458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 40

Tadbeer by Umme Hani

میں نیچے گیٹ کے پاس آیا باہر قاسم کی گاڑی کھڑی تھی میں نے چھوٹا دروازہ کھولا اور گھر سے باہر نکل آیا ۔۔۔۔قاسم اپنی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے بڑے غصیلے انداز سے کھڑا تھا ۔۔۔۔میرے سلام کا بھی جواب نہیں دیا ۔۔۔۔

“اندر چلو قاسم یوں باہر سڑک پر کھڑے تو بات نہیں ہو سکتی” ۔۔۔میں نارمل لہجے سے بات کی مگر وہ ہتھے سے اکھڑ گیا

“نہیں جانا مجھے اندر یہیں بات کرونگا تم سے ۔۔۔کیا سمجھ رکھا ہے تم لوگوں نے مہک کو ۔۔۔جو جی میں آئے گا اسکے ساتھ کر گزرو گئے ۔۔۔اور کوئی تم لوگوں سے باز پرس بھی نہیں کرے گا ۔۔۔لا وارث ہے وہ یا کال گرل سمجھ رکھا اسے” ۔۔۔۔قاسم نے اشتعال میں آ کر میرا گریبان پکڑ لیا میں ششدد سا رہ گیا تھا اسکی بات سرے سے میری سمجھ میں ہی نہیں آئی تھی مہک کا تو مجھے کافی عرصے سے اتا پتا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔پھر اس کا ذکر قاسم کے منہ سے ۔۔۔ اسکا لب و لہجہ میں سمجھ ہی نہیں پایا تھا قاسم کے اونچے لہجے پر کریم بابا باہر آ گئے قاسم کو یوں دست گریباں دیکھ کر اسکی طرف بڑھے

“قاسم صاب جی یہ کیا کر رہیں ہیں آپ چھوڑیں چھوٹے صاحب کو” ۔۔۔۔کریم بابا قاسم کے ہاتھ سے میرا گریبان چھڑوانے لگے مگر قاسم چلانے لگا

“آپ بیچ میں مت آئیں میں نہیں چاہتا کہ کسی بے قصور کو پیٹ ڈالو “۔۔۔۔

قاسم نے کریم بابا کا بھی لحاظ نہیں کیا

“کریم بابا آپ اندر جائیں” ۔۔۔میں نے اپنا لہجہ متوازن ہی رکھا ۔۔۔۔

“مگر صاحب جی “۔۔۔

“آپ اندر جائیں ۔۔۔۔یہ میرا ور قاسم کا معاملہ ہے ۔۔۔آپکو اندر کسی سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ۔۔”۔میں نے کریم بابا کو اندر بھیج دیا ۔۔۔۔میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ سب تماشہ میرے گھر والے دیکھیں ۔۔۔۔

“بڑی فکر ہے تمہیں اپنے گھر کی ۔۔۔۔دوسروں کے گھروں کی بہن بیٹیوں کی عزت اچھالتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی ۔۔۔۔۔میں نے اگر ایف آئی آر کٹوا دی تو عزت کا جنازہ نکل جائے گا۔ لوگوں کی “۔۔۔۔قاسم کا غصہ تو آخری حدوں کو چھو رہا تھا آنکھیں بھی غصے سے سرخ ہو رہیں تھیں جیسے سچ میں مجھےمار ڈالے گا ۔۔۔

“تمہیں اگر ایسے ہی چین ملے گا تو جاؤں کٹوا دو ایف آئی آر ۔۔۔مگر مجھے پہلے میرا قصور بتاؤں مہک کا کیا ذکر ہے ۔۔۔۔ہمارا تعلق ہی کیا ہے مہک سے ۔۔۔۔اور کیا کیا ہے میں نے مہک کے ساتھ ۔۔۔میں نے تمہاری مہندی کے بعد اسے دیکھا تک نہیں “۔۔۔۔میں نا توقاسم کا بدلہ ہوا رویہ سمجھ پا رہا تھا نا اسکی آدھی ادھوری بات ۔۔۔۔

“بکو۔مت عفان ۔۔۔۔۔ہر بات سے واقف ہو تم ۔۔۔”

“گریبان چھوڑو میرا قاسم ۔”۔۔میں نے جھٹکے سے اپنا گریبان چھڑوایا ۔۔۔۔میرا لہجہ بھی بلند ہو گیا تھا

“یا تم مجھے پوری بات بتاؤں ورنہ جو جی میں آئے کرتے رہو ۔۔۔۔

تمہیں اگر پولیس میں کیس درج کروا کر انکے سامنے سب سچ بتانا ہے تو ایسے ہی صحیح ۔۔۔بتاوں جا کر پولیس میں کٹواں ایف آئی آر لو وہاں مہک کا نام ۔۔۔تب کیا بد نامی نہیں ہو گی اسکی ۔۔۔۔میں سچ میں مہک کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور یہ میں وہاں بھی ثابت کر سکتا ہوں “۔۔۔میری بات شاید اسکی عقل میں آئی تھی اب وہ پہلے کی طرح اشتعال میں نہیں آیا مگرمجھے بے یقینی سے دیکھتے ہوئے بولا

