Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 3
Rate this Novel
Tadbeer Episode 3
Tadbeer by Umme Hani
ماہم نے گھر کے ہر کام میں دلچسپی لینی شروع کر دی تھی ۔۔۔کالج کی پڑھائی اتنی مشکل نہیں تھی ۔۔۔۔پھر اسکا ڈرائنگ بنانے کا جنون شدت پکڑنے لگا تھا ۔۔۔۔۔فارغ وقت میں وہ اسکیچز بنانے لگی تھی ۔۔۔
خاص طور پر شادی میں ہونے والی ارینجمنٹ کو لیکر اسکے دماغ میں نے نئے خیالات آنے لگتے جسے وہ اپنی اسکیچ بک پر پینسل سے منتقل کرنے لگتی ۔۔۔۔۔۔اسکے علاؤہ اخبارات اور میگزین میں سے ایسی کسی سجاوٹ کو دیکھتی تو اسے کاٹ کر ایک فائل میں لگا دیتی ۔۔۔۔کبھی کبھی کوئی منظر اسے اچھا لگتا تو اسے پیپر پر منتقل کرنے میں اس قدر محو ہو جاتی کے کئ گھنٹے گزرنے کا بھی احساس نہیں ہوتا ۔۔۔۔اسے گھر میں کوئی بھی چیز آؤٹ آف فیشن لگتی وہ فورا اسے بدل دیتی رضا صاحب اور عفان ۔۔۔صفیہ بیگم جب بھی۔ اسے سہراتے یا اسکی تعریف کرتے اسکی خوشی قابل دید ہوتی بس ایک کامران ہی جلی کٹی سنا دیتا تھا ۔۔۔۔کبھی اسے فضول خرچ کہتا کبھی یہ کہہ دیتا کہ ماہم کی کی
گئ ردوبدل سوٹ نہیں کر رہی ۔۔۔۔نا جانے اس شخص نے ماہم کے دل دکھانے کا ٹھیکہ کیوں لے رکھا تھا ۔۔۔۔۔ ماہم اب مکمل کوکنگ کرنے لگی تھی انٹر وہ کر چکی تھی اور ان دو سالوں میں پاکستانی کھانوں کے علاؤہ چائنیز اور اٹالین فوڈ بھی ٹرائی کر چکی تھی ۔۔۔اصل شامت عفان کی ہی آتی تھی ۔۔۔۔سب سے پہلے ماہم اسے چکھا کر تسلی کرتی تھی اور بار بار پوچھتی تھی ۔۔۔۔کہ کیسا بنا ہے ۔۔۔۔یہ بھی جتاتی تھی کہ پہلے کی طرح جھوٹی تعریف نا کرے ۔۔۔اپنی بنائی ہوئی ڈشز وہ ڈائنگ ٹیبل پر سب سے پہلے رضا صاحب کی پلیٹ میں ڈالتی
“انکل سب سے پہلے یہ ٹرائی کریں یہ میں نے بنائی ہے ۔”۔۔۔۔رضا صاحب نے پہلا نوالہ لیتے ہی ماہم کو پیار بھری مسکراہٹ دے کر تسلی دی پھر صفیہ کو مخاطب کیا
“برا مت منانا صفیہ بیگم ۔۔لیکن میری ماہم کے ہاتھ میں تم سے ذیادہ ذائقہ ہے ۔۔۔۔ جب سے میری بٹیا نے پکانا شروع کیا ہے میں نے اپنی بھوک سے ذیادہ کھانا شروع کر دیا ہے ۔۔۔۔”
“یہ تو ہے رضا ۔۔۔۔۔میں حیران ہوں بس ایک بار ہی مجھے دیکھ کر فورا سے سیکھ جاتی ہے ۔۔۔۔مجھے کبھی ماہم کو بار بار بتانا نہیں پڑتا ۔۔۔۔اور اب تو سارا گھر بھی میری بچی نے سنبھال رکھا ہے ۔۔۔۔مجھے کہاں کچھ کرنے دیتی ہے “صفیہ نے پیار سے ماہم کو دیکھ کر تعریف کی ۔۔۔یہ سب سن کر ماہم کا ڈھیروں من خون بڑھ جاتا تھا ۔۔۔۔کامران ماہم کی بنائی ہوئی ڈشز بس ذرا سی چکھتا اگر اسے پسند ہوتی تو کھا لیتا اگر اسکے معیار پر پوری نہیں اترتی تو وہیں چھوڑ دیتا لیکن اب اسکی برائی نہیں کرتا نا ہی تعریف ماہم کوایک موہوم سی خواہش ہوتی کہ کامران اسکی ان کھانوں کی تعریف تو کرے جو اسے پسند آ جاتے ہیں جسے وہ بار بار اپنی پلیٹ میں ڈال
کر مزے سے کھاتا ہے ۔۔۔۔ذیادہ نا سہی بس ایک رسمی سا جمعلہ ہی بول دے ۔۔۔۔مگر یہ ماہم کی خواہش ہی رہی ۔۔۔۔کامران کے سارے کام صفیہ بیگم اپنی نگرانی میں کرواتی تھیں ۔۔۔ماہم نے بچپن میں فائیو کلاس سے جو کامران کی ڈانٹ کھائی تھی دوبارہ اسکے کمرے کا رخ نہیں کیا تھا ۔۔۔۔ہاں عفان کے اور باقی سب کے کام اس نے اپنے ذمے لے رکھے تھے ۔۔۔مرد حضرات کے کپڑے ۔لانڈری سے دھل کر پریس ہو کر آتے تھے ۔۔۔۔ہاں کبھی کبھار عفان کی کوئی شرٹ ہوتی تو وہ کبھی ماہم سے کہہ دیتا یا خود کر لیتا تھا ۔۔۔۔ہسں کپڑوں کی سیٹنگ ماہم ہی کرتی تھی ۔۔۔۔کس پینٹ کے ساتھ کونسی شرٹ سوٹ کرے گی یہ سب ماہم سیٹ کر کے عفان کے وارڈ راپ میں رکھتی تھی ۔۔۔۔
********
پاپا ماہم سے بہت پیار کرتے تھے سب سے پہلے ڈائنگ پر بیٹھتے پاپا کا سب سے پہلا سوال یہی ہوتا کہ
“میری بٹیا نے کیا بنایا ہے سب سے پہلے تو میں وہی کھاؤ۔ گا ۔۔۔ “انکے اپنایت بھرے جمعلے ماہم کے جذبے کی پزیرائی کے لئے کافی ہوتے تھے ۔۔۔۔وہ بڑی خوشی خوشی اپنی بنائی ہوئی ڈش پاپا کی پلیٹ میں ڈالتی ۔۔۔۔اور جب تک پاپا ماہم کی تعریف بھرے جمعلوں سے نا نوازتے اسکی نظریں پاپا پر ہی جمی رہتیں باقی کی رہی سہی کسر میں اور مما پوری کر دیتے تھے ۔۔۔کامران نے کبھی ماہم کو سہرانے کی کوشش نہیں کی تھی وہ ماہم کی بنانی ہوئی ڈش بس ذرا سی چکھتا اگر اسے وہ اپنے معیار پر پوری لگتی تو کھا لیتا ورنہ مما کی بنائی ہوئی پر ہی اکتفا کرتا ۔۔۔۔کامران کی ایک عادت یہ بھی تھی کہ وہ کسی کی جوٹھی چیز نہیں کھاتا تھا ۔یہاں تک کہ کسی کی استعمال شدہ چیز بھی استعمال نہیں کرتا
