Tadbeer by Umme Hani NovelR50414

Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 15 (Part 1)

458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 15 (Part 1)

Tadbeer by Umme Hani

پریشانی سے میرے پسینے چھوٹ رہے تھے ۔۔۔جہاں تک میں نے کامران کا پیچھا کیا تھا وہاں تک کے ۔قریبی ہاسپٹل بھی ہم نے دیکھ لئے مگر کامران کا کچھ پتہ نہیں چلا دو گھنٹے کی مسلسل تگ و دو کہ بعد بھی ہم نا کام ہی واپس ہال میں داخل ہوئے ۔۔۔۔سب شاید ہمارے ہی منتظر تھے ۔۔۔۔مما بھی مجھ سے کامران کا پوچھنے لگیں ۔۔۔۔پاپا ایک کرسی پر سر جھکائے بیٹھے تھے ماہم دلہن بنی تیز قدموں سے وڈنگ روم سے نکل کر کچھ فاصلے پر کھڑی ہو گی مما اب زار و قطار رونے لگیں ۔۔۔۔میں نے مما کر تھامے ایک کرسی پر بیٹھا دیا سب کی آنکھوں میں کلبلاتے سوال تھے ۔۔۔۔نکاح خواں بار بار دولہے کو بلانے کا اصرار کر رہا تھا ۔۔۔۔ممانی تو جیسے پھٹ پڑیں

“ہائے آپاں میری بچی کی تو زندگی برباد ہو گئ ۔۔۔۔کیسا ظلم ڈھایا ہے کامران نے نازک سی یتیم بچی پر ۔۔۔۔ارے میں پوچھتی ہوں آپاں میری ماہم کا کیا قصور ہے “۔۔۔۔۔ممانی مما سے پوچھنے لگیں مما تو بس بتدریج روئے جا رہیں تھیں

“پلیز ممانی چپ ہو جائیں” ۔۔۔۔میں نے دبے لہجے میں التجا کی تھی

‘ہائے ہائے میاں کیسے چپ ہو جاؤں کیسی کالک ملی ہے کامران نے میری پھول سی بچی کے منہ پر ۔۔۔بھلا کون بہائے گا اب ماہم کو ۔۔۔۔خدا جھوٹ نا بلوائے ۔۔۔ اگر میرا کوئی بیٹا ہوتا تو میں تو اپنی عزت کی چادر سے ڈھانپ لیتی اپنی بچی کو ۔”۔۔۔ممانی مکر کے آنسوں ڈوپٹے سے صاف کرتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔ماہم ایسے کھڑی تھی جیسے بے جان بت کھڑا ہو نا وہ رو رہی تھی نا بول رہی تھی بس ہال کے بیرونی حصے پر نظریں جمائے ہوئے تھی جیسے ابھی بھی اسے کامران کے آنے کی امید تھی

“ممانی کی باتیں ہی کچھ کم نا تھیں کہ منور ماموں بھی بھبک کر بولے۔۔۔

“لو یہ ورطیرہ ہے اس لڑکے کا اگر شادی نہیں کرنی تھی تو پہلے ہی انکار کر دیتا یوں ہماری بچی کو رسوا تو نا کرتا ۔۔۔۔”

“خدا کے لئے ماموں خاموش ہو جائیں ۔۔۔آ جائیں گئے بھائی۔۔۔۔”میرے بات پر ممانی بھڑک کر بولیں

“ارے رہنے دو میاں وہ نہیں اب آنے والا ۔۔۔۔ہماری بچی کی تو عزت کی دھجیاں بکھیر کر چلا گیا ۔۔۔۔اسکے تو منگنی پر تیور اور رنگ ڈھنگ ہی نرالے تھے کیسے کیسے تماشے کرتا پھر رہا تھا ۔۔۔سچ ہی کہتے ہیں یتیم بچی کی عزت کا پاس کوئی نہیں رکھتا ۔۔۔۔ اگر ماہم کے ماں باپ زندہ ہوتے تو بھلا ہوتی کامران کی ایسی جرت ۔۔۔۔اسے تو خوب پتہ ہے کہ ماں باپ تو اسکے اپنے ہیں ۔۔۔۔اسے بھلا کیا کہہ دیں گئے ۔۔۔”۔ممانی نا جانے کیوں ہمہیں مزید ذلیل کرنے پر تلی ہوئیں تھیں اسکی زبان دل پر چھید کر رہی تھی ۔۔۔ماموں منور بھی شروع ہو گئے

