Tadbeer by Umme Hani NovelR50414

Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 52 (Part 2)

458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 52 (Part 2)

Tadbeer by Umme Hani

مہک سے میری روز ہی بات چیت کا سلسلہ چلنے لگا تھا ۔ملاقاتیں بھی ہونے لگیں ۔۔۔۔میں اسکے حسن کے قصیدے سناتا رہتا اور وہ اسی میں خوش ہوتی رہتی ۔۔۔۔ہوش تو میرے اس دن آڑے جب مہک نے مجھ سے اپنی محبت کا اظہار کیا

“کامران میں تم سے محبت کرنے لگی ہوں ۔۔۔۔۔”,یہ سن کر کچھ پل تو میں حواس باختہ ہو گیا میرے وقت گزاری کا یہ کون سا نیا سلسلہ چل نکلا ہے میں ابھی اپنی سوچ کے تانے بانے ہی بن رہا تھا کہ مہک نے یہ تسلسل توڑ دیا

“کہاں کھو گئے ہو کامران تم نے جواب نہیں دیا “میں تو اسکی بات پر ہی لاجواب ہو کر رہ گیا تھا جواب کیا خاک دیتا میری ماہم سے شادی میں بس بیس دن ہی تو رہ گئے تھے ۔۔۔۔مجھے لگا مہک سے یہ باتیں ملاقاتیں میرے حلق میں پھنس گئیں ہیں مگر اب بات کو تو مجھے ہی سنبھالنا تھا میں نے اپنا گلہ کھنکارا

“یہ۔۔۔۔۔تو میری خوش قسمتی ہے ۔۔۔۔۔”میرے حلق سے آواز اٹک اٹک کر نکل رہی تھی

“تم نے اتنا اچانک سے اظہار کیا کہ میں تو سچ میں اپنے حواسوں میں ہی نہیں رہا تھا اب بھی ہم ایک رسٹورنٹ میں بیٹھے تھے

“اوہ ۔۔۔۔۔اچھا ۔۔۔۔۔کامران تم کتنی محبت کرتے ہو مجھ سے “اب میں مہک کو کیا جواب دیتا کہ مجھے تم سے سرے سے محبت ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔یہ وقت گزاری میرے گلے پڑتی جا رہی تھی مگر مجھے بہرحال اس سے جان تو چھڑوانی ہی تھی میں بڑی مشکل سے اپنا لہجہ ہموار کیا

“یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے ۔۔۔۔۔مہک محبت کا اگر کوئی پیمانہ ہوتا تو تم شاید یقین کر پاتی ۔۔۔۔۔تم میری اولین خواہش ہو ۔۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔۔میں مجبور ہوں۔۔۔۔شادی تو مجھے ماہم سے ہی کرنی پڑے گی”میں نے بڑی مشکل سے بات کو اچھے انداز سے ختم کرنا چاہا

“نہیں کامران ۔۔۔۔۔جب تم اسے چاہتے ہی نہیں ہو تو کیوں برباد کر رہے ہو اپنی زندگی کو ۔۔۔۔تم پلیز اپنے پیرنٹس کو سمجھاو۔۔۔۔”مہک میرے سامنے نئ راہیں رکھنے لگی ۔۔۔۔

