Tadbeer by Umme Hani NovelR50414

Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 43 (Part 1)

458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 43 (Part 1)

Tadbeer by Umme Hani

اگلے روز شام تک مہک ڈسچارج ہو کر گھر آ چکی تھی ۔۔۔۔۔ماہم اور مما اسکا بہت خیال رکھنے لگی تھیں۔۔۔۔۔کھانا اور میڈسن مما مہک کواپنی نگرانی میں ہی کھلاتی تھیں۔۔۔۔اسکی ڈائٹ کا بھی خیال رکھتیں مگر مہک سے بات بھی نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔نا لہجے میں نرمی لانے کو تیار تھی ۔۔۔مہک کو بھی وہ شاید پاپا کی وجہ سے پوچھنے کی پابند تھیں۔۔۔کافی دن سے مما اور پاپا کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔اگر پاپا مما سے بات کرنے کی کوشش کرتے بھی تو وہ جواب ہی نہیں دیتی تھیں ۔۔۔۔رات کو میں پاپا کے کمرے میں ہی بیٹھ گیا پاپا جو اپنی کتاب پڑھنے میں مشغول تھے مجھے دیکھ کر اٹھ کر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ۔۔۔

“کچھ کام تھا عفان۔۔۔۔”

“پاپا ۔۔۔۔آپکی اور مما کی ناراضگی چل رہی ہے “

“دماغ خراب ہو گیا ہے تمہاری ماں کا ۔۔۔۔”پاپا تلخ لہجے سے بولے

“ہوا کیا ہے پاپا” ۔۔۔۔

“ہونا کیا ہے ۔۔۔۔۔صفیہ کی بے حسی میری سمجھ سے باہر ہے ۔۔۔۔مہک کے ساتھ اسکا رویہ شروع دن سے ٹھیک نہیں تھا ۔۔۔۔میرے سمجھانے پر بھی وہ اپنا رویہ بدلنے کو تیار نہیں ہوئی میں نے بھی اسے اسکے حال پر چھوڑ دیا ۔۔۔۔مگر کچھ دن پہلے جو ہوا ۔۔۔مجھے بہت برا لگا ۔۔۔۔اس حالت میں۔ اگر کوئی جانور بھی جو تو انسان اسکے ساتھ بھی رحم کا معاملہ کر لیتا ہے اور مہک تو پھر اسکی کی بہو تھی ۔۔۔۔میرے بار بار کہنے پر بھی ہاسپٹل جانے کو تیار نہیں ہوئی ۔۔۔بس غصے میں ۔۔۔میں بھی کچھ بے قابو ہو گیا تھا ۔۔۔۔بات کچھ ذیادہ ہی بڑھ گئ ۔۔۔۔۔میرے ساتھ ہاسپٹل توچلی گئ ۔۔۔۔اور مہک کابھی خیال رکھ رہی ہے مگر غصے سے ۔۔۔۔اور ۔۔۔میری تو بات تک سننے کو تیار نہیں بس چپ چاپ کام کر دیتی ہے ۔۔۔۔”

“پاپا تو آپ ہی انہیں منانے میں پہل کر لیں۔۔۔۔

“تمہیں کیا لگتا ہے عفان کیا میں نے ایسا نہیں کیا ہو گا ۔۔۔مگر وہ سنے تب نا ۔۔۔۔نہیں تو نا سہی ۔۔۔میں بھی اب نہیں مناوں گا ۔۔۔۔۔”پاپا دوبارہ اپنی کتاب کھولے چشمہ پہنے لگے

“دس از ناٹ فیر پاپا ۔۔۔۔۔٫میری بات پر پاپ نے مجھے غصے سے گھورتے ہوئے دیکھا

“اب تم کیا چاہتے ہو ۔۔۔اس عمر میں دو دو بہوں کے ہوتے ہوئے تمہاری ماں کے آگے پیچھے گھوم گھوم کر گانے گاتے ہوئے اسے مناوں ۔۔۔۔”پاپا نے جلے بھنے لہجے سے کہا ۔۔۔

