Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 2
Rate this Novel
Tadbeer Episode 2
Tadbeer by Umme Hani
“کتنے برے ہو تم عفان ایک ہفتہ ہو گیا ہے تمہیں گاڑی لئے ہوئے مگر تم ایک بار بھی مجھے باہر لیکر نہیں گئے ۔۔۔۔چلو نا عفان ۔۔۔۔مجھے آئسکریم کھانی ہے ۔۔”۔۔بنا کسی تمہید کے وہ مجھے خفگی دیکھاتے ہوئے اپنی فرمائش سے آگاہ کر رہی تھی میں نے تاسف سے ماہم کو گھورتے ہوئے دیکھا ۔۔۔۔
جاؤں بھائی سے اپنی فرمائشیں پوری کرواں جن کی بات تمہارے لئے حرف آخر کا درجہ رکھتی ہے.”…..میرے انداز میں شکایت تھی
“کامی کب مجھے کہیں لیکر جاتے ہیں ۔۔۔۔۔عفان کیوں منہ سوجائے بیٹھے ہو۔۔۔۔”
“تمہی پروا ہے میری ۔۔۔۔چھوڑو ماہی تمہیں تو اپنی بھی فکر نہیں ہے ۔۔۔۔کتنا خوش تھا میں کہ ہم ایک ساتھ پڑھیں گئے ۔۔۔۔اور مجھے پتہ ہے کہ تم کر سکتی تھی۔تم نے خود اپنا انٹسڈ ظاہر کیا تھا ۔۔۔نارمل بی اے کی کیا ویلو ہے کچھ بھی نہیں …. تم کیوں آمادہ ہو گئ” ۔۔۔۔میری بات کو اس نے ہوا میں اڑا دیا اور میرے پاس آ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا
“عفان اب چھوڑو نا اس بات کو ۔۔۔۔چلو نا آج میں نے تمہاری پسند کا پاستا بنایا ہے۔۔۔۔اور خالہ کی بلکل مدد نہیں لی” ۔۔۔۔وہ پرجوش انداز سے بولی
” نہیں کھانا مجھے” ۔۔۔۔۔میں نے ماتھے پر تیوری چڑھا کر کہا اور سامنے رائٹنگ ٹیبل سےکتاب اٹھا کر پڑھنے لگا ۔۔۔۔ماہم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے زبردستی اٹھانے لگی
“ماہی پلیز چھوڑو مجھے” ۔۔۔۔زبردستی مت کرو میرے ساتھ “۔۔۔۔میں جھنجلا کر بولا
“کیوں نا کرو زبردستی ۔۔۔۔مت بھولوں کہ تم چھوٹے ہو مجھ سے اب ذیادہ نخرے مت دیکھاوں ۔۔۔اتنے پیار سے میں نے تمہارے لئے پاستا بنایا ہے ۔۔۔اٹھوں نا عفان” ۔۔۔اب وہ میری منت پر اتر آئی تھی پھر میں خود بھی کمزور پڑنے لگا تھا بھلا اس سے ناراض میں کب رہ سکتا تھا ۔۔۔۔اس لئےاٹھ کر اسکے ساتھ لاونج میں آ گیا ۔۔۔۔ماہی نے ٹی وی آن کیا میں ٹی وی دیکھنے کے دروان ٹیبل پر رکھا پاستہ پلیٹ میں ڈالنے لگا ۔۔۔۔ ماہم چیلنج سرچ کرنے لگی ۔۔۔مما اپنے کمرے میں تھی ۔۔۔۔۔۔ میری نظر ماہم پر پڑی جو بڑے انہمانک سے کوئی انڈین ڈرامے میں لگے شادی کے ہال کا سین دیکھنے میں مگن تھی ۔۔۔۔اسوقت ماہم اس سین میں ایسے کھوئی ہوئی تھی کہ میری موجودگی کا بھی اسے احساس نہیں تھا ۔۔۔۔وائٹ فلاور سے سجے ہوئے بڑے خوبصورت گول بنائے ہوئے مصنوعی گیٹ کو وہ بڑی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔نا جانے اس میں دیکھنے والی کیا چیز تھی جو ماہم کی دلچسپی کا باعث تھی ۔۔۔۔میں نے پہلا ہی چمچ منہ میں رکھا ۔۔۔۔تو ماہم کو پکارا
“ماہی “
“ہمم ” ۔۔۔۔ماہم اب بھی ٹی وی پر نظریں جمائے بولی
“ماہی یہ تم نے بنایا ہے” ۔۔۔ میری بات پر ماہم نے بس سرسری سااثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔توجہ اب بھی ٹی وی پر مبذول تھی
“بہت مزے کا ہے ۔۔۔۔تم نے بنانے کے بعد یقینا چکھا تو بلکل نہیں ہو گا “۔۔۔۔میں نے مسکراتے ہوئے کہا تو ماہم نے بے ساختہ میری طرف دیکھا
“ہاں واقع میں نے بلکل نہیں چکھا مگر تمہیں کیسے پتہ” ۔۔۔۔ماہم نے حیرت سے پوچھا اسکے ایسے احمکانہ۔۔۔اور معصومانہ سوالوں کا میں عادی ہو چکا تھا ۔۔۔۔
“اس لئے کہ اتفاقا پہلی ہی باری میں تم سے یہ بہت ٹیسٹی بنا ہے ۔۔۔اگر تم چکھ لیتی تو یقینا مجھے لفٹ بھی نا کرواتی سارا خود ہی کھا لیتی” ۔۔۔اب میں رغبت سے کھانے لگا
