Tadbeer by Umme Hani NovelR50414

Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 56 (Part 1)

458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 56 (Part 1)

Tadbeer by Umme Hani

بس کچھ ہی پل مجھے اپنے رویے پر پشیمانی ہوئی ۔۔۔۔۔پھر میں نے خود کو جھٹکا ۔۔۔۔۔اتنی لمبی ڈرائیو کر کے میں ویسے بھی میں بہت تھک چکا تھا ۔۔۔۔کچھ دیر سستانے کے بعد میں شاور لینے چلا گیا ۔۔۔۔۔نائٹ سوٹ پہنے میں اب صرف سونے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔۔۔ٹاول سے اپنا سر صاف کرتے ہوئے ڈرسنگ کے سامنے میں کھڑا ہو گیا میری شرٹ کے سامنے کے بٹن کھلے تھے ۔۔۔۔میرے سینے پر ناخنوں کی کھرونچ سے ہلکا ہلکا خون رس رہا تھا ۔۔۔۔میں نے سامنے رکھی کریم اٹھا کر لگانے ہی لگا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی مجھے لگاراشد ہوگا ۔۔۔۔اس لئے میں نے اندر آنے کی اجازت دیدی مگر سامنے عفان کس دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی ۔۔۔۔اب وہ یہاں کیا کرنے آیا تھا ۔۔۔۔۔عفان جھکی نظروں کے ساتھ اندر داخل ہوا۔۔۔۔۔اس کے بعد مجھے عفان کی بات پر بہت حیرت ہوئی پھر میں سمجھ گیا کہ ضرور وہ ماہم کو لیکر شک میں آچکا ہے اور یہی میری کامیابی تھی ۔۔۔۔۔پھر اسکی بے بسی پر ہسنے کی باری میری تھی اور میں ہنسا بھی خوب ۔۔۔۔۔آج وہ خود ماہم کو چھوڑنے کے لئے تیار تھا ۔۔۔۔۔مگر وہ کہاں جانتا تھا ۔میرے ارادو کو۔۔۔وہ تو ہمیشہ کے لئے میری اور ماہم کی زندگی سے دور جانے کی بات کر رہا تھا ۔۔۔۔۔میں تو صدااسے تکلیف میں دیکھنا چاہتا تھا اس لئے ۔۔۔میں نے اس سے حقیقت کچھ ایسے انداز میں بتائی کہ اسکا رنگ اڑنے لگا ۔۔۔۔۔میں چاہتا تھا وہ نا ماہم کو اپنا سکے نا چھوڑ سکے ۔۔۔۔۔اس لئے میں نے صاف انکار کر دیا کہ میں ماہم کو نہیں اپناوں گا لیکن بعد میں اسے ایسے شک میں بھی ڈال دیا جیسے ماہم اور میرے بیچ میں کچھ ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔پھر مجھے یقین تھا کہ ماہم عفان کے بارے میں کبھی بھی اس انداز سے نہیں سوچ سکتی ۔۔۔۔وہ دونوں ہی ایک رشتے میں جڑ جانے کے بعد بھی کبھی ایک نہیں ہونگے ۔۔۔۔۔کون سا مرد ایسا ظرف رکھے گا ۔۔۔۔کہ اسکی بیوی کچھ وقت کسی اور شخص کے ساتھ گزار کر آئی ہو وہ بھی اس کے رنگ میں ڈھل کر اور وہ اسے قبول کر لے ۔۔۔۔اگر عفان نے ماہم سے پوچھا بھی تو ماہم انکار کرنے کے باوجود بھی اسے سچائی کا یقین نہیں دلا سکتی ۔۔۔۔۔اسکی ہاتھ میں پہنی انگوٹھی ۔۔۔۔