Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 48
Rate this Novel
Tadbeer Episode 48
Tadbeer by Umme Hani
جب ماہم کو ہوش آیا تو عمر کو گود میں لئے پیار کرتی رہی ۔۔۔۔بہت خوش تھی وہ ۔۔۔۔
“عفان کتنا پیارا ہے نا یہ ۔۔۔۔”ماہم اسکی پیشانی چومتے ہوئے بولی
“ہاں بلکل تمہارے جیسا جو ہے اس لئے ‘”
“اچھا میرے جیسا ہے لیکن مجھے تو یہ بلکل تمہاری طرح لگتا ہے “ماہم کبھی عمر کو تو کبھی مجھے دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔
قاسم اور فاریہ اگلے روز نائل کے ساتھ ملنے آئے تھے ۔۔۔۔قاسم کے تیوروں کو دیکھ کر میری ہنسی بے ساختہ تھی ۔۔۔۔
“تم نے چیٹنگ کی ہے میری ۔۔۔۔”
“تم تو بڑے بڑے دعوے کر رہے تھے “میں ہنستے ہوئے قاسم کو اور تپایا
“میرے تو سارے ارمانوں پر تمہارے بیٹے نے پانی پھیر دیا ۔۔۔۔ثابت کر دیا کہ تمہاری ہی اولاد ہے “قاسم کی بات سن کر میں۔ قہقہ لگانے لگا
“اب بتاؤں اپنے نائل کوساری زندگی کنوارہ رکھو گئے”میں نے مزید قاسم کوتپاتے ہوئے کہا
“فکر کیوں کر رہے ہو اس کا حل بھی ڈھونڈ لیا ہے میں نے “
وہ کیا”
“دونوں کی شادی ایک ہی گھر میں کر دیں گئے ۔۔۔سمپل “قاسم نے دباتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“تمہارے پاس ہر بات ہر حل پہلے ہی موجود ہوتا ہے “
********………..
ماہم گھر آکر بھی عمر میں لگی رہتی تھی ۔۔۔۔۔اگر وہ سو رہا ہے تب مجھے بولنے کی بلکل اجازت نہیں ہوتی تھی ۔۔۔۔کچھ دن می۔ یہ سب برداشت کرتا رہا مگر آخر میں بھی باپ تھا عمر کا اب یہ کیسے ممکن تھا کہ اسے پیار بھی نا کروں ۔۔۔میں آفس سے گھر آیا تو وہ سو رہا تھا اور لاونج میں ایسے خاموشی تھی جیسے کوئی موجود ہی نا ہو ۔۔۔۔ٹی وی بند تھا ممااور مہک بھی چپ بیٹھیں تھیں اور ماہم عمر کے پاس خاموش بیٹھی ایک ٹک اسے دیکھ رہی تھی
“خیر تو ہے اتنی خاموشی “میں ماہم کے ساتھ صوفے پر بیٹھے ہوئے بولا
“ششش” ماہم نے اپنے منہ پر انگلی رکھتے ہوئے مجھے گھور کر چپ رہنے کا اشارہ کیا
“سو رہا ہے عمر ۔۔چپ ہو جاؤ”
“کیوں منسٹر کی اولاد ہے جو اتنے نخرے اٹھائیں اسکے ۔۔۔اٹھاوں اسے جب دیکھوں سوتا ہی رہتا ہے ۔۔۔مجھے تو یاد ہی نہیں کہ کبھی آدھا گھنٹہ بھی میں نے اسے جاگتے دیکھا ہو “میں نے سوئے ہوئے عمر کو گود میں لیاتووہ اٹھ گیا ۔۔۔۔
“عفان ۔۔۔”ماہم مجھے کھا جانے والے انداز سے دیکھنے لگی
“مما دیکھیں نا اسے اتنی مشکل سے سویا تھا عمر اور اس نے کیسے جگا دیا ہے اسے ۔۔۔۔”ماہم کی شکایتیں شروع ہو چکیں تھیں “
“چلو اب تو اٹھ گیا ہے ۔۔۔۔کچھ دیر رہنے دو عفان کے پاس ۔۔۔۔”
“نہیں نا مما نیند خراب ہو رہی ہے اسکی ۔۔۔ “”
“عفان اسے مجھے دو “ماہم مجھے سے مانگنے لگی
“بلکل نہیں۔۔۔ہٹو پیچھے ۔۔۔۔مجھے ابھی کھیلنا ہے اس سے باتیں کرنی ہیں ۔۔۔”عجیب بات تھی کہ عمر رو نہیں رہا بلکہ مجھے دیکھ کر مسکرانے لگا تھا ۔۔۔۔”