“سچی” ۔۔۔۔ماہم کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا ۔۔۔۔میں جو اسے یہ بتانے والا تھا کہ اس میں نمک نا ہونے کہ برابر ہے ۔۔۔۔اسکی خوشی دیکھ کر کہنے کا ارادہ ملتوی کر دیا ۔۔۔۔ماہم نے ٹیبل سے ایک پلیٹ اٹھائی ۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ خود پاستا کھاتی میں اسے منع کر دیا کہ جب اس نے میرے لئے بنایا ہے تو وہ اسے چکھے گی بھی نہیں ۔۔۔۔اور بدلے میں میں اسے دو آئسکریم کھلاؤ گا۔۔۔ وہ دو آئسکریم کا سن کر خوش ہو گئ ۔۔۔۔ میں جانتا تھا کہ ماہم آئسکریم کی بہت شوقین ہے ۔۔۔۔جب تک وہ تیار ہو کر آئی میں پاستا کھا کر ٹیبل پر رکھیں چیزیں سمیٹ چکا تھا ۔۔۔۔۔مما سے اجازت لیکر میں ماہم کو آئسکریم پارلر لے گیا ۔۔۔۔وہاں کرسی پر بیٹھے ماہم نے پسند کی چوکلیٹ آئسکریم آرڈر کی مگر میں نے اپنے لئے کچھ نہیں منگوایا ۔۔۔ماہم کی آئسکریم آ چکی تھی اور اب وہ مزے سے کھا بھی رہی تھی میں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر ایک چمچ آئسکریم اپنے منہ میں ڈال لی ۔۔۔۔۔ماہم نے ایک تیکھی نگاہ مجھ پر ڈالی
“تم نے اپنے لئے کیوں نہیں منگوائی” ۔۔۔وہ غصے سے بولی ۔۔۔۔اور میں ہسنے لگا میری اس عادت سے وہ بہت چڑتی تھی میں اسکی آئسکریم سے ایک چمچ ضرور لے کر کھاتا تھا
“تم کیا مجھے پیٹو سمجھتی ہو تین پلٹیں پاستا کھانے کے بعد آئسکریم بھی کھاؤں گا ۔۔۔ “
“تو پھر میری آئسکریم میں منہ کیوں مارتے ہو ۔۔۔زہر لگتے ہو یہ کرتے ہوئے” ۔۔۔وہ خفگی سے بولی اور میں بے ساختہ ہسنے لگا
“کیا بتاؤں تمہیں ماہی ۔۔۔جو مزہ تمہاری آئسکریم کھانے میں آتا ہے ۔۔۔وہ الگ سے منگوا کر کھانے میں بلکل نہیں آتا “۔۔۔۔۔باقی کی آئسکریم ماہم نے منہ پھلائے ہی کھلائی تھی ۔۔۔۔
“تمہاری شکایت تو میں خالہ سے لگاؤں گی “۔۔۔۔ماہم کی ہر بار والی دھمکی سے مجھے اب کوئی خاص فرق نہیں پڑتا تھا ۔۔۔
آئسکریم کھانے کے بعد میں ماہم کو ایک گفٹ شاپ پر لے آیا ۔۔۔۔۔
“ماہی مجھے اپنی ایک دوست کے لئے گفٹ لینا ہے ۔۔۔۔اور تمہیں تو معلوم ہے لڑکیوں کی شاپنگ کا مجھے کوئی خاص تجربہ نہیں ہے اسلئے تم ذرا میری ہیلپ کر دو “۔۔۔۔۔میری بات پر ماہم مجھے گھورنے لگی اپنی کمر پر ایک ہاتھ رکھ کر بولی
“یہ کون سی دوست ہے تمہاری جس کا مجھے علم نہیں ہے ذرا بتاؤ مجھے” ……
“تم نہیں جانتی بحث کے بجائے ہیلپ کرو میری” ۔۔۔۔۔میں نے بات کو ٹال مٹول کیا
“ہمم یقینا زارا ہو گی ۔۔۔۔۔ اسکول میں تو وہی تمہارے آگے پیچھے گھومتی تھی ۔۔۔۔۔یا پھر شزا ۔۔۔۔۔۔کلاس میں تو سب سے خوبصورت تو شزا ہی تھی ۔۔۔۔یا پھر “۔۔۔۔۔ماہم کلاس کی سبھی ایسی لڑکیوں کے نام لینے لگی جو کلاس میں سب سے اچھی تھیں مگر میں اسے ٹوک دیا
“مائے ڈیر کزن اپنے ننھے منے دماغ پر اتنا بوجھ مت ڈالو جب میں اسے دونگا تو تمہیں پتہ چل جائے گا وہ کونسی لڑکی ہے “۔۔۔۔۔میری بات وہ خفگی سے بولی
“تم کونسا میرے سامنے اسے دو گئے ظاہر ہے ۔۔۔۔ تم اس سے اکیلے ہی ملنا پسند کرو گئے ۔۔اور مجھے بھی کباب میں ہڈی بننے کا کوئی شوق نہیں ہے” ۔۔۔۔ماہم کا انداز ہنوز تھا ۔۔۔۔نا جانے وہ میری دوستی کس نویت کی سمجھ رہی تھی میں نے فورا وضاحت کرنا ضروری سمجھا
“ارے نہیں ۔۔۔وہ والی بات نہیں ہے ہم دونوں میں” ۔۔۔۔
“کون سی “۔۔۔””وہ والی بات””
۔۔۔۔ماہم اپنے بھنور اچکاتے ہوئے پوچھنے لگی میری بات کا مفہوم وہ نہیں سمجھی تھی ۔۔۔۔اور اس میں اسکا بھی کوئی قصور نہیں تھا ویسے بھی وہ حد سے زیادہ معصوم تھوڑی سی بیوقوف اور بہت ذیادہ لا پروا تھی اس لئے بہت ذیادہ کریدنے کے باوجود بھی سمجھ نہیں پاتی تھی کہ سامنے والا کہنا کیا چاہتا ہے ۔۔۔۔اور یہی بات مجھے اسکی پسند بھی تھی ۔۔۔۔
“ارے بابا ۔۔۔کباب میں ہڈی والی ۔۔۔۔مطلب وہ میری گرل فرینڈز نہیں ہے ۔۔۔۔۔بس دوست ہے ۔۔۔۔اب جلدی کرو ماہی ہم بہت لیٹ ہو چکے ہیں مما بہت ڈانٹیں گی” ۔۔۔۔میں نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا
“ہاں تم نے ہی اتنی دیر سے باتوں میں لگا رکھا ہے “
۔۔۔۔وہ لاپروائی سے بولتے ہوئے جیولری دیکھنے لگی ۔۔۔۔اور میں اسکی بات پر بس مسکرا کر رہ گیا ۔۔۔۔ایک ہہت خوبصورت سے ائیر رنگ لینے کے بعد ماہم نے مجھے ایک some one very special کا کارڈ لینے کا مشورہ دیا
