Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 23
Rate this Novel
Tadbeer Episode 23
Tadbeer by Umme Hani
صبح میں آفس میں چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔شام کو قاسم کوآفس میں دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی تھی ۔۔۔۔میں ڈراف دیکھنے میں مصروف تھا جب قاسم اندر داخل ہوا ۔۔۔۔
“تم یہاں ۔۔”۔۔میں نے حیرت سے پوچھا مگر اس کا آندھی طوفان جیسا مزاج میری سمجھ سے باہر تھا ۔۔۔۔سارا کام ہمدانی صاحب کے حوالےکرتا ہوا قاسم میرا ہاتھ پکڑے مجھے آفس سے باہر لے آیا ۔۔۔۔خود اپنی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے میرے لئے فرنٹ ڈور کھول دیا ۔۔۔۔میں غصے سے اسے گھورتے ہوئے اسکے برابر بیٹھ گیا قاسم نے گاڑی دوڑانی شروع کر دی
“اب ذرا منہ سے پھوڑوں گئے کون سی افتاد ٹوٹ پڑی تھی تم پر “۔۔۔۔مجھے قاسم کی جلد بازی ہمیشہ ہی کھلتی تھی
“کیونکہ بد قسمتی سے تم اکیلے ہی میرے جگری دوست ہو ۔۔۔۔۔اور اس سے بڑی میری بد نصیبی یہ ہے کہ پورے کے پورے آلو کے پٹھے ہو “۔۔۔۔۔قاسم کا تپنا میری سمجھ سے باہر تھا
“اے گالی مت دو مجھے ۔”۔۔۔میں نے انگلی اٹھا کر قاسم کو تنبیہ کرنی چاہی
“میرا دل تمہارا سر پھوڑنے کو چاہ رہا ہے شکر کرو ۔۔۔۔صرف ایک گالی ہی دی ہے “۔۔۔۔۔وہ تپا تپا خفا خفا بھی مجھے ہمیشہ اپنا ہی لگتا تھا ۔۔۔۔
“اچھا اب بتاؤں کہاں لے جا رہے ہو مجھے”
“دیکھوں میری جان ۔۔۔تم لڑکی تو ہو نہیں جو مجھ سے خوف محسوس کرو پھر میں ہوں بھی بہت شریف اور نیا نیا شادی شدہ ۔۔۔۔تمہاری عزت پر ہاتھ نہیں ڈالوں گا
“بک بک کے بجائے اصل بات پر آؤں ۔۔۔۔”میں نے مسکراتے ہوئے کہا
“نہیں ….بتاؤں گا نہیں تمہیں دیکھاوں گا ۔۔۔۔اب چپ چاپ بیٹھے رہو ۔۔”۔۔۔۔۔۔۔میں نے چپ میں ہی عافیت سمجھی ۔۔۔۔۔
قاسم نے گاڑی ایک مال کے سامنے کھڑی کی ۔۔۔۔۔اسکی تقلید پر مجھے بھی اسکے ساتھ جانا پڑا قاسم مجھے ایک لیڈیز فینسی ڈریسز کی شاپ پر لے گیا
“یہاں سے ایک خوبصورت سا ڈریس خریدو جس میں تم بھابی کو دیکھنا چاہتے ہو ۔”۔۔۔۔۔۔مجھے تعجب سا ہوا ۔۔۔
“تم اس لئے مجھے یہاں لائے ہو ۔۔۔۔قاسم ماہم کے پاس آل ریڈی ڈریسز ہیں وہ بھی بلکل نیو ۔۔۔۔عجیب ہو تم “
“لیکن کامران کی پسند کے ۔۔۔۔۔”قاسم کا لہجہ اور انداز مجھے کچھ عجیب سا لگا
“کیا مطلب ۔۔۔۔”
“مطلب بھی سمجھا دونگا ابھی تم وہی کرو جو میں تمہیں کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔”
“مگر ماہی کیوں پہنے گی ۔۔۔”۔
“وہ ضرور پہنے گی کیونکہ وہ میرے اور فاریہ کی طرف انکے لئے گفٹ ہو گا ۔۔۔۔۔سرپرسئز گفٹ ۔۔۔۔اب بحث مت کرو ۔۔۔۔۔”