اس کے وجود سے اٹھتی مہک ۔۔۔۔۔اس کا لباس۔۔۔۔۔اور مجھ سے محبت کا عفان سے کیا گیا اظہار ۔۔۔۔ماہم کی سچائی کو بے معنی کرنے کے لئے کافی ہے ۔۔۔۔۔۔پھر جس طرح سے میں نے ماہم کو ڈرایا اور دھمکایا تھاوہ کسی کے سامنے بھی زبان نہیں کھولے گی ۔۔۔۔۔۔میں اب پر سکون سا ہو گیا تھا برسوں کی نفرت کا اظہار میں نے لفظوں سے آج عفان سے کیا تھا ۔۔۔۔۔اور نفرت کے اظہار کا بھی اپنا ہی مزہ ہے ۔۔۔۔۔۔میں واقع بڑی پرسکون نیند سویا تھا ۔۔۔۔۔۔صبح آفس بنا ناشتے کے ہی چلا گیا ۔۔۔۔رات ڈنر پر سب کا موڈ آف تھا ۔۔۔۔۔مما پاپا مجھ سے بات تک نہیں کر رہے تھے ۔۔۔۔۔صرف عفان کی پروا تھی انہیں ۔۔۔۔۔مگر میں بھی ڈھٹائی سے بیٹھا رہا ۔۔۔۔۔پاپا نے عفان سے ماہم کی غیر موجودگی کے بارے میں دریافت کیا ۔۔۔۔نا جانے کیوں پہلی بار عفان نے ماہم کو اپنی بیوی کہہ کر مخاطب کیا ۔۔۔۔۔اور میرے بیٹھنے پر بھی اعتراض کیا ۔۔۔۔۔مجھے لگا میری باتوں سے شاید اس کا دماغ صحیح طور پر کام نہیں کر رہا ۔۔۔۔میں اس کی ہر بات کا جواب اسی کے انداز میں دو بار دو دینے لگا ۔۔۔۔مگر مما کی سرزش اور غصے پر مجھے چپ ہونا پڑا ۔۔۔۔۔مما کی باتوں سے میرے ہوش اڑنے لگے وہ ہر بات پاپا کوبتانے لگیں جس سے میں نے ماہم کو منع کیا تھا ۔۔۔ماہم نے ان سے کچھ نہیں چھپایا تھا ۔۔۔۔۔میرانوالہ حلق میں ہی پھنس کر رہ گیا ماہم کیسے میرے خلاف چل سکتی ہے ۔۔۔۔بہرحال مجھے پاپا کی بات مان کر اپنے کمرے میں جانا پڑا ۔۔۔۔۔میں اپنے کمرے کے بجائے ماہم کے کمرے میں چلا گیا دروازہ لوک نہیں تھا پھر مجھے ماہم پر غصہ بھی آ رہا تھا میرے منع کرنے پر بھی اس نے مما سے بات کیوں کی ۔۔۔۔۔ماہم کے کمرے میں اندھیرا ہو رہا تھا ۔۔۔۔میں نے لائٹ آن کی مگر ماہم کمرے میں نہیں تھی میں نے ٹیرس دیکھا وہ بھی خالی تھا ۔۔۔۔۔ماہم اگر نیچے نہیں ہوتی تھی تو ذیادہ تر اپنے کمرے میں ہی ہوتی تھی اسوقت کہاں تھی وہ واش روم بھی کھلا تھا اور خالی تھا ۔۔۔۔۔میں کمرے سے باہر نکلا تو عفان سامنے ہی کھڑا تھا ۔۔۔۔میں کچھ گھبرا سا گیا ۔۔۔۔۔وہ مجھ سے یہ پوچھنے لگا کہ میں ماہم کے کمرے میں کیوں تھا ۔۔۔۔۔پہلی بار مجھے عفان سے جھجک سی محسوس ہوئی پھر اس نے ماہم پر حق جتاتے ہوئے کہا کہ ماہم سے ہمیشہ ملنے یا بات کرنے سے پہلے مجھے عفان کی اجازت کی ضرورت پڑےگی ۔۔۔۔میں اندر ہی اندر اسکی بات پر کھول سا گیا ۔۔۔۔میں وہیں رک کر عفان کو جاتے ہوئے دیکھنے لگا تھا اپنے کمرے میں جانے سے پہلے اس نے پلٹ کر میری طرف دیکھا ۔۔۔۔پھر مسکرا کر بولا