“چلو شکر ہے یہ جاگا تو ۔۔۔مہک بیٹا ٹی وی آن کرنا ذرا ۔۔۔سارا ڈرامہ اب تو ختم ہونے والا ہے ۔۔۔”مما نے مہک سے کہا وہ ریموڈ پکڑے ٹی وی آن کرنے لگی
“اوہ اس لئے ٹی وی بند تھا ۔۔۔۔”لاونج میں اتنی خاموشی اس وجہ سے تھی کہ عمر سو رہا تھا ۔۔۔ “ہاں بھئ ماہم کا لاڈلا سو رہا ہو تو وہ کہاں کسی کو بولنے دیتی ہے ۔۔۔”مہک نے ماہم کو۔ چڑاتے ہوئے کہا ۔۔
ماہم منہ بنائے بیٹھی تھی ۔۔۔اور میں عمر سے باتیں کرنے لگا کبھی وہ مسکرانے لگتا کبھی مجھے غور سے دیکھنے لگتا ۔۔۔۔رات کو کامران آفس سے آتے ہی عمر کو پکڑ لیتا تھا ۔۔۔۔اس وقت ماہم جلے پاوں کی بلی بنی رہتی تھی ۔۔۔۔
“عفان اسے کہو عمر کو سلانا ہے ۔۔۔عمر کو بھوک لگی ہے ۔۔۔۔واپس کرے عمر کو” ۔۔۔۔ وہ بہانے پر بہانے تراشتی تھی
“کیا ہو گیا ہے تمہیں ماہی ۔۔۔۔عمر ہی سب سے چھوٹا ہے ۔۔۔سب کو پیار آتا ہے اس پر ۔۔۔اگر کامران بھی اسے چاہتا ہے تو برا کیا ہے “
“عفان مجھے وہ اچھا نہیں لگتا ۔۔۔ عمر جب تک اسکے پاس ہوتا ہے مجھ سے برداشت نہیں ہوتا ۔۔۔۔بس تم جاؤں عمر کو لیکر آؤں ۔۔۔”
“ماہی دس از نات فیر اگر کوئی سدھرنا چاہے تو اسے موقع دینا چاہیے ۔۔۔۔۔”
“تم نہیں سمجھتے اسے ۔۔۔۔۔بس تم جاؤں نا عمر کو لیکر آؤں “ماہم کی بھی عجیب ضد تھی ۔۔۔۔کامران روز ایک ڈھیر گھنٹے سے پہلے عمر کو واپس نہیں کرتا تھا ۔۔۔۔
ایک مہنے بعد کامران کے یہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی ۔۔۔۔سب ہی خوش تھے لیکن پاپا کی خوشی قابل دید تھی ۔۔۔انہیں۔ ویسے بھی پوتی کی خواہش تھی س لئے اس کا نام بھی پاپا نے خود ہی رکھا تھا مشعل ۔۔۔۔۔دیکھنے میں وہ بلکل جاپانی گڑیا لگتی سرخ وسفید رنگ لٹکتے ہوئے گال بلکل بار بی ڈول کی طرح تھی ۔۔۔۔۔رنگ روپ میں وہ مہک پر تھی ۔۔۔۔اور نقوش کامران ہر تھے وہ اتنی پیاری تھی کہ نظر ہٹا مشکل ہو جاتا تھا ۔۔۔۔مگر مجھے یہ محسوس ہوا کہ کامران کچھ چپ چپ سا تھا شاید اسے بیٹے کی خواہش تھی اس لئے مشعل سے وہ اس گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کرتا تھا جیسا عمر سے کرتا تھا ۔۔۔۔مگر مہک بہت خوش تھی ۔۔گھر میں بچوں کی وجہ سے رونق بڑھ گئ تھی ۔۔۔بچوں کی قلقاریاں رونا ہسنا سب ہی افراد اب بچوں میں مصروف نظر آتے تھے ۔۔۔۔آفس سے جب بھی ہم جب گھر آتے تھے کامران سب سے پہلے عمر کو ہی پکڑتا تھا ۔۔۔وہ بھی اب اس سے مانوس ہونے لگا تھا ۔۔۔۔میں بھی مشعل کو پکڑ کر پیار کرنے لگتا ۔۔۔۔کامران بس کچھ ہی دیر کے لئے مشعل کو پیار کرتا پھر ۔مہک کو پکڑاا دیتا ۔۔۔۔البتہ پاپا مشعل کو عمر سے ذیادہ چاہتے تھے ۔۔۔۔گھر کا ماحول کافی حد تک پر سکون ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔ماہم اور مہک کبھی بھی بچوں کے معاملے میں منہ نہیں بناتیں تھیں ۔۔۔ایک دوسرے کے بچوں کو سنبھال بھی لیتی تھیں ۔۔۔۔
