Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 4
Rate this Novel
Tadbeer Episode 4
Tadbeer by Umme Hani
کالج میں میری دوستی قاسم سے ہوئی تھی۔۔۔۔وہ بھی میری طرح پری انجرنگ کا اسٹوڈنٹ تھا اسکی ڈرافٹنگ بہت اچھی تھی ۔۔۔۔مگر باقی چیزوں میں دلچسپی کم تھی اسکے والد خود بھی اسی لائن سے منسلک تھے ۔۔۔۔اور یہاں پڑھنا بھی قاسم سے ذیادہ اسکے والد کی خواہش تھی ۔۔۔۔۔کبھی کبھی وہ مجھے اپنے ساتھ اپنے والد کے آفس میں لے جاتا ۔۔۔۔میری اس کے والد سے اچھی بات چیت ہو چکی تھی پھر وہ مجھ سے اسی شعبہ کے مطالق کافی کچھ پوچھتے رہتے ۔۔۔میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے مجھے آفر بھی کی کہ میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ کچھ دیر انکے آفس کو بھی جوائن کر لو پرکٹیکلی مجھے کافی کچھ سیکھنے کو ملے گا ۔۔۔۔۔لیکن میں صرف اپنی پڑھائی پر ہی فوکس کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔کالج میں ذیادہ تر اپنی گاڑی میں جاتا تھا مگر کبھی کبھی پبلک ٹرانسپورٹ ضرور یوز کرتا
تھا ۔۔۔۔میرا زندگی گزارنے کا اپنا ہی فلسفہ تھا کہ ہزار آسائشوں کے ہوتے ہوئے بھی بندے کو عام انسانوں کی طرح بھی زندگی گزارنے کا ڈھنگ آنا چاہیے ۔۔۔۔۔حالانکہ گھر میں ہر سہولت موجود تھی مگر پھر بھی مجھے یہ سب اچھا لگتا تھا ۔۔۔۔ماہم کو کالج ذیادہ تر ڈرائیور کی ڈرواپ اور پک کرتا تھا لیکن اگر میں جلدی فری ہو جاتا تو میں اسے کالج سے پک کر لیتا تھا ۔۔۔۔۔آج ہمارا آخری پیپر تھا اس لئے ہم جلد ہی فری ہو گئے ۔۔۔میرا ارادہ گھر جا کر آرام کرنے کا تھا ۔۔۔مگر قاسم زبردستی مجھے کالج سے اپنے ساتھ شاپنگ مال طرف لے جانے کا کہنے لگا۔۔۔ اسے کچھ شاپنگ کرنی تھی ۔۔۔۔لیکن بن موسم برسات نے اس کا ساراپلان چوپٹ کر دیا تھا ۔۔۔۔تیز وتند بارش نے بھگڑ سی مچا دی تھی ۔۔۔۔۔سڑکوں پر افراتفری روز مرہ سے زیادہ نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔۔ابھی بھی ہم ٹریفک سے پریشان سگنل کھلنے کا انتظار کر رہے تھے چونکہ گاڑی میری تھی اور ڈرائیو بھی میں خود کر رہا تھا توقاسم کا توفرض تھاسڑکوں پر
دوسرے مسافروں پر اپنے تبصرے جاری کرنا
“کیا بات ہے ان صاحب۔ کی بلکہ نہیں بات نہیں۔ ہمت مرداں کہو تو ذیادہ بہتر ہے ۔۔۔۔ایک عدد بھاری بھرکم بیوی کے ساتھ چار چار بچے ایک موٹر بائیک پر اس پر مہا جرت تو دیکھو ان صاحب کی کہ بائیک چلاتے ہوئے اپنا رخ رخسار پیچھے بیگم کی طرف موڑے نا جانے کون سا ضروری فرمان سن رہے ہیں ۔۔۔۔۔خدا نخواستہ سامنے سے اگر ٹکر ہو جائے تو۔۔۔۔ “میں پہلے ہی کوفت میں مبتلہ تھا رات بھر پیپر کی تیاری میں گزری تھی
“قاسم پلیز پہلے ہی تمہاری وجہ سے گھر کے بجائے یہاں سڑکوں پر خواری دیکھتے ہوئے مجھے تمہارے ساتھ آنے پر افسوس ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔پھر یہ بے موسم کی برسات اوپر سڑکوں پر پانی کے ساتھ ساتھ یہ گاڑیوں کے ہارن کا شور ۔۔۔۔پھر تمہاری رام کہانیاں۔۔۔۔ چپ نہیں ہو سکتے “۔۔۔۔میں عاجز آچکا تھا ۔۔۔۔۔سامنے ٹریفک سارجینٹ بھی برستی بارش میں گاڑیوں کو الگ الگ سمت میں چلانے میں نا کام دیکھائی دے رہا
تھا ۔۔۔۔۔
“تم تو سدا کے بیزار۔۔۔۔۔ بلکہ آدام بیزار انسان ہو “۔۔۔۔۔قاسم نے ناک چڑھاتے ہوئے اپنا چہرہ دوبارہ کھڑکی سے باہر موڑ لیا اور ادھر ادھر اپنی دلچسپی ڈھونڈنے لگا ۔۔۔۔۔
“او یار وہ دیکھ عفان کیا فلمی سین ہے “۔۔۔۔۔قاسم نے مجھے ہاتھ سے ہلاتے ہوئے کہا مگر میں نے توجہ نہیں۔ دی سامنے گاڑیوں کا رش کافی ختم ہو چکا تھا ۔۔۔۔ عنقریب ہی ہماری باری آنے والی تھی
قاسم نے مجھے الٹا ہاتھ مارا اور اپنے فلمی سین کی با۔ آواز کامنٹری سنانے لگا ۔۔۔۔
“ایک معمولی سی شکل وصورت کا نوجوان اور ایک پریشان حال کالج یونیفارم میں روتی ہوئی لڑکی ۔۔۔۔ مگر یہ رو کیوں رہی ہے ۔۔۔۔کہیں یہ لڑکا اسے اغوا کے ارادے سے تو نہیں لے جا رہا ۔۔۔کہیں یہ لڑکا ڈرا دھمکا کر اس لڑکی سے زبردستی نکاح کا خواہ تو نہیں یا پھر چھپا ہے کوئی اور راز ۔۔۔۔ کوئی دیکھے نا دیکھے شبیر تو دیکھے گا “۔۔۔۔۔قاسم کی بے فضول بکواس
کے باوجود بے ارادہ ہی میری نظر قاسم کی نظروں کا تعاقب کرتی ہوئی اس گاڑی کی طرف اٹھیں جس کی کہانی وہ کسی سنسنی خیز صحافی کی طرح سنانے کی کوشش کر رہا تھا اس لڑکے کا ذرا سا جائزہ لے کر جب میری نظر اس لڑکی پر پڑی تو اپنی سیٹ پر ہی اچھل کررہ گیا