تھا ۔۔اس کے برعکس مجھ میں ایسی کوئی عادت نہیں تھی ۔۔۔۔اگر ماہم یا کامران اپنی پلیٹ میں کھانا چھوڑ بھی دیتے اور مجھے بھوک ہوتی تو میں ان کا بچا ہوا بھی کھا لیتا تھا ۔۔۔۔۔۔ماہم کے لئے کالج کی پڑھال کچھ خاص مشکل نہیں اس لئے اب ذیادہ تر گھر کی ہر چیز ماہم کی توجہ کا مرکز تھی ۔۔۔۔۔وہ مما سے ہر وقت اسی قسم کی باتیں کرتی نظر آتی
“خالہ لاونج میں لوہے کے رکھے پرانے سے یہ واز کتنے اولڈ فیشن لگ رہے ہیں ۔۔۔اگر انکی جگہ شیشے کے کرسٹل واز ہوں تو کتنے پیارے لگیں گئے ۔۔۔۔اور یہ کرٹن یہ صوفوں سے بلکل میچ نہیں کرتے ۔۔۔ “ماہم کو جب بھی گھر میں کچھ بینکنگ کرنی ہوتی ۔۔وہ مما سے یونہی گھر کی چیزوں کا تذکرہ کرتی تھی
“ٹھیک ہے ماہم ہم جب مارکیٹ جائیں گئے ۔۔۔تم اپنی پسند کا سب لے لینا “۔۔۔۔ مما نے محبت سے اسکے گال چھو کر کہا
“سچی خالہ ۔۔۔۔ہم کب جائیں گئے مارکیٹ “۔۔۔۔وہ بے تاب سی ہو گئ ۔۔۔۔
“ماہم چلیں جائیں گئے ۔۔۔۔ بتاؤں کب جانا ہے ۔۔۔۔”
“ابھی خالہ ۔۔۔۔ابھی چلتے ہیں ۔۔۔۔ڈرائیور بھی فارغ ہے گاڑی بھی گھر پر ہے ۔۔۔۔میں بس دو منٹ میں تیار ہو کر آتی ہوں ۔۔۔۔۔” ماہم کو بس موقع چاہیے ہوتا تھا گھر کی سیٹنگ بدلنے کا
“اچھا جاؤں میں بھی ذرا چینج کر لوں” ۔۔۔مما کی بات سنتے ہی وہ ایک ساتھ دو دو سیڑیاں پھلانگتے ہوئے اوپر چلی گئ ۔۔۔میں صوفے پر لیٹا کرکٹ میچ دیکھ رہا تھا
مما جب اپنی چادر اوڑھ کر آئیں ۔۔۔۔۔تو مجھے خیال آیا کہ ماہم کو بھی اب باہر آتے جاتے چادر لینی چاہیے ۔۔۔۔وہ ڈوپٹہ بھی ایسے اوڑھتی تھی کہ احسان کر رہی ہو ۔۔۔۔اور اکثر آدھا ڈوپٹہ زمین کی صفائی کرتا نظر آتا تھا ۔۔۔۔وہ ایسی ہی بے نیاز تھی ۔۔۔۔۔میں صوفے پر نیم دراز تھا مما کو دیکھ کر بولا
“مما آپ مارکیٹ جا رہیں ہیں ۔۔۔تو ماہی کو بھی ایسی بڑی چادر لا کردیں کم از کم باہر آتے جاتے پہن کر جایا کرے ۔۔۔۔”
“ارے وہ کیوں۔۔۔۔ اتنی سی بچی ہے میری ۔۔۔۔۔۔ابھی سے اسے میں اتنی بڑی چادر میں لپیٹ دوں “۔۔۔۔۔مما حیرت سے بولیں
“مما آپکی اتنی سی بچی اب چھوٹی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔خیر سے آپ کی چھوٹی سی بچی بارویں جماعت کی طلبہ ہے ۔۔۔۔۔اور اسکے عمر کی لڑکیاں چادر ۔۔۔ڈوپٹہ اچھے طریقے سے اوڑھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔اور ماہی ۔۔۔یہ سیڑیاں صاف نظر آ رہیں ہیں آپکو ۔”۔میں نے سیڑیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
“۔۔۔۔ماہم کے جھولتے ہوئے ڈوپٹے کی بدولت ہی شفاف ہیں ۔”۔۔۔میری بات پر مما ہسنے لگیں ۔۔۔
“وقت کے ساتھ ہو جائے ٹھیک” ۔۔۔۔۔مما نے نے لا پروائی سے کہا ۔۔۔۔اور لاونج سے باہر لان کی طرف نکل گئیں ۔۔۔ماہم تیزی سے سیڑیاں پھلانگتے اتر رہی تھی اور ڈوپٹہ آدھا اگلے میں اور آدھا سیڑیوں میں ۔۔۔۔
“رکو ماہی ۔”۔۔۔میری آواز پر رک گئ میں صوفے سے اٹھا اور اسکے قریب آکر اسکے سراپے کو سرسےپیر تک سرسری انداز سے دیکھا ۔۔۔۔گھٹنوں سے ذرا لمبی کرتی اور ہلکا پھلکا میک اپ اور بالوں کی اوپر سے چند لٹوں پر چھوٹا سا کیچر لگائے باقی سارے بال کھولے وہ بازار جانے کے لئے تیار تھی
“یوں جاتے ہیں باہر مارکیٹ میں شاپنگ کرنے ۔۔۔”۔میرے یوں دیکھنے پر وہ خود کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔
“کیا بہت سادہ لگ رہی ہوں میں ۔۔۔۔۔ مجھے پہلے ہی لگ رہا تھا عفان کیا لپ اسٹک ڈراک کر لوں یا سوٹ کا کلر لائٹ ہے ۔۔۔۔”میں اسکی بات سن یہ سوچ رہا تھا کہ اپنا سر کہاں پھوڑوں
“نہیں ضرورت سے زیادہ تیار ہو ۔۔۔۔۔بال باندھو اپنے اور ڈوپٹہ کھول کر سر پر لینے کے لئے ہوتا ہے ۔۔۔۔صاف صفائی کرنے کے لئے نہیں” ۔۔۔۔میں نے ذرا سخت لہجے میں کہا میری بات ماہم نے کمر سے نیچے لٹکتے ہوئے ڈوپٹے کو دیکھا
