Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 17
Rate this Novel
Tadbeer Episode 17
Tadbeer by Umme Hani
چار دن تک پولیس اپنی تگ ودو میں لگی رہی ۔۔۔۔۔کراچی کے مختلف علاقوں میں سخت چیکنگ بھی کی گئ ۔۔۔۔مگر کامران تو یوں غائب تھا جیسے اس شہر سے ہی روپوش ہو چکا ہو ۔۔۔میں نے دوبارہ ماہم سے ملنے اور بات کرنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔۔۔۔ وہ بھی اپنے کمرے تک محدود رہی ۔۔۔۔کھانا بھی رانی اسے اسکے کمرے میں۔ دے آتی تھی ۔۔۔۔۔کامران کو لیکر ۔اب تو پاپا کی پریشانی میں بھی اضافہ ہو گیا تھا ۔۔۔کامران نے جو کچھ بھی کیا تھاوہ فراموش کے قابل تو نہیں تھا مگر اتنے دن غائب رہنا بنا کسی اطلاع کے باعث تشویش تو تھا پھر ماں باپ کچھ بھی کر لیں بس ایک نفرت اپنی اولاد سے نہیں کر سکتے ۔۔۔۔مما بھی وقتا فوقتاً روتی رہتیں تھیں ۔۔۔۔۔۔میں آفس بھی نہیں جا پا رہا تھا گھر کا ماحول سوگوار سا ہو کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔رات کا کھانا بھی سب یونہی مارے بندھے ہی کھایا گیا ۔۔۔۔مما راشد سے کھانے کے برتن اٹھوا رہی۔ تھیں میں اور پاپا ابھی ٹیبل پر ہی موجود تھے جب کامران پٹیوں میں بندھا لنگڑاتا ہوا چوکیدار کے کندھے پر بازو رکھے انکے سہارے سے اندر داخل ہوا ۔۔۔ راشد جو کھانے کی پلٹیں اٹھا رہا تھا وہیں چھوڑ کر کامران کو دیکھنے لگا میں۔ اور پاپا بھی کامران کو دیکھ کر چونک کر کھڑے ہو گئے ۔۔۔۔۔مما کی جب کامران پر نظر پڑی تو ہونق سی ہو کر کامران کی طرف بڑھیں اسے ساتھ لگائے رونے لگیں لیکن پاپا ماتھے پر سلوٹیں ڈالے خاموشی سے اس کا جائزہ لے رہے تھے
“کہا چلے گئے تھے تم کامران اور یہ سب کیسے ہوا ۔۔”۔مما کافی دیر رونے کہ بعد کچھ بولنے کے قبل ہوئی تھیں
“مما ۔”۔۔۔کامران نے بولنے کے لئے لب کشائی ہی تھی کہ پاپا کی کڑک دار آواز پر ماحول میں سکوت سا چھا گیا
“صفیہ اندر جاؤں تم” ۔۔۔۔۔وہ گرج کر بولے
“لیکن رضا آپ دیکھ نہیں رہے اسکی حالت ۔۔مجھے اس سے بات تو ۔۔۔۔۔”
“میں نے کہا صفیہ اندر جاؤ تم “۔۔۔۔پاپا نے انگلی اٹھا کر تنبیہہ کی
“رضا۔۔”۔۔۔مما نے کمزور سا احتجاج کیا
“اندر جاؤ صفیہ” ۔۔۔پاپا مشتعل ہو گئے تو مما روتے ہوئے لاونج میں چلی گئیں ۔۔۔۔کامران کا رنگ فق ہو گیا چور بنا وہیں کرسی پر بیٹھ گیا پاپا کی گھورتی اور خشمگین نظروں میں دیکھنے سے وہ گریز ہی کر رہا تھا۔۔۔
“پاپا میرا ایکسڈینٹ ہو گیا تھا اتنے دونوں سے میں بے ہوشی کی حالت میں تھا اس لئے آپ سے کنٹیکٹ ہی نہیں کر پایا” ۔۔۔۔۔کامران کی آواز اسکا ساتھ نہیں دے رہی تھی پھر اسکی جھکی نظریں اس کے جھوٹ کی چغلی کھا رہیں تھیں ۔۔۔۔نا اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار تھے نا ہی بات میں کچھ سچائی ۔۔۔۔۔
“کونسے ہاسپٹل میں ایڈمٹ تھے تم کامران ۔۔۔۔ذرا سوچ کر بتانا کیونکہ کراچی کا ایسا کوئی ہاسپٹل نہیں جہاں ہم نے تمہیں تلاش نا کیا ہو” ۔۔۔۔پاپا کا لہجہ زہر خند تھا
“پاپا جہاں میرا ایکسڈینٹ ہوا تھا وہ ایک چھوٹا سا علاقہ تھا ۔۔۔۔مجھے ہوش نہیں تھا مگر مقامی لوگوں نے قریب ہی کسی چھوٹے سے ہاسپٹل میں ایڈمٹ کرو دیا تھا مجھے ۔۔۔۔میں لے جاؤں گا آپ کو وہاں ۔۔۔۔۔کامران کی بھوندی سی دلیل کا پاپا پر خاطر خواہ اثر نہیں ہوا تھا
“پہلے تو تم مجھے اپنے اس دوست سے ملوں جس کے ایکسڈنٹ کی خبر پر تم پاگل سے ہو کر یہاں سے دفع ہو گئے تھے ۔۔۔۔کیونکہ جن کو ہم جانتے ہیں انہیں تو خود کسی ایکسڈنٹ کی خبر نہیں تھی ۔۔۔۔۔”
“پاپا اسے آپ نہیں جانتے ۔”۔۔۔۔وہ مسلسل نظریں چرا رہا تھا
“جب عفان نے تم سے کہا تھا کہ وہ خود ہینڈل کر لےگا سب کچھ تو پھر تم کیوں گئے “
“مجھے کیا خبر تھی کہ میں خود حادثے کا شکار ہو جاؤں گا۔۔۔۔۔”
‘بکواس بند کرو اپنی اور دفع ہو جاؤں یہاں سے۔۔۔۔تمہارے جھوٹے حیلے بہانے مجھے بیوقوف نہیں بنا سکتے ۔۔۔۔نکلو یہاں سے کامران میرا نا تم سے کوئی واسطہ ہے نا تعلق۔۔”۔۔پاپا غرا کر بولے تو کامران کے چہرے کی ہوائیاں اڑنے لگیں