“نہیں ماہی ابھی وہ میرے لئے اتنی بھی اسپیشل نہیں ہے “۔۔۔میں نے ایک فرینڈ شپ کا کارڈ اور جیولری کاؤنٹر پر رکھتے ہوئے سامنے سیل بوائے سے بل بنانے کے لئے کہا تو ماہم نے وہ کارڈ بھی کاؤنٹر پر رکھ دیا میں نے گھور کر اسکی طرف دیکھا
“آج نہیں تو کل ہو جائے گی ۔۔۔۔تم میرے کہنے پر رکھ لو ۔۔۔۔جب وہ تمہارے لئے ویری اسپیشل ہو جائے تب اسے دیدنا۔”۔۔۔ماہم کے اصرار پر میں نے وہ کارڈ بھی رکھ لیا ۔۔۔۔۔مجھے لیپ ٹاپ پر کچھ کام تھا گھر پہنچتے ہی لاونج میں پاپا اور کامران صوفے پر بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔کوئی سیاسی شو چل رہا تھا ساتھ میں پاپا اور کامران کا تبصرہ بھی جاری تھا میں سلام کر کے سیدھا اور اپنے کمرے میں آگیا ۔۔۔۔۔میں لیپ ٹاپ لئے اپنے کام میں مصروف ہو گیا میری کلاسز اسٹار ہو چکیں تھیں اور میں چاہتا تھا کہ اپنی محنت سے یہاں بھی ٹاپ لسٹ میں میرا نام رہے
*************………..***********……..*******
ماہم کو کالج جاتے ہوئے چند ہی ہفتے گزرے تھے ۔۔۔۔نئ نئ دوستیں نیا نیا ماحول تھا ۔۔۔۔بہت جلد اسکی دوستی کلاس کی کئ لڑکیوں سے ہو گئ تھی ۔۔۔۔ان میں سے چند کی منگناں اپنے کزنز سے ہو چکی تھیں ہر ایک کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک اسٹوری موجود تھی ۔۔۔۔۔۔ان میں ایک ارسلہ بھی تھی ۔۔۔۔
“پتہ ہے فائزہ آج نبیل گھر آئے تھے میرے چائنیز سموسوں کی اتنی تعریف کر رہے تھے کیا بتاؤں تمہیں۔۔۔۔۔ جاتے ہوئے مجھے ایک خوبصورت سا کی چین بھی دے گئے “۔۔۔۔ ۔۔۔۔ارسلہ خوشی سے بتا رہی تھی ۔۔۔۔
“واہ بھی تمہارے عیش ہیں جب بھی تمہارا منگتر آتا ہے کچھ نا کچھ دے کر ہی جاتا ہے فائزہ برگر کھاتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
“ہاں تو میں نے بھی تو انہیں پچھلے جمعے گھڑی گفٹ کی تھی ۔۔۔۔بلکہ اپنے ہاتھوں سے پہنائی تھی “۔۔۔۔۔۔۔ارسلہ نے اتراتے ہوئے بتایا بس ایک ماہم ہی خاموشی سے بیٹھی سن رہی تھی
“تم کیا اداس چڑیاں بنی بیٹھی ہو” ۔۔۔ارسلہ نے اسکے ٹہوکا لگایا
“میں کیا بولو میرے پاس ایسے قصے کہانیاں نہیں ہیں” ۔۔۔۔ماہم کو کچھ سبکی محسوس ہوئی
“کیوں تمہارے اماں ابا اکلوتے ہیں یا انہوں نے بھاگ کے شادی کی تھی جو سارے خاندان نے ان کا بائیکاٹ کردیا اس لئے تمہارا کوئی کزن ہے ہی نہیں” ۔۔۔۔ فائزہ منہ پھٹ ٹائپ کی لڑکی تھی اس لئے لحاظ مروت اسکے پاس سے نہیں گزرا تھا
“کزن تو ہیں بس اماں ابا نہیں ہیں” ۔۔۔۔
“کیا مطلب” ۔۔۔۔فائزہ اور ارسلہ بیک وقت بولیں ۔۔۔۔
“میرے بچپن میں ہی انکی روڈ ایکسڈینٹ میں وفات ہوچکی تھی ۔۔۔۔میں خالہ کے پاس رہتی ہوں
۔۔۔۔۔”
“اوہ …..پھر تو بہت ظلم ہوتے ہوں گئے تم پر خالہ سارے گھر کا کام تم سے کرواتی ہوں گئ اور تمہیں اپنی بیٹیوں کے جوٹھے کپڑے پہنے کو دیتی ہوں گئ ناول کی کہانیوں کی طرح” ۔۔۔۔ارسلہ نے برجستہ کہا وہ کہانیاں کچھ ذیادہ ہی پڑھتی تھی اس لئے ذیادہ تر اسی دنیا میں رہتی تھی
“نہیں بھئ میری خالہ بہت اچھی ہیں ۔۔۔۔بہت پیار کرتی ہیں مجھ سے۔۔۔۔ اور انکی کوئی بیٹی نہیں ہے دو بیٹے ہیں بس” ۔۔۔۔ماہم کو خالہ کے بارے ارسلہ کا تبصرہ اچھا نہیں لگا
“ہاں تو اور کیا چاہیے تمہیں ۔۔۔۔پاگل ان میں سے جو سب سے ذیادہ ڈیشگ ہے اسی کو پٹا لو “۔۔۔یہ مشورہ فائزہ نے دیا تھا
“پاگل ہو کیا میں یہ کیوں کرو “
ماہم کو کچھ عجیب سا لگا
“ارے جب خالہ اتنی اچھی ہیں تو تم نے ضرور باہر غیروں میں شادی کر کے ایک انجانی سی ظالم ساس خود پر مسلط کرنی ہے “۔۔۔ارسلہ نے بھی اپنا مشورہ دینا ضروری سمجھا
“لیکن مجھے کیا پتہ وہ مجھے اس رشتے سے قبول کرنا چاہتی ہیں کہ نہیں ۔۔۔۔وہ مجھے بلکل بیٹی کی طرح چاہتی ہیں اور میں نے ایسا کبھی سوچا بھی نہیں ۔۔۔”۔
“ہاں تو اب سوچ لو “۔۔۔۔فائزہ اور ارسلہ بیک وقت بولیں