“ماہی” ۔۔۔۔۔میں حیرت سے حلق کے بل چیخا قاسم بھی میری طرف دیکھنے لگا
“ماہی۔۔۔۔۔۔ کسی اجنبی لڑکے ساتھ ۔۔۔۔۔کیوں ۔۔۔”۔میرادماغ گھومنے لگا تھا
“کیا ہوا عفان تم جانتے ہو انہیں۔”۔ قاسم نے مجھے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
“یہ ۔۔۔۔یہ کزن ہے میری ۔۔۔۔لیکن یہ لڑکا ۔۔۔یہ کون ہے ۔۔۔”۔میں خود سے ہمکلام تھا ۔۔۔۔سامنے ہمیں گرین سگنل ملتے ہی میں اس گاڑی کا پیچھا کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی ساتھ ڈرائیور کو بھی کال کر کے موبائل اپنے کان پر لگا لیا میراذہن بہت بڑی الجھن کا شکار
تھا ۔۔۔۔قاسم نے مجھ سے دوبارہ کوئی استفسار نہیں کیا ۔۔۔۔خاموش ہی رہا ۔۔۔۔ڈرائیور نے کال اٹینڈ کی تو میں نے بنا تمہید باندھے بہت سخت لہجے میں ڈرائیور سے ماہم کے بارے میں دریافت کیا
“معلوم نہیں چھوٹے صاب ۔۔۔ میں تو انکے کالج کے باہر کھڑا ہوں سارا کالج خالی ہوگیا ہے پر ماہم بیٹی نا جانے ابھی تک باہر کیوں نہیں آئی” ۔۔۔۔میراغصے سے برا حال تھا میں نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھائی اور اس لڑکے کی گاڑی کو اوور ٹیک کرتا ہوا اسے ہارن دے کر رکنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔ماہم کی مجھ پر نظر پڑی تو اسنے مجھے آواز دے کر پکارا ۔۔۔۔۔ماہم اب بھی رو رہی تھی ۔۔۔۔وہ لڑکا ماہم کے مجھے پکارنے پر بوکھلا سا گیا ۔۔۔۔۔کچھ ہی فاصلے پر ایک گلی کا موڈ مڑتے میں نے گاڑی اس لڑکے کی گاڑی کے آگے لے جا کر روک دی ۔۔۔۔۔میں تیزی سے گاڑی سے باہر نکلا ۔۔۔۔۔وہ لڑکا اور ماہم بھی گاڑی سے اتر چکے تھے ۔۔۔۔۔ماہم تیزی میرے قریب آ گئ ۔۔۔
“عفان ۔۔۔۔۔عفان وہ ۔۔۔۔”
ماہم کا رنگ فق اور سفید سا پڑ گیا تھا روتے ہوئے اس سے بات بھی نہیں ہو پا رہی تھی ۔۔۔۔ وہ لڑکا جلدی سے بولا
“وہ میں انکی دوست کا بھائی ہوں ۔۔۔۔انکا ڈرائیور کالج نہیں پہچا تھا اس لئے میں انہیں ڈراپ “۔۔۔۔میں نے کڑی نظر اس پر ڈالی جیسے نظروں سے ہی اسے مار ڈالو گا ۔۔۔۔۔ماہم کو میں گاڑی میں بیٹھے کا اشارہ کرچکا تھا وہ فورا سے گاڑی میں بیٹھ گئ
“ڈرائیور ابھی بھی کالج کے باہر موجود ہے ۔۔۔۔اگر اسے پہنچنے میں ذراسی دیر ہو گئ تھی ۔۔۔۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ لفٹ دیتے رہیں ۔۔۔۔اور اگر آپ انکی دوست کے بھائی ہیں تو آپکی بہن کو بھی آپ کے ساتھ ہونا چاہیے تھا ۔”۔۔۔میرے نپے تلے اور برہم لہجے پر وہ اپنے پسنے پونچھنے لگا
“وہ بھی ساتھ تھی مگر میرا گھر راستے میں آچکا تھا اس لئے وہ گھر چلی گئ ۔۔۔۔”
“یہ کونسا طریقہ ہے بہن کی دوست کی مدد کرنے کا آپ کا گھر آگر راستے میں تھا بھی تب بھی آپکی بہن کو ماہم کو گھر تک چھوڑنے آنا چاہیے تھا ۔۔۔اپنی۔یہ ہیرو بنتی سے کسی اور کو بیوقوف بنانا ۔آج کے بعد ایسی کوئی زحمت تم ماہم کے لیے نہیں اٹھاو گئے ۔”۔۔۔میں نے انگلی اٹھا کر سخت تنبیہ کی ۔۔۔۔وہ لڑکا سر ہلاتے ہوئے جلدی سے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا ۔۔۔۔میں نے گاڑی کے پیچھے بیٹھی ماہم کو غصیلی نگاہ سے دیکھا تو وہ روتے ہوئے ذرا سی سہم گئ ۔۔۔۔میں فرنٹ سیٹ پر آ کر بیٹھا گیا قاسم بھی اب بیٹھ چکا تھا ۔۔۔۔۔میں نے گاڑی میں ماہم سے کوئی سوال نہیں کیا ۔۔۔۔قاسم بھی خاموش ہی رہا ۔۔۔۔میں نے قاسم کو اسکے گھر ڈراپ کیا پھر گاڑی اپنے گھر کے روڈ پر ڈال دی ۔۔۔۔۔۔بارش اب قدرے کم ہوچکی تھی ۔۔۔۔۔ماہم کی گھٹی گھٹی سسکیاں مجھے سنائی دے رہیں تھیں وہ اب بھی رو رہی تھی ۔۔۔۔۔مگر میں نے اس سے کچھ نہیں پوچھا ۔۔۔
۔بڑے غصے سے ۔۔۔۔میں گاڑی معمول سے کچھ تیز ہی چلا رہا تھا ۔۔۔۔۔گاڑی گیٹ کے کے اندر پورچ میں کھڑی کی ماہم فورا سے نیچے اتر کر گھر کے اندرونی دروازے سے لاونج میں چلی گئ ۔۔۔۔۔میں نے غصے سے کھولتے ہوئے دماغ سے گاڑی کا دروازہ زور سے بند کیا اور اندر داخل ہو گیا ۔۔۔۔ماہم اب مما کے ساتھ لگی رو رہی تھی مما پریشان اس سے وجہ پوچھ رہی تھیں ۔۔۔۔میں تیز قدموں سے چلتا ہوا ماہم کے پاس آکر اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا تو وہ پل میں مما سے الگ ہو گئ ۔۔۔۔
“تم کیا کر رہی تھی اس لڑکے کے ساتھ” ۔۔۔۔۔میں نے دانت بیچتے ہوئے پوچھا مما مجھے اور ماہم کو حیرت سے دیکھنے لگیں
“کیا ہوا ہے عفان “۔۔۔۔مما ویسے ہر بات سے انجان تھیں مجھ سے پوچھنے لگیں