“اوہو ۔۔۔۔پھر جلدی سے اپنا دوپٹہ گلے میں لیا کچر اتار کر پورے بال سمیٹ کر کیچر لگایا ۔۔۔۔ڈوپٹے کے ایک کونے سے لپ اسٹک کو ہلکا کیا اور ڈوپٹہ طریقے سے سر پر جما کر بڑی عجلت سے سب کچھ سر انجام دے کر مجھ سے پوچھنے لگی
“اب ٹھیک لگ رہی ہوں نا عفان “۔۔۔۔وہ اتنی جلدی ہر بات مان لیتی تھی ۔میرا غصہ پل میں ہی ختم ہو جاتا تھا ۔۔۔۔۔۔
“ہاں اب ٹھیک ہے” ۔۔۔۔۔میری بات پر وہ بڑے مطمئن انداز سے جلدی سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔۔۔میں دوبارہ ٹی وی پر لگے میچ کو دیکھنے لگا ۔۔۔مگر اب میری ساری دلچسپی ختم ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔میں غیر مرئی وجود پر نظریں جمائے ماہم کے بارے میں سوچنے لگا ۔۔۔۔۔۔اچھی تو وہ مجھے بچپن سے لگتی تھی مگر اب۔۔۔۔۔۔ میرے دیکھنے اور سوچنے کا نظریہ بدلنے لگا تھا ۔۔۔۔۔آج کل میں اسکے بارے میں الگ انداز سے سوچنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔اپنی آئندہ زندگی کا تصور کرتے ہی مجھے ہمیشہ اپنے ساتھ ماہم ہی نظر آتی تھی ۔۔۔۔اگر وہ
میری ہمسفر بن جائے تو زندگی کتنی خوبصورتی سے گزرے گی ۔۔۔۔۔۔ وہ آج کل کی لڑکیوں۔ سے بہت مختلف تھی ۔۔۔۔ بلا وجہ کی بحث نہیں کرتی تھی چالاکی اور عیاری سے بلکل پاک کسی معصوم بچے کی طرح تھی وہ۔۔۔۔۔تھوڑی سی بیوقوت تھی مگر مجھے اس کا ہر انداز ہی اچھا لگتا تھا ۔۔۔۔۔رات کو جب پاپا آئے لاونج کا نقشہ ہی بدلا ہوا تھا ۔۔۔۔ نٹ کے آف وائٹ کرٹن ۔۔۔۔نئے کرسٹل کے واز اور اس میں سجے وائٹ کلر کے فلاور ۔۔۔۔دیوار پر بہت خوبصورت سی پینٹنگ ۔۔۔۔جہاں یہ سب دیکھ کر پاپا خوش ہوئے وہیں کامران کا پارہ ہائی ہو گیا ۔۔۔۔میں سامنے صوفے پر بیٹھا تھا
“یہ سب کیا ہے مما “۔۔۔۔کامران نے بگڑتے ہوئے پوچھا۔۔۔لیکن مما کامران کو۔چہک کر بتانے لگیں
“دیکھا تم نے کامی ماہم نے کتنی پیاری سیٹنگ کر دی لاونج کتنا خوبصورت لگنے لگا ہے” ۔۔۔۔مما کی آنکھیں خوشی سے چمک رہیں تھیں
“تو یہ سب فضول خرچی ماہم نے کی ہے ۔”۔۔۔کامران صوفے پر ٹانگ پے ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ماہم مما کے ساتھ ہی بیٹھی تھی اب وہ ماہم کو غصے سے ماتھے پر تیوری چڑھائے بڑی رعونت سے ماہم دیکھنے لگا ماہم کی سہمی ہوئی نظریں بھی اسی پرتھی
“تمہارے خیال سے پیسہ درختوں پر اگتا ہے ۔۔۔جسے تم یوں اڑاتی پھرتی ہو ۔۔۔۔۔کیا ضرورت تھی ان بے فضول چیزوں کی۔۔۔۔ تمہاری ذمےداری کیا ہم پر کم ہے جو “۔۔۔۔۔کامران کے سخت لہجے پر وہ اور سہم سی گئ ۔۔۔۔خاموش سے نظریں جھکا کر بیٹھ گئ مگر کامران کی بات مجھ سمیت سب پر گراں گزری ۔۔۔ہم نے ماہم کو ہمیشہ گھر کافرد ہی سمجھا تھا ۔۔۔۔۔نا جانے کامران کے دماغ میں کیا تھا
“کامران یہ گھر ماہم کا بھی ہے ۔۔۔وہ بیٹی ہے میری گھر کوجیسے چاہے سجائے سنوارے تم روکنے والے کون ہو ۔۔۔۔ماہم تم پر بوجھ بلکل نہیں ہے آئندہ اس لہجے سے بات مت کرنا ماہم سے “۔۔۔۔پاپا نے کامران
کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اسے ڈانٹ دیا
“پاپا آپ سر چڑھا رہیں ہیں اسے”۔۔۔۔۔کامران درشتی سے بولا
۔۔۔”وہ تو شاید میں نے” تمہیں “چڑھا لیا ہے آج تک تم سے کبھی جواب طلبی کی ہے کہ تم مہینے میں کتنے پیسے اڑاتے ہو “۔۔۔۔ پاپا کی بات پر کامران چپ سا ہو گیا ۔۔۔
“سارا موڈ ہی آف کر کے رکھ دیا” ۔۔۔پاپا میرے پاس بیٹھے تھے مگر ماہم کو ٹپ ٹپ آنسوں بہاتےدیکھا تو غصے سے بڑبڑائے
ماہم بنا آواز کے صرف آنسوں بہا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مما بھی کامران کو کھا جانے والے انداز سے دیکھ رہیں مما ماہم کو بیٹی کی طرح ہی چاہتی تھیں ۔۔۔ کامران غصے سے اٹھ کر اوپر چلا گیا ۔۔۔۔۔مما بھی کامران کو بہت کچھ سنا سکتی تھی مگر جب پاپا ڈانٹ رہے ہوتے تو مما بیچ میں کبھی نہیں بولتی
تھیں ۔۔۔۔۔ پاپا ماہم کے پاس جا کر بیٹھ گئے ۔۔۔۔۔اس کا سر اپنے کندھے سے لگا کر اسے تسلی دینے لگے ۔۔۔۔۔
“بٹیا تم جب چاہوں جو چاہو اپنی مرضی سے بدل سکتی ہو ۔۔۔۔۔میں دیکھتا ہوں تمہیں روکتا کون ہے ۔۔۔۔۔سب کچھ بہت پیارا لگ رہا ہے ۔میری بیٹی کی چوائس لاجواب ہے ۔۔۔۔ “۔۔۔پاپا ماہم کو منانے کی کوشش کرنے لگے
“نہیں انکل مجھے اب کچھ نہیں لانا اور نا سجانا ہے “۔۔ ۔ وہ روتے ہوئے بولی
