Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 63
Rate this Novel
Tadbeer Episode 63
Tadbeer by Umme Hani
آپ ۔۔۔۔۔اپ سچ کہہ رہی ہیں ۔۔۔۔پاپا کے چہرے پر خوشی کی مسکراہٹ دیکھ کر ماہم نے فون ان سے چھین لیا اور میں متحیر سا ہو گیا
“صفیہ کامران میراعفان ٹھیک ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔وہ اب اپنے جسم ہلا پا رہا ہے بات بھی کر رہا ہے وہ ٹھیک ہوگیا ہے کامران “۔۔۔۔پاپا کی بات میرے لئے غیر متوقع تھی ۔۔۔۔میں جو اپنے مجرم ہونے کے احساسات سے دو چار تھا پھر سے کسی اندھیری کھائی میں گر چکا تھا ۔۔۔۔ڈاکٹر رمشہ فون بند کر چکی تھی ۔۔۔۔ماہم کو اب بھی پاپا کی بات پر یقین نہیں آ رہا تھا پھر خبر کچھ ایسی تھی کہ سب ہی ہاسپٹل جانے کو بے چین سے ہو گئے تھے ۔۔۔جو بات میرے اور ماہم کے درمیان ہوئی بے معنی ہو کر رہ گئ تھی سب ہی ہاسپٹل جانے لگے ۔مہک بھی نہیں رکی ۔۔۔۔۔یہ کیسے ہو سکتا تھا میں نے اپنے ہاتھوں سے عفان کا ماسک اتارا تھا ۔۔۔۔میں پورے راستے یہی سوچتا رہا ماہم کو پہچنے کی جلدی تھی ۔۔۔۔ہاسپٹل پر گاڑی رکتے ہی وہ بھاگم بھاگ اندر کی طرف دوڑی تھی ۔۔۔۔اسوقت ہاسپٹل میں ذیادہ لوگ نہیں تھے ۔۔۔۔میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ہی شاید یقین کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔جب میں کمرے میں داخل ہوا عفان بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا ۔۔۔۔اور ماہم اسکے سینے سے لگی رو رہی تھی اور میرے سینے پر جیسے سانپ لوٹنے لگے ۔۔۔۔۔عفان اسے بہلانے کی کوشش کر رہا مگر بہت اٹک اٹک کر بول کا رہا تھا اس کا سانس بہت پھول رہا تھا چہرے پر تھکن کے بہت گہرے اثرات تھے ۔۔۔۔۔
ما۔۔۔۔۔ہی ۔۔۔۔۔۔چپ ۔۔۔۔۔۔ہو جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔ٹھیک ۔۔۔۔ہوں میں ۔۔۔۔دیکھوں تم سے بات…… بھی کر رہا ہوں ۔۔۔ عفان اسکے ساتھ لگائے تسلی دے رہا تھا
“عفان ۔۔۔۔۔عفان ۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔آپ ٹھیک ہیں ۔”۔۔۔۔وہ بے تحاشہ روئے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
“مسز عفان پلیز خود کو قابو میں رکھیں آپ کا پیشنٹ اتنا بھی ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔اسے اس طرح سے تکلیف مت دیں ۔”۔۔۔۔ڈاکٹر رمشہ کی بات پر ماہم آہستہ سے پیچھے ہٹ گئ ۔۔۔۔۔پاپا اور مما عفان کا ماتھا چومنے لگے پیار کرنے لگے ۔۔۔۔۔مہک بھی اس کے قریب کھڑی اسکی خیریت پوچھنے لگی ۔۔۔۔۔وہ بس پھولے ہوئے سانس۔ سے اثبات میں سر ہلا پایا تھا ۔۔۔۔ایک میں ہی تھا جو اپنی جگہ ساکت و جامد سا ہو کر کھڑا تھا ۔۔۔۔۔عفان کی نظر مجھ پر پڑی تو بڑی مشکل سے مسکرا پایا ۔۔۔
“بھائی “۔۔۔۔۔۔عفان نے مجھے پکارا ۔۔۔میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ۔۔۔۔۔مجھے اپنے قریب بلانے لگا میں مرے مرے قدم بڑھا کر اس تک پہنچا تھا مگر ماہم نے تیزی سے مجھے پیچھے دھکیل دیا ۔۔۔۔
