Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 12
Rate this Novel
Tadbeer Episode 12
Tadbeer by Umme Hani
1
مہک اسلام آباد سے کچھ مہنے پہلے اپنی فیملی کے ساتھ کراچی شفٹ ہوئی تھی ۔۔۔پہلی بار جب وہ قاسم سے ملنے آفس آئی تھی اتفاق سے میں بھی وہاں موجود تھا قاسم نے پہلی بار میرا مہک سے تعارف کروایا تھا میں میٹنگ کی وجہ سے ذراعجلت میں تھا بس سرسری سا ہائے ہیلو کرکے باہر نکل گیا ۔۔۔۔میں نے مہک کو وہ رسپونس نہیں دیا جو پہلی بار لوگ اسے دیکھ کر دیتے تھے ۔۔۔خاص کر کے لڑکے ۔۔۔وہ بہت خوبصورت تھی پھر رہی سہی کسر دولت نے پوری کر دی تھی اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی ۔۔۔۔۔اس لئے ناز واندام اور بے تحاشہ نزاکت اس کی فطرت میں تھی ۔۔۔۔۔مجھے دیکھ کر وہ مجھ سے بھی ایسی پزیرائی چاہتی تھی جیسا لڑکے اسے دیکھ کر دیتے تھے ۔اسے لگا کہ میں اسکی بے جا تعریف کرتا اس کے آگے پیچے ہی رہتا ہاں ایسا ممکن بھی تھا اگر ماہم میری زندگی میں نا ہوتی ۔۔۔۔۔۔مجھے ماہم کے علاؤہ کہاں کوئی اچھی لگ سکتی تھی ۔۔۔
2
۔بس میرا مہک کو اگنور کرنا مہک سے برداشت نہیں ہوا اس لئے اس نے قاسم سے ایسی شرط لگا لی اسے شاید اپنے حسن پر کچھ ذیادہ ہی اعتماد تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔دوسرے دن قاسم نے میری دعوت کی تھی میں قاسم اور مہک ہی ریسٹورنٹ میں موجود تھے ۔۔۔کھانا بہت پرتکلف تھا اور کھایا بھی اچھے ماحول گیا تھا مہک مجھ سے اپنی اس حرکت کے لئے معذرت بھی کر چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔میں نے بات کو فورا سے ختم کر دیا ۔۔۔۔ویسے بھی یہ کوئی ایسی بڑی بات بھی نہیں تھی ۔۔۔۔۔اسکے بعد مہک کی مجھے کالز آنے لگیں میں نے پھر بھی اس سے لئے دیے ہی بات کرتا تھا ۔۔۔۔۔ذیادہ بات نہیں کرتا نا ہی اپنے اور اسکے بیچ تکلف کی دیوار کو گرانے کی کوشش کی میں بہت مختصر سا جواب دے کر مصروفیت کا بول کر فون بند کر دیتا ۔۔
*********……….*********……..********
3
وقت بہت تیزی سے گزرنے لگا اس دن کے واقع کے بعد مہک دوبارہ آفس میں نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔۔میرے اندر بھی وہی جمود قائم تھا بس زندگی میں ایک روٹین کے علاؤہ کچھ نہیں بچا تھا صبح آفس رات کو ڈنر پھر لیپ ٹاپ پر مصروف بس میں نے خود کو کام میں اس قدر مگن کر لیا تھا کہ گھر پر کم ہی ٹکتا تھا چھٹی کا پورا دن میں قاسم کے ساتھ گزارتا تھا ۔۔۔۔۔۔ماہم بھی اب خاموش سی ہو کر رہ گئ تھی ۔۔۔۔مجھے دیکھتے ہی اپنا راستہ بدل لیتی تھی ۔۔۔۔اب نا تو اسکی ہنسی گھر میں گونجتی تھی ۔۔۔نا ہی اپنی بنائی ہوئی چیزوں کو چیک کروانے کے لئے وہ کسی کے پیچھے بھاگتی تھی کامران کی تو شروع سے الگ ہی دنیا تھی منگنی کا بھی اس پر کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔۔اگلے روز چھٹی تھی میں اپنے ٹیرس میں کھڑا تھا آفس کا بھی کوئی خاص کام نہیں تھا ۔۔۔مجھے شدت سے ماہم کی باتیں اور شرارتیں یاد آنے لگیں سامنے لان میں۔ ہم لوگ بیٹھے کئ گھنٹے باتیں کرتے تھے ۔۔۔۔ماہم زبردستی مجھے دو گھنٹے دھوپ میں بیٹھا کر میرا اسکیچ بناتی تھی ۔۔۔میرے ذرا سے ہلنے جلنے پر مجھے گھورتی اور ڈاٹتی تھی ۔۔۔۔۔وہ وقت بہت اچھا تھا ۔۔۔۔۔اسوقت ۔مجھے ماہم سے دور ہو جانے کا خوف نہیں تھا ۔۔۔۔۔
4
میں اپنی انہیں سوچوں میں گم تھا کہ دروازے کی آہٹ سے میری ساری توجہ نیچے لانج کے دروازے کی طرف مبذول ہو گی ۔مجھے لگا گھر کا اندرونی دروازہ جو لان کی طرف کھلتا ہے اسکی چٹکنی کھلی ہو ۔۔رات ایک بجے تک تو چوکیدار بھی اپنے کواٹر میں چلا جاتا تھا پھر اس وقت کون لاونج سے باہر جا سکتا ہے میں نے فورا سے کمرے کی لائٹ بند کی اور ٹیرس میں کھڑا ہو گیا دروازہ چرچراہٹ سے کھلا ۔۔۔پھر دھیرے سے بند بھی ہو گیا ۔۔۔باہر کافی ٹھنڈ تھی اس لئے چار سو خاموشی کا راج تھا اس لئے ذراسی آواز بھی گونج رہی تھی میں نے لوہے کی ریلنگ سے ذراجھک کر دیکھاتووہ ماہم تھی میں فورا سے پیچھے ہٹ گیا اگر وہ اوپر نظریں اٹھاتی تو میں اسے نظر آ سکتا تھا ۔۔۔۔مگر وہ اسوقت لان میں کیوں آئی ہے