“کھاؤں اپنی بیوی کی قسم ۔۔۔میں جانتا ہوں تم ماہم کی چھوٹی قسم نہیں کھا سکتے ۔۔۔۔قسم کھا کر بولو کہ تم مہک کے بارے میں کچھ نہیں۔ جانتے ۔۔۔۔ “

“میں ماہم کی قسم کھا کر کہتا ہوں میں مہک کے بارے میں کچھ نہیں جانتا ۔۔۔۔آ گیا یقین تمہیں ۔میری بات پر۔۔۔” قاسم مجھے دیکھنے لگا پھر غصے سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا ۔۔۔گاڑی کے بونٹ پر مکا مار کر دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا ۔۔۔

“سمجھ نہیں آ رہا سچ کیا ہے “۔۔۔۔

میں اسکے پاس جا کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔

“مجھے بتاؤں گئے کہ ہوا کیا ہے “۔۔۔میں نے قاسم کے سامنے کھڑے ہو کر کہا قاسم کچھ ثانیے کے لئے چپ رہا غصے کا ابال بھی قدرے کم ہو چکا تھا

“مہک نے مجھے خود بتایا ہے کہ۔ تم سب جانتے ہو”

“کیا جانتا ہوں میں ۔۔۔اور کس کی باتوں پر بھروسہ کر رہے تم ۔۔۔افسوس ہے مجھے تم پر ۔۔۔۔مہک نے تم سے میرے بارے میں کچھ بھی اول فول بک دیا اور تم مجھ سے لڑنے آ پہنچے مجھ سے ایک بار بھی تصدیق نہیں کی ۔۔۔یہ ہے تمہاری دوستی”۔۔۔۔۔۔

“حالات ہی کچھ ایسے پیدا ہو گئے تھے تم بھی میری جگہ ہوتے تو وہی کرتے جو میں نے کیا “۔۔۔۔

“اب ذرا تحمل سے مجھے پوری بات بتاؤں گئے کہ ہوا کیا ہے ۔’

“ضیا کو تو تم جانتے ہو نا ۔۔۔ہمارا یونی فیلو” ۔۔۔قاسم نے میرے ایک کلاس فیلو کا نام لیا ۔۔۔جسے ہم دونوں ہی جانتے تھے ۔۔۔۔

“ہاں”

“دو تین دن پہلے میں اس سے ملنے گیا تھا واپسی پر میں نے مہک کو ایک اپپاٹمنٹ میں جاتے دیکھا ۔۔۔۔چچا چچی ان دنوں مہک کو لیکر بہت پریشان تھے اسکی ایکٹیوٹیز کافی مشکوک سی ہو گئیں تھیں ۔۔۔پورا پورا دن وہ بنا بتائے نا جانے کہاں غائب رہنے لگی تھی۔۔۔۔میں نے اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا ۔۔تا کہ اصل وجہ جان سکوں جس قسم کا وہ پرانہ سااپاٹمنٹ تھا مہک کی کسی دوست کا نہیں ہو سکتا تھا اسکی فرینڈ سب ہی ماڈرن گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں ۔۔۔۔۔ تیسری منزل پر جس فلیٹ کے سامنے وہ کھڑی ڈور بیل دے رہی تھی جانتے ہو اس کا دروازہ کس نے کھولا تھا ۔۔۔

“کس نے “

“کامران نے” ۔۔۔۔میں بھونچکا کر رہ گیا تھا میری حیرت کی انتہا نا تھی ۔۔۔۔

“مجھے بھی ایسی ہی حیرت ہوئی تھی۔۔۔مہک کے بارے میں کامران تو میرے گمان میں بھی نہیں تھا ۔۔۔ جس طرح سے مہک اسکے گلے لگ کر اندر گئ تھی میرا شرم کے مارے سر ہی جھک گیا تھا اس طرح کسی لڑکے کے ساتھ فلیٹ میں یوں جانا ۔۔۔تم سمجھ سکتے ہو اس کا مطلب ۔۔۔۔۔میرا تو خون کھول کر رہ گیا مگر میں تماشہ نہیں چاہتا تھا ۔۔۔اس لئے وہیں سے پلٹ کر نیچے اتر آیا ۔۔۔چوکیدار کو سو کا نوٹ دینے پر یہ معلوم ہو کہ وہ فلیٹ کامران کے کسی دوست ہے اس کا دوست تو آؤٹ آف سٹی ہوتا ہے مگر کامران مہک کے ساتھ اکثر وہان آتا جاتا رہتا ہے ۔۔۔۔