“دور رہو عفان۔ سے ۔۔۔۔۔تم ۔۔۔۔تم قا۔۔۔۔۔”ماہم میرے بارے میں راز افشاں کرنے جا رہی تھی
“ماہی ۔۔۔۔۔۔چپ ہو ۔۔۔۔جاو ۔۔۔۔۔کچھ ۔۔۔۔مت کہو ۔۔۔۔تمہیں میری قسم “۔۔۔۔۔عفان دھیرے دھیرے اپنی بات مکمل کر پایا تھا ماہم بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی پاپا مما مہک ہر بات سے انجان تھے ۔۔۔۔۔اس لئے ماہم کارویہ سمجھ نہیں پا رہے تھے نا عفان کی قسم ۔۔۔۔ماہم اسکے بعد کچھ نہیں بولی بس خاموشی سے آنسوں بہاتی رہی ۔۔۔۔عفان نے پھر سے اپنی بانہیں میری طرف پھلادیں ۔۔۔۔۔مجھے لگا عفان۔ بلکل چھوٹا سا ہو گیا ہے بلکل عمر جتنا ۔۔۔۔جب وہ چھوٹا تھا تب بھی اسے مجھ پر پیار آتا وہ یونہی بانہیں پھیلائے میرے پاس آ جاتا تھا اور میں لاکھ دل میں اسکے لئے تنفر رکھتے ہوئے بھی اسے اپنے ساتھ لگا لیتا تھا شاید یہ واحد جوش تھا جو میرا خون اسے دیکھ کر مارتا تھا ۔۔۔۔اور میں بے اختیار اسے اپنے سینے سے لگانے پر مجبور ہو جاتا تھا ۔۔۔۔اب بھی ۔۔۔۔میرے قدم خود با خود اٹھنے لگے میں نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا پھر نا جانے کیوں میں بے اختیار رونے لگا وہ مجھے تسلی دیتا رہا۔۔۔۔کچھ ہی پل کے لئے صحیح مگر میرادل ہر کدورت سے صاف ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔مگر۔اسکے بعد میں ایک بار بھی عفان سے ملنے ہاسپٹل نہیں گیا ۔۔۔۔۔شاید آپ یہ سمجھ رہے ہوں گئے کہ اب میرا دل بلکل صاف ہو چکاتھا توایسا نہیں ہے ۔۔۔میری مثال اقبال کے اس شعر جیسی تھی کہ
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
دل اپنا پرانہ پاپی تھا برسوں میں نمازی بن نا سکا ۔۔۔
بلکل ایسے ہی حسد کی آگ میرے اندر پھر سے ٹھاٹھے مارنے لگی میراشیطانی ذہن۔ پھر سے اپنے کام میں جت گیا ضمیر نے اسی وقت کروٹ لی تھی جب میں نے عفان کو گلے لگایا تھا میرا سویاہوا ضمیر بس پل بھر ہی جاگتا تھا اور اسکے بعد کسمسا کر ایک انگڑائی لے کر خواب خرگوش کے مزے لوٹنے لگتا تھا ۔۔۔۔۔میں اپنی پرانی روش کی چلتی ٹرین کی پٹری پر پھر سے گامزن ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔شاید یہ حسد چیز ہی ایسی ہے ۔۔۔۔ایک بار جونک کی طرح دل سے لگ جائے تو چین نہیں لینے دیتی میراذاتی خیال ہے کہ عشق اور حسد ایک روگ کی مانند ہیں ایک بار لگ جائیں تو قبر تک پہنچا کر دم لیتے ہیں اور میں ان دونوں روگوں میں مبتلہ تھا ۔۔۔۔مگر اپنے انجام کی پروا نہیں تھی مجھے ۔۔۔۔۔بس ایک ہی آرزو تھی ماہم ۔۔۔۔۔۔
کچھ ہی دن میں عفان گھر آ گیا مگر وہیل چیر پر تھا پاپا چاہتے تھے کہ عفان کے لئے کمرہ نیچے سٹ کر دیا جائے مگر اس نے خود ہی انکار کر دیا بہرحال راشد اور چوکیدار کے ہمراہ عفان اوپر شفٹ ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔اس لئے اب اسکے نیچے آنے کے چانسز کم ہی تھے ۔۔۔۔میں فی الحال تو اس سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا کیونکہ میری آخر میں کی جانے والی حرکت سے وہ خوب واقف تھا مجھے حیرت اس بات پر تھی کہ حقیقت جاننے کے باوجود عفان نے مجھے گلے کیوں لگایا یہ ایک ایسی گتھی تھی جیسے میں سلجھا نہیں کر پا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