5
ماہم اب لان میں ننگے پاؤں آکر سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئ ۔۔۔اتنی ٹھنڈ میں وہ اپنی شال لپیٹے لان میں بیٹھی رو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔اسکے آنسوں بدتدریج بہہ رہے تھے ۔۔۔۔اور اسکی سسکیاں پورے لان میں گونج رہیں تھیں ۔۔۔۔کیوں رو رہی تھی وہ کہیں کامران نے اسے ڈانٹ نا دیا ہو ۔۔۔وہ ایسا ہی تو تھا ۔۔۔۔پیار سے سمجھانے کے بجائے چلانا شروع کر دیتا تھا ۔۔۔۔پہلے تو میں اسے تسلی دیتا تھا وہ مجھ سے اپنی شکوے شکایتیں کر لیتی تھی مگر اب ۔۔۔۔کتنی اکیلی ہو گئ تھی ۔۔۔۔مجھے خود پر غصہ آنے لگا ۔۔۔۔میں نے اچھا نہیں کیا تھا ماہم کے ساتھ کس چیز کی سزا دے رہا تھا اسے ۔۔۔۔اس کا قصور کیا تھا وہ کون سا واقف تھی اس بات سے کہ میں محبت کرتا ہوں اس سے ۔۔۔۔اور اگر اسے مجھ سے محبت نہیں ہوئی کامران سے ہو گئ تو اس میں اس کا قصور تو نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔ماہم کے آنسوں مجھے اپنے دل پر گرتے
محسوس ہونے لگے اسکی سسکیاں مجھے بے چین کرنے لگی میرا دل چاہا بھاگ کر ماہم کے پاس جاؤں اسکے آنسوں پونچوں اسکے دل کی ساری باتیں سنو کیوں رو رہی ہے وہ ۔۔۔۔مگر میں یہ نہیں پایا ۔۔۔ بے جان سے قدموں سے وہیں کھڑا اسے روتے ہوئے دیکھتا رہا آدھا گھنٹہ وہ یونہی روتی سسکتی رہی پھر واپس اندر چلی گئ ۔۔۔۔پوری رات میں بے سکون ہی رہا ۔۔۔۔
6
صبح اٹھتے ہی میری پہلی کوشش یہی تھی کے جلد از جلد قاسم کے پاس چلا جاؤں ماہم کا روتا اور ستا ہوا چہرہ مجھے نا دیکھنا پڑے ۔۔۔۔میں تیار ہو کر نیچے اترا تو ماہم لاونج میں ہی بیٹھی تھی ۔۔۔وہ اب بھی صوفے پر بیٹھی رو رہی تھی بس ایک لحظہ ہی میری نظر ماہم سے ملی اسکی متورم آنکھوں میں اب بھی آنسوں جھلملا رہے تھے چھلکنے کو تیار تھے ۔۔۔۔ماہم نے فورا نظریں بدل کر ہاتھوں کی پشت سے آنسوں صاف کیے سنٹرل ٹیبل پر رکھا ریموڈ لیکر ٹی وی آن کر کے چینل سرچ کرنے لگی نمی تو میری آنکھوں میں بھی تھی میں نے بلیک گلاسز پہنے اور باہر چلا گیا باہر جا کر اپنی گاڑی میں بیٹھا چوکیدار نے دروازہ کھول دیا میں نے گاڑی اسٹاٹ بھی کی مگر نا جانے کیوں باہر نہیں جا پایا کافی دیر گاڑی کو اسٹاٹ کیے اپنا ہاتھ گیر پر رکھے سوچتا رہا آنکھوں کے سامنے ماہم کا روتا ہوا چہرہ نظر آنے لگا ۔۔۔۔میں کوشش کے باوجود جا نہیں سکا میرا دل مجھے جانے کی اجازت ہی کہاں دے رہا تھا کہ میں ماہم کو یوں
7
روتا چھوڑ کر چلا جاؤں میں دل کے ہاتھوں خود کو بہت بے بس سا محسوس کرنے لگا تھا گاڑی بند کی زور سے اسٹیرنگ پر ہاتھ مارکر اپنی بے بسی کا غصہ نکالا گاڑی سے باہر نکل کر کریم بابا سے دروازہ بند کرنے کا کہہ کر واپس لاونج میں آ گیا ٹی وی اب آف تھا ماہم صوفے پر بیٹھی گھنٹوں میں منہ چھپائے رو رہی تھی۔۔۔میں دھیرے سے چلتا ہوا ماہم کے برابر میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔میں نے جان بوجھ کر گلا کھنکھار کے صاف کیا تا کہ ماہم کو میری موجودگی کا احساس ہو جائے ۔۔۔۔ ماہم نے اپنا چہرہ اٹھا کر مجھے دیکھا آنسوں اب بھی اسکے رخسار سے بہہ رہے تھے
“کیا ہوا ماہم رو کیوں رہی ہو “۔۔۔۔ماہم کو شاید میری موجودگی کی توقع نہیں تھی اس لئے بڑی حیرت سے مجھے دیکھ رہی تھی
“کچھ نہیں بس یونہی” ۔۔۔ماہم اپنے آنسوں صاف کر کے بولی
“کامران بھائی نے کچھ کہا ہے “۔۔۔۔مجھے ترس آ رہا تھا ۔اسکی حالت پر ۔۔۔
8