“کیوں بھئ ۔۔۔۔ابھی تو میرا کمرہ بھی تم ہی نے سجانا ہے تمہاری خالہ کی طرح کمرہ بھی اولڈ اولڈ سا لگنے لگا ہے اور میں جوان جہان ہینڈسم سا نوجوان اپنے کمرے میں۔ سب کچھ پرانہ تو برداشت نہیں کر سکتا ۔۔۔۔”پاپا ذرا تن کر سینہ چوڑا کر کے بولے ماہم ہوتے ہوئے مسکرانے لگی
“۔تمہاری خالہ بھی پرانی فرنیچر بھی پرانہ ۔”۔۔پاپا کی بات پر وہ اپنی ہنسی روک رہی تھی ۔۔۔۔۔پاپا کا ایسی باتوں کا مقصد بھی ماہم کو بہلانا تھا
“ایک مہینے کا ٹائم دے رہا ہوں تمہیں ۔۔۔ میری انیورسری پر مجھے کمرہ ٹپ ٹاپ چاہیے ۔۔۔۔۔ہاں تمہاری
خالہ” ۔۔۔۔۔پاپا مما کو غور سے دیکھنے لگے ۔۔۔۔مما کڑے تیوروں سے پاپا کو گھور رہیں تھیں اگر ماہم رو نا رہی ہوتی تو کرارا ساجواب مما ضرور دیتیں ۔۔۔۔
“اب کیا کرو اس اولڈ وومن کے ساتھ گزارا تو کرنا پڑے گا ۔”۔۔۔پاپا نے بظاہر ماہم سے بات کی مگر کن انکھیوں سے مما کو دیکھتے تھے ۔۔۔۔میں سامنے صوفے پر اپنے ماں بات کی اس نوک جھوک سے محفوظ ہو رہا تھا ۔۔۔۔
“کوئی نہیں رضا انکل۔۔۔ میری خالہ تو بہت گریس فل اور خوبصوت ہیں ۔۔۔۔اور جب ساڑھی پہنتی ہیں تو لگتا ہی نہیں ہے کہ دو جوان بیٹوں کی ماں ہیں ۔۔۔”۔ماہم نے دونوں بانہیں مما کے گلے میں ڈال کر کہا مما اب اتراتے ہوئے بولیں ۔۔۔
“ماہم ذرا دوبارہ سے بتانا اپنے انکل کو ۔۔۔۔تا کہ یہ سب باتیں ذہن نشین کر لیں” ۔۔۔۔ماہم ہسنے لگی۔۔۔۔۔۔
*************
دو سال میں کزن کو پٹانے کی ایک سوایک ترکیبیں ارسلہ اور فائزہ ماہم کو بتا چکیں تھیں مگر کامران پر مطلق بے اثر ہی تھیں ۔۔۔۔۔
ایک بار ماہم کو کالج پر واپسی میں عفان لینے آیا فائزہ سمجھی کہ وہ کامران ہے ۔۔عفان کو دیکھ کر ہی فائزہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں بلیک شرٹ اور بلیک گلاسز میں اسکی گوری رنگت اور نمایاں ہو رہی تھی ۔۔۔۔ کسرتی جسم ۔۔۔۔خوبصورت نین نقش میں وہ دور سے اٹریکٹ کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔
“ہائے ماہم یہ ہے تمہارا کزن ۔۔۔۔سچی جتنا یہ نخرہ کرتا ہے اس کی شاندار شخصیت اسکی حقدار بھی ہے” ۔۔۔۔فائزہ عفان کو سہراتے ہوئے باقاعدہ ٹھنڈی آہیں بھرتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔۔۔۔
“نہیں یہ تو عفان ہے ۔۔۔۔”ماہم نے لا پروائی سے جواب دیا
“اچھا اچھا وہ جو تمہارا دوست ہے ۔۔۔۔۔تو اس پر ٹرائی کر لو ۔۔۔۔دیکھنے میں یہ کون سا کم ہے” ۔۔۔فائزہ کے مشورے پر ماہم ہسنے لگی
“فائزہ میں نے بتایا تو تھا ۔۔۔یہ چھوٹا ہے مجھ سے” اپنی گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے ماہم نے فائرہ کو یاد دہانی کروانے کی کوشش کی فائزہ نے ماہم کا ہاتھ پکڑ کر سے روک کر سر سے پیر تک جائزہ لیا ماہم
حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگی
“سچی سچی بتاوں ماہم ۔۔۔کتنی عمر ہے تمہاری اگر یہ ۔۔۔لہیم شہیم سا نوجوان جو ستائیس نہیں تو چھبیس سال کا تو ضرور لگتا ہے ۔۔۔۔جسے تم چھوٹا کہہ رہی ہو تو تم کہیں پینتیس چالیس کی تو نہیں ہو ۔۔۔۔”فائزہ کی پیشن گوئی پر ماہم ہسنے لگی
“بکو مت ۔۔۔۔اب اگر ماشااللہ سے اس کاڈھیل ڈول ‘اچھا ہے اور میں دیکھنے میں دبلی پتلی ہوں تو کیا نظر لگاؤں گی اسے “۔۔۔۔۔ماہم کو فائزہ کا یوں عفان کی صحت کو گننا برا سا لگا تھا ۔۔۔۔۔
“ماشااللہ ماشااللہ ۔۔۔۔میں کہاں نظر لگا رہی ہوں میں تو نظر ہٹا ہی نہیں پا رہی ۔کیسا خوبرو نوجوان ہے ۔۔۔دیکھو اگر یہ تمہیں پسند نہیں تو میرے لئے بات کر کے دیکھو ۔۔۔۔مجھ سے اگر یہ دو چار سال بھی چھوٹا ہوا تو بائے گاڈ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا ۔۔۔۔ہائے اسکے لئے تو میں اپنے مچھڑ کرن کو بھی چھوڑنے کو تیار ہوں ۔۔۔۔”
فائزہ کی بک بک ماہم کی گاڑی کے پاس جا کر ہی بند ہوئی تھی
ماہم نے فائزہ کو خدا حافظ کہا اور عفان کے ساتھ بیٹھ گئ ۔۔۔۔کافی دیر فائزہ کی باتوں پر غور کرتی رہی ۔۔۔۔پھر عفان کو غور سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔
ایک دو بار عفان کی نظر بھی ماہم سے ٹکرائی اسے یوں دیکھ کر مسکرا کر بولا