“بہت مشکل ہے مہک ۔۔۔۔لیکن پھر بھی میں کوشش کرونگا “میں نے مہک کو ٹالنے کے لئے کہا تھا ۔۔۔۔۔گھر آ کر میں پنے کمرے میں بیڈ پر بیٹھ کر پنا سر پکڑ لیا اور میں نے لمبی گہری سانس لی اور سوچنے لگا کہ کیسے اس خوبصورت بلا سے اپنا پیچھا چھڑواں ۔۔۔۔میں تو صرف مہک کو عفان سے بدذہن کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔مگر اب یہ مصیبت مجھے اپنے سر چڑھتی نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔اور پھر ماہم سے انکار ۔۔۔۔۔نہیں میں اتنا بڑا اسٹپ نہیں اٹھا سکتا تھا ۔۔۔۔بے شک وہ میرے معیار کی نہیں تھی ۔۔۔۔مگر وہ پاپا کے لئے بہت کچھ تھی پاپا کبھی یہ سب برداشت نہیں کر سکتے تھے ۔۔۔۔اس کا اندازہ مجھے باخوبی ہو گیا تھا ۔۔۔۔پھر جس طرح سے ماہم نے خود کو میرے رنگ میں ڈھالا تھا میں چاہ کر بھی ماہم کو فراموش نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔میرے ہر کام کو اتنی دلجمعی سے کرتی کہ میں لاکھ تنقیدی نظر سے بھی دیکھتا تو اس کام میں کوئی خامی نہیں ڈھونڈ سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔میرے منہ سے نکلی ہر بات ماہم کے لئے حرف آخر کا درجہ رکھتی تھی ۔۔۔۔۔کئ بار محض ماہم کو تنگ کرنے کے غرض سے میں اپنی ایک شرٹ اس سے کئ بار پریس کرواتا کہ شاید وہ میرے بار بار کہنے پر چڑ جائے مگر اسکے ماتھے پر ایک شکن بھی مجھے کبھی نظر نہیں آئی تھی ۔۔۔۔ہر بار وہ یہ کہتی

“کامی ۔۔۔۔دیکھیں اب ٹھیک ہے کہ دوبارہ سے پریس کر دوں ۔۔۔۔”وہ اپنے ماتھے پر آنے والے پسینے کو پونچتے ہوئے مجھ سے پوچھتی ۔۔۔۔۔اسکے چہرے پر تھکن کے آثار دیکھ کر میں خود ہی ہار مان لیتا تھا ۔۔۔۔مجھے نہیں یاد کہ منگنی کے بعد میں نے ماہم سے کسی چیز کی فرمائش کی ہو اور ماہم نے اسے پورا نام کیا ہو ۔۔۔۔اب میں اتنا بھی بے مروت نہیں تھا کہ عین شادی کے موقع پر ایسی خود غرضی دیکھاتا ۔۔۔۔

پوری رات میں مہک اور ماہم کا موازنہ کرتا رہا ۔۔۔مہک بے شک ماہم سے کئ گناہ ذیادہ خوبصورت تھی ۔۔۔۔مگر ماہم کی طرح معصوم اور باکردار نہیں تھی ۔۔۔۔مجھ سے فون پر باتوں کے دوران مہک اپنا ایک آدھا افیر تو مجھے ضرور بتاتی اور جتاتی تھی ۔۔۔۔اب میں لاکھ خود بھی کوئی پارسا نہیں تھا مگر ۔۔۔۔بیوی ایسی ہی چاہتا تھا جس کے دل اور دماغ پر صرف میرا ہی راج ہو ۔۔۔۔اگر آپ مجھے ایک دقیانوسی شخص سمجھ رہے ہیں تو میرے خیال سے ایسا مرد ہر مرد میں چھپا بیٹھا ہے ۔۔۔۔۔یہ کوئی انوکھی کتھا تو نہیں ہے ۔۔۔۔۔خاص کر اپنی بیوی کے معاملے میں سب اسی طرز پر سوچتے ہیں

*******”””””””””*******

اگلے روز پاپا نے یہ آڈر جاری کیا کہ میں اور ماہم اپنے کمرے کا فرنیچر اپنی پسند سے خرید لیں ۔۔۔۔پاپا کے سامنے تو میں خاموش رہا ۔۔۔۔میں مہک سے ملنے کا وعدہ کر چکا تھا پھر میں اب یہ مہک کے قصے کو ختم کرنا چاہ رہا تھا ۔۔۔۔۔اس لئے ماہم پر سب کچھ چھوڑ دیا

“ماہم پلیز تم مما کے ساتھ چلی جاؤں مجھے ایک دوست سے بہت ضروری ملنا ہے

“لیکن کامران مجھے تو اپنے کمرے کی ہر چیز آپ کی پسندسے لینی تھی “وہ بہت افسردگی سے بولی