“نہیں وہ بھلا کیوں کچھ کہیں گئے۔۔۔۔۔میں نے کہا نا بس یونہی ۔۔۔”
“تو پھر میری کوئی بری لگی ہے” ۔۔۔۔میری اس بات پر ماہم نے تڑپ کر میری طرف دیکھا میں سمجھ گیا کہ میری بے رخی اور بے اعتنائی اس سے برداشت نہیں ہو پا رہی ۔۔۔۔ماہم کی آنکھیں پھر سے چھلکنے لگیں مطلب وہ میری ہی وجہ سے رو رہی تھی اسکی آنکھیں اس کے آنسوں مجھ ہی سے شکوہ کر رہے تھے مگر ماہم نفی میں سر ہلانے لگی
“کہا نا عفان بس یونہی ۔۔۔۔”
“اچھا بس یونہی ۔۔۔۔۔تو یہ یونہی آنسوں میرے کیوں نہیں بہہ رہے مجھے ایسے بلاوجہ رونا کیوں نہیں آ رہا ۔”۔۔میں اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا تو وہ آنکھیں چرانے لگی
“اسکے لئے ایک دل کا ہونا ضروری ہوتا ہے عفان جو تمہارے پاس نہیں ہے ۔”۔۔یہ کہہ کر وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔۔اب میں اسے کیا بتاتا کہ دل کے ہاتھوں
9
میں کتنا مجبور ہوں ۔۔۔جو مجھے کسی پل چین نہیں لینے دیتا ۔
“کچھ دیر بیٹھ جاؤں میرے پاس مجھے معلوم ہے کہ تم مجھ سے خفا ہو لڑنا چاہتی ہو تو لڑ لو آج کچھ نہیں کہو گا تمہیں چپ چاپ تمہاری ساری شکایتیں سن لو گا ۔۔”میں نے صلح جوئی سے کام لیتے ہوئے کہا
“نہیں اب ایسی کوئی حسرت نہیں ہے مجھے ۔۔۔تم جہاں جانا چاہتے ہو جا سکتے ہو میرے لئے اپنی روٹین چینج مت کرو “۔۔۔۔یہ کہہ کر وہ جانے لگی تو میں بھی کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔
“اچھا چلو کچھ دیر کے لئے سی ویو چلتے ہیں ۔۔دل بہل جائےگا تمہارا ۔۔۔کافی دن سے میں بزی تھا اس لئے تم سے بھی روڈ ہو گیا ایم سوری ۔”۔۔میں جانتا تھا تھا جب تک میں خود سے ماہم سے معذرت نا کر لوں وہ نہیں مانے گی
“مجھے کہیں نہیں جانا اور نا ہی مجھے کسی اکسکیوز کی کوئی ضرورت ہے” ۔۔۔۔ماہم جانے لگی تو
میں نے اسے بازو سے پکڑ لیا
10
“مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔کہا نا سوری”۔ ۔۔اس بار میں سختی سے بولا
“عفان چھوڑو مجھے۔۔۔۔ نہیں چاہیے مجھے تمہاری سوری۔”۔۔وہ مشتعل ہو کر بولی
“تو پھر رو کیوں رہی ہو ۔۔۔ وجہ بتاؤ مجھے” ۔۔۔میرا لہجہ خود با خود ہی نرم پڑ گیا
“یہ میرا ذاتی مسلہ ہے “۔۔۔وہ اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی میں اسکی بات پر تلخی پر اتر آیا
“اپنے ذاتی مسلے سمجھنے کا شعور ہوتا تمہیں ماہم تو آج یوں تو نا رہی ہوتی۔۔۔۔تمہیں خود نہیں معلوم کہ تم چاہتی کیا ہو اور رو کیوں رہی ہو ۔۔۔۔سب کچھ تو تمہاری خواہش کے مطابق ہوا ہے پھر تم خوش کیوں نہیں ہو ماہم۔۔۔کبھی فرصت میں بیٹھ کر سوچنا “۔۔۔۔میں ایک ایک لفظ چبا کر بول رہا تھا اور وہ مجھے حیرت سے دیکھ رہی تھی جھٹکے سے اس کابازوچھوڑ کر میں باہر چلا گیا
میں کیسے مان لوں کہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی ۔۔۔اسکے آنسوں اسکا ٹوٹا ہوا لہجہ اسکی ناراضگی اور شکایت کرتی آنکھیں سب مجھ سے ۔محبت کا اعتراف کر رہے تھے بس ایک وہی انجان تھی۔۔۔۔۔مجھے معلوم تھا میری یہ واضع وضاحت بھی وہ نہیں سمجھ پائے گی ۔۔۔۔۔وہ ایسی ہی تھی جتنا میں اسے جانتا تھا اتنا ہی وہ خود سے انجان تھی
******………
11
رات دیر تک میں قاسم کے ساتھ ہی رہا ۔۔۔پورادن قاسم ہی مجھ سے ڈسکشن کرتا رہا میں غائب دماغی سے سنتا رہا رات کو قاسم کو میں اسکے گھر ڈراپ کرنے لگا تو اس نے دھماکہ خیز خبر سنائی
“یار اگلے مہینے میری منگنی ہو رہی ہے ۔۔۔شاپنگ کے سلسلے میں کچھ دن شاید آفس سے آف کر لوں ۔۔۔۔”۔میں نے گردن گھما کر حیرت سے قاسم کو دیکھا
“اتنی بڑی خبر تم اتنے منحوس انداز میں سنا رہے ہو ۔۔۔بے مروتی اور کمینگی تو ختم ہے تم پر قاسم “۔۔۔۔۔میری ناراضگی پر وہ کھل کر ہسنے لگا
“یار سیریسلی رات کو ہی خاندان کے سب بڑوں نے ملکر یہ فیصلہ کیا ہے ۔۔۔۔اب رات کو اچانک ہونے والے المیے کی خبر تو آج ہی تمہیں سنا سکتا تھا “۔۔۔۔قاسم نے آنکھیں گھما کر کہا
