Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 61 (Part 1)
Rate this Novel
Tadbeer Episode 61 (Part 1)
Tadbeer by Umme Hani
کافی دیر میں عمر کو بہلاتا رہا چپ کرواتا رہا ۔۔۔۔ماہم پر مجھے اسقدد غصہ آرہا تھا کہ میں بیان نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔مہک جب کمرے میں آئی تو مشعل اسکے پاس نہیں۔ تھی
“مشعل کہاں ہے “
“ماہم کے پاس” ۔۔۔۔وہ اندر آکر عمر کو پکڑ کر اسکے گال کو دیکھنے لگی
“اف اسکے چہرے پر تو انگلیاں چھپ گئیں ہیں” ۔۔۔۔مہک کے چہرے پر تکلیف کے آثار تھے
“ہاں بد تمیز لڑکی کو اتنا بھی نہیں معلوم کے بچوں کے ساتھ پیش کیسے آتے ہیں” ۔۔۔۔ مہک عمر کے چہرے پر کوئی لوشن لگا دو “۔۔۔۔مجھے بار بار ماہم پر غصہ آ رہا تھا ۔۔۔۔۔مہک عمر کے چہرے پر لوشن لگانے لگی ۔۔۔۔۔۔پھر اسے فیڈر پلا کرسلادیا
“مشعل کولیکراوں مہک ۔”۔۔۔میری آنکھوں کے سامنے مشعل کا زخمی گال گھومنے لگا
“کیوں کامران ۔۔۔۔۔بڑی مشکل سے ماہم کی گود میں روتے روتے سوئی ہے وہ ۔۔۔۔اگر ذرابھی آنکھ کھل گئی تو پھر سے رونے لگے گی” ۔۔۔۔۔۔
“تم مشعل کو اندر لاؤں دیکھوں تو کہاں کہاں زخم لگا ہے اسے” ۔۔۔ اندر ہی اندر مجھے مشعل کا خیال بے چین کیے ہوئے تھا
“اوہ تو تمہیں پروا ہے مشعل کی “
“واٹ ڈو مین مہک ۔۔۔۔وہ بیٹی ہے میری مجھے کیوں پروا نہیں ہوگئ اسکی۔۔۔۔ “میں چلا کر بولا
“اچھا باہر توتم نے پلٹ کر دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی کہ کس طرح سے تڑپ تڑپ کر رورہی تھی وہ۔ “
“او پلیز مجھے یہ احساس دلانے کی کوشش مت کیا کرو کہ مجھے مشعل کی فکر نہیں۔ ہے ۔۔۔ میرا خون ہے مشعل جیسے عمر میرا خون ہے میں پہلے مشعل کی فکر کرو یاعمر کی میرے لئے ایک ہی بات ہے ۔۔۔اور بچوں میں ایسی لڑائیاں ہوجاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اب جاؤں مشعل کو لیکر آؤں “۔۔۔مہک میری بات سن کر کینہ توز نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئ کچھ ہی دیر میں مشعل کو گود میں لئے اندر آ کر میری گود میں
ڈالدیا اور بیڈ پر سوئے عمر کو گود میں لینے لگی
“اب اسے کہاں لے جاری ہو”
“ماہم مانگ رہی ہے ۔۔۔’
“کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔رہنے دو عمر کو یہیں “
“کامران وہ ماں ہے اسکی ۔۔۔جذبات اور غصے میں آ کر عمر کو مار تو اس نے لیا تھا مگر تب سے بے چین ہے ۔۔۔جب تک عمر کو سینے سے نہیں لگائے گئ اسے چین نہیں آئے گا۔۔”۔مہک کی وضاحت مجھے اس وقت بری لگ رہی تھی
“ہاں توتھوڑا تڑپنے دو اسے تا کہ آئندہ ایسا کرنے سے پہلے وہ اچھی طرح سوچے ۔”۔۔۔۔میں نے مہک کا ہاتھ عمر سے پیچھے کر دیا
“لیکن کامران “
“جاو اور کہہ دو اسے کامران نے منع کیا ہے ۔۔۔۔عمر سورہا ہے ۔۔۔۔۔اسے ڈسڑب کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔”۔۔میرے اٹل انداز سے مہک بھی چپ ہو گئ
مہک سے بات ختم کرنے کے بعد میں مشعل کے نرم گذار گالوں پر لگے کھونچ پر نرمی سے ہاتھ پھرنے لگا ۔۔۔۔۔۔مشعل سوئی ہوئی بھی سسکیاں لے رہی تھی نا جانے کیوں میرا،دل یکبارگی سے تڑپ اٹھا میں نے کتنی ہی دیر مشعل کواپنے سینے سے لگائے رکھا اس نے بھی اپنے ننھے ہاتھ سے میری شرٹ کو پکڑ لیا ۔۔۔۔۔۔مشعل کا ماتھا چوم کر میں نے دھیرے سے اسے بیڈ پر لیٹا دیا ۔۔۔۔رات کو کھانے پر عمر میری ہی گود میں تھا مگر ماہم کو دیکھ کر اسکی طرف لپکنے مچلنے لگا ۔۔۔۔میں نے اسے ماہم کو پکڑادیا ۔۔۔کتنی دیر وہ عمر
کو سینے سے لگائے بیٹھی رہی ۔۔۔۔۔اور وہ بھی اسکی گود میں سکون سے بیٹھا رہا ۔۔۔۔۔
******………*******
فاریہ اور قاسم ہر مہینے ماہم سے ملنے آتے رہتے تھے ۔۔فاریہ بار بار ماہم سے کہتی کہ وہ جب بھی اداس ہو اس سے ملنے گھر آ جایا کرے ۔۔۔ماہم بس ہلکا سا مسکر کر اثبات میں سر ہلا دیتی مگر ملنے کبھی نہیں گئ تھی ۔۔۔قاسم نے چائے کا خالی کپ رکھنے کے بعد اپنی جیب سے ایک چیک نکالا اور ماہم کی طرف بڑھا دیا ۔۔
“بھا ی یہ رکھ لیں “
“یہ کیا ہے قاسم بھائی “ماہم نے چیک بارے سے پوچھا چیک کو لیا نہیں
“بھابی میں اور عفان پاٹنر ہیں ۔۔۔۔اور یہ اس کے حصے کا پروفیٹ کا چیک “
“یہ آپ مجھے کیوں دے رہے ہیں۔۔۔۔عفان کو ہوش آ جائے گا تو اسی کو دینا مجھے نہیں چاہیے ۔۔۔۔۔”ماہم بھرائی ہوئی آواز سے بولی
“بھابی پلیز اسے رکھ لیں ۔۔۔۔ہو سکتا ہے آپکو کبھی ضرورت ہو تو آپکے کام آئے گا ۔۔۔اور یہ فائل بھی رکھ لیں “قاسم نے ایک ماہم کی طرف بڑھا دی
“اب یہ کیا ہے “ماہم نے چیک اور فائل لیتے ہوئے پوچھا
“بھابی عفان نے آپکے لئے ایک اپاٹمنٹ خریدا تھا یہ اپنے نام ہے ۔۔۔۔۔۔جس دن اسکا ایکسڈنٹ ہوا وہ آپکا یہ سرپرائز گفٹ کے طور پر دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔”قاسم خاموش ہو گیا اور ماہم کا ضبط بھی ٹوٹ گیا ۔۔۔آنکھوں سے آنسوں چھلکنے لگے ۔۔۔۔