میں نے پہلے قاسم کو نا فہم نظروں سے دیکھا پھر ایک نظر پوری شاپ پر گھمائی ۔۔۔۔۔وہاں مجھے بس ایک بلیک کلر کی فینسی ساڑھی ہی اچھی لگی ۔۔۔۔۔۔ماہم اس میں بلکل الگ لگتی پھر میں نے کبھی اسے ساڑھی میں نہیں۔ دیکھا تھا ۔۔۔۔۔میں نے سامنے ڈمی پر لگی اس خوبصورت ساڑھی کی طرف اشارہ کیا ساری ورائٹی میں وہ ساڑی قدرے منفرد سی تھی ۔۔۔قاسم نے فورا سے وہ پیک کروا لی ۔۔۔۔مگر اس کا بل میں نے پے کیا یہ کہہ کر جب وہ میری پسند پہنے گئ تو پے بھی میں ہی کرونگا ۔۔۔۔اسکے بعد میں نے خود ہی ساڑھی سے میچ سینڈل جیولری سب کچھ خرید کر قاسم کے حوالے کر دیں ۔۔۔۔
گاڑی میں بیٹھتے ہوئے قاسم بولا
“شام کو بھابی کو لینے مت آنا ۔۔۔رات کو ولیمے کے فنگشن پر پہنچنا ۔۔۔اور ہاں بلیک پینٹ کوٹ پہن کر آنا” ۔۔۔۔۔آفس کے سامنے گاڑی روکتے ہوئے بولا ۔۔۔۔میں گاڑی سے نیچے اتر گیا شام ہوتے ہی ماہم کالز آنے لگیں مجھے معلوم تھا وہ میرے انتظار میں ہو گی ۔۔۔۔۔میں نے فون آف کر دیا
******……..
ولیمے والے دن ماہم فاریہ کو صبح سے کال کر رہی تھی مگر اس کا ڈرائیور کسی کام میں مصروف تھا ۔۔۔صفیہ بیگم نے ماہم کو یوں پریشان دیکھ تو وجہ پوچھنے لگی۔۔۔۔
خالہ مجھے ابھی قاسم بھائی کے گھر پہنچنا ہے مگر فاریہ کا ڈرائیور فری نہیں ہے ۔۔۔۔ہمارا ڈرائیور بھی رضا انکل کے ساتھ جا چکا ہے اور عفان ابھی آفس گیا ہے مجھے لینے دوبارہ نہیں آئے گا ۔۔۔۔۔ماہم بہت آپ سیٹ تھی ۔۔۔۔کامران ابھی آفس کے لئے نکلا نہیں تھا ۔۔۔۔اور لاونج میں موجود صفیہ بیگم اور ماہم کی باتیں سن چکا تھا ۔۔۔۔۔سیڑیاں اترتے ہی صفیہ بیگم سے مخاطب ہوا
“مما ماہم کو میں قاسم کے گھر ڈراپ کر دیتا ہوں ویسے بھی قاسم کا گھر مجھے راستے میں پڑے گا ۔۔۔۔۔”مگر صفیہ بیگم نے انکار کر دیا
“نہیں کامران یہ مناسب نہیں ہے ۔۔۔۔فاریہ کا ڈرائیور ایک گھنٹے تک فری ہو گا تو آجائے گا ۔۔۔تم جاؤ لیٹ ہو جاؤں گئے” ۔۔۔صفیہ بیگم کی بات پر وہ تلملا کر رہ گیا
“اچھا تو اب میں اتنا بے اعتبار ہوچکا ہوں کہ مجھ سے ذیادہ بھروسہ آپکواس اجنبی ڈرائیور پر ہے “۔۔۔۔۔کامران تلخ لہجے سے بولا
“یہ بات نہیں ہے تم جانتے ہو اپنے پاپا کے غصے کو ۔۔۔۔پھر عفان بھی یہ پسند نہیں کرے گا ۔۔۔۔میں عفان سے کہہ دیتی ہوں وہ لے جائے گا ماہم کو” ۔۔۔۔۔
“مما مجھے معلوم ہے کہ ماہم اب عفان کی بیوی ہے ۔۔۔میں تسلیم کر چکا ہوں اس رشتے کو ۔۔۔۔اسی رشتے کے ناطے ماہم سے میرا کچھ تو رشتہ بنتا ہے ۔۔۔میں با حفاظت اسے قاسم کے گھر پہنچ دوں گا ۔۔پلیز مجھے میری ہی نظروں میں مزید مت گرائیں ۔۔۔۔”کامران کی جذباتی گفتگوں سے صفیہ بیگم چپ سی ہو گئیں ۔۔