“برا مت منایے گا بھائی صاحب مگر یہ کوئی وجہ نہیں تھی کامران کے غائب ہونے کی۔۔۔۔۔بھلا یہ بھی کوئی بہانا ہوا ۔۔۔۔۔۔ ماہم کا اب آپ کے گھر رہنا مناسب نہیں ہے ۔۔۔ اب وہ ہمارے پاس رہے گئ ۔۔۔کامران نے جو حرکت ۔۔۔۔”

“مر گیا کامران میرے لئے ” ۔۔۔۔پاپا یک دم سے اشتعال سے چلا کر بولے منور ماموں کی بات بیچ میں ہی رہ گئ ممانی بھی ڈر کر ذرا سی پیچھے ہٹ گئیں

“مر گیا وہ میرے لئے ۔۔۔۔۔اور ماہم میری بیٹی ہے ۔۔۔میری۔۔۔۔ ہمیشہ میرے پاس رہے گی”پاپا نے شدت جذبات سے سرخ ہوتے چہرے سے کہا

“ارے بھائی صاحب اسے کیسے رہے گی ۔۔۔۔کس رشتے اور حیثیت سے۔۔۔۔”ممانی پھر سے بول پڑیں

” ۔میری بیٹی اور بہو کی حیثیت سے ۔۔۔ماہم کا نکاح آج ہی ہو گا اور اسی وقت ہو گا ۔۔۔۔ قاری صاحب آپ نکاح کی تیاری کریں میری بچی میری عزت ہے ۔۔۔۔اور پوری عزت سے میرے گھر جائے گی عفان تم نکاح کرو گئے ماہم سے ابھی اور اسی وقت ۔”۔۔۔۔پاپا کی بات اتنی غیر متوقع تھی کہ کچھ پل میں چکرا کر رہ گیا ۔۔۔۔

“پاپا”۔ ۔۔۔۔مجھے لگا میرے سر پر ہتھوڑاسا لگا ہو پورے ہال میں سناٹا چھا گیا سب کی بھانت بھانت کی چہ میگوئیہ ختم ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔۔پاپا میرے مقابل آ کر کھڑے ہو گئے انکی آنکھوں سے آنسوں تواتر سے بہہ رہے تھے

“پاپا پلیز ۔۔۔یہ میں نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ماہی کامران بھائی کو چاہتی ہے اور کامران بھائی ماہی کو ۔۔۔۔ہم کامران بھائی کا انتظار کر لیں گئے ۔۔۔۔”

“عفان تم ایک لفظ بھی نہیں کہو گئے بس۔۔۔۔۔ اس وقت ماہم کی عزت بچانا ضروری ہے ۔۔ ۔۔۔۔ تم ماہم سے نکاح کر رہے ہو۔۔۔۔ ابھی اور اسی وقت “۔۔۔میرے ہونٹ جیسے سل کر رہ گئے پاپا کے آنسوں ابھی بھی آنکھوں سے بہہ رہے تھے ۔۔۔۔میں نے پاپا کے آنسوں صاف کیے کچھ دیر ان کے چہرے پر چھائی بے بسی دیکھنے لگا ۔۔۔۔کس قدر مجبور لگ رہے تھے ۔۔۔۔مہ۔ بھ بس ہونے لگا

“جیسا آپ چاہتے ہیں ویسا ہی ہوگا ۔۔۔آپکے آنسوں نہیں دیکھ سکتا میں۔۔۔۔ آپ ماہی سے پوچھ لیں ۔۔۔۔”۔پاپا نے مجھے گلے لگا لیا

“ماہم میری بیٹی ہے ۔۔۔۔میں خود بات کرو گا اس سے “۔۔۔پاپا مجھ سے الگ ہوئے اور ماہم کا ہاتھ پکڑے اسے وڈنگ روم میں لے گئے وہ کسی بے جان مومی گڑیا کی طرح انکے ساتھ چلتی چلی گئ ۔۔۔۔اسکے چہرہ سپاٹ تھا ۔۔۔۔جیسے وہ یہ سب ابھی تک ایکسپٹ ہی نہیں کر پائی تھی ۔۔۔۔۔۔وہاں موجود سب لوگوں کے ہوتے ہوئے موت جیسا سناٹا تھا سب کی نظریں وڈنگ روم کی طرف ہی تھیں پاپا ماہم کے ساتھ ہی واپس آئے