ماہم کازیادہ تر وقت اب اوپر ہی گزرتا تھا ڈنر بھی وہ اوپر عفان کے ساتھ کرتی تھی عمر بھی اوپر رہنے لگا تھا ۔۔۔۔۔میرے اندر کی حسد کی آگ روز با روز بھڑکنے لگی تھی ۔۔۔۔نا جانے ماہم چپ کیوں تھی اچھی طرح جانتی تھی کہ میں نے عفان کو مارنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔مگر اس نے مما پاپا کسی سے کچھ نہیں کہا ۔۔۔۔نا ہی عفان نے کوئی بات اٹھائی ۔۔۔۔کچھ دن تو میں اسی بات پر پریشان رہا پھر جب ان دونوں کا کوئی ردعمل نظر نہیں آیا تو میں بے فکر ہو گیا ۔۔۔۔۔
تقریبا ایک مہینہ گزر گیا تھا ۔۔۔۔۔میری بے چین روح کو قرار نہیں مل رہا تھا ۔۔۔۔نا جانے عفان اور ماہم کیسے ہیں ۔۔۔۔ایک ساتھ ہیں ۔۔ تو کیوں ہیں ۔۔۔۔۔پھر ایک معذور شخص کو ماہم کب تک سنبھال سکتی ہے تھک کر خود ہی تنگ آ جائے گی ۔۔۔۔اتنا آسان تو نہیں ہے کسی ایسے شخص کے ساتھ زندگی بسر کرنا جو وہیل چیر پر ہو ۔۔۔۔جس کے ہاتھ میں بھی ہر وقت کا لرزہ ہو۔۔۔۔۔۔بات بھی اٹک اٹک کر کرتا ہوں آخر ماہم کب تک خود پر جبر کر کے ایسی زندگی گزارے گی ۔۔۔۔۔بہت جلد عاجر ہو جائے گی ۔۔۔۔۔رات کو میں یونہی عفان سے ملنے کے بہانے اس کے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔دروازے پر دستک دی ماہم نے دروازہ کھولا ناگواری سے ماتھے پر کئی لکیریں سی پڑنے لگیں اسکے عقب سے عفان کی آواز ابھری
“کون ہے ماہی ۔”۔۔۔
“میں ہوں عفان۔۔۔ کامران ۔”۔۔۔میں نے کچھ بلند لہجے میں کہا
“بھائی آپ باہر کیوں ہیں اندر آئیں نا “۔۔۔۔عفان کی آواز پر ماہم جو دروازے پر ایستاذہ کیے کھڑی تھی پیچھے ہٹ گئ۔۔۔۔عفان اپنی وہیل چیر پر ہی بیٹھا تھا عمر اسکی گود میں تھا ۔۔۔۔پہلے سے کافی ہشاش بشاش لگ رہا تھا زبان میں پہلے والی لکنت بھی نہیں تھی ۔۔۔۔ہاتھوں میں کپکپاہٹ بھی غائب تھی چہرے پر ایک عجیب سی چمک تھی ۔۔۔۔۔عفان کو دیکھ کر میرادل جیسے مٹھی میں آ گیا تھا ۔۔۔۔۔
“اب کیسی طبعیت ہے تمہاری “۔۔۔۔میں نے آزردگی سے پوچھا
“فٹ فاٹ بہت بہتر ہوں بھائی ۔۔۔آپ شاید بہت ذیادہ بزی رہنے لگے ہیں ۔۔۔ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی ملنے نہیں آئے “
“ہاں یار اب ہر چیز کا بوجھ مجھی پر تو ہے ۔۔۔پاپا تو اب بلکل ہی گھر کے ہو کر رہ گئے ہیں” ۔۔۔۔میں نے جان بوجھ کر عفان پر یہ جتانا چاہا کہ وہ اب بھی میرے رحم وکرم پر ہے مجھے لگا میری بات پر وہ بجھ سا جائے گا ۔۔۔۔۔اسے سبکی اور شرمندگی آن گھیرے گی تو مجھے کچھ چین میسر ہو گا ۔۔۔۔مگر اسکی جاندار مسکراہٹ نے مجھے اندر تک مایوس سا کر دیاتھا
“آپ کی بات ٹھیک ہے بھائی ۔۔۔۔۔پچھلے ایک سال میں آپ نے مجھ پر پانی کی طرح پیسہ بہایا ہے ۔۔۔۔کبھی میرے علاج میں کمی نہیں آنے دی ۔۔۔۔لیکن آپ بے فکر رہیں ۔۔۔۔میں بہت جلد ہی آفس جوائن کر لوں گا ۔۔۔۔آپ کا بوجھ کافی حد تک کم ہو جائے گا “