“۔۔ٹھیک ہے ۔۔۔۔جاوں ماہم” ۔۔۔۔صفیہ بیگم نے اجازت دیدی
“ماہم میں۔ باہر تمہارا انتظار کر رہاہوں” ۔۔۔۔۔کامران یہ کہہ کر باہر نکل گیا ۔۔۔ماہم بھی۔ خراما خراما قدم اٹھاتی باہر نکل گئ ۔۔۔۔۔کامران باہر گاڑی میں بیٹھا اسی کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ماہم چپ چاپ کامران کے ساتھ بیٹھ گئ ۔۔۔پورے راستے کامران نے ماہم سے کوئی بات نہیں کی رش ڈرائیو کرتا ہوا وقت سے پہلے ہی قاسم نے گھر کے سامنے کامران نے گاڑی کھڑی کر دی۔۔۔قاسم کسی کام کے لئے گھر سے نکلا تھا ماہم کو کامران کے ساتھ دیکھ حیران ہوا تھا ۔۔۔۔ماہم گاڑی سے اتر کر قاسم سے سلام کر کے گھر کے اندر داخل ہو گئ ۔۔۔کامران اب بھی گاڑی میں ہی بیٹھا تھا قاسم اور کامران ایک دوسرے کو دیکھ چکے تھے مرواتا ہی مگر قاسم کو اسکے پاس جانا پڑا ۔۔۔کامران کو سلام کر کے قاسم نے اسے اندر آنے کی پیشکش کی مگر وہ انکار کر گیا
“نہیں ۔۔۔میں آفس سے لیٹ ہو رہا ہوں ۔۔۔۔
“آپ شادی پر نہیں آئے حالانکہ ہم نے تو پوری فیملی کو انوائیٹ کیا تھا ۔۔۔انکل آنٹی تو کہیں اور انوائٹیڈ تھے ۔۔۔مگر آپ تو آ سکتے تھے ۔۔۔۔”
“میرا موڈ نہیں تھا’ ۔۔۔کامران اسپاٹ لہجے سے بولا
“ایز یو لائیک ۔۔۔۔۔لیکن اگر آپ آتے تو میری شاندار شادی دیکھ کر دنگ رہ جاتے ۔۔۔ماہم بھابی نے میری عام سے ہونے والی شادی کو بھی کیسے چار چاند لگا دیے ہیں ۔۔۔۔۔عفان بہت لکی ہے ۔۔۔جو ماہم بھابی جیسی بیوی ملی ہے اسے ویسے پرسنل سی بات ہے دونوں لگتے بڑے پرفیکٹ کپل ہیں ۔۔۔ ۔”۔۔۔۔قاسم نے کامران کو جلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔۔۔۔
“میں لیٹ ہو رہا ہوں ۔۔۔۔اگر تم میری گاڑی سے پیچھے ہٹنے کی زحمت کرو تو میں جاؤں ۔”۔۔۔ کامران کو آگ تو لگ گئ تھی قاسم کی بات پر اس لئے اپنے بلیک گلاسز پہن کر اکھڑے لہجے سے گویا ہوا قاسم جو اسکی گاڑی کے شیشے پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا فورا سے پیچھے ہٹ گیا
“یا ۔۔ شیور ۔۔۔”۔۔۔کامران تیزی سے گاڑی آگے بڑھا کر لے گیا ۔۔۔۔قاسم کاارادہ تو کہیں اور جانے کا تھا مگر سیدھا اپنے آفس گیا ۔۔۔۔۔عفان پر سے غصہ آ رہا تھا کیسے وہ ماہم کو جس۔ران کے ساتھ آنے جانے کی اجازت دے سکتا تھا ۔۔۔۔ مگر عفان ہر بات سے انجان تھا ۔۔۔۔۔قاسم نے خود ہی سب پلان کیا تھا جب وہ ماہم کی ساری چیزیں لیکر گھر پہنچا سب ہی اپنی تیاریوں میں مصروف تھے لاونج میں وہ اکیلی بیٹھی اپنے فون پر کال کرنے میں لگی تھی ۔۔۔بار بار فون پر نمبر ملا رہی تھی ۔۔۔قاسم نے سارے شاپنگ بیگ ماہم کے پاس رکھ دیے