“پاپا۔۔”۔۔۔کامران منت بھرے لہجے سے بولا اسی اثنا میں ناجانے ماہم کو کیسے کامران کی آمد کی اطلاع ہو گئ وہ سیڑیاں پھلانگتی ہوئی تیزی سے ڈائنگ روم میں آئی کامران کو یوں پٹیوں میں دیکھ کر وہ گھبرا گئ ۔۔۔۔
کامران بھی ماہم کو دیکھ کر بد حواس سا ہو کر کھڑا ہو گیا
“کامی” ۔۔۔۔ماہم اسکے کندھے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔میں تو یہ دیکھ کر اپنی جگہ سے ہل کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔غیر متوقع بات اگر یوں اچانک ہو جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔۔۔بوکھلا تو کامران بھی گیا تھا شاید ایسی توقع اسے بھی ماہم سے نہیں تھی
“کہاں چلے گئے تھے تم کامی ۔۔۔۔۔کیوں۔۔۔۔کیوں گئے تھے مجھے چھوڑ کر” ۔۔۔۔ماہم اب بھی اسکے ساتھ لگی روتے ہوئے پوچھ رہی تھی ۔۔۔
“اب آ گیا ہوں نا میں کہیں نہیں جاؤں گا ۔۔۔چپ ہو جاؤں” ۔۔۔۔کامران اسکے بالوں کو سہلاتے ہوئے بولا
میری رگوں میں خون ابلنے لگا ۔۔۔۔میرے دماغ کی طنابیں کھنچنے لگی ۔۔۔جی چاہا ماہم کو کامران سے الگ کر دوں میری آنکھیں اس وقت خون اگل رہیں تھیں میں دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ کر میں خود کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرنے لگا ماہم کا یوں کامران کے ساتھ لگ کر رونا مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔حالانکہ یہ سب چند لمحوں کا کھیل تھا
پاپا نے فورا ماہم کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب کھنچ کر اسے کامران سے الگ کر دیا تھا
“کامران جاؤ یہاں سے اور اب کبھی لوٹ کر واپس مت آنا ” ۔۔۔۔پاپا سختی سے بولے
“یہ کیا کہہ رہے ہیں انکل آپ “۔۔۔۔۔ماہم ششدد سی اپنے آنسوں پونچتے ہوئے بولی
“ٹھیک کہہ رہا ہوں میں ۔۔۔اس سے اب ہمارا کوئی رشتہ نہیں ۔۔۔۔اسی دن مر گیا تھا یہ ہمارے لئے جب ہماری عزت مٹی میں روندھ کر چلا گیا تھا” ۔۔۔۔ پاپا چلا کر بولے تو ماہم بھی کانپ گئ
“ایسے مت کہیں پاپا کہاں جاؤں گا میں “۔۔۔ کامران مظلومیت کی تصویر بنا ہوا تھا ملتجی لہجے میں بولا
“نہیں انکل آپ ایسا نہیں کر سکتے ۔۔۔۔”
“کیوں نہیں کر سکتا ۔۔۔۔اور تم کیوں بے جا حمایت کر رہی ہو اس کی ۔۔۔۔تمہیں تو اسکے منہ پر تھوکنا چاہیے تھا ۔”۔۔۔پاپا نے میرے دل کی بات کی تھی مگر وہ ماہم تھی حد سے زیادہ احمق اور بیوقوف ۔۔۔۔
“نہیں انکل۔۔۔۔ آپ معاف کر دیں کامی کو ۔۔۔۔دیکھیں اسقدر زخمی ہیں وہ”
“تم چپ رہو ماہم ۔۔۔۔اسکی وجہ سے بہت ذلت اٹھائی ہے میں نے ۔۔۔۔۔اب اور نہیں اٹھا سکتا ۔۔۔۔۔جب اسے عفان نے منع کیا تھا تب اس نے کیوں نہیں سوچا۔۔۔۔۔کیا اس کا دوست مجھ سے تم سے ہم سب سے ذیادہ اہم تھا اس کے لئے۔۔۔۔مجھ سے کہتا میں خود اسکے دوست کا علاج کرواتا ۔۔۔۔مگر اس وقت اسے میری پروا ہونی چاہیے تھی تمہاری عزت کی فکر ہونی چاہیے تھی ۔۔۔۔میری عزت وقار کو خاک میں ملا کے رکھ دیا اس نے میرا برسوں کا کمایا ہوا نام اور مقام مٹی میں روند کر رکھ دیا ۔۔۔۔اب یہ یہاں تو ہر گز نہیں رہے گا “۔۔۔۔پاپا کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا چہرے کی شکنیں بڑھنے لگیں تھی آنکھوں میں وحشت غصہ غم نا جانے کیا کچھ تھا ۔۔۔۔پھر کامران کی طرف دیکھ کر پھنکارے
“میں نہیں جانتا کامران سچ کیا ہے اور جاننا بھی نہیں چاہتا ۔۔۔دفع ہو جاؤں یہاں سے ورنہ گارڈ سے کہہ کر دھکے دلوا کر باہر نکلوا گا “۔۔۔۔۔پاپا اسقدر بلند آواز سے بولے کہ میرا بھی دل دھل گیا ۔۔۔۔
“پاپا معاف کر دیں مجھے ۔میں سب کے سامنے معافی مانگنے کو تیار ہوں مگر یہ سزا مت دیں مجھے ۔۔۔”۔کامران ہاتھ جوڑے شرمساری سے بولا
“تمہاری معافی… گزرا وقت اور کھوئی عزت واپس نہیں دلوا سکتی۔۔۔نکل جاؤں یہاں سے ۔۔۔۔راشد بلاؤ کریم کو اندر اور نکالو اس بد بخت کو باہر “۔۔۔۔۔راشد جو ڈائنگ روم کی دہلیز پر کھڑا یہ سب تماشہ دیکھ رہا تھا سر ہلاتے ہوئے باہر چلا گیا
“پاپا۔”۔۔۔۔ کامران بوکھلا سا گیا