“ٹھیک ہے تم لوگ اتنا انسسٹ کر رہی تو عفان سے پوچھ کر سوچ لوں گی ۔۔۔۔ماہم کے جواب پر فائزہ اور ارسلہ ایک دوسرے کا منہ دیکھ کر بولنے لگیں
عفان یہ عفان کون ہے۔۔۔۔دونوں نے ہم آواز ہو کر پوچھا
“کزن ہے میرا ” ماہم نے نے جواب دیا ۔۔۔
“ارے واہ اسی سے پوچھ کر اسی کو پٹاوں گئ “
“ارے نہیں پاگل وہ تو چھوٹا ہے مجھ سے ۔۔۔۔بس اس سے صرف دوستی ہے میری ۔۔۔۔”
“تو پھر پٹانا کیسے ہے ۔”ارسلہ نے دلچسپی سے پوچھا
“۔۔کامران ہی بڑے ہیں مجھ سے ۔۔۔۔وہی ٹھیک رہیں گئے ۔۔۔۔لیکن وہ غصے کے تیز ہیں ۔۔۔۔میری تو جان نکلتی ہے ان سے بات کرتے ہوئے بھی محبت کیسے کروں گی ۔۔۔نہیں نہیں مجھے ڈر لگتا ہے ۔۔۔مجھ سے نہیں ہو گا ۔”۔۔۔ماہم کامران کا نقشہ سامنے لاتے ہی گھبرا گئ
“ارے کچھ نہیں ہوتا ہم ہیں نا ۔۔۔۔بس جو تمہیں کہیں تم کرتی جانا دیکھو پھر تمہارا کزن کیسے لٹو ہوتا ہے تم پر ۔۔۔۔لیکن یہ باتیں ہم تینوں میں سیکریٹ رہیں گئ تم کسی کو نہیں بتاؤں گئ”
“لیکن عفان کو تو بتاسکتی ہوں نا “ماہم اپنے موقف پر ہی قائم رہی
“جی نہیں ۔۔۔وہ تو کھیل شروع ہونے سے پہلے ہی بگاڑ دے گا سارا پول کھول کے رکھ دے گا اپنے بھائی کے سامنے ۔۔۔۔کل جو میں نے کہانی پڑھیں تھی اس میں سارا کھیل ہیرو کے بھائی نے ہی بگاڑا تھا ۔۔۔۔ماہم تمہاری تو اسٹوری شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائےگی “ارسلہ نے قطعی انداز اپناتے ہوئےکہا
“عفان ایسا نہیں ہے “
“پھر بھی تم کبھی کسی سے کچھ نہیں کہوگئ ۔۔”۔ارسلہ نے ماہم سے باقاعدہ وعدہ لیا تھا ۔۔۔۔پھر اسے یہ مشورہ دیا کہ وہ کامران کو مسکرا کر دیکھا کرے۔۔۔۔اگر کوئی ڈش بنائے تو اسے ضرور کھلائے اگر وہ اسکی تعریف کرے تو سمجھ جائے کہ کامران بھی اس میں دلچسپی لیتا ہے ۔۔۔۔مایم پہلے پہل تو بہت گھبرائی تھی ۔۔۔۔کامران کو مسکرا کر دیکھنا کون سا آسان تھا ۔۔۔۔۔مگر اگر کبھی ماہم اسے مسکرا کر دیکھ بھی لیتی تو بدلے میں وہ برے طریقے سے اسے گھور دیتا
“یہ بلا وجہ کیوں مسکرا رہی ہو تم ۔۔۔۔۔”
“نہیں کامی بس یونہی ۔۔۔۔”
“احمق کہیں کی” ۔۔۔یہ کہہ کر وہ توچلا جاتا ماہم خود پر ملامت کرتی رہ جاتی ۔۔۔۔۔اپنی دوستوں کے قصے اور رومانوی کہانیاں سن سن کر ماہم کامران میں۔ دلچسپی لینے لگی تھی اسکی شخصیت اسکے حواسوں پر سوار رہنے لگی ۔۔۔۔اپنے اکھڑے رویے کے ساتھ بھی وہ ماہم کو اچھالگنے لگا تھا
****……..*******………*******……******…..**
۔۔۔۔۔عفان کی ناراضگی کو دور کرنے کے لیے ماہم نے پاستا بنایا تھا اکثر آئے دن وہ صفیہ بیگم سے پاستا کی فرمائش کرتا تھا ماہم اب کچن میں اپنی خالہ کی ہیلپ کروانے لگی تھی ۔۔۔اس لئے پاستا وہ ان کے سامنے خود بنا لیا کرتی تھی لیکن اس بار خالہ اپنے کمرے میں تھی پاستا اس نے خود ہی بنایا ۔تھا۔۔۔ماہم نے پہلی بار خالہ سے پوچھے بغیر بنایا تھا س لئے بہت خوش تھی پھر عفان نے تعریف بھی بہت کی تھی اس لئے وہ مطمئن تھی کہ پاستے میں یقینا کوئی خرابی نہیں ہے عفان کے ساتھ واپس آنے پر اس نے کچن کا رخ کیا پہلی بار اپنے ہاتھوں سے بنائے پاستا کی تعریف وہ سب سے وصولنا چاہتی تھی خاص طور پر کامران سے پھر ماہم کو ایک ایسا قصہ بھی تو چاہیے تھا جیسے وہ بھی رومانوی رخ دے کر سنا کر اترا سکے ۔۔۔۔ماہم نے پاستا گرم گیا ایک خوبصورت سے شیشے کے باول میں ڈالا ساتھ میں پلیٹس چمچ رکھ کر باہر لاونج میں رکھے ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔۔خود بھی وہیں بیٹھ گئ
“رضا انکل آج پاستا میں۔ نے خود بنایا ہے ۔۔۔۔آپ کو پتہ ہے میں نے خالہ کی ہیلپ بھی نہیں لی”۔۔۔۔۔ماہم نے بڑے اعتماد سے رضاصاحب کی پلیٹ میں پاستا ڈال کر دیا