وہ کسی کٹ پتلی کی طرح پاپا کے ہمراہ گول رکھے میز کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گئ ۔۔۔ ۔پاپا نے مجھے اسکے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔میں بھی خاموشی سے اسکے برابر بیٹھ گیا ۔۔۔۔نکاح کا خطبہ کب شروع ہوا کب ختم میرا ذہن تو کسی چکر کے گرد گھوم رہا تھا ۔۔۔۔۔ماہم میری خواہش تھی۔۔۔۔ اولین خواہش۔۔۔ میری محبت بھی مگر وہ یوں مجھے ملے گئ یہ تو میرے تصور میں بھی نہیں تھا ۔۔۔۔نکاح نامے پر سائن کرتے ہوئے ماہم کا پورا وجود کپکپا رہا تھا اسکے مہندی سے سجے ہاتھوں پر کامران کے نام کا پہلا حرف اب بھی صاف دیکھائی دے رہا تھا ۔۔۔۔ماہم کے ہاتھوں میں اتنی لرزش تھی کہ وہ با مشکل سائن کر رہی تھی ۔۔۔آنکھوں سے بہتے آنسوں سے سیاہی گھلنے لگی تھی ۔۔۔ایجاب و قبول کا مرحلہ بھی ایسے ہوا کہ ہم دونوں کی آواز ہمارا ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔۔۔۔کافی مہمان جا چکے تھے ۔۔۔۔۔رخصت ہو کر پہلے بھی اسے ہمارے گھر ہی آنا تھا مگر خوشیوں کے ساتھ ۔۔۔۔گاڑی میں ماہم پچھلی نشست پر مما کے ساتھ بیٹھ گئ گاڑی میں نے ہی ڈرائیو کی پاپا میرے برابر میں بیٹھ گئے پورے راستے مما روتی رہیں

********

گاڑی کی سیٹ پر ٹیک لگائے ماہم صفیہ بیگم کی سسکیاں سن رہی تھی ۔۔۔۔۔

“ماہم باجی وہ لوگ آ گئے ہیں “

“کامران آ گیا ۔۔مجھے معلوم تھا وہ ضرور آئے گا ” ماہم مسکرانے لگی

کشف کی بات سنتے ہی وہ وڈنگ روم سے بھاگتے ہوئے باہر آئی تھی ۔۔۔۔ مگر کامران کہیں نہیں تھا ۔۔۔۔۔صفیہ بیگم رو رہیں تھیں عفان انہیں سنبھالے ہوئے تھا رضا صاحب کرسی پر سر جھکائے بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔۔ماہم گم صم سی ہو گئ تھی نزہت بیگم کیا کہہ رہیں تھیں ۔۔۔۔منور ماموں رضا صاحب سے کیا بات کر رہے تھے لوگ کن نظروں سے ماہم کو دیکھ رہے ماہم کو کسی بات کی ہوش نہیں تھی ۔۔۔۔۔

“کامران کیون نہیں آیا ۔۔۔۔۔ایسا کیسے کر سکتا ہے وہ میرے ساتھ ۔۔۔۔”اس وقت ماہم کا ذہن بس اسی ایک نقطے پر ٹہر گیا تھا ۔۔۔۔۔۔

ہوش اسے اسوقت آیا جب رضا صاحب اس کا ہاتھ پکڑے اسے وڈنگ روم میں لے گئے ۔۔۔۔۔یہ ایک بہانک خواب نہیں ۔۔۔اسکی زندگی کا بہانک باب تھا ۔۔۔۔۔رضا صاحب ماہم کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے تھے

