Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 57 (Part 1)
Rate this Novel
Tadbeer Episode 57 (Part 1)
Tadbeer by Umme Hani
صبح اٹھتے مہک نے کپڑے چینج کرنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔۔۔وہی کھلے سے پانچے والا ٹاوزر اور ود آوٹ سلیوز کی ڈھیلی ڈھالی شرٹ کے ساتھ وہ ڈائنگ ٹیبل پر میرے برابر بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔عفان اور ماہم نظریں جھکائے بیٹھے رہے ۔۔۔۔۔مما بھی ناگوری سے مہک کو دیکھ کر اپنا ناشتہ کرنے لگیں ۔۔۔۔میرابلکل دل نہیں تھا کہ کچھ بھی لو اس لئے صرف چائے پینے لگا ۔۔۔۔پاپا نے ہی مہک سے بات شروع کی ۔۔۔۔۔اور اسے گھر کے کچھ اصول بتانے لگے ۔۔۔۔۔۔۔مہک نے کسی بات پر کوئی اختلاف نہیں کیا ۔۔۔۔۔مہک کے جاتے ہی پاپا مجھ پر شروع ہو گئے ۔۔۔۔۔ میں نے ذرا مہک کو سمجھانے کی ہامی نہیں بھری ۔۔۔۔اور اٹھ کر چلا گیا رات کو ولیمے کی تقریب تھی ۔۔۔۔وہ بھی ایسے ہی خاموشی سے گزر گئ ۔۔۔۔۔کمرے میں آتے ہی اس بار میں نے مہک سے خود بات شروع کی
“مہک جو ہو چکا ہے ۔۔۔۔بہتر ہے کے تم اسے بھول جاؤں ۔۔۔۔اب جب ہمیں رہنا ہی ساتھ ہے تو کیافائدہ یوں لڑنے کا ۔۔۔۔آخر جو تمہیں چاہیے تھا وہ تو تم نے پا ہی لیا ہے ۔۔۔میں نے سب کے سامنے تمہیں اپنایا ہے
“ہاں مگر اس میں تمہارا کوئی کمال نہیں ہے کامران رضا ۔۔۔۔آج اگر میں دنیا کے سامنے سر اٹھا کر کھڑی ہوں تو وہ عفان اور تمہارے پاپا کاظرف ہے ۔۔۔۔ تمہارا اصل چہرہ میں دیکھ چکی ہوں ۔۔۔۔۔تمہاری جھوٹی محبت بھی برتنے کے ساتھ ساتھ پرکھ چکی ہوں ۔۔۔۔۔مجھے بس اب تمہاری فیملی کو اپنانا ہے جنہوں نے مجھے رسوائی سے بچا کر عزت سے اپنایا ہے ۔۔۔۔۔٫”مہک کی بات پر میں تمسخرانہ سے ہنسی ہسنے لگا
“مہک ۔۔۔۔میری جان ۔۔۔مت بھولو ۔۔۔۔۔۔تمہیں اپنانا مجھ سمیت سب کی مجبوری تھی ۔۔۔۔۔۔اور یہ بھی تمہاری خام خیالی ہے مما تمہیں کبھی ماہم کے برابر درجہ دیں گی ۔۔۔۔۔۔میرے بغیر تم اب بھی کچھ نہیں ہو “یہ کہہ کر میں چینج کرنے چلا گیا مہک بلکل خاموش سی مجھے دیکھنے لگی ۔۔۔۔دوسرے دن صبح مہک نے مجھے شاپنگ کے لئے کہا کیونکہ سب کچھ اتنی جلدی ہوا تھا اور مما ویسے ہی مجھ سے خفا تھیں اس لئے مہک کے لئے کچھ بھی نہیں خریدا تھا ۔۔۔۔اور شاید مہک کی والدہ بھی اس رشتے پر خائف تھیں جبھی مہک کو صرف شادی کے ایک جوڑے میں ہی رخصت کیا ۔۔۔۔۔۔اور رسم ورواج کے مطابق صبح کا ناشتہ بھی وہاں سے نہیں آیا تھا ۔۔۔۔۔ولیمےپر بھی مہک کے طرف سے صرف قاسم کی فیملی ہی آئی تھی ۔۔۔۔اوراسکی والدہ کا رویہ بھی لیا دیا تھا وہ مہک سے ٹھیک سے بات نہیں کر رہیں تھیں ۔۔۔۔صبح مہک نے مجھ سے اپنے کچھ ڈرسز لانے کے لئے کہا
“کامران مجھے نہیں معلوم تھا کہ تمہارے پاپا کو ایسے ڈرسز پسند نہیں ہے اور میرے پاس ایسے ہی سب ہیں ۔۔۔۔”
میں اپنے بال بنا رہا تھا میں نے شاکی نظروں سے مہک کو دیکھا
