Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 60 (Part 2)
Rate this Novel
Tadbeer Episode 60 (Part 2)
Tadbeer by Umme Hani
ماہم گھر آ کر بھی پریشان اور کھوئی کھوئی رہنے لگی تھی کئ کئی دن میں اسکی آواز سننے کو بھی ترس جاتا تھا ۔۔۔۔چپ چاپ ڈنر پر وہ بس چند نوالے ہی لیتی اور آٹھ جاتی ۔۔۔۔۔مما مہک پاپا سب کہہ کہہ کر تھک جاتے مگر وہ کچھ بھی کھانے کو تیار ہی نہیں ہوتی ۔۔۔۔آج بھی وہ سب مارے بندھے چند لقمے لیکر اٹھنے لگی تو پاپا نے ماہم کو اٹھنے سے منع کر دیا ۔۔۔۔
پاپا اپنی کرسی سے اٹھ کر ماہم کے برابر بیٹھ گئے ۔۔۔۔
“تمہیں۔ پتہ ہے تم میری کتنی پیاری بیٹی ہو ۔۔۔۔ماہم عفان کاغم کوئی چھوٹا صدمہ نہیں ہے ہمارے لئے ۔۔۔۔۔۔لیکن پھر بھی ہم بھوکے نہیں رہ سکتے ۔۔۔۔تم جانتی ہم سب کتنی تکلیف سےگزر رہیں ہیں ۔۔۔اور تمہارے اس طرح بھوکے رہنے سے تمہیں کچھ ہو گیا تو کیا یہ برداشت ہو گا ہم سے ۔”۔۔۔ پاپا کی آنکھوں میں آنسوں چمکنے لگے یہ بات وہ بڑے ضبط سے کررہے تھے ماہم کے بھی آنسوں چھلکنے لگے پاپا نے ماہم کی پلیٹ میں سالن ڈالا اور روٹی کا نوالہ بنا کر اسکے ہونٹوں کے قریب کر دیا
“آج میں اپنی بٹیا کو اپنے ہاتھ سے کھلاؤ گا “۔۔۔۔ماہم رونے لگی
“بس کر دو بٹیا ۔۔۔۔چپ کرو اور شاباش منہ کھولو ۔”۔۔۔۔ماہم نے اپنے آنسوں صاف کیے اور پاپا کے ہاتھ سے کھانا کھانے لگی ۔۔۔۔میں نے بھی اطمینان کا سانس لیا کہ کم از کم وہ کچھ کھانے تو لگی ہے ۔۔۔۔۔مگر اب بھی وہ بس خاموش ہی رہتی تھی
رات کو میں نے مہک سے کہا
“مہک تم ماہم سے ذیادہ سے ذیادہ باتیں کیا کرو ۔۔۔۔اسے بہلانے کی کوشش کرو
کامران تمہیں۔ کیا لگتا ہے مجھ اس کی فکر نہیں ہے ۔۔۔۔۔کیا میں تمہارے کہنے کی منتظر ہوں ۔۔۔۔پورا دن میں اس سے بات کرنے کی بہلانے کوشش میں لگی رہتی ہوں مگر اسکی چپ کا قفل ٹوٹتا ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔میری ہزار باتوں پر بس اچھا ۔۔۔ٹھیک ہے ۔۔۔بس اسکے علاؤہ کچھ نہیں کہتی ۔۔۔۔۔مہک خود بھی کافی رنجیدہ سی ہو رہی تھی ۔۔۔
“مجھے نہیں معلوم تھا کہ ماہم اس حد تک عفان کو چاہتی ہے ۔۔۔۔میں تو سمجھتی تھی صرف وہی ماہم کے لئے دیوانہ ہے ۔۔۔۔۔مگر نہیں کامران ماہم کو توعفان کے علاؤہ کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے یہاں تک کہ عمر کی بھی پروا نہیں ہوتی ۔۔۔۔حالانکہ پہلے جتنی وہ عمر کے لئے کریزی تھی ۔۔۔۔میں سمجھتی تھی ماہم کو عمر سے ذیادہ کسی سے محبت نہیں ہے ۔۔۔۔سچ میں ماہم کی ساری توجہ کا مرکز صرف عفان ہی ہے ۔۔۔پورادن وہ گھڑی کی سوئیاں دیکھتی رہتی ہے جیسے ہی پانچ بجتے ہیں ہاسپٹل چلی جاتی ہے ۔۔۔۔