“ماہم مجھے معلوم ہے تم جو بھی لو گئی وہ لاجواب ہی ہو گا ۔۔۔۔۔۔پلیز تم مینج کر لو ہاں لیکن آئی پرومس باقی شادی کی ساری شاپنگ میں تمہارے ساتھ ہی کرونگا “ماہم کو بڑی اپنایت سے ٹال کر میں وہاں سے چلا گیا

مہک مقررہ وقت پر طے شدہ کیفے ٹیریا میں پہنچ گئ تھی ۔۔۔۔بڑی بے نیازی سے وہ میرے سامنے بیٹھ گئ ۔۔۔۔اپنے بلیک گلاسز سامنے ٹیبل پر رکھے اور میری طرف غور سے دیکھنے لگی میں اپنے ذہن میں یہ پلان بنانے میں مصروف تھا کہ بات کو کیسے انجام بخیر تک پہنچاؤں

“کیا بات ہے کامران اتنے چپ کیوں ہو ۔۔۔۔”مہک نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ کر بہت اپنایت سے کہا

“کیا کرو مہک ۔۔۔۔ایک طرف تم ہو ۔۔۔۔جس کا حصول میرے دل کی خواہش ہے ۔۔۔۔اور دوسری طرف میرے ماں باپ کی رضا ۔۔۔۔”میں نے اپنے چہرے پر بلا کی مظلومیت طاری کر کے کہا ایک خاص بات تو میں بتانا ہی بھول گیا ۔۔۔مجھے اپنے چہرے کے تاثرات بدلنے میں مہارت حاصل تھی سامنے والا میرے چہرے کو دیکھ کر ہی میری باتوں میں آ جاتا تھا۔۔۔۔۔

“تم بات تو کر کے دیکھو کامران اپنے ڈیڈ سے ۔۔۔۔میں بھی تو اب تمہارے بغیر نہیں رہنا چاہتی ۔۔۔۔”مہک بہت جذباتی سی ہو رہی تھی ۔۔۔۔اسکی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے مجھے اندازہ ہوتا بات اتنی سنگین ہو جائے گی تو کبھی مہک سے بات ہی نا کرتا میں اسوقت مہک کے سامنے بیٹھا اسے چپ کرواتے ہوئے خود کو جی بھر کر کوس رہا تھا ۔۔۔۔قصہ کیا ختم کرنا تھا میں نے مہک سے وعدہ کر لیا کہ ہر حال میں اپنے پیرنٹس کو مہک کے لئے راضی کر لوں گا ۔۔۔۔گھر تک واپسی کا سفر میں نے غائب دماغی کے ساتھ کیا ۔۔۔۔اس وقت تو یہ سوچنے سے قاصر تھا کہ مہک سے پیچھا کیسے چھڑواں ۔۔۔۔گھر پہنچتے ہی ماہم لان میں بے چینی سے چکر لگا رہی تھی میری گاڑی کو پورچ میں کھڑے دیکھ کر بھاگتی ہوئی میری گاڑی کی طرف آئی ۔۔۔۔میں گاڑی سے باہر نکل چکا تھا

“کامی میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی تھی آئیں نا میں کو اپنا کمرہ دیکھاؤں۔۔۔۔”میں خاموشی سے ماہم کے ساتھ اوپر آگیا ۔۔۔اپنا کمرہ دیکھ کر کچھ پل کے لئے میں سب کچھ بھول سا گیا تھا ۔۔۔۔ماہم نے واقع کمرے کو بے حد خوبصورت انداز سے ڈیکوریٹ کروایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔کمرے کے قالین سے لیکر وال کلاک تک ہر چیز ایسی تھی کہ جیسے سراہا جائے کیا چیز تھی یہ لڑکی کمرے کی ہر چیز اسے میچ کی گئ تھی کہ کچھ بھی اوور نہیں لگ رہا تھا قالین کا کلر پروں سے مماثلت کر رہا تھا فرنچر سادہ مگر بے حد نفیس سا تھا چھوٹی موٹی ڈیکوریشن سے جیسے کمرے کو چار چاند لگا دیے تھے ۔۔۔۔یہ سب دیکھ کر میرا موڈ بہت خوشگوار سا ہو گیا ۔۔۔۔۔آج تو واقع میرا دل ماہم کو داد دینے کو چاہ رہا تھا ۔۔۔۔کچھ پل میں ماہم کے چہرے پر آنے والی خوشی اور سر شاری دیکھتا رہا