“کوئی حرج بھی نہیں ہے ۔۔۔۔ویسے میرے پاس ایک دو آئیڈے ہیں اگر آپ ۔۔۔۔۔

“رہنے دو تم کب تک ناراض رہے گی ۔۔خود ہی مان جائے گی “۔۔۔پاپا کے مدافعانہ انداز کر میں آٹھ کر کھڑا ہو گیا

“تم کہاں جارہے ہو “۔۔۔

“اپنی بیوی کے پاس ۔۔۔آپکی طرح اپنی بیگم کو ناراض تھوڑی رہنے دیتا ہوں میں” ۔۔۔

“پتہ ہے مجھے تمہارا بھی ….وہ تو میری گڑیا بہت پیاری ہے ۔۔۔ذیادہ نخرے نہیں کرتی ورنہ تم کون سا کم ہو ” ۔۔۔۔اب اگر میں پاپا کو یہ بتا دیتا کہ کہ انکی پیاری سی گڑیا مجھ سے معافی کیسے منگواتی ہے تو شاید میری اپنی ہی بےعزتی ہوتی اس لئے میں چپ ہی رہا

“ارے بیٹھوں یار کھڑے کیوں ہو “۔۔۔۔پاپا نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے دوبارہ بیڈ پر بیٹھا لیا ۔۔۔۔

“اچھا بتاؤں کیا پلان ہے تمہارا “۔۔۔۔پاپا کو بھی کہاں چین تھا مما سے بات کیے بغیر

“مما آپ کو روز میڈسن دیتی ہیں”۔۔۔؟

“ہاں” ۔۔۔

“آج کھانے سے انکار کر دیں ۔۔۔۔باقی میں سنبھال لو گا ۔”۔۔۔ میری بات پر پاپا نے کچھ دیر سوچتے رہیے ۔۔۔۔پھر مان گئے ۔۔کچھ ہی دیر میں مما اندر آ گئیں ۔۔۔۔سائیڈ ٹیبل کے دراز سے میڈسن نکال کر رکھیں اور پانی کا گلاس بھی رکھ دیا

“صفیہ یہ اٹھا لو یہاں سے مجھے نہیں کھانی ۔۔۔۔”پاپا نے سنجیدگی سے کہا

“کیوں نہیں کھانی ۔۔۔آپ کو معلوم ہے نا میڈسن کے بغیر شوگر اور بلڈ پریشر کتنا ہائی ہو جاتا ہے آپ کا ۔۔۔”

“ہونے دو تمہیں کیا فرق پڑتا ہے” ۔۔۔

“رضا اور آپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے ۔۔۔آپکی بہو کی پوری پوری خدمت تو کر رہی ہوں ۔۔۔کھانا میڈسن سب کچھ اپنے سامنے ہی دیتی ہوں ڈاکٹر پربھی خود لیکر جاتی ہوں “

“سب کچھ کر رہی ہو مگر دل سے نہیں “

“وجہ بھی آپ جانتے ہیں “

“صفیہ ایسے تو کامران نےبھی بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں ۔۔۔۔اسے بھی تو تم چند دن کی نارضگی کے بعد معاف کر ہی دیتی تھی ۔۔۔۔اگر مہک سے غلطی ہو گئ تو معاف کرنے میں اتنی کنجوسی کیوں ۔۔۔یہ فراخدلی صرف اپنی اولاد کے لئے ہی کیوں ہے صفیہ ۔۔۔۔”

“رضا اسکی لڑکی کا کردار میری نظر میں کیسے صاف رہ سکتا ہے جسے خود میں نے نشے کی حالت میں دیکھا ہو ۔۔۔کامران سے نکاح بھی اس نے زبردستی ہی کیا تھا ۔۔۔یہ سب آپ فراموش کر سکتے ہیں میں نہیں”

“مما نشہ اس نے کامران کی وجہ سے ہی کیا تھا ۔۔۔۔اور شادی کے خواب بھی کامران نے ہی دیکھائے تھے ۔۔۔اور اب بھابی واقع ہی دل سے شرمندہ ہے ۔۔۔۔توآپکو بھی دل بڑا کرنا چاہیے تھوڑی سی گنجائش تو نکل ہی سکتی ہے ۔۔۔۔”میری بات پر مما کچھ نہیں بولیں ۔۔۔