عمر بھوکا ہے یا اسے سونا ہے ۔۔۔عمر نے کپڑے پہنے نہیں پہنے وہ نہایا کہ نہیں ماہم کو کوئی ہوش نہیں ہوتا” ۔۔۔۔۔۔۔یہ سب سن کر میں اور بے چین سا ہو گیا ۔۔۔۔دو مہینہ گزر گیا تھا مگر ماہم کاسکوت ویسے ہی برقرار تھا ۔۔۔۔۔میں نے کچھ ہی دنوں بعد مہک کے ساتھ آئسکریم باہر کھانے کا پلان بنایا ۔۔۔میں چاہتا تھا کہ ماہم بھی ہمارے ساتھ جائے ۔۔۔شاید اس کادل کچھ بہل جائے ۔۔۔۔
“مہک ماہم کو بولو کہ وہ اور عمر بھی ساتھ چلیں اچھا ہے تھوڑی آوٹنگ ہو جائے گی ۔۔۔ ۔”
“ہاں کامران ٹھیک کہہ رہے ہو تم ۔۔۔۔میں ابھی ماہم کو کہتی ہوں کے تیار ہو جائے ۔۔”۔۔مہک اٹھ کر چلی گئ میں نے مشعل کو گود میں لیا اور کمرے سے نکل کر لاونج میں آ گیا ۔۔۔کچھ ہی دیر بعد مہک مایوس سی عمر کو گود میں لئے نیچے اتر رہی تھی ۔۔۔ میں سمجھ گیا کہ ماہم نے انکار کر دیا ہو گا ۔۔۔۔میں اور مہک چلے گئے عمر کو میں نے اپنے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا لیا ۔۔۔۔نا جانے کیوں آج میں اپنی پسند کے آئسکریم پارلر نہیں گیا بلکہ ایک عام سے آئسکریم پارلر پر گاڑی روک دی ۔۔۔عفان اکثر ماہم کو یہیں لیکر آتا تھا ۔۔۔۔
ایک لڑکا پارلر سے نکل کر ہماری گاڑی کے پاس کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔اور آئسکریم کے فلیور بتانے لگا میں نے گردن گھما کر مہک کی طرف دیکھ کر پوچھا
“مہک تم کونسا سا فلیور لوگی “
“ونیلا ۔۔۔۔مشعل ونیلا شوق سے کھاتی ہے میں بھی اس کے ساتھ یہی کھا لونگی “
“اور میرا عمر کون سی شوق سے کھاتا ہے “۔۔۔میں نے عمر کو ہلکا سا پیار سے بینچ کر کہا عمر گاڑی کے اسٹیرنگ کو پکڑے گھومانے کی نا کام سی کوشش کررہا تھا ۔۔۔مہک ہسنے لگی
“عمر کو تو اپنے مما پاپا کی طرح چوکلیٹ ہی پسند ہے “۔۔۔۔
میں نے ایک گہری سانس لی اور اس لڑکے کی طرف دیکھ کر اسے آڈر دینے لگا
“ایک کپ ونیلا اور ایک چوکلیٹ “
“تم آئسکریم نہیں کھاوں گئے کامران “
“کھاؤں گا عمر اتنی زیادہ تو نہیں۔ کھا سکتا “
“لیکن تمہیں تو چوکلیٹ ویسے ہی سخت نا پسند ہے”
“عمر کو تو پسند ہے نا آج میں اپنے بیٹے کی خاطر چوکلیٹ بھی کھا لوں گا ۔۔”۔۔میں اب بھی پیار سے عمر کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا عمر اب اسٹیرنگ چھوڑ کر گاڑی کی چابی کو کھنچ رہا تھا
“عمر بلکل عفان کی طرح ہے ۔۔۔۔ہے نا کامران “۔۔۔مہک عمر کو دلچسپی سے دیکھتے ہوئے بولی
“کیسے کہہ سکتی ہو تم یہ “
