458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 53

Tadbeer by Umme Hani

اب میرا دل مطمئن سا ہو گیا ۔۔۔۔ماہم کے لئے میں ہی اسکی محبت تھا ۔۔۔۔اور مہک کا کانٹا بھی دل سے نکل گیا ۔۔۔۔۔مہندی پر میں بہت خوش تھا مگر ماہم کی بیوقوفانہ باتیں مجھے زچ کرنے لگیں ۔

کامی یہ دیکھیں میری مہندی ۔۔۔پتہ کتنا رنگ چڑھا ہے ۔۔۔۔ماہم اسٹیج پر بیٹھی میرے سامنے اپنے ہاتھ پھلائے مجھے اپنی مہندی دکھا رہی تھی

ہاں اچھی ہے اب ہاتھ پیچھے کرو اپنے سب دیکھ رہے ہیں ہمہیں” ۔۔۔۔ماہم نے ہاتھ اپنی گود میں رکھ لیے پھر سے مسکرانے لگی

“کامی خالہ کہہ رہیں تھیں اگر مہندی کا رنگ بہت تیز چڑھے تو اس مطلب ہوتا ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہے” ۔۔۔۔اسکی بات پر میں اپنی ہنسی دبانے میں نا کام سا ہونے لگا اور وہ نظریں جھکائے شرم سے تمتماتے چہرے سے مجھے ان باتوں سے مطلع کر رہی تھی

“اچھا “۔۔۔

“ہاں نا ۔۔۔کامی اب مجھے آپ سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں کہ آپ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں وہ تو میری ہاتھوں کی مہندی نے ہی بتا دیا ہے کہ آپ کتنا چاہتے ہیں مجھے “۔۔۔۔۔کچھ پل میں ماہم کی بات کے گرداب میں ہی پھنس کر رہ گیا ۔۔۔۔کتنی احمق ہے یہ بھلا مہندی کے رنگ سے محبت کے رنگ کا کون اندازہ لگا سکتا ہے ۔۔۔۔۔اگر اسے میرے دل کی خبر کو جائے کہ میں اسے محبت کرتا ہی نہیں تو کیا مہندی کے تیز رنگ کا کیا مطلب نکالے گی ۔۔۔۔ماہم مجھ سے اور نا جانے کیا کیا کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔مما اور ممانی کے ساتھ کرن اور کشف بھی اسٹیج پر آگئیں ممانی کو دیکھ کر میرا اچھا خاصا موڈ بھی خراب ہونے لگتا تھا انکا لہجہ ہی کٹیلا تھا ۔۔۔۔کرن اور کشف تو ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئیں مما اور ممانی نے پھولوں کا زیور ماہم کو پہنایا ۔۔۔۔۔اور میٹھائی کھلا کر چلیں گئیں ۔۔۔البتہ کرن اور کشف ضرور کسی تھانے دارکیطرح ہمارے سر پر کھڑی تھیں

“کامران بھائی اپکودیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ رضا انکل نے ڈانٹ کر بیٹھایا ہے آپ کو “کشف کی بات پر میں مسکرانے لگا

“نہیں میرا موڈ تو بہت خوشگوار تھا ۔۔۔لیکن پیچھے کھڑی دو چڑیلوں کو دیکھ کر تھوڑا بجھ گیا ہے ۔۔۔۔ویسے تم لوگ سچ میں ایسی ہی دیکھتی ہو یا پھر میک کے بعد یہ حال ہوا ہے “میری بات پر دونوں ناک منہ چڑھاتی ہوئیں وہاں سے واک آؤٹ کر گئیں ماہم آج بنا میک اپ کے بھی دھمک رہی تھی عجیب سی کشمش تھی اسکے چہرے پر کہ میں بھی نظر ہٹانے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔۔۔شاید شادی کا اپنا ہی ایک چارم ہوتا ہے اب کچھ دن تو میں بھی اس چارم سے لطف اندوز ہونا چاہتا تھا ۔۔۔۔میں ماہم کے قریب ہو کر اسکے کان میں سرگوشی سے بولا