“چھوڑو بھی عفان تم مجھ پر بوجھ نہیں ہو چھوٹے بھائی ہو میرے میں جانتا ہوں اس وییل چیر کے ساتھ اب آفس جوائن کرنا تمہارے بس کی بات نہیں ۔۔۔۔میں قطعی خوش فہمی کو پالنے والوں میں سے نہیں ہوں” ۔۔۔۔میں نے عفان کو ٹھیس پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی مگر عفان کے چہرے پر ذراسی ناگواری نہیں تھی نا ہی میری باتوں سے تکلیف کے کوئی آثار ہاں مگر ماہم کا لال بھبوکاچہرہ میرے دل کو محسور کر گیا تھا
عفان ہسنے لگا ۔۔۔۔۔
“ایسی بات نہیں ہے بھائی ۔۔۔۔بہت جلد میں ٹھیک ہو جاؤں گا آخر اتنی محبتیں ہیں میرے پاس””‘ ماہم عفان کی وییل چیر کے ساتھ ہی کھڑی تھی عفان نے ماہم کا ہاتھ تھام کر کہا ۔۔۔۔
“آپ کو پتہ ہے بھائی ۔۔۔۔۔جو لوگ دعاؤں اور محبتوں کے حصار میں رہتے ہیں ۔۔۔۔۔وہ بہت جلد ترقی کی منازل طے کرتے چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔اور میں انہیں خوش قسمتوں میں سے ہوں ۔۔۔۔ ہے نا ماہی” ۔۔۔۔۔۔عفان نے چہرہ اوپر کر کے ماہم سے تصدیق مانگنے لگا
“ہاں “۔۔۔۔ماہم نے مختصر جواب دیا ۔۔۔۔عمر عفان کی گود میں بیٹھااسکی شرٹ کے بٹن کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔۔۔
“عفان کیا میں کچھ دیرکے لئے عمر کو لے جاؤں ۔۔۔۔کافی دن سے میں عمر سے نا کھیل سکا تھا نا ہی پیار کر سکا تھا “
“کیوں نہیں بھائی ۔”۔۔۔عفان نے اپنایت سے کہا میں نے عمر کو گود میں لیا مجھے دیکھتے ہی وہ بابا کی کی رٹ لگانے لگا
“آ جاؤں بابا کی جان “عمر کو گود میں لئے میں باہر آ گیا
رات کو میں پھر بے چین ہونے لگا ۔۔۔۔رات سوئے ہوئے میرالاشعور جاگ جاتا تھا مجھے لگتا کہ عفان ماہم کے قریب ہے ۔۔۔۔۔ماہم کے چہرے کے تمام نقوش کو اپنے ہاتھوں سے چھو رہا ہے ۔۔۔۔میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ۔۔۔۔۔میرے اندر پھر سے الاوجلنے لگا پسینہ میرے چہرے سے بہہ کر میری گردن تک پہچنے لگا ۔۔۔۔مین نے لحاف اتارا اور فورا واش روم میں چلا گیا کافی دیرشاور لیتا رہا ۔۔۔۔۔مجھے لگا میرا جسم آگ میں جل رہا ہے ۔۔۔میں جھلس رہا ہوں موسم اچھا خاصاسرد تھا مگر میرے اندر دھلتی آگ پر سرد موسم کا سارااثر زائل تھا ۔۔۔۔میں باہر آ کر لاونج میں نکل آیا بے چینی سے ٹہلنے لگا مگر میرے خیالات مجھے چین نہیں لینے دے رہے تھے ۔۔۔۔۔کبھی خیال آتاعفان نے ماہم کو اپنے بازؤں کے حصار میں لے لیا ہے کبھی لگتا ماہم اسکے کندھے پر سر رکھے بیٹھی ہے ۔۔۔۔میں جتنی قربت کے بارے میں سوچتا ۔۔۔میری اصطراری اتنی مجھے تڑ پانے لگتی ۔۔۔۔اپنی بے بسی پر میرا پھوٹ پھوٹ کر رونے کو دل چاہتا۔۔۔۔ بلا آخر میں اوپر اپنے کمرے میں آ گیا میرااور عفان کا کمرہ برابر برابر میں ہی تھا اور ہمارا ٹیرس بھی مشترکہ تھا بس ایک چھوٹی سی دیوار بیچ میں حائل تھی ۔۔۔۔میں خاموشی سے اپنے کمرے کے ٹیرس میں آگیا ۔۔۔۔میرے کمرے کی لائٹس آف تھی ۔۔۔۔باتوں کی آواز سن کر میں وہیں رک گیا ماہم اور عفان اپنے ٹیرس میں پہ موجود ایک دوسرے سے محور گفتگوں تھے ۔۔۔۔۔