“دیکھو نا عمر کو کتنی دلچسپی سے گاڑی کی ایک ایک چیز دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔مشعل کے ساتھ کھلونے کھیلتے ہوئے بھی جب مشعل سے کوئی کھولنا ٹوٹ جاتا ہے تو عمر اسکے ہاتھ سے لیکر اسے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے ۔۔۔مما کل ہی انہیں دیکھتے ہوئے بتا رہیں تھیں کی عفان بھی ایسا ہی کرتا تھا ۔۔۔۔ٹوٹی ہوئی چیزوں کو جوڑنے میں لگا رہتا تھا ۔۔۔مجھے تو لگتا ہے یہ بڑا ہو کر اپنے پاپا کی طرح انجینر ہی بنے گا “
“جی نہیں عمر کو میں ڈاکٹر اور بہت بڑاسرجن بناؤں گا ” ۔۔۔میرے برجستہ فیصلے پر مہک مجھے تعجب سے دیکھ کر بولی
“یہ فیصلہ تم کیسے کر سکتے ہو اللہ لمبی عمر دے عفان کو انشاللہ وہ ٹھیک ہو جائے گا تو اپنے بچے کا خود ہی ڈسیجن لے گا “
“ایسا کوئی امکان تو نظر نہیں آ رہا ۔۔۔۔دو مہنے گزر گئے ڈاکٹرز کو کوئی پروگریس نہیں نظر آ رہی عفان کے معاملے میں” ۔۔۔۔
“کومہ پیشنٹ اچانک ہی اٹھ بیٹھے ہیں” ۔۔۔۔۔مہک نے کہا
“میں تم سے بحث نہیں کرنا چاہتا ۔”۔۔۔ ۔میں نے بل ہے کیااورایک چوکلیٹ آئسکریم پیک کروائی اور گھر پر آ گئے مشعل اور عمر واپسی تک سوچکے تھے مہک سیدھا کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔میں نے عمر کو بیڈ پر لیٹایا اور خود باہر لاؤنچ میں آ گیا۔ ۔۔۔۔ائسکریم سامنے ٹیبل پر رکھی تھی ۔۔۔۔کچن میں پانی کے گرنے کی آواز پر سمجھ گیا کہ ماہم کچن میں ہی ہو گی اس لئے آئسکریم لے کر وہیں کچن میں آ گیا ماہم سنک کے پاس کھڑی برتن دھو رہی تھی اسکے لمبے سلکی بالوں کو اس نے کیچر میں جکڑ رکھا تھا ۔۔۔۔نا جانے کس جذبے کے تحت میں خود کو روک نہیں پایا اسکے بلکل عقب میں بہت قریب جا کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔ماہم فورا پلٹی تو میں بوکھلا کر پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔۔اسکی آنکھوں میں غصہ دیکھ کر میں کچھ سنبھل گیا اس نے سنک کا نل بند کیا اور باہر جانے لگی مگر میں نے جلدی ہی اسکی طرف آئسکریم بڑھا دی
“ماہم میں یہ آئسکریم تمھارے لئے لایا ہوں۔۔۔۔۔چوکلیٹ فلیور ہے ۔۔۔۔۔ تمہیں پسند ہے نا ۔۔۔۔لو “
“لیکن میں نے تو کبھی آپ سے آئسکریم کی فرمائش نہیں کی ۔۔۔۔اور مجھے کھانی بھی نہیں ہے “
“مجھے معلوم ہے کہ تم شوق سے کھاتی ہو ۔۔۔۔میں بھی وہیں سے لایا ہوں جہاں سے عفان لاتا تھا ۔۔۔ کیا عفان کو بھی تم یوں انکار کر دیتی “
“آپ عفان نہیں ہیں ۔۔۔۔۔اس سے تو میں چھین کر بھی کھا سکتی تھی تو میرا حق تھا ۔۔۔۔پلیز اپنا مقابلہ آج کے بعد عفان سے ہر گز مت کیجیے گا ۔۔۔۔۔اور آئندہ میرے لئے ایسے تکلفات کی زحمت مت کجیے گا۔۔”۔ماہم
تو دو ٹوک لہجے سے کہہ کر کچن سے چلی گئ لیکن