“بھائی میری بات آپ کے غموں کا مداوا تو نہیں کر سکتی لیکن اگر کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو مجھے یاد رکھیں گی تو مجھے خوشی ہو گی “
٫جی “ماہم نے ایک مختصر س جواب دیا ۔۔۔کچھ ہی دیر میں فاریہ اور قاسم چلے گئے ۔۔۔ماہم نے وہ فائل اور چیک یونہی اپنی الماری کے دراز میں رکھ دیے
******………
میں اور مہک شاپنگ پر گئے تو ماہم اور عمر کے لئے بھی شاپنگ کر لائے ۔۔۔۔ماہم نے عمر کے کپڑے تو رکھ لئے مگر اپنے لئے کچھ نہیں لیا
“بھابی یہ آپ واپس رکھ لیں مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے “اپنے کپڑوں کا شاپنگ بیگ ماہم نے مہک کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
“کیوں ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔موسم بدل رہا ہے ۔۔۔۔یہ تم رکھ لو اور بھی تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھ سے کہہ دینا “۔۔۔۔ماہم نے کہا تو مہک سے تھا مگر جواب میں نے دیا لیکن ماہم میری بات کا جواب مہک کو ہی دے رہی تھی
“مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔عفان نے میرا ورڈراب نت نئے ڈریسز سے بھرا ہوا ہے ۔۔۔اور وہ ہیں بھی اسکی پسند کے میں اسکے علاوہ کچھ اور پہنوں گی بھی نہیں پھر فائدہ ان کا “۔۔۔۔
“چلو وہ ہی پہن لینا مگر یہ بھی رکھ لو ۔۔۔اب ہم لے آئیں ہیں تو “۔۔۔مہک نے محبت سے کہا مگر ماہم کا انکار قرار میں نہیں بدلہ
“آپ رکھ لیں مجھے اگر ضرورت ہوئی تو رضا انکل سے کہہ دوں گی “
********………==
۔۔۔۔اب عمر کچھ ٹوٹے پھوٹے لفظ بولنے لگا تھا ۔۔۔۔میری خواہش تھی کہ عمر مجھے بابا یا پاپا کہے ۔۔۔۔اس لئے تنہائی میں میں عمر کو بابا کہنا سیکھانے لگتا ۔۔۔۔پہلے پہل تو بس وہ مجھے بولتے ہوئے بڑے غور سے دیکھتا رہتا۔۔۔۔عمر کافی ذہین بچہ تھا ۔۔۔۔جلد ہی میری ہونٹوں کی حرکات کو نوٹ کرتا تھا اور پھر آخر کار میری کوشش کامیاب ہو گئ ۔۔۔۔عمر مجھے بابا کہنے لگا ۔۔۔۔اس دن میں بے انتہاخوش تھا ۔۔۔اسے گود میں بھر کر جی بھر کے پیار کرنے لگا۔ایک دن ماہم لاونج میں بیٹھی تھی عمر اپنی واکر چلا رہا تھا جیسے ہی میں آفس سے آیا ۔۔۔مجھے دیکھ کر عمر مجھے بابا بابا کہنے لگا ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ میں اسے فرحت محبت سے گود میں بھر کر پیار کرتا ۔۔۔۔ماہم نے اسے پکڑ لیا ۔۔۔۔ماہم میری آمد سے بے خبر ہی رہی میں خاموشی سے کچن کی جانب کھڑا ہو گیا جہاں سےماہم مجھے نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔
“عمر بابا کہا تم نے ۔۔۔۔میری جان میرا بچہ پھر سے کہو بابا” ۔۔۔ماہم بہت پیار سے عمر کو بابا کہناسیکھا رہی تھی۔۔۔۔اور عمر بھی بابا بابا کی رٹ لگانے لگا ۔۔۔۔ماہم کے چہرے پر آج عفان کے حادثے کے بعد پہلی بار میں نے مسکراہٹ دیکھی تھی ۔۔۔۔۔کافی دیر وہ عمر سے پیار کرتی رہی جب جب وہ بابا کہتا ماہم کبھی اسکے ہاتھ چومتی کبھی اسکے پیشانی پر پیار کرتی اپنی خوشی کا اظہار وہ جیسے کر سکتی تھی کر رہی تھی ۔۔۔میرادل اسکی خوشی پر جھومنے لگا تھا ۔۔۔ شکر ہے وہ زندگی کی طرف لوٹ رہی ہے مگر اگلے ہی روز میری یہ خوشی بھی غارت ہو گئ ۔۔۔۔۔اگر مجھے معلوم ہوتا میرا بابا سیکھانا عفان کے مردہ وجود میں ہلچل پیدا کر دے گا تو میں یہ کوشش کرتا ہی نہیں
*******………..********………*********…***
عفان کی حالت میں کوئی سدھار نہیں آیا تھا ماہم اس سے ملنے گئ عفان کی ڈاکٹر اب چینج ہو چکی تھی پہلی ڈاکٹر کے با نسبت یہ دھان پان اور کم عمر ڈاکٹر سے ماہم کو کچھ خاص تجربے کار نہیں۔ لگی تھی ۔۔۔۔۔
مگر اس سے بات کر کے ماہم مطمئن سی ہونے لگی وہ کومہ پیشنٹ کی سائیکی کے بارے میں اسے بتانے لگی۔۔۔ماہم کوروز، ملاقات پربھی منع کر دیا ۔۔۔اگلی ملاقات اس نے ماہم سے اپنے روم میں کی
وہ ماہم کو عفان کے بارے میں ڈٹیل لینے لگی وہ جتنا جانتی تھی وہ سب ڈاکٹر رمشہ کو بتا چکی تھی اسی نے پہلی بار ماہم پر یہ انکشاف کھولا کہ عفان ذہنی طور پر جاگ رہا ہے ماہم بے یقین اور خوشی کے ملے جلے جذبات لیے بولی نہیں پا رہی تھی اسکی تو دعائیں قبول ہوتی نظر آ رہیں تھیں
“آپ ۔۔۔۔آپ سچ کہہ رہیں ہیں ۔۔۔مگر بظاہر تو ایسا نہیں لگتا ۔۔۔۔۔”
“اس لئے مسز عفان کہ آپکے آنے سے پہلے اور آنے کے بعد انکی ہارٹ بیٹ کی ریڈنگ مختلف ہوتی ہے۔۔۔اگر وہ ہوش وحواس میں نا ہوتے تو آپکے آنے پر انکی ہارٹ بیٹ معمول سے تیز نا چلتی ۔۔۔مظلب یہ کہ وہ آپکی آمد پر رسپونس دیتے ہیں ۔۔۔اور یہ ایک خوش آئین بات ہے ۔”۔۔ڈاکٹر رمشہ کی بات سن کر ماہم کی آنکھوں سے آنسوں چھلکنے لگے پہلی بار اسے عفان کے حوالے سے یہ خوشخبری سننے کو ملی تھی ۔۔۔۔
مجھے مزید آپکی کے کاپریٹ کی ضرورت پڑے گی مسز عفان آئی ہوپ آپ میری مدد کریں گی
“کیوں نہیں ڈاکٹر ۔۔۔۔اینی ٹائم ۔۔۔”