“صفیہ مجھے اپنے گھر میں صرف محبت اور اتفاق دیکھنے کی خواہش ہے اور وہ تمہارے ساتھ کے بغیر ممکن نہیں۔۔۔میں خوش ہوں کہ تم روایتی ساس نہیں ہو ۔۔۔۔میری خوش نصیبی یہ ہے کہ میرے گھر کو تم نے بڑی محبت اور چاہت سے سجایا ہے ۔۔۔ماہم بلکل تمہارا ہی پرتو ہے مگر مہک کو تمہاری محبت اور توجہ کی ضرورت ہے۔۔۔۔تمہاری ذرا سی توجہ اسے ہمارے رنگ میں ڈھال لے گی ۔۔۔۔لیکن تم ہی اگر تنگ نظری سے کام کو گی تو میں کس سے امیدیں باندھو گا ۔۔۔۔۔

پاپا کے نرم لہجے پر مما کچھ نہیں بولیں بس خاموش ہی رہیں ۔۔۔۔

*******…………

کچھ ہی دنوں مہک اب چلنے پھرنے کے قابل ہو چکی تھی ۔۔۔۔مما کا رویہ بھی مہک سے بہتر ہو چکا تھا ۔۔۔۔کامران بھی اس واقع کے بعد مہک کا خیال رکھنے لگا تھا ۔۔۔۔رات کو ڈنر پر مما نے مسکراتے ہوئے کڑائی چکن کا باول پاپا کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا

“رضا ذرا کھا کر بتائیں کہ یہ کیسا بنا ہے میری مہک نے پہلی بار کچھ بنایا ہے “۔۔۔۔مما کی بات پر پاپا کے ساتھ ساتھ میں اور کامران بھی حیران ہوئے تھے ۔۔۔پاپا نے ایک دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ وہ باول لیااور پہلا نوالہ چھکتے ہی واہ واہ کرنے لگے مہک جا چہرا چہک اٹھا تھا

“بہت مزے کا بنا ہے بٹیا ۔۔۔۔”۔۔میں نے اور ماہم نے بھی اسکی تعریف کی ۔۔۔کامران نے بس ذراسا چکھا اور ماہم کے ہاتھ کا بنا کر مٹن کا سالن ڈال کر کھانے لگا ۔۔۔۔مہک نے کھانا اچھا بنایا تھا مگر ماہم جیساذائقہ نہیں تھا ۔۔۔۔مہک شاید کامران کی تعریف کی منتظر تھی ۔۔۔۔

کامران تم نے بتایا نہیں کہ تمہیں کیسا لگا

“ابھی اتنا پرفیکٹ نہیں مجھے اچھا لگ سکے ۔۔۔۔اور جھوٹی واہ واہ مجھ سے تو نہیں ہوتی “کامران کے اسپاٹ لہجے پر مہک بجھ سی گئ کامران کو کہاں کسی کا دل رکھنے کی عادت تھی ۔۔۔ہمیشہ وہ مہک سے الجھتا ہوا ہی نظر آتا ۔۔۔کبھی شرٹ کے ساتھ ٹائی مس میچ ہونے پر کبھی کوٹ کے ساتھ شرٹ اور کبھی ناشتے میں مہک کے ہاتھ سے بنے فرائی ایگ پر۔۔۔س کے اعترضات کی لمبی لسٹ تھی مگر مہک کچھ لاپروا مزاج کی مالک تھی ۔۔۔کامران اگر ایک بار نقص نکال دیتاتو دوبارہ اس سے پوچھتی ہی نہیں۔ تھی ۔۔۔نا ہی بار بار اس کا کام اسکی مرضی کے مطابق کرتی نظر آتی ۔۔۔کامران ہی بول بال کر جزبز ہوتا ہوا اپنے کام خود ہی کرنے لگتا ۔۔۔۔۔