“یہ مسکینوں والی شکل بنا کر کسی اور کو بیوقوف بنانا اتنے تم اپنے ڈیڈ کے فرما بردار۔۔۔۔اچھا یہ بتاؤ کس کی قسمت پھوٹی ہے تمہارے ساتھ “
12
میری بات پر قاسم مسکرانے لگا
“کزن ہے میری چچا کی بیٹی ۔۔۔۔”
“وہ ۔۔۔مہک “
“ارے نہیں بھئ اس آفت کی پرکالا سے کون شادی کرے “
“کیوں وہ بھی تمہارے چچا ذاد ہے ۔۔۔اور تمہارے ساتھ کافی انڈرسنڈنگ بھی ہے ۔۔۔۔”
“ہاں مہک بھی میرے چچازاد ہے لیکن میرے اور بھی چچا ہیں فاریہ میرے دوسرے چچا کی بیٹی ہے ۔۔۔بہت سلجھی ہوئی اور سمجھدار اور امور خانہ داری میں بھی طاق ہے اور میرے خیال سے ایک لائف پارٹنر میں کوئی اور خوبی ہو نا ہو یہ خوبیاں ہونی چاہیے۔۔۔۔۔”
“کیوں مہک میں نہیں ہے “
“بلکل نہیں ۔۔۔۔۔ایک تو وہ اکلوتی ہے پھر اسکی والدہ ماجدہ کا سوشل ورک ہی کافی وسیع ہے ۔۔۔۔اس کے پاس کہاں فرصت کے ایک اکلوتی بیٹی پر توجہ دے اسی وجہ سے مہک بہت خودسر سی ہو گئ ہے ۔۔۔۔
13
۔اس کا پہنا اوڑھنا تو تم نے دیکھا ہی ہے بہت ایڈوانس ہے وہ ۔پھر کوئی بھی مرد کبھی بھی یہ نہیں چاہتا اسکی بیوی کے ڈھیر سارے بوائے فرینڈز ہوں ۔۔۔۔۔مہک کی لائف بس شاپنگ گھومنا پھرنا دوستیاں اور اپنے ناز نخرے اٹھوانے میں ہی گزرتی ہے پانی تک خود اٹھ کر نہیں پیتی ۔۔۔۔۔میرا تو ایک منٹ کا گزارا نہیں ہے ایسی لڑکی کہ ساتھ کجا شادی تو با ذات خود ایک بڑی ذمہ داری ہے” ۔۔۔۔قاسم کافی سمجھداری والی گفتگوں کر رہا تھا اتنا بھی لاپروا نہیں تھا جتنا میں نے سمجھا تھا مہک مجھے بھی کچھ ایسی سر پھری ہی لگی تھی اتنی دیر میں قاسم کا گھر آ چکا تھا رات تھک ہار کر بیڈ پر لیٹا تو پھر ماہم کا اداس چہرا میرے سامنے گھومنے لگا ۔۔۔۔بہت چپ چپ سی ہو کر رہ گئ تھی وہ ۔۔۔۔میں نے تھکن کے باوجود لیپ ٹاپ اٹھا کر آن کیا اور اپنی سی وی باہر کی کمپنوں میں بھیج دیں ۔۔۔۔میں ہر وقت ماہم کو یوں نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔۔یہی بہتر
14
تھا کہ ہم دونوں ایک دوسرے سے دور ہو جائیں تا کہ وہ بھی اپنی زندگی اچھی گزارے اور میں بھی اس کے علاؤہ کچھ اور سوچ سکوں جو یہاں ایک گھر میں ایک ساتھ رہتے ہوئے ممکن نہیں تھا صبح میں عجلت میں۔ کچن میں کھڑا کوکنگ رینج کے سامنے کھڑا ایک سائیڈ پر چائے رکھی تھی اور دوسری طرف ایگ فرائی کرنے کی نا کام کوشش کر رہا تھا ۔۔۔اور شلف پر رکھے ٹوسٹر میں بریڈ کے سلائس رکھ کر جلدی سے انڈے کی س فرائی کر رہا تھا مما کچن میں میری ہڑبونگ پن دیکھ کر میرے قریب ا گئیں
“عفان یہ تم کیا کر رہے ہو اتنا جلدی ہی آفس جانا تھا مجھے جگا دیتے بیٹا ۔”۔۔۔میں انڈا اب پلیٹ میں ڈال چکا تھا مما نے انڈے کی پلیٹ میرے ہاتھ سے لی میں کچن میں رکھے ٹیبل پر ہی بیٹھ گیا ۔۔۔مما نے انڈے کی پلیٹ ٹیبل پر رکھی اور چائے کپ میں ڈالنے لگیں
میں جلدی سے انڈے پر نمک کالی مرچ چھڑکنے لگا
15
“مما ٹوسٹر سے سلائس نکال دیں پلیز ۔۔۔۔مما نے جلدی سے ایک پلیٹ میں سلائس نکال کر میرے سامنے رکھے اور اب چائے کا کپ بھی میرے پاس رکھ کر میرے برابر میں ہی کرسی کھنچ کر بیٹھ گئیں
ا”یکچلی مما قاسم کی اگلے منتھ انگیجمنٹ ہے اور وہ آج آفس نہیں آئے گا۔۔۔۔”میں جلدی جلدی نوالے اپنے اندر اتارتے ہوئے بولا ساتھ ہی ساتھ چائے کے گھونٹ بھی بھرنے لگا
“اچھا ۔۔۔یہ تو اچھی خبر ہے ۔۔۔۔۔”
“ہمم ۔۔مما ماہم کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا بہت چپ چپ رہنے لگی ہے ۔”۔۔۔۔۔بے اختیار میرے منہ سے وہ بات نکل گئ جو آج کل مجھے اندر ہی اندر پریشان کیے ہوئے تھی کامران بھائی وقت دینا چاہیے ماہم ۔۔۔۔میں اپنی بے چینی چھپاتے ہوئے کہنے لگا
16