“٫ایسے کیا دیکھ رہیں ہیں کامی ۔۔۔۔کیا کچھ پسند نہیں آیا “ماہم جسے اب بھی یہی فکر تھی کہ کہیں کوئی کمی نا رہ گئ ہو

“نہیں ۔۔۔۔سب بہت اچھا ہے ماہم ۔۔۔۔سچ میں یقین نہیں آ رہا کہ یہ میرا ہی کمرہ ہے ۔۔۔۔”میری اتنی سی تعریف پر ماہم ایسے خوش تھی جیسے نا جانے میں اسے کتنی بڑی خوشی فراہم کر دی ہو ۔۔۔۔

“شکر ہے کامی آپ کو پسند آگیا ۔۔۔۔میں بہت فکرمند تھی کہ ناجانے آپ کو پسند آئے گا بھی کہ نہیں “

“کچھ کمی تو ہے ۔۔۔۔”میں نے معنی خیز مسکراہٹ سے کہا لیکن ماہم شاید سمجھ نہیں پائی حیرانگی سے مجھے اور پھرے پورے کمرے میں دیکھنے لگی

“کیا کامی “

“وہ میں بتاؤں گا نہیں دیکھاوں گا ۔۔۔۔۔ جس دن تم دلہن بن کر اس کمرے میں آؤں گی تو یہ کمرہ تمہیں تمہارے خوابوں کی تعبیر لگے گا بہت شاندار استقبال کروں گا تمہارا تمہاری راہوں میں پھولوں کو بچھا دوں گا اور میرا وعدہ ہے ماہم تمہیں ان پھولوں میں کانٹے نہیں چھبیں گئے “میری نظروں کی وارفتگی سے وہ کچھ پزل سی ہو کر کمرے سے باہر چلی گئ ۔۔۔۔۔۔اور میں ہسنے لگا

*******

اب میں مہک کی کال اٹھانے سے کترا رہا تھا ۔۔۔۔ماہم کے ساتھ وڈنگ ڈریس لینے میں ماہم کے ساتھ ہی گیا تھا ۔۔۔۔وہاں بھی مہک کے مسجز اور کال آنے لگیں ۔۔۔۔میں بار بار مہک کی کال ڈسکنکٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔ماہم کو شاید میری یہ مصروفیت بری لگ رہی تھی ۔۔۔۔پھر اس نے مجھ سے کہا کہ اسکے وڈنگ ڈریس میں اپنی پسند سے لوں ۔۔۔۔نا جانے کیوں آج نا تو مجھے ماہم کا شرمانہ برا لگ رہا تھا نا نروس ہونا ۔۔۔۔ نا اس کا میری باتوں پر بلش ہونا ۔۔۔۔اور نا مسکرانا ۔۔۔ کچھ پل کے لئے ہی صحیح مگر میں محویت سے ماہم کو دیکھنے لگا پھر میں فون آف کیا اور جیب میں رکھ کر مہک کو بھی کچھ پل کے لئے سائیڈ پہ پر رکھ دیا

“اوہ اب سمجھا ۔۔۔۔۔تم چاہتی ہو کہ میری پسند میں ڈھل کر میرے سامنے آؤں تا کہ میں کسی اور کو دیکھنے کا سوچوں بھی نہیں ۔۔اچھی طرح سوچ لو ماہم میری پسند میں ڈھلنا اتنا بھی آسان نہیں ہے “مجھے اچھا لگا تھا ماہم کامجھے اہمیت دینا

“آپ کہہ کر دیکھیں کامی “

“او کے ۔۔۔آج میں تمہیں اپنی پسند سے ہر چیز لیکر دونگا ۔۔۔تمہیں میری پسند کا پتہ ہونا چاہیے ۔۔۔میرے رنگ میں تم جتنا خود کو رنگ لو گی ماہم میری محبت کی اتنی ہی حقدار ہو گی ۔۔۔جو پر لڑکی کے بس کی بات نہیں ہے “