ماہم پاپا کے سامنے ہاتھ جوڑے رونے لگی
“نہیں انکل خدا کے لئے ایسا مت کریں ۔۔۔۔”
“ماہم مجھے مجبور مت کرو کہ میں تم پر بھی سختی کرو۔۔۔۔جاو اپنی خالہ کے پاس “۔۔۔۔۔پاپا ماہم پربھی برہم ہونے لگے
“انکل ۔۔۔۔انکل پلیز آپ مجھے اپنی بیٹی مانتے ہیں تو آپ انکار نہیں کریں “
‘ماہم ۔”۔۔۔۔پاپا نے آنکھیں دیکھاتے ہوئے ماہم کو گھرکا
“انکل میں نے آج تک آپ سے کچھ نہیں مانگا ۔۔۔۔آپ نے میرے لئے جو فیصلہ کیا میں نے بنا کسی سوال کے آپ کی ہر بات پر سر جھکایا ہے ۔۔۔۔بس اب آپ کامی سے کچھ نہیں کہیں گئے ۔۔۔وہ کہیں نہیں جائیں گئے ۔”۔۔۔ماہم مسلسل ہاتھ جوڑے بول رہی تھی مما بھی ڈائنگ روم میں۔ آ گئیں وہ منہ سے تو کچھ نہیں بولی۔ مگر انکے آنسوں میں بھی یہی التجا تھی آنسوں تو کامران کے بھی بہہ رہے تھے ۔۔۔۔وہ گردن جھکائے کھڑا تھا بس ایک میں تھا جو ہاتھ باندھے تماشائی بنا کھڑا تھا میں ایک لفظ بھی کامران کی حمایت میں نہیں کہا میں نے
“اگر تم میری چند باتیں مزید ماننے کا وعدہ کرو تو میں” ۔۔۔۔۔۔پاپا کی بات بیچ میں اچک کر ماہم فی الفور مان گئ
“جی انکل چند کیوں میں آپکی ہر بات مانو گی بس آپ میری یہ ایک بات مان لیں ۔۔۔کامی کو معاف کر دیں” ۔۔۔۔۔وہ اب بھی سسک رہی تھی ۔۔۔۔اس کا کامران کے لئے یوں تڑپنا اسکےلئے بے قرار ہونا ۔۔۔۔چیخ چیخ کر بتا رہا تھا کہ وہ کتنا چاہتی ہے اسے ۔۔۔۔۔۔مجھے کامران دنیا کا خوش نصیب شخص لگ رہا تھا۔۔۔۔کیونکہ میری دنیا ماہم ہی تو تھی جو اس پر پوری طرح سے نچھاور ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔میرے لئے تو کامران قابل رشک تھا ۔۔۔۔۔کاش کبھی ماہم میرے لئے بھی ایسی بیقراری دیکھائے ۔۔۔۔۔میں نے ٹھنڈی گہری سانس لی دل کی ایک مدہوم سی خواہش بھی آہ بن کر سانس کے ساتھ ہوا میں تحلیل ہو گئ۔۔۔۔۔۔۔
پاپا اب نرم پڑ چکے تھے ۔۔۔۔۔ماہم کے دونوں جوڑے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لئے
‘ماہم تمہارے ہاتھ میرے ہاتھ میں ہیں تو کیا اسے میں تمہارا وعدہ سمجھو۔”
“جی ۔”۔۔۔۔ماہم کے اعتراف پر پاپا نے ماہم کے ہاتھ چھوڑ دیے ۔۔۔۔
“ٹھیک ہے تم اب جاؤں اپنے کمرے میں” ۔۔۔۔۔۔پاپا کے لہجے میں سنجیدگی تھی ماہم اپنے آنسوں پونچ کر مسکرانے لگی ۔۔۔۔۔۔۔
“تھنک یو سو مچ انکل” ۔۔۔۔ماہم نے باہر جانے سے پہلے ایک اچٹتی سی نظر کامران پر ڈالی وہ بھی اسے تشکر آمیز نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ماہم باہر چلی گئ۔ تو پاپا کامران کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے دونوں ہاتھ باندھ کر متاسفانہ نظروں سے اسے گھورتے ہوئے بولے
“کیسا محسوس ہو رہا ہے کامران جس لڑکی کو تم نے جیتے جی مار دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی آج وہی تمہاری معافی کا سبب بنی ہے ۔۔۔۔۔تمہیں تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے ۔'”۔۔کامران کی گردن مزید جھک گئ ۔۔۔۔وہ سچ میں شرمسار تھا
“جاوں شکل گم کرو اپنی میرے سامنے سے۔۔۔۔راشد اسے ” ۔۔۔۔پاپا کی بات ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ کامران تیزی سے چلتا ہوا سیڑیاں پھلانگتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا
پاپا مما اور میں کامران کو حیرت سے دیکھتے رہ گئے کہاں تو وہ کریم بابا کے ہمراہ انکے بوڑھے ناتواں کندھے کے سہارے لنگڑاتا ہو اندر آیا تھا پاپا تو راشد سے کہنے والے تھے کہ کامران کو کمرے تک چھوڑ آئے مگر یہاں تو ماجرہ ہی اور تھا ۔۔۔۔پاپا نے مما کی طرف دیکھ کر گھرکا
“دیکھ رہی ہو صفیہ اپنے لاڈلے کے ڈرامے ۔۔۔۔گدھا احمق آلو کا پٹھا ۔”۔۔۔۔پاپا غصے سے بڑبڑتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے ۔۔۔۔مما بھی انکے پیچھے چل دیں
میں اب بھی اسی شش و پنج میں مبتلہ تھا کہ کامران نے ایسا کیا کیوں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