مجھے اپنی تضحیک سی محسوس ہوئی ۔۔۔اس واقع کے چند دن بعد ہی رات کے وقت مہک کچن میں کام میں مصروف تھی مجھے کافی کی طلب ہوئی تو میں بھی کچن میں آ گیا ۔۔۔۔مہک سے کافی کا کہہ کر وہیں اسکے پاس کھڑا ہو گیا ۔۔۔ذراسی آہٹ ہوئی تو سمجھ گیا کہ ماہم کچن کے دروازے کے پاس ہے اس لئے میں جان بوجھ کر بلند آواز سے مہک کو کہنے لگا
“مہک تم کیا کر وقت گھر کے کاموں میں جتی رہتی ہو ۔۔۔ماہم سے کہا کرو ہاتھ بٹایا کرے تمہارا۔۔۔۔”
“کامران تم اچھی طرح جانتے ہو وہ کس ذہنی اذیت سے گزر رہی ہے اگر ہم ہی اس کا ساتھ نہیں دیں گئے تو کون دے گا”
“تکلیف میں ہم سب ہیں مگر پھر بھی اپنے اپنے کام سر انجام دے رہے ہیں ۔۔۔۔مشعل کے ساتھ ساتھ عمر کی ذمہ داری بھی تم پر آگئ ہے ۔۔۔۔مما تو اب مصلے سے ہی نہیں اٹھتی بس ایک تم ہی پورا دن گھن چکر بنی پھرتی ہو حلیہ دیکھو اپنا کیا بنا رکھا ہے تم نے ۔۔۔۔کہیں سے بھی پرانی والی مہک نہیں لگتی ۔۔۔۔بہرحال کل سے ماہم کو کہو کہ تمہاری ہیلپ کیا کرے ۔۔۔۔”
“کیا ہو گیا ہے تمہیں کامران ۔۔۔۔میں نہیں کہہ سکتی ماہم کو “
“مت کہو میں کہہ دونگا ” ۔۔۔۔۔۔یہ سب باتیں میں اس لئے کہیں تا کہ ماہم خود کو گھر میں مصروف کرے اور عفان کے لئے ہر وقت روتی نا رہے ۔۔۔۔پھر مہک کے بد مزہ کھانے کھا کھا کر میں بیزار ہو چکا تھا ۔۔۔
******………********……..*********………….
ماہم باہر کھڑی سب کچھ سن رہی تھی اس سے پہلے کہ مہک اور کامران باہر نکل کر اسے دیکھ لیتے وہ واپس اوپر اپنے کمرے میں آ گئے ۔۔۔۔بیڈ پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ کر سوچنے لگی
بات تو ٹھیک ہی ہے کون کب تک کسی کو سنبھالتا ہے ۔۔۔۔مہک آج خاموش ہے مگر کل کو کہہ بھی سکتی ہے اگلے روز ماہم نے کچن کا رخ کیا مہک نے منع بھی کیا مگر وہ پھر بھی کو پوچھنے لگی کہ آج کیا پکے گا ۔۔۔۔مہک کچن کے ٹیبل پر کٹنگ بورڈ پر پیاز رکھے کاٹ رہی تھی
“کامران تو کوفتے بنانے کا کہہ کر گیا ہے مگر مجھے تو بلکل آئیڈیا نہیں ہے ۔۔۔۔سوچ رہی تھی رانی سے مدد لے لوں ۔۔۔”
“میں بنا دیتی ہوں ۔۔۔۔آپ مشعل کو دیکھیں ۔۔۔۔بھوک لگی ہے اسے ۔۔۔کب سے مما مما کی رٹ لگا رہی ہے” ۔۔۔۔۔ما نے مہک کے ہاتھ سے بھری اور پیاز پکڑتے ہوئے کہا
ہاں اسی کے لئے سیرلیک بنانے ہی آئی مگر “۔۔۔ مہک جلدی سے ہاتھ دھو کر سیرلیک لئے باہر چلی گئ ماہم رات کے ڈنر کے لئے فریج سے قیمہ نکالنے لگی ۔۔۔۔
*******………..********……….***********
ڈنر پر کھانے کی خوشبوں سے ہی میں سمجھ گیا کہ کھانا یقینا ماہم نے بنایا ہے ۔۔۔۔آج میں نے سیر ہو کر کھانا کھایا تھا ۔۔۔۔اور کھانے کی تعریف بھی کی
“مہک آج تو تم نے کمال ہی کر دیا بہت مزے کے کوفتے بنائے ہیں پتہ ہے یہ میرے فیورٹ ہیں ۔۔۔۔پیٹ بھر چکا ہے مگر دل نہیں بھرا” ۔۔۔حالانکہ میں جانتا تھا کہ کھانا کس کے ہاتھ کا ہے مہک ہسنے لگی