۔۔۔۔ماہم کے لئے دونوں ڈریس میں نے اپنی پسند سے لئے ساتھ ہی ساتھ اسے اپنی پسند سے بھی آگاہ کرتا رہا کہ اسے تیار کیسے ہونا ہے

“ماہم تم بارات اور ولیمے دونوں دن بالوں کا جوڑا مت بنوانا ۔۔۔۔مجھے بلکل پسند نہیں ۔۔۔۔اور ہاں جھومر تو پہنے کا سوچنا بھی مت ۔۔ میک اپ بھی ذیادہ ڈراک ۔نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔۔بالوں پر کلیاں کے گجرے ضرور لگوانا ۔۔۔۔اور ہاں ہاتھوں میں کلیوں اور گلاب کے گجرے ضرور پہننا جب میں تمہارے ہاتھ پکڑوں تو مجھے ان سے کلیوں کی بھنی بھنی خوشبوں آنی چاہیے ۔۔۔۔ماہم بس میری باتوں پر سر جھکائے مبہم سی مسکراہٹ لئے شرماتی رہی ۔۔۔۔۔اس وقت اسکی دلفریب مسکراہٹ میرے دل کو بھانے لگی تھی شاید شادی ایسی ہی دل کو چھو جانے والے جذبات کا ذخیرہ ہے انسان اس سے اپنا دامن چھڑا ہی نہیں سکتا ۔۔۔۔ سو میں بھی عام سا انسان کی تھا ۔۔۔۔پھر ایسے موقع کو بھرپور طریقے سے گزارنے کا خواہشمند بھی تھا اس لئے ماہم کو ایک شاپ میں۔ لے گیا ۔۔۔۔جب یہ طے تھا کہ ب بیوی کے روپ میں مجھے ماہم کو ہی دیکھنا تھا تو اپنے رنگ میں دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔وہاں سے میں نے دو تین شرٹس ایسی خریدیں جو سلیو لیس تھیں اور تھی بھی بہت بے باک سی ۔۔۔۔۔۔ماہم وہاں ذیادہ دیر رکنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔

**************۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شادی میں صرف دس دن ہی باقی بچے تھے ۔۔۔۔۔۔صبح جب میرے کپڑے مجھے ہنگ کیے ہی ہوئے نظر نہیں آئے تو میں ماہم کو پکارنے لگا ۔۔۔۔اس پر غصہ الگ سے آ رہا تھا اتنی کیر لیس وہ کیسے ہو سکتی تھی ۔۔۔۔میں آفس سے لیٹ ہو رہا تھا ۔۔۔۔مما کمرے میں آئیں تو میں ماہم کے بارے میں دریافت کرنے لگا

“ماہم کہاں ہے مما میرے کپڑے بھی ابھی تک اس نے نہیں نکالے ۔۔۔۔اسے بولیں جلدی آ کر میری ہر چیز ریڈی کرے “میں نے تحمکانہ انداز سے کہا اور واش روم جانے لگا تو مما کی بات پر رک گیا

“ماہم تمہارے کمرے میں نہیں آئے گی اس لئے چند دن اپنے کام خود سے کرو”مما کی بات پر میں پیچھے پلٹ کر مما کو دیکھنے لگا

“میں کیوں کرونگا اپنے کام ۔۔۔۔اور کیا ہوا ہے ماہم کو وہ کیوں نہیں آئے گی “

“اس لئے کہ اب اس کا تم سے پردا ہے ۔۔۔۔کم از کم بارات سے پہلے تو میں اپنی بیٹی کو تمہارا کوئی کام کرنے نہیں دونگی ۔۔۔۔۔ویسے بھی اب وہ کمرے میں رہے گئ۔۔۔۔”

“یہ کیا فضول بات ہے مما ۔۔۔۔آپ کو پتہ ہے مجھے عادت نہیں ہے کسی کام کی ۔۔۔۔اور مجھ سے کیوں پردا ہے ماہم کا “٫