“اب آپ مسٹر عفان کے پاس جائیں ان سے اچھے لمحات کی باتیں کریں اور وقتا فوقتاً انکی ہارٹ بیٹ نوٹ کریں “۔۔۔۔ماہم اب عفان سے گزرے وقت کی باتیں کرنے لگی تھی ۔۔۔۔جب اس نے پہلی بار عمر کی زبان سے بابا سنا تو اسے خوب پیار کرنے لگی
**********………..=
جب پاپا کا مجھے آفس میں فون آیا کہ عفان کی آنکھیں حرکت کرنے لگیں ہیں ۔۔۔۔پاپا کی خوشی کے مارے بات نہیں ہو پا رہی تھی ۔۔۔عجلت میں بس یہی کہہ کر انہوں نے فون بند کر دیا ۔۔۔۔مجھے لگا پاپا کوشاید کوئی مغالطہ ہوا ہو گا۔۔۔۔۔جب میں آفس سے سیدھا ہاسپٹل پہنچا عفان کے کمرے میں ڈاکٹر رمشہ سمیت سب ہی موجود تھے۔۔۔۔عفان کی آنکھیں تو بند تھی مگر آنکھوں کی پتلیاں حرکت کر رہیں تھی ۔۔۔۔یہ سب میں کیسے برداشت کر سکتا تھا ۔۔۔۔نا جانے میں خود کو مطمئن کر رہا تھا یا باقی سب کو مگر غصے اور تکلیف میں جو میرے منہ آیا میں نے بول دیا اور یہ بھی کہ میں عفان کا علاج اب افورٹ نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔اس بات پر پاپا اشتعال میں آ گئے ۔۔۔۔۔کہ وہ اپنا سب کچھ بیچ کر بھی عفان کا علاج ضرور کروائیں گئے ۔۔۔اس وقت تو میں گھر پر واپس چلا گیا ۔۔۔۔مگر اگلے روز اپنی باتوں پر میں بہت پشیمان تھا پاپا اپنی نا ساز طبیعت کے باوجود آفس جانے کے لئے تیار تھے ۔۔۔۔لیکن اب میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ پاپا آفس جائیں ۔۔۔میں اب ہر چیز اپنے قبضے میں رکھنا چاہتا تھا اور اسکے لئے ضروری تھا کہ پاپا آفس میں نا جاتے
“پاپا آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔آپ کیوں آفس جانے کی ضد کر رہے ہیں “۔۔۔۔۔پاپا کو تیار دیکھ کر میں نے بہت رسانیت سے کہا
“نہیں ۔۔۔۔اب میں تم پر اتنا بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا “۔۔۔۔۔پاپا کا مغمول لہجے پر میں پسپا سا ہونے لگا اپنے کیے پر افسوس ہو رہا تھا
“ایم سوری پاپا کل جو کچھ بھی میں نے کہا سب غلط تھا بس میں فیکڑی کی کسی الجھن کا شکار تھا ۔۔۔۔پھر عفان کی خبر سن کر ہاسپٹل پہنچا ۔۔۔۔۔تو یہ بات اکسپٹ ہی نہیں کر پایا کہ واقع عفان بہتری کی طرف آ رہا ہے ۔۔۔۔پچھلے کئ مہینوں سے وہ کوئی رسپونس۔ نہیں دے رہا تھا ۔۔۔۔مجھے لگا ڈاکٹرز کا جھوٹا دلاسہ ہے۔۔۔۔عفان میرا بھائی ہے بھلا اس سے اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے وہ ٹھیک ہو جائے۔”۔۔۔۔یہ بات میں کس دل سے کہہ رہا تھا یہ میرا دل ہی جانتا تھا ۔۔۔۔۔مگر چہرے پر درد کے آثار ڈالے مجھے پاپا کو تو اعتماد میں لانا ہی تھا ۔۔۔ اور اس میں کافی حد تک کامیاب ہو چکا تھا
“پھر بھی کامران ۔۔۔۔بیٹا ماہم بہت حساس ہے عفان کے معاملے میں تو بہت ذیادہ ۔۔۔۔وہ اس بات پر بہت آفسردہ سی ہو گئ ہے۔۔۔۔جب سے عفان ہاسپٹل میں ہے ۔۔۔۔میں نے آج اسکے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی تھی جو تمہاری باتوں کی وجہ سے چھن گئ۔۔۔”۔
“پاپا میں ماہم سے اکسکیوز کر لیتا ہوں “
“نہیں رہنے دو میں خود سمجھا دونگا اسے ۔۔۔۔مگر آئندہ تم سوچ سمجھ کر بات کرنا۔۔”۔۔۔۔پاپا نے بات ختم کر دی
******………********
ماہم کامران کی باتوں سے بہت دلبرداشتہ ہوئی تھی ۔۔۔۔اس لئے پوری رات اسی بارے میں سوچتی رہی ۔۔۔۔واقع وہ کیوں بھرے گا عفان جا بل اور کب تک میرا سر عمر کا بوجھ اٹھائے گا ۔۔۔۔۔مجھے ہی کچھ کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔پہلی بار ماہم کو اپنے سمپل بے سے کرنے پر جی بھر کر فسوس ہوا تھا اگر عفان کی بات مان لیتی تو اس ج بزنس خود سنبھال سکتی تھی ۔۔۔۔پھر سے یاد آنے لگا کہ عفان اس کے لئے وڈنگ اریجمنٹ کے لئے آفس بنوانے کا کہہ رہا تھا ۔۔۔کیوں نا وہ یہی کام شروع کر دے ۔۔۔اس لئے قاسم کو کال کرنے لگی ۔۔۔۔
“جی بھابی کہیے “
“قاسم بھائی میں دن بھر گھر پر فارغ رہ کر پریشان ہی رہتی ہوں ۔۔۔میں سوچ رہی تھی کہ اگر میں اپنے آفس کے اوپر والے پروشن میں اپنے لئے وڈنگ اریجمنٹ کا کام باقاعدہ طور پر شروع کر لوں تو میرا بھی دل بہل جائے گا “
“کیوں نہیں بھابی یہ تو بہت اچھا ہو جائے گا اوپر کا پورشن ویسے بھی خالی ہے ۔۔۔۔۔آپ جب چاہیں اپنا کام اسٹاٹ کر۔ سکتیں ہیں “قاسم کی تسلی سے اسے حوصلہ بڑھا تھا لیکن ابھی سے رضاصاحب سے بھی اجازت لینی تھی کامران کے احسانات کے نیچے وہ رہنا بھی نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔خلاف توقع رضا صاحب نے اسے خوش دلی سے اجازت دیدی تھی ۔۔۔۔وہ بھی چاہتے تھے کہ وہ کچھ مصروف ہو جائے ۔۔۔۔چند ہی دنوں میں ماہم نے آفس کو اپنے حساب سے سیٹ کر دیا تھا ۔۔۔۔اور کچھ اسٹاف بھی سینٹنگ قاسم نے اسے کروا دی تھی ۔۔۔۔۔