“ارے واہ میری بیٹی نے بنایا ہے تو پھر تو واقع اچھا ہو گا ۔”۔۔رضا صاحب نے پاستا کی پلیٹ ماہم کے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا ایک پلیٹ ماہم نے صفیہ بیگم کی طرف بڑھا دی اور ایک کامران کی طرف کامران موبائل میں مصروف تھا پلیٹ پکڑ کر ایک نظر ماہم کو دیکھا پھر ٹی وی دیکھتے ہوئے پلیٹ سینٹرل ٹیبل پر رکھ دی ۔۔۔۔۔ ماہم کو بیچینی سے ہونے لگی اسے انتظار تھا جب کامران اسکی تعریف کرے عفان نے بھی اسکی تعریف کی تھی اسکا مطلب سب ٹھیک ہے ماہم کادل تیزی سے دھڑکنے لگا ابھی کامران اسے مسکرا کر دیکھے گا اور کہے گا ۔۔۔۔”ماہم تمہارے ہاتھ میں تو جادو ہے “۔۔۔۔مگر جیسے ہی کامران پاستا منہ میں ڈالا ماہم ک دل بلیوں اچھلنے لگا وہ کامران کی تعریف کی منتظر تھی ایک مسکان اسکے چہرے پر آ کر ٹھہر گئ ۔۔۔۔۔ مگر کامران نے ایک تیز نظر ماہم پر ڈالی
“یہ کیا بنایا ہے تم نے ماہم ۔”۔۔۔کامران نے پلیٹ ٹیبل پر رکھ دی
“بلکل کھانے کے قابل نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔اٹھاو اسے یہاں سے” کامران کے خشک اور سرد لہجے پر ماہم کو دھچکا سا لگا وہ تو کچھ اور سوچے بیٹھی تھی ماہم کو اپنی توہین سی محسوس ہونے لگی دل جسے کسی نے مٹھی میں لیکر مسل دیا ہو ۔۔۔۔اسکی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے
“یہ کیا طریقہ ہے کامران بات کرنے کا بچی نے پہلی مرتبہ بنایا ہے خود سے ۔۔۔اتنا برا بھی نہیں بنا کہ تم ایسے برے انداز سے پیش آؤں بس ذرا نمک ہی کم ہے” ۔۔۔۔رضا صاحب نے کامران کو ہی ڈانٹ کر سمجھایا مگر وہ کہاں برداشت کرتا تھا
“یہ ذرا سا کم ذیادہ مجھ سے تو برداشت ہی نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔مجھے ہر چیز پرفیکٹ اچھی لگتی ہے” ۔۔۔۔رضا صاحب کے غصے کی پروا کیے بغیر کامران نے یہ بول کر ماہم کو تنبیہہ انداز میں ٹوک کر کہا
“اور تم جب تک ٹھیک طرح سے کوکنگ نا سیکھ لو اپنے تجربے مجھ پر آزمانے کی کوشش مت کرنا ۔۔۔”۔کامران کے نخوت بھرے لہجے پر ماہم سہم سی گئ اپنے آنسوں ضبط کرتی ہوئی کچن میں چلی گئ ۔۔۔کچن میں جا کر سب سے پہلے ماہم نے بچے ہوئے پاستے سے ایک چمچ لیکر منہ میں ڈالی نمک واقع کم تھا ۔۔۔۔بلکل نا ہونے کے برابر ۔۔۔ماہم اگر سے پہلے چکھ لیتی تو شاید اسے پاستا اتنا بدمزہ نہیں لگتا جتنا کامران کے جمعلوں کو سن کر لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔سب سے زیادہ غصہ اسے عفان پر آیا گر ٹھیک نہیں بنا تھا تو وہ اسے بتا سکتا تھا ۔۔۔جھوٹی تسلی دینے کی کیا ضرورت تھی اسی کی تعریف کو پیش نظر رکھ کر ماہم نے پاستا بنا چکھے ہی کامران کو دیدیا ۔۔۔۔وہ رونے لگی صفیہ بیگم اندر آئیں ماہم کو یوں روتا دیکھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا انکے ساتھ لگ کر وہ سارے ضبط کھو بیٹھی انکی ممتا کی حدت پاتے ہی رونے لگی انہوں نے بہت پیار سے اسے سمجھایا
“اگر آج تھوڑا سا غلط بن بھی گیا بیٹا تو یوں روتے تھوڑی ہیں ۔۔۔۔غلط کر کے ہی انسان صحیح کرنا سیکھتا ہے ۔۔۔۔اگر یوں دل چھوٹا کرو گی تو کبھی سیکھ نہیں پاؤں گی ۔۔۔۔کامران کو تو یوں بھی عادت ہے بڑ بڑ کرنے کی تمہارے انکل نے ڈانٹا ہے اسے میں نے بھی اسکی خبر لی ہے چلو اب چپ ہو جاؤں” ۔۔۔۔۔ماہم نے اپنے آنسوں تو صاف کر لئے مگر عفان پر غصہ نہی کیا ۔۔۔۔۔ٹھیک کہتی ہے ارسلہ یہ ہیرو کا بھائی ہی اصل ولن ہوتا ہے ساری گڑ بڑ وہی کرتا ہے ۔۔۔۔میں چھوڑو گی نہیں۔ اس عفان کے بچے کو ۔۔۔۔وہ تن فن کرتی ہوئی عفان کے کمرے کی طرف بڑھ گئ
********………..********……………..********
جھٹکے سے میرے کمرے کا دروازہ کھلا سامنے ماہم خوفناک طریقے سے مجھے دیکھ رہی تھی اور ساتھ ساتھ رو بھی رہی تھی ۔۔۔مجھے اس کا یہ اندراز قطعی سمجھ نہیں آیا ابھی وہ ٹھیک ٹھاک میرے ساتھ واپس آئی تھی ۔۔۔۔ماہم غصے سے میرے پاس آئی اور جارحانہ لہجے میں بولی
“کس قدر جھوٹے انسان ہو تم میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔۔جان بوجھ کر تم نے مجھ سے کہا کہ پاستا بہت مزے کا بنا ہے ۔۔۔۔جانتے ہو تمہارے اس جھوٹ کی وجہ سے کتنی شرمندگی اٹھائی میں نے ہے سب کے سامنے ۔۔۔خاص طور پر کامران کے سامنے” ۔۔۔۔۔وہ کہتے ہوئے رونے لگی میں اسکے اس طرح رونے پر بوکھلا سا گیا وہ دونوں ہاتھوں سے منہ چھپائے رو رہی تھی ۔۔۔۔میں کھڑا ہو گیا
