جانا چاہتی ہے تو آپ اسے ایموشنل بلیک میل مت کریں “۔۔۔میں نے مما کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا
“صحیح کہہ رہا ہے عفان ۔۔۔منور کی بیٹیاں بھی ماہم کی ہم عمر ہیں انکے ساتھ کچھ گھل مل جائے گی تو فریش ہو جائے گی ۔۔۔لڑکیاں اپنے جوڑ میں ہی خوش رہتی ہیں اور تم ٹہری اولڈ ایج وومن وہ بیچارہ بھی تمہاری سنگت میں بور ہو گئ ہو گی” ۔۔۔۔پاپا کے مزاق سے ماحول کی کشیدگی کچھ بہتر ہو گئ تھی ۔۔۔۔
“آپ سے تو اب بھی میں جوان لگتی ہوں ۔۔۔۔۔”
“اب بچوں کے سامنے تو جھوٹ مت بولو” ۔۔۔۔پاپا اور مما کی پیار بھری نوک جھوک شروع ہو چکی تھی ۔۔۔۔میں نے گھڑی دیکھی ساڈھے آٹھ بجا رہی تھی میں سیدھا باہر پورچ میں آ گیا کریم بابا سے دروازہ کھولنے کا کہہ کر گاڑی میں بیٹھ گیا کچھ ہی دیر انتظار کرنے پر ماہم تیز چلتی ہوئی ہاتھ میں ایک بیگ پکڑے ہوئے باہر آئی ۔۔۔فرنٹ ڈور کھول کر پہلے اپنا بیگ پیچھے رکھا پھر خود بیٹھ کر دروازہ پورے زور سے بند کیا اور اپنا رخ کھڑکی کی طرف موڑ لیا ۔۔۔وہ اپنی پوری پوری ناراضگی دیکھارہی تھی
“اچھا تو ماہی بی بی۔۔۔۔ اب آپ مجھے یہ خفگی اس لئے دیکھانا چاہتی ہیں تا کہ میں آپ کو مناوں گا منتیں کروں گا تو ۔۔۔نہیں ماہم ۔۔۔۔اب نہیں ۔۔۔۔یہ حق تو تم مجھ سے چھین چکی ہو” ۔۔۔۔میں نے دل گرفتگی سے یہ سوچا اور گاڑی اسٹاٹ کر لی ۔۔۔۔روڈ پر گاڑی لاتے ہی میں نے قاسم کا نمبر ملایا اسوقت وہ میری کال کا منتظر ہی بیٹھا تھا پہلی بیل پر فون اٹھا کر پھٹنے کے انداز سے بولا
“عفان تمہیں اندازہ ہے کہ ایک گھنٹے میں میٹنگ ہے اور تم خود ابھی تک نہیں پہنچے اوپر سے سارے ڈاکومنٹس بھی تمہارے پاس ہیں ڈیڈ دو دفعہ تمہارا پوچھ چکے ہیں اب بتاؤں کتنی دیر میں پہنچ رہے ہو” ۔۔۔۔۔قاسم پریشان اور عجلت سے بات کر رہا تھا
“میں ابھی نہیں آ سکتا بہت بڑی مصیبت میں پھنس گیا ہوں ۔۔۔لیکن اگلے دس منٹ تک تم اپنے پی اون کو نیچے بھیج دو میں سارے ڈاکومنٹس اسے دیدوں گا۔۔۔۔ابھی میٹنگ میں ایک گھنٹہ ہے میں بس وقت پر پہنچ جاؤں گا “
“کیوں تم پر کون سی افتاد آن پڑی ہے ۔۔۔۔وہ بھی ایسے نازک وقت پر ۔۔۔۔یاد رکھو تم وقت پر نہیں پہنچے تو ڈیڈ مجھے کچا چبا جائیں گئے” ۔۔۔قاسم جھنجھلایا ہوا بولا
“اب یہی سمجھ لو کہ ایک مصبت ہی آن پڑی ہے بہت مجبور ہوں “۔۔۔میں نے ترچھی نظر ماہم پر کچھ جتاتے ہوئے ڈالی ۔۔۔۔وہ بھی مجھے ہی چور نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔نظروں کے تصادم پر گڑبڑا کر کھڑی سے باہر دیکھنے لگی ۔۔۔۔چہرے کے بگڑے زاویوں سے اس کے بگڑے مزاج کا اندازہ میں باخوبی لگا سکتا تھا ۔۔۔۔