“وہ ارسلہ۔۔۔ کا بھائی تھا ۔”۔۔۔۔ماہم نے جھجکتے ہوئے روتے ہوئے بتایا
“‘دس از ناٹ امپوٹینڈ کہ وہ کس کا بھائی تھا ۔۔۔۔تم اس کے ساتھ کیا کر رہی تھی ۔۔۔۔۔کیوں گئ تھی ۔۔۔۔۔ جانتی ہو کہ روز تمہیں ڈرائیور لینے آتا ہے اگر بارش کی وجہ سے وہ کچھ لیٹ ہو بھی گیا تھا تو تمہیں انتظار کرنا چاہیے تھا نا کہ کسی بھی اجنبی کے ساتھ اسکی گاڑی میں بیٹھنا ۔۔۔۔۔وہ بھی فرنٹ سیٹ پر ۔۔۔۔کب عقل آئے گی تمہیں ماہی ۔۔۔۔ہاں “۔۔۔۔میرا بس نہیں چل رہا کہ ایک آدھا تھپڑ ماہم کے منہ پر رسید کر دوں
“ہوا کیا ہے عفان “۔۔۔۔۔مما اب مجھ سے پوچھنے لگیں مگر میں صرف ماہم کو کھا جانے والی نظروں سے گھورنے لگا وہ اب بھی آنسوں بہا رہی تھی میرا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔میں نے اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔۔اپنے لہجے کی تلخی کو کم کرنے کی کوشش کی
“ماہم آئندہ تم کبھی کسی دوست کی گاڑی میں نہیں بیٹھوں گی ۔۔۔۔از ڈیٹس کلیر ۔۔۔۔؟ “کوشش کے باوجود میں نے چلا کر پوچھا تو وہ آنکھیں میچ کر اثبات
میں سر ہلانے لگی میں نے جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑا ۔۔۔۔تو وہ اوپر کا زینہ چڑھ گئ ۔۔۔۔مما اب بھی مجھے استفہامیہ نظروں سے دیکھ رہیں تھیں میں صوفے پر بیٹھ گیا ۔سامنے رکھے جگ سے پانی گلاس میں ڈالا اور ایک ہی گھونٹ میں پی گیا ۔۔۔۔مما میرے برابر میں بیٹھ کر ماہم کے رونے کی وجہ پوچھنے لگیں ۔۔۔۔۔۔پھر مما کو ماہم کی بیوقوفی کے بارے میں سمجھانے لگا ۔۔۔۔۔بات مکمل کرنے کے بعد مما سے بھی کہا کہ ماہم کو سمجھایا کریں یوں ہر کسی پر بھروسہ کرنا ٹھیک نہیں ہوتا ۔۔۔۔مما میری بات پر کافی پریشان سی ہو گئیں تھیں
“تم ٹھیک کہہ رہے ہو ۔۔۔۔میں سمجھاؤں گی اسے جانے کون سی لڑکی ہے کس ماحول کی ہے ۔۔۔۔ماہم نے کبھی پہلے تو ایسا نہیں کیا ‘”۔۔۔۔۔مما کافی متفکر سی ہو گئیں تھیں
مجھے ماہم پر غصہ تو بہت تھا مگر یہ میری12
ماہم سے سامنا ہونے پر وہ مجھے دیکھ کر ماتھے پر تیوری چڑھائے میرے سامنے سے واک آوٹ کر جاتی تھی ابھی بھی لاونج میں میرے آتے ہی ٹی وی بند کر کے اوپر اپنے کمرے میں جانے لگی میرے پکارنے پر رک تو گئ مگر میری طرف پشت کیے کھڑی رہی
“ماہی ادھر آکر بیٹھو ۔۔۔۔”میری بات سن کر سیڑیوں کی طرف جانب بڑھ گئ
“نہیں مجھے اپنے ایگزائم کی تیاری کرنی ہے” ۔۔۔۔۔۔وہ بے لچک لہجے سے بولی اور تیزی سے سیڑیاں پھلانگتے ہوئے چلی گئ ۔۔۔اصولا تو مجھے غصہ آنا چاہیے تھا غلطی بھی ماہم کی تھی اور ناراضگی بھی وہ دیکھا رہی تھی ۔۔۔۔مگر میں اسکی ناراضگی کہاں افورڈ کر سکتا تھا ۔۔۔اس لئے گہری سانس لیکر اسکے پیچھے اوپر اس کے کمرے کے باہر دستک دینے لگا
“عفان جاؤں یہاں سے مجھے تم سے بات نہیں کرنی “۔۔۔۔اندد سے ماہم کی غصے سے بھری آواز پر مجھے ہنسی آنے لگی ۔۔۔مطلب اسے یقین تھا کہ باہر میں ہی ہوں ۔۔۔۔۔میں نے دروازہ کھولا تو وہ سامنے بیڈ پر کتابیں بکھیرے بیٹھی تھی مجھے دیکھ کر اپنے نوٹس اور پین پکڑے ناگواری سے اس پر ٹک مارک لگانے لگی ۔۔۔۔میں آکر اس کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
“ماہی” ۔۔۔۔میرے دو تین بار پکارنے پر بھی اس نے میری طرف نہیں دیکھا میں نے اسکے ہاتھ سے نوٹس پکڑ کر سائیڈ پر رکھ دیے وہ مجھے گھورنے لگی
“کیا مسلہ ہے تمہارے ساتھ” ۔۔۔۔وہ تند نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے مدافعانہ انداز سے بولی ۔۔۔۔
“تم بات کیوں نہیں کر رہی مجھ سے ۔۔۔۔”
“میری مرضی” ۔۔۔۔وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے تن کر بولی
“وجہ کیا ہے” ۔۔۔۔میں نے ملائمت سے پوچھا ماہم کو دیکھ کر میرا غصہ ویسے بھی ختم ہو جاتا تھا ۔۔۔۔اسکے چہرے کی ملاحت اور معصومیت آج کل میرا چین کھونے لگی تھی ۔۔۔۔اس کا تروتازہ حسن کسی نو شگفتہ پھول کی ماند لگ رہا تھا میں نے کسی چور جذبے کی شدت سے سٹپٹا کر فورا سے نظریں ہٹا لیں
“جیسے تمہیں نہیں پتہ “۔۔۔۔وہ منہ پھلائے بولی ۔۔۔۔
“ماہی اس میں تمہاری غلطی بھی تو تھی نا۔۔۔۔اتنی جلدی تم کیسے بھروسہ کر سکتی ہو کسی اجنبی پر ۔۔۔تمہیں ڈرائیور کا انتظار کرنا چائیے تھا “۔۔۔۔میں نے حتمی انداز سے کہا مگر نرمی سے