“بٹیا معاف کر دو مجھے ۔۔۔۔۔ تمہارا گنہگار ہوں میں ۔۔۔۔یہ نا سمجھنا کہ تمہارے سامنے تمہارا رضا انکل کھڑا ہے ۔۔۔یہ سمجھو کہ تمہارے سامنے تمہارا باپ بے حد مجبور ہو کر تم سے اپنی بیٹی کی عزت کی بھیک مانگ رہا ہے ۔۔۔۔۔ماہم تم میری عزت ہوں میری بچی ۔۔۔۔آج اگر تمہارا نکاح نا ہوا تو میں لوگوں کی زبان کو روک نہیں پاوں گا ۔۔۔نا ہی تم پر اٹھنے والی انگلیوں کو روک سکوں گا ۔۔۔۔۔اسوقت مجھے صرف تمہاری عزت کا خیال ہے “۔۔۔۔۔۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ۔۔۔۔ماہم نے انکے جڑے ہوئے ہاتھوں پر اپنے سرد اور کپکپاتے ہوتے ہوئے ہاتھ رکھ دیے ۔۔۔۔۔ماہم پر انکے کم احسان تو نا تھے ۔۔اگر رضا صاحب ماہم سے اسکی زندگی بھی مانگ لیتے تو وہ تب بھی انکار کی متحمل نہیں تھی ۔۔۔۔۔پھر یہ تو عزت کی بات تھی اسکی اپنی عزت کی ۔۔۔۔کپکپاتے ہاتھ اسنے رضا صاحب کے جوڑے ہاتھوں پر رکھ دیے اور لزرتے ہونٹوں سے بامشکل وہ بولی

“آپ جیسا چاہیے گئے انکل ویسا ہی ہو گا ۔”۔۔۔یہ الفاظ با مشکل ہی اس کے لبوں سے ادا ہوئے تھے ۔۔۔۔۔رضا صاحب نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا ۔۔۔۔۔اپنے آنسوں صاف کیے ماہم کا سر اپنے کندھے سر لگایا ۔۔۔۔اور اسے ساتھ لگائے باہر لے آئے ۔۔۔۔۔ماہم گم صم تھی خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔نکاح نامے پر سائن کرتے وقت اس کے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے ۔۔۔۔

“تو یہ ماہم تمہاری قسمت ۔۔۔۔ماہم افتخار سے ماہم عفان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم اپنی آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔۔آنکھوں میں ٹہرے آنسوں رخساروں پر گرنے لگے ۔۔۔۔۔

“اس ایک شخص کی غیر موجودگی نے مجھے عفان سے نظریں ملانے کے قابل نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔۔۔میرا بہترین دوست تھا وہ ۔۔۔۔کیسے زبردستی نا چاہتے ہوئے ہم ایک ایسے رشتے میں جڑ چکے تھے جس کی چاہ ہم دونوں کو کبھی نہیں تھی ۔۔۔۔کامران ۔۔تم نے کیا کیا میرے ساتھ ۔۔۔۔کیوں کیا ۔۔۔۔مجھے عفان کے سامنے شرمندہ کر دیا ۔۔۔۔۔ماہم کے آنسوں سے اسکے دستخط کی سیاہی گھلنے لگی تھی۔۔۔۔کس مقام پر لا کر کھڑا کر دیا تھا کامران نے ماہم کو ۔۔۔۔۔آدھے۔۔سے ذیادہ ہال خالی ہو چکا تھا ۔۔۔۔صرف چند دوست احباب اور خاندان کے کے چند لوگ تھے ۔۔۔۔۔آج ماہم کو دعاؤں میں رخصت ہونا تھا ۔۔۔۔نئ حیثیت سے اس گھر میں قدم رکھنا تھا ۔۔۔۔۔آج صبح ہی صفیہ بیگم نے ماہم کا ماتھا چومتے ہوئے پیار بھرے لہجے سے کہا تھا