میں مہک کو سمجھانے اس کے گھر بھی گیا تھا مگر وہ کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھی ۔۔۔مجھ پر بھڑکنے لگی کہ کامران اور وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں شادی کرنا چاہتے ہیں کامران اپنے پیر نٹس کو بھی بھیجنا چاہتا ہے ۔۔مگر تم منع کر رہے ہو ۔۔۔۔۔میں نے کامران کی منگنی کا قصدا مہک سے ذکر نہیں کیا ۔۔۔۔مجھے کامران ویسے بھی پسند نہیں ہے ۔۔۔میں نے سوچا اگر کامران کی شادی وہاں ہو جاتی جہاں تم لوگوں نے اسکی منگنی کی ہے تو مہک خود با خود ہی پیچھے ہٹ جائے گی لیکن آج جب میں فاریہ کو ہاسپٹل لیکر گیا مہک کو وہاں ایک لیڈی ڈاکٹر سے لڑتے جھگڑتے دیکھا وہ اپنا اباشن کروانے پر باضد تھی ۔۔۔میں اور فاریہ تو ہونق رہ گئے میں نے مہک کو پکڑا اور اسکی بات سنے بغیر میں اور فاریہ اسے اپنے گھر لے گئے میں نے مہک کو دھمکی دی کہ اگر اس نے سچ نہیں بتایا تو میں چچا سے سب کچھ کہہ دونگا۔۔۔پھر اس نے بتایا کہ کامران اس سے شادی کر چکا ہے ۔۔۔۔انکی شادی کو بھی پانچ ماہ گزر چکے ہیں ۔۔۔اور یہ بات اسکی فیملی میں صرف تم جانتے ہو اور تم ہی اپنے والد کو مہک سے کامران کی با عزت شادی کروانے سے منع کر رہے ہو ۔۔۔۔یہ سب سن کر میں کیا گمان کرتا عفان تمہارے بارے میں ۔۔۔اگر تمہارا بھائی غلطی کر چکا ہے تو تم سدھارنے کے۔ بجائے ۔”۔۔۔قاسم کی باتوں نے سچ میں میرے پیروں کے نیچے سے زمین نکال دی تھی ۔۔۔۔مہک اور کامران ۔۔۔۔۔شادی ۔۔۔۔ابارشن ۔۔۔۔۔پندرہ دن بعد کامران کی نائلہ سے شادی تھی۔۔۔۔کارڈ تک بٹ چکے تھے ۔۔۔۔مجھے اپنا سر گھومتا ہو محسوس ہونے لگا ۔۔۔۔۔میرے دماغ میں آندھیوں کا چکر سا چلنے لگا تھا یہ کون سی نی کہانی تھی جس کے بارے میں میں انجان ہونے کے باوجود سر فہرست تھا

“تم چاہوں تو مہک سے بات کر سکتے ہو “۔۔۔قاسم کا مشورہ مجھے بھی مناسب لگا ۔۔۔مہک سے بات کر کے ہی کوئی حل نکل سکتا تھا

“ہاں یہی بہتر ہے تم پوچھ لو مہک سے ۔۔۔میں چلو گا تمہارے ساتھ ۔۔۔۔”

“عفان مہک کے ساتھ کوئی بھی زیادتی نہیں ہونی چاہیے ۔۔۔۔”

“بے فکر رہو ۔۔۔مگر پہلے مجھے حقیقت جاننی ہے کہ سچ کیا ہے “۔۔۔میں خود ذہنی پریشانی سے دو چار ہو چکا تھا ۔۔۔۔قاسم چلا گیا مگر مجھے نئ الجھن میں ڈال گیا تھا میں جب کمرے میں آیا ماہم سو چکی تھی ۔۔۔۔میں آکر لیٹ تو گیا مگر ذہن اب بھی قاسم کی باتوں میں الجھا ہوا تھا ۔۔۔۔پاپا کو جب کامران کے اس نئے کارنامے کے بارے میں پتہ چلے گا تو نا جانے کیا گزرے گی انکے دل پر نا جانے کیوں اس شخص نے ہمہیں سب کے سامنے ذلیل اور رسوا کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔۔۔۔۔

صبح آفس آف ہوتے ہی میں قاسم کے ساتھ مہک کے گھر پر پہنچ گیا اسکے پیرنٹس تو گھر پر موجود نہیں تھے ایک ملازم نے ہمہیں ڈرائنگ روم میں بیٹھایا اور مہک کو بلانے چلا گیا اس بیچ میری اور قاسم کی آپس میں کوئی بات نہیں ہوئی ہم اپنی اپنی جگہ دونوں ہی چپ تھے ۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں مہک کھلے سے ٹاروزر اور سلیو لیس شرٹ بکھرے بالوں پر کیچر لگائے ۔۔میرے سامنے رکھے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئ اسکے حلیے سے لگ رہا تھا کہ ابھی اٹھی ہے ۔۔۔۔اسکے چہرے پر پہلے جیسے چمک نہیں رہی تھی عجیب ستا ستا سا چہرہ آنکھوں کے گرد گہرے ہلکے ۔۔۔بنا میک اپ کے بے رونق سی لگ رہی تھی مجھے نظر انداز کر کے قاسم سے پوچھنے لگی

“کیا لو گئے قاسم جوس یا چائے منگوا لوں “

“کچھ بھی نہیں مہک” ۔۔۔قاسم کے منع کرنے پر بھی مہک نے ملازم کو پکار کر جوس کا کہہ دیا بات کا آغاز قاسم نے ہی کیا

“مہک عفان ہر بات سے انجان اور بے خبر ہے اسے کچھ بھی معلوم نہیں ہے ۔۔۔کامران نے یقینا تم سے جھوٹ بولا ہو گا ۔”۔۔۔قاسم کی بات پر ماہم کی چھبتی ہی نظریں مجھ پر جم گئیں