“آج ایسا کیا لگایا ہے ماہم کہ بنا میک اپ کے بھی چمک رہی ہو “وہ مسکرانے لگی

“کچھ بھی نہیں ۔۔۔یہ تو شادی پر ہر دلہن پر اللہ کی طرف سے روپ چڑھتا ہے “

“یہ کیا لوجک ہے بھئ ۔”

“خالہ نے یہی بتایا تھا “

“اور تم نے مان لیا ۔۔۔۔۔۔مجھے لگا تم کہو گی کہ میری محبت کی وجہ سے تم پر یہ نکھار آیا ہے ۔۔۔۔۔مگر تمہاری تو باتیں ہی نرالی ہیں ۔۔۔سارے موڈ کا پل میں میں ستاناس کر دیتی ہو ۔۔۔۔”میں۔نے تیکھے انداز سے جواب دیا وہ پھر سے نروس ہونے لگی

“ایم سوری کامی آپ مجھے بتا دیتے اس بات کا یہ جواب ہے ۔۔۔میں یہی بتا دیتی ۔۔۔۔مجھے تو خالہ نے ۔۔۔۔ یہی کہا تھا “اسکی بات پر میں نے پوری گردن موڑ کر آنکھیں پھاڑے اس بیوقوف لڑکی کو دیکھا میرے گھورنے پر باقی کی بات منہ میں ہی دبا گیں

“یہ باتیں بھی میں تمہیں بتاؤں گا ۔۔۔ہاو اسٹوپٹ ۔۔۔۔ماہم۔۔۔۔ تم چپ ہی رہا کرو تو بہتر ہے “۔۔۔اسے ڈانٹنے کے بعد میں سامنے دیکھنے لگا وہ بھی مسکرا کر سامنے دیکھنے لگی سامنے سے فاریہ ماہم کی طرف ہی آ رہی تھی ۔۔۔یک دم ماہم اسے دیکھ کر کھڑی ہو گئ

“اب تم کھڑی کیوں ہو گی ہو “مجھے غصہ آنے لگا تھا ۔۔۔

“وہ فاریہ سے مل لوں “

“بیٹھوں ماہم ۔۔۔۔فاریہ سے تم بیٹھ کر بھی مل سکتی ہو پہلے کبھی دیکھا ہے کسی دلہن کو یوں کھڑے ہو کر مہمانوں سے ملتے ہوئے “میرے سخت لہجے پر وہ پھر سے بیٹھ گئ ۔۔۔۔فاریہ ماہم کے برابر میں بیٹھ گئ اسے میٹھائی کھلانے کے بعد ماہم کی تعریف کرنے لگی

“آج تو بہت روپ چڑھا ہے تم پر ماہم ۔۔۔۔بہت پیاری لگ رہی ہو “

“یہ سب تو کامران کی محبت کی وجہ سے ہے “ماہم نے جواب نے میرے چودہ طبق روشن کر دیے تھے میں نے کھا جانے والے انداز سے اسے گھور کر دیکھا ۔۔۔۔بھلا یہ بات بھی سب کے سامنے کرنے والی تھی ۔۔۔ماہم مجھے دیکھتے ہی مسکرانا چھوڑ کر سہم سی گئ اور فاریہ بے ساختہ ہسنے لگی ۔۔۔یقینا ماہم کی بیوقوفی پر ہنس رہی تھی فاریہ اٹھ کر چلی گئ ۔۔۔