“پھوڑ عورت ایک شرٹ تک استری کرنی نہیں آتی ۔۔۔۔”ساتھ ساتھ وہ اپنی شرٹ آئرن کرتا جاتا ساتھ ساتھ مہک کو کوسنے سناتا رہتا ۔۔۔۔

“اچھی خاصی تو لانڈری سے پریس ہو کر آئی ہے ۔۔۔تمہی۔ توشوق ہے نقص نکالنے کا ۔۔۔۔۔خود کرو تو پتہ چلے کہ کتنا مشکل کام ہے پریس کرنا ۔۔۔مہک بھی کامران کو سنا کر لاپروا ہو جاتی ۔۔۔۔زندگی بس یونہی گزر رہی تھی

********…….

رات کے کھانے کے بعد کامران مجھے اپنے ساتھ لان میں لے گیا ۔۔۔مجھے حیرت تو بہت ہوئی ۔۔۔۔کیونکہ ہمارے درمیاں کبھی بھی بے تکلفی نہیں تھی ۔۔۔پھر وہ مجھ سے بہت اپنایت بھی دیکھا رہا تھا ۔۔۔۔۔لان میں پہنچ کر مجھے ایک کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی میرے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔۔

کچھ دیر تو خاموشی کی نظر ہی ہو گئے

“عفان میں بہت شرمندہ ہوں تم سے ۔۔۔۔جو کچھ میں نے تمہارے ساتھ کیا ۔۔۔۔بہت غلط تھا ۔۔۔۔ لیکن انسان اپنی غلطیوں سے ہی سیکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔میں نے بھی یہ سیکھا ہے کہ رشتوں کی پاسداری میں ہی انسان عزت پاتا ہے ۔۔۔۔میں تم سے یہ امید رکھتا ہوں کہ میری پچھلی تمام کوتاہیوں کو تم میری حماقت سمجھ کر معاف کر دو ۔۔۔۔میں اب مل جل کر پیار اور محبت سے رہنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔کیا تم مجھے یہ موقع نہیں دو گئے ۔۔۔۔کامران کا نرم لہجہ شرمندگی سے جھکی آنکھیں اور گردن اور مسرت بھرے الفاظ ۔۔۔۔کچھ ہل تو سچ میں اپنے کانوں پر یقین کی نہیں ہوا۔۔۔۔۔میں۔ حیران آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا

میری خاموشی پر وہ کچھ تذبذب ہونے لگا

“عفان کیا میری غلطیاں قابل معافی نہیں ہیں ۔۔۔اگر تم کہو تو میں ماہم سے بھی معافی مانگنے کو تیار ہوں ۔۔۔۔۔”

“نہیں ۔۔۔۔یہ بات نہیں ہے ۔۔۔۔۔اگر آپ واقع شرمندہ ہیں ۔۔۔۔اور سچ میں ایسا چاہتے ہیں جیسا میں نے سنا ہے تو اچھی بات ہے ۔۔۔۔۔میرے دل میں آپ کے لئے جو بھی بدگمانیاں ہیں وہ ایک دن میں تو ختم نہیں ہو سکتیں ۔۔۔۔لیکن آپ کی بات کی صداقت آپ اپنے عمل سےکرواسکتے ہیں تو مجھے کو تامل نہیں” ۔۔۔۔۔

“ضرور…. تم خود اس بات کا اعتراف اپنے دل سے کرو گئے کہ میں واقع بدل چکا ہوں” ۔۔۔۔۔

“او کے ۔۔۔میں اب سونا چاہتا ہوں ۔۔۔۔میں جاؤ۔ یا کچھ اور بھی کہنا ہے “مجھے کامران کی باتوں پر یقین نہیں تھا ۔۔۔۔