*****………
رات کو ماہم کے کمرے پر دستک ہوئی ۔۔۔۔ماہم سونے کے لئے لیٹی ہی تھی ۔۔۔مگر دستک پر اٹھ کر دروازہ کھولا ۔۔۔سامنے رضا صاحب اور صفیہ بیگم کو دیکھ کر وہ کچھ متحیر سی ہو گئ اسوقت وہ کبھی اس کے کمرے میں نہیں آئے تھے ۔۔۔
“بٹیا ۔۔۔اندر آنے کی اجازت نہیں دو گی ۔۔۔۔ ماہم کو دروازے کے سامنے کھڑا دیکھ کر رضا صاحب نے کہا ماہم فورا سے پیچھے ہٹ گئ صفیہ بیگم تو بیڈ پر بیٹھ گئیں اور رضا صاحب کرسی پر ماہم بھی صفیہ بیگم کے برابر میں بیٹھ گئ ۔۔ماہم تذبذب کا شکار تھی ۔۔۔نا جانے اب کون سا نیا امتحان تھا اس کے لئے
“دیکھوں بٹیا میں نے تمہیں کبھی بھی صفیہ کی بھانجی نہیں سمجھا ۔۔۔۔ہمیشہ اپنی بیٹی سمجھا ہے۔۔۔ اور تم میری بیٹی ہی ہو ۔۔۔۔ہو نا۔۔۔۔۔”رضاصاحب کے استفسار پر ماہم نے اثبات میں سر ہلا دیا
“میں نے تمہارا باپ بن کر اس دن تمہارے لئے ایک فیصلہ کیا تھا ۔۔۔۔اور تم نے بھی میری بیٹی ہونے کا ثبوت دیا تھا ۔۔۔میں اب بھی اپنے اسی فیصلے پر قائم ہوں ۔۔۔۔عفان تمہارے لئے بہترین ہمسفر ثابت ہو گا۔۔۔۔اور
مجھے یقین ہے تم اب بھی میری بیٹی بن کر اس رشتے کو ضرور نبھاؤں گی ۔۔۔۔۔بٹیا نبھاؤ گی نا۔۔۔۔رضا صاحب کے نرم اور ملائمیت بھرے لہجے پر ماہم پتھرائی ہوئی نظروں سے ایک ٹک انہیں دیکھنے لگی ۔۔۔۔جب کافی دیر خاموشی چھائی رہی تو رضا صاحب نے ماہم کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا
“بولو نا بٹیا ۔۔۔میرا مان رکھو گی نا۔۔۔۔”رضا صاحب کی آس بھری نظروں پر ماہم کی کی گردن اور سر دونوں جھک گئے تھے ۔۔۔
‘”جی”رضا صاحب کے شفقت بھرے لہجے ۔۔۔۔اعتماد اور مان کو وہ چاہ کر بھی توڑ نہیں سکتی تھی ۔۔۔انکار کر سکتی تھی مگر کر نہیں پائی۔۔۔۔رضا صاحب مسکرانے لگے
“مجھے اپنی بیٹی سے یہی امید تھی ۔۔۔۔میں کامران کو یہاں رکھنے کے حق میں نہیں تھا ۔۔۔مگر تم نے پہلی بارمجھ سے کچھ مانگا تھا ۔۔میں۔ انکار نہیں کرسکا ۔۔۔۔جو کچھ ہو چکا ہے ماہم یہ مناسب نہیں۔ کہ تم کامران سے بات کرو ۔۔۔۔یااس کے کمرے میں جاؤں ۔۔۔یاوہ تمہارے کمرے میں آئے ۔۔۔۔۔جس دن میں نے کامران کو ایسی کوشش کرتے دیکھا ۔۔۔وہ دن کامران کا اس گھر میں آخری دن ہو گا ۔۔۔”یہ کہہ کر رضاصاحب کھڑے ہو گئے
چلو صفیہ بٹیا کو آرام کرنے دو ۔۔۔۔وہ تو چلے گئے مگر ماہم کے لئے ایک نئ آزمائش چھوڑ گئے تھے ۔۔۔جس رشتے کو وہ توڑنا چاہتی تھی سی جس نبھانے کا وعدہ وہ کے رہے تھے ۔۔۔
کیوں میں نے انکار نہیں کیا ۔۔۔کیوں نہیں۔ کہا کہ مجھے یہ سب منظور نہیں ۔۔۔۔انہوں نے مجھ سے پوچھا ہے تو عفان سے بھی پوچھیں گئے ۔۔۔وہ تو ضرور انکار کردے گا ۔۔۔۔۔
*******…………
رات بھر میں چین سے سو نہیں پایا تھا نا جانے اب میری قسمت میں کیا لکھا تھا ۔۔۔۔صبح میں آفس جانے کے لئے تیار ہو گیا پہلے ہی کامران کی وجہ سے تین دن میں غیر حاضر تھا قاسم کے ڈیڈ نے ایک بار بھی مجھے بلانے کی کوشش نہیں کی کیونکہ وہ میری پریشانی سے آگاہ تھے ۔۔۔۔پھر میں یہاں رک کر کرتا بھی کیا ۔۔۔۔۔نیچے ڈائنگ روم میں ماہم کو دیکھ کر میں ٹھٹک گیا کافی دن سے وہ ہمارے ساتھ ناشتہ نہیں کر رہی تھی اب بھی وہ ٹرے میں چاہے اور سینڈوچز تیار کر کے رکھ رہی تھی میں کرسی کھنچ کر بیٹھ گیا پاپا جب ڈائنگ میں داخل ہوئے تو مجھے تیار دیکھ کر ہلکا سا چونک گئے ماہم نے پاپا کو سلام کیا
“جیتی رہو بٹیا “۔۔۔۔پاپا نے ماہم کومسکرا کر جواب دیا اور کرسی پر بیٹھتے ہی میری طرف متوجہ ہو گئے
“عفان آفس جا رہے ہو “۔۔۔۔پاپا کے استفہام پر میں اثبات میں سر ہلا دیا
“رک جاتے کچھ دن ۔۔۔۔۔۔”
“پہلے ہی بہت دن کی چھٹی کر چکا ہوں گھر بیٹھ کر کرو گا بھی کیا ۔”۔۔۔ میں نے مدافعانہ انداز سے کہا ماہم ٹرے تیار کر چکی تھی
“یہ سب کس کے لئے ہے ماہم “۔۔۔۔پاپا نے ٹرے کی طرف آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے ماہم سے پوچھا
“وہ ۔۔۔۔انکل وہ کا۔۔۔می کے”
“یہ سب راشد کر لے جائے گا تم بیٹھو ناشتہ کرو ۔۔۔”۔پاپا کی پر شکن پیشانی دیکھ کر ماہم ٹرے چھوڑ کر مما کے برابر میں بیٹھنے لگی
Sneak peak …..for …. episode….17…….