“کیوں اپنی لیلی کے دربار پر حاضری دینے جا رہے ہو”۔۔۔۔قاسم پہلے ہی میری اطلاع پر جل بھن گیا تھا اس لئے تن کر بولااور میرا قہقہ گاڑی میں گونج کر رہ گیا
“فی الحال تو اپنی ہونے والی “بھابی “کو اسکے میکے چھوڑنے کا رہا ہوں” ۔۔۔میری بات سن کر ماہم نے برجستہ پلٹ کر مجھے دیکھا ۔۔۔۔شاید میرے بھابی کہنے پر وہ حیران تھی ۔۔۔۔
“یہ ڈیوٹی تو خالصا تمہارے بھائی پر عائد ہوتی ہے ۔۔۔ایسا موقع تم انکو فراہم کر دیتے تو دونوں کا بھلا ہو جاتا انکا بھی اور میرا بھی “
“میرے بھائی کا اسٹنڈر بہت ہائی ہے یار انہیں ایسے موقعوں کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی اور میں ٹہرا ایک غریب بندہ اب تھوڑی بہت چاکری تو کرنی پڑے گی انکی ۔۔۔۔اچھا ایسا ہے قاسم کہ میں آفس کے نیچے پہنچ گیا ہوں تم پی اون کو بھیج کر فائل منگوا لو “۔۔۔۔۔میں نے گاڑی آفس کے نیچے کھڑی کر دی کچھ ہی دیر میں پی اون فائل لیکر چلا گیا میں گاڑی پھر سے مین روڈ کر لے آیا تھا
“میرا تم سے کیا یہی ایک رشتہ ہے ۔۔۔۔یعنی تمہاری “بھابی” ۔۔۔۔ماہم ترش لہجے سے بولی ۔۔۔۔۔۔آنکھوں بھی اسکی اسوقت شکوہ کناہ تھیں
“ہاں “۔۔۔۔میں نے مختصر جواب دیا ۔۔۔۔نظریں میری ونڈر اسکرین کی طرف ہی تھیں
“عفان شاید ہم اچھے دوست ہوا کرتے تھے” ۔۔۔ ماہم میرے سرد لہجے سے خفگی سے بولی
“یہ ماضی کی بات ہے میں حال میں رہنا پسند کرتا ہو”ں ۔۔۔میرے دو ٹاک انداز پر وہ تلملاسی گئ ۔۔۔
“گاڑی یہیں روک دو تمہیں میرے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں…. نا ہی میں تمہاری ذمہ داری ہوں ۔۔۔میں کیپ سے چلی جاؤں گی “۔۔۔۔۔ماہم کا لہجہ بھگنے لگا تھا آنکھوں کے کناروں پر آنسوں تیرنے لگے
“چپ چاپ بیٹھی رہو سمجھی ۔۔۔۔ ورنہ پاپا کو کال کر کے تمہارے نادر خیالات سے آگاہ کر دونگا۔۔۔۔باقی رہی بات میرے پریشان ہونے کی تو “مس ماہم افتخار “۔۔۔۔۔میں صرف پاپا کے کہنے پر آیا ہوں
باحالت مجبوری” ۔۔۔۔ میں ڈش بورڈ پر نظریں جمائے بولا تو وہ تلملا کر دوبارہ باہر دیکھنے لگی ۔۔۔۔اسے یوں زچ کر کے مجھے اچھا تو نہیں لگ رہا تھا مگر ۔۔۔۔میرے اندر کی کھولن ذرا کم ہو گئ تھی ۔۔۔۔اور یہ میرے بھی بس میں کہاں تھا ۔۔۔۔بہت کچھ جتانا چاہتا تھا اسے ۔۔۔۔اسے احساس دلانا چاہتا تھا کہ وہ کیا کھونے جا رہی ہے بچپن کا ساتھ تھا ہمارا میں نے کب سوچا تھا کہ وہ مجھے یوں بھی جدا ہو سکتی ہے ۔۔۔۔