“بھابی اگر آپ عفان کو کال کر رہیں ہیں تو وہ نہیں اٹھائے گا ۔”۔۔ قاسم وہیں ماہم کے صوفے پر ہی بیٹھ گیا
“کیوں ۔”۔۔۔
“اس لئے کہ میں نے اسے منع کیا ہے ۔”۔۔۔
‘لیکن مجھے گھر جانا ہے ۔۔۔تیار بھی ہونا ہے ۔۔۔۔اپ نے کیوں منع کیا قاسم بھائی “
“اس لئے کہ آپ آج یہیں تیار ہوں گی ۔۔۔یہ رہا آپ کاڈریس اور باقی سب چیزیں ۔۔۔”
“مگر “۔۔۔
“ارے اگر ۔۔مگر کا ٹائم ہی نہیں ہیں ۔۔آپ میرے ساتھ آئیں “۔۔قاسم نے سارے شاپنگ بیگ دوبارہ سے پکڑے اور کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔
ماہم کو چاہتے ہوئے بھی اٹھنا پڑا ۔۔۔۔قاسم اسے اپنے کمرے میں لے آیا جہاں فاریہ تیار ہو رہی تھی ۔۔۔کمرے میں۔ فاریہ اور بیوٹیشن کے علاؤہ کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔قاسم نے سارے شاپنگ بیگ اپنے بیڈ پر رکھ دیے ۔۔۔۔فاریہ تقریبا تیار ہو چکی تھی بس فائنل ٹچیز ہی باقی تھے ۔۔۔۔قاسم کو دیکھ کر بیوٹیشن اسے گھورتے ہوئے بڑی بے تکلفی سے بولی
“ارے دولہا بھائی آپ تو باہر جائیں ۔۔۔سارا سرپرائز خراب ہو جائے گا ۔۔۔۔
“اس سے کیافرق پڑے گا دو گھنٹے بعد بھی میں نے ہی دیکھنا ہے ۔۔۔بلکہ اب تو ساری زندگی دیکھنا ۔۔۔۔یہاں تک کہ بنا میک اپ کے بھی ۔۔اس لئے میں اپنے دل کو بہت مضبوط کر چکا ہوں تم میری فکر چھوڑو۔۔۔۔فی الحال تم فاریہ کو گولی مارو اور” ۔۔۔۔۔
“قاسم “فاریہ نے چلا کر قاسم کو پکارا ۔۔۔۔۔اور ڈرسنگ سے پرفیوم کی شیشی اٹھا کر قاسم کے سر کا نشانہ باندھا ۔۔۔
“کس کو گولی مارنے کا بول رہے ہو ۔۔”۔ فاریہ کے جارحانہ انداز پر قاسم کواپنے لفظوں کے غلط استعمال کا صحیح معنوں میں اندازہ ہوا تھا
“میرا مطلب ہے ۔۔۔فاریہ کو اچھے ۔۔ے۔۔۔۔ے۔۔۔ے سے تیار کر کے ماہم بھابی کو بھی تیار کر دینا ۔۔۔۔”
فاریہ نے پوری بات سن کر شیشی واپس رکھ دی
“نہیں قاسم بھائی میں خود تیار ہو جاؤں گی ۔”۔۔ماہم نے اس کے ارادے بھانپ کر برجستہ کہا
“بلکل نہیں بھابی آج آپکی بلکل نہیں چلے گی ۔۔۔۔جتنی اسپیشل آپ نے ہماری شادی بنادی ہے ایسا ہی اسپیشل آپکو بھی تیار ہونا ہے ۔۔۔مجھے آج عفان کو سرپرائز دینا ہے “۔۔۔۔۔
“لیکن ۔”۔۔ماہم نے کمزور سا احتجاج کرنا چاہا
“فاریہ یار آگے تم سنبھالو میں اب تیار ہونے جا رہا ہوں “۔۔۔قاسم کمرے سے نکل گیا ۔۔۔۔فاریہ تیار ہو چکی تھی اس لئے بیڈ پر آکر بیٹھ گئ بڑی دلچسپی سے شاپنگ بیگ سے ساڑھی نکال کر دیکھنے لگی
“ہائے ماہم دیکھو تو کتنی حسین ساڑھی ہے ۔۔۔۔فاریہ تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکیں۔۔۔ایک خوشگوار سی حیرت ماہم کوبھی ہوئی ۔۔۔۔ماہم۔ نے آج تک ساڑھی نہیں پہنی تھی ۔۔۔مگر اسے شوق بہت تھا اس لئے بیڈ کے قریب آ کر دیکھنے لگی ساڑھی واقع بے حد خوبصورت تھی۔۔۔ماہم لب سے تو کچھ نہیں بولی مگر آنکھوں کی چمک بتا رہی تھی کہ اسے ساڑھی پسند آئی ہے