“کامران یہ میں نے نہیں بنائے ماہم نے بنائے ہیں” ۔۔۔۔۔مگر ماہم نظریں جھکائے بس اپنا کھانا کھاتی رہی ۔۔۔۔
“چلو اچھا ہے بیٹا کہ تم نے خود کو بزی رکھنے کے بارے سوچا “۔۔۔۔۔پاپا نے کہا
مما بس چپ ہی رہیں
رات کو میں دیر تک عمر سے کھیلتا رہتا وہ مجھ سے کافی مانوس ہو گیا تھا ۔۔۔۔ماہم کچن سے فارغ ہو کر لاونج میں آئی ۔۔۔۔اسوقت لاونج میں صرف میں اور عمر ہی تھے
“عمر کے سونے کاٹائم ہو گیا ہے اسے مجھے دیدیں” ۔۔۔۔ماہم کا وہی سرد اور بے تاثر لہجہ تھا ۔۔۔۔
“اگر تمہیں زحمت نا ہو تو ایک کپ کافی مل سکتی ہے ۔”۔۔ میری بے وقت کی فرمائش پر اسے نے صاف منع کر دیا
“سوری میں بہت تھک چکی ہوں اور اب صرف سونا چاہتی ہوں ۔”۔۔۔میری گود سے وہ عمر کو لیکر اوپر چلی گئ ۔۔۔۔
“کیا ثابت کرنا چاہتی ہو تم ۔۔۔۔ مجھ سے ایسا بیگانگی سا رویہ رکھو گی تو میں پیچھے ہٹ جاؤں گا نہیں ماہم ۔۔۔تمہیں پانے کے لئے تو میں نے جان لینے سے بھی گریز نہیں کیا ۔۔۔۔تمہیں کیسے چھوڑ سکتا ہوں “۔۔۔۔میرے اندر کا شیطان پھر سے جاگ اٹھا تھا ۔۔۔۔۔اب میں جان بوجھ کر سب کے سامنے بھی ماہم کو اپنے کام بول دیتا تھا ۔۔۔۔مہک کمرے میں مشعل کے کپڑے چینج کر رہی تھی میں اپنی شرٹ باہر لے آیاماہم مما کے ساتھ بیٹھی تھی عمر پاپا کی گود میں تھا
“ماہم پلیز اگر تمہیں زحمت نا ہو تو میری شرٹ آئرن کر دو ۔۔۔۔وہ ایکچلی مہک مشعل کو چینج کروارہی ہے” ۔۔۔۔ اب ممااور پاپا کے سامنے وہ مجھے منع تو کر نہیں سکتی تھی اس لئے مجھ سے میری شرٹ لیکر استری کرنے لگی ۔۔۔۔ناشتے کے دوران میں نے مہک سے کہا
“مہک آج ڈنر میں بریانی بنا لینا “حالانکہ میں اچھی طرح جانتا تھا کہ مہک کو بریانی بنانی نہیں آتی
لیکن کامران مجھے بریانی بنانی نہیں آتی ۔۔۔۔ہاں پلاؤ آتا ہے کہو تو وہ بنا دوں
“ارے ماہم کو آتی ہے نا ۔۔۔۔ماہم کے ساتھ ملکر بنا لینا ۔۔۔۔”
“ہاں یہ ٹھیک ہے”۔۔۔۔مہک فوراسے مان گئ ماہم بس نظریں جھکائے اپنا کھانا کھاتی رہی
رات کو بھی میں اور مہک مشعل اور عمر کو لئے لاونج میں میں بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔ماہم کچن سے باہر آئی ۔۔۔۔عمر کو پکڑنے لگی تو میں نے ماہم کو مخاطب کیا
“ماہم پلیز ایک کپ کافی بنا دو” ۔۔۔ میری بات پر مہک فورا سے بول پڑی
“کامران میں بنا دیتی ہوں” ۔۔۔۔