میرے سامنے رہ کر میرے ہی بھائی کی ہمراہی میں زندگی گزارنے کا فیصلہ کر سکتی ہے ۔۔۔۔آخر میں انسان تھا اس لئے جلن حسد نفرت محبت غصہ ہر جذبات سے لبریز دل رکھتا تھا ۔۔۔۔باقی کاساراراستہ خاموشی کی نظر ہی رہا منور ماموں کے گھر کے اندر تک میں نے ماہم کو چھوڑا تھاممانی تو ہمیں دیکھ کر ہی بوکھلاسی گئیں ۔۔۔۔شاید ہماری غیر متوقع آمد انہیں ہضم نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔میں تو کچھ ہی دیر رک کر واپس آفس چلا گیا ۔۔۔۔۔
*******……..********……….*******……******
ماہم کی بنا پشگی اطلاع کی آمد نے نزہت بیگم کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا تھا ایک تو مہنے کی آخری تاریخیں چل رہیں تھیں اوپر سے مہمان نوازی ۔۔۔پھر ماہم پہلے یوں اکیلے کبھی رہنے بھی نہیں آئی تھی ۔۔۔وہ تو بس گھڑی دو گھڑی صفیہ بیگم کے ساتھ ہی آتی تھی ۔۔۔۔اور انہی کے ساتھ چلی جاتی تھی ۔۔۔۔اس لئے ماہم ک یوں چند دن رہنے آنا انہیں متجسس کیے ہوئے تھا ۔۔۔۔۔شام کی چائے کے ساتھ بیکری کے چند بسکٹ اور چھوٹا سا کیک ماہم کے سامنے رکھتے ہوئے ۔۔۔۔وہ ماہم کے برابر میں ہی بیٹھ گئیں ۔۔۔۔ماہم کشف اور کرن سے انکے کالج کے قصے سن رہی تھی ۔۔۔۔۔
“کشف جاوں رات کے کھانے کی تیاری کرو ۔۔۔۔اور کرن تم ۔۔۔۔پورا کچن بکھرا پڑا ہے ۔۔۔جاو۔ برتن دھو جا کر۔۔۔۔۔خود خیال نہیں رہتا تم لوگوں ان باتوں کا ہمارے گھر کون سا ملازم ہیں جو کر لیں گئے “نزہت بیگم دونوں بیٹیوں پر بگڑنے لگی۔ جو صبح سے ماہم کے ساتھ ہی چپکی بیٹھی تھیں ۔۔۔۔
“اچھا نا امی دھو لیتے ہیں ۔۔۔۔۔ماہم باجی پہلی بار تو رہنے آئی ہیں ۔۔۔۔کچھ دیر تو ہمہیں باتیں کرنے دیں” ۔۔۔۔۔کرن منہ بسور کر بولی
“ہاں ممانی ۔۔۔۔آج کھانا آپ بنا لیں ۔۔۔۔مجھے ڈھیر ساری باتیں کرنی ہیں کرن اور کشف سے ۔۔۔۔”ماہم نے بھی کرن کی بات پر ہاں میں ہاں ملائی
“جم جم کرو بیٹا ۔۔۔۔مگر کچھ کام تو انہیں بھی نمٹانے دو “۔۔۔۔۔کرن نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے پلیٹ میں سے ایک بسکٹ اٹھانے لگی تو نزہت بیگم نے اسکے ہاتھ پر تھپکی لگائی کرن نے فورا سے ہاتھ پیچھے کر لیا ۔۔۔
“ماہم کے لئے منگوائے ہیں میں۔ نے۔۔۔۔۔تم لوگ چائے پیو اور کچن میں گھسو” ۔۔۔۔نزہت بیگم نے کرن کو آنکھیں دیکھاتے ہوئے پتہ نہیں ماہم پر جتایا تھا یا پھر یونہی کہا تھا مگر ماہم کو کچھ عجیب سا لگا ۔۔۔۔
“ارے ممانی کھانے دیں کرن کو اور آپ بھی لیں میں تو شام کو صرف چائے ہی لیتی ہوں ۔۔۔۔”ماہم نے اپنا کپ اٹھا کر لبوں پر لگا لیا ۔۔۔۔