“میں نے اور قاسم نے تمہیں سرپرائز گفٹ دینے کا سوچا تھا ۔۔۔۔دیکھوں کتنی اچھی ہے”۔۔۔ ۔۔۔
“ہاں واقع فاریہ بہت خوبصورت ہے” ۔۔۔ماہم۔ ساڑھی ہاتھ میں۔ پکڑے دیکھ کر بولی ۔۔۔۔
اب جلدی سے پہن کر آؤں ۔۔۔۔ماہم ڈرسنگ روم میں چلی گئ جب وہ ساڑھی پہن کر آئی فاریہ اسکی باقی کی۔ چیزیں نکال کر دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ماہم ڈرسنگ کے سامنے بیٹھ گئ ۔۔۔۔بیوٹیشن سے تیار کرنے لگی ۔۔۔
******……..
آج میں خود بھی پورے دل سے تیار ہوا تھا ۔۔۔۔گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے کئی بار ماہم کو تصور میں وہ ساڑھی پہنے سوچنے لگا ۔۔۔۔یہ سوچنا ہی اتنا دلفریب لگ رہا تھا تو جب دیکھوں گا تو کیسا لگے گا ۔۔۔۔۔دل آج ہواؤں میں اڑ رہا تھا تھا ۔۔۔۔قاسم کے گھر پہنچ کر اندر داخل ہوتے ہی میرے نظر ماہم کی متلاشی تھی ۔۔۔۔۔میں ادھر ادھر بے چینی سے دیکھنے لگا ۔۔۔سامنے سے ماہم مجھے بلیک ساڑھی پہنے نظر آ گئ ۔۔۔۔وہ میری طرف ہی آ رہی تھی ۔۔۔یہاں آتے ہوئے میں جتنے تصور ماہم کے لئے باندھے تھے حقیقت میں وہ ان سب سے ذیادہ حسین لگ رہی تھی بلیک کلر کی ساڑھی اسپر بہت سوٹ کر رہی تھی اس پر نفاست سے کیے میک اپ اسے آخری حد تک دلکش بنا دیا تھا ۔۔۔۔۔۔پھر خوشی کے تمام رنگ اسکے چہرے کو دھنک کے رنگوں کی طرح مزید بڑھا رہے تھے ۔۔۔لگتا تھا چہرے پر چاندنی سے اتر گئی ہو بالوں کی لٹیں اسکے چہرے کو بوسہ دے رہیں تھیں ۔۔۔۔ا۔۔اس پر اسکی معصومیت کا مخصوص انداز مجھے وہ میرے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی اس وقت وہ سحر انگیز حد تک مجھے مبہوت کر چکی تھی ۔۔۔۔۔میں دیوانہ وار اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔وہ بہت سینٹ سینٹ کر قدم زمین پر رکھتے ہوئے میری جانب بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔اس کا دلبربا سا انداز میرے لئے جان افروز تھا ۔۔۔۔مجھے اپنا آپ اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔
“عفان ۔۔۔۔۔عفان ۔۔”۔ماہم کے زور سے پکارنے پر میں اپنے ٹرانس سے باہر آیا تھا ۔۔۔۔۔۔
‘ہاں۔”۔۔۔۔میں نے چونک کر سے دیکھا
“کہاں کھوئے ہوئے ہو ۔۔۔آوں نا مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔”۔۔۔۔میرا ہاتھ پکڑے وہ مجھے سامنے رکھیں گول ٹیبل کے پاس لے جانے لگی اور میں اسکے خوبصورت اور نازک ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیے کسی کٹی پتنگ کی طرح اس کی تقلید میں چلتا رہا