“ارے نہیں ایک کپ کافی میں کونسا سی مشقت لگتی ہے ۔۔۔۔۔تم بیٹھوں میرے پاس پورا دن کاموں میں لگی رہتی ہو ۔۔۔۔کتنے نازک اور خوبصورت ہاتھ ہوتے تھے تمہارے اب دیکھو کیسے روکھے سے ہو گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اپنے گھر میں تو تم نے کبھی اٹھ کر پانی بھی خود نہیں پیا تھا اور یہاں کتنا کچھ کرتی ہو سب کے لئے “۔۔۔۔میں نے جان بوجھ کر مہک کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر کہا حالانکہ مہک ایک بولڈ قسم کی لڑکی تھی شرمانا لجانا اسے آتا ہی نہیں تھا مگر شاید ماہم کے سامنے میری ایسی حرکت پر کچھ تذبذب کا شکار ہو گئ پھر میں نے کچھ جتاتے ہوئے ماہم کی طرف دیکھ کر کہا
“اور ماہم کو عادت ہے ان سب کاموں کی ۔۔۔۔جاوں ماہم “۔۔۔میرے لہجے میں ہلکاسا تحمکانہ طنز تھا ۔۔۔ماہم خاموشی سے کچن میں چلی گئ
“کامران یہ کونسا طریقہ ہے ۔۔۔۔وہ کوئی نوکر تو نہیں ہے تمہاری۔۔۔۔۔ پہلے ہی وہ اتنی ڈس ہارٹ ہے ۔۔۔۔اسے محبت اور توجہ کی ضرورت ہے اور تم “۔۔۔۔مہک کی بات میں نے ہاتھ کے اشارے سے بیچ میں ہی روک دی
“یہ سب تو ہم سب لوگ دو مہینے سے کر رہے ہیں کیا فرق پڑا ماہم کے رویے میں ۔۔۔۔وہ زندگی کی طرف لوٹنا ہی نہیں چاہتی ۔۔۔۔جب تک وہ فارغ رہے گئ بس عفان کوسوچتی رہے گی روتی رہے گی ۔۔۔نا اسے عمر کی کوئی پروا ہے نا اپنی اور نا اپنی زمہ داریوں کی فکر ہے ۔۔۔۔کیا تم نہیں کرتی اسکے بدلے کے سارے کام ۔۔۔۔۔۔کیاحرج ہے کہ اگر وہ ایک کپ کافی بنا دے ۔۔۔۔تمہیں میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ماہم پر ذمہ داری ڈالو ۔۔۔۔لیکن تم ہو کہ” ۔۔۔۔میں نے سخت لہجے سے اپنی بات جاری رکھی
۔۔۔”۔اب اگر تم نہیں کہو گی تو مجھے تو یہ سب کرنا ہی ہے ۔۔۔۔بھائی میرا ہاسپٹل میں زندگی کی آخری سانسیں گن رہا اور ماہم یہاں پل پل اس روگ میں گھل رہی ہے ۔۔۔۔میں تو نہیں دیکھ سکتا اسے ایسے۔۔۔۔ دل دکھتا ہے میرا ۔۔۔۔۔جتناوہ مصروف رہے گی مہک۔۔۔۔ اتنا ہی عفان کو کم یاد کرے گی اور یہی بہتر ہے اس کے لئے ۔”۔۔۔مہک کو میں اپنی بات سے قائل کر چکا تھا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ماہم نے ایک کپ کافی میرے سامنے ٹیبل پر رکھ دی ۔۔۔عمر کو گود میں لیا ۔۔۔۔اور متاسفانہ نظروں سے مجھے دیکھ کر بولی
“عفان کی یاد میرے لئے روگ نہیں ہے ۔۔۔۔۔جس سے میں گھل گھل کر مر جاؤں ۔۔۔۔اسکی یاد تو مجھے تقویت بخشتی ہے۔۔۔۔۔ زندہ رہنے کاحوصلہ دیتی ہے ۔۔۔۔اور یہ بھی غلط ہے کام کی مصروفیت سے میں اسکی یاد سے غافل ہو جاؤں گی۔۔۔۔اسکی یادیں میری سانسوں کی روانگی کے ساتھ چلتی رہتی ہیں شاید سانسوں کے ساتھ ہی تھمے ۔۔۔۔۔رہ گئ کام کی بات ۔۔۔۔توواقع مجھے عادت ہے سب کاموں کی ان سب چیزوں سے مجھے فرق نہیں پڑتا” ۔۔۔۔ماہم مجھے اندر تک شرمسار اور ایک نئ اذیت دے کر اوپر چلی گئ۔۔۔