“ماہم میرے کمرے میں ہے “یہ کہہ کر وہ اندر چلا گیا ۔۔۔کچھ پل تو مجھے لگا کسی نے میرے دل پر زور کا گھونسا مارا ہو ۔۔۔۔یہ سب کیا تھا ۔۔۔۔ماہم ۔۔۔۔۔عفان کے روم میں ۔۔۔۔۔میں پریشانی کے عالم میں اپنے کمرے میں آ گیا ۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔ جو میں سوچ رہا ہوں وہ سراسر غلط ہے ۔۔۔۔۔ عفان کو جو کچھ میں نے کہا ہے وہ ۔۔۔چھو بھی نہیں سکتا ماہم کو اور ماہم ۔۔۔نہیں وہ بھی عفان کو کبھی نہیں اپنا سکتی ۔۔۔۔۔ضرور عفان مجھ پر اپنی برتری جتانے کی خاطر یہ سب ڈرامہ کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ایک کمرے میں رہنے سے کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔جب دلوں میں شک وشبہات حاوی ہو جائیں “میں خود کو اپنی خود ساختہ دلیلوں سے بہلانے لگا۔۔۔میں خود کو مطمئن کر رہا تھا مگر اندر کہیں نا کہیں میرے دل میں ہلچل سی ضرور مچ گئی تھی ۔۔۔۔۔کچھ دن میرے بے چینی سے گزرے ۔۔۔۔۔ خود کو بس مطمئن کرتا رہا کہ سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔ان دنوں مجھے یہ اندازہ ہوا کہ دنیا کا مشکل ترین کام خود کو اپنی سوچ کے مطابق بہلا کر مطمئن کرنا ہے ۔۔۔۔۔پاپا نے میرے لاکھ منع کرنے پر میرا کمرہ نیچے شفٹ کر دیا ۔۔۔۔۔پہلے تو میں نے کافی شور واویلا مچایا مگر مجھے معلوم تھا کہ پاپا میری ایک نہیں سنے گئے ۔۔۔نیچے گیسٹ روم میں میں نے کمرہ اسی طرز پر سجایا جیسے ماہم نے اوپر سجایا تھا پہلی بار کھولنے پر سب کو یہی احساس ہوتا کہ میرا کمرہ ابھی بھی اوپر ہی ہے ۔۔۔۔۔ایسا میں نے کیوں کیا میرے پاس ماہم کے حوالے سے ایسے بہت سے سوال تھے مگر جواب ۔۔۔۔۔۔جواب شاید نہیں تھا ۔۔۔۔۔پھر میں نے کچھ اس نہج پر کبھی ذیادہ سوچنے کی کوشش بھی نہیں کی میرے سر پر تو بس عفان کو اذیت دینے کی دھن سوار تھی ۔۔۔۔مما اور پاپا باہر لان میں بیٹھے چائے پی رہے تھے ۔۔۔۔راشد نے مجھے انکا پیغام دیا کہ پاپا مجھے باہر بلا رہے ہیں ۔۔۔۔۔میں لان میں آ کر پاپا مما کوسلام کر کے ان کے سامنے بیٹھ گیا عفان بھی وہیں بیھٹا تھا مگر چپ تھا ۔۔۔۔پاپا نے چند تصاویر میرے سامنے رکھ دیں ۔۔۔۔۔میں نے ایک اچٹتی سے نظر ان تصویروں پر ڈالی ۔۔۔۔۔پھر پاپا اور مما کو باری باری دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔۔

“کامران ہم نے تمہاری بہت بڑی بڑی غلطیوں کو فراموش کیا ہے ۔۔۔۔جیسے بھلانا یا معاف کرنا ۔۔۔۔اتنا آسان نہیں تھا مگر تمہاری ماں کی محبت میرے سامنے دیوار بن جاتی تھی ۔۔۔۔۔لیکن اگر تم نے آئندہ ایسا کچھ کرنے یا میرے خلاف چلنے کی کوشش کی تو میں تمہاری ماں کے جذبات کو بھی نظر انداز کر دونگا ۔۔۔۔تمہیں اپنی جائیداد اور گھر سے بے دخل کر دونگا ۔۔۔۔۔اس لئے آج کے بعد ہر قدم بہت سوچ سمجھ کر اٹھانا ۔۔۔۔۔یہ تصویریں ہیں ان میں تم جیسے چاہو پسند کر لو ۔۔۔۔ورنہ اپنی رہائش کا انتظام کہیں اور کر لو “پاپا اپنی بات مکمل کر چکے تھے اور یقینا میرے جواب کے بھی منتظر تھے ۔۔۔۔۔مما میرے معاملے میں ہمیشہ میری غلطی کو فراخدلی سے معاف کر دیتی تھی شاید میں انکی پہلی اولاد تھا اس لئے غصہ کرنے ڈانٹنے کے بعد بھی وہ میری بڑی سے بڑی غلطی فراموش کر دیتی تھیں ورنہ جو میں نے ماہم کے ساتھ کیا تھا وہ مما کو بتا بھی چکی تھی لیکن انہوں نے پوری بات پاپ کو نہیں بتائی تھی نا عفان کو ورنہ مجھے وہ گھر سے باہر نکالنے میں ایک سکینڈ نا لگاتے ۔۔۔۔یہ بات مما نے مجھ سے خود کہی تھی ۔۔۔۔کہ اگر ۔میں نے اب ماہم کو پریشان کرنے کی کوشش کی تو وہ سب سچ بتا دیں گیں ۔۔۔شاید سب مائیں اولاد کے معاملے میں ہمیشہ ایسی ہی ہوتی ہیں اپنی سگی اولاد کی غلطیوں پر جتنا پردہ ڈال سکتی۔ ہیں ڈالتی ہیں ۔۔۔مگر پاپا ایسے نہیں تھے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔میں نے ایک گہری سانس لی خاموشی سے تصویریں اٹھا کر ایک نظر دیکھنے لگا ۔۔۔۔سب لڑکیاں ہی اچھی پیاری تھی مگر نائلہ نامی لڑکی کا حسن ان سب کو مات دے رہا تھا میں نے بناسوچے اور اس کا بائیو ڈیٹا پڑھے بغیر ہی نائلہ کی تصویر مما پاپا کے سامنے رکھ دی ۔۔۔۔۔