“بیٹھوں نا عفان “۔۔۔۔ایک ٹیبل کے پاس تک کر ماہم نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی میرے مقابل بیٹھ گئ ماہم کی مسکراہٹ روشن دیے جیسی چمکتی آنکھیں مجھ سے اسکی بے پناہ خوشی کا اظہار کر رہی تھیں
“عفان کیسی لگ رہی ہوں میں “۔۔۔۔۔ماہم کے سوال پر میں نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔۔لیکن میں پھر خود کو سرزش کرنے لگا ۔۔۔اس نے کون سا مجھ سے پہلی بار یہ سوال کیا تھا وہ تو اکثر مجھ سے یہ پوچھ ہی لیتی تھی اگر اسے دیکھکر میں ہوش کھو بیٹھا تھا تو یہ تو میرا مسلہ تھا وہ کونسا میری کیفیت سے واقف تھی ۔۔۔۔۔میرا دل کا یہ حال تھا کہ سینے سے باہر آنے کو مچل رہا تھا ۔۔۔۔سانسوں کی بے ترتیبی میرے بس سے باہر تھی ۔۔۔۔دل چاہا اپنی محبت کا کھل کر ماہم سے اظہار کر دوں اسے بتاؤں کہ اسے دیکھ آجکل میرا دل کیا چاہتا ہے ۔۔۔۔مگر بڑی مشکل سے خود پر قابو پایا دل کو ہلکا ساڈانٹا کہ ایسی بے صبری اور بے تابی اچھی نہیں ہوتی ۔۔۔اپنی دھڑکنوں اور منہ زور جذبوں کو اعتدال پر لانے لگا ۔۔۔پھر ماہم سے نظریں ہٹا لیں ۔۔۔۔پہلی بار مجھے ماہم کا یہ سوال سب سے ذیادہ مشکل لگ رہا تھا ۔۔۔۔میں نے گلاصاف کیا ۔۔۔۔ایک بھر پور نظر ماہم پر ڈالی ۔۔۔۔مسکراہٹ خود با خود میرے چہرے پر سج گئ تھی
“سچ بتاؤں ماہی” ۔۔۔۔۔پہلی بار میں اسکی تعریف کرنے پر جھجکا تھا ۔۔۔اس سے تمہید باندھنے لگا تھا
“تو کیا ہر بار جھوٹ بولتے ہو ۔۔”۔ماہم کے ماتھے پر کئی سلوٹیں پڑنے لگیں نہایت خفگی سے اس نے مجھ سے پوچھا
“نہیں ۔۔۔نہیں ۔۔ایسی بات نہیں ہے” ۔۔۔۔میں ذرا سنبھل کر بیٹھ گیا ماہی کی ناراضگی اس وقت تو بلکل افوڈ نہیں کر سکتا تھا
“ایکچلی ۔۔۔۔۔۔ماہی ۔۔۔۔۔اس بار تم بہت الگ سی لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔پہلے کبھی ایسی نہیں لگی ۔۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے ۔۔۔۔۔ہو سکتا میری تعریف تمہیں بری لگے” ۔۔۔۔۔میں لفظ ترتیب نہیں دے پا رہا تھا ۔۔۔۔کچھ نروس تھا ۔۔۔نہیں نہیں میں کچھ نہیں اچھا خاصا بوکھلاہٹ کا شکار تھا مگر ماہم ہسنے لگی ۔۔۔۔۔
“مجھے کیوں برا لگے گا عفان یقینا تم میری تعریف کرو گئے اور تعریف کیسے اچھی نہیں لگتی ۔۔۔تم کہو نا مجھے برا نہیں گے گا ۔۔۔۔۔۔”
مجھے شاید ماہم سے ایسی اجازت کا انتظار تھا ۔۔۔۔۔
“ماہی تم “۔۔۔۔۔میں بہت کچھ کہنا چاہتا مگر لگتا تھاسارے لفظ ذہن سے نکل چکے ہیں یاں زمین وآسمان کی خوبصورت اشیا جن سے شاعر حضرات اپنی محبوباؤں کی تعریف کرتے ہوئے مثالیں دیتے ہیں میرے ذہن میں گڈمڈ سی ہونے لگیں تھیں