“یہ میرا مسلہ نہیں ہے ۔۔۔۔”میں یہ کہہ کر ہیر برش ڈرسنگ پر پٹخا باہر چلا گیا مہک ایک بڑی سی شال میں خود کو لپیٹے ڈائنگ پر آ کر بیٹھ گئی آج ناشتہ مجھے مہک ہی سرف کروارہی تھی ۔۔۔۔اس معاملے میں وہ کتنی اناڑی تھی مجھے دیکھتے ہی اندازہ ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔چائے تک ٹھیک سے نہیں بنا پا رہی تھی ۔۔۔۔۔ٹوس پر جیم رکھ کر نائف سے بس آڑی ٹہری طرف گھما رہی تھی مجھے اپنے کاموں میں جتنی نفاست اور پرفیکشن پسند تھی ۔۔۔۔اتنی ہی وہ بے ترتیبی سے کام کر رہی تھی پھر کبھی اسکے بالوں کی لٹیں چہرے پر جھولنے لگتیں کبھی شال شانوں سے کھسکنے لگتی کبھی وہ نائف ہاتھ میں لیے اپنے بالوں کو کان کے پیچھے ٹکانے کی کوشش کرنے لگتی کبھی شال کو دوبارہ سے اوڑھنے لگتی اسے دیکھ کر نا جانے میں کیوں جھنجلاہٹ کاشکار ہونے لگا تھا ۔۔۔۔لگتا تھا آج پہلی بار وہ توس پر جیم خود لگارہی ہے ۔۔۔۔۔۔سامنے ماہم کی سلیقے سے ہر چیز عفان کو دیتے ہوئے دیکھ کر میرے اندر کی جلن بڑھنے لگی ۔۔۔۔۔ مجھے مہک کا پھوپڑ پن کھلنے لگا تھا۔۔۔۔پاپا کی نظر بھی مہک پر ہی تھی ۔۔۔۔وہ بڑی دلچسپی سے اسے یہ سب کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔مہک نے جب پاپا کی طرف دیکھا تو ۔۔۔۔خود ہی وضاحت دینے لگی ۔۔۔۔۔۔کہ وہ اپنے پاپا سے کیش لیکر اپنے ڈرسز لے آئے گی ۔۔۔۔مگر پاپا نے منع کر دیا ۔۔۔۔۔اپنے والٹ سے مہک کو ایک معقول رقم نکال کردی اور ساتھ ہی مجھے بھی کہہ دیا کہ میں اسے شاپنگ کروادوں ۔۔۔۔۔مہک نے سلائس میرے سامنے پیش کیا تو وہ نا جانے کتنے ٹکروں میں تبدیل ہو چکا تھا ۔۔۔۔میں نے اپنی گزشتہ زندگی میں کبھی اس قسم کا جیم توس نادیکھاتھا نا کھایاتھا۔۔۔چپ چاپ میں نے پلیٹ مہک کے ہاتھ سے لی اور اپنے سامنے رکھ کر یہ سوچنے لگا کہ اسے کھاؤں کیسے میں نے چائے کا کپ منہ پر لگایا تو اسقدر مٹھی اور بد مزہ تھی کہ ساری بھوک ہی غائب ہو گئ ۔۔۔۔بڑے ضبط سے میں نے مہک کی طرف دیکھا
“شوگر کتنی ڈالی ہے اس میں “
“شوگر۔۔۔۔ دو۔۔۔۔ نہیں شاید تین چمچ “وہ یاد کرتے ہوئے بولی وہ اس قدر نروس تھی شاید پہلی بار چائے بنائی تھی ۔۔۔۔۔
“میں چائے میں صرف ایک چمچ شوگر لیتا ہوں اور اتنی سٹرونگ بھی نہیں پیتا ۔۔۔۔”میں نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا اور چائے کا کپ اور سلائس کی پلیٹ پیچھے کھسکا دی مہک کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوں گرنے لگے ۔۔۔۔
“ایکچلی مجھے یہ سب نہیں آتا ۔۔۔ایم سوری کامران ٫”مہک نے آنسوں پونچتے ہوئے کہا
“کوئی بات مہک بٹیا دھیرے دھیرے آ جائے گا ۔۔۔۔۔کامران چلو کوئی بات نہیں آج ایسی ہی چائے پی لو “پاپا نے مہک کو تسلی دیکر مجھ سے کہا میں تو سن کر ہی تلملاسا گیا
“
“ناٹ آ ٹال پاپا ۔۔۔۔۔میں اس معاملے میں بلکل کامپرومائیز نہیں کر سکتا ۔۔۔۔نیور۔۔۔۔ مما پلیز اسے بتائیں کہ توس پر جیم کیسے لگائی جاتی ہے “میں اٹھنے کے لئے پر تول رہا مما کو ملتجی لہجے میں کہہ کر کھڑا ہو گیا