“نہیں اور کچھ نہیں کہنا ” ۔۔۔۔میں اپنی کرسی سے کھڑا ہو گیا کامران بھی کھڑا ہو چکا تھا پہلی بار ایسا ہوا کہ کامران۔ نے آگے بڑھ کر مجھے گلے لگایا تھا ۔ورنہ بچپن میں میں کامران کے غصے سے بچنے کے لئے اکثر اسے میں آگے بڑھ کر کامران کے گلے لگ جاتا تھا خاص طور پر اسوقت جب سچ میں اسکی کوئی قیمتی چیز مجھ سے ٹوٹ جاتی تھی اور مجھے لگتا تھا کہ اب میری خیر نہیں میں سوری کرنے لگتا اسے کے سینے سے لگ کر اسے بینچ لیتا ۔۔۔۔عجیب بات تھی کہ کامران بے حد غصے کے باوجود مجھے اسوقت کچھ نہیں کہتا ۔۔۔۔

“اچھا اچھا ہٹو پیچھے آئندہ ایسا مت کرنا ۔۔۔”یہ کہہ کر مجھے سزا نہیں دیتا تھا ۔۔۔۔مگر ایسا کبھی ہی ہوتا تھا ۔۔۔۔۔اس وقت اس کا یوں مجھ سے گلے لگنا میں سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔۔۔پھر یہ گلے لگنا بھی سرسری سا نہیں تھا وہ مجھے اپنے سینے سے لگائے میرے گرد مضبوط حصار ڈالے مجھے بینچ رہا تھا اتنا کہ میں اسکی دل کی تیز دھڑکنو کو محسوس کر سکتا تھا جو اس وقت بہت تیز رفتار سے دوڑ رہیں تھیں ۔۔۔۔مجھے حیرت تو بہت ہوئی مگر میں نے اپنے ہاتھ اسکے گرد حمائل کر دیے ۔۔۔۔اسکی گرفت مضبوط تھی ۔۔۔۔پھر وہ ہواجس نے مجھے ششدد سا کر دیا کامران رو رہا تھا ۔پھوٹ پھوٹ کر ۔۔۔۔۔مجھ سے معافی بھی مانگ رہا تھا ۔۔۔۔مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کامران کو جواب کیا دوں ۔۔۔۔

“عفان پلیز مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔۔بہت غلط کیا میں نے تمہارے ساتھ ۔۔۔۔اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ۔۔۔۔”

“بھائی ۔۔۔آپ چپ تو کریں ۔۔۔۔کر دیا میں آپ کو معاف ۔۔۔میں کونسا ساری زندگی یہ ناراضگیاں پالنے کے حق میں تھا” ۔۔۔۔۔میں نے کامران کو خود سے جدا کیا اسکے آنسوں اپنے ہاتھوں سے صاف کیے ۔۔۔کامران نے میرے ہاتھ پکڑ کر چوم لئے

“تم بہت اچھے ہو عفان تمہارا ظرف بھی بہت بڑا ہے ورنہ میری غلطیاں قابل معافی نہیں تھیں” ۔۔۔۔

“بھائی اب ان باتوں کو یہیں ختم کر کے آگے بڑھتے ہیں “۔۔۔۔

“کیوں نہیں یار میں بھی یہی چاہتا ہوں ۔۔۔مل جل کر ایک ساتھ رہنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔مہک سے بھی معافی مانگ چکا ہوں ۔۔۔تم چاہوں تو پوچھ لو اس سے ۔۔۔کہو تو ماہم سے بھی “

“نہیں ۔۔اس کی ضرورت نہیں۔ ہے “۔۔۔۔۔حالانکہ میرا دل کامران کی طرف سے کچھ صاف ہوچکا تھا مگر پھر بھی اسکے منہ سے ماہم کا نام سن کر مجھے برا لگتا تھا میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ ماہم سے معافی تلافی کرے ۔۔۔۔اسر ماہم کے دل میں کامران کے لئے دوبارہ سے کوئی نرم گوشہ پیدا ہو ۔۔۔عہ کامران سے دور رہتی تھی ۔۔۔میرے ساتھ خوش تھی بس یہی ٹھیک تھا ۔۔۔۔۔

