Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 10
Rate this Novel
Tadbeer Episode 10
Tadbeer by Umme Hani
میٹنگ سے کچھ پہلے ہی میں آفس پہنچا تھا ۔۔۔۔اور ہمیشہ کی طرح میٹنگ سکسس فل رہی تھی ۔۔۔۔میرے آئیڈائز کو قاسم کے ڈیڈ سمیت سب نے سراہا تھا ۔۔۔۔۔قاسم کے ڈیڈ ایک مہنے کے لئے لندن جا رہے تھے ۔۔۔۔اور انکی چند گھنٹوں بعد فلائٹ تھی اس لئے وہ مجھے اور قاسم کو ضروری ہدایات دے کر چلے گئے پورا دن اس قدر مصروف گزرا تھا کہ اب چائے کی طلب ہونے لگی تھی قاسم نے اپنے والد کے جانے کے بعد پر سکون گہری سانس بھری
“شکر ہے میرے مالک ایک مہنہ بڑے سکون سے گزرنے والا ہے ۔۔۔۔۔”قاسم نے اطمینان بھری سانس لی
“چلو اسی خوشی میں مجھے اچھی سی چائے پلاؤ ۔”۔۔۔میں نے جھٹ سے اپنی فرمائش اسکے سامنے رکھ دی
“خالی چائے نہیں میری جان چائے کے ساتھ تمہیں کلب سینڈوچ بھی کھلاتا ہوں چلو میرے کیبن میں ۔۔۔۔آج خوب مزے کریں گئے اور تمہیں کسی سے ملوانا بھی ہے” ۔۔۔قاسم کا خوشگوار موڈ دیکھ کر میں مسکرانے لگا ۔۔۔۔اب ویسے بھی کچھ خاص کام کرنے کے لئے نہیں تھا۔۔۔۔میں اور قاسم اسکے کیبن میں داخل ہوئے تو ایک لڑکی کافی بیزار سی قاسم کی چیر پر بیٹھی تھی ہم دونوں کو دیکھ کر فورا سے کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔۔اسے دیکھ کر مجھے نا جانے کیوں ایسا لگا کہ میں اسے پہلے بھی دیکھ چکا ہوں اور اسی آفس میں حالانکہ وہ آفس کے موجود اسٹاف میں سے نہیں تھی ۔۔۔۔۔
“ارے کھڑی کیوں ہو گئ بیٹھو بیٹھو اپنے ہی تایا کا آفس سمجھو” ۔۔۔۔قاسم کے بے تکلف انداز پر وہ کچھ جھینپ کر ریوالونگ چیر سے ہٹ کر باہر نکل آئی قاسم اپنی سیٹ پر ڈھیلے ڈھالے انداز سے بیٹھ گیا ۔۔۔۔وہ لڑکی بھی سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ
گئ ۔۔۔۔نا جانے کون تھی ۔۔۔۔مگر تھی بہت خوبصورت اور حسین ۔۔۔۔۔سفید رنگت اسٹپ میں تراشے بال ستواں ناک متناسب جسم کی مالک ۔۔۔۔اور تھی بھی کافی فیشن ایبل ۔۔۔۔جینز کے اوپر چھوٹا سا ٹاپ پہنے ڈوپٹے سے بے نیاز وہ بڑے اعتماد سے ٹانگ پے ٹانگ رکھے بیٹھی تھی ۔۔۔۔میں نے بس سرسری سا جائزہ لیا ۔۔۔۔اور اسکی برابر والی چیر پر بیٹھ گیا
“ان سے ملو عفان یہ مہک ہے میری فرسٹ کزن چھوٹے چچا کی اکلوتی بیٹی ۔۔۔۔”
“ہیلو “۔۔۔میں نے ایک خوشگوار مسکراہٹ سے مہک سے کہا
“ہائے” ۔۔۔۔۔اس نے میں جواب بھر پور مسکراہٹ سے دیا
“ویسے تم پہلے بھی ان سے مل چکے ہو ۔۔۔۔یہ مجھ سے ملنے آئیں تھیں ۔۔۔۔اور میں نے غالبا تمہیں اس سے متعارف بھی کروایا تھا اگر تمہیں یاد ہو تو ۔۔۔”۔قاسم نے مجھے یاد دلانے کی کوشش کی میں نے کندھے اچکا لئے