********………
ماہم اب صبح ہی ڈرائیور کے ساتھ اپنے آفس جانے لگی تھی ۔۔۔جب میں نے پاپا سے وجہ دریافت کی تو انہوں کہا اچھا ہے کچھ دل بہل جائےگااس کا اور ماہم کو انہوں نے خود اجازت دی ہے ۔۔۔۔میں بھی پرسکون ہوگیا کہ اچھا ہے وہ مصروف ہو جائے ۔۔۔ ۔عفان کے لئے رونا چھوڑ دے۔۔۔۔۔میں عفان کے ہاسپٹل اسکے بل کلیر کرنے گیا تو معلوم ہوا کہ اس کے سارے ڈیوز کلیر ہیں مجھے اس بات پر یقین نہیں آیا میں نے حیرت کا اظہار کیا اور رسپشن پر کھڑی لڑکی سے دوبارہ چیک کرنے کے لئے کہا
“آپ پلیز دوبارہ چیک کریں عفان رضا کے نام پر بل موجود ہو گا ۔۔۔۔کیونکہ میں نے تو ابھی پے کیا ہی نہیں”۔۔۔اس لڑکی نے دوبارہ سے کمپوٹر پر تیزی سے انگلیاں چلانی شروع کیں
“نو سر عفان رضا کے ڈیوز کلیر ہیں ۔۔۔۔میں نے ری چیک کر لیا ہے “
“اچھا ۔۔”۔۔میں بے یقینی کے عالم میں تھا ۔۔۔ اپنی تھوڑی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میں سوچنے لگا کہ کون ہے جو بل ہے کر سکتا ہے
“کاینڈلی میں یہ جان سکتا ہوں کہ یہ بل کس نے پےکئےہیں “۔۔۔۔میں نے رسیپشنر سے کہا
“شیو سر بس ایک منٹ” ۔۔۔۔کچھ دیر وہ پھر سے کمپوٹر میں مصروف رہی
“مسز عفان نے” ۔۔۔۔۔
“ماہم نے” ۔۔۔میں منہ میں بڑبڑایا اور وہاں سے سیدھا گھر چلا گیا ۔۔۔۔پورے راستے مجھے ماہم کی اس جرت پر غصہ آنے لگا ۔۔۔۔آخر وہ کمزور اور بزدل سی لڑکی یہ سب کیسے کر سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر میں نے ابھی سے اسکے پاؤں نہیں روکے تو وہ میری دسترس سے باہر ہو جائے گئ ۔۔۔۔اگروہ خود مختار اور خود کفیل ہو گی تو مجھے کیوں اپنائے گئ ۔۔۔۔نہیں اسے ہر چیز کے لئے میرا محتاج ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔
غصے سے تپا ہوا میں گھر پر داخل ہوا تھا سیدھا ماہم کے سامنے کھڑا ہو گیا مہک بھی وہیں بیٹھی مشعل کو سریلیک کھلا رہی تھی مما تسبیح پڑھ رہی۔ تھیں ماہم عمر کو صوفے پر لیٹائے تھتھپا رہی تھی وہ نیند میں تھا ۔۔۔
میں۔ بنا کسی لحاظ کیے ماہم پر دھاڑا تھا
“یہ کیا کرتی پھر رہی ہو تم۔۔۔۔بہت بڑی ہو گئ ہو ۔۔۔۔کیا سمجھتی ہو تم ۔۔۔۔تمہارا جو جی میں آئے گا کرو گی اور میں خاموش رہوں گا ۔۔۔۔”
میری بات پر ماہم میرے سامنے کھڑی ہو کر میری آنکھوں میں دیکھنے لگی اور اپنے ہاتھ باندھے مجھے پر اعتماد اور مطمئن سی لگی
۔۔۔مجھے لگا تھا میرے اس انداز پر وہ پزل ہو جائے گی ۔۔۔گھبرا جائے گی اور میرے خلاف جانے کا سوچے گئ بھی نہیں مگر جو ماہم میرے سامنے کھڑی تھی وہ ۔۔۔۔وہ ماہم تو ہر گز نہیں تھی جیسے میں بچپن سے جانتا تھا ۔۔۔۔۔جلد گھبرا جانے والی بات بات پر رو دینے والی ۔۔میرے غصے کے آگے اسکے ہاتھ پاؤں پھولنے لگتے تھے اسکی آواز ہچکچانے لگتی تھی لڑکھڑانے لگتی تھی مجھے لگا وہ بوکھلا جائے گئ ۔۔۔ڈر کر پیچھے ہٹ جائے گی ۔۔۔۔گھبرا کر کہے گی کہ مجھ سے غلطی ہو گئ کامی آئندہ نہیں کرونگی۔۔۔۔مگر نہیں وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے مجھے تاسف سے دیکھ رہی تھی اس نے میری بات کو دو کوڑی کی بھی وقعت نہیں دی
“کامران ہوا کیا ہے تمہیں کس لہجے میں میں تم ماہم سے بات کر رہے ہو “مما نے مجھے سختی سے پوچھا مگرمیں سب کو نظر انداز کیے ماہم کو گھور رہا تھا
“ہاسپٹل کا بل تم نے ہے کیا ہے ؟”مگر میری بات کا جواب دینے کے بجائے اس نے عمر کو گود میں لیا اور وہاں سے جانے لگی میں سلگ کر رہ گیا تھا پھر سے اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا
“کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے بل تم نے ہے کیا ہے جواب دو مجھے “میرا لہجہ اور بھی بلند ہو چکا تھا مگر وہ بے خوف کھڑی تھی
“آپ مجھ سے پوچھنے کا حق نہیں رکھتے میں آپکی جوابدہ نہیں ہوں ” پہلی بار اس کا لہجہ میرے سامنے ایسا ہوا تھا
“واٹ ” میرے تو تلوں پر لگی تو سر پے جا کر بجھی بلکہ بجھی بھی نہیں کچھ اور ہڑھک گئ تھی وہ ہوتی کون ہے مجھے یہ کہنے والی
۔۔۔۔۔۔ماہم کا لہجہ اتنا ہی بلند تھا جتنا کہ میرا ۔۔۔۔میں کچھ پل تو دنگ سا رہ گیا
۔۔۔۔ہمارے شور شرابے پر پاپا کمرے سے باہر آ گئے میراغصے سے برا حال تھا ماہم سے ایسے جواب اور ایسے رویے کی کب توقع تھی مجھے ۔۔۔۔
“کیا ہوا ہے کامران کیوں چلارہے ہو” ۔۔۔۔پاپا بھی مجھے ہی ڈانٹنے لگے
“پوچھیں پاپا اپنی لاڈلی سے کیا سمجھتی ہے خود کو اتنی با اختیار یہ کب سے ہو گئ جو ہاسپٹل کے بل بنا کسی کو بتائے یہ خود ہے کرتی پھر رہی ہے ۔۔۔ کیونکہ با قول اس کے میں تو اس سے پوچھنے کا حق بھی نہیں رکھتا “۔۔۔۔۔میں نےجان بوجھ کر جتاتے ہوئے کہا
“ماہم کامران کیا کہہ رہا ہے ۔۔تم نے بل ہے کیا ہے یہ ہاسپٹل کا” ۔۔۔۔۔پاپا کا لہجہ سخت تھا مگر آواز دھیمی تھی
“جی پاپا” ۔۔۔۔ماہم سر جھکائے مہدب انداز سے جواب دے رہی تھی
“کیوں بٹیا “
“میں نہیں چاہتی کہ ان پر ہر چیز کا بوجھ بڑھ جائے اب انہیں عفان کے بل کی پروا کرنے کی ضرورت نہیں ” ۔۔۔۔