ماہم منناتے ہوئے بولی

“اب تو میں نے ٹھیک ہی جواب دیا ہے ۔۔۔۔اب کیوں گھور رہیں ہیں مجھے “

“ول یو پلیز شٹ اپ۔۔۔۔نا جانے کس بیوقوفانہ جذبے کے تحت تم سے شادی کا فیصلہ کیا تھا میں نے ۔۔۔۔اب اگر تم ایک لفظ بھی بولی تو میں آٹھ کر چلا جاؤں گا یہاں سے ۔۔۔۔اسٹوپٹ ۔۔۔”مجھے یہ سمجھ نہیں ا رہا تھا کہ کہاں جا کر اپنا سر پیٹوں بے وقوفی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے مگر اسپر ساری حدیں ختم تھیں ۔۔۔۔۔۔پھر وقفے وقفے سے لوگ آ کر رسم کرنے لگے

سامنے سے مہک کو دیکھ کر میرے رہے سہے اوسان بھی خطا ہونے لگے ۔۔۔۔۔۔ییلو کلر سے شرارے میں وہ پھولوں کا زیور پہنے بلکل مایوں کی دلہن کی طرح تیار تھی ۔۔۔شاید نشے میں تھی اس لئے لڑکھڑاتے ہوئے ہماری طرف ہی بڑھ رہی تھی۔۔۔۔۔ دن میں تارے دیکھنا کیسے کہتے ہیں یہ میں نے آج جانا تھا ۔۔۔۔ وہ ماہم اور میرے درمیان کھڑی گھورتی کوئی ماہم سے غصے سے بولی

“پیچھے ہٹو یہاں سے “

ماہم پیچھے ہٹ گئ اور وہ میرے ساتھ بیٹھ گئ ۔۔۔میرے تو پیروں کے نیچے سے زمین ہی کھسکنے لگی تھی

“بہت بہت مبارک ہو مسٹر کامران ۔۔۔۔”یہ کہہ کر میٹھائی میرے منہ ڈالنے لگی مجبور مجھے تھوڑی سی کھانی پڑی ۔۔۔باقی کی وہ خود کھانے لگی ۔۔۔نشے میں دھت وہ مجھے زخمی شیرنی کی طرح دیکھ رہی تھی

“کیسی لگ رہی ہوں میں ۔۔۔۔یقینا تمہاری دلہن سے توذیادہ خوبصورت لگ رہی ہوں “وہ بہکی بہکی آواز سے بول رہی تھی منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی ۔۔مما اور ممانی بھی وہاں پہنچ ممانی زریک نظریں مہک پر ہی تھیں ۔۔۔۔

“ائےہائے آپاں یہ قسم کی لڑکی کو بلا لیا آپ نے آپاں یہ تو ،شراب پیے ہوئے ہے “ممانی منہ پر ہاتھ رکھ کر بولیں

“ہم نے تو نہیں بلایا ۔۔۔میں تو جانتی بھی نہیں ہوں اسے ۔۔۔”مما نے جواب دیا اور مہک سے مخاطب ہوئیں

“کون ہو تم ۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ مہک کچھ کہتی میں بول پڑا

“مما یہ عفان کی دوست ہے ۔۔۔اپ عفان کو بلائیں”مجھے پتہ تھا عفان ہی اسےباہر نکال سکتا ہے۔۔۔۔ مہک کی آمد نے مجھے مخبوط حواس کر دیا تھا ۔۔۔۔میں بد حواس سا ہو گیا تھا ۔۔۔مما ممانی اور باقی سب لوگوں کی مشکوک نظریں میری طرف تھیں مگر میں نے عفان کی دوست سے حوالے سے مہک کا تعارف کروایا ۔۔۔۔پھر تو واقع ہی عفان نے ہی سب کچھ سنبھال لیا تھا بات آئی گئی ہو گئ ۔۔۔۔۔رات کو مجبورا مجھے مہک سے بات کرنی پڑی تا کہ بارات ہرکوئی نیا تماشہ نا لگا دے ۔۔۔۔میں نے سارا الزام عفان پر لگا دیا ۔۔۔۔۔