“یہ سب تمہاری اپنی چوائس ہے کامران ۔۔۔۔۔اور یہ سب کام اور سلیقہ بچیاں اپنے گھر سے سیکھ کر آتی ہیں ۔۔۔۔۔مجھےتو تم معاف ہی رکھوں “میرے اٹھنے سے پہلے مما بات مکمل کر کے اٹھ کر چلی گئیں میں بھی مہک کو گھور کر وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
“لاو بٹیا یہ مجھے دو میں کھالیا ہوں اتنا بھی برا نہیں ہے بس یہ چائے نہیں پی سکتا ورنہ شوگر ہائی ہوجائے۔
گی ۔۔۔۔پاپا کی آواز سے مجھے لگا کہ پاپا مہک کا دل رکھنے کی خاطر اب وہ عجیب سا جیم توس کھائیں گئے ۔۔۔۔ مگر میرے اندر شاید پاپا جیسا حوصلہ تھا ہی نہیں ۔۔۔۔کچھ دیر میں مہک اندر کمرے میں آ گئ۔۔۔۔مجھے مجبورا اسے شاپنگ پر لے جانا پڑا۔۔۔۔۔۔۔
مہک لا پروا سی تھی ۔۔۔۔اور شادی کے بعد سے مما نے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا تھا ۔۔۔۔۔۔صبح روز آفس جاتے ہوئے مجھے یہ پریشانی لاحق رہتی کہ کس شرٹ کے ساتھ کون سی ٹائی اچھی لگے گی ۔۔۔۔کبھی والٹ نہیں ملتا کبھی واچ نظر نہیں آتی اگر میں مہک سے پوچھ بھی لیتا تو وہ لاپروائی کا مظاہرہ کرتی ۔۔۔۔پیج وتاب کھاتا ہوا میں خود کو ہی ملامت کرنے لگتا ۔۔۔۔اسوقت کو پچھتاتا جب مہک سے دوستی کرنے کاارادہ کیا تھا ۔۔۔۔۔۔بس اب یہ ہوا تھا کہ چائے میں چینی ایک چمچ اور توس پر جیم ٹھیک سے لگا مل جاتا تھا ۔۔۔شکر تھا کہ رات کا کھانا ماہم بناتی تھی پورے دن میں بس میں ایک رات کا کھانا پیٹ بھر کے کھاتا تھا ۔۔۔۔ماہم نے صبح پاپا کو رضا انکل کے بجائے پاپا کہا اور مما کو خالہ کے بجائے مما کہا تو مما نے اس خوشی میں رات کا ڈنر باہر کھانے کی دعوت دے ڈالی ۔۔۔۔مما مہک سے بلکل لا تعلقی ظاہر کرتی تھی بس ایک پاپا ہی تھے جو مہک کو اہمیت دیتے تھے ۔۔۔۔کچھ سمجھانا بھی ہوتا تو محبت اور اپنایت سے بات کرتے ۔۔۔۔۔رات کو آئسکریم پاپا نے کھلائی تھی ۔۔۔۔عفان اور ماہم میرے اور مہک کے سامنے ہی بیٹھے تھے ۔۔۔۔عفان اور ماہم کے ساتھ جب مہک نے بھی چوکلیٹ آئسکریم کی فرمائش کی تو مجھے ماہم پر طنز کرنے کا موقع مل گیا مگر عفان ہر بات کا ایسا جواب دیتا کہ میں سلگ کر رہ جاتا ۔۔۔۔جب میں کمرے میں آیا تو میرا موڈ خاصا خراب تھا اور اس بات کا شاید مہک کو بھی اندازہ ہو گیا تھا ۔۔۔۔وہ ڈرسنگ کے سامنے بیٹھی اپنے ٹاپس اتار رہی تھی ۔۔۔۔میں چپ چاپ آ کے اپنی سائیڈ پر لیٹ گیا
“مہک لائٹ ذراجلدی آف کردینا ۔۔۔مجھے نیند آ رہی ہے “
“نیند آ رہی ہے یا پھر موڈ آف ہے “وہ لوشن ہاتھ پر لگاتے ہوئے ہنستےہوئے بولی
“جو تم چاہو سمجھ لو “میں بیزار ہوا تھا
“ویسے کامران میں نے نوٹ کیا ہے ۔۔۔۔تمہارا موڈ آئسکریم کھاتے ہوئے آف ہوا ہے ۔۔۔۔ہے نا “
“مہک ۔۔۔۔میں بحث کے موڈ میں نہیں ہوں “مہک کی بات سچ تھی مگر میں اس موضوع کو زیر بحث لانا ہی نہیں چاہتا تھا