“ماہی کیا ہوا ہے بتاؤں مجھے ۔۔۔۔۔کیا کہا تم سے کامران بھائی نے” ۔۔۔۔میں اسکے منہ پر رکھے ہاتھ ہٹانے کی کوشش کرنے لگا
“تمہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے عفان ۔۔۔۔آئندہ میں تمہارے لئے کبھی کچھ نہیں بناؤں گی “۔۔۔۔ماہم نے ہاتھ تو پیچھے کر لیے تھے مگر رو ابھی بھی رہی تھی ۔۔۔۔۔میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے بیڈ کر قریب لے آیا اور اسے بیڈ پر بیٹھا دیا اور خود بھی اس کے برابر میں بیٹھ گیا
“ماہی جب تم نے وہ پاستا میرے لئے بنایا تھا تو بھائی کو کھلانے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔اگر تم سے گڑبڑ ہو بھی گئ تھی۔۔۔۔تو اٹس او کے یار مجھے وہ پھر بھی بہت مزے کا لگا تھا ۔۔۔۔سیریسلی ماہی بہت اچھا بنا تھا ۔۔۔۔ اب تم اپنا موڈ ٹھیک کرو بھائی کو تو عادت سے دوسروں کا دل دکھانے کی۔۔۔۔اور ایسے روتے ہوئے جانتی ہو کتنی بری لگ رہی تم۔۔۔۔اپنے بنائے ہوئے پاستے سے بھی زیادہ” ۔۔۔۔میری بات پر وہ رونا چھوڑ کر مسکرانے لگی ۔۔۔۔۔مگر ناراض وہ اب بھی مجھ سے تھی ۔۔۔۔میری ہزار منتوں کے بعد اس نے معاف بھی اس شرط پر کیا میں نیل ڈاؤن ہو کر کان پکڑ کر اسے سوری کہو اب میں اسکی ناراضگی کیسے برداشت کر سکتا تھا اس لئے اسکی خواہش کے مطابق اسے سوری کیا تو اس کا موڈ بحال ہوا
*******………*******……..*******…….**
رات کو کھانے کے ٹیبل پر میں نے جان بوجھ کر باقی کا بچا ہوا پاستا ہی کھایا ۔۔۔۔اور ماہم کی تعریف بھی کی تو پاپا مجھے دیکھ کر مسکرانے لگے ۔۔۔۔پھر مما سے مخاطب ہوئے
“صفیہ بیگم عفان تو بلکل مجھ پر گیا ہے۔۔۔۔۔ یاد ہے جب بھی تم کوئی نئ چیز ٹرائی کرتی تھی میں بھی بلکل ایسے ہی مزے لیکر کھاتا تھا لیکن تمہیں۔ کبھی احساس نہیں ہونے دیتا تھا کھانا ٹھیک نہیں بنا کہ کہیں تمہارا دل نا ٹوٹ جائے” ۔۔۔۔پاپا کی بات پر سوائے کامران کے ہم سب ہی مسکرا دیے ۔
“پاپا آپ کے اسی صبر کا نتجہ ہے کہ مما کھانا بہت مزے کا بناتی ہیں اور دیکھ لیجیے گا ماہم بھی مما کی طرح مزے مزے کی ڈشز بنایا کرے گی” ۔۔۔۔میری بات پر پاپا اور مما دونوں نے میری تائید کی مگر کامران ضرور جزبز ہو گیا
ماہم کی برتھ ڈے قریب تھی اور مجھے بے چینی سے اس دن کا انتظار تھا ۔۔۔۔۔میری خواہش تھی کہ ماہم کو سب سے پہلے میں وش کروں ۔۔۔۔۔ویسے تو پاپا ہر سال ماہم کی برتھ ڈے ضرور سلیبریٹ کرتے تھے ۔۔۔۔اگر ذیادہ مہمانوں کو مدعو نہیں بھی کرتے تو کہیں باہر ریسٹورنٹ میں اچھا سا ڈنر کرنے کے بعد ماہم سے کیک ضرور کٹواتے تھے ۔۔۔۔لیکن اس بار میں ماہم کے لئے کچھ خاص کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔اس لئے میں نے ایک دن پہلے ہی کیک کا آڈر دیدیا ۔۔۔۔رات کو کیک لا کر فریج میں چھپا کر رکھ دیا ۔۔۔۔اب مجھے رات بارہ بجے کا بے چینی سے انتظار تھا ۔۔۔۔جیسے ہی گھڑی نے بارہ بجے کی ٹن ٹن بجائی ۔۔۔۔میں اٹھ کر کمرے سے باہر آ گیا ماہم کا کمرہ میرے کمرے کے بلکل سامنے تھا ۔۔۔۔میں نے ماہم کے کمرے کی دستک دی مگر شاید وہ سو چکی تھی میرادل بجھ سا گیا ۔۔۔۔کہ میراسارا پلان ہی برباد ہوا ۔میں نے سوچا صبح گفٹ دیدونگا ۔۔۔لیکن دل تھا کہ ماننے کو تیار نہیں تھا۔۔۔میں نے دروازے کا ذرا سا نیب گھمایا دروازہ لوک نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔میں اندر داخل ہوا ماہم بے خبر سو رہی تھی ۔۔۔ میں نے دھیرے سے اسے ہاتھ سے ہلایا تو وہ بوکھلا اٹھ بیٹھی ۔۔۔۔اپنی نیند سے بوجھل آنکھیں۔ مسلنے لگی نیم خوابیدا آنکھوں کے ساتھ مجھے دیکھنے لگی ۔۔۔۔پھر میرے آنے کی وجہ پوچھنے لگی ۔۔۔میں نے اپنے منہ پر انگلی رکھ کر اسے چپ رہنے کا اشارا دیا اور اس کاہاتھ پکڑ کر اسے کمرے سے باہر لے آیا لاونج میں ملجگا سااندھیرا تھا ۔۔۔۔ہم دھیرے سے سیڑیاں اترے تا کہ شود نا ہو سیدھا کچن میں آگئے ۔۔۔ماچس میرے ہاتھ میں تھی ۔۔۔میں نے دانستہ لائٹ نہیں چلائی تا کہ کوئی بھی کچن کا رخ نا کرے ۔۔۔۔میں نے فریج میں سے کیک نکالا اور سامنے ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔۔
“یہ سب کیا ہے عفان “۔۔۔۔ماہم نے سر گوشی میں بولی وہ اب بھی نہیں سمجھی تھی
“شش چپ رہو “۔۔۔ میں نے ہلکی آواز سے اسے سرزش کی میں نے کیک ڈبے سے نکال کر ٹیبل پر رکھا پھر اس پر کینڈل لگانے لگا ۔۔۔۔پھر ماچس سے کینڈل جلائی ماہم خاموشی سے سب دیکھ رہی تھی
پھر میں نے مسکرا کر ماہم کی طرف دیکھا
“ہیپی برتھ ڈے ماہی” ۔۔۔۔ماہم کو جیسے کچھ یاد آگیا
“تم بھی نا عفان ۔۔۔۔کیا چیز ہو تم۔۔۔ کل رضا انکل نے میری برتھ ڈے سلیبرٹ کرنی ہی تھی ۔۔۔۔رات کو اسوقت”۔۔۔وہ حیرت سے مگر آہستہ بولی
“مجھے سب سے پہلے تمہیں وش کرنا تھا ماہی” ۔۔۔۔ابھی میری بات مکمل ہوئی بھی نہیں تھی کی قدموں کی چاپ سنائی دینے لگی کوئی کچن کی طرف ہی آ رہا تھا میں اور ماہم دونوں ہی گھبرا گئے۔۔۔میں نے جلدی سے کیک ٹیبل کے نیچے رکھا اور ماہم کا ہاتھ تھام کر خود بھی ٹیبل کے نیچے بیٹھ گیا مگر جلد بازی میں کینڈل بجھانا بھول گیا کچن کے دروازے پر پاپا تھے انہوں نے کچن میں جھانک کر دیکھا پھر آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ہمارے نزدیک پہنچ گئے میں پاپا کے پیروں کے قریب ہی بیٹھا تھا میرادل زور زور سے دھڑکنے لگا اپنے ہی دھڑکنیں مجھے اپنے کانوں میں سنائی دے رہیں تھیں ۔۔۔۔پھر پاپا کی ڈانٹ کا سوچ کر میری جان نکلنے لگی اسوقت ماہم کے ساتھ مجھے دیکھ کر ۔۔۔۔پاپا نا جانے کیا سلوک کرتے میرے ساتھ ۔۔۔۔ماہم کی حالت شاید مجھ سے مختلف نہیں تھی اس لئے میرا ہاتھ زور سے پکڑے بیٹھی تھی ۔۔۔۔ پاپا نے جھک کر ہمیں دیکھا ماہم نے آنکھیں زور سے بینچ لیں ۔۔۔۔میں نے آہستہ سے ڈرتے ہوئے پاپا کی طرف گردن گھما کر دیکھا اور زبرستی مسکرایا ۔۔۔۔پاپا نے اپنے ابرو آچکا کر استفہامیہ نظروں سے مجھے دیکھا میں ملتجی نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔۔پاپا خود بھی وہیں ٹیبل کے نیچے بیٹھ گئے
“کیا ہو رہا ہے یہاں” ۔۔۔۔پاپا نے آہستگی سے پوچھا ۔۔۔۔ ماہم نے آنکھیں کھول کر پاپا کو دیکھا
“انکل یہ مجھے اٹھا کر لایا ہے یہاں میں سو رہی تھی”۔۔۔۔ماہم نے میری طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے ہمیشہ کی طرف ساری ٹوپی میرے سر پر ڈال دی
میں نے کچھ ہمت پکڑ کر پاپا کی طرف دیکھا جو زیرک نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے ماتھے پر تیوری چڑھانے لگے
“پاپا ماہی کا برتھ ڈے تھا اس لئے” ۔۔۔۔میں مجرمانہ انداز سے نظریں جھکا کر بولا
“وہ تو کل ہے” ۔۔۔۔پاپا کیک اور موم بتی دیکھ کر بولے پاپا کے نارمل انداز پر میری پریشانی ذرا کم ہوئی
“بارہ تو بج چکے ہیں مطلب اسٹاٹ تو ہو چکی ہے” ۔۔۔۔
“تو تمہیں اس سے بہتر جگہ اور کوئی نہیں ملی ۔۔”۔پاپا نے پیار سے ایک تھپکی میرے سر پر لگا کر پوچھا
“نہیں یہ ذیادہ سیو تھی” ۔۔۔۔میں نے بات بنائی
“ہمم ۔۔۔۔واقع ۔۔۔۔جبھی پکڑے گئے ہو ۔۔۔۔ویسے بھوک تو مجھے بھی لگ رہی ہے۔۔۔۔۔چلو بھئ ماہم بٹیا جلدی سے کیک کاٹو اس سے پہلے کہ تمہاری تھانے دار خالہ چھاپا مار دے” ۔۔۔۔پاپا کے ہلکے پھلکے انداز پر میری اور ماہم کی پریشانی کافی حد زائل ہوچکی تھی ۔۔۔۔ماہم نے کیک کاٹا اور سب سے پہلے پاپا کو کھلایا اس کے بعد مجھے ۔۔۔باقی کا کیک پاپا نے خود کاٹ کر ہمیں دیااور خود بھی لیا ۔۔۔۔ ابھی ہم کھا ہی رہے تھے کہ کچن کی لائٹ آن ہوئی ۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ ہم پلٹ کر لائٹ چلانے والے کو دیکھتے مما ہمارے سر کھڑی۔ تھیں۔۔۔مما نے ذرا سا جھک ہم تینوں کو خشمگین نظروں سے دیکھا ۔۔۔