“میں تمہاری بات پر یقین کیوں کروں قاسم اور میں اس کی بات پر بھی بھروسہ کیسے کروں”۔۔۔وہ تلخ لہجے میں بولی اسکے کڑے تیور دیکھ کر میں۔ نے ہی مصلحتا بات کو آگے بڑھایا

“مہک میری تمہاری ذاتی کوئی دشمنی نہیں ہے ۔۔۔بس اس ذرا سی بات کے کہ تم مجھ سے دوستی کرنا چاہتی تھی اور میں نہیں

آئی تھنکس دس از ناٹ آ بگ ایشو” ۔۔۔۔میں نے اپنا لہجہ قدرے ہموار ہی رکھا تھا مگر وہ اشتعال میں آ گئ

“ڈونٹ میک می آ فول عفان رضا ۔۔۔۔۔تم سب جانتے تھے یہ میں پورے وثوق سے کہہ سکتی ہوں ۔۔۔۔تم اور تمہاری وہ چالباز بیوی ۔۔شی از آ بلڈی بیچ ۔۔۔”

“مہک ۔”۔۔میرے چلانے پر وہ چپ ہو گئ اور مجھے غصے سے دیکھنے لگی

“ماہم کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں سنو گا ۔۔۔۔ناو کیپ شٹ یور ماوتھ” ۔۔۔۔میں وہاں سے کھڑا ہو گیا ۔۔۔اس فضول لڑکی سے بات کرنا ہی وقت کا ضائع تھا ۔۔۔۔قاسم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا

“بیٹھو عفان ۔۔مہک تم بھی زبان کو لگام دو ۔۔۔وہ یہاں تمہاری مدد کے لئے آیا ہے ۔۔۔”وہ استزائیہ انداز سے ہنسی

“او ریلی ۔۔۔۔یہ مدد کرے گا میری ۔۔۔جو میرے اور کامران کے بیچ میں دیواریں کھڑی کر رہا ہے” ۔۔۔مہک کا لہجہ ویسا ہی تھا ۔۔۔۔میں دوبارہ بیٹھ چکا تھا ۔۔۔۔میں نے بامشکل خود کو کنٹرول کیا ۔۔۔۔اور ناصحانہ انداز سے مہک سے کہا

“لسن مہک ۔۔۔ان الجھی ہوئی باتوں سے نا تو میں کسی نتیجے پر پہنچ سکتا ہوں نا تمہیں اپنی بات سمجھا سکتا ہوں پلیز تم پہلے ریلیکس ہو کر مجھ سے بات کرو ۔۔۔۔میں تو کل سے اسی کشمکش میں مبتلہ ہوں کہ ۔۔۔کامران ۔۔۔اور تم۔۔۔۔۔آئی مین تم ملی کب اس سے ۔۔۔۔۔وہ تمہیں کیسے جانتا ہے مہک ۔۔۔۔۔مہک نے مجھ پر تیکھی نگاہ ڈالی پھر کچھ توقف کے بعد بتانا شروع کیا

“قاسم کی انگیجمٹ پر”

“پھر” ۔۔۔۔میں نے مہک کو خاموش دیکھ کر پوچھا

“پھر میری اس سے فون پر بات ہونے لگی ۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ کامران ماہم سے انگیجٹ ہے ۔۔۔میرا ارادہ بھی فرینڈ شپ سے آگے بڑھنے کا نہیں تھا۔۔۔۔سچ تو یہ ہے عفان کے تمہارے انکار سے مجھے اپنی بے عزتی اور ہتھک محسوس ہوئی تھی اسی ضد میں میں کامران سے دوستی کر بیٹھی ۔۔۔۔پھر کامران کی توجہ محبت کے اظہار نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔اس نے مجھ سے صاف کہا تھا کہ وہ ماہم سے محبت نہیں کرتا ۔۔۔انفکٹ وہ اسے پسند بھی نہیں کرتا اور ماہم سے شادی بھی تمہاری فیملی کے دباؤ کی وجہ سے کر رہا ہے۔۔۔۔محبت وہ مجھ سے کرتا ہے ۔۔۔میں۔ بھی اسکے معاملے میں سیریس ہوتی چلی گئ ۔۔۔۔۔ مجھے اپنا آپ اسے بغیر ادھورا لگنے لگا ۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں تمہاری نظر میں میں ایک بری لڑکی ہوں ہاں یہ سچ ہے میری لڑکوں سے دوستی بہرحال رہی ہے ۔۔۔۔مگر میں بری نہیں ہوں ۔۔۔۔۔فضول خرچ بھی ہوں مگر کریکٹر لیس نہیں ۔۔۔۔میں نے کبھی ڈرنک نہیں کی تھی ۔۔۔۔کبھی کلب میں بھی نہیں گئ تھی ۔۔۔کامران کی مہندی پر پہلی بار میں نے ڈرنک کی تھی ۔۔۔۔میں سے کھونا نہیں چاہتی تھی وہاں بھی سب سچ بتانے آئی تھی مگر تم نے مجھے جان بوجھ کر کچھ بولنے کا موقع پہ نہیں دیا ۔۔۔۔قاسم بھی مجھے اپنے ساتھ زبردستی واپس لے گیا ۔۔۔کچھ میں اس قدر نشے میں تھی کہ گاڑی میں ہی بے ہوش ہو گئ ۔۔۔تم جانتے تھے سب جبھی تم نے مجھے بات نہیں کرنے دی ۔۔۔۔مہک آنکھوں میں غصہ لیے بول رہی تھی