“ارے کہاں بیٹا ۔۔۔۔۔ہم کہاں ان نخروں کے عادی ہیں ۔۔۔۔”
“پھر بھی ۔۔۔۔لو کرن یہ تم کھا لو” ۔۔۔ماہم نے پلیٹ کرن کی طرف بڑھا دی ۔۔۔۔مگر وہ ماں کے اشارے کی منتظر تھی ۔۔۔۔نزہت مگر کے اشارے پر ایک بسکٹ اٹھا لیا ۔۔۔۔ماہم نے پلیٹ کشف کی طرف بڑھا دی ۔۔۔۔اس نے بھی ڈرتے ہوئے بس ایک بسکٹ ہی اٹھایا ۔۔۔باقی کی پلیٹ ماہم نے سامنے رکھی چھوٹی سی تپائی پر رکھ دی ۔۔۔باقی کے کیک بسکٹ نزہت بیگم نے ہی باتوں کے درمیان ختم کیے ماہم بس چائے کے گھونٹ ہی بھرتی رہی ۔۔۔۔۔
چائے ختم ہوتے ہی کرن اور کشف کچن میں چلی گئیں نزہت بیگم نے موقع دیکھتے ہی ماہم کو کریدنے کی کوشش کی
“جب تم صبح آئی تھی ماہم۔۔۔۔تمہاری آنکھیں کچھ سوجی سوجی تھیں تمہاری ۔۔۔۔کوئی بات ہے تو مجھے بتاؤں بیٹا ہم کوئی غیر تھوڑی ہیں” ۔۔۔۔۔نزہت
بیگم کا لہجہ دھیمہ تھا مگر چالاکی سے بھر پور تھا
“وہ ۔۔۔میں ۔۔۔۔رات کو دیر تک جاگتی رہی تھی اس لئے آنکھیں سوجی لگ رہیں ہوں گی ۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔بس میرا دل اداس تھا اسلئے یہاں آ گئ کہ کرن اور کشف کے ساتھ باتیں کروں گی گیمز کھیلوں گی تو دل بہل جائے گا ورنہ خالہ تو بہت خیال رکھتی ہیں میرا ۔۔۔۔”
“اب تم بات کو ڈالنے کی کوشش کر رہی ہو ۔۔۔۔آپاں کے بغیر تم کبھی نہیں آئی یہاں ۔۔۔۔۔اور ہم نے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے سب جانتی ہوں میں تم روتی رہی ہو رات بھر ۔۔۔۔”
“ممانی ۔۔۔۔مجھے میری امی اور بابا یاد آ رہے تھے ۔۔۔۔”۔ماہم ضبط کر کے تھک چکی تھی۔۔۔۔۔کچھ اور نہیں سوجھا تو یہی کہہ کر رونے لگی نزہت نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا
“میری زندگی کی اتنی بڑی خوشی پر میں بہت مس کر رہی انہیں “۔۔۔۔۔وہ بلک بلک کر رونے لگی ۔۔۔۔۔
“ارے میری جان یوں روتے تھوڑی نا ہیں ۔۔۔۔چپ کرو میری بچی ۔۔۔۔تم سمجھو میں تمہاری امی ہوں ۔۔۔۔آپاں تو اب خیر سے ساس کے درجے پر فائز ہونے جارہی ہیں ۔۔۔۔ماں کی کمی تو محسوس ہو گی تمہیں “۔۔۔۔نزیت بیگم نے بات کو پھر ایک نیا رخ دینا چاہا تھا
“نہیں ممانی خالہ بہت پیار کرتی ہیں مجھ سے ۔۔۔۔۔”
“اچھا اچھا ۔۔۔۔تم چپ کرو کرن اور کشف فارغ ہو جائیں تو انہیں میں کہتی ہوں کہ اسٹور سے تمہاری امی کی شادی کی البم نکال دیں ۔۔۔۔”
“سچی ممانی امی کی البم ہے آپکے پاس “۔۔۔۔ماہم آنسوں صاف کیے اشتیاق سے پوچھنے لگی
“ہاں ۔۔۔تم اپنی ماں پر ہی تو ہو ۔۔۔۔۔ایسی پیاری اور معصوم تھی وہ بھی ۔۔۔۔۔”۔جیسے ہی کشف فارغ ہوئی ماہم خود اسکے ساتھ اسٹور میں گھس گئ البم ڈھونڈ کر ہی باہر نکلی