“تم تو جانتے ہو کامران کے مزاج کو اپنی مرضی کا مالک ہے ۔۔۔۔ماہم کی خاموشی تو مجھے بھی اندر ہی اندر کھانے لگتی ہے ۔۔۔۔وہ گھر ہر ہوتے ہوئے بھی لگتا ہے گھر پر ہے ہی نہیں “۔۔۔۔مما افسردگی سے کہنے لگیں
“آپ کہیں کامران بھائی سے ماہم کا خیال رکھا کریں ۔۔۔مما آپ انہیں ابھی سے احساس نہیں دلائیں گی تو وہ یونہی ماہم کی طرف سے لاپروا ہی رہیں گئے” ۔۔۔۔میں بہت فکرمندی سے بولا
“کہونگی اس سے بھی وہ سنے تب نا ۔۔۔۔تمہارے پاپا تو چند مہینوں میں شادی کا ارادہ کیے بیٹھے ہیں ایک ہی گھریں رہتے ہوئے ذیادہ لمبی منگنی کے حق میں وہ قطعی نہیں ہیں ۔۔۔۔بس شادی ہوجائے گی تو خود ہی ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔اپنی زمہ داری کو سمجھے گااور نبھائے گا بھی۔۔”۔ مما کی بات بلکل درست تھی مگر خاموش ہو گیا تھا پھر وہاں مزید رکا بھی نہیں ٹیبل پر رکھے اپنے لیپ ٹاپ اور فائلز جس اٹھا کر باہر نکل گیا
**********……….********………..***********
17
پورا دن میں آفس میں ڈسٹرب ہی رہا اگر قاسم موجود ہوتا میں لیو لیکر چلا جاتا تقریبا چار بجے کے قریب میں بے دلی سے فائلوں کی ورق گردانہ کر رہا تھا ورنہ ذہن تو میرااس بات پر مغموم تھا کہ اب کچھ ہی مہینوں میں ماہم مجھ سے بہت دور ہو جائے گی ۔۔۔۔۔
کمرے کا دروازہ بنا نوک کے کھلا سامنے مہک اپنے مخصوص انداز میں وہی بلیک ٹائٹ اور شوٹ شرٹ پہنے بلیک گلاسز سر کے بالوں میں اٹکائے بے تکلف انداز میں میرے سامنے مسکراتے ہوئے خود ہی کرسی کھنچ کر بیٹھ گی ۔۔۔
“ہائے عفان “۔۔۔منہ میں ببل چباتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ میری جانب بڑھاتے ہوئے کہا میں نظر انداز کر گیا اپنے سامنے رکھی فائل غصے سے بند کی اور مہک کو تیکھے انداز سے دیکھنے لگا
“قاسم تو آفس میں نہیں ہے مس مہک میرے خیال سے آپ کو یہاں آنے سے پہلے قاسم سے رابطہ کرنا چاہیے تھا “
“یہ کیا تم ہر وقت اتنے فارمل رہتے ہو مجھے معلوم ہے کہ قاسم یہاں نہیں ۔۔۔میں تم سے ملنے آئی ہوں ۔۔۔”۔میرے سنجیدہ لہجے کی وہ پروا کیے بغیر وہ بڑے بے تکلفانہ انداز لیے مجھ سے مخاطب تھی
“کیوں مس مہک کیوں ملنا چاہتی ہیں آپ مجھ سے” ۔۔۔۔میں چہرے پر سختی لاتے ہوئے پوچھا
“ڈونٹ بی فارمل عفان وی آر ناٹ ٹو بی اسٹرینج ۔۔۔۔ہاو کڈ یو ٹاک دس ۔۔۔۔۔”
“کیں آئی نو وائے آر یو کم ہیر “۔۔۔۔میرا لہجہ ہنوز تھا
“او کے ۔۔۔۔۔ ایکچلی أئی ول فرینڈ شپ ود یو ۔۔۔اینڈ آئی ڈونٹ وانٹ ٹو ہیر دا ڈنائیل” ۔۔۔۔۔ مہک نے بڑی ملائمت سے یہ کہتے ہوئے اپنا نازک سا ہاتھ میرے ہاتھ کر رکھ دیا جیسے میں بری طرح جھٹک دیا ۔۔۔۔وہ شاید اور بھی بہت کچھ کہنے کے موڈ میں تھی مگر میں نے غصے سے اسے ٹوک دیا
“ایک منٹ ۔۔۔۔۔میں شاید پہلے بھی کلیر کر چکا ہوں اوراب بھی صاف لفظوں سے کہہ رہا مجھے آپ سے دوستی نہیں کرنی ۔۔۔۔۔آپ جا سکتی ہیں “
“کم آن عفان ۔۔۔۔آخر اس میں حرج کیا ہے ۔۔۔میں کچھ نہیں جانتی ۔۔۔۔اور تم جو اتنا ایٹیٹوٹ دیکھا رہے ہو خود کو شریف ثابت کرنے کی کوشش مت کرو ورنہ تم دل سے خود بھی میری سنگت کے خواہشمند ہو ۔۔۔باقی سب مردوں کی طرح ۔”۔۔۔مہک کی بات پر میں بھبک کر رہ گیا
“شپ آپ مہک ۔۔۔مجھے اپنی شرافت کسی پر ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔ایسے گھٹیا ہتھکنڈے اور قسم کے لڑکے استعمال کرتے ہوں گئے اور تم ۔۔۔۔۔۔مجھ سے بات کرنے سے پہلے بہت سوچ سمجھ کر الفاظ کا چناؤ کیا کرو ۔۔۔ضروری نہیں کہ تمہاری ہر بکواس کو میں ہنس کر ٹالتا رہوں۔۔۔۔جو حرکت تم
نے چند دن پہلے میرے ساتھ کی تھی تم قاسم کی کزن تھی اسلئے میں نے بات کو اچھے انداز میں ختم کر دیا ۔۔۔۔اگر تم عام سی ایمپلائے ہوتی تو میں منہ توڑ دیتا تمہارا” ۔۔۔۔میں غصے سے غرایا تو مہک دنگ سی رہ گئ میں نے انٹر کام کر کے رسپشنر کو اندر بلایا کچھ ہی دیر میں وہ میرے سامنے کھڑی تھی