“کیا بات ۔۔۔اتنے غور سے کیادیکھ رہی ہو ۔۔۔۔اتنا ہی اچھا لگ رہا ہوں تمہیں تو تعریف کر دو میری۔۔۔۔ مجھے برا نہیں لگے گا “۔۔۔۔وہ شرارت سے بولا
“ہاں اچھے تو بہت لگ رہے ہو مگر مجھے نہیں وہ جو میری دوست ہے نا ۔۔۔اسے ۔۔۔۔میں تو غور کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اسے تم میں اچھا کیا لگ رہا تھا ۔”۔۔۔ماہم کے جواب پر وہ ہسنے لگا
“محترمہ شہر کی آدھی سے زیادہ لڑکیاں مرتی ہیں مجھ پر ۔”۔۔۔عفان نے اتراتے ہوئے اپنا ایک ابرو چڑھا کر کہا ماہم نے دونوں آبرو چڑھا کر اسے دیکھا
“واقعی ۔۔۔۔۔جبھی۔۔۔۔جبھی تو میں کہو آئے دن لڑکیوں کی شرع اموات میں اضافہ کیوں ہوتا جا رہا ہے ۔۔۔۔اچھا ہوا تم نے بتا دیا “۔۔۔۔۔۔ماہم نے مصنوعی حیرت پر عفان کا بے ساختہ قہقہ پوری گاڑی میں گونجا تھا ۔۔۔۔
ساری دنیا کی محبت کو کنارہ کر کے
ہم نے رکھا ہے خود کو تمہارا کر کے
عفان کے شعر پر ماہم نے برجستہ اسے گھور کر دیکھا ۔۔۔۔
“کیا مطلب اس شعر کا”
“کوئی مطلب نہیں ہے تمہارے آنے سے پہلے ایف ایم سن رہا تھا یہ شعر سنا تو تمہیں سنا دیا ۔۔ورنہ مجھے کہاں شاعری سے دلچسپی ہے “۔۔۔۔وہ بے نیازی دیکھا گیا تھا
“یہ سب چھوڑو عفان تمہیں کسی لگی میری دوست” ۔۔۔۔ماہم اصل موضوع پر آ گئ
“سچ بتاؤں” ۔۔۔عفان نے بڑی سنجیدگی سے ماہم کی طرف دیکھا
“ہاں بلکل سچ”
“ایک دم بکواس” ۔۔۔۔عفان منہ بگاڑ کر بولا
“کیوں اتنی تو اچھی ہے فائزہ ‘”
“اچھی ہے “۔۔۔۔عفان نے استفہامیہ نظر ماہم پر ڈالی
“ہاں بہت اچھی ہے” ۔۔۔ماہم پورے تیقن سے بولی
“۔۔۔تو کامران بھائی کی شادی کروا دو اس سے ۔۔۔۔تا کہ میرا راستہ بھی صاف ہو ۔۔۔۔”
“نہیں کامی کو تو ہر چیز پرفیکٹ پسند ہے اور فائزہ کی ناک موٹی ہے کچھ پھینی پھینی سی باقی تو وہ بہت پیاری ہے” ۔۔۔۔ماہم کو فائزہ کہاں کامران کے لئے اچھی لگ سکتی تھی ۔۔۔جبکے وہ خود کامران کے خواب دیکھنے لگی تھی ۔۔۔
“ہاں تو میں ہی ملا ہوں تمہیں قربانی کا بکرا بنانے کے لئے ۔۔۔چپ چاپ بیٹھی رہو ۔۔۔۔مجھے جب شادی کرنی ہو گئ تو لڑکی بھی خود پسند کر لوں گا ۔۔۔۔۔۔”
“ہاں چاہے وہ بھنگی اور نک چڑھی کالی اور موٹی ناک والی ہی کیوں نا ہو ۔۔۔۔ اپنی پسند تو اچھی لگے گی تمہیں” ۔۔۔وہ منہ بسور کر بولی
عفان نے غور سے ماہم کی طرف دیکھا
“نہیں ماہی آنکھیں تو بلکل ٹھیک ٹھاک ہیں اسکی ۔۔رنگت بھی بہت پیاری ہے ۔۔۔۔۔اور ناک بھی بہت پتلی اور تیکھی ہے بلکل ایسی ۔۔۔عفان نے ماہم کے ناک کو انگلی سے چھوتے ہوئے کہا
“یعنی کہ کوئی ہے۔۔۔۔ مجھے پہلے ہی شک تھا تم پر ۔۔۔بتاوں کون ہے ۔۔”۔ماہم اپنا پورارخ عفان کی طرف موڈ کر بیٹھ گئ
“ہاں ہے مگر ابھی نہیں بتاؤں گا ۔۔۔وقت آنے پر سب سے پہلے تمہیں ہی بتاؤں گا پرومس “عفان نے پر اعتمادی سے کہا
“ہاں مجھے بھی تمہاری چوائس دیکھنی ہے ۔۔۔اور دیکھ لینا عفان کے بچے جب میں تمہارا رشتہ اسکے گھر لیکر جاؤں گی سو سو نقص نکال کر آؤں گی اس میں” ۔۔۔۔عفان کی مسکراہٹ اور گہری ہوگئ
“سچ میں ۔۔۔۔وعدہ کرو مجھ سے کہ تم پورے سو نقص نکالوں گی اس میں” ۔۔۔۔عفان نے اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھایا ماہم نے بلا تامل وعدہ کر لیا
“ہاں بیفکر رہو تم کیا سمجھتے ہو میں چپ رہوں گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے روز ماہم اپنی گاڑی سے کالج کے باہر اتری اسی وقت ارسلہ بھی اپنی گاڑی سے اتر رہی تھی اسکے ساتھ ایک نوجوان لڑکا بھی تھا ارسلہ ماہم کے پاس آ گئ ماہم کو پیچھے سے پکارتے ہوئے تیز قدموں سے ماہم کے قریب پہنچی
“رکو تو ماہم کہاں بھاگی جا رہی ہو ۔۔ارسلہ نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام لیا ماہم کالج کا گیٹ عبور کرنے ہی والی تھی ۔۔۔وہ لڑکا بھی گاڑی سے اتر کر ارسلہ کے برابر میں کھڑا ہو گیا اس لئے ارسلہ کو بھی ماہم سے اس لڑکے کا تعارف کروانا پڑا
“ماہم ان سے ملو یہ میرے بھائی ہیں ۔۔۔۔حسن ۔۔۔۔اور حسن یہ میری بہت اچھی فرینڈ ہے ماہم ۔۔۔۔”
“ہیلو” ۔۔۔۔اس لڑکے کا انداز بے تکلف سا تھا اس نے سرسے پیر تک ماہم کو بغور دیکھا تھا ماہم کو وہ پہلی نظر میں۔ اچھا نہیں لگا ۔۔۔۔
“ہائے “۔۔۔ماہم نے جھجکتے ہوئے کہا