*****…….
مجھے پہلی بار کسی بڑے پروجیکٹ پر کام کرنے آفر ملی تھی لیکن مشکل یہ تھی کہ مجھے اسلام آباد جانا تھا قاسم کے تو پھر زمین پر نہیں ٹک رہے تھے ۔۔۔۔اس میں پروفیٹ بھی ڈبل تھا اور ہماری فارم کو پہلی بار ایسی آفر ملی تھی ۔۔۔۔کچھ ہی دنوں میں مجھے اور قاسم کو اسلام آباد کے لئے نکلنا تھا ۔۔۔۔میں نے جب ماہم سے اس بات ج ذکر کیا تو اس نے لاپروائی کا مظاہرہ کیا
“ہاں تو چلے جاؤں ۔عفان “
“تم بھی ساتھ چلو نا ماہی ۔۔۔۔شادی کے بعد ہم کہیں گئے بھی نہیں ہے اور اب موقع بھی مل رہا ہے ۔۔۔۔”میں چاہت تھا ماہم بھی میرے ساتھ چلے
“وہاں کا موسم اچھا خاصاسرد ہے عفان اور عمر ابھی چھوٹا ہے ۔۔۔ میں نہیں جاؤں گی”میرے بار بار منانے پر بھی ماہم راضی نہیں ہوئی ۔۔۔۔مجھے تو خیر جانا ہی تھا
میں اور قاسم اسلام آباد چلے گئے ۔۔۔ہمارا وہاں چار دن کا اسٹے تھا اور چاروں ہی بہت مصروفیت کے گزرے تھے ۔۔۔۔۔ہماری میٹنگ بھی کہاں رہی تھی ۔۔۔۔لیکن کانٹیکٹ ابھی سائن نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔لیکن تقریبا ہم رضامندی دے چلے تھے ۔۔۔ان چار دونوں میں میں نے ایک بار بھی مس سے بات نہیں کی اس کی کال روز ہی رات کو آتی تھی لیکن میں نے دانستہ اٹینڈ نہیں کی ۔۔۔۔جب وہ مجھ سے اتنی لا پروائی برت سکتی ہے تو کیا حرج ہے کہ میں بھی کچھ تو بی نیازی سے کام لوں ۔۔۔۔حالانکہ رات کو فرصت ملتے ہی مجھے سب سے پہلا خیال ماہم اور عمر کا ہی آتا تھا۔۔۔۔جب میں واپس پہنچتے ہی ماہم کے اداس چہرے پر پل بھر کے لئے میری نظر ٹک سی گئ۔۔۔۔کچھ خفا خفا بھی لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھا رہی تھی میں سمجھ گیا کہ اب محترمہ کی منتیں کرنی پڑیں گئ ۔۔آئسکریم تو پکا کھلانی پڑے گی ۔پھر جا کر اسکا موڈ بحال ہو گا۔۔۔میں خود کو ذہنی طور پر ماہم کی ڈیمانڈ کے لئے تیار کرنے لگا
مگر حیرت مجھے اس وقت ہوئی جب کمرے میں جاتے ہی وہ میرے ساتھ لگ کر رونے لگی
“کتنے سنگ دل ہو تم ۔۔۔بے حس اور چھوٹے بھی “
“میں نے کیا کیا ہے “
“تم نے کہا تھا چار دن میں واپس آ جاؤں گئے ۔۔۔۔اور اتنے دن بعد لوٹے ہو اور میرا فون بھی نہیں اٹھایا مجھ سے بات بھی نہیں کی ۔۔۔۔آئی ہیٹ یو عفان “
“چار دن بعد ہی تو آیا ۔۔۔اور چار دن بہت تو نہیں ہوتے ۔۔۔فون اٹھانے کی فرصت ہی نہیں ملی اتنا بزی تھا وہاں پر ۔۔۔پھر یہاں میری کس کو فکرتھی بھلے سے میں دس دن بعد آتا عمر تو تھا نا تمہارے پاس ۔۔۔۔”میرے بعد اس نے مجھے کتنا مس کیا تھا یہ اسکا ہر انداز بتا رہا تھا ۔۔۔۔وہ مجھ سے پیچھے ہٹ گئ