“بس کچھ دن ذرا آمنا سامنا نا ہی ہو تو بہتر ہے ۔۔۔۔ورنہ دلہن کو روپ نہیں چڑھتا “مما نے مسکراتے ہوئے کہا

“واٹ “مجھے مما کی بات بے تکی سی لگی مگر مجھے معلوم تھا کہ مما اب ماہم کو واقع نہیں بھجیں گی ۔۔۔۔

“چلیں پھر آپ ہی کچھ نکال دیں “میں یہ کہہ کر واش روم میں گھس گیا ۔۔۔پھر تو ماہم مجھے واقع نظر نہیں آئی ۔۔۔۔گھر پر اب ممانی کے بھی آئے دن چکر لگنے لگے تھے ۔۔۔۔پاپا نے مجھے بھی آفس جانے سے منع کر دیا تھا میرا آفس میں آخری دن تھا جب مہک اچانک سے میرے آفس میں میرے کمرے میں آن پہنچی ۔۔۔۔اسکے ساتھ رسپشنر میں کھڑی لڑکی بھی ساتھ تھی مہک کو دیکھ کی کر میرا رنگ فق سا ہو گیا میں اپنی ریو الونگ چیر سے یک دم ہی کھڑا ہو گیا مجھے مہک سے اس جرت کی توقع ہر گز نہیں تھی

“سر میں نے انہیں بہت سمجھایا مگر یہ کچھ سن ہی نہیں رہیں تھیں ۔۔۔۔۔”رسپشنر اپنی پوزیشن میرے سامنے کلیر کرنے لگی

“اٹس اوکے آپ جائیں ۔۔۔”میں نے اس لڑکی کو چلتا کیا مہک نے کمرے میں آ کر دروازہ بڑی زور سے بند کیا شکر تھا کہ پاپا اسوقت موجود نہیں تھے

“کیا پاگل پن ہے مہک ۔۔۔۔۔تم آفس میں کیا کرنے آئی ہو اگر میرے پاپا نے تمہیں دیکھ لیا تو تماشہ لگ جائے گا “میں نے ذرا سختی مگر دھیرے سے اسے ڈانٹ کر کہا

“ہاں کامران میں پاگل ہی ہو چکی ہوں ۔۔۔۔۔کتنے دنوں سے تمہیں کونٹکٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہوں مگر تم نا تو میرے میسج کا جواب دے رہے ہو نا میرا فون اٹینڈ کر رہے ہو کیوں “مہک چلاتے ہوئے میرے مقابل ا کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔سوجی ہوئی آنکھوں سے اب بھی آنسوں بہہ رہے تھے ۔۔۔۔

“مہک پلیز میری پوزیشن سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔میں “

“بس صرف یہ بتاؤں تم مجھ سے محبت کرتے ہو کہ نہیں “مہک نے میری بات ہاتھ کے اشارے سے بیچ میں روک دی

“آف کوس کرتا ہوں ۔۔۔۔۔مگر “

“تم نے بات کی تھی اپنے ممی پاپا سے “وہ کڑے تیوروں سے پوچھ رہی تھی

“ہاں مگر وہ مانے کو تیار ہی نہیں ہیں “میں نے صاف جھوٹ بول دیا

“ٹھیک ہے تم ابھی چلو میرے ساتھ ہم کوٹ میرج کر لیتے ہیں پھر تو انہیں ماننا ہی پڑے گا “مہک کی بات پر میرے سارے کے سارے طبق پوری آب و تاب سے روشن ہو گئے تھے

“ک۔۔۔۔۔و۔۔۔۔ٹ۔۔۔۔۔۔میر۔۔۔۔ج “یہ لڑکی اس حد بھی جا سکتی ہے میرے تو ذہن و گمان میں بھی نہیں تھا

میں بری طرح سے گھبرا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔میں بار بار اپنا پسینہ پوچنے لگا۔۔۔۔چھکے چھوٹنا کسے کہتے ہیں صحیح معنوں میں مجھے اب سمجھ آ رہا تھا ۔۔۔۔میں نے مہک کو کرسی پر بیٹھایا پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔وہ روتے ہوئے پانی پینے لگی اچانک ہی میرے دماغ میں یہ آئیڈیا آیا کہ ساری بات عفان پر ڈال دیتا ہوں ۔۔۔۔۔