“کافی گھنٹوں تک وہ اپنے ماں باپ کی تصویروں کو دیکھتی رہی ۔۔۔۔انکے ہنستے مسکراتے چہروں کو
دیکھ کر مسکرانے لگتی ۔۔۔۔کبھی آنسوں بہانے لگتی ۔۔۔۔
“ممانی میں یہ البم اپنے ساتھ لے جاؤں ۔۔۔۔”
“ہاں بیٹا لے جاو تمہارے لئے ہی تو نکالی ہے “۔۔۔۔۔ماہم نے وہ اپنے پرس میں رکھ لیں ۔۔۔۔۔رات کو منور صاحب ایک پیس چکن تکے کا لے آئے ۔۔۔۔۔رات کو دسترخواں پر بھنڈی کی سبزی سلاد چٹنی کے ساتھ ممانی نے دہی بڑے بھی بنائے تھے مگر چکن تکے کی پلیٹ ماہم کے سامنے رکھ دی ۔۔۔۔۔
“لو بیٹا ۔۔۔یہ خاص تمہارے لئے لایا ہوں ۔۔۔۔۔ہمارے محلے کا سب سے مشہور تکے اولا ہے یہ ۔۔۔۔میں نے سوچا میری بیٹی پہلی بار میرے گھر رکنے آئی ہے اسے ضرور چکھنا چاہیے “۔۔۔۔۔۔منور ماموں تعریف کرتے ہوئے بولے باقی کے سب لوگ سبزی کھارہے تھے ماہم کو سبکی سی محسوس ہونے لگی ۔۔۔۔۔
لیکن میں تو یہاں پر ممانی جان کے ہاتھ کی سبزیاں کھانے آئیں ہوں ۔۔۔خالہ بہت تعریف کرتی ہیں ممانی کے کھانوں کی ۔۔۔آپ کل سے یہ سب مت لائیے گا ۔۔”
۔ماہم نے سہولت سے بات سنبھالتے ہوئے چکن تکے کی پلیٹ پیچھے کھسکا دی اؤر بھنڈی کی سبزی اپنی پلیٹ میں ڈال کر کھانے لگی
“سچ ماہم ۔۔۔آپاں میرے کھانوں کی تعریف کرتی ہیں۔”۔۔۔نزہت چہک اٹھی تھیں ۔۔۔۔
“جی ممانی” ۔۔۔۔ماہم نے لقمہ میں لیتے ہوئے کہا
“آپ کے ہاتھ میں واقع جادو ہے ۔۔۔بہت مزے کی بنی ہے سبزی ۔۔”۔۔ماہم کی تعریف پر نزہت نے دہی بڑے بھی پلیٹ میں ڈال کر ماہم کے سامنے رکھ دیے
“یہ بھی چکھوں میں نے بگھار والے دہی بڑے بنائے ہیں ۔”۔۔۔نزہت کا تو بس نہیں چل رہا اپنی تعریف پر وہ پھولے نہیں۔ سما رہی تھی ۔۔۔۔۔
“یہ تو ہے بیٹا ۔۔۔تمہاری ممانی کی زبان چاہے جتنی مرضی کڑوی جو مگر ہاتھ میں جادو ہے “۔۔۔۔۔منور ماموں بھی ہنستے ہوئے طنز کرنے لگے ۔۔۔۔۔
“آپ سے میری تعریف ویسے بھی برداشت نہیں۔ ہے ۔۔۔۔تم چھوڑو انہیں ماہم ۔۔۔تم مجھے یہ بتاؤں آپاں اور کیا کیا کہتی ہیں میرے بارے میں ۔”۔۔۔نزہت بیگم کو
ساری دلچسپی اپنی تعریف سننے میں تھی ۔۔۔۔دو دن ماہم کے کرن اور کشف کے ساتھ خوش گپیوں میں ہی گزرے تھے ۔۔۔۔۔رات دیر تک وہ باتیں کرتی رہتی بھوک لگتی تو پیزا آڈر کر کے منگوا لیتی ۔۔۔۔ماہم اپنی پاکٹ منی ساتھ ہی لائی تھی اس لئے دل کھول خرچ بھی کر رہی تھی ۔۔۔۔۔دو دن بعد ہی کامران کی کال آ گئ
“جی کامی کہیے ۔۔۔۔”
“واپسی کا ارادہ ہے تمہارا یا یہیں سے رخصت ہو کر گھر آؤں گی “۔۔۔۔۔کامران کا کوفت بھرا لہجہ سن کر ماہم بجھ سی گئ تھی ۔۔۔۔