‘تمہیں اندازہ بھی ہے کہ یہ دن کتنی مشکل سے گزرے ہیں میرے ایک پل بھی سکون سے رہ نہیں پائی ۔۔۔۔اور کتنی آسانی سے تم کہہ رہے ہو کہ مجھے فکر نہیں تھی تمہاری نے ایک بار بھی مجھ سے فون پر بات نہیں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔”
اچھا بابا اب جب بھی اسلام آباد جاؤں گا ۔۔۔۔روز تمہیں فون کیا کروں گا ۔۔میں نے اسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر ملتجی لہجے میں کہا
“کیا مطلب کہ تم اسلام آباد جاؤں گئے ۔۔۔عفان تم اب کبھی بھی اتنی دور نہیں جاؤں گئے ۔۔۔۔۔سمجھے نا “وہ اپنی ناراضگی بھول بھال کر فکرمندی سے بولی
“جانا تو پڑے گا ماہی مجھے اپنا بزنس بڑھانا ہے ۔۔۔۔اور وہاں مجھے پروفٹ بھی زیادہ مل رہا ہے “
“تم کیا کرو گئے اتنے پیسوں کا عفان ۔۔۔۔جتنا تم یہاں کماتے ہو وہ بھی ٹھیک ہے ۔۔۔کس چیز کی کمی ہے ہمہیں “
“نہیں ماہی مجھے تمہارے لئے ایک خوبصورت سا بنگلہ خریدنا ہے جو تمہارا ہوگا۔۔۔۔تمہیں ہر آسائش دینا چاہتی ہوں ۔۔۔۔”,
“میں ایسے بھی بہت خوش ہوں عفان ۔۔۔۔اور مجھے مما پاپا کو چھوڑ کر کہیں نہیں جانا ۔۔۔۔میری فرمائش میں بس آئسکریم ہی تو ہوتی ہے ۔۔۔۔وہ کون سی اتنی مہنگی آتی ہے وہ تو تم آرام سے لے سکتے ہو “ماہم کی بات پر میں مسکرائے بنا نہیں رہ سکا
“واقع میں تو بیکار میں اتنی محنت کر رہا ہوں مجھے تو بس ایک آئسکریم پارکرکھول لینا چاہیے تھا کیونکہ تم تو اسی میں خوش ہو “جب بھی میں۔ یہ سمجھنے لگتا کہ ماہم
اب کچھ سمجھدار ہو گئ ہے اسکی اس قسم کی باتیں ۔میری سوچ کی تردید کرنے لگتیں ۔۔۔۔۔
“ہاں میں۔ اسی میں خوش ہوں بس کینسل کرو اب یہ اسلام آباد کا چپٹر “ماہم اپنی طرف سے بات ختم کر چکی تھی اس لئے بیڈ پر عمر کے ساتھ لٹنے لگی ۔۔۔۔
“ماہم میں ڈیل کر چکا ہوں ۔۔۔۔”میں نے آخری کوشش کرنی چاہی
“عفان میں کچھ بھی سننا نہیں چاہتی۔ بس کہیں نہیں جاؤں۔ گئے ۔۔۔۔بس مجھے اب اس موضوع پر کچھ بھی نہیں سننا ،”ماہم اب لیٹ چکی تھی ۔۔۔۔اسکام آباد میں گزرے یہ چار دن میرے بھی مشکل ترین ہی تھے ۔۔۔۔ماہم ٹھیک ہی کہہ رہی تھی یہاں بھی میں ٹھیک ٹھاک ہی کما رہا تھا ۔۔۔۔۔ سب مجھے اسلام آباد والے پروجیکٹ میں اتنی دلچسپی نہیں رہی تھی لیکن جب آگلے روز میں نے قاسم کو منع کیا تو وہ مجھ پر بگڑنے لگا
“عفان یہ سراسر حماقت ہے ۔۔۔ہم تقریبا انہیں ہاں کر چکے ہیں ۔۔۔اور بس چند مہینوں کی تو بات ہے ۔۔۔ہھر ایسا موقع بار بار نہیں ملے گا جانتے ہو اسلام آباد کی جانی مانی کمپنی ہے وہ ۔۔۔لوگ تو ایسے موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں اور پھر پروفٹ بھی ڈبل ہے “قاسم۔ مجھے قائل کرنے کی کوشش کرنے لگا