“یہاں نہیں ماہم ادھر عفان کے برابر بیٹھو” ۔۔۔۔یہ دوسرا حکم تھا ماہم کیلئے وہ خاموشی سے آ کر میرے برابر میں بیٹھ گئ ۔۔۔۔میں سامنے رکھی بریڈ اٹھانے لگا تو پاپا نے ٹوک دیا
“تم رہنے دو عفان ۔۔۔۔آج کے بعد ناشتہ تمہیں ماہم بٹیا خود سرو کروائے گئ ۔۔۔چلو بٹیا ناشتہ دو عفان کو ۔۔۔”
“جی “۔۔۔۔ماہم نے مختصر سا جواب دیا اور سلائس پر مکھن لگانے لگی
“میں تو چاہتا تھا عفان تم کچھ دن کی چھٹیاں لے لیتے ۔۔۔۔کہیں گھومنے پھرنے چلے جاتے یار ۔۔۔بٹیا کا بھی دل بہل جاتا” ۔۔۔۔۔پاپا خوشگواری سے مسکرا کر بولے ایک لحظہ ہی میری نظروں کا تصادم ماہم کی نظروں سے ہوا اسکی آنکھوں میں حیرت تھی ۔۔۔سلائس وہ میرے پلیٹ میں رکھ چکی تھی چائے کپ میں ڈالتے ہوئے اسکے ہاتھ چند ثانیے کے لئے رکے تھے ۔۔۔۔لیکن پھر خاموشی سے چائے ڈالنے لگی
“نو پاپا ابھی تو میں بہت بزی ہوں ۔۔۔۔پھر اٹلی سے بھی بار بار میل آ رہی ہیں “۔۔۔۔۔۔میں نے سلائس کھاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔جب میں ماہم کی خواہش اور ارادے کو باخوبی جانتا تھا تو ایسی کسی خوش فہمی کو پالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔۔اس لئے خود ہی میں نے انکار کر دیا
“عفان یہ اٹلی وٹلی کا چکر چھوڑو اب ۔۔۔۔”
“لیکن پاپا مجھے تو جانا ہی تھا میں تو بس کامران کی شادی” ۔۔۔۔۔میری بات سلائس کے ساتھ میرے حلق میں ہی پھنس گئی ۔۔۔۔جلد بازی میں کچھ غلط بولتے بولتے میں رک گیا ۔۔۔آگے کہنے کو شاید کچھ بچا ہی نہیں تھا اس لئے چائے پینے لگا
“تب بات اور تھی ۔۔۔۔۔میں ہر گز یہ نہیں چاہوں گا کہ تم باہر جاب کرو اور بٹیا یہاں رہے ۔۔۔۔۔۔اور اس حق میں بھی نہیں ہوں کہ تم بٹیا کو بھی پردیس لے جاو
۔۔۔۔ میرے گھر کی رونق ہے ماہم ہے۔۔۔۔مجھے اپنا گھر سونا نہیں کرنا ۔۔۔ویسے بھی میں نے تمہاری فارم کے لئے جگہ دیکھ لی ہے ۔۔۔۔تم اپنا کاروبار یہیں سیٹ اپ کرو “
“اسکی کیا ضرورت تھی پاپا “۔۔۔۔میں نے چائے کا کپ خالی کر کے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا
“ضرورت کیوں نہیں ہے ۔۔۔۔حق بنتا ہے تمہارا اور اب تم اکیلے نہیں ہو۔۔۔۔۔میری پیاری سی بیٹی تمہارے ساتھ ہے ۔۔۔۔یہ لگی بندھی تنخواہ مجھے پسند نہیں ہے۔۔۔۔اس سے چھٹکارا حاصل کرو”
“ٹھیک ہے میں بات کرتا ہوں قاسم سے اگر وہ مان گیا تو آپ کی اسکے ڈیڈ سے میٹنگ ارینج کروا دوں گا مگر یہ تو طے ہے پاپا کے مجھے کام قاسم کے ساتھ کرنا ہے “
“تو ٹھیک ہے پھر پاٹنر شپ کر لو اپنے دوست کے ساتھ ملکر ۔۔۔۔۔”
“جی ۔۔۔۔او کے پاپا میں اب چلو ۔”۔۔۔میں کرسی پیچھے دھکیل کر کھڑا ہو گیا
“او کے پاپا۔۔۔۔ بائے مما ” ۔۔۔۔میں نے سائیڈ پر رکھا اپنا لیپ ٹاپ اور فائلز اٹھاتے ہوئے میں نے الودع کلمات کہے اور جانے لگا
‘بائے میری جان خیریت سے جاؤ ۔”۔۔۔مما پیار سے مجھے دیکھتے ہوئے بولیں
‘رکو عفان۔۔۔۔۔۔یہ کیا طریقہ ہے ۔۔۔۔چلو بیوی سے ہاتھ ملا کر جاو۔۔۔۔۔مجھے فالو نہیں کرتے کیا۔۔۔۔ تمہاری ماں سے ہاتھ ملائے بغیر میں کبھی کام پر نہیں گیا اور وہ بھی مجھے مسکرا کر رخصت کرتی ہے۔۔۔۔۔میری ترقی کی اصل وجہ تمہاری ماں کی مسکراہٹ ہے ۔۔۔اور میری ماہم کی مسکراہٹ تو صفیہ کی مسکراہٹ سے بھی پیاری ہے چلو ملاؤ ہاتھ” ۔۔۔۔ماہم نظر جھکا گئ ۔۔۔۔ اسکے چہرے کی ناگواری دیکھ کر میرا دل چاہا میں پاپا سے کہو کہ پہلے اپنی چہتی ماہم سے بھی پوچھ لیں کیا وہ بھی مجھ ہاتھ ملانا چاہتی بھی ہے کہ نہیں ۔۔۔۔۔با دل نخواستہ میں نے ہاتھ ماہم کی طرف بڑھا دیا ماہم نے جھجکتے ہوئے اپنا سرد اور لزرتا ہاتھ میرے ہاتھ میں رکھ دیا ۔۔۔میں بس چند لمحوں بعد ہی اسکا ہاتھ چھوڑ کر باہر چلا گیا ۔۔۔۔۔