“میں نے بہت منع کیا تھا ارسلہ کو ۔۔۔مگر اس نے کہا بارش بہت تیز ہے ۔۔۔۔نا جانے ڈرائیور کب پہنچے وہ مجھے گھر چھوڑ دے گی ۔۔۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ ارسلہ راستے میں کہیں اتر جائے گی”۔۔۔۔۔ماہم نے بے چارگی سے بیڈ پر بچھی چادر کو اپنے ناخن سے کھریدتے ہوئے بتایا
“اگر میں تمہیں نا دیکھتا تو ۔”۔۔۔۔۔میرے استفہامیہ
انداز پر وہ مزید گردن جھکا گئ
“میں اسکی گاڑی سے اترنے ہی والی تھی ” ۔۔۔۔۔وہ دھیرے دھیرے منمناتے ہوئے بول رہی تھی
“اور جیسے تمہیں تو معلوم تھا نا کہ کون سی بس تمہیں گھر تک پہچائے گی۔۔۔۔ کبھی سفر بھی کیا ہے تم نے بس میں” ۔۔۔۔ماہم شرمندگی سے نظریں جھکائے چپ سی ہو گئ کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔
“ماہی ۔”۔۔۔میری پکارنے پر وہ فورا سے بول پڑی
“مجھے خالہ نے سمجھا دیا ہے عفان پلیز نو مور لیکچر ۔۔۔آئندہ ایسا کبھی نہیں کروں گی “۔۔۔۔ ماہم نے جھکی ہوئی نظروں سے کہا
“اچھی بات ہے مگر مجھ سے کیوں ناراض ہو ۔۔”۔۔میری اصل بات سن کر ماہم کو اپنی ناراضگی پھر سے یاد آگئ
“تم نے ڈانٹا تھا مجھے ۔۔۔کیوں ۔۔۔۔تم جانتے ہو کہ تم مجھ سے چھوٹے ہو “۔۔۔۔۔۔اب اسکی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوں بہنے لگے ۔۔۔۔۔
“میں تمہارا دوست بھی تو ہوں نا ۔۔۔۔۔اور دوست غلط بات پر روکنے کا حق رکھتے ہیں” ۔۔۔۔ماہم سے بات کرتے ہی میرے لہجے میں محبت اور اپنایت گھل جاتی تھی۔۔۔ماہم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھ کر کہنے لگی
“اب بھی تو پیار سے سمجھا رہے ہو نا ۔۔۔۔میں نے کونسا کبھی تمہاری بات پر اختلاف کیا ہے ۔۔۔۔مگر تمہیں ڈانٹنا نہیں چاہیے تھا “۔۔۔۔وہ اب بھی اپنے موقف پر قائم تھی
“اچھا میں بھی آئندہ تمہیں نہیں ڈانٹو گا ۔۔۔۔۔یونہی آرام سے سمجھاؤں گا ۔۔۔مگر اب چھوڑو بھی یہ ناراضگی’ ۔۔۔۔وہ فورا سے شہادت کی انگلی اٹھا کر بولی
ایک شرط پر ۔۔۔
“معلوم ہے مجھے تمہیں آئسکریم کھانی ہے” ۔۔۔۔۔ماہم مسکرانے لگی ۔۔۔۔۔یہ ماہم کی واحد کمزوری تھی اور ہر بار ناراضگی ختم کرنے کی وجہ بھی ۔۔۔ شام کو میں اسے ساحل سمندر پر لے گیا ۔۔۔۔موسم کافی خوشگوار تھا ۔۔۔ریت پر چلتے ہوئے میں اس سے
اسکی کالج گیدرنگ کے بارے میں پوچھنے لگا میں جاننا چاہتا تھا کہ اسکی دوستی آجکل کس قسم کی لڑکیوں سے ہے ۔۔۔۔۔۔مگر اسکی باتیں عام نویت کی ہی تھیں کوئی ایسی خاص بات نہیں تھی جس سے مجھے شک ہوتا ۔۔۔۔ پھر بھی میں اسے اپنے تہی یہی سمجھاتا رہا کہ اسے اب اپنے سادہ لوحی سے نکل کر دنیا کو دوسرے انداز سے دیکھنا چاہیے ۔۔۔ وہ میری بات بات پر بس اثبات میں سر ہلاتی رہی ۔۔۔مگر مجھے پکایقین تھا ماہم میری بات کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑارہی ہے ۔۔۔۔۔۔
واپسی پر آئسکریم کھاتے ہوئے ماہم کی نظر سامنے بنی ایک پان شاپ پر پڑی ۔۔۔۔
“عفان مجھے پان کھانا ہے”۔۔۔۔ماہم کی بات پر مجھے یقین نہیں آیا۔۔
“کیا کھانا ہے تم نے “
“پان “
“پاپا کے غصے سے واقف ہو نا ۔۔۔۔کتنا نا پسند کرتے ہیں وہ پان کھانے کو۔۔۔۔۔پان کھانا ہے ۔۔۔۔آئسکرئم کھاؤ بس یہی ٹھیک ہے تمہارے لئے۔۔۔۔۔”میں ڈانتے ہوئے کہا پاپا کو پان اتنا نا پسند تھا کہ خود کیا کھانا ہمہیں بھی کبھی پان کھانے نہیں دیا تھا
“عفان میں نے آج تک چکھا بھی نہیں ہے پلیز
مجھے لا کر دو نا ۔۔۔۔۔کسی کو پتہ نہیں چلے گا”۔۔۔ماہم بار بار للچائی ہوئی نظروں سے پان شاپ کو دیکھ رہی تھی
“بلکل نہیں ماہی پاپا بہت ڈانٹیں گئے ۔”۔۔۔ماہم نے ایک تاسف سے مجھے دیکھا منہ پھلا کر آئسکریم کھانے لگی
“تم بھلا کیوں لا کر دو گئے مجھے…تم کون سا محبت کرتے ہو مجھ سے جو میری پروا کرو گئے ۔۔۔۔کتنا دل چاہ رہا ہے میرا پان کھانے کو ۔۔۔۔مگر نہیں ۔تم نہیں لے کر دو گئے” ۔۔۔۔وہ تو شاید آپ ہی دھن میں بولے جا رہی تھی ۔۔مگر اسکی باتیں میرے دل میں کیا اتھل
پتھل مچا گئ تھیں میں اسے کیا بتاتا ۔۔۔اب میں اسے ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگا ۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ وہ ۔۔مجھے ایموشنل بلیک میل کر رہی تھی ۔۔۔۔مگر ۔میں اپنے اندر دھڑکتے دل کا کیا کرتا جو آج کل ماہم کے نام کی مالا جپنے لگا تھا۔۔۔دل تو چاہا کہ ماہم کو بتا دوں کہ کتنی محبت کرنے لگا ہوں اس سے ۔۔۔۔مگر شاید لفظوں سے کہنا میرے لئے مشکل تھا ۔۔۔۔ہاں مگر عملی طور پر یقین دلا سکتا تھا اسکی بات مان کر
“سچ میں ۔۔۔بہت دل چاہ رہا ہے” ۔۔۔۔میں نے محبت سے پوچھا