“ماہی یہ کیا کر رہی تم اٹھو یہاں سے” ۔۔۔۔عفان نا جانے ماہم کو کس بات سے روک رہا تھا میں دبے پاؤں اس دیوار کے نزدیک کھڑاہو گیا اور بہت محتاط ہو کر دیوار کی دوسری جانب جھانک کر دیکھنے لگا ۔۔۔۔عفان اپنی وہیل چیر پر بیٹھا تھا اور ماہم اسکے پاؤں کے پاس زمین پر بیٹھی اس کے پاؤں کی مالش کر رہی تھی اور وہ اسی بات پر خفا ہو رہا تھا ۔۔۔۔
“کیا عفان ۔۔۔۔بس تھوڑا سا مساج اور کرنے دیں ۔۔ “
“نہیں تم نہیں کرو گی ۔۔۔۔اٹھوں یوں میرے پاؤں کے پاس مت بیٹھو بہت برا لگ رہا ہے مجھے” ۔۔۔۔۔عفان اسے مسلسل ٹوک رہا تھا
“لیکن مجھے تو نہیں۔لگ رہا “۔۔۔ماہم دوبارہ سے تیل عفان کے پاؤں پر لگانا چاہا توعفان نے پاؤں پیچھے کر لئے ۔۔۔۔
“اگر تم باز نہیں آئی ماہی تو میں ناراض ہو جاؤں گا تم سے” ۔۔۔۔عفان کی دھمکی آمیز لہجے پر ماہم کا ایک رنگ آ کر گزر گیا
“نہیں عفان ۔۔۔۔۔ناراض مت ہونا مجھ سے ۔۔۔۔آپ کی ناراضگی۔ برداشت نہیں کر سکتی ہوں “۔۔۔۔نا جانے کیوں وہ بلک بلک کر رونے لگی تھی عفان کی گود میں سر رکھے ۔۔۔۔عفان پریشان سا ہونے لگا تھا
“ماہی اچھا نا ۔۔۔۔۔بس یونہی کہہ دیا تھا میں نے ۔۔۔۔رونا بند کرو اب ۔۔۔”
“نہیں عفان آپ نے کہا بھی کیسے “۔۔۔۔وہ سسکتے ہوئے بولی
“اچھا چہرا اوپرکرو اپنا ۔۔۔۔ادھر دیکھو میری طرف” ۔۔۔۔ماہم نے اپنا چہرہ اوپر کیا آنسوں اب بھی اس کے رخسار سے بہہ رہے تھے ۔۔۔۔عفان نے اپنے ہاتھ سے اسکا چہرا صاف کیا پھر اسکی تھوڑی پر انگلی رکھ کر اس کا چہرا اوپر کیا
“تمہیں کیا لگتا ہے میں ناراض ہو سکتا ہوں تم سے ۔۔۔۔۔۔”
“ہاں ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔۔عفان میں مر جاؤں گی ۔۔۔۔ آپکی ناراضگی اور جدائی کوسہنے کی سکت نہیں ہے مزید مجھ میں” ۔۔۔۔ وہ روتے ہوئے بول رہی تھی ۔۔۔۔
“اٹھوں یہاں سے تمہاری جگہ میرے پاؤں میں ہر گز نہیں ہے” ۔۔۔۔۔۔ماہم اٹھ کر عفان کے برابر کرسی پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔عفان نے اسے خود سے قریب کر کے اس کا سر اپنے سینے پر رکھ لیا ۔۔۔۔میں اندر تک ہل کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔
“یہاں ہے تمہاری جگہ میرے دل میں ۔۔۔۔۔بس تم یہیں رہا کرو ۔۔۔۔ماہم نے بھی اپنے ہاتھ کو عفان کے گلے کا ہار بنا لیا ۔۔۔۔اور مجھے لگا میرے دل پر سانپ سے لوٹنے لگے ہوں نا صرف لوٹ رہے تھے بلکہ ڈس بھی رہے تھے۔۔۔۔مجھے اتنی ہی اذیت مل رہی تھی جتنی سانپ کے ڈسنے سےہو سکتی ہے
“جانتی ہو ماہی اللہ نے عورت کو مرد کی بائیں پسلی سے پیدا کیوں کیا ۔ہے ۔۔۔”
“کیوں ۔۔۔۔۔”
“اس لیے کے بائیں جانب دل ہوتا ہے ۔۔۔۔۔اور عورت کی جگہ ہمیشہ مرد کے دل میں رہتی ہے اس لئے جب تک تم میرے دل میں ہو میں پر سکون ہوں ۔۔۔۔۔جتنا تم میرے دل کے قریب رہو گی ۔۔۔۔تم مطمئن رہو گی” ۔۔۔۔۔۔عفان اسکا سر سہلاتے ہوئے کہہ رہا تھا