“او کے بس یہ بتا دو تمہیں برا کیا لگا ۔۔۔۔میرا چوکلیٹ آئسکریم کھانا یا عفان کا ماہم کے کپ سے آئسکریم کھانا “مہک نے لفظ جما مما کر پوچھا
“اس وقت تمہاری بکواس سننا “میرے غصے کو وہ خاطر میں لائے بغیر ہسنے لگی
“یعنی عفان کا ماہم کے کپ سے آئسکریم کھانا “مہک کا اندازہ بلکل ٹھیک تھا مجھے واقع یہی بات بری لگ رہی تھی
“ویسے اس میں اتنا برا ماننے والی کیا بات تھی ۔۔۔۔”مہک یہ کہہ کر بیڈ پر لیٹ گئ ۔۔۔۔میں بھی اسی نہج پر سوچنے لگا ۔۔۔۔مجھے یہ سب اتنا برا کیوں لگ رہا ہے ۔۔۔۔چاہے میں اس بات تسلیم نا بھی کروں مگر سچ تو یہی ہے کہ ماہم عفان کی بیوی ہے ۔۔۔۔اور یہ بھی نہیں کہ پہلی بار عفان نے ماہم کی آئسکریم کھائی تھی بچپن سے وہ ایسا ہی کرتا آ رہا تھا ۔۔۔۔پہلے مجھے اس بات سے کبھی فرق ہی نہیں پڑا تھا مگر اب پتہ نہیں عفان کو ماہم کے ساتھ دیکھ کر میرا دل چاہتا ماہم کاہاتھ پکڑ کر اسے اتنی دور لے جاؤں کہ عفان کبھی ماہم کو دیکھ بھی ناسکے ۔۔۔۔۔اور یہ میں کیوں چاہتا تھا ۔۔۔۔میرے پاس اس کا بھی کوئی جواب نہیں تھا میں نے خود کو جھٹکا ۔۔۔۔برابر میں مہک بے خبر سورہی تھی ۔۔ مگر میری تو جیسے آنکھوں سے نیند غائب ہو چکی تھی
********۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*******
اگلے روز رات جب میں کمرے میں آیا تو مہک مجھے دیکھ کر اپنے آنسوں صاف کرنے لگی گو کہ مجھے اسکے رونے کی اتنی پروا نہیں تھی مگر پھر بھی میں مہک سے رونے کی وجہ پوچھنے لگا
“کامران مما کارویہ میرے ساتھ بلکل اجنبیوں جیسا ہے ۔۔۔۔میں کبھی ان سے بات کر بھی لوں تو وہ میری بات کا جواب تک نہیں دیتیں فورا اٹھ کر چلی جاتی ہیں “مہک کی بات پر میں ہسنے لگا
“چلو تمہیں احساس تو ہوا کہ یہاں تمہاری کسی کو پروا نہیں ہے ۔۔۔۔۔تمہیں مجھ سے شادی کر کے کیا ملا مہک ۔۔۔۔۔تم ایک آزاد ماحول کی عادی لڑکی ہو ۔۔۔۔۔پکنک شاپنگ ۔۔۔۔دوستیاں ۔۔۔پاٹیز ۔۔۔۔۔تمہاری زندگی کا محور بس یہیں تک گھومتا تھا ۔۔۔۔بس یہیں تک رہنے دیتی ۔۔۔۔جو کچھ ہمارے درمیان ہو چکا تھا۔۔۔۔وہ سب بھلا کر اپنی ہی کسی کلاس کے لڑکے سے شادی کر لیتی تو خوش رہتی اور تمہارے پیرنٹس بھی تم سے لا تعلق نہیں ہوتے ہم ان کی کلاس کے نہیں ہیں بہت فرق ہے ہم دونوں کے گھر کے ماحول میں ۔۔۔۔۔۔دیکھوں ہم بے شک ایک لگچیری لائف گزارتے ہیں۔ مگر یہ سب ہمیشہ سے نہیں تھا ۔۔۔۔پاپا اور مما نے شروع کی لائف عام سے میڈل کلاس لوگوں کی طرح گزاری ہے ۔۔۔۔اور ہماری بیک بھی ایسی ہی ہے یہ تو بعد میں پاپا ,کا بزنس بڑھتا چلا گیا ۔۔۔لیکن ہمارے رہن سہن اور طور طریقے اور خاص طور پر سوچ اب بھی ویسی ہے تھوڑی سی کنسرویٹو ۔۔۔۔۔اور مما تمہیں نشے کی حالت میں بھی دیکھ چکی ہیں ۔۔۔۔اور یہ بھی جانتی ہیں کہ ہمارے نکاح میں ذیادہ ہاتھ کس کا تھا ۔۔۔۔ یہ سب چیزیں تمہاری نظر میں شاید معنی نہیں رکھتیں مگر مما کی نظر میں معیوب سی ہیں ۔۔۔۔۔۔مما کبھی تم سے اپنارویہ ٹھیک نہیں کریں گی ۔۔۔۔