“مس ماریہ اگر آپ نے آئندہ میری پرمشن کے بغیر کسی کو بھی میرے روم میں بھجا تو میں سر سے آپ کی کپملین کر دونگا ۔”۔۔۔میں سخت گیر لہجے میں بولا مہک کی بات میرے لئے نا قابل برداشت تھی
“سر میں نے انہیں منع بھی کیا تھا مگر “۔۔۔۔ماریہ گھبرا کر اپنی صفائی دینے لگی مہک بھی تنتںاتی ہوئی کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔۔قاسم اسی وقت آفس میں داخل ہوا تھا میرے بلند لہجے کو سن کر میرے کیبن میں آگیا
“سمجھتے کیا ہو خود کو تم ۔۔۔۔تم جیسے نا جانے کتنے روز آگے پیچھے منڈلاتے پھرتے ہیں میرے ۔۔۔کس بات کاایٹیٹوٹ ہے تم میں جو تم میری اتنی انسلٹ کر رہے ہو میری ۔”۔۔۔۔مہک چلا کر بولی
“شپ آپ اینڈ گیٹ لوس فرم ہیر ۔”۔۔۔میں با مشکل ضبط سے مہک سے کہا
قاسم بھی مہک کی بات پر ششدد سا رہ گیا
“یو شٹ اپ ۔۔۔۔”
“مہک اٹس انف ۔۔۔۔بہت ہو گیا تم کر کیا رہی ہو یہاں پر ۔۔۔کیوں آئی ہو ۔۔۔چلو جاؤں یہاں سے “۔۔۔۔قاسم نے مہک کو سختی سے کہا
“تم مجھے باہر نکال رہے ہو قاسم” ۔۔۔۔۔مہک متحیر سی قاسم کی طرف دیکھنے لگی
“تم جارہی ہو یا میں ڈیڈ سے تمہاری شکایت کرو “۔۔۔۔۔قاسم کی دھمکی پر مہک نے کینہ توز نظر مجھ پر ڈالی جھٹکےسے اپنے بال پیچھے کیے اور باہر نکل گئ۔۔۔مارے غصے سے میرا برا حال تھا
“قاسم مجھے نہیں لگتا کہ ہم ساتھ چل سکتے ہیں ۔۔”۔ میں اپنی کرسی سے کھڑا ہو گیا مجھ سے اپنی اتنی اہانت برداشت ہی نہیں ہو پا رہی تھیں۔قاسم فورا میرے پاس آگیا
“کیا ہو گیا ہے تمہیں عفان ۔۔۔اس جاہل اور بیوقوف کی وجہ سے تم کیوں آپے سے باہر ہو رہے ہو ۔۔۔ بیٹھو ادھر ۔۔۔۔اب مہک دوبارہ یہاں نہیں آئے گئ آئی پرومس ۔۔۔پلیز جسٹ ریلیکس ۔۔”۔قاسم نے دوبارہ مجھے کرسی پر بیٹھا دیا ۔۔۔۔
22
“مس ماریہ آپ باہر جائیں ۔۔”۔۔۔۔قاسم نے سامنے کھڑی ماریہ سے کیاوہ فورا باہر نکل گئ ۔۔۔ سامنے لگے شیشے سے سامنے بیٹھے اسٹاف کے لوگوں کا دھیان میرے کیبن کی طرف ہی تھا مجھے دیکھ کر انکی آپس میں۔ چہ میگوئیاں مجھے اندر ہی اندر کھولانے لگیں ۔۔۔۔میرا وہاں بیٹھنا دشوار ہو رہا تھا
اس لئے وہاں سے گھر چلا آیا ڈسٹرب تو پہلے سے ہی مما کی باتوں کی وجہ سے تھا پھر مہک کی حرکت نے مجھے مزید ذہنی انتشار میں مبتلہ کر دیا تھا ۔۔۔۔میرے سر میں درد سا اٹھنے لگا ۔۔۔۔ماہم سے دوری کاتصور ہی سہانے روح تھا ۔۔۔۔پھر میرادل بھی کہاں میرے بس میں تھا ۔۔۔میں سیدھا اپنے کمرے میں جا کر اوندھے منہ بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔۔
******………
23
عفان آفس سے آتے ہی سیدھا اپنےکمرےںمیں چلا گیا ڈنربر بھی نیچے نہیں اترا ۔۔۔۔
“کیا بات ہے صفیہ عفان کی طعبیت تو ٹھیک ہے ڈنر پر بھی نیچے نہیں آیا ۔”۔۔۔۔رضا صاب بہت متفکر ہو کر پوچھنے لگے
“آج کل آفس میں کام کی زمہ داری اسپر ذیادہ ہے ۔۔۔میں دیکھتی ہوں اسے” ۔۔۔صفیہ بیگم کھانا چھوڑ کر اٹھنے لگیں
“مما آپ بیٹھیں پہلے ہی آپکے گھٹنوں میں تکلیف رہتی ہے ۔۔۔۔ماہم تم جاؤں ۔۔۔۔جا کر دیکھوں کیا ہو ہے عفان کو “۔۔۔۔کامران نے کھانا کھاتے ہوئے ماہم سے کہا وہ خود عفان کی وجہ سے پریشان تھی اس لئے فورا اٹھ کر کھڑی ہو گئ
24
“نہیں ۔۔۔ماہم تم رہنے دو ۔۔۔میں دیکھتی ہوں اسے” ۔۔۔صفیہ بیگم کو ڈر تھا کہ کہیں عفان پھر نا ماہم سے بگڑنے لگے ۔۔۔۔عفان اس وقت کس اذیت سے گزر رہا تھا صفیہ بیگم ہی جانتی تھیں ۔۔۔۔
“نہیں خالہ ۔۔۔میں دیکھ لیتی ہوں ۔۔۔ویسے بھی میں کھانا کھا چکی ہوں” ۔۔۔ماہم اوپر عفان کے کمرے کے اندر ائی کمرے میں اندھیرا تھا ۔۔۔۔عفان اوندھے منہ آڑا ترچھا بیڈ پر لیٹا ہوا تھا ۔۔۔۔
“عفان ۔۔۔۔۔خالہ کھانے کا پوچھ رہیں ہیں ۔۔۔۔”