“عفان آپ جانتے ہیں میں کتنی محبت کرتی ہوں آپ سے ۔۔۔ اگر آپ ایک بار مجھ سے کہہ دو کہ ماہی تم میرے پاؤں کی دھول کو دھو کر پی جاؤں تو میں یہ بھی کر گزرو۔۔۔۔میرا بس چلے تو جہاں آپ قدم رکھو۔ میں وہاں اپنے دل بچھا دوں ۔۔۔۔آپ کو ہمیشہ مجھ سے یہ شکایت تھی کہ میں اظہار نہیں کرتی ۔۔۔۔عفان آئی لو یو ۔آئی ریلی لو۔۔”۔ماہم نے اپنا سر اٹھا کر عفان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور بڑی زور کی ٹھیس میرے دل سے اٹھی تھی۔۔۔۔عفان مبہم سا مسکرانے لگا
“اب مجھے کسی اظہار کی ضرورت نہیں ہے اور تم جھوٹ بول رہی ہو ماہی۔۔۔تم نے مجھ سے کبھی محبت کی ہی نہیں ہے ۔۔۔۔پھر کیوں لفظوں کو ضائع کر رہی ہو” ۔۔۔۔جیسا جھٹکا ماہم کو عفان کے ان لفظوں سے لگا تھا ایسا ہی مجھے بھی لگا ۔۔۔۔۔کیا واقع ماہم عفان سے محبت نہیں کرتی ۔۔۔۔۔مطلب اب بھی مجھ سے ۔۔۔۔میرے اندر کا موسم یک دم ہی خوشگوار سا ہو گیا میرا پوراوجود اسوقت آلہ سماعت بنا ہوا تھا کہ آخر عفان آگے کہتا کیا ہے ماہم خفگی سے بولی
“عفان ۔۔۔۔یہ کیوں کہا آپ نے آپ جانتے ہیں میں بہت محبت” ۔۔۔۔۔
“نہیں ماہی تم نے محبت نہیں کی مجھ سے ۔۔۔۔تم نے تو عشق کیا ہے مجھ سے ۔۔۔۔اور عشق لفظوں کے اظہار کا محتاج ہی نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔اب یہ سب لفظ بے معنی سے لگنے لگے ہیں” ۔۔۔۔۔ماہم اب بھی عفان کو بے یقینی سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
“میری تشنگی تو محبت کی ایک بوند سے سیراب ہو جاتی ماہی ۔۔۔۔تم نے میرے سامنے عشق کا سمندر لا کر رکھ دیا ہے” ۔۔۔عفان نے ماہم کا ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے لگا لیا اور مجھے لگا میں دہکتی آگ میں ڈال دیا گیا ہوں ۔۔۔۔۔میں پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔۔اب مجھ میں کچھ بھی سننے کی تاب نہیں تھی ۔۔۔ماہم کی بات پر نا چاہتے ہوئے بھی میرے کان کھڑے ہو گئے
“جیسے عشق پر پہلا حق اللہ کا ہے ۔۔۔۔ایسے ہی دنیاوی زندگی میں عشق مجازی کا حق تو صرف مجازی خدا کا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔اور میں نے تو اپنا فرض ہی نبھایا ہے ۔۔۔۔ یہ سب آپکے عمل کا ردعمل ہے عفان آپ نے مجھے میرے حق سے کبھی محروم نہیں کیا ۔۔۔۔میں جتنی محبت اور عزت کی حقدار تھی آپ نے کبھی اس میں کمی نہیں آنے دی ۔۔۔۔۔بس بے لوث مجھ پر اپنی محبتیں نچھاور کرتے رہے بنا مجھ سے بدلے میں کچھ مانگے ۔۔۔۔۔میں نا چاہتے ہوئے بھی کچی ڈور سے بندھی آپ تک کھنچتی چلی آنے لگی ۔۔۔۔۔۔کب آپ میرے لئے اتنے اہم ہو گئے میں جان ہی نہیں پائی “۔۔۔۔۔ماہم کا اظہار شاید مزید میں سن ہی نہیں سکتا تھا اس لئے کمرے سے باہر نکل آیا اپنے کمرے میں جا لیٹاتو خود کو ابھی بھی انہیں باتوں کے احاطے میں پایا مجھے لگاابھی بھی عفان اور ماہم کی باتیں میرے کانوں میں گونج رہی ہیں ۔۔۔۔۔عفان نے ماہم سے محبت کی ۔۔۔۔۔اور ماہم نے اس سے عشق ۔۔۔۔۔اور میں ۔۔۔۔۔میں نے کیا کیا ۔۔۔۔۔میرے جذبے کا کیا نام ہے ۔۔۔۔خود غرضی ۔۔۔۔حوس ۔۔۔۔یا حسد جلن ۔۔۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔میرا جذبہ اتنا بے مول نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔۔ماہم مجھ سے عشق کیوں نہیں کرتی ۔۔۔۔۔۔۔ میری نظر بیڈ کی دوسری جانب پڑی تو مجھے لگا ماہم لیٹی ہے ۔۔۔۔۔میں بے تابانہ اس کی طرف لپکا ۔۔۔۔ماہم کے بال اسکے چہرے پر بکھرے ہوئے تھے ۔۔۔۔میں نے ماہم کا ہاتھ پکڑا بے اختیار اسے اپنے ہونٹوں کے قریب لے جانے لگا تو اس کے سفید رنگت والے ہاتھ کو دیکھ کر میں وہیں رک گیا ۔۔۔۔اسکی نازک سی مخروطی انگلیوں سے مجھے وحشت سی ہونے لگی ۔۔۔۔۔ماہم کا رنگ اتنا سفید تو نہیں ہے ۔۔۔۔
نہیں یہ میری ماہم کا ہاتھ نہیں ہے ۔۔۔۔میں نے فورا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔۔۔اس کے چہرے پر بکھرے بالوں کو بے دردی سے ہٹانے لگا ۔۔۔۔اتنا گورااور سفید رنگ ۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔یہ میری ماہم نہیں ہے ۔۔۔۔میرے ذہن سے مہک کا نقشتہ وقتی طور پر مٹ چکا تھا جیسے میں نے کبھی مہک نامی لڑکی کو دیکھا ہی نا ہو ۔۔۔میرے جارحانہ انداز پر وہ اٹھ بیٹھی ۔۔۔۔
“کیا کر رہے ہو کامران “۔۔۔۔۔وہ جھنجھلا کر بولی میں اندھیرے میں آنکھیں پھلائے اس غور سے دیکھ کر پہچاننے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔
“کون ہو تم ۔۔۔۔۔کون ہو بتاؤں ۔۔۔۔یہاں کیا کر رہی ہو “۔۔۔۔میں شاید اپنے ہواسوں میں نہیں۔ تھا وہ ہونقوں کی طرح میری طرف دیکھنے لگی
“کامران کیا نیند میں ہو ۔”۔۔۔وہ مجھ سے پوچھنے لگی ۔۔۔میں اس میں ماہم کے نقوش ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگا اسکی آنکھوں اور چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگا اندھیرے میں مجھے اس کے چہرے پر کئی چہرے نظر آنے لگے
“نہیں نہیں نیند میں نہیں ہوں ۔۔۔۔۔مجھے سوچنے دو تم کون ہو “۔۔۔۔۔میں اپنے ذہن کو یکسوئی پر نہیں لا پا رہا تھا ۔۔۔۔
“تم شفق ہو ۔۔۔۔ہے نا ۔۔۔شفق ہو نا ۔۔۔نہیں شاید لائبہ ہو ۔۔۔۔ نائلہ ۔ہو مریم ۔۔۔۔کون ہو ۔۔۔مجھے سوچنے دو تم کون ہو” ۔۔۔۔میں اپنا ہاتھ اپنے سر پر مارنے لگا ۔۔۔۔میرے ذہن میں سب ہی نقش گڈ مڈ ہونے لگے
“کامران خدا کے لئے ہوش میں آؤں ۔”۔۔۔۔وہ پریشان سی مجھے دیکھنے لگی سائیڈ ٹیبل پر رکھے پانی کے جگ سے پانی بھر کر مجھے اپنے ہاتھوں سے پلانے لگی میں نے تھوڑاساپانی پیا ۔۔۔۔میں پسینے سے شرابور تھا ۔۔۔۔وہ اپنے ہاتھ سے میرا پسینہ پوچنے لگی میرے سامنے ماہم کا عکس لہرانے لگا میں نے دونوں بازوں سے اسے پکڑا
“ہاں تم میری ہو ۔۔۔میری ماہم ۔۔۔ہے نا ماہم ہو نا تم ۔۔”۔۔میں نے بے اختیار اسے گلے سے لگا کر زور سے بینچ لیا ۔۔۔۔کہ اگر اسے چھوڑ دیا تووہ کہیں غائب ہی نا ہو جائے ۔۔
“۔مجھے چھوڑ کر عفان کے پاس نا چلی جانا ۔۔۔۔ تم دور نا ہو جانا مجھ سے ماہم۔۔۔۔میرا اتنا خیال تو تم ہی رکھتی تھی ۔۔۔۔میری سب سے ذیادہ فکر تو تمہی کو ہوتی تھی ۔۔۔۔۔میرے لئے اتنی فکر مند پریشان تو تم تھی ۔۔۔۔مجھ سے اتنی محبت تو تم کرتی تھی ۔۔۔۔۔ تمہاری زندگی میں پہلے تھا ۔۔۔۔تھا ۔۔۔۔۔نہیں میں تھا نہیں میں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔میں ابھی بھی ہوں ماہم” ۔۔۔۔۔۔میں اسے سینے سے لگائے اپنی گرفت بڑھتا چلا گیا