“نہیں مہک غلط فہمی ہے تمہاری ۔۔۔میں حقیقت سے آشنا نہیں تھا ۔۔۔۔مجھے لگا تم اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لئے میرا تماشہ بنانے آئی ہو ۔۔۔۔”

میں فورا سے وضاحت دی

“لیکن کامران نے مجھے اسی رات فون کر کے بتایا تھا کہ تم ہی نےمجھے نکالا تھا ۔۔۔۔۔اور کامران کو بھی دھمکی دی تھی کہ مجھ سے دور رہے کیونکہ میں ایک کریکٹر لیس لڑکی ہوں ۔۔۔تم مجھے دوستی کے قابل نہیں سمجھتے تو اپنے بھائی کی شادی مجھ سے کیسے ہونے دے سکتے ہو ۔۔۔مجھے یہ سب سنتے غصہ آنے لگا میں نے بھی دل میں ٹھان لی کہ کامران کی شادی یوں زبردستی کسی اور سے ہونے نہیں دونگی ۔۔۔۔اس لئے عین بارات کے موقع پر میں اسے فون کیا اسے دھمکی دی کہ اگر وہ پندرہ منٹ میں میرے پاس نہیں پہنچا تو میں خود کشی کر لوں گی اور پولیس میں پہلے ہی فون کر کے بتا دوں گی کہ میری موت کا زمہ دار کامران ہو گا ۔۔۔میری دھمکی اس پر اثر کر گئ تھی وہ ٹھیک پندرہںت بعد میرے پاس موجود تھا ۔۔۔۔میں۔ اسلام آباد کے دو ٹکٹس پہلے ہی ریزرو کروا چکی تھی ۔۔۔۔کامران نے مجھے سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ میں اسے جانے دوں مگر میں نے اسکی ایک نہیں سنی ۔۔۔اسکی گاڑی اپنی ایک دوست کے گیراج میں رکھوائی اور اسے اپنے ساتھ اسلام آباد لے گی۔۔۔۔۔وہاں میری بہت سی کلوز فرینڈ تھیں ۔۔۔وپیں میں نے اپنے چند دوستوں کی موجودگی میں کامران سے نکاح کر لیا ۔۔۔۔ہم چند دن اسلام آباد میں ہی رہے ۔۔۔واپسی پر کامران نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ شادی کا معاملہ ٹھنڈا ہوتے ہی وہ اپنے پاپا کو میرے لئے اگری کر لے گا ۔۔۔میں بھی مطمئن ہو گئ کہ اب میری اس سے شادی ہو چکی ہے ۔۔۔ہمارے پیرنٹس کو قبول کرنا ہی پڑے گا ۔۔۔۔۔۔مگر جب کامران کو یہ معلوم ہوا کہ ماہم کی شادی تم سے ہو گئ ہے ۔۔۔ہی واز کرزی فور ماہم۔۔۔۔مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا جب وہ محبت مجھ سے کرتا تھا تو ماہم کے لئے اسکا پاگل پن کیوں ۔۔۔۔ وہ بار بار مجھ سے کہنے لگا کہ وہ ماہم کو تمہارے ساتھ برداشت نہیں کر سکتا ۔۔۔۔وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔میں اسکی منت سماجت کرنے لگی کہ وہ ایسا نا کرے انہی دنوں میں ڈرنک بہت ذیادہ کرنے لگی تھی پھر جب مجھے یہ پتہ لگا کہ میں اکسپکٹو ہوں میں نے کامران کو بتایا مگر وہ اس بات پر اگری نہیں تھا اسی کے کہنے پر میں نے اباشن کروایا تھا کامران مجھ سے کترانے لگا مجھ سے دور رہنے کے بہانے ڈھونڈنے لگا ۔۔۔۔بات تو بعد میں کھلی کہ ماہم بھی تمہارے ساتھ رہنا نہیں چاہتی کامران اسکے مجبور کرنے پر مجھ سے پیچھا چھڑوانا چاہتا تھا ۔۔۔تبھی قاسم کی شادی پر اسے تمہارے ساتھ خوشیاں مناتے دیکھکر میں پاگل ہونے لگی تھی میری زندگی برباد کر کے وہ ۔۔۔تمہاری بیوی اور تم کیسے خوشیاں منا سکتے ہو ۔۔۔مگر ہوا کیا عفان پھر مجھے ہی برا بھلا کہا گیا ۔۔۔۔وہ مکار عورت ۔۔۔۔”

“مہک پلیز ۔۔۔۔۔غلط سمجھی ہو تم ماہم کو ۔۔۔۔۔”