************………..
“میں اٹلی نہیں جا رہا قاسم ۔۔۔۔۔”
“واٹ ۔۔۔۔سچی ۔۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔۔۔کیوں” ۔۔۔۔۔قاسم اچھنبے میں آ گیا ۔۔۔۔
“وہ ۔۔۔۔۔۔پاپا اب مجھے بھجنے پر قطعی راضی نہیں ہیں ۔۔۔ ۔۔”میں نے نظریں چرائیں
“وہ تو پہلے بھی نہیں مان رہے تھے ۔۔۔۔سیدھا سیدھا کہو نا کہ بھابی کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے ۔۔۔”۔قاسم معنی خیز ہنسی پر میں مسکرانے لگا
“چلو تم یہی سمجھ لو” ۔۔۔۔سچ بھی یہی تھا ۔۔۔۔میں اب ماہم کو چھوڑ کر کہیں بھی جانا نہیں چاہتا تھا
“یعنی میری دعائیں۔ رنگ لے آئیں” ۔۔۔۔قاسم بہت خوش تھا میرے فیصلے پر ۔۔۔ میں نے قاسم سے اپنے اگلے لائحہ عمل کے بارے میں بتایا ۔۔۔کہ مجھے اسکے ساتھ پاٹنر شپنگ کرنی ہے اور اپنی ایک الگ فارم کھولنی ہے ۔۔ قسم سے گو کہ یہ بات پہلے بھی ہو کر ختم ہوچکی تھی اس لئے کچھ تردد کے بعد قاسم اپنے ڈیڈ سے بات کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ۔۔۔۔
رات ڈنر کے بعد پاپا نے مجھے ڈرائنگ روم میں بلوایا ۔۔۔۔جب میں ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو پاپا کافی متفکر لگ رہے تھے ۔۔۔۔کمر کے پیچھے اپنے ہاتھ کیے چکر کاٹ رہے تھے ۔۔۔۔مجھے دیکھ کر مجھے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی میرے سامنے بیٹھ گئے ۔۔۔۔کچھ ثانیے تو خاموشی ہی چھائی رہی ۔۔۔۔پاپا نے سامنے رکھے سگریٹ کی ڈبیہ سے سگریٹ نکالا اور منہ میں رکھ کر لیٹر سے جلا کر باقی سگریٹ کی ڈبیہ اور لیٹر سامنے رکھے ٹیبل پر رکھ دیں
سگریٹ کا ایک لمبا کش لیکر دھواں باہر نکالتے ہوئے مجھے دیکھ کر بولے
“عفان تمہیں یاد ہو گا کہ کچھ ماہ پہلے تم نے ماہم سے شادی کی خواہش ظاہر کی تھی مگر پھر کامران کی خواہش پرمیں نے تمہاری خواہش کو پس پشت ڈال دیا تھا اور ماہم کا فیصلہ بھی کامران کے حق میں تھا ۔۔۔۔لیکن اب حالات بدل چکے ہیں ۔۔۔”
“حالات اب بھی وہیں ہیں پاپا ۔۔۔کچھ بھی تو نہیں بدلہ” ۔۔۔۔۔ہزار ضبط کے باوجود میں اپنے لہجے کی تلخی کو چھپا نہیں پایا
“اب وہ بیوی ہے تمہاری ۔۔۔۔۔یہ رشتہ ہر رشتے پر سبقت لے جاتا ہے “
“پلیز پاپا ۔۔۔۔کیا سچ میں آپ انجان ہیں یا سمجھنا ہی نہیں چاہتے اسوقت ماہم کی عزت کا سوال تھا وہ میں نے رکھ لی ۔۔۔۔میں زبردستی کا قائل نہیں ہوں ۔۔۔۔۔اگر ماہم خوش نہیں ہے تو “۔۔۔۔۔۔۔پاپانے مجھے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا
“میں تمہاری خواہش جاننا چاہتا ہوں عفان ماہم کی بات مت کرو ۔۔۔اپنی رائے بتاؤں مجھے ۔۔۔۔ماہم حد سے زیادہ معصوم ہونے ساتھ ساتھ بیوقوف اور جذباتی بھی ہے ۔۔۔اپنا اچھا برا نہیں سمجھ سکتی لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ یہ رشتہ ضرور نبھائے گئ ۔۔۔۔۔۔ماہم میرا مسلہ ہے عفان تم مجھے صرف اپنا فیصلہ سناؤں” ۔۔۔۔۔۔پاپا نے سگریٹ ایش ٹرے میں بجھا دیا ۔۔۔۔پاپا کی شکن آلود پیشانی انکی فکر کا غماز کر رہی تھی ۔۔۔۔۔میں بھی اب ماہم سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