“قاسم۔ جتنا ہم یہاں کما رہے ہیں وہ بھی کم نہیں ہے ۔۔۔پھر ماہی بھی ساتھ جانے کو تیار نہیں ہے اور اسکےبغیر میں ۔۔۔۔۔” میں نے سے ادھوری چھوڑ دی
“کیوں بچوں جیسی باتیں کر رہے ہو ۔۔۔بھابھی کو میں اور فاریہ منا لیں گئے'”
“نہیں بس ہم ڈیل کینسل کریں گئے “میرےحتمی انداز پر قاسم غصے سے میرے کمرے سے باہر نکل گیا کچھ دن مجھ سے بات بھی ٹھیک سے۔نہیں کی ۔۔۔مگر کچھ ہی دنوں میں ہمہیں کراچی میں ہی ایک اور بڑا پروجیکٹ ۔۔ مل گیا ۔۔۔پروفٹ کا مارجن بھی زیادہ تھا ۔۔۔۔ہم دونوں کو سر کھجانے کی بھی فرصت نہیں تھی ۔۔۔ہماری کمپنی اب تیزی سے ترقی کے منازل طے کر رہی تھی۔۔۔۔میں رات کو بھی لیپ ٹاپ پر مصروف تھا ۔۔۔۔۔عمر بھی سو چکا تھا ۔۔۔۔ ماہم۔ چینج کر کے آئی مجھے لیپ ٹاپ پر مصروف دیکھ کر میرے پاس بیٹھ گئ ۔۔۔۔میں اپنے نئے پروجیکٹ کی وجہ سے اسے بلکل وقت نہیں دے پا رہا تھا ۔۔۔۔ماہم نے لیپ ٹاپ مجھ سے چھین لیا ۔۔۔۔
“ماہی پلیز واپس کرو لیٹ ٹاپ مجھے آج لازمی رپوٹ تیار کرنی ہے “
“عفان دو بج رہے ہیں چھوڑو اسے اب “
“دو ادھر “میں اسے گھورتے ہوئے کہا ۔۔۔کل صبح میٹنگ تھی اور میرا آج رپوٹ تیار کرنا اشد ضروری تھا
۔۔۔”ہرگز نہیں دوں گی “ماہم نے لیپ ٹاپ اپنے پیچھے چھپا لیا ۔۔۔۔میں اس سے لیپ ٹاپ چھینے کی کوشش کرنے لگا اسی چھنا جھپٹی میں ماہم سے لیپ ٹاپ زمین پر گر گیا میرا غصے سے دماغ ہی توگھوم گیا تھا ۔۔۔۔اگر لیپ ٹاپ خراب ہو جاتا تو
ہ
میری اتنے سالوں کا ریکوڈ بھی ڈوب جاتا ۔۔۔اور آج کی رپورٹ جو بس اپنے اختتام پر تھی ۔۔۔بلکل زیرو ہو جاتی ۔۔۔میں نے جلدی سے زمین سے لیپ ٹاپ اٹھایا
“یہ کیا کیا ہے تم ۔۔۔عقل نام کی چیز ہے بھی تم میں کے نہیں ۔۔۔اگر لیپ ٹاپ خراب ہو گیا ماہی میں تمہیں چھوڑو گا نہیں ۔۔۔جاہل لڑکی “میں غصے سے چلا کر بولا اور لیپ ٹاپ کھول کر چیک کرنے لگا ۔۔۔شکر تھا کہ بچت ہو گئ تھی ۔۔۔لیپ ٹاپ آن ہوا تو میری جان میں جان آئی ۔۔۔سامنے میری نظر ماہم پر پڑی تو وہ رو رہی تھی
“ماہی “
وہ اٹھ کر فورا سے کمرے سے نکل گئ ۔۔۔۔
مجھے اب بھی اسپر غصہ آ رہا تھا اس لئے اسے منانے اسکے پیچھے نہیں گیا جلدی سے اپنا کام نمٹایا اور لیٹ گیا ۔۔۔۔لیکن جب ایک گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد بھی وہ واپس نہیں آئی تو بلا آخر مجھے ہی اٹھ کر اسکے پاس جانا پڑا وہ اپنے کمرے میں بیٹھی رونے کا شغل فرما رہی تھی۔۔۔میں اسکے سامنے بیٹھ گیا مجھے دیکھ کر اس نے اپنا رخ بدل لیا
“ایم سوری “میں جانتا تھا کہ سوری کے بغیر وہ مانے گی نہیں
“مجھے بات نہیں کرنی تم سے جاؤں جا اپنا کام کرو ۔۔۔اب کبھی تمہیں ڈسٹرب نہیں کرونگی “وہ روتے ہوئے اشتعال آمیز لہجے سے بولی