“دیکھوں مہک پلیز سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔۔میں نے پاپا سے بات کی تھی مگر عفان نے ساری گڑبڑ کردی ۔۔۔۔اس نے پاپا کے سامنے بول دیا کہ تم ایک کرکٹر لیس لڑکی ہو “میری بات پر مہک جو پانی کا گلاس منہ کے قریب لے جا رہی تھی وہیں رک گئ ۔۔۔۔۔۔

“ہاں مہک پھر اس نے یہ بھی کہا تمہارا کام ہی لڑکوں سے دوستیاں بڑھانا ہے۔۔۔۔پہلے تم نے اسےپھسانے کی کوشش کی تھی اور اب مجھے ۔۔۔۔۔”مہک کا سرخ ہوتا چہرہ دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ وہ رکے گئ نہیں اور یہی ہوا مہک تیزی سے اٹھی اور وہاں سے چلی گی میں نے سکون کا سانس لیا ۔۔۔۔کہ شکر کے سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی۔۔۔۔مہک کی نظر میں برا عفان ہی بنا اور میری جان بھی چھوٹ گئ ۔۔۔۔۔۔رات کو مہک کی کال بھی نہیں آئی میں بہت مطمئن سا ہو گیا ۔۔۔۔۔کتنے دن سے ماہم میرے سامنے نہیں آ رہی تھی نا جانے کیوں مجھے اس کا سامنے نا آنا کھل رہا تھا ۔۔۔۔اور ایسا کیوں تھا وجہ میں نے جاننے کی کوشش ہی نہیں کی ماہم کو کال کی چند بیل کے بعد ہی ماہم نے فون اٹھا لیا

“جی کامی کہیے “وہ دھیرے دھیرے بول رہی تھی

“کہاں ہو تم ۔۔۔۔”

“نیچے گیسٹ روم میں “

“او کے ایسا کرو اوپر آؤ مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے “

“نہیں خالہ نے منع کیا ہے ۔۔۔۔اور ممانی کشف کرن سب یہیں میرے پاس ہی سو رہی ہیں ۔۔۔۔۔میں نہیں آ سکتی “ماہم ہلکی آواز میں وضاحت دی

“یہ ممانی اور انکی بیٹیوں کو اپنے گھر میں چین نہیں ہے جو یہاں رکنے کے بہانے ڈھونتی ہیں ۔۔۔۔اینی وئے میں چھت پر جا رہا ہوں ۔۔۔تم پانچ منٹ میں اوپر آؤ

“کامی آپ سمجھتے کیوں نہیں ہیں ۔۔۔۔میں نہیں آ سکتی ٫ماہم دھیرے دھیرے بول رہی تھی شاید ممانی کے آٹھ جانے کے ڈر سے

“میں کچھ بھی سننا نہیں چاہتا ہوں بس اوپر آؤ فورا”میں نے فون بند کیا اور اوپر چھت پر چلا گیا ۔۔۔۔۔مجھے ذیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ماہم بھی اوپر تھی ۔۔۔۔مگر بڑی سی چادر سے لمبا سا گھونگھٹ نکالے ۔۔۔۔۔میرا دل بری طرح سے بیزار سا ہو گیا میں جو کچھ خوشگوار موڈ میں ماہم سے بات کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔اس کا حلیہ دیکھ کر ہی پچھتانے لگا تھا کہ میں نے اسے بلایا ہی کیوں ۔۔۔۔۔میں اس کے قریب آ کر ذرا سختی سے بولا

“یہ سب کیا ہے ہٹاو اس چادر کو “اس سے پہلے کہ میں اسکی چادر ہٹاتا وہ پیچھے ہٹ گئ ۔۔۔۔

“نہیں کامی ۔۔۔۔آپ کو جو بھی کہنا ایسے ہی کہیں ۔۔۔”

“کیوں تم بھی مما کی بات کو سچ سمجھ رہی ہو کہ اگر میں تمہیں دیکھ لوں گا تو شادی پر تمہیں روپ نہیں چڑھے گا “