“ہمم “ماہم نے اثبات میں سر ہلایا ۔نئریں اب بھی اسکی سامنے پان شاپ پر ہی جمی ہی وہیں تھیں ۔۔میں نے گاڑی سے اتر کر اسے ایک اسپشل میٹھا پان لا کر پکڑا دیا وہ بچوں کی طرح خوشی کااظہار کرتی ایسے مسکرائی کے بانچھیں کھل گئیں ۔۔۔۔
“تھنک یو سو مچ عفان ۔”۔۔۔وہ پان کو کھولتے ہوئے مشکور نظروں سےمجھے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
وہ پان کھانے لگی اور میں اسے خوش ہوتےہوئے
دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔کتنی الگ ہے ۔۔۔۔اس لڑکی کی خوشیاں بھی ۔۔۔۔چھوٹی چھوٹی خواہشات تھیں ماہم کی ۔۔۔۔جو سب کی سب مجھ سے منسلک تھیں ۔۔۔۔
گھر کے پورچ پر گاڑی کھڑی کرتے ہی میں ماہم سے کہہ چکا تھا کہ سیدھا اوپر چلی جائے کیونکہ اکثر اسوقت پاپا لاونج میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے ہوتے تھے ۔۔۔۔لاونج میں جاتے ہی مما پاپا ہمہیں سامنے صوفے پر بیٹھے ٹی وی دیکھتے ہی نظر آئے ۔۔۔ماہم گھبرا گئ تھی اس لئے پاپا مما کو بنا سلام کیے۔۔پان سے سرخ ہوتے ہونٹوں کو چھپاتے ہوئے اوپر کی سیڑیاں چڑھنے لگی ۔۔۔۔
“ماہم “۔۔۔پاپا کی کڑک دار آواز پر ماہم کے قدم وہیں جم گئے ۔۔۔
“بنا سلام کیے ۔۔۔۔سیدھا اوپر کیسے جا سکتی ہو تم نیچے آؤں “۔۔۔۔پاپا کے استفسار کا میں نے جواب دیا
“وہ ماہی کا صبح ٹیسٹ ہے پاپا اسی کی تیاری کرنی اس نے ۔۔۔ماہی تم جاؤ۔ “۔۔۔۔میں نے آنکھوں کے اشارے ماہم کو جانے کا اشارہ کیا مگر ۔۔۔۔میرا باپ بھی ۔۔۔آخر میرا ہی باپ تھا ۔۔۔۔میری اشارے بازیوں کو سمجھ چکا تھا ۔۔۔
“تم چپ کھڑے رہو عفان۔۔۔۔ماہم نیچے آؤں تم ۔”۔۔پاپا نے مجھے ٹوک کر ماہم کو نیچے بلایا وہ منہ پر ہاتھ رکھے نیچے اتر آئی ۔۔۔
“سوری رضا انکل ۔۔۔۔مجھے جلدی تھی اس لئے ۔۔۔۔۔اسلام علیکم “۔۔۔ ماہم نروس تھی اور گھبراہٹ میں اسے بے ربط جمعلے بول دیتی تھی ۔۔۔۔
“واعلیکم اسلام ۔۔۔۔یہ منہ پر ہاتھ کیوں رکھا ہے کیا ہوا ہے”٫ ۔۔۔۔ماہم کی آنکھیں خوف سے پھیل گئ ۔۔۔ہاتھ منہ پر اور زور سے جماتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔۔
“ہاتھ ہٹاوں منہ سے ماہم ۔”۔۔۔پاپا نے اس بار ذرا سختی سے کہا ۔۔۔میں بھی گھبرا گیا کہ لو بھئ اب تو ماہم کی شامت پکی ہے ۔۔۔ماہم میرے برابر میں ہی کھڑی تھی ۔۔۔مجھے مدد طلب نظروں سے دیکھنے لگی میں میں نے کھسیا کر رخ موڑ لیا میں بھی جو کر سکتا تھا وہ کر چکا تھا مگر اب وہ برے طریقے سے پھنس چکی تھی ۔۔۔۔ماہم نے ہاتھ دھیرے دھیرے نیچے کیا
“پان ۔۔۔۔۔پان کھایا ہے تم نے بٹیا “۔۔۔۔پاپا نے اسکے سرخ ہوتے ہونٹوں کو دیکھ کے بے یقینی سے بولے ماہم کی شامت کاسوچ کر دل تو میرا بھی دھک سے رہ گیا تھا ۔۔۔مگر اسکے اگلے جمعلے نے میرے حواس گم کر دیے
“انکل وہ ۔۔۔۔وہ ۔۔۔عفان نے فورس کیا تھا “۔۔۔
“واٹ ۔”۔۔۔میرے تو ہاتھ کے طوطے اڑ گئے تھے ۔۔۔۔میں تقریبا اچھل ہی پڑا تھا ماہم کی طرف میں گھور کر دیکھنے لگا
“میں نے کہا تھا ماہی ۔۔۔۔میں نے “۔۔۔۔میں نے ماہم کو انگلی سے اپنی طرف اشارے کرتے ہوئے حیرت اور غصے کے ملے جلے جذبات سے کہنے لگا پھر میں نے
پاپا کی طرف دیکھا جو خطرناک حد تک مجھے گھور رہے تھے ۔۔۔
“پاپا یہ جھوٹ”۔۔۔۔۔۔۔۔میرا ابھی جمعلہ مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ ماہم کی سسکی میری سماعت سے ٹکرائی ۔۔۔۔میں نے گردن گھما کر اسے دیکھا تو ٹپ ٹپ آنسوں اسکی آنکھوں سے بہنے لگے ۔۔۔۔میں چپ ہو گیا ۔۔۔
“شرم آنی چاہیے تمہیں عفان ۔۔۔۔ایک تو اسے پان کھلایا تم نے پھر اب جھوٹ بھی بول رہے ہو “۔۔۔۔۔پاپا کی دھاڑ پر میں چپ ہی رہا باقی کی ساری ڈانٹ بھی میں نے چپ چاپ سنی ماہم اب اوپر جاچکی تھی ۔۔۔۔اگلے روز ماہم میرے کمرے میں موجود تھی نظریں جھکائے شرمندہ سی ۔۔۔میں نے اسے دیکھتے ہی کتاب اپنے سامنے رکھ لی ۔۔۔۔
“عفان ایم سوری ۔”۔۔وہ میرے بیڈ پر میرے سامنے بیٹھ گئ
“تم جانتے ہو میں رضا انکل کو ناراض نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔اس لئے مجھے کچھ بھی سجھائی نہیں دیا جو بھی سمجھ آیا میں نے بول دیا “۔۔۔۔ماہم کی وضاحتیں شروع ہو چکیں تھیں
“ہاں۔۔۔۔ میں تو ویسے بھی عادی ہو چکا ہوں پاپا سے ذلیل ہونے کا اس لئے مجھے تو فرق ہی نہیں پڑتا ۔”۔۔۔میں نے منہ کے سامنے کتاب پیچھے کر کے ماہم سے کہا اور غصے سے دوبارہ کتاب اپنے چہرے کے سامنے کر لی
