Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 44
Rate this Novel
Tadbeer Episode 44
Tadbeer by Umme Hani
رات کو ڈنر کے وقت ہی گھر پہنچا تھا ۔۔۔۔قاسم کے ہاتھ میں درد تھا اور سائٹ پر بھی جانا تھا اس لئے دیر سے فراغت نصیب ہوئی تھی پھر اسوقت دو پروجیکٹ پر ہم اکھٹے کام کر رہے تھے ۔۔۔۔سر کھجانے کی بھی فرصت نہیں تھی ۔۔۔۔۔آج ماہم معمول سے کچھ زیادہ تیار تھی ریڈ کلر کے ہلکے فینسی ڈریس کے ساتھ میچنگ جیولری پہنے ۔۔۔۔بال بھی کھلے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔میک آپ بھی لائٹ نہیں کیا تھا ویسا کیا تھا جیسے کسی تقریب میں شرکت کے لئے جانے پر کرتی تھی ۔۔۔۔مجھے لگا شاید مما پاپا کہیں۔ انوائیٹ ہوں گئے ماہم کا موڈ بن گیا ہو جانے پر اس لئے یوں سجی سنوری بیٹھی ہے تیار تو آج مہک بھی بھی ہوئی تھی ۔۔۔دونوں ہی مسکرا رہیں تھیں ۔۔۔۔مہک کامران کو دیکھ کر اور ماہم مجھے دیکھ کر میں نے بھی ماہم کی مسکراہٹ کا جواب مسکراہٹ سے دیا ۔۔۔۔۔کامران کافی آپ سیٹ لگ رہا تھا ۔۔۔ذرا سا کھانا کھا کر اس نے پلیٹ پیچھے کھسکا دی ۔۔۔
کیا ہوا کامران کھانا کیوں نہیں کھا رہے ۔۔۔۔مہک نے فکر مندی سے پوچھا
” بس طعبیت کچھ ٹھیک نہیں ہے سر میں اچانک سے درد شروع ہو گیا ہے ۔۔۔۔”کامران اپنی دونوں کنپٹیاں دبانے لگا ۔۔۔۔
“بھائی اگر ذیادہ درد ہے تو میں آپ کو ڈاکٹر کے لے چلو “
“اٹس او کے یار ۔۔۔۔ایکچلی ایک کمپنی کا آڈر پورا کرنا تھا دو دن سے دن رات اسی میں لگا رہا شاید نیند پوری نہیں ہوئیں ایک سلیپنگ پلز لو گاتوصبح تک ٹھیک ہو جاؤ۔ گا” ۔۔۔۔
“عفان ٹھیک کہہ رہا ہے کامران چلے جاؤ۔ ڈاکٹر پر تم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہے ۔۔۔۔”مما کو بھی کامران کے بجھے چہرے کودیکھ کر تشویش ہونے لگی
“مما کافی پیوں گا ٹھیک ہو جاؤں گا ۔۔۔۔مہک میں کمرے میں جا رہا ہوں کھانا کھا کر پلیز مجھے کافی بنا دو ۔۔۔کامران اٹھ کر چلا گیا ۔۔۔۔مجھے بھی لیپ ٹاپ پر کام تھا ۔۔۔۔اس لئے جلدی ہی کمرے میں چلا گیا کمرہ بھی آج پہلے کی نسبت زیادہ صاف ستھرا تھا بیڈ پر بچھی بیڈ شیٹ بھی نئ تھی اور سائیڈ ٹیبل پر رکھے واز میں۔ وائٹ اور ریڈ روز ڈلے ہوئے تھے پورے کمرے سے بھول کی خوشبوں کے ساتھ ایک تیز سے کلون کی خوشبوں بھی رچی بسی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔مگر مجھے اپنے کام کی فکر تھی اس لئے اپنی فائلز کو ری چیک کیا کیونکہ کل فائنل میٹنگ تھی اس لئے مجھے بس کچھ پہلے سے ہی دیکھنا تھا ۔۔۔۔خلاف توقع ماہم آج جلدی اوپر آ گئ تھی ۔۔۔۔کچھ دیر بیڈ پر بیٹھی مجھے دیکھتی رہی ۔۔۔۔مجھے لگا شاید کچھ کہنا چاہتی ہے ۔مگر اسوقت میں پوچھنے کی پوزیشن میں بلکل نہیں تھا مجھے جلدی اپنا کام نمٹانا تھا ۔۔۔۔کافی دیر وہ میری مصروفیت دیکھتی رہی پھر اٹھ کر میرے سامنے بیٹھ گئ ۔۔۔۔میرا کام بھی مکمل ہو چکا تھا میں بس لیپ ٹاپ بند ہی کرنے والا تھا