تم تو چار دن میں گھبرا گئ ہو آگے کیا کرو گی۔۔۔۔۔پاپا بھی ابھی چپ چاپ برداشت کر رہے ہیں مگر کب تک ۔۔۔۔تنگ آجائیں سب تم سے آہستہ آ ہستہ ۔اور تم بھی کب تک اپنے لائف اسٹائل کو خیر آباد کر کے رہ سکتی ہو آخر ایک دن تمہیں یہ ماحول قید خانے لگنے لگے گا ۔۔کیسے گزاروں گی ساری زندگی “میں نے مہک کے سامنے جو بہانک منظر کشی کی وہ سوچ میں ضرور پڑ گئ تھی اور یہی میں چاہتا تھا ۔۔۔۔میں تو اسے طلاق نا دینے پر مجبور تھا مگر وہ تو خلع لے سکتی تھی اس صورت میں حق مہر سے میری جان چھٹ سکتی تھی
“میں اب واپس نہیں جاسکتی کامران اپنی ساری کشتیاں جلا کر آئی ہوں ۔۔۔۔”وہ پھر سسکنے لگی
“او کے اب رونا بند کرو ۔۔۔۔سوچتے ہیں اس بارے میں بھی کچھ “میں نے وقتی طور پر اس موضوع کو منقطع کیا ۔۔۔۔۔۔اب اس سے خواہ مخواہ کی ہمدردی جتانے کا میرا کوئی موڈ نہیں تھا
کچھ دن بعد کی بات ہے ۔۔۔۔میں آفس میں تھا جب مما کی کال مجھے آئی۔۔۔۔
“کامران جلدی سے ہاسپٹل پہنچوں ۔۔۔۔تمہاری بیوی کی ڈرامے بازیاں نا جانے کب ختم ہوں گی “مما کا کوفت بھرا لہجہ سن کر میں نے پوچھا
“اب کیا ہوا ہے مما سب ٹھیک تو ہے “
“گر گئ ہےسیڑیوں سے ….ایسی ست کاہل ہے اپنا آپ نہیں سنبھال سکتی “مہک کے گرنے کا سن کر میں گھبرا کر کھڑا ہو گیا
“کیا ہوا ہے مہک کو مما “پاپا میرے برابر میں ہی بیٹھے تھے میری طرف دیکھنے لگے
“مجھے نہیں معلوم عفان اور ماہم اسے ہاسپٹل لے کرگئےہیں تم جاؤ۔ وہاں “
میں نے فورا سے فون بند کیا اور گاڑی کی چابی اٹھانے لگا
“کیا ہوا ہے کامران “
“پاپا مہک گر گئ ہے اور اس وقت ہاسپٹل میں ہے “
“گر گئ ہے ۔۔۔مگر کیسے “پاپا بھی پریشان ہو گئے تھے۔۔۔
“معلوم نہیں جا کر دیکھتا ہوں “
“ٹہرو میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں “پاپا بھی کھڑے ہو گئے ۔۔۔۔باقی کی تفصیل میں نے انہیں گاڑی میں بتا دی جو مما نے مجھے بتائی تھی
“تمہاری مما ساتھ نہیں گئ کیا “پاپا کے استفسار پر میں نے نفی میں سر ہلا کر کہا
“نہیں پاپا “
کیوں “
“مجھے نہیں معلوم “
“ایسا کرو گاڑی گھر کی طرف لے چلو ماہم بچی ہے وہ کیا سنبھال پائےگی اسوقت وہاں صفیہ کا ہونا ضروری ہے ۔۔۔۔۔ “میں نے گاڑی گھر کی طرف موڈ لی۔۔۔۔مما لاونج میں ہی چکر کاٹ رہیں تھیں ۔۔۔۔مجھے دیکھتے ہی بے ساختہ بولیں ۔۔۔۔
“تم گئے نہیں ہاسپٹل ۔۔۔۔جاوں وہاں تا کہ ماہم واپس آ سکے صبح سے وہ وہاں ہے ۔۔۔۔نا جانے کچھ کھایا ہے کہ نہیں میری بچی نے “مما کو ماہم کی فکر ستا رہی تھی
“صفیہ جا کر تیار ہو کر آؤ ۔۔۔۔تم ہمارے ساتھ ہاسپٹل چل رہی ہو “پاپا نے مما سے کہا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا
“نہیں رضا میں نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔”
“صفیہ اسوقت مہک کو تمہاری ضرورت ہے ۔۔۔۔۔بحث مت کرو ۔۔۔۔جلدی سے تیار ہو کر آؤ