٫”میں کچھ نہیں جانتی کامران ۔۔۔۔اگر تم مجھے نہیں ملے تو میں اپنی جان لے لونگی اور اس بات کا ذمے دار تمہیں ٹہراوں گی ۔۔۔۔۔کہیں کا نہیں چھوڑو گی تمہیں ۔۔۔۔”مہک جنونی انداز سے یہ کہہ کر فون بند کر گئ میں بے حد پریشان تھا ۔۔۔۔۔صبح بھی بوکھلایا بوکھلایا سا اپنے کام نمٹاتا رہا ۔۔۔مہندی پر مہک نے جو ہنگامہ کرنا چاہا تھا ۔۔۔۔وہ تو بڑی مشکل سے رفع دفع کیا تھا اگر بارات پر بھی مہک نے کوئی ۔۔۔۔۔نہیں نہیں ۔۔۔۔”اپنی سوچ کی تردید کرنے کے باوجود میں بہت پریشان تھا ۔۔۔۔مما پاپا ہال میں جا چکے تھے ۔۔۔۔مجھے اور ماہم کو عفان کے ساتھ ہی ہال میں پہنچنا تھا میرے کمرے کی سجاوٹ کے لئے چند لڑکے پھولوں سمیت پہنچ چکے تھے ۔۔۔۔انہیں میں پوری انسٹرکشن دے کر عفان کے ساتھ نکلنے والا تھا کہ مہک کی کال آ گئ عفان میرے برابر میں کھڑا تھا اس لئے میں مہک سے کھل کر بات نہیں کر سکتا تھا

“کامران اگر تم دس منٹ میں میرے پاس نہیں پہنچے تو میں خودکشی کر لوں گی ۔۔۔۔اور میں پولیس میں یہ رپورٹ درج کرواں گی کہ اس کے ذمےدار تم تھے ۔۔۔۔میں دبے دبے لفظوں میں مہک کو منع کرنے کی کوشش کرتا رہا وہ جتنے غصے سے بول رہی تھی ۔۔۔۔مجھے یقین تھا کہ اگر میں نہیں گیا تو وہ یہ سب کر گزرے گی ۔۔۔۔میں نے سوچا مہک کے پاس جا کر اسے سمجھا بجھا کر میں سیدھا ہال پہنچ جاؤں گا ابھی بہت وقت تھا ۔میرے پاس ۔۔۔میں نے عفان سے اپنے دوست کے ایکسڈنٹ کا بہانہ بنایا ۔۔۔۔لیکن وہ بھی سننے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔۔مگر میں ہر بات کی پروا کیے بغیر عفان کی گاڑی کی چابی اٹھائی اور تیز رفتار سے گاڑی مہک کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گیا ۔۔۔۔مہک نے اپنی کسی دوست کا ایڈریس دیا تھا ۔۔۔۔میں نے مہک کو سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھی ۔۔۔۔مجھے اپنے ساتھ اپنی گاڑی میں ایئر پورٹ لے گئ ۔۔۔۔میں تب بھی نہیں سمجھ پایا کہ وہ کرنا کیا چاہتی ہے ۔۔۔۔

“مہک یہاں کیوں آئی ہو تم ۔۔۔۔۔دیکھو مجھے دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔اگر میں وقت پر نہیں پہنچا تو میرے پاپا کیا جواب دیں گئے سب کو ۔۔۔۔پلیز ابھی مجھے جانے دو میں تم سے وعدہ کرتا ہوں بہت جلد ماہم کو چھوڑ دونگا ۔۔۔۔تم سے شادی بھی کر لونگا”۔۔۔۔ ٫میں مہک کی منت پر اتر آیا تھا ۔۔۔۔میں پاپا کے غصے سے اچھی طرح واقف تھا کہ وہ میری ایسی کوئی غلطی کبھی معاف نہیں کریں گئے اور ماہم ۔۔۔۔۔اس کا کیا حال ہو گا