“سن لیا پاپا آپ نے “۔۔۔۔پاپا سے یہ سب کہہ کر میں۔ ماہم کے سامنے دوبارہ کھڑا ہو گیا
“میرا بھائی ہے وہ ۔۔مجھ پر وہ کبھی بوجھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔میں نے ہسپتال میں جو بھی کہا پاپا سے کہا تھا ۔۔۔۔۔وہ میرا اور پاپا کا معاملہ تھا ۔۔۔۔جو میں ان سے کلیر کر چکا ہوں ۔۔۔۔اور تم سمجھتی کیا ہو خود ذرا سی ڈیکوریشن سے تم لاکھوں کا بل بھر سکتی ہو اپنی اور عمر کی ضروریات کو پورا کر سکتی ہو ۔۔۔۔نہیں ماہم ۔۔۔۔۔۔نا عفان مجھ پر بوجھ ہے نا تم اور عمر میرے لئے غیر۔۔۔۔ میں بہت نرمی سے تمہیں آخری بار سمجھا رہا ہوں ۔۔۔۔آئندہ تم مجھے اپنی من مانیاں کرتی ہوئی نظر نا آؤں ۔”۔۔۔میں اسکی آنکھوں دیکھ کر تنبیہہ کرتے ہوئے بولا
“کامران ٹھیک کہہ رہا ہے بٹیا میں نے تمہیں اس لئے اجازت تو نہیں دی تھی کہ تم پیسے کمانے کے چکر میں خود کو ہلکان کر لو۔۔۔۔ “
“لیکن میں یہ نہیں چاہتی میرے شوہر کے اخراجات کسی کو بھاری لگیں ۔۔۔۔پاپا مجھے اگر کسی بھی چیز کی ضرورت ہوئی وہ میں آپ ہی سے مانگوں گی ۔۔۔۔ اگر میں اپنی سی کوشش کر بھی رہی ہوں تو اس میں اتنا ہائپر ہونے والی تو کوئی بات ہی نہیں ہے “۔۔۔۔۔ماہم مجھے مسلسل نظر انداز کر کے پاپا کو ہی جواب دے رہی تھی۔۔۔۔
“اوہ ۔۔۔۔تو ٹھیک ہے ۔۔۔کر لو اپنا شوق پورا ۔۔۔میں بھی دیکھوں کہ کب تک تم یہ سب چلا سکتی ہو “۔۔۔۔۔میں یہ کہہ کر وہاں رکا نہیں اپنے کمرے میں آ گیا
۔۔۔۔میرا خون میری رگوں میں ابل رہا تھا ماہم نے مجھے یہ باورا کروایا کہ میں اس کے لئے کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا جسے وہ جواب دینا ضروری سمجھے ۔۔۔ میرے اندر تو ایسی آگ لگی کہ میں جھلس کر رہ گیا تھا۔۔۔۔۔اتنی اہانت تو میرے تصور میں بھی نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔یہ وہ ماہم تو کہیں سے نہیں تھی ۔۔۔۔۔نا اسکی آنکھوں میں میرے لئے کوئی خوف تھا نا ہی اس کے لہجے میں کپکپاہٹ پل بھر کے لئے لگا اسکی آنکھوں میں عفان کی نظر ہے وہی بے خوفی وہی اطمینان جو ہمیشہ عفان کی آنکھوں میں مجھے دیکھتا تھا
*******/
ماہم مصمم ارادہ کر چکی تھی کہ اب عفان کے بل خود ہے کرے گی ۔۔۔اس لئے قاسم کا دیا ہوا چیک پہلی بار ماہم نے کھول کر دیکھا تھا مگر ہاسپٹل کا بل زیادہ تھا ۔۔۔ماہم نے وہ چیک بھی۔ نکالے جودو تین پاٹیز کی ارنجمنٹ سے ملے تھے ۔۔۔۔اس مہنے کی ہاسپٹل کے ڈیوز وہ دے سکتی تھی اس لئے بل پے کر دیے ۔۔۔۔۔۔اب وہ قاسم سے بلا تامل چیک کے لیتی تھی ۔۔۔پھر اسکی ارنجمنٹ بھی لوگوں کو پسند آ رہی تھی لیکن چھوٹے چھوٹے فنگشن ہی وہ آرنج کر پا رہی تھی بڑی بڑی پاٹیز کی نظر ابھی اس کے ہنر پر نہیں پڑی تھی۔۔۔۔اس لئے پیسے بھی اتنے نہیں مل پا رہے تھے جتنے وہ چاہتی تھی
*******………
۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔رات بھر میں اسی آگ میں جلتا رہا صبح اٹھتے ہی ڈرائیور کی چھٹی کروادی ۔۔۔۔۔آخر وہ سمجھتی کیا ہے خود کو اب میں اسے بتاؤں گا کہ ان آسائشوں کے بغیر وہ کتنے دن گزارسکتی ہے جس کی وہ بچپن سے عادی ہے ۔۔۔۔میں بے بے چینی سے باہر پورچ میں اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے ماہم کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر بعد وہ بڑی سی کالی چادر اوڑھے اپنا پرس کندھے پر لٹکائے باہر آئی اسکی نظریں ڈرائیور کی متلاشی تھیں ۔۔۔۔
میں ماہم کے سامنے آ کر ہاتھ باندھے ۔۔۔۔کمینگی سے ہنسی ہسنے لگا ۔۔۔۔اور اپنے مخصوص انداز سے بولا
“ذرا سی جان۔۔۔۔۔ اس پر اتنی اکڑ اور مان ۔۔۔۔۔ہائے میری جان ۔۔۔۔۔ ماہم ڈیر۔۔۔۔۔ بہت پروا ہے تمہیں میرے بوجھ کم کرنے کی ۔۔۔۔۔افففف تمہاری انہیں اداؤں پر مر مٹنے کو دل چاہتا ہے میرا ۔۔۔۔تم میری اتنی فکر جو کرتی ہو لیکن آج سے یہ کام میں نے خود ہی شروع کر دیا ہے ۔۔۔سوئٹی ۔۔۔۔جسے تم ڈھونڈ رہی ہو اسے میں نوکری سے نکال چکا ہوں”
۔۔۔میں نے استزائیہ انداز سے مسکرا کر ماہم کے قریب جا کر کہا اسکا تمتماتا چہرہ دیکھ کر مجھے مزہ آنے لگا تھا۔۔۔۔ میرے بے باک جمعلوں اسے تپا کے رکھ گئے تھے لیکن میں بھی مجبور تھا اپنی فطرت سے انسان کب تک دور رہ سکتا ہے سب کے سامنے اچھا بنتے بنتے میں تھک گیا تھا ماہم کے سامنے میں اپنے اصل کے ساتھ ہی رہنا چاہتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے میری بات کو ان سنا کیا اور ہاتھ میں پکڑے بلیک گلاسز آنکھوں پر لگا کر سامنے مین گیٹ کی طرف بڑھ گئ ۔۔۔۔۔مجھے دھچکا سا لگا تھا مجھے تو لگا تھا ۔۔۔۔ وہ بے بسی سے مجھے دیکھے گئ ۔۔۔پھر اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت بھی کرے گی۔۔۔۔۔
ڈرائیور کو رکھنے کے لئے کہے گی ۔۔۔۔مگر وہ تو ۔یہ جا وہ جا ۔۔۔۔۔۔
جب تک میں اسکے پیچھے لپکا وہ مین گیٹ عبور کر چکی تھی