“بھوک نہیں ہے مجھے ۔۔۔۔۔تم جاو۔۔۔بس راشد سے کہو ایک کپ چائے لا دے” ۔۔۔۔۔۔۔عفان کی آواز ماہم بھاری سی لگی ۔۔۔۔وہ جھجکتے چلتے ہوئے اسکے قریب آ گئ بیڈ سے لٹکے اسکے ہاتھ کو اوپر رکھنے کے غرض سے پکڑا عفان کا ہاتھ بخار سے تپ رہا تھا ۔۔۔۔عفان فورا سے سیدھا ہو گیا اپنا ہاتھ بھی کھنچ لیا ۔۔۔۔
“عفان تمہیں تو بخار ہو رہا ہے ۔۔۔۔”
25
“ہاں تو چائے کے ساتھ ٹیبلٹ لوں گا تو ٹھیک ہو جاؤں گا ۔۔۔تم جاؤ۔ یہاں سے ۔۔۔ماہم واپس پلٹ گئ صفیہ بیگم کو عفان کے بخار کے بارے میں بتایا تو وہ بھی پریشان ہو گئیں ۔۔۔۔ماہم نے چائے کے ساتھ چکن سینڈوچ بنا کر راشد کے ہاتھ اوپر بھیج دیے اور خود ایک باؤل میں پانی اور رومال لیکر اوپر آگئ تاکہ عفان کے سر پر پٹیاں رکھ سکے اسکی بخار کی شدت کم ہو ۔۔۔۔کمرے میں صفیہ بیگم بیٹھی اپنے ہاتھ سے عفان کو سینڈوچ کھلا رہی۔ تھیں ۔۔۔۔
“مما میں خود کھا لوں گا ۔۔۔آپ کیوں پریشان ہیں” ۔۔۔۔وہ بیزاری سے بولا
“اتنی تمہیں اپنی پرو ہوتی تو یہ حال نا ہوتا تمہارا ۔۔”۔۔ رضا صاحب بھی وہیں موجود تھے
“رضا آپ فون کرے اپنے ڈاکٹر کو دیکھیں کتنا تیز، بخار یے اسے ۔۔۔۔۔”
رضا صاحب نے ڈاکٹر کو بلوا لیا ۔۔۔۔
26
صفیہ بیگم اب ماہم کے ہاتھ سے پانی کا باول لیکر عفان کو پٹیاں کرنے لگیں کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر بھی چیک کر کے دوائیں دے کر چلا گیا ۔۔۔عفان کے لاکھ منع کرنے پر صفیہ بیگم عفان کے پاس ہی رک گئ ۔۔۔
“خبردار جو تم نے ایک ہفتے سے پہلے آفس جانے کا نام بھی لیا تو ۔۔۔ارے تمہارے کون سے بچے بھوکے رو رہیں ہیں جو دن رات کام میں۔ خود کو گھلاتے رہتے ہو ۔۔۔”۔۔صفیہ بیگم سخت برہم تھی عفان پر ۔۔۔۔۔ماہم کو عفان کی فکر تھی ۔۔۔۔ہزار گلوں شکوں کے باوجود ماہم اسکے لئے دعا گو تھی ۔۔۔۔۔
**********…………..*********…………********
27
رات کو ڈنر پر بھی میں نیچے نہیں گیا ۔۔۔۔میراپورا وجود بے جان سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔ماہم کی شادی کاسوچ سوچ کر میں ذہنی اذیت میں مبتلہ تھا ۔۔۔۔۔کاش کے مجھے باہر سے جاب کی آفر ماہم کی شادی پہلے ہی آ جائے ۔۔۔۔کیسے دیکھوں گا میں اسے کسی اور کی دلہن بنے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔میرے دروازے پر مسلسل دستک ہو رہی تھی ۔۔۔۔میں یونہی بے جان سا لیٹا رہا ۔۔۔۔کچھ دیر بعد میرے کمرے کا دروازہ کھلا مجھے لگا مما ہوں گئ۔۔مگر وہ ماہم تھی مجھ سے کھانے کا پوچھ رہی تھی ۔۔۔۔میں ویسے ہی لیٹا رہا کھانے سے انکار کر دیا پہلے تو میرادل چاہا ماہم کو وہ سب کچھ کہہ دوں جو میں کبھی کہہ نہیں سکا اسے بتا دوں کہ وہ میرے لئے کیااہمیت رکھتی ہے۔۔۔۔اسکی منت کرو کہ وہ اپنا فیصلہ بدل دے شاید اسکو مجھ پر رحم آ جائے لیکن پھر میراضمیر مجھے ملامت کرنے لگا یہ تو سراسر خود غرضی تھی ۔۔۔
27
۔میں اپنی خوشی کی خاطر ماہم سے اسکی خوشیاں کیوں چھینو جو کامران کے ساتھ مشروط تھیں ۔۔۔۔۔اتنی بھی مطلب پرستی اچھی نہیں تھی ۔۔۔۔لیکن دل کہاں ان باتوں سے بہلتا ہے دل کو زبردستی سمجھانا پڑتا ہے ۔۔۔یہ سب سوچ کر میرادم گھٹنے لگا ۔۔۔میری آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے ۔۔۔۔میرے ہاتھ پر ماہم کا نرم گذار ہاتھ کا دباؤ۔ پڑا تو
میں نے جھٹکے اس کا ہاتھ پیچھے کر دیا خود بھی سیدھا ہو کر اسے دیکھنے لگا
“عفان تمہیں۔ تو بخار ہے ۔”۔۔۔ماہم فکرمند سی ہونے لگی
میں نے بے رخی سے ماہم کس جانے کا کیااورراشد کے ہاتھ چائے بھجنے کا کہہ کر دوبارہ بے سود لیٹ گیا ۔۔۔ ۔کچھ ہی دیر میں وہ مما کے ساتھ اوپر آئی پاپا بھی میرے پاس آ گئے چائے اور سینڈوچ مما نے مجھے اپنے ہاتھ سے کھلائے۔۔۔ ڈاکٹر چیک اپ کر کے دوائیں دے کر چکا گیا ۔۔۔۔رات کو مما میرے پاس ہی رہیں میرے ماتھے پر پانی کی پٹیاں کرتی رہیں ۔۔
28