“مجھے اور رہنا ہے” ۔۔۔۔۔ماہم نے بھی جان بوجھ کر کہا
“بلکل نہیں ماہم ۔۔۔شام کو لینے آ رہا ہوں میں تمہیں تیار رہنا ۔۔۔۔اور ایک بات اور ۔۔۔میں اندر نہیں آؤں گا گاڑی کا ہارن سنتے ہی باہر آ جانا “۔۔۔۔۔کامران نے حتمی لہجے سے کہہ کر فون بند کر دیا ۔۔۔۔شام تک ماہم تیاری کر چکی تھی ۔۔۔۔کامران کی گاڑی کا ہارن سنتے ہی ممانی سے ملکر باہر چلی گئ ۔۔۔۔۔کامران گاڑی میں
زمانے بھر کی بیزاریت لئے بیٹھا تھا ۔۔۔ماہم نے اپنا چھوٹا سابیگ گاڑی کے پیچھے رکھا اور خود فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئ ۔۔۔کامران نے تنگ اور چھوٹی سی گلیوں سے گاڑی نکالتے ہوئے ۔۔۔۔ماہم کو کوسنے لگا ۔۔۔۔
“بہت شوق تھا تمہیں اس دڈبے میں رہنے کا ۔۔۔۔۔گلیاں دیکھی ہیں تم نے گاڑی گزرنے کی بھی جگہ نہیں ہے اوپر سے جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی۔ ہیں ۔۔۔۔او مائے گاڈ ۔۔”۔۔۔ آخری گلی کا موڈ مڑتے ہوئے کامران۔ بری طرح زچ ہو رہا تھا ۔۔۔۔
“آپ ڈرائیور کو بھیج دیتے “۔۔۔۔۔ماہم کو کامران کی بیزاریت کو سوچ کر مشورہ دیا
“کیوں میرا آنا برا لگا ہے تمہیں ۔۔۔۔۔”
“ن۔۔۔نہیں ۔۔۔میں تو آپکی وجہ سے کہہ رہی تھی ۔۔۔۔آپکو پسند جونہیں ہے ۔”۔۔۔ماہم یک دم ہی گھبرا گئ تھی
“اینی وئے ۔۔۔میں نے آج لنچ نہیں کیا تھا ۔۔۔۔اب بھوک لگ رہی ہے ۔۔۔۔برگر کھاوں گی تم “۔۔۔۔۔کامران کی اچانک دی گئ آفر پر وہ حیران بھی نہیں ہو پائی تھی اب وہ نارمل لہجے میں پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔
“لیکن میں نے تو لنچ کیا ہے ۔۔۔۔”
“کوئی بات نہیں میرا ساتھ تو دے سکتی ہو اب وہاں اکیلا کھاتا کیا خاک اچھا لگوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔”
کامران کے بدلتے رویوں کو ماہم سمجھ نہیں پاتی تھی کبھی وہ اس سے یوں بات کرتا جیسے ماہم اسکے لئے بہت ہی خاص ہو اور کبھی اجنبی بن جاتا ہے جیسے
ماہم سے شناسائی نا ہو ۔۔۔کبھی ماہم پر اپنا پورا حق
جماتا کبھی غیروں کی طرح پیش آتا ۔۔۔۔۔ہر پل کامران ماہم کے لئے ایک نیا چیلنج بن جاتا تھا ۔۔۔۔۔رسٹورنٹ میں برگر کھاتے ہوئے وہ اس سے ہلکی پھلکی باتیں بھی کرتا رہا ۔۔۔۔۔پھر اصل مقصد پر آ گیا
“ماہم پلیز دوبارہ منور ماموں کے گھر رہنے مت جانا ۔”۔۔۔کامران کی بات پر ماہم کو لگا شاید کامران نے اسے مس کیا ہے ۔۔۔ماہم اندر ہی اندر خوش ہونے لگی
“کیوں۔”۔۔۔بڑی چاہ سے ماہم نے کامران سے پوچھا تھا