“٫وہ میری زمہ داری نہیں ہے رضا ۔۔۔۔۔۔میری کچھ تو عزت باقی رہنے دیں۔۔۔۔ وہاں کی ڈاکٹر سے میرے اچھے تعلقات ہیں ماہم کو میں اسی کو چیک کرواتی ہوں اور وہ یہ بھی جانتی ہے کہ میرے بڑے بیٹے کی شادی کو ایک مہینہ بھی نہیں گزرا ۔۔۔۔۔اور اب یہ سب کیا جواب دونگی میں اسے ۔۔۔۔کہ میری بہو شادی سے پہلے ہی ۔۔۔۔۔۔نہیں میں اتنا حوصلہ نہیں رکھتی نا ہی ایسی باتوں کو فیس کر سکتی ہوں مہک کی ماں کو بلائیں وہ بات کرے اور سنبھالے اپنی بیٹی کو “جس حقیقت سے مما روشناس کروارہی تھی میں تو اس نہج پر کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔اب اندر سے میرا بھی ہاسپٹل جانے کو دل نہیں تھا
“مہک اس گھر کی بہو ہے ۔۔۔۔ہماری زمہ داری ہے ۔۔۔۔تم مت دینا کسی کو کوئی جواب مگر اسوقت اسکی اور اسکے بچے کی زندگی ذیادہ اہم ہے ۔۔۔ضد مت کرو اور چلو میرے ساتھ “
“نہیں رضا میں نہیں جاؤں گی “
“صفیہ میں کچھ سننا نہیں چاہتا ۔۔۔۔چلو میرے ساتھ ۔۔۔تمہیں ہو کیا گیا ہے ۔۔۔۔”پاپا اب سختی پر اتر آئے تھے
“مجھے اپنی عزت پیاری ہے ۔۔۔۔میں کیوں اسکے لئے بدنامی مول لوں جو ابھی دنیا میں آنے سے پہلے ہمیں یوں رسوائی دے رہا ہے ۔۔۔میں تو کہتی ہوں اللہ کرے مر جائے وہ بچہ “مما چلا کر غصے سے بولیں
“صفیہ “پاپا ہاتھ پوری قوت سے اٹھا تھا مگر پھر ہوا میں ہی معلق ہو گیا پاپا کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔۔پاپا کی گرج دار آواز پر مما بھی گھبرا گئیں تھیں ۔۔۔۔پاپا نے با مشکل خود کو کنڑول کیا ۔۔۔۔
“آگے ایک لفظ بھی کہا تو ۔۔۔۔مجھ سے وہ سرزد ہو جائے گا جو میں نے آج تک نہیں کیا ۔۔۔۔کچھ کہے بغیر ابھی اسی وقت میرے ساتھ چلو “٫۔۔۔۔پاپا نے اپنے ہاتھ کو نیچے کیا اور ایک ایک لفظ بڑے ضبط سے چبا چبا کر بول رہے تھے ۔۔۔۔مما کے آنسوں بہنے لگے ۔۔۔۔مما کی بات سن کر ہل تو میں بھی گیا تھا جو کچھ بھی ہوا تھا بے شک غلط تھا ۔۔۔ مگر وہ بچہ تو میرا ہی تھا اور نکاح کے پاکیزہ رشتہ قائم تھا میرے اور مہک کے درمیان ۔۔۔۔۔یہ الگ بات تھی کہ دنیا کے سامنے وہ اب میری بیوی تھی ۔۔۔۔مما اپنے کمرے میں چلیں گئیں جب واپس آئیں تو ہاتھ میں پرس تھا اور چادر سر پر اوٹھے
وہ سیدھا لاونج سے باہر چلیں گئیں ہاسپٹل جاتے ہوئے پورے راستے کاسفر خاموشی سے طے ہوا ۔۔۔
*******۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ***********
ہاسپٹل جب ہم پہنچے مہک کے ممی پاپا وہیں موجود سے مما بس سلام کر کے مارے بندھے مہک کے پاس جا کر کھڑی ہو گئیں ۔۔۔مہک بھی خاموش بیٹھی تھی مہک کی ممی مما سے مہک کے بارے میں پوچھنے لگیں ۔۔۔۔میں مہک کے پاس جا کر اسے تسلی دینے لگا ۔۔۔۔عفان اور ماہم بھی وہیں موجود تھے ۔۔۔۔چند ہی گھنٹوں میں مہک بہت ویک سی لگنے لگی تھی ۔۔۔۔آنکھوں کے گرد ہلکے بھی گہرے لگ رہے تھے ۔۔۔۔