**********…………**********
عمر اب بیٹھنے لگا تھا مشعل بھی کشن کے سہارے بیٹھ جاتی تھی عمر کے مقابلے میں وہ صحتمند تھی اس لئے بنا کش کے سہارے ڈولنے لگتی تھی ۔۔۔۔میں نے بہت سے کھلونے عمر اور مشعل کو لا کر دیے تھے وہ دونوں ہی لاونج کے فرش پر بیٹھے کھلونوں سے کھیل رہے تھے ۔۔ ۔۔۔۔۔میں ٹی وی پر اسپوٹ چینل دیکھ رہا تھا پاپا مما اب ذیادہ تر کمرے میں رہتے تھے ۔۔۔پاپا بیمار رہنے لگے اور مما بھی کافی ویک ہوگئیں تھیں ۔۔۔۔۔عمر نے مشعل کے چہرے پر ناخن سے اسقدر زور سے نوچا کہ وہ چیخ کر رونے لگی ۔۔۔میں فورا ان دونوں کے پاس آگیا ۔۔۔عمر نے بری طرح سے مشعل کا چہرا نوچ دیا تھا اس کے ناخن اب بھی مشعل کی گال پر تھے ناخنوں کی کھرونچ سے مشعل کے نرم گدار گالوں سے خون رسنے لگا ۔۔۔میں بہت نرمی سے عمر کی سخت گرفت سے مشعل کو چھڑوانے لگا ۔۔۔مشعل کے چلا کر رونے پر ماہم ور مہک کچن سے باہر آ گئیں
ماہم نے عمر کو تھپڑ مار کر گود میں اٹھا لیا ۔۔۔۔میں اسکی اس افتاد پر تلملا کر رہ گیانا جانے ماہم کو کیاسوجی جو عمر کے منہ پر زور سے تھپڑ دے ماراوہ بلبلا اٹھا ۔۔۔۔۔ میں ماہم کو دیکھتا ہی رہ گیا ماہم
نے عمر کو گود میں لیا اور کھڑی ہو گئ ۔۔۔مشعل کو مہک نے اٹھا لیا اور چپ کروانے لگی اس سے پہلے کے ماہم عمر کو اوپر کمرے میں لے جاتی میں نے ماہم سے عمر کو چھین لیا
“تھپڑ کیوں مارا ہے تم نے عمر کو ۔۔۔۔ہمت کیسے ہوئی تمہاری عمر پر ہاتھ اٹھانے کی ” ۔۔۔میں غصے سے بھپر سا گیا
“عمر نے بھی تو مشعل کے “
“سو واٹ ماہم ۔۔۔۔تم ہوتی کون ہو اس پر ہاتھ اٹھانے والی ۔۔۔بچہ ہے وہ اسے اتنی سمجھ نہیں ہے “۔۔۔۔۔۔میں نے ماہم کو بولنے کی نہیں دیا ۔۔۔عمر بدستور رویے جا رہا تھا ماہم کی طرف ہی لپک رہا تھا میرے چیخنے پر مما پاپا بھی آپ اپنے کمرے باہر آ گئے
“آئندہ عمر پر ہاتھ مت اٹھانا ورنہ” ۔۔۔۔میں ماہم کو آنکھیں دیکھاتے ہوئے تنبیہی کرتے ہوئے بولا اور عمر کو اپنے کمرے میں لے جانے لگا
جس بے ساختگی سے عمر رویا تھا مجھے لگا تھپڑ عمر کے منہ پر نہیں میرے دل پر لگا ہے ۔۔۔۔۔ماہم پر غصہ آنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ عمر کو میں کمرے میں لے گیا ماہم کے انگلیاں عمر کے نازک سے گال پر چھپ کر رہےہیں تھیں
“میرا بیٹا میری جان ۔۔۔۔چپ ہو جاؤ عمر “۔یں اسے ک۔رے میں لے گیا
*******………********……….*******…….****
کامران کا ماہم پر اسطرح سے بھڑکنا ماہم کی سمجھ سے باہر تھا وہ تو یوں عمر کو بہلا رہا تھا جیسے وہ اسکی سگی اولاد ہو اور مشعل ۔۔۔ مشعل کو تو اس نے پلٹ کر دیکھا بھی نہیں وہ اب بھی مہک کی گود میں رو رہی تھی ۔۔۔۔ماہم مہک کے پاس چلی آئی
“لائیں بھابی مجھے دیں مشعل کو ۔۔۔کیسے خون رس رہا ہے اس کے ۔۔۔۔
“کیا ہوا تھا ماہم ۔”۔۔۔۔رضا صاحب نے ماہم سے پوچھا پھر مشعل کو بھی مہک کی گود سے لی لیا