“لیکن عفان تمہیں یہ سب کرنے نہیں دے گا ۔۔۔۔۔اور میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی ہم اسلام آباد جارہے ہیں کامران ۔۔۔۔”یہ بات میرے لئے ایک دھماکے کے مترادف تھی

“ہر گز نہیں” ۔۔۔۔٫میں نے غصے سے مہک سے کہا اور گاڑی کادروازہ کھول کر اترنے لگا

“کامران اگر تم میرے ساتھ اس وقت نہیں گئے تو میں یہیں شور مچانا شروع کی کر دونگی اور جو جو الزام تم پر لگاؤں گی تم سوچ بھی نہیں سکتے ۔۔۔۔۔”میں پہلے ہی بہت پریشان تھا جیسے جیسے وقت گزر رہا میری پریشانی میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔۔میرے پاس مہک کی بات ماننے کے کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا ۔۔۔ بس خاموشی سے مہک کے ساتھ اسلام آباد چلا گیا ۔۔۔۔وہاں مہک اپنی دوست کے گھر نکاح کا سارا بندوبست کروا چکی تھی۔۔۔۔۔وہاں پہنچ کر نکاح خواہ کو دیکھ کر میں نے خشونیت سے مہک کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔مگر منہ سے کچھ نہیں بولا تیر کمان سے نکل چکا تھا ۔۔۔۔۔مجھے ماہم سے محبت تو نہیں تھی مگر نا جانے کیوں میراذہن ماہم میں ہی الجھا رہا ۔۔۔۔۔مہک سے دوستی کرنا مجھے اتنا مہنگا پڑ سکتا تھا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔۔مجبورا مجھے نکاح کرنا پڑا ۔۔۔۔مہک پر تو جیسے شادی مرگ جیسی کیفیت تھی ظاہر ہے مجھ جیسا ہینڈسم خوبرو نوجوان اسے مل چکا تھا ۔۔۔۔۔مہک نکاح کے بعد اپنی دوست کے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔اور میں اس کی دوست کے شوہر اور چند مہک کے دوسرے دوستوں کے ساتھ باہر بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کہ ۔۔۔۔۔وہاں میرے نا پہنچنے پر نا جانے کیا ہنگامہ مچا ہو گا پتہ نہیں پاپا مجھے گھر پر داخل ہونے دیں گئے بھی کہ نہیں ۔۔۔۔اور ماہم وہ تو مجھ سے نفرت کرنے لگے گی میری شکل بھی نہیں دیکھے گی ۔۔۔۔۔نہیں دیکھتی تو نا دیکھے میں کون سا اسکی محبت میں مرا جا رہا تھا ۔۔۔۔وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا پاپا بھی مجھ سے کب تک ناراض رہیں گئے مان ہی جائیں گئے ۔۔۔۔۔اپنے دل کو میں بہلانے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔جب میں مہک کے کمرے میں گیا وہ دلہن بنی بیٹھی تھی ۔۔۔۔اسےدیکھ کر پل بھر کے لئے مجھے مہک کے روپ میں ماہم نظر آنے لگی ۔۔۔۔ کچھ پل میں ماہم کے خیال میں ہی کھویا رہا مہک کے پکارنے پر میں اس محویت سے باہر آیا ۔۔۔۔مہک کے پاس بیٹھ کر میں یہ سوچنے لگا آج کی رات ماہم سے کہنے کے لئے میرے پاس نا جانے کتنی باتیں تھی ۔۔۔۔حالانکہ نا مجھے اس سے کوئی دلی وابستگی تھی ۔۔۔نا وہ مہک سے ذیادہ حسین ۔۔۔۔ماہم سے شادی صرف عفان کو تکلیف دینے کا ایک ذریعہ تھا ۔۔۔۔۔میرے لئے وہ صرف ایک عام سی بیوی کی حیثیت رکھتی تھی ۔۔۔۔پھر میں کیوں بے چین ہوں ۔۔۔۔شاید یہ ایک فطری عمل تھا کافی مہینوں سے مجھے یہی معلوم تھا کہ مجھے شادی ماہم سے ہی کرنی تھی اس لئے ایسا سب ہونا فطری تھا ۔۔۔۔میں نے گہری سانس کھنچ کر خارج کی ۔۔۔۔سامنے مہک مجھ سے میری وہ والہانہ محبت کا اظہار چاہ رہی تھی ۔۔۔جس کے میں نے انجانے میں اسے خواب دیکھائے تھے ۔۔۔۔۔مہک اسوقت دلہن بنی بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔مگر میرے پاس اسکی تعریف اور اظہار کے لئے ایک لفظ نہیں تھا ۔۔۔یا شاید وہ ماہم نہیں تھی یا شاید وہ ویسے تیار نہیں ہوئی جیسا میں نے ماہم سے کہا تھا اسکے بالوں کا جوڑا اسکے ماتھے کا جھومر ہاتھوں سونے کی چند چوڑیاں ہی تھی کلیوں اور گلاب کے گجرے نہیں تھے ۔۔۔۔میرا دل کافی بد مزہ سا ہو چکا تھا ۔۔۔مہک کا مہکتا وجود بھی دل پر کوئی ہلچل نہیں مچا سکا میں نے مہک کو غور سے دیکھا بھی نہیں بس اپنے دل کے خدشات اسے بتانے لگا