“تم تو یہی کہو گئے جادوگر ہے وہ لڑکی ۔۔۔۔اسکی محبت کا جادو تو سر چڑھ کر بولتا ہے ۔۔۔۔مجھے یہ بتاؤں عفان میرا کیا قصور ہے میں نے کیا بگاڑا ہے تمہاری وائف کا اسے بولو چھوڑ دے کامران کا پیچھا۔۔۔۔اب بھی میں مصیبت میں ہوں اتنی جلدی میرا دوسرا اباشن بھی ممکن نہیں ہے” ۔۔۔۔۔وہ رونے لگی ۔۔۔کامران کے شاطرانہ دماغ پر میں زچ ہو کر رہ گیا تھا۔۔۔۔نا جانے کون کون سے گھٹیا کھیل وہ میرے اور ماہم کا نام لیکر کھیل رہا تھا ۔۔۔میرے خلاف کتنی تدبیریں وہ بنا رہا تھا ۔۔۔۔ قاسم اٹھ کر مہک کے برابر میں بیٹھ کر اسے تسلی دینے لگا ۔۔۔۔

“یہ سب جھوٹ ہے مہک ۔۔۔کامران نے دھوکے میں ۔ رکھا ہے تمہیں ۔۔۔تمہیں بھی ۔ چاہیے تھا کہ تم کم از کم قاسم کو ہی سچ بتا دیتی”۔۔۔۔میں نے مہک کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی ۔۔۔جو جو انکشافات وہ مجھ پر کر چکی تھی میری عقل کو دنگ کرنے لئے کافی تھے ۔۔۔

“وہ ایسے کیسے کر سکتا تھا ۔۔۔اسکے آنسوں جھوٹ نہیں ہو سکتے وہ بے بسی سے روتے ہوئے مجھ سے یہ سب کہتا تھا ۔۔۔۔میں کیسے مان لوں کہ تم سچے ہو ۔۔۔۔”

“میں خود تمہاری شادی کامران سے کرواں کا پوری عزت اور احترام کے ساتھ جو تمہارا حق ہے” ۔۔۔۔میری بات پر مہک نے مشکوک سے انداز سےمجھے دیکھامیری بات وہ بے یقین تھی ۔۔۔۔

“چلو مت مانو میری بات مجھ پر بھروسہ بھی مت کرو ۔

یہ بتاؤں نکاح نامہ ہے تمہارے پاس ۔۔۔

“نہیں وہ تو کامران کے پاس ہی تھا ۔۔۔۔”وہ آنسوں پونچنے لگی

“کوئی اور ثبوت ہے ۔۔”۔

“کچھ پکس ہیں میرے موبائل میں نکاح کے وقت کی بھی ہوں گی ۔۔۔”

“گڈ ۔۔۔۔وہ تم اپنے پاس سنبھال کر رکھنا ۔۔۔اب میری بات غور سے سنو

تم کامران سے ایک ملاقات ایسی کرو جو میں اور قاسم دیکھ اور سن سکیں ۔۔۔۔”

“مطلب ۔”۔۔۔

“مطلب یہ کہ تم کسی دن کامران کو اسی فلیٹ میں بلاؤں جہاں تم دونوں ملتے تھے ۔۔۔۔۔چند ایسے سوال میں تمہیں بتاؤں گا جو تم کامران سے پوچھو گی ۔۔۔مجھے یقین ہے کہ سچ تمہارے سامنے آ جائے گا ۔۔۔۔۔۔میں نے اپنا اگلا پورا پلان قاسم اور مہک کو بتایا قاسم تو فورا تیار ہو گیا مگر مہک کچھ تذبذب کا شکار تھی ۔۔۔

“مگر میں” ۔۔۔

“مہک تم انکار نہیں کرو گی بس” ۔۔۔۔قاسم کے دو ٹاک انداز پر مہک بلا آخر مان گئ

۔”۔۔اس فلیٹ کی ایک چابی مہک کے پاس تھی” دوسری کامران کے پاس وہ چابی مہک نے ہمہیں دیدی ۔۔۔۔۔دوسرے دن ہی دن مہک نے قاسم کو فون کر بتایا کہ کامران چار بجے اسے اسی فلیٹ پر

ملنے آئے گا ۔۔۔۔میں اور قاسم پہلے ہی اس فلیٹ پر پہنچ گئے تھے وہ پرانے سے طرز کا بنا ہوا دو کمرے کا فلیٹ تھا مگر فرنیچر ایک ہی کمرے میں سجا ہوا تھا ۔۔۔۔دوسرا کمرہ اور چھوٹا سا لاونج خالی تھا کچن میں بھی سامان نا ہونے کے برابر تھیں ۔۔۔۔۔کمرے سے منسلک ایک چوٹی سی بالکونی تھی ۔۔۔جسکی کھڑکی کمرے میں کھلتی تھی ۔۔۔ہم دونوں وہاں چھپ کر بیٹھ گئے سب سے پہلےکامران وہاں پہنچا تھا آتے ہی کھڑکی کے پردے پیچھے کر دیے ہم دونوں فورا سے نیچے بیٹھ گئے اگر وہ ہمہیں دیکھ لیتا تو سارا پلان ہی چوپٹ ہو جاتا ۔۔۔۔اور خود فون پر کال کرنے لگا ۔۔۔