،”مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔۔۔میں نے یہ رشتہ دل سے قبول کیا ہے لیکن پاپا “۔۔۔۔پاپ کے چہرے پر چھائی بے چینی مدہوم ہو کر ختم سی ہو گئ پاپا نے ایک اطمینان بھری سانس لی
“میں جانتا ہوں تمہیں کیا وہم ستا رہے ہیں ۔۔۔۔ دیکھوں بیٹا ۔۔۔۔ماہم اور تمہارا رشتہ بہت اہمیت کا حامل ہے ۔۔۔۔اس رشتے کو مضبوط بنانے کے لئے تمہیں ذیادہ مضبوط ہونا پڑے گا ۔۔۔۔اللہ نے مرد کو حاکم اور عورت کو محکوم بنایا ہے ۔۔۔۔مطلب وہ عورت سے ہر لحاظ سے طاقتور ہے ۔۔۔۔۔برداشت میں …صبر میں رشتے کو متوازن رکھنے میں ۔۔۔۔لیکن ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ یہ سب چیزیں ہمیشہ عورت کے دامن بھی آ گرتی ہیں ۔۔۔۔مجھے معلوم ہے کہ ابھی ماہم شاکڈ کے عالم میں ہے اور یہ سب تو فطری سی بات ہے ۔۔۔۔کامران سے اسکی شادی ہونے والی تھی ۔۔۔۔لڑکیاں اس حوالے سے کچھ زیادہ ہی خواب سجاتی ہیں اور پھر ایسا حادثہ ہو جانا ۔۔۔۔وہ یہ سب قبول نہیں کر پا رہی ۔۔۔۔۔عورت فطرتا جذباتی ہوتی ہے ۔۔۔اور ہر معاملے میں دل اور جذبات کو مقدم رکھتی ہے ماہم کا رویہ حالات کے پیش نظر غلط بھی نہیں ہے مگر اب بات اور ہے ۔۔۔۔جانتے ہو طلاق کا اختیار مرد کو کیوں دیا گیا ہے “۔۔۔۔۔میں بس پاپا کی بات غور سے سنتا رہا
“اس لئے بیٹا کہ عورت جذبات میں بہہ جاتی ہے اور مرد تدبر سے کام لیتا ہے ۔۔۔۔اور جو مرد جذبات کی رو میں یہ کام کر جاتے ہیں وہ عمر بھر پچھتاتے ہیں قرآن پاک میں اللہ نے مرد کو ہی نرمی کا حکم دیا ہے
کہ پہلے اپنی بیوی کو پیار سے سمجھاؤں نرمی سے منع کرو ۔۔۔نا مانے تو پھر ذرا سی سختی سے پھر بستر الگ کر لو اسکے بعد طلاق دینے کا حکم ہے وہ بھی اکٹھی نہیں وقفے وقفے سے کہ شاید معاملہ سلجھ جائے وہ بھی اس صورت میں اگر عورت بد کاری کرے تو ۔۔۔۔جانتے ہو اتنی وسعت اور گنجائش اس رشتے میں کیوں دی ہے اللہ نے ۔۔۔۔۔اس لیے کہ اللہ کو نکاح بہت پسند ہے ۔۔۔۔اور اپنے جائز امور میں طلاق سخت نا پسند ۔۔۔ اس لئے بار بار صلہ کا حکم دیا ہے ۔۔۔۔۔اور مرد ہی کو سمجھایا گیا ہے کہ وہ سمجھ سے کام لے ۔۔۔۔ یہ بہت گہری تدبیر ہے اللہ کی وقت کے ساتھ ساتھ تم جان جاو گئے ۔۔۔۔۔۔میں تم سے بھی ایسی ہی سمجھداری کی توقع رکھتا ہوں عفان میں نہیں چاہتا کہ تم طلاق کے بارے میں سوچو بھی۔”۔۔۔۔۔ پاپا کچھ ثانیے کے لئے چپ ہو گئے ۔۔۔۔
“میں یہ ہر گز نہیں کہو گا یہ سب بہت آسان ہے ۔۔۔مگر میں ماہم کو بھی جانتا ہوں تمہاری توجہ اور محبت اسے موم بنا دے گی ۔۔۔نکاح تو باذات خود دلوں کی ڈور کو باندھ دیتا ہے۔۔۔۔سچے رشتے ہر محبت پر بھاری ہوتے ہیں ۔۔۔اور تم دونوں اس سچے رشتے میں جڑ چکے ہو ۔۔۔۔اب جاؤں۔۔۔۔۔ ماہم تمہارے کمرے میں ہی موجود ہے ۔۔۔۔۔ ہاں وہ اپنی ماں سے منہ دیکھائی کے کنگن لے جانا”۔۔۔۔۔پاپا نے دوسرا سگریٹ جلا کر مجھے اٹھنے کا اشارہ کیا
۔۔۔۔۔میں خاموشی سے اٹھ کر مما کے کمرے میں آ گیا ۔۔۔۔مما سے کنگن لیکر اپنے کمرے کے باہر رک گیا ۔۔۔