“سوری بول تو رہی ہوں ۔۔۔آئندہ نہیں کہو گی پکا والا پرومس “۔۔۔۔ماہم نے میری کتاب پیچھے ہٹاتے ہوئے لجاجت سے کہا ۔۔۔۔اس کا بس اتنا کہہ دینا ہی میرے لئے کافی تھا ۔۔۔۔۔میں کب اس سے ناراض رہ سکتا تھا ۔۔۔۔
*******……..********
ماہم نے اگلے کئ روز ارسلہ سے بات نہیں کی تھی ۔۔۔فائزہ شادی سے واپس آ چکی تھی ۔۔۔۔اس لئے ماہم بس فائزہ سے ہی بات کرتی تھی ۔۔۔کافی دن تو ارسلہ بھی کچھ شرمندہ سی رہی ماہم سے بات کرتے ہوئے جھجک رہی تھی ۔۔۔۔اپنے بھائی کی باتوں میں آ کر جو غلطی کر چکی اب اس پر پچھتا رہی تھی ۔۔۔۔ماہم کا کھنچا کھنچا رویہ فائزہ نے بھی محسوس کیا تھا ۔۔۔۔۔۔کیٹین میں بیٹھے ہوئے فائزہ نے خود ہی بات چھیڑی ۔۔۔
“کیا بات ہے میرے پیچھے کون سی جنگ ہوئی ہے تم دونوں کے درمیان جس سے میں۔ انجان ہوں۔۔۔۔بات کیوں نہیں کر رہیں تم دونوں ایک دوسرے سے” ۔۔۔۔فائزہ کی بات پر دونوں ہی اپنا رخ بدل کر بیٹھ گئیں ۔۔۔۔ماہم ناراضگی کی وجہ سے اور ارسلہ اپنی حماقت کی شرمندگی کی وجہ سے ۔۔۔۔۔
“ماہم تم بتاؤں “۔۔۔۔فائزہ نے ٹھنڈی سانس بھری اور ماہم کی طرف رخ موڈ کر پوچھنے لگی
“اس لئے کہ ارسلہ کو دوستی نبھانی نہیں آتی ۔۔۔۔اس لئے مجھے اس سے دوستی رکھنی ہی نہیں ہے “۔۔۔۔ماہم نے بنا لگی لپٹی کے بات کی تھی
ارسلہ اب بھی چپ تھی
“کیا بات ہوئی ہے ارسلہ” ۔۔۔فائزہ نے ذرا سخت لہجے میں۔ ارسلہ سے پوچھا
“ماہم کو کچھ مس انڈسٹیڈنگ ہو گئ ہے شاید ۔۔۔”۔ارسلہ سے بات بھی نہیں بن رہی تھی
“مس انڈسٹیڈنگ” ۔۔۔۔۔ماہم نے تاسف سے ارسلہ کو دیکھا ۔۔۔۔
“تم دوستوں کے درمیان ہونے والی باتیں اپنے بھائی سے کرتی ہو ۔۔۔۔کیا یہ مس انڈسٹیڈنگ ہوئی ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔آئی کانٹ بلیو ارسلہ ۔۔۔۔کامران سے محبت کرنے کے لئے تمہی نے مجھے فورس کیا تھا ۔۔۔۔۔۔نت نئے طریقے بھی تم ہی مجھے بتاتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔کیا یہ مس انڈسٹیڈنگ ہوئی ہے مجھے ۔۔۔۔۔تم پر بھروسہ کر کے میں تمہاری گاڑی میں بیٹھی تھیں اور تم ہی بیچ راستے میں مجھے چھوڑ کر اتر گئ ۔۔۔۔۔یہ ہے تمہاری دوستی ۔۔۔”ماہم غصے سے بھبک کر بولی ۔
“ماہم ۔۔۔۔”ارسلہ اپنی صفائی دینا چاہتی تھی مگر نے موقع ہی نہیں دیا
“شٹ اپ ۔۔۔۔۔تمہارے بھائی نے مجھے اتنا گرا ہواسمجھا ہے ۔۔۔۔۔کہ میں لڑکوں کے ساتھ افیر چلاتی ہوں ۔۔۔۔ارسلہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوستوں کی باتیں بھی امانت کا درجہ رکھتی ہیں ۔۔۔اگر ہم اپنی دوست کی کوئی بات سن لیتے ہیں ۔۔۔تو اسے یوں سب کے سامنے بیان کرنا بھی خیانت ہے ۔۔۔۔ایسا میں بھی کر سکتی تھی ۔۔۔تمہارے اور تمہارے کزن کے درمیان کیا کچھ ہوتا رہا ہے یہ میں بھی تمہارے بھائی کو بتا سکتی تھی ۔۔۔۔سوچو تمہاری کیا ویلیو رہ جاتی اسکے سامنے ۔۔۔۔ماہم نے ارسلہ کو آینہ دیکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی
ا”یم سوری ماہم ۔۔۔۔مجھ سے غلطی ہو گئ ۔۔۔۔ایکچلی حسن بھائی پہلی نظر میں ہی تمہیں پسند کرنے لگے تھے اس لئے تمہارے بارے میں پوچھتے رہتے تھے ۔۔۔۔۔وہ بھی بہت شرمندہ ہیں تم سے سوری بھی کہنا چاہیے ہیں ۔۔۔”
“ہر گز نہیں ۔۔۔۔۔۔مجھے تمہارے بھائی سے پہلے بھی کوئی غرض نہیں تھا اور اب ۔۔۔۔اب اگر وہ سامنے نا ہی آئے تو بہتر ہے ۔۔۔میری ہی غلطی تھی جو میں نے عفان سے پوچھے بنا ہی تم لوگوں کی بات مان لی ۔۔۔۔میں نے سمجھا سب لوگ عفان کی طرح بے لوث ہو کر مشورہ دیتے ہیں ۔۔۔مگر نہیں ۔۔۔۔۔اینی وئے ۔۔۔۔۔۔مجھے اب اس ٹاپک پر بات ہی نہیں کرنی” ۔۔۔۔ماہم اٹھ کر چلی گئ اور فائزہ ۔۔۔ارسلہ کو گھورنے لگی ۔۔۔۔
“یہ سب کیا قصہ ہے ۔۔۔۔۔۔یہ تمہارا لوفر بھائی کب باز آئے گا پہلے اسے میں پسند تھی ۔۔۔۔میں نے گھاس نہیں ڈالی تو ماہم کے پیچھے پڑ گیا ۔۔۔۔ارسلہ تمہیں تو عقل سے کام لینا چاہیے تھا ۔۔۔۔تم جانتی ہو حسن کے مزاج کو” ۔۔۔۔۔فائزہ کے برہمی انداز پر ارسلہ نظریں جھکا گئ ۔۔۔۔کچھ دن تو یونہی گزر گئے مگر فائزہ نے ہی دوبارہ انکی دوستی بحال کروائی ۔۔۔مگر ماہم نے دوبارہ اپنے دل کی بات کرنے سے گزیز ہی کیا تھا ۔۔