“شاید ۔۔۔۔مجھے یاد نہیں ۔۔۔۔”حالانکہ اس کا چہرہ کچھ شناسا سا لگا تھا مجھے مگر میں نے جرح نہیں کیا ۔۔۔۔
“مجھے اندازہ تھا تم بھول چکے ہو گئے”۔۔۔۔ قاسم نے یقین سے کہا
“خیر ۔۔۔۔چھوڑو اس بات کو ۔۔۔۔آج مہک کے تعارف کا حوالہ کچھ اور ہے ۔۔۔۔۔مہک کچھ ماہ پہلے ہی کینیڈا سے آئی ہے ۔۔۔۔اور آج سے یہ تمہارے انڈر میں کام کرے گی” ۔۔۔۔قاسم کی عجلت بھرے فیصلے پر میں کچھ متذبذب سا ہو گیا
“کیا مطلب ۔”۔۔۔۔میرے استفسار پر قاسم کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ۔۔۔۔
“با قول ڈیڈ کے بچی نے ابھی نئ نئ انجینرنگ کی ڈگری لی ہے ۔۔۔تجربہ کس چڑیا کا نام ہے یہ سیکھنے کے لئے یہ اب اس آفس میں کام کرے گی ۔۔۔۔محترمہ کی سب سے بری خوبی یہ ہے کہ انہیں سوال کرنے بہت خبط ہے اور میرے دماغ میں اتنا بھیجا نہیں کہ اس کے ساتھ سر کھپائی کرو ۔۔اس لئے یہ یہ آج سے
تمہارے کیبن میں کام کریں گئ “۔۔۔۔ قاسم کے تعارف پر مہک کے منہ کے زاویے بگڑنے لگے
“اس طرح کسی کا انٹروڈکشن کرواتے ہیں ۔۔۔۔اس سے بہتر ہے کہ میں خود ہی ان سے اپنا تعارف کروا دوں” ۔۔۔۔مہک نے قاسم کو شاکی نظروں سے گھورتے ہوئے کہا لیکن میں نے منع کر دیا
“نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے میں سمجھ چکا ہوں “۔۔۔۔میں ۔پہلے ہی کافی لمبی میٹنگ اٹینڈ کر کے آیا تھا پھر قاسم کی بے جا بکواس سننے کے بعد میرا مزید نئ بحث سننے کا بلکل موڈ نہیں تھا ۔۔۔غصہ مجھے قاسم پر آ رہا تھا وہ مجھے کس نئ مصیبت میں پھسانا چاہ رہا تھا ۔۔۔۔میرا اکھڑا لہجہ اور مہک کو ٹوک دینا اسے شاید برا لگا تھا وہ دوبارہ سے خاموش ہو کر بیٹھ گئ البتہ قاسم بہت خوش ہوا
“شاباش میرے چیتے اسے کہتے ہیں سمجھداری سے کام لینا ۔۔۔۔اسی لئے تو میں نے تمہارا انتخاب کیا ہے
تمہیں خواتین کو چپ کروانے کا گن آتا ہے” ۔۔۔۔قاسم کی بات سن کر مہک تیکھی نظر سے اسے دیکھنے لگی
“اب میں اتنا بھی نہیں بولتی “۔۔۔۔مہک نے اپنی خفت چھپانے کی کوشش کی
“نہیں نہیں اتنے اتنے سے تمہارا گزارا کہاں ہوتا ہے ۔۔۔جب سے تم آئی ہو گھر والے تم سے پناہ مانگتے پھر رہے ہیں ۔۔۔۔بول بول کر دماغ چاٹ چکی ہو تم سب کا ۔۔۔اس لئے تمہیں آفس بھیج کر انہوں نے سکون کی راہ تلاش کی ہے ۔”۔۔۔قاسم کی بات اور میری موجودگی پر وہ اب کسیانی سی ہو کر سر جھکا کر کن آنکھیوں سے قاسم کو گھور رہی تھی جیسے کچا چبا جائے گی قاسم اسے اپنے بانچھیں دیکھانے لگا تووہ کھڑی ہو گئ