“ارسلہ بہت تعریف کرتی ہے آپکی” ۔۔۔۔وہ لڑکا ماہم سے بات کرنے کے موڈ میں تھا ۔۔۔۔۔۔ارسلہ نے حیرت سے اپنے بھائی کی طرف دیکھا مگر بولی کچھ نہیں ۔۔۔۔
“ارسلہ چلو نا کچھ ہی دیر میں کلاس شروع ہو جائے گی ۔۔۔ماہم نے حسن کو نظر انداز کر کے ارسلہ کا ہاتھ پکڑ کر کالج کا گیٹ عبور کر لیا ۔۔۔۔باقی کا دن پڑھائی میں گزرا یا پھر کامران کو لائن پر لانے کے مشوروں میں ۔۔۔لیکن آگلے روز جب حسن دوبارہ ارسلہ کو کالج چھوڑنے کے لئے گیا تو پورے راستے ماہم کے متعلق ہی پوچھتا رہا ۔۔۔۔ارسلہ نے پہلے دو چار سوالوں کا جواب تو سرسری طور پر دیدیا مگر جب ان کے درمیان ماہم کا موضوع طول پکڑنے لگا تو ارسلہ نے پوچھ ہی لیا
“کیا بات ہے حسن بھائی ۔۔۔۔جب سے آپ بیٹھے ہیں ماہم کے بارے میں ہی پوچھ رہے ہیں ۔۔۔۔”
“اچھی لڑکی ہے۔۔۔۔عام لڑکیوں سے مختلف سی ورنہ لڑکیاں لڑکوں سے فری ہونے کے موقعے ڈھونڈتی ہیں ۔۔۔”
“آپ کو پسند ہے “
“کہاں تو ہے اچھی لڑکی ہے ۔۔۔۔تم ایسا کرو ارسلہ اس لڑکی سے اپنی دوستی بڑھاؤ کبھی گھر لیکر آؤں اسے موم سے ملاقات کرواں ۔۔۔اور ہو سکے تو ایک آدھی ملاقات مجھ سے بھی “۔۔۔۔حسن کی فرمائش پر ارسلہ ہسنے لگی
“ہاں یہ کون سا مشکل ہے ۔۔۔اس معاملے میں وہ ویسے بھی بہت احمق ہے ۔۔۔۔۔۔۔اسے پٹانا کون سا مشکل ہے “۔۔۔۔اسکے بعد ارسلہ نے ماہم کو کامران سے بدذہن کرنا شروع کر دیا فائزہ اس دن چھٹی پر تھی وہ دونوں کالج کے پارک میں آ کر کر بیٹھ گئیں ۔۔۔۔ان کا پیریڈ فری تھا اس لئے موقع دیکھ کر ارسلہ نے ہی موضوع شروع کیا
“ماہم تمہارا یہ کزن مجھے ویسے بد دماغ اور کھڑوس لگتا ہے دفع کرو اسے”
“ایسے تو مت کہو ارسلہ کامی اچھے ہیں پھر ۔۔۔پچھلے دو سال سے ان کو متاثر کرنے کے چکر میں ان سے محبت کرنے لگی ہوں ۔۔۔۔۔۔ان کے سامنے خود کو کتنا بے بس پاتی ہوں تمہیں شاید اندازہ نہیں ہے ۔۔۔۔”ماہم کچھ روہانسی سی ہو گئ
“ایسا کچھ نہیں ہے ماہم یہ سب وقتی جذبہ ہوتا ہے ۔۔۔
۔سوچو ذرا اگر اس نے تمہیں صاف انکار کر دیا یا سب کے سامنے تمہاری محبت کا مزاق بنا دیا تو ۔۔۔۔ “ارسلہ نے ایک نئ بات ماہم کے سامنے رکھ دی ماہم کچھ دیر ارسلہ کی بات پر غور کرنے لگی
“یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں ۔۔۔۔ارسلہ تم بتاؤں اب میں کیا کرو ۔۔۔۔کیسے یقین آئے گا کامی کو “ماہم واقع پریشان سی لگ رہی تھی
“تم چھوڑو اپنے کزن کو پتہ ہے میں نے ایک نیا ناول پڑھا تھا اس میں ہیروئن کا کزن جس سے وہ محبت کرتی تھی وہی ولن نکلا تھا اور ہیرو پتہ کون تھا ہیروئن کی دوست کا بھائی ۔۔۔۔۔”ارسلہ اسے کہانیوں کے ذریعے پھر سے بیوقوف بنانے لگی تھی
“تمہارے نزدیک زندگی ایک ناول کی کہانی ہے ارسلہ ۔۔۔۔جس کا جو رخ پسند نا آئے اسے مٹا کر کہانی کو اپنے پسند کے پہلو میں ڈھال دیا جائے ۔۔۔۔نہیں زندگی جیتی جاگتی حقیقت ہے خواب اپنی مرضی کے دیکھے جا سکتے ہیں زندگیوں کو اپنی مرضی سے نہیں جیا جا سکتا”
“ماہم میرا مطلب “
“تمہارا جو بھی مطلب ہے ۔۔۔۔مجھے نہیں بننا تمہاری کسی کہانی کا حصہ ۔۔۔۔۔ٹھیک ہے اگر کامران مجھے پسند نہیں کرتے تو میری دنیا ان پر ختم نہیں ہو جاتی ۔۔۔۔۔۔ میں زبردستی انکی زندگی میں شامل بھی نہیں ہونا چاہتی ۔۔۔۔مجھے اب تم سے کوئی نئی کہانی نہیں سننی ۔۔۔بس خالہ اور انکل جسے میرے لئے ٹھیک سے سمجھیں گئے مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہو گا “
“یہ تو اچھی بات ہے “۔۔۔۔۔ارسلہ جیسے مطمئن سی ہو گئ تھی کہ اسکے بھائی کا راستہ صاف ہو گیا ہے ۔۔۔ مگر ماہم ضرور اداس تھی ۔۔۔۔ااسوقت کو کوس رہی تھی جب ان دونوں کی باتوں میں آ کر کامران کے بارے میں سوچنے لگی تھی ۔۔۔۔کامران کا معیار تو اس کے قد سے بھی کئی گنا اونچا تھا ۔۔۔۔برینڈ کے علاؤہ وہ کسی چیز کو ہاتھ تک نہیں لگاتا تھا تھا ۔۔۔۔کسی کھانے میں ذرا سی کمی پسند نہیں تھی اسے ۔۔۔۔ وہ مجھ جیسی عام سی لڑکی کو کیوں پسند کرے گا
اسے تو کوئی بے حد خوبصورت لڑکی ہی اٹرکٹ کرے گی ۔۔۔ورنہ ان دو سالوں میں اس میں کچھ تو بدلاؤ آتا ۔۔۔۔ماہم آفسرگی سے سوچنے لگی ۔۔۔۔۔چند دن بعد ہی کالج سے واپسی پر تیز بارش نے اس کے اوسان خطا کر ڈالے چھٹی پر ڈرائیور بھی نہیں پہنچا تھا ۔۔۔۔۔فائزہ اپنے کزن کی شادی کے سلسلے میں لاہور گئ تھی ماہم بارش کی وجہ سے گھبرا کر رہ گئ تھی۔۔۔صبح جلدی نکلنے کے چکر میں موبائل بھی گھر چھوڑ آئی تھی