“عفان بند کرو نا اسے ۔۔۔۔ماہم نے لیپ ٹاپ مجھ سے کہا
“ماہی بس پانچ منٹ کا کام ہے ۔۔۔بس ایک ای میل قاسم کو بھیج دوں ۔۔۔۔”
“نہیں۔ نا عفان آفس کے کام پلیز آفس میں۔ چھوڑ آیا کرو ۔۔۔۔”ماہم کے بگڑتے ہوئے موڈ کو دیکھ کر میں مزید کام کا ارادہ ترک دیا ۔۔۔اسر لیہ ٹاپ بند کر دیا
“او کے نہیں کرتا کوئی کام ۔۔۔اب بتاؤ تم کیا کہنے کے لئے اتنی بے تاب ہو ۔۔۔۔۔”مجھے اندازہ تو تھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتی ہے جبھی ایسے ریایکٹ کر رہی تھی میں بھی سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔
“میں کیا بتاؤں “وہ مجھے خفگی سے دیکھنے لگی ۔۔۔
“ظاہر ہے ماہی ۔۔۔تم۔ کچھ کہنا چاہتی ہو جبھی تم نے لیپ ٹاپ بند کروایا ہے اب بولو بھی کچھ چاہیے ۔۔۔۔
“مطلب کیا ہے تمہارا ۔۔۔۔ذیادہ بنو مت میرے سامنے ۔۔۔بتاوں ۔نا ۔۔۔کیسی لگ رہی ہوں میں ۔۔۔”وہ کچھ اترائی اترائی مجھ سے پوچھنے لگی ۔۔۔مجھے کچھ حیرت سی ہوئی ۔۔۔۔۔رات کو اول تو وہ آتے ہی چینج کر لیتی تھی اور ایسا سوال مجھ سے صرف اسی وقت پوچھتی تھی جب ہمہیں کسی تقریب پر جانا ہوتا تھا ۔۔۔۔۔
“اچھی لگ رہی ہو as usual”
“بس صرف اچھی ۔۔۔۔۔یہ تو کوئی بات نا ہوئی تم نے کہا تھا کہ تم میری تعریف کرو گئے ۔۔۔تم نے یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ کلر مجھ پر کیسا لگ رہا ہے ۔۔۔۔اور جو کلون میں نے لگایا ہے اسکی خوشبوں کیسی ہے٫”
“اسکے عجیب سوال پر میں مسکرانے لگا ۔۔۔اس کا ہاتھ تھام کر کہا
“ہمم ۔۔۔اچھ۔۔۔۔ا ۔۔۔تو میری بیگم صاحبہ میرے منہ سے اپنی تعریف سننا چاہتی ہے جب کے وہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ اس معاملے میں انکا شوہر کتنا اناڑی ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔او کے مجھے کوئی اعتراض نہیں “۔۔۔۔میں جو بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ماہم پر ایک بھر پور نگاہ ڈالی
“بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔مگر مجھے تم بلو کلر میں زیادہ حسین لگتی ہو ۔۔۔۔خوشبوں بھی اچھی لگائی ہے تم نے مگر بہت شارپ ہے ۔۔مجھے لائٹ اور بھنی بھنی خوشبو پسند ہے ۔۔۔۔۔میری تعریف پر وہ متحیر سی ہو گئ ۔۔۔ہاتھ بھی میرے ہاتھ سے کھنچ لیا ۔۔۔
“عفان یہ کلون تو۔۔۔۔ تم نے ہی مجھے بھیجا تھا ۔۔کہ میں یہ رات کو لگاؤں اور ریڈ کلر کا بھی تمہیں نے پہنے کی اشد خواہش ظاہر کی تھی ۔۔۔۔کہ میں رات کو ضرور پہنو “اسکی بات میرے لئے حیران کن تھی کیونکہ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا ۔۔۔۔۔