“ہاں کہاں ہو تم مہک ۔۔۔میں پہلے ہی تمہیں کہہ چکا ہوں کہ زیادہ وقت نہیں دے سکتا ہوں جلدی پہنچو” ۔۔۔۔فون پر بات کرنے کے بعد وہ بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ڈور بیل پر کامران نے ہی دروازہ کھولا ہم دونوں ہی الرٹ ہو کر بیٹھ گئے تھے کھڑکی کے پردے ہٹا کر کامران نے میرا کام اور بھی آسان کر دیا تھا ۔۔میں نے موبائل کا کیمرہ آن کیا۔۔۔مہک نے جو کچھ کامران سے پوچھنا تھا وہ میں اسے پہلے ہی بتا چکا تھا ۔۔۔۔مہک کے کمرے میں آتے ہی کامران غصے سے بولنے لگا

“مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔کیوں بار بار مجھے فون کر کے پریشان کر رہی ہو

“مبارک باد دینی تھی تمہیں” ۔۔۔۔مہک بہت مطمئن انداز سے بولتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئ

“کس بات کی” ۔۔۔۔کامران اسکے سر پر کھڑا پوچھنے لگا

“اتنی ساری خوشخبریاں ہیں میرے پاس تمہارے لئے کامران۔۔۔۔ بتاؤں پہلے کیا سنو گئے” ۔۔۔مہک نے بغیر تمہید باندھے کہا

“او شٹ اپ ۔۔۔جو کہنا ہے جلدی کہو ۔۔۔میں فارغ نہیں ہوں تمہاری پہلیاں بوجھتا پھرو” ۔۔۔۔کامران چلا کر بولا

“کس بات کی جلدی کامران ۔۔۔۔بیٹھوں نا مجھے بہت ساری باتیں کرنی ہے تم سے” ۔۔۔مہک بیڈ پر تسلی سے بیٹھی رہی

“میرے پاس تو اتنا وقت نہیں ہے ۔۔۔تم بیٹھو میں چلتا ہوں’ ۔۔۔کامران تپا ہوا بول کر کمرے سے جانے لگا

“جاؤں مگر یہ سن لو کے اس بار تم باپ ضرور بنو گئے “۔۔۔کامران الٹے قدموں سے لوٹا تھا ۔۔۔

“واٹ آ ربش مہک ۔۔۔یہ کیا بکواس ہے ۔۔۔کل میں تمہیں خود لیکر جاؤنگا ڈاکٹر پر ۔۔۔۔یہ قصہ تو سمجھو کل ہی ختم ہو جائے گا ۔۔۔”

“نہیں کامران ۔۔۔ڈاکٹر صاف منع کر چکی ہے ۔۔۔اس بار اباشن کروانے سے میری جان کا خطرہ ہے ۔۔۔میں یہ رسک مول نہیں لے سکتی ۔۔۔۔کامران کا رنگ بدلنے لگا تھا چہرے پر غصےکی جگہ مسکنت سی چھانے لگی وہ مہک کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا

“دیکھوں مہک سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔بہت بڑی مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔۔۔۔۔ میں ابھی یہ سب افوڈ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔میں نے بات کی ہے پاپا سے تمہارے بارے میں مگر وہ مجھے جائیداد سے عاق کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔۔۔اور یہ سارا زہر عفان نے بھرا ہے ۔۔۔تم تو مجھے سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔۔”

“باقی ساری بات چھوڑو کامران بس یہ بتاؤں اس بڑی مصیبت کا نام کیا ہے جس میں تم پھنس گئے ہو ۔۔۔

“کیا مطلب”

“اس مصیبت کا نام نائلہ ہے ۔۔۔۔ہے نا ۔۔۔جس سے ٹھیک پندرہ دن بعد تمہاری شادی ہونے والی ہے ۔۔۔۔”

“کیا بکواس کر رہی ہو” ۔۔۔وہ گڑبڑا کر بیڈ سے کھڑا ہو گیا ۔۔۔

“کیوں کیا تم نہیں جانتے کسی نائلہ کو” ۔۔۔۔مہک کے استفسار پر وہ نفی میں سر ہلا گیا اور اپنا رخ بھی بدل لیا

“اچھا چلو میں چلتی ہوں تمہارے پاپا کے پاس ۔۔۔میں۔ انہیں خود منا لوں گی ۔۔۔”۔

“”نہیں تم ایسا کچھ نہیں کرو گی”… کامران نے پلٹ کر غرا کر مہک سے کہا

“کیوں ایسا کرنے سے رشتہ ٹوٹ جائے گا نائلہ سے تمہارا ۔۔۔۔۔کہہ دو کہ یہ بھی جھوٹ ہے ۔۔یا یہ سب بھی عفان کا کیا دھرا ہے ۔۔۔اور کتنے جھوٹ بولو گئے مجھ کامران” ۔۔۔۔مہک نے کامران کا گریبان پکڑ لیا اور چلا کر بولنے لگی

“یو لائر ۔۔۔یو چیٹر ۔۔۔۔۔میں بھی دیکھتی ہوں کیسے تم کسی اور لڑکی کی زندگی برباد کرتے ہو”۔۔مہک کامران کے سینے پر مکے مارتے ہوئے چلا رہی تھی تو رہی تھی کامران نے اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کر غصے سے بولا