“ہاں ۔۔۔۔بلکل ۔۔۔۔اب اگر خالہ نے کہا ہے تو غلط تو نہیں کہا “میں نے خود ہی اس کا گھونگھٹ الٹ دیا وہ حیرانگی سے مجھے دیکھنے لگی سادہ سے حلیے میں بھی پیاری لگ رہی تھی ایک ہاتھ میں مہندی لگی تھی اور دوسرے ہاتھ میں مہندی پکڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔

“تم مہندی لگا رہی تھی “

“ہاں نا کامی ۔۔۔۔ایک ہاتھ پر میں خود لگا رہی تھی دوسرے پر صبح کشف لگا دے گی ۔۔۔”میں نے اس کا مہندی والا ہاتھ پکڑ لیا بہت خوبصورت نقش ونگار اسکے ہاتھ پر بنے ہوئے تھے اور ہاتھ کے بیچوں بیچ ایک جگہ خالی تھی

“یہ کیوں خالی ہے “

“اس پر آپ کے نام کی پہلا حرف لکھوں گی “وہ شرماتے ہوئے بولی میں نے مہندی اسکے ہاتھ سے لے لی اس اسکے مہندی والے ہاتھ کو تھام کر اسکی ہتھیلی پر خالی جگہ پر اپنے نام کا پہلا حرف لکھ دیا ۔۔۔۔۔۔

“لو تمہارے ہاتھ کی مہندی میں نے مکمل کر دی ۔۔۔۔”وہ ہاتھ مجھ سے کھنچنے لگی میں نے بھی چھوڑ دیا تا کہ اسکی مہندی نا خراب ہو جائے ۔۔۔

“ماہم مجھے تمہاری ایک بات بہت اچھی لگتی ہے ۔۔۔۔وہ یہ کہ تمہارے دل میں صرف ہوں اور کوئی نہیں ۔۔۔۔ دوسرا یہ کہ تم مجھے بہت اہمیت دیتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ساری زندگی تمہارے دل میں صرف

میرا ہی بسیرا ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔۔اور جو اہمیت تم مجھے دیتی ہو میں نا دیکھوں کہ تم کسی اور کو اس کا حقدار بناؤ ۔۔۔۔۔اس لئے کہ تم اب میری بیوی بننے والی ہو ۔۔۔۔ اور میری چیزوں پر صرف میرا ہی حق ہوتا ہے ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔”

“آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں کامی ۔۔۔۔میں آپکے علاؤہ کسی کا تصور بھی نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔”

“ہمم۔۔۔۔ بس مجھے یہی کہنا تھا تم سے ۔۔۔۔۔۔میں بھی تم سے بہت محبت کرتا ہوں اس لئے پوزسیو ہوں تمہارے معاملے میں “

“اب میں جاؤں کامی “

“دل تو نہیں چاہتا کہ تمہیں بھیجو ۔۔۔لیکن جانا تو تمہیں پڑے گا ہی ۔۔۔۔جاوں “

میں ماہم سے محبت نہیں کرتا تھا ۔۔۔۔۔لیکن اب جبکہ وہ میری بیوی بننے جا رہی تھی تو یہ ضرور چاہتا تھا کہ اسکے دل پر صرف میری حکمرانی ہوں ۔۔۔۔میری بھی یہ پہلی شادی تھی اس لئے نا چاہتے ہوئے بھی کچھ خواب تو ۔میں بھی دیکھنے لگا تھا ماہم کے لئے ۔۔۔۔۔۔میں ابھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ماہم کے ساتھ پوری زندگی بتاؤں گا یا پھر کچھ عرصے بعد اپنی من پسند بیوی لے آؤں گا ۔۔۔بہرحال یہ تو پکا تھا کہ ماہم کو ساری زندگی میری داسی بن کر ہی رہنا تھا ۔۔۔۔۔اس پر سدا محبت نچھاور کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔ اور نا ہی میں اسے چھوڑنا چاہتا تھا

نا چھوڑ سکتا تھا