۔تیز ۔بخار کی وجہ سے میں نیم بے ہوشی میں تھا ۔۔۔۔جاگتے ذہن اور سوئی آنکھوں سے مجھے بس یہی دیکھ رہا تھا کہ ماہم مجھ سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر دور جارہی ہے اور جہاں وہ جارہی ہے وہاں گپ اندھیرے کے علاؤہ اور کچھ نہیں ہے اور مجھے اسکے کھو جانے کاڈر تھا مجھے لگا اگر وہ اس اندھیرے کی نظر ہوگئ تو میں اسے کبھی ڈھونڈ نہیں پاؤں گا
“ماہی ۔۔۔۔۔پلیز مت جاؤں ۔۔۔۔ماہی مت جاؤں مجھے سے دور ۔۔۔۔ماہی” ۔غنودگی میں بھی مجھے اپنی بڑبڑاہٹ صاف سنائی دے رہی تھی ۔۔۔مما میرے ماتھے پر ہاتھ پھیرنے لگے ۔۔۔
عفان میری جان کیا ہو گیا تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔مما شاید میرے جمعلے سن چکیں تھی میں نے با مشکل آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔آنسوں میری آنکھوں سے بہہ کر کنپٹیوں سے بہتے ہوئے تکیہ بھگونے لگے ۔۔۔۔
میرے بچے ۔۔۔۔چپ ہو جاؤں عفان ۔۔۔۔مما میرے آنسوں پونچتے ہوئے خود بھی آنسوں بہا رہیں تھیں ۔۔۔۔
29
“ہم بھی مجبور ہیں بیٹا ۔۔۔۔۔ماہم کی رضامندی اگر نا ہوتی تو میں تمہیں کبھی اتنا بڑا دکھ نا دیتی ۔۔۔۔کاش میرے بس میں ہو تو میں سارے جہان کی خوشیاں تمہارے دامن میں ڈال دیتی ۔۔۔۔لیکن یہ بھی سوچوں ماہم تو یہی سوچے گی کہ ہم نے اپنی خواہش کو اسپر مسلط کیا ہے ۔۔۔۔۔کہیں وہ ہماری محبت کو احسان مندی ہی نا تصور کرے ۔۔۔۔لیکن اگر پھر بھی تم چاہوں تو میں بات کروں ماہم سے ۔۔۔”مما میرے آنسوں پونچھنے لگی
نہیں مما ۔۔۔۔مجھے ماہی کی خوشی خود سے ذیادہ عزیز ہے ۔۔۔۔بس سنبھلنے کے لئے وقت تو درکار ہوتا ہی ہے ۔۔۔میں بھی سنبھل جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔میں اٹھ کر بیٹھ گیا مما کے آنسوں صاف کیے اور خود کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔
*******……..*********……….*******…….*****
30
دو چار دن جب میں آفس نہیں گیا اور قاسم کی
کوئی جال بھی اٹینٹ نہیں کی تو قاسم خود میری خیریت دریافت کرنے گھر پہنچ گیا ۔۔۔ قاسم
کو لگا میں مہک کی وجہ سے آفس نہیں ا رہا ۔۔۔۔۔۔میری عیادت کے ساتھ ساتھ میری منتیں بھی کرتا رہا کہ میں دوبارہ آفس جوائن کر لوں ۔۔۔۔میں جب آفس پہنچا تو قاسم کے والد بھی مجھ سے خیریت دریافت کرنے لگے ۔۔۔۔شام تک میں بہت مصروف رہا ۔۔۔۔کیونکہ کافی دن کی میری غیر موجودگی سے میرے کام کا برڈن کافی بڑھ چکا تھا ۔۔۔۔۔۔شام تک میں فائلوں میں ہی الجھا رہا ۔۔۔۔ابھی بھی میں ایک ضروری فائل تک چیک کر رہا تھا جب قاسم غصے سے میرے کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔۔۔۔ایک فیکس پیپر میرے سامنے نہایت غصے سے رکھا
“کیا ہے یہ عفان ۔۔۔”۔
31
میں نے پیر اٹھا دیکھا تو اٹلی کی ایک کمپنی سے مجھے جاب کی آفر آئی تھی ۔۔۔۔میں نے پڑھ کر پیپر دراز میں رکھ دیا قاسم کے کرے تیور کو نظر انداز کر کے میں دوبارہ فائل میں مگن ہو گیا قاسم نے فائل میرے سامنے سے اٹھا لی
“میں تم سے شاید کچھ پوچھ رہا ہوں “
“میرے خیال سے تم یہ پڑھ چکے ہو ۔۔۔”۔
“اسی لئے پوچھ رہا ہوں ۔۔۔کیوں جانا چاہتے ہو باہر جب تم یہاں اچھے خاصے سیٹل ہو “
“ہر انسان بہتر سے بہترین کی خواہش رکھتا ہے ۔۔۔۔میرے خیال سے مجھے بھی اگر ایسا موقع فراہم ہو رہا ہے تو کیا قباحت ہے “
“عفان ۔۔۔۔میں وجہ تو نہیں جانتا مگر ۔۔۔۔۔۔میں۔ تمہیں یوں جانے بھی نہیں دوں گا ۔۔۔۔یہ کیا بات ہوئی بھلا اچانک سے تم دفان ہونے کی سوچ رہے ہو ۔۔۔۔تمہارا ہی پلان تھا کہ ہم مل کر اپنی الگ سے ایک فارم کھولیں گئے اور میں اپنے ڈیڈ سے بات بھی کر چکا ہوں ۔۔۔اور اب یہ جاب ۔۔۔۔۔۔دس از ناٹ فیر”۔۔۔۔قاسم کی شاکی نظریں میں نظر انداز کر گیا ۔۔۔۔
“بس کچھ عرصے میں واپس آ جاؤں گا ۔۔۔۔لیکن ابھی نہیں میرا جانا ضروری ہے “
‘عفان “
“پلیز قاسم نو مور آرگیومنٹ ۔”۔۔۔۔میری بات پر قاسم مجھے لگا جانے والے انداز سے دیکھتے ہوئے باہر نکل گیا