“تم فکر مت کرو مہک سب ٹھیک ہو جائے گا ۔”۔۔۔میں نے مہک کا ہاتھ پکڑ کر بس اتنی ہی تسلی دی تھی کہ وہ رونے لگی ۔۔۔۔مگر بولی کچھ نہیں ۔۔۔۔میں نے اسکے آنسوں صاف کیے ۔۔۔۔بس میرے چند ہمدردانہ جمعلے تھے کہ مہک کافی سنبھل سی گئ تھی ۔۔۔۔۔مہک کی ممی مہک کے قریب آ کر بولیں تو دھیرے سے تھیں مگر میں بھی مہک کے پاس ہی کھڑا تھا اسلئے انکی باتیں با آسانی سن سکتا تھا
“مہک اب ہمیں اجازت دو “مہک نے اپنی ممی کا ہاتھ تھام لیا
“ممی پلیز آپ آج میرے پاس رک جائیں ۔۔۔۔”مہک کی آواز پر پاپا بول پڑے
“نہیں ۔۔ مہک اب ہماری زمہ داری ہے ۔۔۔۔صفیہ ہے مہک کے پاس “مگر مہک نے پھر بھی اپنی ممی کی منت کی
“ممی مجھے آپ کی ضرورت ہے پلیز ۔۔ ٫مہک نے بڑی آس سے اپنی ممی کی طرف دیکھا مگر وہ ہاتھ چھڑوا گئیں
“مہک تم تو جانتی ہو میں کتنی بزی رہتی ہوں ابھی مجھے ایک خیراتی ادارے میں جانا ہے ۔۔۔۔تم تو جانتی میری لائف کتنی سوشل ہے ۔۔۔بیٹا میرا رکنا بلکل نا ممکن ہے پھر تمہاری ساس ہے نا ۔۔۔۔ “وہ مہک سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر چلی گئیں وہ بس خالی خالی آنکھوں سے اپنی ماں کو جاتے ہوئے دیکھتی رہی ۔۔۔۔پھر ایک ٹھنڈی آہ بھر کر میری طرف چور آنکھوں سے دیکھا اپنے آنسوں پونچے ۔۔۔
“کامران میں لیٹنا چاہتی ہوں ۔۔۔ “مہک نے مجھ سے نظریں چراتے ہوئے کہا ۔۔۔۔نا جانے کیوں اسوقت مجھے مہک پر بہت ترس آ رہا تھا لگتا تھا جیسے مہک انکی سگی اولاد ہی نہیں ہے۔۔۔میں نے آگے بڑھ کر اسے سہارہ دے کر لیٹا دیا ۔۔۔۔۔مما لا تعلق سی ہو کر صوفے پر بیٹھی۔ تھیں ۔۔۔پھر ماہم اور عفان کو گھر جانے کو کہااور ماہم کو کھانا کی خاص تاکید کرنے لگیں
“عفان رات سونے سے پہلے ماہم کوایک گلاس دودھ ضرور پلا دینا ۔۔۔۔”عفان اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔پاپا مما کے برابر میں بیٹھ گئے ۔۔۔۔مہک آنکھیں بند کیے لیٹ گئ تھی ۔۔۔۔
“صفیہ ۔۔۔۔”
“رضا آپ گھر جائیں” ۔۔۔۔٫مما کا لہجہ اب بھی روکھا تھا
“چلا جاؤں گا ۔۔۔بس تم سے ایک درخواست ہے میری کہ مہک کا خیال رکھنا ۔۔۔۔”
“آپ کو کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔آپ بے فکر رہیں ۔۔۔۔اپنی حثیت کا اندازہ آج باخوبی ہو گیا ہے مجھے۔۔۔۔ “مما روہانسی سی ہو کر بولیں ۔۔۔۔پاپا کچھ شرمندہ سے ہونے لگے ۔۔۔۔
٫”صفیہ تم بات کو غلط انداز سے لے رہی ہو ورنہ تم جانتی ہو اپنا مقام”
“پلیز رضا ۔۔۔۔آپ جائیں ۔۔۔ “مما یہ کہہ کر وہاں سے اٹھ کر مہک کے پاس آکر کھڑی ہو گئیں ۔۔۔ پاپا کچھ دیر مما کو دیکھتے رہے پھر کھڑے ہو گئے “
“کامران میں گھر جا رہا ہوں مہک کا خیال رکھنا ۔۔۔۔”مجھ سے یہ کہہ کر پاپا چلے گئے ۔۔۔۔۔ رات کو نرس نے آکر مہک کا چیک اپ کیا ۔۔۔۔پھر مماسے کہنے لگی
“ان کا بی پی بہت لو ہے انہیں کچھ کھلا کر یہ دوا دیں “چند میڈسن وہ وہیں رکھ کر چلی گئ ۔۔۔۔
“کامران ایسا کروں نیچے کیٹین سے کچھ سنڈوچ اور جوس لے آؤں” ۔۔۔۔۔۔۔٫میں فورا نیچے چلا گیا ۔۔۔۔جب واپس آیا تو مما مہک کوسہارا دے کر بیٹھا رہیں تھیں ۔۔۔۔پھر مہک کو اپنے ہاتھوں سے سنڈوچ کھلانے لگیں ۔۔۔۔ مہک خاموشی سے انہیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