وہ پیدل ہی چلتے ہوئے شاید مین روڈ کی طرف جا رہی تھی جو گھر سے تو اچھا خاصا دور تھا ۔۔۔۔میں خود ہی تیز قدم بڑھاتا ہوا اسکے قریب پہنچ گیا ۔۔۔۔
“اتنی ضد بھی اچھی نہیں ہوتی ۔۔۔تم اگر مجھ سے سوری کہہ دو تو میں کل ہی ڈرائیور کو رکھ لوں گا۔۔۔ چلو ماہم میں چھوڑ دیتا ہوں تمہیں ۔۔۔۔بجائے مجھ سے معذرت کرنے کے تم ایٹیٹوٹ دیکھا رہی ہو ۔۔۔۔آوں میرے ساتھ”
۔۔۔۔میں نے ہی مصلحتا صلہ جوئی سے کام لیا مجھے معلوم تھا کہ وہ کبھی بس میں نہیں بیٹھی اور راستوں سے بھی اتنا واقف نہیں ہے ۔۔۔۔
“مجھے آپ کی ضرورت نہیں ہے میں خود جا سکتی ہوں” ۔۔۔۔۔وہ اسپاٹ لہجے سے بات کر رہی تھی
“میرے ساتھ جانے میں کیا پروبلم ہے تمہیں ۔۔۔۔۔کیسے جاؤں گی تم ۔۔۔تمہیں عادت ہی کب ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کی” ۔۔۔۔
“نہیں ہے تو آج سے ہو جائے گی ۔۔۔اپ اپنا وقت ضائع مت کریں اور جائیں یہاں سے” ۔۔۔۔۔ماہم نے اپنی رفتار تیز کی اور آگے بڑھ گئ۔
۔۔۔۔۔۔اتنی تیز دھوپ میں اور لبالب بھری بسوں میں کیسے سفر کرے گی ۔۔۔۔وہ تو گاڑی میں بھی دھوپ برداشت نہیں کرتی تھی فورا سے اے سی کھولنے کی ضد کرنے لگتی تھی ۔۔۔۔۔میں اپنی گاڑی میں اپنے آفس چلا گیا ۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ وہ اتنے دن یہ سب برداشت نہیں کر پائے گی ۔۔۔۔تنگ آکر آئے گی تو میرے ہی پاس ۔۔۔۔۔مگر یہ بھی میری خام خیالی ہی ثابت ہوئی ۔۔۔۔۔
**********…………*******………********……
ماہم اکیلی چل تو پڑی تھی مگر پہلے کبھی بھی بس میں سفر نہیں کیا تھا ۔۔۔۔موسم گرما اپنے عروج پر تھا ۔۔۔۔۔سن گلاسز بھی چلچلاتی دھوپ کی تمازت کو کم کرنے میں نا کام ہو رہے تھے ۔۔۔۔گھر سے مین روڈ کا راستہ خاصا لمبا تھا ہیل کے ساتھ چلنا بھی دشوار لگ رہا تھا ۔۔۔۔مگر وہ قدم بڑھاتی رہی ۔۔۔۔بس اسٹینڈ تک پہنچ کر اس کا سانس دم ایک ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔اب دوسرا مشکل مرحلہ یہ تھا کہ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کون سی بس اسے مطلوبہ جگہ تک پہنچائے گی وہاں ایک دو خواتین کے علاؤہ سب مرد حضرات ہی تھے ۔۔۔۔پہلے تو بس کا ارادہ ملتوی کر کے اس نے سوچا رکشہ یا ٹیکسی ہی کروا لے ۔۔۔۔مگر جب پرس میں رکھے دس کے چند نوٹ کے علاؤہ کچھ نظر نہیں آیا تو مایوسی سے کھڑی ہو گئ ۔۔۔پیسوں کی اسے خاص ضرورت نہیں پڑتی تھی ۔۔۔ڈدائیور کے ساتھ آنا جانا ہو جاتا تھا کبھی پرس میں ذیادہ پیسے رکھنے کا خیال ہی نہیں آیا ۔۔۔۔مگر اب پچھتا رہی تھی ۔۔۔ساتھ کھڑی عورت سے اس نے پوچھا کہ کارساز کون سی بس جاتی ہے ۔۔۔۔پہلے اس نے سر سے پیر تک اس کا معائنہ کیا
“کیا پہلی بار جا رہی ہو “
“جی” ۔
“ہاں حلیے سے بنگلوں میں رہنے والی لگتی ہو
مگر بس میں کیوں جا رہی ہو “وہ عورت باغور اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“گاڑی خراب ہے اس لئے “
“تو رکشہ کروا لیتی “
“آپ مجھے بس یہ بتا دیں کہ کون سی بس کارساز جاتی ہے “
۔۔۔ماہم نے اکتاہٹ سے جواب دیا ایک تو بلا کی گرمی پسینے سے شرابور وہ ٹشو سے پسینے پونچ رہی تھی پھر عوت کے سوالات اس عورت نے ناک چڑھا کر بس نمبر کا بتا کر اپنا رک بدل لیا کچھ ہی دیر میں ماہم کی مطلوبہ بس بھی آ گئ ۔۔۔۔۔یہ اس کا پہلا سفر تھا جو اس نے عام سی بس میں کرنا تھا ۔۔۔بڑج مشکل سے وہ بس میں چڑھی تھی پھر مسافروں سے کچاکچ بھری بس میں ایک بھی سیٹ خالی نہیں تھی ۔۔۔۔۔اوپر لگے لوہے کے اسٹینڈ کو پکڑے وہ جی بھر کوفت کا شکار تھی پھر بس کے جھٹکوں سے پیچھے کھڑی عورت اپنا سارا وزن اسی پر ڈال رہی تھی ۔۔۔۔۔سب سے مشکل ترین کام اسے چلتی بس میں کنڈیکٹر کو پرس سے پیسے نکال کر دینا لگ رہا تھا ۔۔۔۔ایک ہاتھ سے اوپر لوہے کا اسٹینڈ پکڑ کر دوسرا ہاتھ پرس میں ڈالے اس نے با مشکل کرایہ دیا ۔۔۔۔اسٹاپ پر پہنچ کر آگے مزید دس منٹ کی واک ابھی باقی تھی ۔۔۔۔سڑک کے کنارے چلتے ہوئے ماہم کو اپنے حال پر رونا آنے لگا ۔۔
“عفان مجھے مارکیٹ جانا ہے چلو نا ڈرائیور بھی نہیں آیا “۔۔۔۔ماہم کو یاد آنے لگا کالج کے زمانے میں ڈرائیور کے نا آنے پر کیسے وہ عفان کے سر ہو جاتی تھی
“ماہی میں بہت بزی ہوں مجھے کل اپنا اسائمنٹ سرمنٹ کروانا ہے ۔۔۔۔تم بس میں چلی جاو “
“واٹ بس میں ۔۔۔۔۔۔وہ بھی میں ۔۔۔۔۔دماغ تو درست ہے تمہارا”۔۔۔۔ماہم نے منہ بگاڑ کر عفان کو دیکھا تھا
“اس میں حرج کیا ہے میں بھی بس میں سفر کرتا ہوں ۔۔۔کبھی کبھی کرنا چاہیے ۔۔۔۔تا کہ اگر کبھی مجبورا کرنا پڑ بھی جائے تو تکلیف نہیں ہوتی “
“مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے اتنی سڑتی دھوپ میں بھری ہوئی بس میں دھکم پیل میں گھس کر سفر کرو ۔۔۔۔مجھ پر یہ وقت نہیں آنے والا ۔۔۔اب اٹھو نا عفان ورنہ میں رضا انکل سے تمہاری شکایت کر دوں گی ۔۔۔۔۔”