“میں نے تو تمہیں کوئی کلون نہیں بھیجا اور میری تو پورا دن تم سے فون پر بات ہی نہیں ہوئی ۔۔۔۔میں نے کب تم سے سب کہا ماہی ۔۔۔۔”میری بات پر وہ کچھ تذبذب سی ہونے لگی سامنے سائیڈ ٹیبل کے دراز سے مجھے ایک کارڈ نکال کر میرے ہاتھ پر رکھ دیا ۔۔۔جس کے اوپر
“My first love” لکھا تھا
میں نے ماہم کی طرف دیکھا جو خود بھی انجان تھی پھر اسے کھول کر پڑھنے لگا ۔۔۔۔جس میں اپنی محبت کا والہانہ اور بے باک سا اظہار تھا ۔۔۔ریڈ کلر کے ڈریس پہنے کی فرمائش بھی تھی اور اس کلون کو لگانے کی ریکویسٹ بھی ۔۔۔مگر نام کے بجائے نام کا پہلا حرف لکھا تھا
ڈیر ایم کے نام اور بھجنے والے نے اپنی نام نہی۔ لکھا تھا
“ماہی یہ میں نے نہیں بھیجا ۔۔۔۔”میرے چہرے پر گہری سنجیدگی دیکھ کر ماہم نروس سی ہوگئ
“مجھے لگا تم نے بھیجا ہے پہلے بھی تم نے مجھے some one special کارڈ دیا تھا ساتھ میں پھول بھی ۔۔۔اور یہ کارڈ پرفیوم اور فلاور بکے کے ساتھ ہی آیا تھا ۔۔۔پھر ایم سے تو میرا ہی نام آتا ہے ۔۔۔مجھے لگا تم نے مجھے سرپرائز دیا ہے “
“لیکن میں۔ نے تم سے ایسے الفاظ میں کبھی اظہار نہیں کیا جو اس میں لکھے ہیں ۔۔۔۔اینی وئے تمہیں یہ لا کر کس نے دیے” ۔۔۔۔میرے لہجے میں سنجیدگی کے ساتھ تشویش بھی تھی
“,کریم بابا نے “اس نے فورا جواب دیا
“میں ان سے پوچھ لوں گا ۔۔۔تم پریشان مت ہو ۔۔۔۔میں ابھی بات کر ہی رہا تھا کہ لائٹ چلی گئ ۔۔۔۔۔
“لائٹ کو کیا ہوا پہلے تو کبھی نہیں گئ ۔۔۔۔”ماہم نے کہا
“تم یہیں رکو ۔۔۔میں دیکھتا ہوں ۔۔۔میں اپنا موبائل لئے نیچے اترا پورا لاونج میں اندھیرے کا راج تھا ۔۔۔۔آج سے پہلے ہمارے علاقے میں کبھی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔سردیوں کے دن تھے اس لئے سبھی اپنے کمروں میں سوئے ہوئے تھے میں لان میں آیا تو آس پاس کے سب گھروں میں لائٹ موجود تھی ۔۔۔کریم بابا بھی اپنے کواٹر سے نکل کر لان میں آ چکے تھے ۔۔۔۔
“لائٹ کیسے چلی گئ چھوٹے صاحب “
“معلوم نہیں مین سوئچ میں کوئی مسلہ نا ہوا ہو” ۔۔۔ہم دونوں ہی مین بورڈکی طرف پہچے چند تاریں سوئچ بورڈ سے باہر لٹک رہی۔ تھیں ۔۔۔ہوا بھی آج خاصی تیز تھی شاید تار نکل گئ تھی میں نے مین بورڈ کھولا تو واقع تار نکلی ہوئی تھی ۔۔۔۔کریم باباسے میں نے ٹول بکس منگوایا ابھی میں تار لگا کر فارغ ہی ہوا تھا مین سوئچ آن بھی نہیں کیا تھا کہ ماہم کی چیخنے چلانے کی آوازیں آنے لگیں ۔۔۔۔۔میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کمرے کی طرف لپکا ۔۔۔۔وہ چیخ چیخ کر مجھے ہی پکار رہی تھی میں نے کمرے کا دروازہ کھولا ساتھ ہی لائٹ آن ہوگئ شاید کریم بابا نے مین سوئچ آن کر دیا تھا ۔۔۔مجھے دیکھتے ہی ماہم بھاگ کر میرے ساتھ لگ کر رونے لگی اس کا پورا وجود کپکپا رہا تھا ۔۔۔۔۔