“میرے سارے کام رک جاتے ہیں ۔۔۔۔اس لئے ۔۔۔۔۔صبح صبح آدھا گھنٹہ یہ سوچنے میں گزر جاتا ہے کہ بلو شرٹ کے ساتھ ٹائی کونسی پہنو ۔۔۔۔شام گھر آؤں تو کھانے میں بس ایک ہی ورائٹی نظر آتی ہے “۔۔۔۔۔کامران برگر کھاتے ہوئے اپنی روزمرہ کی ضروریات کا رونا رو رہا تھا ۔۔۔۔ماہم صرف فرنچ فرائز ہی پلیٹ سے اٹھا کر کھا رہی تھی۔۔۔۔۔
سنیک پیک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ماہم ۔۔۔۔اب تم منگتر ہو تم میری ۔۔۔۔میری پسند نا پسند کا خیال رکھنا تمہاری زمہ داری ہے میں اس میں کوتاہی برداشت نہیں کر سکتا ہوں “۔۔۔۔۔کامران برگر کھا چکا تھا اب کولڈرنک کے سپ لیتے ہوئے ماہم سے بات کر رہا تھا
“کامی میں کوشش تو کر رہی ہوں “۔۔۔۔۔ماہم نے منمناتے ہوئے جواب دیا
“وہ بہت کم ہے ماہم بہت بدلنا پڑے گا تمہیں میرے لئے خود کو ۔۔۔۔مجھے منور ماموں کی فیملی پسند نہیں ہے دور رہا کرو ان سے ۔۔۔۔۔اور ۔پاپا کے سامنے تمہارا ضد کرنا مجھے بلکل پسند نہیں ہے ۔۔۔۔کوئی میری بات ڈال دے مجھے سے برداشت نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔
۔مجھے میرے کاموں میں دیر سویر بھی پسند نہیں ہے ۔۔۔۔۔ایک شکن بھی میرے کپڑوں پر ہو مجھے برا لگتا ہے ۔۔۔۔۔کوئی میری چیز استعمال کرے مجھے وہ اپنی نہیں پرائی لگنے لگتی ہے ۔۔۔۔۔اور پرائی چیزوں کو میں چھونا بھی پسند نہیں کرتا ۔۔۔۔۔اگر مجھ سے میری کوئی چیز مانگ لے تو میں دینے کے بجائے توڑ دینا پسند کرتا ہوں ۔۔۔۔۔تم سمجھ رہی ہو نا ماہم ۔۔۔۔”۔کامران کا انداز عام سا تھا مگر جمعلے بہت بامعنی تھے ۔۔۔۔ماہم کو اپنے گلے میں گرہیں سی پڑتی محسوس ہونے لگیں ۔۔۔۔
“جی” ۔۔۔۔ماہم با مشکل ہی بول پا رہی تھی
“اب جب کہ تم میری منگتر ہو ۔۔۔بہت جلد بیوی بھی بن جاؤں گی تمہیں یہ باتیں معلوم ہونی چاہیے ۔۔۔۔۔بہت برا لگا مجھے جب پاپا نے مجھ سے منگنی کی انگوٹھی میرے منہ پر مارنے کی بات کی ۔۔۔۔۔ماہم ۔۔۔۔۔میں فیصلہ ایک بار کرنے کا عادی ہوں ۔۔۔۔اور وہ میں کر چکا ہوں ۔۔۔۔نا تو میں اس پیچھے ہٹو گا نا تمہیں
پیچھے ہٹنے کی اجازت دونگا تم کسی اور کی کبھی نہیں ہو سکتی۔۔۔۔۔۔۔سمجھ رہی ہو نا میری بات ۔۔۔”اس بار کامران کا لہجہ سخت تھا
“جی ۔”۔۔۔۔۔
“وری گڈ ۔۔۔۔۔تمہاری یہ عادت بہت اچھی ہے ۔۔۔۔تم بات بہت جلدی سمجھ جاتی ہو ۔۔۔۔۔تم ایسے کیوں بیٹھی ہو ۔۔۔کھاو نا ۔۔۔۔کچھ اور آڈر کر دوں” ۔۔۔۔ماہم کو ڈرا سہما بیٹھے دیکھ کر کامران نے موضوع بدلا
“نہیں کامی بس اب چلیں گئے “۔۔۔۔۔ماہم اسکی نظروں اور باتیں کو برداشت کرنے کی متحمل نہیں تھی جلد از جلد گھر جانا چاہتی تھی