“یہ پسند ہے مجھے “میں یہ کہہ کر واپس اپنے کمرے میں آ گیا ۔۔۔۔۔چند ہی دنوں بعد مجھے میٹھائی کے ساتھ مما نے یہ خوشخبری سنائی کے میرارشتہ اسی لڑکی سے طے ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔۔لیکن مجھے نا تو خوشی تھی اور ناہی میں افسردہ تھا ۔۔۔۔۔اب ساری زندگی مجھے یونہی تو گزارنی بھی نہیں تھی ۔۔۔۔۔ظاہر ہے شادی تو کرنی تھی ۔۔۔۔۔پچھلے مہنے سے مہک اپنی فیملی کے ساتھ دبئ میں تھی ۔۔۔۔۔ایک مہنے میں میں نے مہک کو ایسے بھلا دیا جیسے وہ میری زندگی میں کبھی آئی ہی نہیں تھی ماہم کو دوبارہ میں کبھی اپنے سامنے نہیں۔ دیکھا تھا۔۔۔۔۔آفس سے آکر میں زیادہ وقت اپنے کمرے میں ہی رہتا تھا کبھی کبھی دل بہت چاہتا کہ ماہم کو دیکھوں وہ کیسی ہے میرے لئے اب اسکے جذبات کیسے ہیں ۔۔۔۔۔چند دنوں میں میری منگنی کی رسم تھی ۔۔۔۔ویسے بھی یہ ارینج میرج تھی ۔۔۔۔۔اس لئے میری پہلی ملاقات میری منگنی کے دن ہی نائلہ سے ہوئی ۔۔۔۔۔مجھے اتنی دلچسپی نائلہ کو دیکھنے میں نہیں تھی جتنی ماہم کے تاثرات کو دیکھنے میں تھی ۔۔۔۔۔جب سے میں ماہم کو زبردستی اپنے ساتھ لیکر گیا تھا اسکے بعد سے اب تک میں نے ماہم کو نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔اس عرصے میں وہ کبھی اتفاقا بھی میرے سامنے نہیں آئی تھی ۔۔۔۔۔مجھے نہیں معلوم کے نائلہ نے کیا پہنا تھا ہاں مگر ماہم نے ریڈ کلر کی سلک کی ساڑھی پہنی تھی مجھے نہیں یاد کہ نائلہ لگ کیسی رہی تھی مگر ماہم میری توقع سے کئ گنا زیادہ حسین لگ رہی تھی اتنی کہ میں کئ گھنٹے اسے دیکھتا رہتا تو کبھی نا تھکتا نا اکتاتا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔مجھے ہمیشہ یہ لگتا تھا جس طرح ماہم لا ابالی سی ہے وہ کہاں ساڑھی پہن اور سنبھال سکے گی ۔۔۔۔۔مگر مجھے اپنی سوچ کی تردید کرنی پڑی ۔۔۔۔ماہم عفان کے ساتھ ہی لان میں داخل ہوئی تھی تھی عفان کا ہاتھ تھامے لیرز میں کٹے بال اب اسکی کمر کو چھو رہے تھے بڑے اعتماد کے ساتھ وہ مسکرا کر سب سے مل رہی تھی ایک پل مجھے لگا وقت تھم گیا ہے ۔۔۔۔۔سب کچھ پر جیسے جمود طاری ہو گیا تھا میں بے خود سا ہو کر اسے دیکھنے لگا مجھے لگا میرا دل میرے اختیار میں نہیں ہے ۔۔۔۔وہ پہلے والی ماہم تو کہیں سے نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔اتنی حسین اتنی پراعتماد ۔۔۔۔۔مما اسے سب سے ملوا رہیں تھیں اور وہ پورے اعتمادی سے مسکراتے ہوئے سب سے مل رہی تھی اس کا ہر قدم بڑے پروقار طریقے اٹھ رہا تھا ۔۔۔۔نا جانے کیوں مجھے لگا ماہم کا ہر اٹھنے والا قدم میرے دل پر اتر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عفان اسکے ساتھ ہی کھڑا تھا ۔۔۔۔اس وقت نا جانے کیوں میں ان دونون کو رشک کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔مجھے لگ رہا تھا کہ میں مہمان خاص نہیں ہوں عفان اور ماہم ہیں مہمان خاص ۔۔ جیسے یہ پوری محفل ان کے لئے سجی ہو ۔۔۔مجھے عفان کے ہاتھ میں ماہم کا ہاتھ برا لگ رہا تھا ۔۔۔میرا شدت سے دل چاہا کہ ماہم میری طرف دیکھے ۔۔۔۔۔اس کی نظریں مجھے تلاش کرے اسکی بے چینی مجھے مسرور کرے ۔۔۔۔۔مگر اس نے تو میری طرف دیکھا بھی نہیں ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ۔۔۔۔نائلہ اور اسکی فیملی بھی آ گئ ۔۔۔۔۔مما سب سے بطور خاص ماہم کا تعارف کروا رہیں تھی ۔۔۔۔مجھے ماہم کے رویے سے اپنی ہتک اور ہزمیت سی محسوس ہوئی ۔۔۔۔جب نائلہ کو میرے پاس بیٹھانے کے لئے لایا گیا تو عفان اور ماہم بھی مما کے ساتھ وہیں موجود تھے میں نے دانستہ ماہم کو نظر انداز کر کے نائلہ کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا کر اسکا ہاتھ تھام کر اسے اپنا برابر بیٹھایا ۔۔۔۔اس سے مسکرا کر باتیں کرنے لگا ۔۔۔۔نائلہ بھی مسکرانے لگی ۔۔۔۔مجھے لگا کسی کی نظروں کی تپش میرے چہرے کو چھو رہی ہے ۔۔۔۔۔اور یہ تپش ماہم کی کی نظروں کی تھی ۔۔۔۔۔میرے دل میں ایسا اطمینان اترا کہ دل میں کوئی خلش باقی نہیں رہی ۔۔۔۔نائلہ کو رنگ پہنانے سے پہلے ۔۔۔۔میں نے بس ایک پل ماہم کو دیکھا تھا ۔۔۔۔اسکا افسردہ سا بجھا ہوا چہرہ ۔۔۔۔میرے اندر اٹھنے والے ہر وسواسے کوگویا ختم کرنے کے لئے کافی تھا ۔۔۔۔ماہم اب بھی میری تھی ۔۔۔۔۔میرا دل جھوم سا گیا خود با خود ہی میرے چہرے پر مسکراہٹ سی ٹہر گئ ۔۔۔۔۔بظاہر میں نائلہ سے باتوں میں مصروف تھا مگر ۔۔۔۔ماہم کا کوئی انداز مجھ سے پوشیدہ نہیں تھا ۔۔۔۔وہ بار بار نائلہ کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔شاید سوچ رہی تھی کہ اس میں ایسی کون سی خوبی تھی جو میں نے خود اسے رنگ پہنائی ۔۔۔۔۔۔پھر اسکے بعد ماہم کے چہرے پر میں نے مسکراہٹ نہیں دیکھی وہ سب سے مل رہی مگر چہرے پر ایک آزردگی لئے ۔۔۔۔۔میرا دل آج جشن منا رہا تھا اس خوشی کی کیفیت میرے چہرے پر عیاں تھی ۔۔۔۔