*********
میرا پری انجینئرنگ کا رزلٹ شاندار آیا تھا ۔۔۔۔اسی سلسلے میں پاپا نے رات کا ڈنر باہر ریسٹورنٹ میں کھانے کا ا اعلان کیا ۔۔۔۔سوائے کامران کے ہم سب ہی ڈنر پر گئے ۔تھے ۔۔بظاہر تو کامران نے سر درد کا بہانہ بنایا ۔۔۔مگر میرے رزلٹ کا سنتے ہی اس کے چہرے کے زاویے بگڑنے لگے تھے ۔۔۔۔بلا وجہ راشد جو کہ ہمارے گھر کاملازم کامران اس پر چیخنے چلانے لگا ۔۔۔۔شاید اپنے غم اور غصے کا اظہار کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔مگر میں اپنی خوشی میں اسکے رویے کی وجہ سے رنگ میں بھنگ کیوں ڈالتا ۔۔۔۔رات کو ایک شاندار پر تکلف ڈنر کے بعد ماہم کی فرمائش پر چوکلیٹ آئسکریم بھی منگوا لی ویسے تو ماہم ہر چیز شیر کرنے کی عادی تھی مگر جہاں بات چوکلیٹ آئسکریم کی آتی وہ ہمیشہ سے آئسکریم کھلانے میں کنجوسی ہی کرتی تھی مگر میں بھی کہاں باز آتا تھا اس کی آئسکریم سے جب تک دو چار چمچ زبردستی کھا
نہیں لیتا اور وہ بری طرح مجھے مکے نا رسید کر دیتی مجھے سکون ہی نہیں ملتا تھا اب بھی سب سے نظر بچا کر میں نے ماہم سے چمچ چھین کر جلدی سے اسکے کپ سے آئسکریم کے دو چمچ کھانے ہی تھے کہ ماہم نے کپ اٹھا کر پیچھے کر لیا
“کیا ندیدا پن ہے عفان اپنے کپ سے کھاؤ” ۔۔۔۔وہ مجھ پر بگڑنے لگی
“جو مزہ تمہارے کپ سے کھانے میں ہے وہ میرے کپ میں کہاں ہے” ۔۔۔میں نے آنکھ دبا کر اسے شرارت سے کہا مما پاپا خاندانی کسی مسلے کو زیر بحث لائے باتوں میں مصروف تھے ۔۔۔۔۔ماہم دونوں سے میری شکایت لگانے لگی
“عفان کبھی تو باز ا جایا کرو ۔۔۔۔ہر وقت اسے تنگ کرتے رہتے ہو” ۔۔۔۔مما مجھے آنکھیں نکالے ڈانٹنے لگی ۔۔۔۔۔۔
“مما میں نے کیا کیا ہے اسے ویسے ہی عادت ہے میری شکایتیں لگانے کی ۔۔۔۔۔۔اسکی آئسکریم کے پاس سے بھی گزر جاؤں تو یہ مرنے والی ہو جاتی ہے” ۔۔۔۔میری بات پر ماہم آنکھیں پھلائے منہ کھلے پہلے مجھے دیکھا پھر بڑے ڈرامائی انداز میں پاپا کے سامنے گلوگیر لہجے سے کہنے لگی
“رضا انکل آپ دیکھ رہے ہیں اسے ۔۔۔۔۔ایک تو اس نے میری آئسکریم کھائی اوپر سے ذرا لحاظ نہیں۔ ہے اسے کہ بڑوں سے کیسے بات کی جاتی ہے۔۔۔مجال ہے جو کبھی عزت سے بات کی ہو اس نے ۔۔۔۔ حالانکہ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ میں اس سے بڑی ہوں ” ۔۔۔۔۔ماہم کی ایسی باتوں پر پاپا
پر اپنی مسکراہٹ دبا کر چہرے پر غصہ سجائے مجھے ہی ڈانٹنے لگتے تھے
“عفان” ۔۔۔۔۔پاپا نے مجھے آنکھیں دیکھائیں
“پاپا آج آپ مجھے بتا ہی دیں یہ کتنی بڑی ہے مجھ سے دادی اماں کہا کرو اسے یا پھر بڑی آپاں ” ۔۔۔۔میری بات پر مما پاپا دونوں ہی اپنی ہنسی روکنے لگے
“ماہم موڈ ٹھیک کرو اپنا میں تمہیں ایک اور آئسکریم منگوادیتا ہوں ۔۔۔اور عفان کی اس ہفتے کی خرچی بلکل بند ہے۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بٹیا کو تنگ کرنے کی” ۔۔۔۔۔میں پاپا کو دیکھتا ہی رہ گیا
“پاپا یہ بھلا کیا بات ہوئی “۔۔۔۔
“یہ سزا ہے میری بیٹی کو تنگ کرنے کی” ۔۔۔۔۔پاپا اپنی آئسکریم منہ ڈالتے ہوئے بولے ۔۔۔۔میں بھی منہ بسور کر اپنی آئسکریم کھانے لگا
,”اب آیا مزہ عفان رضا “۔۔۔۔ماہم جب بہت اچھے موڈ میں ہوتی تھی یا بہت برے موڈ میں ہوتی تھی تو مجھے میرے پورے نام سے پکارتی تھی
“یہ کون سی نئ بات ہے کزن تمھاری پرانی عادت ہے ۔۔۔ لیکن میں بھی اپنے نام کا ایک ہوں باز نہیں آؤں گا “۔۔۔ میں نے بھی اسے چڑاتے ہوئے کہا
********………***
اگلے روز ڈائنگ ٹیبل پر طرح طرح کے انواع اقسام کے لوازمات پر سب کو ہی حیرت ہوئی تھی ۔۔۔۔ بریانی ۔۔۔۔چکن کڑھائی ۔۔۔کولڈ سیلڈ۔۔۔ فرائی چکن شامی کباب اور میٹھے میں ٹرائفل ۔۔۔۔یہ سب دیکھ کر تو میری بھوک چمک اٹھی تھی مجھے بریانی بہت مرغوب تھی ۔۔۔۔اس لئے میں نے سب سے پہلے وہی اپنی پلیٹ میں ڈالی۔۔۔ٹیبل پر اتنا اہتمام دیکھ کر پاپا نے ماہم سے پوچھ ہی لیا
“کیا بات ہے کوئی مہمان آنے والا ہے” ۔۔۔۔پاپا اپنی پلیٹ میں بریانی ڈالتے ہوئے بولے ۔۔۔۔
“نہیں انکل بس یونہی دل چاہ رہا تھا ۔۔۔۔اور آپ کو پتہ آج کا ساراڈنر صرف میں نے بنایا ہے” ۔۔۔۔ماہم نے پر جوش انداز میں اطلاع دی ۔۔۔۔
“ارے واہ ماہی ۔۔۔تم نے تو آج ساری ڈشز میری پسند کی بنائی ہے خاص طور یہ بریانی ۔۔۔۔ویسے آج واقع کچھ خاص بات ہے ورنہ تم تو مجھ سے ہزار منتیں
کروا کر بریانی بناتی تھیں اور وہ بھی آئسکریم کی شرط کے ساتھ ۔”۔۔۔میں نے بھی خوش گوار موڈ سے کہا اور بریانی بھی ساتھ ساتھ کھاتے ہوئے بولا ماہم بس دلکش سی مسکراہٹ سجائے سنتی رہی کامران نے پلیٹ میں کباب ڈالتے ہوئے ایک انہونی بات کہہ کر سبھی کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی
“مگر آج کا مینیو میری فرمائش پر بنا ہے ۔۔۔۔کیوں ماہم ۔”۔۔ کامران کے منہ سے یہ بات سن کر میں اچھنبے میں آگیا ۔۔۔۔۔اور یہ بات قابل حیرت ہی تھی ۔۔۔۔کامران سیدھے منہ بات تک نہیں کرتا تھا ماہم سے ۔۔۔۔یہاں تک کہ جب وہ کوکنگ سیکھ رہی تھی تب بھی اسکی بنائی ڈشز کو کم ہی ٹرائی کرتا تھا ۔۔۔۔اور آج ماہم سے فرمائش۔۔۔۔۔۔ یہی کیفیت مما اور پاپا کی بھی تھی۔۔۔۔
“تمہاری فرمائش پر ۔۔۔۔مگر تمہیں تو اعتزاضات ہی بہت ہوتے ہیں “۔۔۔۔۔مما نے حیرت کا اظہار کیا
“یہ بات تو کب کی پرانی ہو گئ مما اب تو سب بہت اچھا بنا لیتی ہے ماہم” ۔۔۔۔کامران بہت عام سے لہجے میں کہہ رہا تھا ساتھ ہی ساتھ ماہم کی بنائی ہر چیز کو ٹرائی بھی کر رہا تھا ۔۔۔ مگر مجھ پر تو گویا انکشافات کی بارش برسا رہا تھا ۔۔۔۔کامران۔۔۔۔۔ اور ماہم کی تعریف۔۔۔۔۔۔ماہم کے چہرے پر خوشی کے کئ دلکش رنگ بکھر گئے ۔۔۔۔۔شاید یہ پہلا موقع تھا کہ کامران نے ماہم کی تعریف کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔نا جانے میرا دل اندر سے کیوں بجھ سا گیا۔۔۔۔میں بس خاموشی سے اپنا کھانا کھانے لگا ۔۔۔۔حالانکہ کہ سب کچھ میری پسند کا تھا اور بیحد مزے کا بھی تھا اور مجھے کچھ دیر پہلے بھوک بھی ٹھیک ٹھاک لگی ہوئی تھی مگر کامران کے ایک عام سے جمعلے سے میرادل ہر چیز سے اچاٹ سا ہو گیا ۔۔۔۔۔میں چہرے پر گہری سنجیدگی لئے با مشکل ہی اپنی پلیٹ میں ڈالی بریانی ختم کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔
“ماہم ایسا کرنا کل میرے لئے پاستا بنا لینا میں کل کھانا نہیں کھاؤں گا “۔۔۔۔کامران کی کل کی فرمائش پر میری بے اختیار ہی نظر کامران پر اٹھی۔۔۔۔اسکے چہرے پر سجی مسکراہٹ اور ماہم کی اسکی ہر بات بات پر جی حضوری مجھے بری طرح زچ سی کرنے لگی تھی ۔۔۔۔ماہم بس مسکرا کر کامران کا اگلے دن کا مینیو ایسے سن رہی تھی جیسے کوئی بہت ہی خاص پیغام ہو ۔۔۔۔۔پاپا اور مما اب ٹرائفل کھا رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ ماہم کی تعریف بھی کر رہے تھے ۔۔۔۔میں ابھی بھی اپنی پلیٹ میں موجود بریانی کو ہی چمچ سے ادھر ادھر کرنے میں مصروف تھا ۔۔۔۔۔۔ماہم اپنی پلیٹ میں ٹرائفل ڈالنے لگی تو کامران نے اسے منع کر دیا
ماہم تم میٹھا مت کھانا ۔۔۔۔میں تمہیں آئسکریم کھلانے لے جا رہا ہوں ۔۔۔۔کامران کے اس انکشاف پر تو مجھے بری طرح جھٹکا لگا تھا
۔۔۔۔ میرے ساتھ ساتھ باقی سب بھی حیرت میں ہی مبتلہ تھے ۔۔۔۔جب سے
ماہم ہمارے گھر آئی تھی شاید یہ پہلا موقع تھا کہ کامران نے ماہم کو کہیں لے جانے کی آفر کی تھی ورنہ وہ اور ماہم کو کہیں لے جائے وہ بھی آئسکریم پر ۔۔۔۔
“مگر کیوں” ۔۔۔۔ماہم بھی متحیر سی ہو کر اس سے پوچھنے لگی
“ارے بھئ اتنا عمدہ ڈنر کھلانے پر ۔۔۔۔یہ انعام تو بنتا ہے تمہارا ۔”۔۔۔کامران کی خوشگفتاری مجھ سے ہضم ہی نہیں ہو پا رہی تھی میں نے پانی کا گلاس بھرا اور ایک ہی سانس میں پی کر گلے میں پھنسے چاول نیچے اتارے ۔۔۔۔۔
“پاپا میں ماہم کو لے جاؤں” ۔۔۔۔کامران کے استفسار پر پاپا نے نے بھی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے اجازت دیدی ۔۔۔۔۔ماہم کی تو خوشی قابل دید تھی
“ہاں ۔۔۔ہاں کیوں نہیں ضرور جاؤں ۔۔۔۔عفان تم بھی چلے جاؤں ساتھ ۔۔۔۔”پاپا نے مجھ سے بھی جانے کو کہا
“نہیں پاپا مجھے تو اپنا ایک پرجیکٹ کمپلیٹ کرنا۔”۔۔۔میں مدافعانہ لہجے سے کہا ۔۔۔۔میرے اندر حیرت اور جلن کے ملے جلے جذبات تھے ۔۔۔۔۔اور کچھ کامران کا رویہ مجھ سے جتنا اکھڑا اکھڑا رہتا تھا میں اس کے ساتھ آنے جانے سے گریز ہی کرتا تھا ۔۔۔۔۔میرے جواب پر ماہم ضرور بجھ گئی تھی
“چلو نا عفان ۔۔۔۔آکر کمپلیٹ کر لینا میں تمہاری ہیلپ کر دونگی “۔۔۔۔۔ماہم نے مجھے بڑی لجاجت سے کہا ۔۔۔۔
“رہنے دو ماہم ۔۔۔۔۔اسے ویسے بھی سب کی نظروں میں ٹاپرز بننے کا جنون ہے ۔۔۔۔یہ اسی میں خوش رہتا ہے۔۔۔تم چلو میں باہر تمہارا انتظار کر رہا ہوں “…..کامران نے طنز سے کہا اور ڈائینگ روم سے نکل گیا ماہم بھی اسکے پیچھے چل دی ۔۔۔۔میں نے اپنی پلیٹ پیچھے کھسکا دی ۔۔۔۔۔
“کیا بات ہے کھانا کیوں نہیں کھا رہے ۔۔۔۔۔”
“بس موڈ نہیں ہے ۔۔۔ویسے بھی میں نے شام میں برگر کھا لیا تھا ۔۔۔۔مما میں اپنے کمرے جا رہا ہوں پلیز مجھے کوئی ڈسٹرب نا کرے ۔”۔۔۔میں اسوقت کسی سے بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا ورنہ رات کو میں پاپا کے ساتھ ضرور کچھ نا کچھ ڈسکس کرتا تھا