“کچھ نہیں پاپا بچے ہیں کہاں سمجھ ہے انہیں عمر نے مشعل کو ناخن سے نوچ دیا تو ماہم نے عمر کو تھپڑ مار دیا ۔۔۔۔بس کامران کا تو آپ کو پتہ ہی ہے نا ۔۔۔ایسے بی بھڑک جاتے ہیں ۔”۔۔۔۔مہک نے مختصر بتایا ۔۔۔۔
“ماہم بٹیا یہ کیا بچپنا ہے بچے تو یونہی لڑ لڑ کر ہی بڑے ہوتے ہیں ۔۔۔۔پھر وہ نا سمجھ سا بچہ ہے اسے کیا خبر کے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں مگر تم تو سمجھداری کا ثبوت دیتی” ۔۔۔۔رضا صاحب نے پیار سے سرزش کرتے ہوئے مشعل کو بھی چپ کرانے لگے ۔۔۔۔
“دادا کی جان دادا کی گڑیا ۔۔۔چوٹ لگ گئ تھیں ۔۔۔لاو دادا دوا لگائیں گئے اپنی گڑیا کہ ابھی آرام آ جائے گا ۔۔۔مہک بٹیا مجھے ٹیوب دو میں مشعل کے لگا دوں “۔۔۔۔رضا صاحب کے سینے سے لگی مشعل اب سسک رہی تھی ۔۔۔۔۔مہک جلدی سے کمرے میں چلی گئ ۔۔کچھ دیر بعد ہی دوا لے آئی ۔۔۔۔ماہم کا جب غصہ کم ہوا تو عمر کی فکر ستانے لگی
“مہک عمر کو مجھے پکڑا دو ۔۔۔کامران سے کہاں چپ ہو گا “۔۔صفیہ بیگم نے مہک سے کہا عمر کی رونے آوازیں ابھی بھی باہر تک آ رہیں تھیں ۔۔۔ماہم کون سا سکون سے تھی دل تو اس کا بھی تڑپ رہا تھا
“کامران نہیں دیں گئے مما ۔۔۔۔آپ رہنے دیں کروالیں گئے اسے چپ ۔۔۔۔ماہم تم نے بھی حد ہی کر دی عمر کا گال دیکھ کر آ رہی ہوں میں سرخ ہو رہا ہے “۔۔۔۔مہک نے بھی ماہم سے خفگی سے کہا ۔۔۔۔ ماہم خاموشی سے کچن میں ا گئ ۔۔۔کچھ دیر کھڑی آنسوں بہاتی رہی ۔۔۔۔
“مجھے کونسا چین مل رہا ہے اپنے ہی بچے کو مار کر ۔۔۔۔لیکن میں بھی مجبور تھی کل کو کوئی یہ نا سوچے کہ میں اپنے بیٹے کی غلطی پر چشم پوشی کر رہی ہوں ۔۔۔کامران کا کیا ہے آج عمر کا ہمدرد بن گیا کل کو یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میں عمر کو بدتمیز بنا رہی ہوں اسکی غلطی پر سے کچھ نہیں کہتی ۔۔۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آتا میں کیا کرو کیا نا کروں ۔۔۔عفان تم کب ہوش میں آؤں گئے تم تھے تو مجھے کبھی فکر ہی نہیں ہوئی تھی ان سب باتوں کی ۔۔۔۔تم سب کچھ خود سنبھال لیتے تھے ۔۔۔رشتوں کو کیسے لیکر چلنا ہے ۔۔۔۔۔یہ تم مجھے بتاتے تھے ۔۔۔۔۔اٹھ جاؤں نا عفان تمہاری ماہی کو تمہارے بغیر چلنے کی عادت ہی نہیں ہے ۔۔۔۔ماہم روتے ہوئے مشعل کا فیڈر بنانے لگی۔۔۔باہر آئی تو رضا صاحب نے سوئی ہوئی مشعل کو ماہم کی گود میں دیدیا ۔۔۔۔ماہم صوفے پر بیٹھ کر اسے فیڈر پلانے لگی ۔۔۔مشعل بار بار سسک رہی تھی ۔۔۔۔ماہم اسکے گال سہلانے لگی مگر دل عمر کی طرف ہی لگ ہو تھا ۔۔۔۔رو رو کر کر عمر کا بھی گلہ خشک ہو چکا ہو گا ۔۔۔۔پیاس لگی ہو گی اسے