“کیا ہو رہا ہے ٹیبل کے نیچے باہر آؤں تینوں ۔”۔۔۔مما کی با رعب آواز پر پاپا مجھے گھورتے ہوئے باہر آئے میں اور ماہم بھی چپ چاپ ٹیبل سے نکلے اور کیک بھی ٹیبل کے اوپر رکھ دیا مما نے ایک نظر ہم تینوں پر ڈالی دوسری نظر کیک پر
“کیا ہے یہ سب ۔۔۔۔۔یہ کون سا وقت ہے چوروں کی طرح چھپ کر کیک کھانے کا ۔۔۔۔رضا آپ بھی بچوں کو سمجھانے کے بجائے خود انکے ساتھ ٹیبل کے نیچے بیٹھ کر کھارہے ہیں ۔۔۔۔”
“ہاں تو بھوک لگ رہی تھی ۔۔۔۔تم نے تو اس نا جانے کس پاگل ڈاکٹر کے کہنے پر سب کچھ بند کر دیا ہے میرا ۔۔۔۔اور میٹھے کے تو قریب بھی جانے نہیں دیتی” ۔۔۔۔پاپا کے شکوے شروع ہو چکے تھے
“آپ کی شوگر باڈر لائن بن پر ہے اگر پرہیز نہیں کریں گئے تو شوگر ہو بھی سکتی ہے ۔۔۔۔۔اور تم دونوں۔ بھی باپ کے ساتھ مل گئے ہو ۔۔۔۔اور یہ کیک ۔۔۔یہ کیک کون لایا ہے “۔۔۔۔مما نے ابرو چڑھاتے ہوئے غصے سے پوچھا
“وہ مما میں لایا تھا” ۔۔۔۔میں نے بڑی شرافت سے اعتراف کیا
“کس خوشی میں ۔۔۔۔”
“مما ماہی کو بھوک لگ رہی تھی”” میرے صاف جھوٹ پر ماہم نے غصے سے مجھے دیکھا
“ماہم کا بہانہ مت بناؤ ۔۔۔یہ سب تم دونوں باپ بیٹے کی ملی بھگت ہے ۔۔۔۔۔ماہم تو ویسے ہی بہت سیدھی ہے اسکے دماغ کا آئیڈیا نہیں ہے یہ “
۔۔۔۔مما کا اندازہ سو فیصد درست تھا
“باپ نہیں تمہارے چہتے کی اپنی کارستانی ہے یہ۔۔”۔پاپا نے مجھے گھورتے ہوئے کہا اور کیک کا ایک بڑا پیس منہ میں ڈال لیا
“یہ کیک توآپ مجھے دیں” ۔۔۔۔مما نے پاپا کے ہاتھ سے کیک لے لیا ۔۔۔۔
“ارے یہ ہاتھ والا تو کھانے دو اتنے سے کیک سے کونسی شوگر ہو جائے گی” ۔۔۔پاپا نے اصرار کیا مگر مما نے کیک واپس پلیٹ میں رکھ دیا
“جی نہیں ۔۔۔۔اور تم لوگ جلدی سے ختم کرو یہ اور جاؤں اپنے اپنے کمروں میں”۔۔۔۔مما مجھے گھورتے ہوئے ۔۔۔پاپا کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کچن سے باہر لے گئیں مما کے جاتے ہی ماہم کے زور دار مکے سے میں ہڑبڑا سا گیا ۔۔۔
“میرا نام لیکر جھوٹ کیوں بول رہے تھے” ۔۔۔۔ماہم نے تیکھے لہجے میں کہا اور میں اپنا بازو سہلانے لگا
“اسلئے کہ مجھے پتہ تھا کہ مما تمہیں کچھ نہیں کہیں گی “۔۔۔۔ماہم کرسی کھنچ کر بیٹھ گئ اور اپنا کیک کھانے لگی میں بھی اسکے برابر والی کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔اور کیک کھانے لگا ۔۔۔۔جس مزے سے ماہم کیک کھا رہی تھی مجھے پتہ تھا کہ کیک اسے پسند آیا ہے ورنہ جس قدر وہ غصے میں تھی کیک وہیں چھوڑ کر چلی جاتی ماہم کو کھاتے دیکھ کر میرے دل میں یہ خواہش جاگی کہ ماہم میرے لائے ہوئے کیک کی تعریف کرے ۔۔۔ماہم کو چوکلیٹس بہت پسند تھی خاص طور پر آئسکریم اور کیک میں وہ چوکلیٹ فلیور کا ہی پسند کرتی تھی
“ماہی کیک کیسا ہے” ۔۔۔۔جب ماہم نے تعریف کرنے میں اس قدر کنجوسی سے کام لیا تو ڈھیٹ بن کر میں نے خود ہی اس سے پوچھ لیا ۔۔۔۔
“ایک دم بکواس “۔۔۔۔ماہم نے ناک چڑھا کر کہا تو میں تپ سا گیا
“جھوٹ مت بولو اگر بکواس ہوتا تو تم ہاتھ بھی نہیں لگاتی ۔۔۔میں نے خاص تمہاری پسند سے ذیادہ چوکلیٹ دلوائی تھی ممکن ہی نہیں ہے کہ تمہیں پسند نا آئے “میں نے پورے وثوق سے کہا
“جب تمہیں پتہ ہے عفان تو پوچھ کیوں رہے ہو ۔۔۔۔”۔ماہم نے لا پروائی سے جواب دیا اور باقی کا بچا کیک فریج میں رکھ دیا ۔۔
اگلے روز میں نے وہ گفٹ اور کارڈ ماہم کو دیا تو کچھ دیر وہ مجھے حیران پریشان دیکھتی رہی ۔۔
عفان یہ ۔۔۔۔یہ تم نے میرے لئے لیا تھا ۔۔۔۔۔لیکن ۔۔۔۔وہ تذبذت کا شکار ہو رہی تھی
رکھ لو ماہی یہ تمہارے برتھ ڈے کا گفٹ ہے ۔۔۔مجھے نہیں معلوم لڑکیوں کو کیا پسند آتا ہے اگر میں اپنی مرضی سے لےلیتا اور تمہیں پسند نا آتا تو مجھے بیحد افسوس ہوتا۔۔۔۔اس لئے سوچا کہ تمہارا تحفہ تمہاری پسند کا ہونا چاہیے ۔۔۔۔میری وضاحت پر ماہم نے گفٹ رکھ لیا