“ہاں بولو ۔۔۔” ۔۔۔ماہی نے اپنی کہنی ٹیبل پر رکھ کر اپنا چہرہ اپنے ہاتھ پر رکھتے ہوئے پوری دلچسپی سے پوچھا ۔۔۔۔میں مزید نروس ہو گیا ۔۔۔۔۔۔
“تم ان چھوئی کلی ۔۔۔۔آسمان کا پانچ دن کا پورا چاند ۔۔۔۔کھلتا گلاب ۔۔۔۔سورج کے قریب ترین رہنے والا ستارہ ۔۔۔نہیں شاید سیارہ ۔۔۔۔یا کسی آرکیٹ کا بنایا خوبصورت نقشہ ” مجھے میرے ذہن نے بری طرح مات دی تھی ۔۔۔۔عین وقت پر مجھے دغا دے گیا تھا نا جانے کیا اول فول بول چکا تھا
“واٹ “۔۔۔۔۔ماہم بے یقینی اور حیرت کے ملے جلے جذبات لیے بولی میں مزید بوکھلاہٹ میں مبتلہ ہو چکا تھا
“سب کچھ گڑبڑ ہو گیا نا ۔۔۔سچی ماہم تمہیں دیکھ کر میرے اندر بھی سب کچھ گڑ بڑ سا ہو گیا ہے ۔۔۔ہوش کھو بیٹھا ہوں اپنے ۔۔۔۔۔میرے پاس اتنے خوبصورت لفظ ہی نہیں جس سے تمہاری تعریف کر سکوں تمہاری کوئی خوبصورت مثال دے سکوں اس لئے نا جانے کیا بول گیا ۔۔۔ ۔۔۔بٹ آئی سوئر یو آر سو چارمنگ اینڈ سو گارجس” ۔۔۔۔۔۔۔۔صحیح وقت پر دل نے میری عزت رکھ لی اس سے پہلے کہ میں اسکی تعریف میں ذہن کو زحمت دے کر خفت اٹھاتا ۔۔۔۔دل کی بات کر کے میں مطمئن سا ہو گیا ۔۔۔۔اور میں نے کون سے پہلے دو چار افیر چلائے تھے جو لفظوں سےقائل کرنا جانتا ۔۔۔۔میرا شاعری سے دور دور کا واسطہ نہیں تھا ۔۔۔۔بہرحال ماہم خوش تھی
“تھنک یو عفان ۔۔۔۔تم فکر مت کرو مجھے تمہاری یہ عجیب وغریب سی تعریف بھی اچھی لگی ۔۔۔۔ اٹس او کے میں سمجھ سکتی ہوں تمہارے بس کی بات نہیں ہے میری تعریف کرنا ۔۔۔۔کامران ہوتے تو چاند کے اس پار لے جاتے مجھے” ۔۔۔۔میرا دل کسی نے کند چھری سے کاٹا تھا ۔۔۔۔۔۔۔میں ماہم کو دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔۔۔کس موقعے پر کن لفظوں سے وہ ۔مجھے زیر کر چکی تھی
“خیر چھوڑو ۔۔۔۔پوچھوں گئے نہیں یہ سب کہاں سے آیا کس نے دیا” ماہم موضوع بدل چکی تھی مگر ۔۔۔۔میرا دل بری بجھ کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔جیسے میرے سامنے کسی گندی اور نا پسندیدہ شے کا نام لے لیا ہو۔۔۔۔پھر بھی میں نے چہرے پر ناگواری لائے بغیر پوچھا
“ہاں بتاؤں کس نے دیا” ۔۔۔۔۔حالانکہ یہ تو میں پہلے سے ہی جانتا تھا مگر ماہم کو مایوس نہیں کر سکتا تھا
“قاسم بھائی اور فاریہ نے گفٹ دیا ہے” ۔۔۔۔۔۔ماہم کے جوشیلے انداز پر میں با مشکل ہی مسکرایا تھا ورنہ دل ۔میرا بجھ سا گیا تھا
“واہ اچھا گفٹ ہے ۔۔۔۔۔۔”میں ماہم س گرم جوشی سے بات نہیں کر رہا تھا جیسے وہ کر رہی تھی
‘صرف اچھا نہیں بہت اچھا ہے” ۔۔۔۔۔میری بات سے اسے تسلی نہیں ہوئی تھی وہ مجھے سے ذیادہ تعریف سننا چاہتی تھی