“چلو جیسے تم مناسب سمجھو۔۔۔۔۔”کامران نے بات کو ختم کر دیا

اس دن کے بعد واقع کامران میں بدلاؤ آنے لگا تھا ۔۔۔۔۔مہک کے ساتھ اسکا رویہ اچھا ہو گیا تھا ۔۔۔کئ بار سے باہر ہوٹلنگ پر بھی لے جاتا تھا اسکے ہاتھ کا بنا ہوا ناشتہ اور کھانا بھی چپ چاپ کھا لیتا تھا ۔۔۔۔

“کامران بس ایگ آج کچھ ذیادہ فرائی ہو گیا ہے ۔۔تم یہ رہنے دو میں کھا لوں گی تمہیں دوسرابنا دیتی ہوں “مہک ملتجی لہجے سے کہا مگر کامران نے اسکے ہاتھ سے پلیٹ پکڑ لی

“نہیں مہک میں کھا لوں گا ۔۔۔۔۔اگر جل گیا تو کیا ہوا ۔۔۔تم روز میرے لئے کوشش تو کر ہی رہی ہو ۔۔۔۔کوئی بات نہیں”۔ ۔۔۔۔کامران کی بات پر ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھے مہک سمیت سبھی نفوس حیران تھے۔۔۔۔۔ اسکی تبدیلی پر سب سے ذیادہ حیرت پاپا کو ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔مہک مسکرانے لگی ۔۔

“واہ مہک بٹیاں ۔۔۔تم نے تووہ کر دیکھایا جو میں اور اسکی ماں بھی نہیں کر سکے کیسے کایا پلٹی ہے کامران کی ۔۔۔۔ویسے اچھا ہی ہوا جو بھی ہوا ۔۔۔کسمرسن نے تمہیں خود ہی پسند کر لیا ورنہ تمہیں میں کہاں تلاش کرتا کامران کے لئے” ۔۔۔۔کامران نے کن آنکھیوں سے پاپا کو دیکھا

“کامران کو بدلنے والا ابھی تک کوئی پیدا نہیں ہوا ۔۔۔ آپکی مہک بھی نہیں ۔۔۔۔میں خود کو خود ہی بدلنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔پلیز یہ کریڈیٹ آپ مہک کے سر مت ڈالیں ورنہ یہ میرے سر چڑھ جائے گی” ۔۔ ۔۔کامران کی بات پر مہک نے ناگواری سے اسے دیکھا ۔۔۔۔مگر بولی کچھ نہیں

“چلو اچھا ہے کہ اب تمہیں عقل آگئ ہے ۔”۔۔۔

“پاپا انسان وقت کے ساتھ ہی سیکھتا ہے ۔۔۔۔اب آپ مجھے ہمیشہ اچھا ہی پائی گئے “

۔۔۔۔۔کامران نے اپنے الفاظوں کو سچ میں عمل سے ثابت کیا تھا سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اب وہ ماہم کو بلکل نہیں دیکھتا تھا ۔۔۔۔نظریں جھکائے ہی رکھتا تھا ۔۔۔۔لیکن مجھ سے روز ہی بات کرتا تھا ۔۔۔۔اپنے بزنس کے بارے میں میرے بزنس کے متعلق ۔۔۔۔۔یہ بات جب میں نے قاسم کو بتائی تووہ بھی اچھنبے میں آ گیا ۔۔۔

“عفان میں نہیں۔ مانتا ۔۔۔۔تیرا بھائی کتے کی وہ ٹہری دم کے جسے سوسالہ بھی کسی سیدھی نالی میں ڈالا جائے تب بھی باہر نکلنے کے بعد ٹہری ہی رہے گی ۔۔۔۔”

قاسم حد ہوتی ہے کسی بات کی بھی ۔۔۔۔۔اگر کوئی سدھرنا چاہے تو کیا ہمہیں اسے موقع نہیں دینا چاہیے ۔۔۔۔

“دو موقع مگر عفان ۔۔۔۔۔آنکھیں کھول کر اعتبار کرنا اس کا “۔۔۔۔قاسم کی بات سن کر میں محتاط ہی رہتا تھا مگر جب مجھے کامران کی کسی بات سے ایسا لگ ہی نہیں کہ وہ میرے ساتھ کوئی چال رہا ہے تو میں مطمئن سا ہو گیا