ارسلہ کابھائی ارسلہ کو لینے آیا تو ماہم مزید پریشان سی ہو گی
“ارسلہ پلیز تم کچھ دیر رک جاؤں کالج ویسے بھی خالی ہو چکا ہے جب میرا ڈرائیور آجائے گا تم پھر چکی جانا “۔۔۔۔۔اتنی دیر میں حسن بھی کالج کے مین گیٹ تک پہنچ گیا
“چلو بھئ ارسلہ دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔بارش کی وجہ سے کئ راستے بند ہو جائیں گئے ۔۔۔۔”
“بھائی وہ ماہم کا ڈرائیور نہیں آیا ابھی تک ۔۔۔۔”
“تو کوئی بات نہیں میں ڈراپ کر دیتا ہوں ۔۔۔۔”حسن نے فورا ہی آفر کر دی
“نہیں نہیں ۔۔۔۔اسکی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔وہ ضرور آئے گا ۔”۔۔۔ماہم نے صاف منع کر دیا
“آپ کیوں پریشان ہو رہیں ہیں۔۔۔۔میں چھوڑ دونگا آپ کو ۔۔۔بارش جس حساب سے ہو رہی ہے اگر وہ کہیں ٹریفک میں پھنس چکا ہوا تو ایک ڈیر گھنٹے سے پہلے نہیں آ پائے گا” ۔۔۔۔حسن کی بات پر تو ماہم کی جان نکلنے لگی تھی بارش اس قدر تیز تھی کہ وہ ایک گھنٹہ کالج میں ویٹ نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔پھر بادلوں کی گھن گرج سے اسکی روح تک کانپ جاتی تھی
“آپ پلیز میرے ڈرائیور کا نمبر ملا دیں ۔۔۔میرا سل فون گھر پر رہ گیا ہے میں اس سے پوچھ لیتی ہوں وہ کب تک آئے گا” ۔۔۔۔ماہم کو یوں ارسلہ کے ساتھ جانا مناسب نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔حسن نے ماہم سے ڈرائیور کا نمبر تو پوچھا نمبر بھی پریس کیے مگر
سے کال نہیں کی وہ ویسے بھی ماہم سے بات کرنے کا بہانا تلاش کر رہا تھا ارسلہ بھی حسن کے کہنے پر ماہم سے اپنے گھر آنے کا کہہ چکی تھی مگر ماہم نہیں مان رہی تھی ۔۔۔۔اور آج تو حسن کو لگا کہ قدرت بھی اس پر مہربان ہو چکی ہے ۔۔۔پھر یہ موقع کیوں ضائع کرے ۔۔۔۔۔
فون کان پر لگائے ۔۔۔۔وہ بار بار یہی کہتا رہا کہ نیٹ روک نہیں مل رہا فون آف ہے ۔۔۔ارسلہ کا اصرار بڑھنے لگا تو ماہم بھی مجبورا گاڑی میں بیٹھ گئ ارسلہ بھی ماہم کے ساتھ گاڑی کے پیچھے بیٹھ گئ ۔۔۔۔
“کیوں اتنی پریشان ہو ۔۔۔۔ریلیکس ماہم ۔”۔۔۔۔ارسلہ نے اسے تسلی دی ۔۔۔۔بارش کی وجہ سے سڑکوں پر پانی بھرنے لگا تھا پھر لگتا تھا کہ پورا شہر ہی روڈ پر آ چکا ہو ۔۔۔۔حسن گاڑی مین روڈ کے بجائے گلیوں سے نکالنے لگا ۔۔۔ماہم کو ویسے بھی راستوں کا اتنا اندازہ نہیں تھا پھر جس طرح سے وہ دائیں بائیں گلیوں سے گاڑی نکال رہا تھا وہ بلکل سمجھ نہیں پا رہی
تھی کہ وہ کس جانب جا رہا ہے کچھ ہی دیر میں گاڑی ایک گھر کے پاس جا کر رک گئ ۔۔۔
“چلو بھئ میرا گھر تو آگیا ۔۔۔۔ماہم میں تو کہتی ہوں تم میرے گھر ہی رک جاؤں بارش کچھ تھم جائے تو چلی جانا ۔۔”۔۔۔ارسلہ نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے بے نیازی سے کہا ماہم بری طرح سٹپٹا گئ
“ارسلہ خالہ پریشان ہو جائیں گی پلیز مجھے کہیں نہیں رکنا ۔۔۔۔”
“او کے آل رائیٹ ارسلہ اگر وہ نہیں۔ رکنا چاہتی تو کوئی بات نہیں ۔۔۔۔تم اندر جاؤں میں انہیں ڈراپ کر دیتا ہوں” ۔۔۔۔حسن فورا سے بول پڑا
“نہیں ارسلہ تم میرے ساتھ چلو ۔۔۔۔یوں اکیلے ۔۔۔۔” ماہم کی باقی بات اس کے حلق میں ہی رہ گئ ۔۔۔ماہم کو ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ ارسلہ اسے گھر تک چھوڑنے نہیں جائے گی تو وہ کبھی اسکے ساتھ نا آتی ۔۔۔اب بری طرح پچھتا رہی تھی
“کیا ہو گیا ہے تمہیں ماہم حسن بھائی ہیں میرے ۔۔۔۔ایک تو تمہاری خاطر اتنی دور تمہیں چھوڑنے جا
رہیں ہیں ۔۔۔اور تم ہو کہ ۔۔۔”۔ارسلہ ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے نیچے اتر گئ ۔۔۔۔حسن نے گاڑی آگے بڑھا دی مگر ابھی تک ماہم سے اسکے گھر کا ایڈریس نہیں پوچھا تھا ۔۔۔۔مسہم دیر تو اسی انتظار میں۔ رہی کہ حسن اس سے گھر کا پوچھے گا مگر حسن کی خاموشی پھر فرنٹ شیشے سے ماہم کو دیکھنا ۔۔۔ماہم کو پزل کر دیا تھا
“جی وہ ۔۔۔۔ڈیفنس ۔۔۔۔۔۔ڈیفنش فیز ایٹ کی طرف لے لیں “۔۔۔ماہم نے خود ہی ہمت پکڑ کے حسن کو ایڈریس بتایا اور اپنے ماتھے پر آنے والے پسینے کو صاف کرنے لگی ۔۔۔۔