“کامران “۔۔۔۔۔وہ دبی دبی آواز سے بولی ۔۔۔
“ماہم ۔۔۔ماہم مجھے معلوم ہے تم عفان سے محبت کرتی ہو ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔نہیں محبت نہیں۔ تم تو عشق کرتی ہو اس سے ۔۔۔۔۔اسے تمہاری محبت کی اتنی چاہ ہے ہی نہیں ماہم جتنی مجھے ہے ۔۔۔۔وہ ایک بوند محبت پر بھی راضی ہے وہ قناعت پسند ہے مگر میں۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ میں نہیں ماہم ۔۔۔۔ مجھے سمندر چاہیے میرے سینے میں اتنی آگ ہے کہ سمندر بھی پی جاؤں تو شاید تشنگی نا ہو پائے ۔۔۔۔مجھے تم چاہیے ہو ماہم ۔۔۔۔خدا کے لئے مجھ سے محبت کرو ۔۔۔۔۔۔میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر” ۔۔۔۔میں بد حواس اور ہذیانی کے عالم میں بولے جا رہا تھا
“کامران چھوڑو مجھے ۔۔۔۔میرادم گھٹ رہا ہے” ۔۔۔۔میں نے یک دم ہی اپنی گرفت ہلکی کر لی ۔۔۔۔وہ پیچھے ہٹیں تو وہ ماہم نہیں تھی کون تھی وہ ۔۔۔۔میں نے جلدی سے سائیڈ لمپ کی لائٹ آن کی ۔۔۔۔اب میں پہچان چکا تھا ۔۔۔۔وہ مہک تھی ۔۔۔۔وہ مہک کیوں تھی ماہم کیوں نہیں تھی ۔۔۔۔۔
“مہک ۔۔۔۔مہک تم کیوں ہو ۔۔۔۔کہاں ہے ماہم” ۔۔۔۔۔میں کمرے میں ماہم کو ڈھونڈنے لگا ۔۔۔۔مہک کچھ نہیں بولی بس ایک تاسف بھری نظر سے مجھے دیکھتی رہی میں دیوانوں کی طرح کبھی کھڑکی کے پردے ہٹا کر کبھی ڈرسنگ روم میں کبھی واش روم ماہم کو ڈھونڈتا رہا ۔۔۔مہک ایک بار بھی میرے قریب نہیں آئی تھک کر میں وہیں بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔
“کیوں سہراب کے پیچھے بھاگ رہے رہو کامران ۔۔۔۔۔تمہارے لئے ماہم صرف ایسا نخلستان ہے جو تپتے صحرا میں دور سے نظر آ کر آنکھوں کو خیراں کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔سامنے دیکھنے سے لگتا ہے وہاں ضرور ہریالی سرسبز شاداب جگہ اور ٹھنڈا پانی ملے گا اور تم خود کو سیراب کر لو گئے ۔۔۔۔مگر جب تم بھاگتے گرتے اس تک پہنچوں گئے وہ نظروں سے غائب ہو جائے گا اور رہے گا وہی تپتا ہوا صحرا تمہاری مسافت کبھی ختم نہیں ہو گئ” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مہک کی بات شاید ٹھیک ہی تھی ۔۔۔۔۔مگر وہ کامران ہی کیا جو ہار مان جائے
“تم مزاق اڑا رہی ہو میرا ۔۔۔۔۔مگر دیکھ لینا میں تمہیں ماہم کو پا کر دیکھاوں گا ۔”۔۔۔میں ٹوٹ چکا تھا میری آواز میں بھی دم نہیں تھا ۔۔۔۔مگر میں پیچھے ہٹنے کو بھی تیار نہیں تھا میری بات سن کر مہک ہسنے لگی ۔۔۔۔
“چچ چچ ترس آتا ہے مجھے تم پر کامران ۔۔۔۔قسم سے مجھے ہمدردی محسوس ہوتی ہے تم سے ۔۔۔۔۔کیونکہ محبت کے قابل تو تم ہو ہی نہیں ۔۔۔۔نا میری ۔۔۔نا ماہم کی”۔۔۔۔۔۔۔مہک کی آنکھوں میں میرے لئے حقارت بھی تھی اور لہجہ طنز سے ڈوبا ہوا مگر ترحم
میں چپ چاپ لیٹ گیا ۔۔۔۔مہک نے لمپ آف کیا اور لیٹ گئ