“جانتی ہو ماہم میں بچپن سے تمہیں کبھی خالہ اور رضا انکل کہنے سے کیوں نہیں ٹوکا ۔۔۔نا کبھی تمہیں اس بات پر زور دیا کہ تم بھی مجھے کامران اور عفان کی طرح مما پاپا کہو ۔۔۔۔اس لئے کہ میری بچپن سے خواہش تھی کہ تم میری بہو بن کر ہمیشہ میرے پاس رہو میرے کامران کی دلہن بن کر ۔۔۔دیکھوں میری یہ خواہش بھی پوری ہو گئ ۔۔۔آج جب۔ تم رات کو ہال سے واپس گھر پر آؤں گی تمہاری حیثیت بدل چکی ہو گی ۔۔۔تم بیٹی کے ساتھ ساتھ اس گھر کی بڑی بہو بھی بن جاؤ گی ۔۔۔۔۔”حیثیت تو اسکی واقع بدل گئ تھی ۔۔۔۔بہو بھی وہ اس گھر کی بن چکی تھی ۔۔۔بس کامران کی بیوی نہیں بن پائی۔۔۔۔۔صفیہ بیگم کی سسکیاں ماہم سن رہی مگر چپ تھی ایک آنسوں اسکی انکھ سے نہیں۔ ٹپکا تھا ۔۔۔عفان اور رضا صاحب گاڑی کے اگلی نشستوں پر ہی بیٹھے تھے مگر کسی نے بھی صفیہ بیگم کو چپ کروانے کی کوشش نہیں کئ ۔۔۔۔ایک قیامت آئی اور آ کر گزر گئ ۔۔۔۔۔اب صرف اسکی تباہ کاریاں تھیں جیسے جھیلنا تھا گاڑی کے ہارن پر ۔۔۔۔کریم بابا نے دروازہ کھولا ۔۔۔۔گھر اب بھی رنگ برنگے برقی قمقموں سے روشن تھا ۔۔۔۔جگمگارہاتھا ۔۔۔۔۔کریم بابا ۔۔۔راشد اور رانی ہر بات سے بے خبر نئ دلہن کے استقبال کے لئے پھولوں کی پلٹیں ہاتھ میں لئے کھڑے مسکرا رہےتھے ۔۔۔گاڑی اندر داخل ہوتے ہی ۔۔۔۔صفیہ بیگم گاڑی کا دروازہ کھولے روتے ہوئے لاونج کے مرکزی دروازے کی طرف بڑھ گئیں ۔۔۔۔۔عفان بھی گاڑی سے اتر کر صفیہ بیگم کے پیچھے ہی بھاگا تھا ۔۔۔۔۔رانی زرق برق لباس پہنے ہاتھوں میں پھولوں کی پتیاں پلیٹ میں لئے پوری بانچھیں کھولے ہنس رہی تھی راشد بھی اپنے دانت نکالے ہنس رہا تھا مگر صفیہ بیگم کو روتے ہوئے جاتے دیکھ کر دونوں ہی چپ ہو گئے چہرے کے تاثرات بھی بدل گئے ۔۔۔ماہم اب بھی گاڑی کے پیچھے بے جان بت کی طرح بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔رضا صاحب گاڑی سے نیچے اترے رانی اور راشد کو پھولوں کی پلٹیں اندر رکھنے کے لئے کہا وہ دونوں خاموشی سے اندر چلے گئے ۔۔۔گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر ماہم کا ہاتھ تھامنے اسے نیچے اترنے میں مدد کی وہ خاموشی سے نیچے اتر گئ ۔۔۔۔ماہم کا سر اپنے کندھے کے ساتھ لگایا اس کے سر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگے

“تم میری بہت پیاری اور خوش نصیب بیٹی ہو ۔۔۔۔بد قسمت تو کامران نکلا وہ اس قابل ہی نہیں تھا کہ تم جیسی پیاری سی لڑکی کا نصیب بنتا ۔۔۔عفان بہت اچھا ہے بٹیا تمہارا بہت خیال رکھے گا ۔۔۔تم نے آج میری عزت رکھ کر میری بیٹی ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔۔۔۔اب تم سے میرا ڈبل رشتہ ہے ۔۔۔میں خود پر جتنا ناز کرو ماہم اتنا ہی کم ہے” ۔۔۔۔۔ماہم چپ رہی ۔۔۔نا کچھ بولی نا ہی روئی رضا صاحب اسے اپنے ساتھ لگائے اندر لاونج میں۔ داخل ہوئے ۔۔۔۔سامنے صفیہ بیگم نڈھال سی صوفے پر بیٹھی رو رہی تھیں عفان زبردستی انہیں پانی پلا رہا تھا ۔۔۔۔۔

“مجھے کچھ نہیں پینا عفان ۔۔۔۔”

“مما پلیز صرف تھوڑا سا پی لیں آپکی طعبیت خراب ہو جائے گی” ۔۔۔۔رضا صاحب بھی ماہم کو چھوڑ کر صفیہ کے پاس آ گئے ۔۔۔۔