“کیا ہوا ماہی ۔۔۔۔اندھیرے سے ڈر گئ ہو ۔۔۔۔”
“نن۔۔۔نہیں ۔۔۔عفان ۔۔۔۔۔عفان کامران آیا تھا ۔۔۔۔۔یہاں میرے کمرے میں “وہ بے حد بدحواس اور گھبرائی ہوئی تھی ۔۔۔
“اس نے ۔۔۔۔۔اس نے ۔۔۔۔عفان ۔۔۔اس نے میرے ساتھ ۔۔۔۔۔بدتمیزی کی ہے “ماہم اس قدر خوفزدہ ہو کر رو رہی تھی کہ الفاظ منہ سے ٹھیک سے ادا نہیں ہو رہے تھے ۔۔۔۔لیکن جو کچھ اس نے کہا مجھے آگ لگانے کے لئے کافی تھا ۔۔
“میں چھوڑو گا نہیں اسے چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔میں ماہم کو اپنے ساتھ لئے نیچے لاونج میں آ گیا ۔۔۔مماپاپا بھی ماہم کے چلانے پر کمرے سے باہر نکل کر لاونج میں ا چکے تھے مگر کامران کا دروازہ بند تھا ۔۔۔۔میں غصے سے بھپرا ہوا تھا
“کیا ہوا ماہم ۔۔۔۔”مما نے ماہم کو یوں گھبرائے ہوئے دیکھا تو پوچھنے لگی ۔۔۔میں نے کوئی جواب نہیں دیا اور کامران کا دروازہ پیٹنے لگا ۔۔۔۔۔کچھ پل میں دروازہ مہک نے کھولا تھا ۔۔۔۔۔وہ نیند سے جاگی تھی اس لئے موندی موندی آنکھوں سے سب کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
کہاں ہے کامران ۔۔۔بھجو اسے باہر ورنہ میں اندر آ کر اس کا منہ توڑ دونگا ۔۔۔۔۔”میرے طیش بھرے لہجے پر مہک حیران تھی ۔۔۔۔پاپا بھی مجھ سے وجہ پوچھنے لگے مگر مجھ پر جنون سا سوار ہونے لگا ۔۔۔۔آخر یہ شخص چاہتا کیا تھا ۔۔۔
“کیا بات ہے عفان سب ٹھیک تو ہے ۔۔۔کامران رات کو سلپنگ پلز لیکر سویا تھا ۔۔۔۔۔اب بھی بے سود سو رہا ہے میرے جگانے پر بھی نہیں اٹھے گا مگر ہوا کیا ہے ۔۔۔”
“ڈرامہ کر رہا ہے ذلیل انسان ۔۔۔ہٹیں آپ پیچھے ۔۔۔” میرے جارحانہ انداز پر مہک گھبرا کر پیچھے ہٹ گئ ۔۔۔۔کامران بنیان پہنے بے سود سو رہا تھا ۔۔۔۔
“آخر ہوا کیا ہے عفان بتاتے کیوں نہیں۔ “مما میرے پیچھے ہی کمرے میں ائیں تھیں۔۔۔۔مہک بھی میرے پیچھے اندر پریشان سے آئی
“کیا ہوا ہےعفان “
“یہ ابھی کچھ دیر پہلے میرے کمرے میں آیا تھا ۔۔۔”
کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔۔کامران تو کب سے سو رہا ہے ۔۔۔رات کو کافی پینے کے لئے بھی نہیں اٹھا ۔۔۔اب بھی ماہم کے چلانے پر میری آنکھ کھلی تھی وہ تو ہلا تک نہیں تمہارے اسقدر زور سے دروازہ پیٹنے ہر بھی نہیں ۔۔۔۔میں یہیں اس کے برابر میں۔ سو تھی وہ اگر باہر گیا ہوتا تو مجھے تو خبر ہو ہی جاتی ۔۔۔۔۔میں چپ سا ہوگیا ۔۔۔واقع مہک تو یہیں تھیں پھر جس حلیے میں وہ سو رہا تھا ۔۔۔۔وہ ابھی آکر لیٹا ہوا نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔ورنہ شرٹ اتارنے کی مہلت اسے نا ملتی یا پھر اسکے آنے جانے کے شور سے مہک ضرور جاگ جاتی ۔۔۔۔شاید ماہم اندھیرے سے ڈر گئ تھی ۔۔
“۔۔ہوا کیا ہے عفان ۔۔۔ماہم کیوں چلا رہی تھی ۔۔۔مہک پوچھنے لگی
“شاید ڈر گئ تھی اندھیرے سے ۔۔۔۔ایم سوری ۔۔۔میں نے آپ سب کو ڈسڑب کیا ۔۔۔”میں کمرے سے باہر آ گیا ماہم اب بھی رو رہی تھی ۔۔۔پاپا اسے چپ کرواتے تھے ۔۔
“کیا ہوا ماہم کچھ بتاوں تو “پاپا ماہم سے پوچھ رہے تھے
“کچھ نہیں پاپا ۔۔ مین سوئچ کی تار نکل گئ تھی میں وہی لگانے نیچے گیا تھا ماہم اکیلی کمرے میں تھی شاید ڈر گئ ۔۔۔۔
“نہیں ۔۔۔عفان ۔۔۔میں “”
“پلیز ماہی چلو اوپر ۔۔۔”میں نے ماہم کی بات بیچ میں سے اچک لی ۔۔۔۔اور اس کا ہاتھ پکڑے اسے اوپر لے آیا ۔۔۔وہ کمرے میں ا کر بھی یہی کہنے لگی
“عفان وہ سچ میں اوپر آیا تھا ۔۔۔۔”
ماہم ۔۔۔ایک شخص جو نیند کی گولی کھائے بے سود سو رہا ہو ۔۔۔۔وہ اوپر کیسے آ سکتا ہے ۔۔پھر مہک اسکے پاس ہی تھی وہ کیوں جھوٹ بولے گی ۔۔۔۔
“تمہیں لگتا ہے میں جھوٹ بول رہی ہوں ۔۔۔۔
“نہیں ۔۔۔مگر یہ سچ بھی نہیں ہے تم ڈر گئ ہو گئ ۔۔۔اندھیرے میں ہر چیز کے سائے خوفزدہ کر دیتے ہیں۔۔۔ تمہیں لگا ہو گا کہ کامران کا سایہ ہے “
نہیں عفان وہ۔۔۔۔۔وہ آیا تھا ۔۔۔”وہ بری طرح لزر رہی تھی
کچھ مت سوچو ۔۔۔میں ہوں نا تمہارے پاس ۔۔۔
عفان میری بات سنو
ماہی چلو لیٹو ۔۔۔۔۔کیوں ڈر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔میرے ذرا سا سخت لہجے پر وہ خاموشی سے میرے برابر لیٹ گئ ۔۔۔میرا ہاتھ بھی کس کے پکڑ لیا ۔۔۔۔۔میں اسے خود سے قریب کر لیا ۔۔۔ خوف کے مارے اس کا دل اب تک بہت زور سے ڈھڑک رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اس کا جسم برف کی مانند ٹھنڈا ہو رہا تھا میرے حصار میں بھی وہ سسک رہی تھی میں اسے بہلانے کی کوشش کرتا رہا
******…….
کافی دن سے وہ چپ چپ سی تھی میں نے اسے آفس جاتے ہوئے قاسم کے گھر چھوڑ دیا فاریہ سے اسکی اچھی دوستی تھی میں چاہتا تھا کہ وہ فاریہ کے ساتھ وقت گزارے گی تو بہل جائے گی ۔۔۔۔رات کو واپسی پر قاسم نے ڈنر کروا کر ہی ہماری جان چھوڑی تھی۔۔۔۔راستے میں بھی وہ چپ چپ سی تھی ۔۔۔
“عفان کیا قاسم بھائی کا کسی لڑکی سے افیر چل رہا ہے “مجھے ماہم کاسوال کچھ عجیب سا لگا
“نہیں ۔۔۔تم سے کس نے کہا “
“فاریہ نے۔۔۔۔ وہ تو بلکل شیور ہے اس بات پر ۔۔۔۔۔تم انکے دوست ہو تمہیں تو معلوم ہو گا ۔۔۔پتہ ہے فاریہ کتنی پریشان تھی رو بھی رہی تھی ۔۔۔
۔قاسم بھائی کو ایسا کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے”
“ایسا کچھ نہیں ہے اسے عادت ہے بھابی کو تنگ کرنے کی “میرے یقین دلانے پر بھی ماہم کی تسلی نہیں ہوئی تھی
“مجھے لگتا ہے فاریہ ٹھیک کہتی ہے سارے مرد ایسے ہی ہوتے ہیں ۔۔مرد ذات بھروسے کے قابل نہیں ہوتی۔۔۔عفان کیا تم بھی ایسے ہو ۔۔۔تمہاری لائف میں بھی ۔۔۔۔۔”اس جمعلے کو ماہم نے ادھورا چھوڑ دیا ۔۔۔کچھ تذبذب کا شکار ہونے لگی
“میری لائف میں کیا “میں نے نا فہم انداز سے کہا
“آئی مین تمہاری لائف میں میرے علاؤہ کوئی اور ۔۔۔۔۔”وہ بات کرتے ہوئے جھجک رہی تھی میں اسکی بات سمجھ گیا تھا اسے بھی فاریہ والی پریشانی لا حق تھی ۔۔۔ ۔حالانکہ میں پہلے بھی اس سے بتا چکا تھا کہ میری لئے وہ کیا اہمیت رکھتی ہے ۔۔۔ مگر شاید بیوی ایک واحد ایسی مخلوق ہے جو شوہر کی محبت پر شک نا کرے تو اس گزرا مشکل ہے ۔۔۔۔لیکن پھر بھی مجھے لگا تھا ماہم کو اگر یہ بات ستا رہی تھی تو مطلب وہ مجھے دل میں کے اعلی مقام پر بیٹھا چکی تھی جہاں کبھی میں نے ہونے کی خواہش کی تھی ۔۔۔۔
“ہاں جب سب مرد ایسے ہی ہوتے ہیں نا قابل بھروسہ تو میں کون سا الگ ہوں ۔۔۔اور لائیک کیا میں تو پورے کا پورااسکے عشق میں ڈوب چکا تھا ۔۔۔اور اب تک دل وجان سے اس پر فدا ہوں “مجھے لگا میرے اظہار کو سمجھ جائے گی مگر اسکے چہرے پر مزید پریشانی دیکھ کر پتہ نہیں کیوں میں اندر تک محسور ہونے لگا ۔۔۔۔۔میری زندگی میں اسکے علاؤہ کوئی اور ہے اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔اس لئے چہرے پر خفگی کے آثار لئے ونڈر اسکرین سے باہر دیکھنے لگی ۔۔۔۔میں اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ کر آپ ی مسکراہٹ دبانے لگا
“ماہی تم میں ایک عادت بہت اچھی ہے “میں۔ نے اسے تنگ کرنے کے غرض سے بات شروع کی
“وہ کیا “
تم عام بیویوں کی طرح کنزرویٹو نہیں ہو ۔۔۔میری جتنی بھی گرل فرینڈ ہو ۔۔۔تمہیں جیلس ہر گز نہیں ہو گی “
“ہاں مجھے کیا پروا ہے “وہ کندھے اچکا کر لا پروائی سے بولی ۔۔۔۔مگر اسکے چہرے پر چھائے پریشانی کے تاثرات مجھ سے کہاں۔ مخفی تھے
” ظاہر ہے تم کون سا مجھ سے محبت کرتی ہو ۔۔۔۔جیلس تو فاریہ بھابی جیسی بیویاں ہوتی ہیں جنھیں اپنے شوہر سے محبت ہوتی ہے ۔۔۔تم تو کامپرومائز کر رہی ہو ۔۔۔۔”میری بات پر ماہم نے چونک کر میری طرف دیکھا میں لاپروائی دیکھاتے ہوئے سامنے دیکھنے لگا ۔۔۔۔اب وہ اپنی پریشانی چھپا نہیں پا رہی تھی عجیب بے چینی سے کچھ سوچ رہی تھی ۔۔۔۔پھر اپنی انگشت شہادت کے ناخن کو منہ ڈالے دانتوں سے کترنے لگی ۔۔۔مطلب بے تحاشہ پریشان تھی ۔۔۔
“عفان “”۔۔۔
“ہمم “
“کون تھی وہ لڑکی” ۔۔۔۔اسے اب یہی فکر ستا رہی تھی
“تھی نہیں۔ ماہی۔۔۔ ہے “میرے جواب پر اس نے مزید کوئی سوال نہیں کیا ۔۔۔۔رات کو کمرے میں۔ مجھ سے بات کیے بغیر بیڈ پر لیٹ گئ۔۔۔میں بھی اپنی سائیڈ پر لیٹ گیا کچھ دیر میں سو بھی گیا