منگنی گزرے ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ مہک واپس آ چکی تھی اور مجھ سے ملنے کو بے تاب تھی ۔۔۔۔۔اب میری ساری دلچسپی مہک سے ختم ہو چکی تھی بس یہ سوچ رہا تھا کہ اس سے جان چھڑانے کے لئے کیا طرز عمل اختیار کرو ۔۔۔۔۔میں رات کو نائلہ سے باتوں میں مصروف تھا جب مہک کی کال آنے لگی۔۔۔۔۔مجبورا مجھے نائلہ سے باتوں کا سلسلہ منقطع کرنا پڑا ۔۔۔۔۔۔

“ہاں بولو مہک “میں نے بیزاریت سے کہا

“کامران میں ایک مہینے بعد لوٹی ہوں۔۔۔۔۔اور تم نے ایک بار بھی مجھ سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی اور اب بھی بیزار لگ رہے ہو ۔۔۔۔”

“ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔ بس نیند میں تھا ۔۔۔کہو کیسی ہو”

“وہ کل تم سے مل کر بتاؤں گی “

“او کے پھر کل ملتے ہیں “میں نے بھی جان چھڑانے کی خاطر اسکی ہاں میں ہاں ملائی ۔۔۔۔۔۔۔پھر میری نائلہ سے بات ملاقوں تک پہنچ۔ گئ۔۔۔۔۔ہم اکثر لنچ ساتھ کرنے لگے تھے ۔۔۔۔۔مہک سے میں بہت کم ملنے لگا تھا ۔۔۔وہ جب بھی شادی کے لئے اصرار کرتی میں اپنی مجبوریوں اور بے بسی کے رونے رونے لگتا اور قصوروار عفان کو بنا دیتا ۔۔۔۔میں نے مہک سے یہ تک کہہ دیا کہ میں نے اپنی اور مہک کی شادی کے بارے میں عفان کو بتا دیا ہے ۔۔۔۔۔وہ سب جانتا ہے پھر بھی میری مدد کرنے کو تیار نہیں ہے ۔۔۔۔۔مہک میری باتوں پر یقین کر کے عفان کو ہی برا بھلا کہنے لگتی ۔۔۔۔۔۔دوسری طرف میں نائلہ کو یہ فورس کرتا کہ وہ ماہم سے دوستی کرنے کی کوشش کرے ۔۔۔۔ میں نائلہ کو ڈنر کے لئے لے گیا تھا وہیں میں نے اسے بات شروع کی

“نائلہ تم ماہم سے بات چیت کیا کرو آخر تم دونوں نے ایک ساتھ رہنا ہے ۔۔۔۔اس لئے جتنی جلدی تم دونوں گھل مل جاؤں گی اتنا ہی گھر کا ماحول بہتر رہے گا”میں نے کھانے کے دوران نائلہ سے کہا

“آپ کی بات ٹھیک ہے کامران۔۔۔۔میں بھی یہی چاہتی ہوں مگر ماہم خود ہی کچھ ریزو سی رہتی ہے ۔۔۔۔آنٹی سے تو میری تقریباروز ہی بات ہوتی ہے مگر ماہم بس بس ہائے ہیلو تک ہی رہتی ہے “نائلہ پانی پیتے ہوئے بتانے لگی

“کسی دن تم گھر آ جاؤں تا کہ ماہم سے تفصیلی ملاقات ہو جائے تمہاری ۔۔۔۔پھر خواتین کی اتنی باتیں ہوتی ہیں ۔۔۔۔”

“ٹھیک ہے کر لو گئ ۔۔۔۔۔آپ کو ماہم کی ذیادہ ہی فکر نہیں ہے “نائلہ شاید چڑ گئ تھی

“مجھے صرف یہ خواہش ہے کہ جیسے ماہم مماسے گھل ملکر رہتی ہے تم بھی ایسے ہی رہو اور ماہم سے دوستی کرنے میں تمہارا ہی فائدہ ہے “میں نے بات کوسہولت سے دوسرا رخ دیدیا

“کیا مطلب “

“بھی وہ وڈنگ ارینج مینٹ بہت زبردست کرتی ہے عفان کے دوست کی شادی پر سب اسی نے ارینج کیا تھا ۔۔۔تم بلیو نہیں کر سکتی وہاں آنے والے سب مہمان اب تک ماہم کوسراہتے ہیں ۔۔۔۔”یہ سب معلومات قاسم سے میں سن چکا تھا

“نائلہ بہت دلچسپی سے سننے لگے “

“پھر توآپ کو فورا ماہم سے کہنا چاہیے کہ وہ ہماری شادی پر بھی ایسا ہی کچھ کرے ۔۔۔۔آخر وہ آپ کی کزن بھی ہے اور بھابی بھی “