“جی میں پوچھنے ہی والا تھا “۔۔۔۔حسن نے پلٹ کر پیچھے ماہم کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔۔پھر دوبارہ گاڑی چلانے لگا کچھ دور جا کر حسن نے گاڑی روک لی ۔۔۔حالانکہ وہاں نا تو گاڑیوں کا رش تھا ۔۔۔نا ہی گلی پانی سے بھری ہوئی تھی کہ گاڑی چل نا سکتی ہو
اس سے پہلے کہ ماہم اس سے گاڑی روکنے کی وجہ پوچھتی وہ خود ہی پیچھے پلٹ کر ماہم کو دیکھ کر بولا
“ماہم پلیز آگے آ کر بیٹھ جاؤں ۔”۔۔ جتنی جلدی وہ سارے لحاظ پار چکا تھا ماہم ششدد سی رہ گئ وہ ماہم سے یوں بات کر رہا تھا جیسے برسوں کی شناسائی ہو ۔۔۔
“نہیں میں یہاں کنفرٹیبل فیل کر رہی ہوں” ۔۔۔۔ماہم نے اپنا دوپٹہ درست کرتے ہوئے کہا بارش سے پورا یونیفارم اس کا بھیگ چکا تھا ۔۔۔۔ڈوپٹہ وہ ویسے بڑے بے نیازی سے لیتی تھی مگر حسن کی نظروں میں ایسا کچھ تھا کہ سب سے پہلے ماہم کو ڈوپٹے کا ہی خیال آیا ۔۔۔۔
“لیکن میں کنفرٹیبل فیل نہیں کر رہا ۔۔بار بار تمہیں دیکھنے کے لئے پیچھے پلٹنا پڑتا ہے” ۔۔۔۔وہ ہنستے ہوئے بے تکلف انداز سے بولا ۔۔۔ماہم مزید گھبرا کر رہ گئ حسن کی بے تکلفی اسے ایک آنکھ نہیں بھائی تھی
“آپ پلیز گاڑی چلائیں اور مجھے کالج ڈراپ کر دیں میں وہاں سے خود گھر چلی جاؤں گئ” ۔۔۔۔ماہم کو ارسلہ کے ساتھ آنے پر غصہ آنے لگا کاش وہ کالج سے باہر ہی نا نکلتی ڈرائیور دیر سے ہی آتا مگر آتا ضرور ۔۔۔۔
“آگے آکر بیٹھو ماہم ۔”۔۔حسن کے سخت لہجے پر ماہم نے دروازہ کھولا اور فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
حسن نے دوبارہ سے گاڑی اسٹاٹ کی اور مین روڈ پر لے آیا ۔۔۔۔
بارش کا زور اب کافی کم ہوچکا تھا مگر سڑکوں پر رش کا وہی عالم تھا
“مجھے تمہارا سل نمبر چاہیے ۔۔۔۔ویسے تو میں ارسلہ سے بھی مانگتا تووہ منع نہیں کرتی مگر میں تمہارے اور اپنے بیچ کسی تیسرے کو شامل نہیں کرنا چاہتا” ۔۔۔۔ماہم کو حسن کے ساتھ ساتھ ارسلہ پر بھی غصہ ا رہا تھا ۔۔۔کس قسم کی لڑکی سمجھ رکھا تھا ارسلہ نے مجھے
“دیکھیے مسٹر مجھے اس قسم کی باتیں بلکل پسند نہیں ۔۔۔۔”
“اوہ رئیلی” ۔۔۔۔پھر حسن کھلا کر معنی خیز ہنسی ہسنے لگا
“اسی لئے تم اپنے کزن کو ایمپریس کرنے طریقے اپنی دوستوں سے پوچھتی ہو ۔۔۔۔بےفکر رہوں میرے معاملے میں تمہیں ایسا کچھ نہیں کرنا پڑے گا میں تو آلریڈی تم سے متاثر ہوں “۔۔۔۔۔۔ماہم کو لگاوہ شرمندگی کے مارے وہیں مر جائے گی ارسلہ ایسی حرکت بھی کر سکتی ہے ۔۔۔دوستوں میں ہونے والی باتیں وہ اپنے بھائی سے ڈسکس کرتی تھی ۔۔۔۔۔
ماہم نے اپنا چہرہ گاڑی کی دوسری جانب پھیر لیا ۔۔۔۔
“اتنے نخرے مت دیکھاوں مجھے ۔۔۔۔کیونکہ تمہارے بارے میں میں سب کچھ جان چکا ہوں” ۔۔۔۔ماہم سے اپنی ہزمیت برداشت نہیں ہو پا رہی تھی مجبوری یہ تھی کہ جہاں وہ موجود تھی اسے بلکل اندازہ نہیں تھا کہ گھر کیسے پہنچے گی اور آسمان پرچھائے
کالےبادل مزید بارش کی پیشن گوئی کر رہے تھے ۔۔۔۔
اب ماہم کو بڑی زور کا رونا آنے لگا ۔۔۔۔۔وہ سسکیاں لیکر کر رونے لگی ۔۔۔۔اسکے اس طرح سے رونے پر حسن بھی بوکھلا سا گیا ۔۔۔۔
“مجھے گھر چھوڑ دیں پلیز ۔۔۔ورنہ میں یہیں اتر جاؤں گی ۔۔۔۔’
“ارے نہیں نہیں ۔۔۔۔میں تمہیں گھر ہی چھوڑنے جا رہا ہوں رونا تو بند کرو اپنا ۔۔”۔۔حسن کو اپنا لہجہ اور انداز بدلنا پڑا سامنے پولیس کے اہلکار اور ٹریفک سارجنٹ جگہ جگہ کھڑے ٹریفک سے پریشان حال لوگوں کے لئے راستوں کو ہموار کر رہے تھے حسن کچھ گھبرا سا گیا اگر وہ لڑکی کسی پولیس والے کے پاس چلی گئ تو لینے کے دینے پڑ جائیں گئے ۔۔۔۔ماہم کافی دیر سے ضبط کیے ہوئے تھی اب بتدریج روئے جا رہی تھی
“تم چپ نہیں ہو سکتی کیا ۔۔۔۔۔ٹھیک ہے مت دو اپنا نمبر مگر خدارا چپ ہو جاؤں کسی نے تمہیں یوں روتے دیکھ لیا تو “۔۔۔حسن اب صحیح معنوں میں پزل سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔مگر ماہم سے کہاں آنسوں رکتے تھے۔۔۔حسن کو روڈ کھلنے کا انتظار تھا کہ کب کھلے اور کب وہ ماہم کو اسکے گھر پہنچا کر اپنی جان خلاصی پائے ۔۔۔۔جیسے ہی سارجنٹ نے گاڑیوں کو جانے ک اشارہ کیا حسن نے شکر کا سانس لیا ۔۔۔مگر ایک گاڑی اسے اور ٹیک کرنے لگی گلی کا موڈ مڑتے ہی وہ گاڑی اس کی گاڑی آگے کھڑی ہو گئ