“صفیہ سنبھالو خود کو ۔۔۔اس بد بخت کے لئے تمہیں خود کو ہلکان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے “

“رضا وہ ایسا نہیں ہے ۔۔۔۔۔یوں نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔”

“بس بھی کرو صفیہ۔۔۔۔۔۔”ماہم اب بھی سامنے خاموش کھڑی تھی ۔۔۔۔۔۔صفیہ بیگم نے جب ماہم کو سامنے بت بنے دیکھا تو اٹھ کر ماہم کے پاس آ کر اسکے گلے لگ کر رونے لگیں ۔۔۔۔ماہم تب بھی نہیں روئی ۔۔۔اسکے تو جیسے سارے آنسوں ہی خشک ہوگئے تھے ۔۔۔۔۔۔بلکل بے جان سی جو آنسوں بھی خود سے نہیں بہا سکتی تھی

” میری بچی ۔۔۔۔میری ماہم ۔۔۔۔۔تمہاری آروزوں کو نوچ کے پھنک دیا اس نے ۔۔۔۔کیوں کیا کامران ۔۔۔کیوں کیا تم نے ۔۔۔۔۔ایک بار نہیں سوچا کہ میری بچی ۔۔۔ کیسے برداشت کرے گی اور کیسے سہے گی ۔۔۔کامران تم نے مجھے میری بہن کی روح کے سامنے شرمندہ کر دیا ۔۔۔قیامت والے دن وہ میرا گریبان پکڑے گی۔۔کیا جواب دونگی میں اسے “صفیہ بیگم ماہم کو گلے لگائے اپنے حواس کھونے لگی۔ تھیں وہ چپ سادھے سن رہی تھی ۔۔۔۔عفان اور رضا صاحب دونوں انکے قریب۔ آ گئے ۔۔۔

“مما کیوں سوچ رہیں یہ سب “۔۔۔۔۔پانی پئیں عفان نےصفیہ بیگم کو صوفے پر دوبارہ بیٹھایا سینٹرل ٹیبل پر رکھے گلاس میں پانی ڈال کر صفیہ بیگم کو پلانے لگا ۔۔۔۔ صفیہ بیگم کی حالت غیر ہو رہی تھی ان پر غشی طاری ہونے لگی تھی رضا صاحب بھی ان کے پاس پہنچ گئے

“صفیہ صفیہ خدارا سنبھالو خود کو’ ۔۔۔۔وہ صفیہ بیگم کے گال تھتھپانے لگے۔۔۔۔۔صفیہ بیگم نے آنکھیں کھولیں پھر سے رونے لگیں ۔۔۔۔سامنے ماہم بلکل سکتے کے عالم میں کھڑی تھی ۔۔۔۔۔ بنا حرکت کے کھڑی رہی ایک آنسوں بھی اس کی آنکھ سے نہیں بہا ۔۔۔۔پاپا نےمما قریب آکر انہیں دونوں بازوں سے پکڑ لیا ۔۔۔۔

“بس کر دو صفیہ چلو اندر چل کر آرام کرو وہ مما کو کمرے میں۔ لے گئے

*********

جو کچھ ہو چکا تھا میں خود پریشان تھا گھر آ کر مما کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا پاپا انہیں کمرے میں لے گئے لاونج میں میرے اور ماہم کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا

۔۔۔۔میں بھی خاموشی سے اپنی جگہ کھڑا رہا ۔۔۔۔۔کیا بات کرتا ماہم سے کیسے تسلی دیتا اسے۔۔۔۔۔عجیب سی کشمش کا شکار ہونے لگا تھا ۔۔۔۔پاپا دوبارہ باہر آئے ہم دونوں کو یوں کھڑے دیکھ کر مجھ سے مخاطب ہوئے

“عفان بٹیا کو اوپر لے جاو ۔۔۔۔۔۔اسے اسوقت آرام کی ضرورت ہے ۔۔۔۔”

“پاپا وہ مما اب ٹھیک ہیں ۔۔۔۔”

“ہاں ہو جائے گی ٹھیک میں نے نیند کی دوا کھلا دی ہے ۔۔۔۔تم بھی جاؤں آرام کرو جا کر ۔”۔۔۔۔ پاپا بہت پریشان اور فکر مند تھے ۔۔۔میں دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا ہوا ماہم کے قریب آ کر اسےنرمی سے پکارنے لگا