“او کے ۔۔۔چلو “۔۔۔۔وہ غصے سے اپنے پیپر سمٹتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
کیا خبر تھی یہ وقت بھی ماہم پر آئے گا پیدل چلتے ہوئے اسے عفان کی باتیں یاد آنے لگیں وہ اکثر بس میں بھی سفر کر لیتا تھا حالانکہ دو دو گاڑیاں گھر میں موجود تھیں ۔۔۔۔۔ آفس پہنچ کر اس نے سب سے پہلے اپنا اے سی آن کیا ۔۔۔۔۔کچھ دیر یونہی بیٹھی رہی ۔۔۔۔آج ایک کلائنٹ کے علاؤہ کوئی نہیں ایا تھا ۔۔۔کچھ گھنٹے کلانیث کو مطمئن کرنے میں گزر گئے واپسی پر وہ بس اسٹاپ پر بس کے انتظار میں کھڑی تھی قاسم اپنی گاڑی میں وہاں گزرا ماہم کو بس اسٹاپ دیکھ کر گاڑی اسکے قریب کھڑی کر دی اپنی گاڑی کا شیشہ نیچے کیے وہ ماہم سے وہاں کھڑے ہونے کی وجہ دریافت کرنے لگا ۔۔۔۔ماہم گاڑی کی خرابی کا بہانہ بنا دیا ۔۔۔۔قاسم کے بے حد اصرار پر وہ گاڑی میں بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔قاسم ماہم سے اسکے کام کے بارے میں پوچھتا رہا ۔۔۔۔وہ اسے بہت نپے تلے جواب ہی دے رہی تھی ۔۔۔۔قاسم کو لگا کہ وہ اس سے بات کرتے ہوئے جھجک رہی ہے ۔۔۔۔ایک نظر ماہم کے چہرے پر ڈالی ۔۔۔۔عفان کے کومہ میں جانے کے بعد وہ پہلے جیسی ماہم رہی ہی نہیں تھی ۔۔۔۔۔روکھا بے رونق سا چہرا پیلی رنگت آنکھوںی میں اداسی اور یاست کے ڈیرے ۔۔۔۔یہ اسکے جگری دوست کی محبوب ترین بیوی کا حال تھا ۔۔۔عفان نےتو ماہم کی ناراضگی کے ڈر سے اسلام آباد کی ڈیل کینسل کر دی تھی ۔۔۔۔تا کہ ماہم اسے خفا نا ہو جائے کبھی ماہم کی آنکھوں میں آنسوں نہیں آنے دیتا تھا ۔۔۔۔کتنے رنگ تھے اس لڑکی کے چہرے اور آنکھوں میں۔۔۔۔ عفان کی محبت اس کے چہرے کا نکھار تھی ۔۔۔۔قاسم نے نظریں بدل کر ونڈو اسکرین پر مرکوز کر لیں ۔۔۔۔دل سے بس یہی دعا نکلی کہ اللہ عفان۔ کو لمبی عمر اور صحت مند زندگی عطا کی کرے ۔۔۔ایک ہوک سی دل سے نکلی تھی ۔۔۔۔
“بھابی اگر آپ کو کسی بھی قسم کی کوئی بھی مشکل ہو تو پلیز مجھ سے ضرور کہیے گا ۔۔۔۔”
“نہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے قاسم بھائی “۔۔۔۔ماہم جو کھڑکی کے باہر دیکھ رہی تھی قاسم کی بات پر اسکی جانب دیکھ کر بولی
“بھائی بھی کہہ رہی ہیں اور بھائی سے اپنی پریشانیاں بھی چھپا رہیں ہیں ۔۔۔۔۔
عفان سے میری دوستی کالج کے زمانے سے ہے ۔۔۔مجھے نہیں یاد کہ میری کوئی بات عفان سے چھپی ہو یا اس نے کبھی اپنی پروبلم مجھ سے نا شیر کی ہوں ۔۔۔۔۔آپ میرے لئے بلکل بہن جیسی ہیں ۔۔۔میں جانتا ہوں عفان آپکا صرف شوہر ہی نہیں ایک بہترین دوست بھی ہے ۔۔۔۔اس کے کومہ میں چلے جانے سے گھر پر کوئی ایسا فرد نہیں ہے جس سے آپ اپنا دل ہلکا کر سکیں ۔۔۔چلیں مجھ سے نا سہی فاری سے بات کر لیا کریں ۔۔۔۔اسے کال کر کے بلا لیا کریں یا خود جب چاہیں ہمارے گھر آ جایا کریں ۔۔۔۔۔۔ہمیں خوشی ہو گی اگر آپ بھی عفان کی طرح ہمہیں اپنا سمجھیں گئ “۔۔۔۔قاسم کی تسلی ہر ماہم بس اتنا ہی کہہ سکی کہ وہ ڈرائیونگ سیکھنا چاہتی ہے ۔۔۔کچھ دیر تو قاسم اسے ذریک نظروں سے دیکھ کر یہ جانچنے کی کوشش کرتا رہا کہ آخر اس بات کی وجہ کیا ہے ۔۔۔۔مگر ماہم نے جب کوئی وضاحت نہیں دی تو اس نے ایک گہری سانس خارج کی اور اپنے موبائل سے فاریہ کو کال کرنے لگا
۔۔۔”فاری میری ذرا ڈرائیور سے بات کرواں ابھی اسی وقت” ۔۔۔۔کچھ دیر میں وہ اپنے ڈرائیور سے بات کرنے لگا
“گل خان کل سے تمہیں عفان صاحب کے گھر جانا ہے ماہم بھابی کو گاڑی چلانا سیکھانی ہے ۔۔۔۔صبح کا وقت ۔۔ٹھیک رہے گا ۔۔۔۔۔او کے باقی بات میں ا کر کرو گا ۔۔”۔۔قاسم نے فون بند کیا اور ماہم کی طرف متوجہ ہو گیا
“گل خان پچھلے دس سال سے ہمارا ڈرائیور ہے ۔۔۔۔عمر میں بھی کافی بڑا ہے اور با اعتماد بھی ہے ۔۔۔۔آپ کو ڈرائیونگ بھی جلدی سے سیکھا دے گا ۔۔۔بس صبح سات بجے ریڈی رہیے گا کیونکہ ڈیڈ نو بجے اپنے آفس جاتے ہیں اور اسی کے ساتھ جاتے ہیں ۔۔۔۔اس کے بعد اسے ڈیڈ کے کاموں سے ہی فرصت نہیں ملتی ۔۔۔۔”
“جی بہت شکریہ قاسم بھائی “۔۔۔۔
“شکریہ کیسا بھابی ۔۔۔۔آپ نے مجھے اس قابل سمجھا ۔۔۔مجھے اپکا شکرگزار ہونا چاہیے ۔۔۔۔ورنہ عفان ہوش میں آنے کے بعد مجھ سے ضرور ناراض ہوتا کہ میں نے آپ کا خیال نہیں رکھا ۔۔۔۔”
گھر کے سامنے قاسم نے گاڑی روک دی وہاں پہلے سے ہی کامران کی گاڑی کھڑی تھی قاسم کے ساتھ ماہم کو دیکھ کر اسکے ماتھے پر سلوٹیں پڑنے لگیں چہرہ بھی غصے سے تن گیا ۔۔۔۔ماہم نے قاسم کا شکریہ ادا کیا اور گاڑی سے اتر گئ۔۔۔۔۔۔
********
ماہم کو قاسم کی گاڑی سے اترتے دیکھ کر میرا دماغ گھوم گیا تھا
قاسم تو چلا گیا ۔۔۔میں گاڑی سے باہر نکل کر غصے سے ماہم کی طرف بڑھنے لگا ماہم نے ناگواری سے مجھے دیکھا اور گھر کے اندر داخل ہوگی میں اسے پکارنے لگا رکنے کا بھی بولنے لگا وہ مجھ سے بات کرنا ہی نہیں چاہتی تھی ۔۔۔بلا آخر میں نے گیٹ کے اندر داخل ہوتے ہی ماہم کو بازو سے پکڑ اس کا رخ اپنی جانب کیا