“وہ تم کر رہی ہو ۔۔۔یوں آنسوں بہا کر “میں نرمی سے کہا مگر وہ ہتھے سے اکھڑ گئ
“ذیادہ ڈائیلاگز مت جھاڑو میرے سامنے ۔۔۔جتنی تمہیں میری پروا ہے دیکھ لیا ہے میں نے “
“ایم سوری ۔۔۔۔چلو نا ماہی اب ۔۔۔۔۔ عمر بھی اکیلا سو رہا ہے کمرے میں۔۔۔ ڈر جائے گا ۔۔۔۔”مجھے لگا میرا بہانہ کام ا جائے گا ۔۔۔کیونکہ عمر میں تو اسکی جان بستی تھی
” مجھے نہیں جانا سنبھالو خود تمہیں پتہ چلے کہ بچے کیسے پالے جاتے ہیں “
“ماہم “
“جاؤں یہاں سے عفان جا کر اپنے پروجیکٹ پورے کرو پیسہ کماؤ ۔۔۔۔جب میں مر جاؤں گی نا تو اسی پیسے سے شاہ جہاں کی طرح میرا بھی مقبرہ بنا دینا ۔۔۔۔دنیا واہ واہ کرے گی تم پر “
“بہت ہو گیا سمجھیں۔۔۔چلو اب “مجھے ماہم کی بات بری لگی تھی اس لئے میں نے اس بار سختی سے کہا مگر وہ تب بھی نہیں ہلی میں بھی غصے سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گیا ۔۔۔۔عمر کو شاید بھوک لگ رہی تھی اس لئے اٹھ چکا تھا ۔۔۔۔میں اسکے پاس جا کر بیٹھ گیا ۔۔۔اس بہلانے لگا کچھ دیر بعد ہی اس نے روما شروع کر دیا ۔۔۔۔پھر تو اس نے بھی اپنی ماں کی طرح نا چپ ہونے کی قسم کھا لی تھی ۔۔۔میں گود میں اٹھائے اسے ہلانے جلانے لگا ۔۔۔۔بلا آخر اسے کچن میں لے گیا تا کہ اسے فیڈر ہی بنا کر دیدوں ۔۔۔۔لیکن کچن کی لائٹ پہلے سے ہی آن تھی ۔۔۔میں عمر کو پکڑے کچن میں داخل ہوا تو مہک کھڑی فیڈر میں دودھ ڈال رہی تھی شاید مشعل کے لئے ۔۔۔مجھے دیکھ کر حیران تھی
“تم اس وقت یہاں “
ہاں ۔۔۔عمر کو شاید بھوک لگی ہے ۔۔۔”
“ماہم کہاں ہے”
“وہ ۔۔۔۔اسکی طبیعت ۔۔۔۔کچھ ٹھیک نہیں ہے “میں نے بہانہ بنایا اب کیا بتاتا کہ رونے میں مصروف ہے “اچھا کوئی بات نہیں فیڈر میں بنا دیتی ہوں ۔۔۔مہک نے عمر کے لئے فیڈربنا کر مجھے تھما دیا ۔۔۔میں نے کمرے میں آ کر عمر کو فیڈر پلایا پھر سلانے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ سو چکا تھا ۔۔۔مگر مجھے نیند نہیں آ رہی تھی ۔۔۔جب تک ماہم واپس کمرے میں آکر لیٹ نہیں گئ ۔۔۔
اس بار ماہم کی ناراضگی زیادہ ہی لمبی ہو چکی تھی ۔۔۔چار دن سے وہ مجھ سے بات نہیں کر رہی تھی ۔۔۔میری بات کا جواب بھی نہیں دے رہی تھی ۔۔۔میرا ہر اکسکیوز اسے قبول نہیں تھا ۔۔۔۔اب بھی وہ عمر کو تھپتھپا کر سلا رہی تھی
“ماہی میں کل اسلام آباد جا رہا ہوں اور دو تین مہینے سے پہلے نہیں لوٹو گا “مجھے لگا میری یہ دھمکی کام کرجائے اور وہ اپنے چپ کا قفل کھولے مگر نہیں وہ غصے سے کروٹ بدل گی میں زچ ہو کر رہ گیا تھا میں نے تکہ درست کیا اور لیٹ گیا