“مما آپ رہنے دیں میں خود کھا لوں گی” ٫مہک کوشاید مما کے ہاتھ سے کھاتے ہوئے شرم محسوس ہو رہی تھی
“رہنے دو تم ۔۔۔۔۔اتنی اپنی پروا ہوتی تو خیال رکھتی اپنا ۔۔۔۔منہ کھولو اب “۔۔۔۔مما کا لہجہ سخت تھا مگر وہ مہک کو بچوں کی طرح اپنے ہاتھوں سے کھلارہی۔ تھیں پھر جوس کے ساتھ ہی اسے میڈسن بھی دیدی ۔۔۔مہک کے آنسوں نا جانے کیوں بہنے لگے
“اب رو کیوں رہی ہو کیا بہت درد ہو رہا ہے “مما نے بہت پیار سے مہک کے آنسوں پونچتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“نہیں بس یونہی ۔۔۔۔مما ۔۔۔۔میں جانتی ہوں آپ مجھ سے خفا ہیں ۔۔۔۔اور میری غلطی بھی ایسی ہے کہ آپ کو مجھ سے خفا ہونا چاہیے ۔۔۔۔لیکن پھر بھی آپ کو میری اتنی پروا ہے ۔۔۔۔۔۔پلیز مجھے معاف کر دیں ۔۔۔۔۔آپ کو آئندہ مجھ سے کوئی شکایت نہیں ملے گی ۔۔۔۔”
“اسوقت ایسی باتیں سوچ کر خود کو ٹرس مت دو ۔۔۔۔کامران مہک کو لیٹا دو ۔۔۔۔وہ جتنا رسٹ کرے گی اتنا ہی اسکے لئے بہتر ہے” ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے مہک کو لیٹا نے میں مدد کی ۔۔۔۔۔مما صوفے پر لیٹ چکی تھیں
“مما آپ نے کچھ نہیں کھایا ہے ۔۔۔۔پہلے کچھ کھا لیں ۔۔۔۔پھر سوجائیے گا “مما شام سےیہاں تھیں اور مجھ سے اپنے لئے کچھ نہیں
منگوایا تھا
“مجھے بھوک نہیں ہے کامران “
“مما “
“لائٹ آف کر دو ۔۔۔۔اور اب مجھے ڈسٹرب مت کرنا “
مما آنکھوں پر بازو رکھ کر لیٹ چکیں تھیں مجھے معلوم تھا سب وہ میری بات نہیں سنے گی ۔۔۔۔۔
صبح لیڈی ڈاکٹر راؤنڈ پر آئی مہک کا چیک اپ کر کے تسلی دینے لگی وہ مما کو اچھی طرح سے جانتی تھی
مسز رضا ۔۔۔۔۔ماہم آپکی چھوٹی بہو ہے ۔۔۔۔اسکی شادی تو پہلے ہوئی تھی ۔۔۔۔
“جی ۔۔۔۔”ڈاکٹر کے استفسار پر مما نے اثبات میں سر ہلا کر کہا
“اور یہ بڑی بہو ہے آپکی ۔”۔۔۔ڈاکٹرک ھ تذبذب سی ہو کر پوچھنے لگی
“جی “لیکن مما کا لہجہ بھی لچک تھا
“ماشااللہ بہت پیاری ہے ۔۔۔۔مگر جہاں تک مجھے یاد ہے غالبا ابھی مہینہ پہلے ہی آپ نے اپنے بڑے بیٹے کی شادی کی ہے۔۔۔۔۔مگر انہیں تو تیسرا مہینہ ہے “۔۔۔۔وہ استفہامیہ انداز میں مما کو دیکھنے لگی
اور مما تاسف سے میری طرف ۔۔۔۔میرا جی چاہا کمرے سے باہر نکل جاؤں
“یہ میرا بڑا بیٹا ہے ۔۔۔۔۔اور یہ سوال آپ اسی سے پوچھیں کیونکہ سب اسی کا کیا دھرا ہے”۔۔۔۔اس ڈاکٹر نے بس ایک نظر مجھے دیکھا پھر باہر نکل گئ اور مجھے لگا میں پورے کا پورا زمین میں دھنس گیا ہوں ۔۔۔۔جو کچھ ہوا تھا جس انداز سے ہوا تھا ۔۔۔۔۔سب کے سامنے ان باتوں کا سامنا کرنا کس قدر اذیت دیتا ہے یہ بات مجھے آج سمجھ آئی تھی۔۔۔۔مما کیوں منہ چھپائے گھر رہتی تھی۔مہک سے کیوں بات نہیں کرتی تھی مجھ بے رخی کیو برتی تھی ایک لمحے میں یہ بات مجھے سمجھ آ گئ تھی ۔۔۔۔عزت بنانا کتنا مشکل اور گوانا کتنا آسان ہوتا ہے میری نظر مہک پر پڑی تو اسکی کیفیت بھی مجھ سے جدا نا تھی۔