“تم عفان سےملی ہو اسی نے یہ خناس بھرا ہے تمہارے ذہن میں “مگر مہک اسکی بات سننے کو تیار نہیں تھی

“کتنا غلط سمجھا میں نے تمہیں ۔۔۔کیاکیا غلط نہیں کیا تمہارے وجہ سے ۔۔۔مگر اب نہیں یہ سچ میں سب کے سامنے لا کر رہوں گئ ۔۔”۔

“تم ایسا کچھ نہیں کرو گی ۔۔۔۔۔سمجھی ۔۔۔۔ورنہ مجھے ٹھیک سے جانتی نہیں ہو تم۔۔۔۔۔مت بھولوں کہ شادی میں نے تم سے تمہارے مجبور کرنے پر کی تھی “

“اور محبت وہ کس کے مجبور کرنے پر کی تھی”۔۔۔

“مجھے تم سے کبھی بھی محبت نہیں تھی مہک بس وقتی طور پر تم۔ سے کچھ متاثر ہو گیا تھا ۔۔۔۔کیا خبر تھی کہ مصیبت میں پھنس جاؤ۔ گا ۔۔۔۔تم جیسی لڑکیاں صرف وقتی انجوائمنٹ کیلئے ہوتی ہیں زندگی گزارنے کے لئے نہیں” ۔۔۔۔کامران اپنا گریبان چھڑواتے ہوئے بولا

قاسم کامران کی بات پر طیش میں آ کر کھڑا ہو گیا میں نے جلدی سےاسے کھنچ کر بیٹھایا ۔۔۔

“چھوڑو مجھے عفان میں خون پی جاؤں گا اس کا ۔۔۔”

“شش چپ رہو “۔۔۔میں نے اسے انگلی سے چپ رہنے کا اشارہ

“تو یہ ہے تمہارا اصلی روپ” ۔۔مہک تاسف سے کامران کو دیکھنے لگی۔۔۔کامران کے چہرے پر بلا کا اطمینان تھا

“چلو دیکھ لیا نا اب ۔۔۔۔اب آگے کی سنو سوئٹ ہارٹ” ۔۔۔۔کامران مہک کے پاس آ کر اسکے چہرے سے بکھرے بالوں کو ہٹا کر بولا ۔۔۔مہک نے اس کا ہاتھ غصے سے جھٹک دیا ۔

۔۔”میں تم سے شادی کبھی نہیں کرونگا مہک ۔۔۔۔ہاں طلاق دے سکتا ہوں جب تم چاہو ۔۔۔۔ابھی ۔۔۔۔کل ۔۔۔۔پرسوں ۔۔۔اٹس یور چوائس ۔۔۔۔”کامران کی کمینگی ہنسی اور اطمینان پر مہک تلملا گئ

“کامران میں۔ تمہیں چھوڑو گی نہیں ۔۔۔۔میں تمہاری فیملی سے بات کرونگی” ۔۔۔۔مہک کی بات سن کر وہ ہسنے لگا قہقے لگانے لگا ۔۔۔۔

“کیا کرو گی جان من ۔۔۔کیا ثبوت ہے کہ میں نے تم سے شادی کی ہے ۔۔۔۔نکاح نامہ میرے پاس ہے سویٹی ۔۔۔تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں ۔۔۔میں جب چاہوں آرام سے مکر سکتا ہوں ۔”۔۔۔کامران ۔۔۔اب بھی مطمئن نظر ا رہا تھا

“میرے پاس تصویریں ہیں نکاح کی” ۔۔۔۔

“اچھا” ۔۔۔۔۔وہ ہنستا ہوا مہک کے پاس کھڑا ہو کر تھوڑا جھک کر مہک کے چہرے کے سامنے چہرا کر کے تمسخر سے بولا

“اتنا بڑا ثبوت ۔۔۔۔مہک میں تو ڈر گیا ۔۔۔۔دیکھو خوف کے مارے میں کانپ رہاہوں “۔۔۔۔اپنے ہاتھ مہک کو دیکھانے لگا پھر زور زور سے ہسنے لگا

“پاگل لڑکی ۔۔۔۔میں بول دونگا کہ سب فیک ہے ۔۔۔۔ایسی بیسیوں تصاویر میں تمہاری مختلف لڑکوں کے ساتھ تمہیں دیکھا سکتا ہوں۔۔۔۔ اس لئے ۔۔۔مجھ سے مت الجھو ورنہ بہت پچھتاو گی ۔۔۔اباشن کرواں اپنا ۔۔۔طلاق میں تمہیں۔ چند دنوں میں دیدونگا تم اپنی زندگی دوبارہ سے شروع کر لو کسی کو کچھ بھی خبر نہیں ہو گی “۔۔۔۔کامران کی بات کا جواب دیے بغیر مہک غصے سے اپنا پرس اٹھائے وہاں سے چلی گئ ۔۔۔کامران بھی اسکے پیچھے ہی نکل گیا ۔۔۔۔میں انکی مووی اپنے موبائل پر بنا چکا تھا اس لئے ثبوت کی مجھے اب کوئی ضرورت ہی نہیں تھی وہ ہر بات کا اعتراف کر چکا تھا