“بہت مزہ آتا ہے تمہیں مجھے تنگ کر کے ۔۔۔اچھی طرح جانتی ہو کہ تمہاری ناراضگی مجھ سے برداشت نہیں ۔۔اس لئے نخرے دیکھاتی کو مجھے۔۔۔۔ کر لو مجھے تنگ جس دن میں ناراض ہو گیا نا ماہی روتی رہ جاؤں گئ ۔۔۔ایسا خاموش ہو جاؤں گا کہ میری آواز سننے کو بھی ترسوں گی “میری بات پر وہ ہسنے لگی ۔۔۔میری طرف رخ کر کے مجھے دیکھنے لگی
“مجھ سے ناراض ہو گئے تم ۔۔۔۔آدھا گھنٹہ مجھ سے بات کیے بنا تم رہ نہیں سکتے میری آنکھوں میں آنسوں تم دیکھ نہیں سکتے ۔۔۔مجھے رولاو گئے ۔۔۔۔جو تم کر نہیں سکتے عفان رضا وہ کہتے کیوں ہو ۔۔۔بڑے مان سے وہ مجھے میری کمزوری جتا رہی تھی
” اچھی طرح جانتی ہو اس لئے تکلیف دیتی ہو مجھے “
“تم بھی اچھی طرح جانتے ہو کہ تمہاری ڈانٹ برداشت نہیں ہوتی مجھ سے “وہ منہ پھلائے بولی
“ڈانٹنا یاد ہے ۔۔۔اور جو تمہاری منتیں کر رہا ہوں وہ نہیں یاد تمہیں “میں نے اسکی ناک دباتے ہوئے کہا وہ بھی مسکرانے لگی شکر تھا کہ وہ مان گئی تھی پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد میں نے ایک اپاٹمنٹ خریدا تھا جو ماہم کے نام تھا اس بات سے صرف قاسم کی واقف تھا ۔۔۔۔کچھ دن بعد ہی پاپا نے ایک گیٹ تو گیدر گھر پر ارینج کیا ۔۔۔۔کیوں کے دونوں بچوں کا عقیقہ سادی سے کیا گیا تھا ۔۔ اس لئے اب ایک شاندار پارٹی رکھی تھی ۔۔۔۔۔اس بار بھی ماہم نے میری پسند سے بلیک کلر کی ساڑھی ہی خرید تھی ۔۔۔۔۔صبح آفس جاتے ہوئے ۔۔۔۔ہر خوشی کے رنگ ماہم کے چہرے پرتھے۔۔۔
“ماہی “وہ مجھے ٹائی پہنا رہی تھی
“تم نے آج تک مجھ سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کیا ۔۔۔آج مجھے تم سے سننا ہے “
“اچھا ۔۔۔۔وہ کیوں “
کیا مطلب کیوں ۔۔۔ایک دفعہ آئی لو یو نہیں کہہ سکتی مجھ سے “
“نہیں میرا ایسا کوئی موڈ نہیں ہے “اب وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے
مجھے کوٹ پہنانے لگی
“ایسی بات ہے تو ٹھیک ہے ۔۔۔ماہی عفان رضا کا بھی وعدہ ہے تم سے آج میں تم سے آئی لو یو کہلوا کر ہی دم لوں گا ۔۔۔۔تم نے سمجھ کیا رکھا ہے مجھے “
“یہ دعوہ تو تم پچھلے ایک سال سے کر رہے ہو ۔۔۔۔جب تک تم میری ا اچھی سی تعریف نہیں کرو گئے میں بھی تم سے اظہار کرنے والی نہیں ہوں “وہ اترا کر بولی کیونکہ جانتی تھی کہ یہ میں نہیں کر سکتا
“رات کو کرو گا ۔۔۔۔آفس میں بیٹھ کر آج مرزا غالب اور میر تقی میر حسرت موہانی کی غزلیں ہی یاد کرو گا ۔۔۔۔اب خوش “
“دیکھ لوں کون سی غزلیں سناتے ہو تم مجھے “
٫”رات کو بہت اسپشل تیار ہونا ہے تمہیں۔ میرے لئے “میں یہ کہتا ہوا افس چلا گیا ۔۔۔۔شام کو ماہم کی کال آئی کے اسکے لئے ایک چوکلیٹ کیک لے کر آؤں ۔۔۔۔آفس سے واپسی پر آج معمول سے زیادہ ہی رش تھا ۔۔۔میں نے ماہم کی پسندیدہ بیکری سے اسکے لئے کیک لیا ۔۔۔۔اور گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر رکھا ۔۔۔۔ماہم کی کال آ رہی تھی کہ سب مہمان بھی پہنچ چکے ہیں میرا ہی انتظار ہو رہا ہے ۔۔۔۔میں نے فون بند کیا ۔۔۔گاڑی ریڈ لائٹ پر کھڑی تھی جب ایک ان نان نمبر سے کال آئی پھے ایک ٹرک کا میری گاڑی سے ٹکرانا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*********
کمرے کا دروازہ پوری قوت کے ساتھ کھل کر پچھلی دیوار کے ساتھ ٹکرایا تھا۔ ۔۔میری آنکھ بھی کھل گئی سامنے کامران غیض و غصے سے میرے سامنے کھڑا مجھے گھور رہا تھا اس نے دروزہ بند کیا اور میرے قریب آکر دھاڑتے ہوئے بولا
“کیوں زندہ ہو تم ۔۔۔۔مر کیوں نہیں جاتے عفان اتنے ڈھیٹ کیوں ہو “میں ایک ٹک اسے دیکھ رہا تھا کامران کی آنکھوں سے اب غصے کی جگہ بے بسی نظر آنے لگی تھی اسکی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے وہ میرے قریب آ گیا
“میں محبت کرنے لگا ہوں ماہم سے عفان ۔۔۔۔۔بہت محبت کرتا ہوں اس سے ۔۔۔۔اگر وہ مجھے نہیں ملی تو میں مر جاؤں گا ۔۔۔۔۔”پہلی بار میں اسے بے بسی سے آنسوں بہاتے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
“میں مرنا نہیں چاہتا ۔۔۔جینا چاہتا ہوں ماہم کے ساتھ ۔۔۔اور جب تک تمہاری یہ سانسیں چل رہیں ہیں وہ میری نہیں ہو سکتی ۔۔۔اور مجھے اسے ہر حال میں پانا ہے ۔۔۔۔یہ مت سمجھنا کہ مجھے تم سے محبت نہیں ہے ۔۔۔ہے مجھے تم سے بھی محبت تم بھائی ہو میرے ۔۔۔۔نا یہ سمجھنا کہ تمہاری موت پر مجھے خوشی ہو گی ۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔مجھے بہت دکھ ہو گا ۔۔۔۔لیکن وقت ہے نا ہر زخم کا مداوا کرنے کے لئے ۔۔۔۔لیکن اگر تم ٹھیک ہو گئے تو
میں یہ کیسے برداشت کرو گا کہ ماہم تمہاری ہو جائے ۔۔۔۔اسے نہیں کھو سکتا ۔۔۔۔اس لئے تمہیں تو مرنا پڑے گا ۔۔۔۔یک دم ہی کامران نے اپنے آنسوں صاف کیے ۔۔۔اب اسکی آنکھوں میں وحشت اور سفاکی تھی ۔۔۔اس کے ہاتھ بری طرح کپکپاتے ہوئے میرے آکسیجن ماسک کی طرف بڑھنے لگے ۔۔۔۔پھر اس نے میرا ماسک اتار دیا ۔۔۔۔کچھ دیر میں ہی میرا دم گھٹنے لگا ۔۔۔۔اس سے پہلے بھی ڈاکٹر رمشہ میرا ماسک اتار کر چیک کرنے کی کوشش کرتی تھی کہ میں کتنی دیر خود سے سانس لے پاتا ہوں مگر چند لمحوں بعد ہی میرا سانس گھٹنے لگتا تھا ۔۔۔وہ۔ پھر سے ماسک پہنا دیتی تھی ۔۔۔۔اور اب تو میرا پورا ماسک اتر چکا تھا ۔۔۔کامران کمرے سے جا چکا تھا ۔۔۔۔میں بس مشکل کھنچ کھنچ کر سانس لینے لگا ۔۔۔۔میرادم گھٹ رہا تھا ۔۔۔۔۔اب مجھے لگا شاید میں مزید سانس نہیں لے پاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے اوپر لگی میرے دھڑکن کو نوٹ کرنے والی مشین اب سستی سے چل رہی تھی