“تم اب قاسم کو مجھ پر فوقیت دو گی ۔۔۔۔میرے ساتھ جانا منظور نہیں تھا تمہیں ۔۔۔۔کیوں ۔۔۔۔کیوں آئی ہو قاسم کے ساتھ بس میں کیوں نہیں۔ آئی ۔”۔۔۔ماہم کو میری صبح کی حرکت پر پہلے سے غصہ تھا اس لئے وہ تیکھے لہجے میں بولی
“ہاتھ چھوڑو میرا ۔”۔۔۔میں نے اسے گھورتے ہوئے دیکھا اور اس کا بازو چھوڑ دیا ماہم کی آنکھیں غصے سے سرخ انگارہ بنی ہوئیں تھیں اپنی انگشت شہادت اٹھا کر اس نے دانت بیچتے ہوئے مجھے تنبیہی انداز میں کہا
“مسٹر کامران رضا ۔۔۔۔میں پہلے بھی کہہ چکی اور بار بار دہراؤں گی بھی نہیں ۔۔۔۔۔تم مجھ سے پوچھنے کا حق نہیں رکھتے ۔۔۔۔۔آج کے بعد مجھ سے سوال وجواب مت کرنا ۔۔۔۔اور آئندہ اپنی حدود میں رہ کر مجھ سے فاصلے سے بات کرنا ورنہ میں ہاتھ اٹھانے سے بھی گریز نہیں کروں گی” ۔۔۔۔اس کا غصہ بھی آخری حدوں کو چھو رہا
“اچھا ۔۔۔۔۔تو تم مجھے دھمکی دے رہی ہو مجھے ۔۔۔۔۔مجھ پر ہاتھ اٹھاؤں گی ۔۔۔۔کامران پر ۔۔۔۔۔ہممم۔۔گریث ماہم ۔۔۔۔۔”میں نے ایک تالی ماری ۔۔۔اور اسکے چہرے کے قریب جھک کر اپنا چہرہ اسکے برابر کر کے بولا
“اتنی ہمت ہے تم میں ۔۔۔۔۔ہو کیا تم ۔۔۔۔۔ایک کمزور اور بے بس مجبور سی عورت ۔۔۔۔۔اور جرت تودیکھو ۔۔۔کامران پر ہاتھ اٹھانے کی بات کر رہی ہو ۔۔۔۔ “میں تمسخرانہ ہنسی ہسنے لگا
“کمزور سی عورت ۔۔”ماہم مضحکہ خیز ہنسی ہسنے لگی اسکی ہنسی پر میری منہ کو بریک سی ضرور لگ گئ تھی میں سیدھا ہو کر کھڑا ہو گیا
“۔۔۔جانتے ہو کامران مضبوط سے مضبوط اور طاقت ور مرد بھی اس دنیا میں آنے کے لئے اس کمزور سی عورت کے محتاج ہیں ۔۔۔۔۔ چچ چچ صد افسوس ہے مجھے تمہاری سوچ پر جس مردانگی پر تمہیں اتنا زعم ہے کامران رضا اسکا آغاز ایک کمزور سی عورت کے وجود سے تخلیق میں آیا ہے ۔۔۔۔۔آئندہ مجھ پر اپنی حاکمیت جتانے سے پہلے ۔۔۔اپنی حیثیت اور اوقات کو ضرور یاد رکھ لینا “۔۔۔۔ماہم کے لہجے میں ذرا سی لڑکراہٹ نہیں تھی نا وہ جھجکی تھی ۔۔۔۔۔۔ پل میں مجھے آسمان سے زمین پر پٹخ کے رکھ دیا تھا اس نے۔۔۔۔۔مگر میں نے ڈھٹائی سے کام لیا
“حثیت ۔۔۔۔اوہ ۔۔۔۔تو حثیت چاہیے تمہیں ۔۔۔۔۔ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔کچھ دن کا انتظار کر لو سوٹئی ۔۔۔۔۔۔بہت جلد نکاح کر لوں گا تم سے ۔۔۔۔پھر اپنی حیثیت اور تمہاری اوقات دونوں بتاؤں گا تمہیں”۔ ۔۔۔۔غصے سے میری دماغ کی رگیں تن گئیں تھیں ۔۔۔۔
“ہمم میں بھی یہی سوچ رہی تھی کہ کب تم اپنے اصل مفاد کی طرف آتے ہو ۔۔۔۔اتنے اچھے تم ہو نہیں جتنا بننے کی کوشش کر رہے ہو تمہارا اصل روپ میں بہت پہلے دیکھ چکی ہوں اس لئے تمہاری بناوٹی بدلتے روپ اب مجھے دھوکا نہیں دے سکتے ۔۔۔۔۔ غلط فہمی ہے تمہاری کہ میں تمہیں تمہارے نا پاک ارادوں میں کامیاب ہونے دونگی ” ماہم بات پر میں نے تعجب کا اظہار کیا
“اچھا کون روکے گا مجھے ۔۔۔۔تمہارا وہ عفان ۔جو ہاسپٹل میں لیٹا اپنی آخری سانسیں گن رہا ہے ۔۔۔کیا کہا تھا تم نے ۔۔۔۔عفان میرے لئے ایک مضبوط قلعہ ہے”میں ہاتھوں کو پھیلا کر کہا
۔۔”۔۔سوئٹ ہارٹ کہاں ہے اب تمہارا مضبوط قلعہ ۔۔۔زمین بوس ہو گیا کیا ۔۔۔۔۔”میری قیبح ہنسی پر ۔۔ماہم کا تممتاتا چہرہ مزید سرخ ہو گیا اس نے مجھے تھپڑ مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
“کیا سمجھ رکھا ہے تم نے ۔۔۔ہر بار تھپڑ کھاؤں گا تمہارا ۔۔۔۔۔ہنہ سلی گرل ۔۔۔۔۔”میں نے اسکا ہاتھ جھٹ دیا
“اور تم کیا سمجھتے ہو میں تم سے نکاح کرونگی ۔۔۔۔مت بھولوں کہ میں بیوی ہوں عفان کی ۔۔۔”
“لیکن صرف چند دن کی ۔۔۔۔ابھی ابھی مل کر آ رہا ہوں میں ڈاکٹر رمشہ اور سینیر ڈاکٹر سے۔۔۔۔ کوئی خاص پروگریس نہیں ہے عفان میں چند دنوں میں ماسک اتار دیں گئے وہ اسکا ۔۔۔۔۔عفان کی کہانی تو تم اب ختم ہی سمجھوں”میری بات پر ماہم کا رنگ اڑا تھا ۔۔۔۔
“بکواس کر رہے ہو تم ۔۔۔۔۔ایسانہیں ہو سکتا ہے ۔۔۔جھوٹ بول رہے ہو “وہ گھبرائی تھی
“جاؤں سویٹی جا کر پوچھ لو ڈاکٹر سے ۔۔۔۔۔اور جب اچھی طرح تسلی ہو جائے تو میری دلہن بننے کے لئے تیار رہنا “ماہم وہیں واپس پلٹ گئ
۔عفان کو میں پہلے بھی ایک دفعہ ہاسپٹل میں مارنے کوشش کر چکا تھا مگر عین وقت پر ڈاکٹر رمشہ آ گئ ۔۔۔۔۔۔وہ جان چکی تھی کہ میرے ارادے کیا ہیں اور میراساتھ دینے پر بھی آمادہ تھی ۔۔۔۔میں کچھ دن پہلے ہی ڈاکٹر سے کہہ چکا تھا کہ وہ میرے گھر والوں سے کہہ دے کہ عفان کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتا اس لئے وینٹی لیٹر ہٹادینا چاہیے اس مصنوعی زندگی اور سانسوں سے اسے آزاد کر دینا ہی بہتر ہے ۔۔۔۔ڈاکٹر نے میری بات پر رضامندی ظاہر کی اس لئے مجھے اطمینان تھا کہ اب ماہم اگر ہاسپٹل میں ڈاکٹر سے تصدیق چاہے گی بھی تو ۔۔۔وہ تو اسے مل کی جائے گئ ۔۔۔۔۔