“پتہ ہے عفان مجھے بچپن سے ساڑھی پہنے کا بہت کریز تھا ۔۔۔تمہیں پتہ ہے خالہ جب بھی رضا انکل کے ساتھ باہر جاتے ہوئے ساڑھی پہنتی تھی ۔۔۔۔۔۔مجھے وہ بہت پیاری لگتی تھی بلکل الگ سی ۔۔۔میں انہیں تب تک دیکھتی رہتی تھی جب تک وہ چلی نہیں جاتی تھیں۔۔۔۔جانتے ہو اسوقت میرا کیا دل چاہتا تھا ۔”۔۔۔ماہم خوشی سے بھرے انداز میں بول رہی تھی میں بھی دلچسپی سے سننے لگا ۔۔۔۔۔۔
“کیا “
“میرا دل چاہتا تھا میں جلدی سے بڑی ہو جاؤں اور خالہ کی طرح ساڑیاں پہنو “۔۔۔۔ماہم اس قدر خوش ہو کر بتا رہی تھی جیسے اس کی کوئی درینہ خواہش پوری ہو گئ ہو ۔۔۔۔
‘اب تو تم بڑی ہو گئ ہو اس لئے جتنی چاہو ساڑیاں پہنو ۔۔۔بلکہ ایسا کرنا ماہی تم میرے ساتھ مارکیٹ چلنا تمہیں جو جو پسند وہ لے لینا ۔۔۔۔اپنے سب شوق پورے کرو ۔”۔۔بڑی مشکل سے میں نے اپنا موڈ بحال کیا تھا ماہم کی آنکھوں میں جلتے چمکتے جگنوں یک دم ہی ماند سے پر گئے
“نہیں عفان ۔۔۔۔نہیں پہن سکتی ۔۔۔کامران کو نہیں پسند ۔۔۔میں نے شادی کی شاپنگ کے دوران بھی ان سے کہا تھا مگر انہوں نے کہا انہیں پسند نہیں ہے اور مجھ پر اچھی نہیں لگے گی پھر میں کیسے پہن سکتی ہوں” ۔۔۔۔۔کامران کا نام سنتے ہی مجھے آگ سی لگنے لگی تھی ۔۔۔میرے حلق تک میں کڑواہٹ گھلنے لگی
آخر کیوں کامران ماہم کی بات میں شامل ہے ۔۔۔۔ماہم کیوں اسکی پسند کو اہمیت دیتی ہے ۔۔۔۔میرے جذبوں کا کیوں اسے احساس نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔ماہم کو دیکھتے ہی جو خوشی اور سر شاری میرے اندر بھر چکی تھی اب معدوم س ہونے لگی تھی۔۔۔۔ماہم سے میں کہنے ہی والا تھا کہ وہ کامران کا ذکر میرے سامنے مت کیا کرے مگر اسی لمحے قاسم اور فاریہ اسٹیج پر آنے لگے تھے ۔۔۔۔۔ماہم کا پورا دھیان اب اسٹیج کی طرف تھا ۔۔۔۔ماہم نے بہت زبردست ارینجمنٹ کی تھی اسٹیج کے بیچوں بیچ ایک الگ سے گول دائرہ بنایا گیا تھا قاسم اور فاریہ دونوں اس دائرے میں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہو گئے فاریہ نے اپنے دونوں ہاتھ قاسم کے شانوں پر رکھ دیے اور قاسم نے اپنا بازو فاریہ کہ کی کمر پر حمائل کر رکھا تھا ہال کی ساری لائٹس بند ہو گئ صرف فوکس لائٹس قاسم اور فاریہ پر تھی وہ گول دائرہ گول گول گھومتا ہوا اسٹیج کہ جانب بڑھنے لگا اسٹیج کے اوپر لگے بیلون باری باری پھٹنے لگے جس سی گلاب اور کلیوں کی پتیاں ان پر گرنے لگیں دھیمے سروں میں ایک رومنٹک سا سونگ ڈی جے لگا چکا تھا ۔۔۔رنگ برنگی فوکس لائٹس قاسم اور فاریہ کو ہی اپنے احاطے میں لیے ہوئے تھیں ۔۔۔میں اور ماہم دونوں ایک ساتھ کھڑے یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے
