Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 45 and 46
Rate this Novel
Tadbeer Episode 45 and 46
Tadbeer by Umme Hani
عفان کی بات نے ماہم کی نیندیں اڑا دیں تھیں ۔۔۔۔وہ بے حد پریشان تھی ۔۔۔عفان کی زندگی میں کسی اور لڑکی کا ہونا اب ماہم سے برداشت نہیں ہو رہا تھا وہ کیسے کسی اور سے محبت کر سکتا ہے ۔۔۔۔اور اب بھی وہ لڑکی اسکی زندگی میں ہے ۔۔۔۔فاریہ نے ماہم کو اپنی ایک دوست کاقصہ سنایا تھا جس کے شوہر کا شادی سے پہلے کسی اور سے افیر تھا ۔۔۔شادی کے بعد کچھ عرصہ تو وہ اپنی بیوی سے ٹھیک رہا مگر بعد میں لڑنے جھگڑنے لگا ۔۔۔اور پھر نوبت طلاق تک پہنچ گئ ۔۔۔فاریہ کی دوست کو طلاق دینے کے بعد اس شخص نے اپنی پہلی لور سے شادی کر لی ۔۔۔۔فاریہ وہی اسٹوری خود پر فٹ کر کے قاسم پر شک کرتے ہوئے ساراقصہ ماہم کو روتے ہوئے سنا رہی تھی ۔۔۔
پھر عفان کے مزاق کو بھی ماہم نے سچ سمجھ لیا رات کو عفان کو لیٹتے ہی سو گیا مگر ماہم کی آنکھوں سے نیند اڑ گئی تھی ۔۔۔۔کافی دیر اپنی سائیڈ کا لمپ کھولے وہ عفان کو سوتے ہوئے دیکھتی رہی “بڑے بڑے دعوے کرتا تھا محبت کے ۔۔۔۔زور آئی لو یو کہتا ہے مجھ سے ۔۔۔۔اور ایک محبت اور بھی کر رکھی ہے ۔۔۔۔۔۔فاریہ ٹھیک ہی کہتی ہے مرد جب شوہر بن جائے تو سب سے ذیادہ غیر دلچسپ چیز اسکے لئے اسکی بیوی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔مگر نا جانے میرے نصیب میں ہی وفا نہیں ہے ۔۔۔نا کامی سے ملی نا عفان سے ۔۔۔۔”ماہم نے آنسوں بہہ کر تکیہ بھگونے لگے ۔۔۔
“مگر میں کیوں ہار مانو ۔۔۔۔ میراشوہر ہے اب یہ ۔۔۔۔میں کیوں برداشت کرو کہ وہ کسی اور کو میرے علاؤہ چاہے ۔۔۔۔۔ماہم اٹھ کر بیٹھ گئ سب سے پہلے سائیڈ ٹیبل سے عفان کا موبائل پکڑا اور مسج چیک کرنے لگی س کے بعد اٹھ کر عفان کے بیگ سے لیپ ٹاپ نکال کر چیک کرنے لگی مگر وہاں کوئی ایسے مسجز نہیں تھے ۔۔۔مایوس ہو کر دوبارہ لیٹ گئ ۔۔۔۔
جب پریشانی حد سے بڑھنے لگی تو سسکیاں لیکر رونے لگی ۔۔۔۔۔
******………
میری آنکھ کسی کے رونے اور سسکنے کی آواز سے کھلی ۔۔۔میں نے با مشکل آنکھیں کھولیں تو ماہم جاگ رہی تھی ۔۔۔
“تم سوئی نہیں ابھی تک “میں نے آدھی نیند میں تھا
“عفان ۔۔۔
“ہمم
“اگر وہ لڑکی تمہاری زندگی دوبارہ سے آ گئ تو کیا تم مجھے چھوڑ دو گئے “ماہم کی بات میں نے نیند میں سنی تھی مگر آخری جمعلہ سن کر میری پوری آنکھیں کھل گئیں ۔۔۔۔
“کون سی لڑکی ۔۔۔۔”کچھ پل تو مجھے سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ پوچھ کیا رہی ہے لیکن اب میں پورے ہوش وحواس کے ساتھ اٹھ چکا تھا
“وہی جسے تم محبت کرتے ہو ۔۔۔۔”وہ سسک کر بولی
“ماہی تم رو رہی ہو ۔ ۔”میں اٹھ کر بیٹھ گیا تووہ اس بات کو لیکر اب تک پریشان تھی آدھی رات بیت چکی تھی اور اسکی آنکھوں میں نیند کا شائبہ تک نہیں تھا ۔۔مگر وہ یونہی لیٹی اپنے آنسوں صاف کرتی رہی ۔۔
“کیا بہت خوبصورت ہے وہ ۔۔۔۔مجھ سے بھی زیادہ “
“اٹھ کر بیٹھو “میرے کہنے پر وہ اٹھ کر بیٹھ گئ
“تم اس بات پر رو رہی ہو ۔۔۔۔آر یو میڈ ماہی “حیرت کے ساتھ ساتھ مجھے غصہ بھی آنے لگا
“ہاں اب تو میں تمہیں میڈ ہی لگو گی اب کوئی اور جو ہے تمہاری زندگی ہے جس سے تم محبت کرتے ہو ” ۔۔۔
“ماہی جس سے میں محبت کرتا ہوں وہ میری زندگی میں آ چکی ہے اور وہ تم ہو ۔۔۔۔روز تمہیں آئی لو یو کہتا ہوں یار پھر بھی تمہیں مجھ پر شک ہے …”
“نہیں۔۔۔ شک نہیں کر رہی ۔۔۔بس مجھے لگا تم مجھے چھوڑ دو گئے “
” تمہیں تو میں صرف مرنے کے بعد ہی چھوڑ سکتا ہوں “میری بات پر ماہم نے تڑپ کر میری طرف دیکھا
“یہ کیوں کہا تم نے عفان۔۔۔۔مرنے کی بات کیوں کر رہے ہو “۔۔۔ ۔۔۔۔ آنکھیں اسکی پھر سے بہنے لگی میرے سینے پر اپنا سر رکھے وہ رونے لگی ۔۔۔
“خدا کرے تم سے پہلے میں مر جاؤں “
“ماہی ایسے تو مت کہو “میں نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں لیکر کہا اپنے دونوں انگوٹھوں سے اسکے آنسوں صاف کرنے لگا
“تم بھی یوں مت کہا کرو ۔۔۔میں نہیں۔ کھو سکتی ہوں تمہیں۔۔۔۔۔چھوٹی سی عمر میں میں نے اپنا سب کچھ کھو دیا تھا ۔۔۔اپنے ماں باپ اپنا گھر اپنا سب کچھ ۔۔۔۔اب بہت ڈر لگتا ہے کچھ بھی کھونے سے ۔۔۔اور تم ۔۔۔۔تم آفس سے لیٹ ہو جاؤں تو میں بے چین ہو جاتی ہوں نا جانے کون کون سے وسوسے مجھے ستانے لگتے ہیں ” ۔۔۔۔۔میں بڑے حیرت سے ماہم کی بات سن رہا تھا وہ مجھ سے محبت کرنے لگی تھی اس بات کا مجھے اندازہ تھا مگر اتنی یہ میں نہیں جانتا تھا
“اتنی محبت کرتی ہو مجھ سے “میں نے اپنا سر اسکے سر سے ٹکرا کر کہا تو وہ پیچھے ہٹ گئ میرے ہاتھ بھی اپنے چہرے سے ہٹا دئیے ۔
“نہیں عفان محبت نہیں کرتی ۔۔۔۔بس رہ نہیں سکتی تمہارے بغیر ۔۔۔تم کسی اور لڑکی کا نام لو تو مجھے جیلس بھی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔برا لگتا ہے مجھے ۔۔۔ویسے تو میں کامپرومائز ہی کر رہی ہوں ۔۔۔۔اسکی بات پر میری ہنسی بے ساختہ تھی ۔۔۔۔
“ہنس کیوں رہے ہو “اب میں اسے کیا بتاتا اتنا واضع اظہار کے بعد بھی وہ مجھ سے محبت کا اعتراف کرنے کو تیار نہیں۔ تھی
“مجھے لگا میری ماہی نے عقل سے کام لینا شروع کر دیا ہے ۔۔مگر نہیں ۔۔۔میں ابھی اتنا خوش نصیب نہیں ہوا ہوں ۔۔۔میری جان جیسا کامپرومائز آپ کر رہیں ۔۔۔میرے لئے یہی بہت ہے بس ایسے ہی کرتی رہنا میں اسی میں خوش ہوں ۔۔۔”میری بات پر وہ کچھ خجل سی ہو گئ اپنی سائیڈ کا لمپ بند کر کے لیٹ گئ
*******………
کچھ دنوں بعد ہی میں نے ماہم کو ایک بڑی سی شال لا کر دی ۔۔۔اب اسکا وجود کچھ ظاہر ہونے لگا تھا ۔۔۔اور میں چاہتا تھا کہ وہ خود کو کور رکھے ۔۔۔۔میری وہ کسی بات سے اختلاف نہیں کرتی تھی۔۔۔۔۔۔کچھ دن بعد ہی ماہم نے مجھے بتایا کہ وہ اور مہک نیو بون بیبز کے لئے شاپنگ پر جائیں گی مگر ڈرائیور ذیادہ دیر رکے گا نہیں اس لئے واپسی پر میں انہیں پک کر لوں ۔۔۔میں نے بھی ہامی بھر لی مجھے معلوم تھا کہ لیڑیز کی شاپنگ اتنی جلدی ختم ہونے والی نہیں ہوتی اس لئے میں ماہم سے کہا کہ جب وہ فری یوں مجھے کال کر لے ۔۔۔۔ماہم کی کال اس وقت آئی جب میں آفس سے کام سے فارغ ہو چکا تھا میں ماہم کی بتائی شاپ پر پہنچ گیا جب میں شاپ کے اندر داخل ہوا ماہم ایک کرسی پر بدحواس سی بیٹھی ہوئی تھی مہک اسے پانی پلا رہی تھی ۔۔میں فورا سےاسکے پاس ا گیا ماہم اسقدر خوفزدہ تھی کہ جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں تھی ۔۔۔۔
“کیا ہوا ہے اسے “,میں نے مہک سے پوچھا
“پتہ نہیں عفان میں دوسرے ریک پر کچھ کپڑے دیکھ رہی تھی۔۔۔کامران کی کال آ رہی تھی اور شاپ میں سگنل نہیں آ رہے تھے اس لئے میں اس سے بات کرنے شاپ سے باہر چلی گئ ۔۔۔۔ ماہم اس کونے کی طرف گئ تھی پھر چیخنے چلانے لگی ۔۔۔میں کب سے اس سے پوچھ رہی ہوں کہ کیا ہوا ہے مگر یہ بتا ہی نہیں رہی بس روئے جا رہی ہے ۔۔۔مہک خود بھی کافی پریشان تھی
میرے پوچھنے پر بھی ماہم نے کچھ نہیں بتایا ۔۔۔۔۔
بس گھر جانے کی ضد کرنے لگی ۔۔۔۔۔وہ بری طرح بد حواس ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔سانس بھی لمبے لمبے بھر رہی تھی
“مجھے تمہاری طعبیت ٹھیک نہیں لگ رہی چلو تمہیں ڈاکٹر پر لے چلو
“نہیں بس مجھے گھر لے جاؤں عفان ۔۔۔”
“او کے گھر لے چلتا ہوں مگر تمہیں ہوا کیا ہے “
“مجھے خالہ کے پاس جانا ہے عفان “۔۔۔۔حد سے زیادہ پریشان ہونے پر اسے بس مما کے گلے لگ کر ہی چین ملتا تھا میں اسے تھامے گاڑی تک لیکر آیا ۔۔۔۔گاڑی میں بیٹھایا مہک پیچھے بیٹھ گئ گھر جا کر ماہم مما کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی مما اسکے اس طرح رونے پر بوکھلا سی گئیں تھیں۔۔۔۔۔مما کے لاکھ پوچھنے پر بھی اس نے لب کشائی نہیں کی بس روتی رہی میں آرام کے غرض سے اسے اوپر کمرےیں لے آیا
کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نے دروازہ بند کیا
“اب بتاؤں کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔۔۔”میں نے ذرا سختی سے پوچھا
“عفان ۔۔۔کامران آیا تھا شاپ پر ۔۔۔۔اس نے مجھ سے بد تمیزی کی ہے “
پھر وہی جمعلہ ۔۔۔۔میں مشتعل ہونے لگا تھا۔۔۔ماہم کو جواب دیے بغیر ۔میں نے پاپا کو کال کی اسپیکر بھی آن کر دیا اور کامران کا پوچھنے لگا
“وہ نیچے ورکر کے پاس ہے صبح سے آڈر پورا کروا رہا ہے ۔۔۔کیوں کیا ہوا عفان
“پاپا کیا کامران کچھ دیر پہلے فیکٹری سے باہر گیا تھا ۔۔۔۔
“نہیں اسے تو ایک منٹ کی فرصت نہیں تھی آج ۔۔۔لنچ بھی اس نے نیچے ہی کیا تھا میں خود بھی لنچ کے بعد ہی اوپر آیا ہوں ۔۔۔۔۔
“او کے”
میں نے فون بند کر دیا ۔۔۔پھر کامران کو کال کر کے اسپیکر آن ہی رکھا پیچھے مشنوں کی آوازیں آ رہی۔ تھیں ۔۔۔۔اسکے پیچھے اسقدر شور تھا کہ وہ بات بھی نہیں کر پا رہا تھا
“عفان میں تم سے اوپر روم میں جا کر بات کرتا ہوں صبح سے آرڈر کے چکر میں گزر گیا ہے ۔۔۔۔ یہاں شور بہت ہے اور سگنل بھی نہیں آ رہے “۔۔۔۔کامران کا فون بند ہو گیا ۔
“جھوٹ۔ بول رہا ہے یہ ۔۔۔۔یہ آیا تھا عفان”ماہم نے فوراسے کامران کی بات کی تردید کر دی
۔۔۔ میں نے سپر وائز صفدر صاحب کا نمبر ملایا جو پورا وقت نیچے ورکرز کے ساتھ ہی ہوتا تھا ۔۔۔
اس سے پوچھا کہ کامران کیا کچھ دیر کے لئے کہیں باہر نکلا تھا ۔۔۔۔اس نےبھی یہی کہا کہ وہ فیکٹری میں ہے ۔۔۔۔اور صبح سے کہیں نہیں گیا
پھر میں نے استفہامیہ نظروں سے ماہم کو دیکھا ۔۔۔
“کامران جھوٹ بول رہا ہے ۔۔۔میں نے مان لیا ماہی ۔۔۔کیا پاپا بھی جھوٹ بولیں گئے ۔۔۔۔یا وہ صفدر صاحب بھی جھوٹ بول رہے تھے ۔۔۔۔اگر وہ شاپ پر آیا تو تمہارے ساتھ کھلے عام بد تمیزی کیسے کر سکتا ہے وہاں اور بھی تو لوگ تھے سب سے بڑی بات مہک وہاں موجود تھی ۔۔۔۔کس نے دیکھا اسے یہ سب کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔جس وقت تم چلا رہی تھی اسوقت مہک کامران سے فون پر بات کر رہی تھی ۔۔بیک وقت وہ یہ دو کام کیسے کر سکتا ہے
“تم سمجھ رہے ہو میں جھوٹ بول رہی ہوں ۔۔۔”ماہم مجھے استفہامیہ نظروں سے دیکھنے لگی
“میں نہیں جانتا ۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا ہے۔۔۔” میں نے بیڈ پر بیٹھ کر اپنا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا۔۔۔مجھے واقع کچھ بھی سمجھ نہیں ا رہا تھا ۔۔۔۔ماہم رونے لگی تھی میں۔ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔۔۔
“عفان میں سچ کہہ رہی ہوں ۔۔۔۔وہ آیا تھا ۔۔”
“اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔اب پریشان مت ہو میں کچھ کرتا ہوں ۔۔۔۔تمہیں پتہ ہے نا کہ پریشان ہونا ٹھیک نہیں ہے تمہارے لئے” اس کا بی پی بھی آج کل کچھ ہائی رہنے لگا تھا ڈاکٹر نے بھی ٹینشن لینے سے منع کیا تھا ۔۔۔میں نے ماہم کو تو بہلا کر سلا دیا مگر خود پریشان ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔میں نے پھر سے کامران کو دوبارہ نوٹ کرنا شروع کر دیا مگر وہ ایک پل کے لئے بھی ماہم کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا بس اپنے کام سے کام رکھتا تھا ۔۔۔۔جہاں ماہم ہوتی وہ خود ہی وہاں سے اٹھ کر چلا جاتا ۔۔۔ ۔دوسری طرف ماہم کی باتیں ۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔مسلہ آخر تھا کہاں ۔۔۔۔کچھ دن بعد رات کو پھر مجھے چیخنے کی آوازیں آنے لگیں ۔۔۔میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا برابر میں ماہم غائب تھی۔۔۔۔۔میں فورا سے اٹھ بیٹھا۔۔۔۔ماہم کی چیخنے کی آوازیں نیچے سے آ رہی تھیں ۔۔۔۔۔میں بد حواس سا ہو گیا ۔۔۔۔اپنا لحاف اتار کر تیزی سے کمرے سے نکل کر سیڑیاں اترنے لگا ۔۔۔ماہم کی آوازیں کچن سے آ رہیں تھیں ۔۔۔۔۔لیکن کچن کی لائٹ بند تھی میں کچن کی لائٹ کھولی۔۔۔۔ماہم وہیں کھڑی آنکھیں بند کیے چلا رہی تھی ۔۔۔۔میں نے ماہم کو دونوں بازوں سے پکڑا مگر وہ ڈر کر اپنا آپ مجھ سے چھڑوانے لگی ۔۔۔۔
“چھوڑو ۔مجھے ورنہ میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گئ ۔۔۔”وہ بند آنکھوں سے مجھے دھکلنے لگی ۔۔اپنا آپ مجھ سے چھڑوانے لگی ۔۔۔۔
“ماہم ۔۔کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔۔۔۔”میری آوز سن کر اس نے آنکھیں کھولیں ۔۔مجھے دیکھ کر میرے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگی اسکے ہاتھ برف کی سل کی طرح ٹھنڈے تھے چہرا اور گردن پسینے سے شرابور ۔۔
“ع۔۔۔ف۔۔۔ان۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔۔کا۔۔۔۔مر۔۔۔ان ۔۔۔۔۔”وہ بلک بلک کر رونے لگی ۔۔۔۔۔اسکی حالت پر مجھے ترس آ رہا تھا ۔۔۔ماہم کے چیخنے کی آواز پر مہک اور پاپا مما بھی کچن میں۔ پہنچ کے تھے ۔۔۔۔
“عفان وہ ۔۔۔۔۔مجھے کہیں کا نہیں چھوڑے گا ۔۔۔۔۔تم کیوں نہیں سمجھ رہے ہو ۔۔۔۔کیوں ۔۔۔”میرے ساتھ لگی رو رہی تھی ۔۔۔۔پورا وجود اس کا لرز رہا تھا ۔۔۔۔
“کیا ہوا ہے عفان ۔۔۔۔بٹیاں کو ۔۔۔۔”پاپا میرے قریب آئے ۔۔۔۔ماہم مجھ سے پیچھے ہٹ کر پاپا کے کندھے کے ساتھ لگ کر رونے لگی ۔۔۔۔۔
“مہک بھی ماہم کے قریب آ گئ ۔۔۔
“کیا ہوا ہے ماہم ۔۔۔۔۔”مہک ماہم کا کندھا سہلاتے ہوئے پوچھنے لگی
“کامران کہاں ہے بھابی ۔۔۔۔بولائیں اسے۔۔۔۔”میں نے سخت لہجے سے پوچھا۔۔۔۔۔
“عفان وہ تو پچھلے دو گھنٹوں۔ سے اپنے دوستوں میں گیا ہوا ہے ابھی لوٹ کر آیا ہی نہیں ہے۔۔۔۔”
“کیا مطلب۔۔۔۔ وہ گھر پر نہیں ہے؟ “مجھے حیرت ہوئی
“نہیں۔۔۔۔شاید اب آنے ہی والا ہو گا ۔۔۔۔مگر تم کیوں پوچھ رہے ہو ۔۔۔۔۔ماہم کو کیا ہوا ہے “مہک کو شاید میرا سوال بے تکا لگا تھا ۔۔۔۔۔کچھ دیر میں ہی کامران کی گاڑی کا ہارن بجا ۔۔۔۔پھر مہک کے موبائل پر کال آنے لگی ۔۔۔
“کامران کی ہے ۔”۔۔مہک نے یہ کہہ کر فون کان کو لگایا ۔۔
میں نے مہک سے فون چھین کر اپنے کان پر لگا لیا ۔۔۔
“مہک میں گھر کے مین گیٹ پر ہوں ۔۔۔۔کرہم بابا سو چکے ہوں گئے آ کر دروازہ کھولو “کامران کا لہجہ نارمل تھا ۔۔۔میں نے فون بند کیا
“آپ جائیں جا کر دروازہ کھولیں” ۔۔۔میں نے مہک سے کہا وہ باہر چلی گئ ۔۔۔۔
ماہم اب بھی پاپا کے ساتھ لگی رو رہی تھی ۔۔۔۔
“پاپا مجھے استفہامیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔مہک اور کامران اکھٹے ہی کچن میں داخل ہوئے تھے ۔۔۔۔
“کیا ہوا ہے یہاں ۔۔۔۔”کامران نا فہم انداز سے بولا کامران کی آواز سن کر ماہم نے سرعت سے اپنا سر اٹھایا ۔۔۔۔پاپا سے پیچھے ہٹ کر کامران کا گریبان پکڑ لیا
“چاہتے کیا ہو تم مجھ سے ۔۔۔۔۔کیوں پیچھے پڑے ہوں میرے۔۔۔۔”ماہم چلا کر اسے پوچھنے لگی ۔۔۔وہ حیرت سے ماہم کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔
“میں ۔۔۔۔میں نے کیا کیا ہے “
“تم نے ۔میری زندگی اجیرن بنا دی ہے ۔۔۔۔شرٹ کیسے بدل لی تم نے ۔۔۔۔۔۔۔۔کون سا نیا کھیل کھیل رہے ہو میرے ساتھ ۔۔”ماہم ہذیانی سے کیفیت بول رہی تھی
“کیا پاگل پن ہے ماہم پیچھے ہٹو مجھ سے “کامران اپنا گریبان ماہم سے چھڑوانے لگا ۔۔۔میں بھی ماہم کے قریب آ گیا ۔۔۔ ٫مگر اس پر تو شاید کوئی جنون سوار تھا ۔۔۔
“میں نے تمہاری شرٹ پھاڑ دی تھی ۔۔۔۔کہاں وہ شرٹ ۔۔۔۔میں نے نوچا تھا تمہیں ۔۔۔۔تم ہوتے کون ہو مجھے چھونے والے ۔۔۔میرے قریب آنے والے ۔۔۔۔اتارو اسے میں تمہارا اصل روپ سب کو دیکھاوں” ۔۔۔۔ماہم کامران کی شرٹ کے بٹن کھولنے لگی ۔۔۔۔میں نے ماہم کے ہاتھ سے کامران کی شرٹ چھڑوائی ۔۔۔
“پاگل ہو گی ہے کیا ۔۔۔یہ ۔۔۔کیا بہکی بہکی باتیں کر رہی ہو ۔۔۔۔میں تو ابھی دو گھنٹے بعد آیا ہوں ۔۔۔۔”کامران بھی غصے سے بولا ۔۔۔
“چھوڑو مجھے عفان ۔۔۔مجھے اسکی شرٹ اتارنے دو ۔۔”۔۔ماہم اپنا آپ مجھ سے چھڑوا رہی تھی ۔۔۔
“ماہم چپ ہو جاوں چلو یہاں سے ۔۔۔۔”مجھے لگا شاید وہ اپنے حواس کھو بیٹھی ہے ۔۔۔میں نےدونوں ہاتھوں سے اسے پکڑ رکھا تھا مگر وہ میرے قابو سے باہر ہو رہی تھی
“عفان مجھے چھوڑ دو مجھے اسکی شرٹ اتارنی ہے ۔۔۔”اسکی بات اور جارحانہ پن پر میں نے ماہم کو بری طرح جھنجھوڑ دیا
“کیا بکواس کر رہی ہو ۔۔۔۔ہوا کیا ہے تمہیں۔۔۔۔ہوش میں آوں ماہم “میں غصے سے بھبک کر بولا
“نہیں عفان مجھے چھوڑو ۔۔۔مجھے اسکی شرٹ “
“ماہم” ۔۔۔۔میرا ہاتھ ماہم پر اٹھا ہی تھا کہ کامران نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔۔
“کیا کر رہے تم عفان ۔۔۔پاگل ہو گئے ہو ۔۔۔۔ہاتھ اٹھاؤں گئے ماہم پر “وہ بھی غصے سے چلا کر بولا
“پاپا نے مجھے پیچھے کیا اور ماہم کو اپنے قریب کر لیا ۔۔۔۔
“عفان ۔۔۔تم دیکھ نہیں۔ رہے اسکی حالت ۔۔۔۔اپنے حواس میں نہیں ہے وہ اور تم۔۔۔۔”پاپا بھی اشتعال میں آ گئے ۔۔۔۔
“تو کیا کروں پاپا ۔۔۔۔نا جانے ہو گیا ہے اسے “
“ایک منٹ مجھے کوئی بتائے گا کہ ہوا کیا ہے “۔۔۔۔
کامران مجھ سے پوچھنے لگا میں کیا وجہ بتاتا ۔۔۔۔بات کا کوئی سرا میرے پاس نہیں تھا ۔۔۔
“کامران تم اپنی شرٹ اتارو “پاپا نے کامران سے کہا
“مگر پاپا ہوا کیا ہے “
“جو میں کہہ رہا ہوں تم وہ کرو “پاپا کے حتمی لہجے پر کامران نے کندھے اچکائے اور اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا مگر اسکے جسم پر کہیں بھی کسی قسم کے نشان نہیں تھے ۔۔۔۔ماہم بھی اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔
“ماہم بٹیاں ۔۔۔اب بتاؤں کیا ہوا تھا ۔۔۔۔”
“پاپا اس نے بد تمیزی کرنے کی کوشش کی ہے “بس یہ ایک ہی جمعلہ وہ بولتی تھی ہر بار ڈرنے کے بعد
“۔۔۔۔م۔۔۔میں ۔۔۔۔نے ۔۔۔۔خود کو بچانے کے لیے اسکی شرٹ کو پھاڑ دیا تھا اسے نوچا بھی تھا ۔۔۔اس نے پنک شرٹ پہنی تھی ۔۔۔۔۔اس سے پوچھو اس نے کہاں پھنکی ہے وہ ۔۔۔۔۔”
“نہیں ماہم کامران توصبح یہی شرٹ پہن کر گیا تھا اور وہ کیوں کرے گا ایسا تمہارے ساتھ ۔۔۔۔”مہک نے اسکی بات کی ترید کر دی ۔۔۔۔۔
“جھوٹ ۔۔۔۔جھوٹ ہے یہ “ماہم بھبک کر بولی اور کامران کے پاس آکر اسکے سینے پر ہی ہاتھ پھیرنے لگی وہ ایک دم سے پیچھے ہٹ گیا
“کہاں ہیں میرے ناخنوں کے نشان کیسے چھپا سکتے ہو تم ۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ وہ پھر کامران کے قریب جاتی میں نے ماہم کا بازو پکڑ کر اپنی جانب کھینچا
“ماہم ۔۔۔فار گاڈسیک چپ ہو جاؤں ۔۔۔کچھ نہیں سننا ہے مجھے بند کرو اپنا پا گل پن ۔۔۔”میں غصےسےپھنکار کربولا ۔۔۔۔
ماہم مما کے پاس چلی گئ
“مما ۔۔۔میں سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔۔۔میں نے خود بہت بری طرح نوچا تھا اسے “وہ رونے لگی تھی مما بے حد پریشان تھیں
“اچھا تم آؤں میرے ساتھ آرام کرو ۔۔۔”مما نے ماہم
کو اپنے ساتھ لگایا ۔۔۔اور اسے اپنے کمرے میں لے گئیں میں وہی کچن میں رکھی کرسی پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔ماہم کاپاگل پن میرے حواس چھننے لگا تھا ۔۔۔نا جانے ہو کیا گیا تھا اسے
“عفان تم آرام کرو ۔۔۔ماہم تمہاری ماں کے پاس سو جائے گی ۔میں اوپر ماہم کے کمرے سو جاؤں گا ۔۔۔پاپا بھی کافی پریشان تھے کچن سے باہر نکل گئے ۔۔۔ماہم بھی چلی گئ ۔۔۔البتہ کامران وہیں۔ کھڑا تھا میرے برابر والی کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
“کیا بات ہے عفان ۔۔مجھے بتاؤں ۔۔۔۔ہو سکتا ہے میں تمہاری کچھ مدد کر دوں ۔۔۔”میں نے سر اٹھا کر کامران کی طرف دیکھا وہاں مجھے ایسا کچھ نظر نہیں آیا کہ میں اس پر شک کر سکوں
“کچھ نہیں ۔۔۔۔ہو جائے گی ٹھیک “میں بھلا اسے کیا وجہ بتاتا ۔۔۔
“او کے ۔۔۔ٹیک اڑ ایزی اگر میری مدد کی ضرورت ہو تو مجھے بتانا ۔۔۔۔”میرے کندھے کو تھپتھپا کر وہ بھی چلا گیا میں کافی دیر وہیں سر پکڑ کر بیٹھا رہا۔۔۔پھر اپنے کمرے آکر بھی کافی دیر ماہم کے بارے میں ہی سوچتا رہا ۔۔۔۔۔نا جانے کیا ہوا تھا اسے ۔۔۔۔کیوں ایسا کر رہی تھی ۔۔۔۔۔صبح میں آفس نہیں گیا تھا اٹھا بھی لیٹ تھا۔۔۔۔۔سر میں بھی درد سا محسوس ہو رہا میں نیچے لان میں آیا تو کامران مہک مما پاپا کے پاس لاونج میں ہی بیٹھے تھے۔۔۔۔مجھے دیکھ کر کامران نے مجھے اپنے پاس بیٹھنے کے لئے۔ کہا۔۔۔۔میں خاموشی سے اس کے برابر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔بات پاپا نے شروع کی۔۔۔۔
“عفان ۔۔۔۔ماہم کی یہ حالت کب سے ہے۔۔۔”
“بس چند دنوں سے ۔۔۔۔۔بار بار ڈر جاتی ہے ۔۔۔۔اور بس ایک ہی جمعلہ بولتی ہے۔۔۔۔۔میں خود سمجھ نہیں پا رہا ہوں ۔۔۔۔
“کیا کہتی ہے وہ “اس بار کامران نے پوچھا اب اسے اب کیا بتاتا ۔۔۔۔
“چھوڑو اس بات کو “
“عفان میں جانتا ہوں میں نے ماضی میں بہت غلط رویہ کیا ہے سب کے ساتھ ۔۔۔۔مگر باخدا اب میرے دل میں ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔جو کچھ رات کو ہوا میں خود ماہم کے لئے پریشان ہوں ۔۔۔۔وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں۔ تھی ۔۔۔۔اور اس کنڈیشن میں ایسا ہونا نقصان دہ ہے ۔۔۔۔”کامران متفکر لگ رہا تھا کہیں سے بھی یہ نہیں لگ رہا تھا کہ وہ ڈرامہ رچا رہا ہو
” یہ میں بھی جانتا ہوں ۔۔۔ہر بار ایسے ہی ریایکٹ کرتی ہے ۔۔۔۔کیا کروں میں ۔۔۔۔”میں خود پریشان تھا اس لئے اکتائے ہوئے بولا
“دیکھو۔۔۔۔میرا ایک دوست ہے اسکا بھائی ۔۔۔۔بہت اچھا سایکٹریس ہے۔۔۔۔تم ایک بار اسکے پاس لے جاؤں ماہم کو ٹھیک ہو جائے گی ۔۔۔۔۔اگر اس معاملے کو یونہی چھوڑ دو گئے تو اس کا کیس بگڑ بھی سکتا ہے ۔۔۔۔”
“کامران ٹھیک کہہ رہا ہے عفان ۔۔۔۔بٹیا کا علاج ۔فورا ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔”پاپا نے بھی کامران کی بات کی تائید کی