“مہک تمہیں نہیں لگتا یہ سب غلط ہوا ہے ۔۔۔۔میری فیملی میں تو جو ہو گا سو ہو گا مگر کیا تمہارے پیرنٹس ۔۔۔۔یہ سب ایکسپٹ کریں گئے ۔۔۔۔”

“مجھے اسوقت کچھ نہیں سوچنا ہے کامران ۔۔۔۔اور محبت میں سب کچھ جائز ہے ۔۔۔۔میرے پیرنٹس نے اپنی ایکٹیویٹی کو ہمیشہ مجھ پر ترجعی دی ہے ۔۔۔۔اس لئے مجھے بھی انکی کوئی پروا نہیں ۔۔۔۔۔اور اب تم اپنے پیرنٹس کو با آسانی منا سکتے ہو۔۔۔۔”

“تمہیں یہ سب اتنا آسان لگتا ہے۔۔۔ پاپا میری جان لے لیں گئے ۔۔۔نا جانے وہاں سب پر کیا گزر رہی ہو گی “میں نے تاسف سے مہک کی طرف دیکھ کر دانت بیچ کر کہا

“یہ سب وقتی تکلیف ہے کامران ۔۔۔۔ساری زندگی کے رونے سے بہتر ہے ۔۔۔۔۔میں نے تمہاری مشکل آسان کی ہے تم ماہم کے ساتھ کبھی خوش نہیں رہ سکتے تھے ۔۔۔۔اور نا میں تمہارے بغیر ۔۔۔۔بس اب چھوڑو ان سب باتوں کو یہ بتاؤں میں کیسی لگ رہی ہوں “مہک کا اطمینان میری جان جلانے کے لئے کافی تھا ۔۔۔۔بہر حال مہک کے ساتھ چند دن میں اسلام آباد میں ہی رہا ۔۔۔۔مہک مجھے پا کر بہت خوش تھی اور میں چاہ کر بھی خوش نہیں تھا ۔۔۔۔واپسی تک مہک کو یہ تسلی دی کہ میں پاپا سے تعلقات بہتر ہوتے ہی اپنے اور اسکے قائم شدہ رشتے کی بات کرونگا مگر اس میں کتنا وقت لگ جائے یہ میں نہیں جانتا ۔۔۔۔۔مہک میری ہر بات پر رضامند تھی ۔۔۔۔۔اور میں کراچی واپسی پر بس یہی سوچتا رہا کہ گھر پر کس انداز سے داخل ہوں کہ پاپا مجھے معاف بھی کر دیں اور مجھے قبول بھی