**********……….
ماہم شام کے وقت ڈنر بنانے کے لئے کچن میں جانے لگی صفیہ بیگم نے منع کر دیا۔۔۔۔۔۔
“خالہ مگر کیوں نا بناؤ ۔۔۔۔پہلے بھی تو بناتی تھی”
تمہاری طعبیت ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئی ۔۔۔۔چہرا دیکھوں کیسے مرجھا گیا ہے ۔۔۔۔میں بنا لوں گی ڈنر ۔۔۔۔تم یہ سیب کھاو۔۔۔۔صفیہ بیگم سیب کاٹ رہیں تھیں اپنے ہاتھ سے ماہم کو کھلانے لگیں۔۔۔
ٹھیک ہے بس کامی کے لئے سوپ بنا لیتی ہوں ۔۔۔۔اسے میرے ہاتھ کا سوپ بہت پسند ہے ۔۔۔۔۔”ماہم نے سیب کھاتے ہوئے کہا
“نہیں تم رہنے دو ۔۔۔وہ میں بنا دونگی ۔۔۔کامران کا کوئی بھی کام تم نہیں کرو گی ۔۔۔۔”صفیہ بیگم کے لہجے میں سختی در آئی تھی ماہم چپ سی ہو گئ۔۔۔۔رات کو ڈنر کے بعد جب وہ اوپر اپنے کمرے میں جانے لگی تو صفیہ بیگم بھی اس کے ساتھ اوپر آ گئیں ۔۔۔۔ماہم اپنے کمرے میں جانے لگی
“ماہم “۔۔۔۔صفیہ بیگم کی پکار پر رک گئ۔۔۔۔
“یہاں نہیں بیٹا۔۔۔۔ادھر آؤں” ۔۔۔۔۔صفیہ بیگم اس کا ہاتھ پکڑ کر عفان کے کمرے میں لے گئیں ۔۔۔۔۔ماہم حیران پریشان سی تھی ۔۔۔۔پہلی بار عفان کے کمرے میں اسے گھٹن سی ہو رہی تھی ۔۔۔۔صفیہ بیگم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر عفان کے بیڈ پر بیٹھایا اور خود بھی اسکے برابر میں بیٹھ گئیں ۔۔۔۔صفیہ بیگم نے ماہم کی پریشان سی صورت دیکھ کر ایک گہری سانس بھری
“ماہم میری جان ۔۔۔۔قسمت اور نصیب سے انسان کبھی بھی لڑ نہیں سکتا ہے ۔۔۔۔بعض اوقات ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جسے ہم چاہتے ہیں وہ سب سے بہتر ہے ۔۔۔مگر ایسا نہیں ہوتا ماہم۔۔۔۔۔۔ہمارے لئے وہی بہتر ہوتا ہے جسے اللہ ہمارے لئے چنتے ہیں ۔۔۔۔۔ ہم کسی کو پانے کی اتنی ہی کوشش کر سکتے ہیں جتنی ہماری بساط ہوتی ہے ۔۔۔اور وہ ہم نے کی تھی ۔۔۔۔۔لیکن اللہ وہ تدبیر کرتا ہے جو ہر لحاظ سے بہتر ہو ۔۔اسی کو نصیب کہتے ہیں بیٹا ۔۔۔۔تمہارے لئے کامران سے بہتر شاید عفان تھا ۔۔۔اس لئے حالات کچھ ایسے پیدا ہو گئے کہ ہمہیں وہ سب کرنا پڑا جو میرا رب چاہتا تھا ۔۔۔۔۔ماہم اللہ کو اپنے وہی بندے پسند ہیں جو اسکے فیصلوں پر خوشی سے راضی ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔صفیہ بیگم کی باتیں وہ خاموشی سے سن رہی تھی ۔۔۔۔۔
“ماہم میں اور تمہارے انکل بھی یہی چاہتے کہ اللہ کے اس فیصلے کو تم دونوں بھی قبول کر لو۔۔۔۔ماہم مخبوط حواس سی ہو گئ
“نہیں ۔۔۔خالہ ۔۔۔میں ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔عفان ۔۔۔۔۔ہر گز نہیں ۔”۔۔۔وہ بے اختیار بولی
“عفان بہت اچھا ہے ماہم ۔۔۔بہت خیال رکھے گا تمہارا ۔۔۔۔”
“نہیں خالہ میرے لئے یہ ممکن نہیں ۔۔۔۔۔میں نے کبھی اس کے بارے میں یوں نہیں سوچا ۔۔”۔۔۔ ماہم بہت گھبرا رہی تھی پریشان بھی تھی
“ماہم تم نے وعدہ کیا تھا اپنے رضانکل سے کہ انکی کوئی بات نہیں ٹالو گی ۔۔۔۔کامران کو وہ اسی شرط ہے یہاں رکھنے کو تیار ہوئے ہیں ۔۔۔کہ تم یہ رشتہ نبھاؤں گی ۔”۔۔۔۔صفیہ بیگم کی بات پر ماہم بے یقینی سے آنکھوں میں آنسوں لئے انکی طرف دیکھنے لگے
“خا۔۔۔۔لہ “۔۔۔۔بھگے ہوئے لہجے سے بولی ۔۔۔صفیہ بیگم اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئیں ۔۔۔۔ورنہ ماہم کے آنسوں سے کمزور پڑ سکتی تھیں ۔۔۔۔
ماہم بے بسی سے اسکے بیڈ پر بیٹھی رہی
“تو یہ وہ وعدہ تھا ۔۔۔۔میں کیسے نبھاؤں گی ۔۔۔۔ کامران کے علاؤہ کسی اورکو۔۔۔۔ کیسے میں اپنی زندگی میں شامل کر لو ۔۔۔۔اور وہ بھی عفان ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا دوست ہے وہ ۔۔۔۔شوہر کے درجے پر نہیں بیٹھا سکتی اسے ۔۔۔۔۔سوچ بھی نہیں سکتی ۔۔۔۔عفان بھی کبھی نہیں مانے گا ۔۔۔۔پھر اس نے مجھ سے کہا بھی تھا کہ جیسا میں چاہوں گی ویسا ہی ہو گا ۔۔۔۔وہ بھی خوش نہیں ہے اس فیصلے سے ۔۔۔وہ میرا ساتھ ضرور دے گا …ماہم خود کو تسلیاں دینے لگی