“ہاں لیکن میں چاہتا ہوں یہ تم اس سے کہو میں عورتوں کے معاملے میں کیا بولتا پھرو “

“او کے کہہ دوں گی “نائلہ دوبارہ سے کھانے میں مصروف ہو گئ

اب میں نائلہ کو اپنے دل کی کیفیت کیا بتاتا ۔۔۔۔کتنے مہنے گزر گئے تھے میری ماہم سے بات نہیں ہو پا رہی تھی ۔۔۔۔نا ہی اس سے سامنا ہو پارہا تھانا جانے عفان نے کہاں چھپا کر رکھ دیا تھا ماہم کو اب صرف نائلہ ہی تھی جس کے ذریعے میراپیغام ماہم تک پہنچ سکتا تھا ۔۔۔۔ اور اسکی کیفیت مجھے معلوم ہو سکتی تھی ۔۔۔۔۔۔میں دیکھنا چاہتا تھا میری منگنی کے بعد ماہم کی کیا حالت ہے ۔۔۔۔۔اپنی منگنی کے بعد سے میں میں نے اسے دوبارہ نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔دات کے ڈنر کے بعد میں گھر میں داخل ہوا تو سب ڈنر کر رہے تھے میں بھی ڈائنگ روم میں آ گیا ۔۔۔۔۔پاپا عفان اور مما سے کسی بات پر بحث کر رہے تھے اور وہ بھی بہت خوشگوار موڈ میں ۔۔۔۔۔میں نے بس پاپا کے منہ کسی دادا اور پوتی کا ذکر سنا تو اندر آ کر پوچھنے لگا مگر پاپا نے بات ٹال کر میری مصروفیت کے بارے میں پوچھنے لگے ۔۔۔۔میں نے کہہ دیا کہ نائلہ کے ساتھ ڈنر پر گیا تھا ۔۔۔۔پاپا خوش تھے اور میری شادی بھی جلد کروانا چاہتے تھے ۔۔۔۔۔عفان سامنے بیٹھا کھانے میں مصروف تھا ۔۔۔۔۔میں نے جان بوجھ کر اسکے سامنے اپنی شادی کی ارینجمنٹ کا تذکرہ چھیڑا اور یہ خواہش ظاہر کی کہ ماہم سب ارینج کروائے مجھے لگاپاپا میری بات پر ہامی بھریں گئے ۔۔۔۔اور ماہم کو بھی اس بات کے لئے ضرور کہیں گئے ۔۔۔۔۔پھر میں یہ دیکھتا ماہم کو میری شادی اپنے ہاتھوں سے سجانا کیسا لگتا ہے ۔۔۔۔۔مگر عفان نے صاف منع کر دیا ۔۔۔۔اور ماہم کی طبیعت کی خرابی کا بھی کہنے لگا ۔۔۔۔۔مجھے ماہم کی فکر سی ہونے لگی کیا وہ بیمار تھی ۔۔۔۔۔شاید میری منگنی کی وجہ سے ۔۔۔۔”میرے ذہن میں پہلا خیال یہی آیا میں نے برجستہ عفان سے پوچھا

“کیا مطلب ۔۔۔۔کیا ہوا ہے ماہم کو “میرا دل بے چین سا ہونے لگا مگر عفان کے اگلے جمعلے نے میرے پیروں سے جیسے زمین ہی کھنچ لی ۔۔۔۔میرے منہ میں میٹھائی ڈالتے ہوئے وہ مجھے میرے تایا بننے کی خبر سنا رہا تھا ۔۔۔۔۔پاپا کی خوشی نے اس بات کی تصدیق بھی کر دی ۔۔۔۔۔مجھے لگا کسی نے گہری اندھیری کھائی میں مجھے پھنک دیا ہو ۔۔۔۔۔میں جہاں بیٹھا تھا وہاں سے اٹھ ہی نہیں پایا ۔منہ میں میٹھائی کی میٹھاس کے بجائے میرے منہ میں کڑواہٹ سی گھل گئ ۔۔۔۔ماہم عفان کی کیسے ہو سکتی ہے ۔۔

۔۔نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔کبھی نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔میری حالت غیر ہونے لگی تھی ۔۔۔۔۔میراپورا وجود پسنے سے شرابور تھا ۔۔۔۔۔میں فورا سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گیا