“ماہم ۔۔۔۔اوپر چلو ” ۔۔۔۔مگر وہ ویسے ہی کسی بے جان مجسمے کی طرح کھڑی رہی میرے دو تین دفع پکارنے پر بھی اس کا جمود ویسے ہی قائم تھا ۔۔۔میں نے ماہم کا ہاتھ پکڑا اور اسے اوپر لے گیا ۔۔۔۔وہ بھی خاموشی میرے ساتھ چلتی چلی گئ میں نے ماہم کے کمرے کا دروازہ کھولا تا کہ ماہم کو کمرے میں لے جا سکوں مگر اس نے اپنے قدم کمرے کی دہلیز پر ہی جما دیے

“رک کیوں گئ ہو ماہم جاؤں اپنے کمرے میں آرام کرو ۔۔۔”

“میرا کمرہ ۔۔۔۔۔کون سا ہے میرا کمرہ عفان” ۔۔۔۔۔ماہم کی چپ کا قفل اب کھلا تھا وہ خالی خالی آنکھوں سے مجھے دیکھ کر پوچھنے لگی جن آنکھوں میں آج ڈھیر سارے خواب مچلنے چاہیے تھے وہاں ویرانیوں کا بسیرا تھا ۔۔۔۔

“یہ کمرہ جس میں نے اپنی زندگی کے پچھلے کئ سال گزاریں ہیں ۔۔۔۔۔یا وہ۔۔۔۔۔جو آج میرے لئے سجایا گیا تھا جہاں میں نے اپنے خوابوں کو سینچنا تھا ۔۔۔۔یا پھر یہ تمہارا کمرہ جہاں اس حیثیت سے جانے کا میں نے کبھی تصور ہی نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں جاؤں میں بتاؤں مجھے ۔”۔۔۔۔۔وہ باری باری ہم تینوں کے کمروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھ سے پوچھنے لگی ۔۔۔۔اسکی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے ۔۔۔۔میں بس خاموشی اور بے بسی سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔آنسوں اسکی آنکھوں سے بہہ کر اسکے رخسار بھگونے لگے

“پتہ ہے عفان آج پہلی بار مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ میں یتیم ہو گئ ہوں ۔۔۔۔بلکل بے سہرا ۔۔۔۔بے آسرا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ہچکیوں سے سے رونے لگی تھی

“۔پہلی بار مجھے یہ گھر۔۔۔۔ اسکی در و دیوار اجنبی سی لگ رہیں ہیں ۔۔۔۔۔مجھے اپنا آپ بے وقعت سا محسوس ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔مجھے بتاوں عفان کامران نے ایسا کیوں کیا میرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔”اب وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی ۔۔۔میں خاموش کھڑا رہا اسے سننا چاہتا تھا تاکہ وہ اپنے دل کی ہر بات کہہ کر اپنا دل ہلکا کر لے ۔

“میں نے اس کا ساتھ چاہا ضرور تھا عفان ۔۔۔۔مگر کبھی زبردستی اس سے مانگا تو نہیں تھا ۔۔۔۔ اس نے خود۔۔۔۔۔تمہیں پتہ ہے اس نے خود ۔۔۔ اس بات کا اظہار کیا تھا مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔ عفان پھر وہ کیوں مجھے چھوڑ کر چلا گیا ۔۔۔۔۔کیوں مجھے رسوا کیا ۔۔۔۔۔کیوں ۔۔۔۔مجھے “۔۔۔۔۔وہ دونوں ہاتھوں سے منہ چھپائے ہچکیوں سے رونے لگی ۔۔۔۔۔کافی دیر وہ یونہی روتی رہی ۔۔۔۔

“ماہی ۔۔۔۔۔چپ ہو جاؤں پلیز ۔۔۔۔چلو کمرے میں ۔۔۔”۔میں سے بازو سے پکڑ کر اسکے کمرے میں لے آیا سے بیڈ پر بیٹھایا ۔۔۔۔اسوقت میرے پاس کوئی لفظ نہیں تھا جو ماہم کے دکھوں کا مداوا کرتا ۔۔۔۔میں نے اس سے کچھ کہا بھی نہیں بس خاموشی سے سے کمرے میں چھوڑ کر باہر نکل گیا