“میرے خیال سے میں انکے روم ہی چلی جاؤں تو ذیادہ بہتر ہے کم از کم تمہاری بکواس نہیں۔ سننی پڑے گی” ۔۔۔۔مہک کافی برہمی سے بولی
“یہ تو خاص عنایت ہو گئ تمہاری مجھ پر۔۔۔ اب جاؤں بھی”۔۔۔۔قاسم نے بھی بنا لحاظ کہ کہا ۔۔۔۔
مہک شاید میرے اٹھنے کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔
“آپ جائیں میں آتا ہوں” ۔۔۔۔میں نے مہدب انداز سے مہک سے کہا اور وہ سر ہلا کر چلی گئ قاسم سامنے ٹیبل پر رکھے پیپر ویٹ کو گول گول گھما رہا تھا میں نے وہی پکڑر کر اسکے سر کا نشانہ باندھتے ہوئے نہایت غصے سے اس پر چلایا
“تم کیا مجھ سے پوچھ نہیں سکتے تھے ۔۔۔۔۔اتنا فارغ نظر آتا ہوں میں تمہیں ۔۔۔جو اب اس محترمہ کو تم میرے سر پر ڈال رہے ہو “۔۔۔۔میرے اس اچانک حملے کے لئے قاسم تیار نہیں تھا اس لئے دونوں ہاتھ اپنے سر پر رکھ کر ٹانگیں بھی کرسی پر چڑھا لیں
“مارنا مت ۔۔۔۔پلیز ۔۔۔۔عفان پہلے میری بات سن لو ۔۔”۔قاسم کے عاجزانہ انداز پر مجھے اور غصہ چڑھنے لگا میں نے پیپر ویٹ دوبارہ ٹیبل پر رکھ دیا
پھوٹو اب کیا کہنا چاہتے ہو ۔۔۔ میں دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا قاسم بھی سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
“یار ایسا بڑا مسلہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔یہ کونسی کوئی نوکری کرنے کا ۔۔۔۔یا بزنس چلانے کاارادہ رکھتی ہے ۔۔۔ شوقیہ آ گئ ہے چند دن میں بور ہو جائے گی تو چلی جائے گی ۔۔۔۔”
“یہ کام تم کیوں نہیں سر انجام دے دیتے کزن وہ تمہاری ہے ۔۔۔تم بہتر سمجھا سکتے ہو”
“یہی تو مسلہ ہے مجھ سے کبھی سیریس نہیں ہو گئ ۔۔۔۔پلیز تم ہینڈل کر لو ۔۔۔۔میرے شونے مونے نہیں’ “۔قاسم نے میری تھوڑی پکڑ کر پیار جتنے کی کوشش کی
ہٹو پیچھے ۔۔۔بہت ہی بے شرم ہو ۔۔۔۔میں اسکی ایسی حرکتوں سے اپنا غصہ بھول کر مسکرانے لگتا تھا
“اب چائے تو پلا دو مجھے اسی لئے مجھے تم یہاں لائے تھے”
۔۔۔ قاسم نے اپنے سر پر زور سے ہاتھ مارا
“او مائی گاڈ ۔۔۔۔میں تو بھول ہی گیا تھا ۔۔۔۔ابھی آڈر کرتا ہوں “۔۔۔۔۔قاسم نے جلدی سے انٹر کام اٹھایا اور چائے کے ساتھ سینڈوچ بھی آڈر کرنے لگا
******………..
اگلے روز جب میں اپنے کیبن میں آیا مہک وہاں پہلے سے ہی موجود تھی۔۔۔۔ماوز ہاتھ میں لئے کمپوٹر پر کچھ کر رہی تھی ۔۔۔۔میرے آنے پر ہڑبڑا سی گئ فوراسے کمپوٹر شٹ ڈاؤن کر دیا ۔۔۔اور کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔رنگ بھی کچھ اڑا اڑاسا لگ رہا تھا ۔۔۔۔
“مس مہک آپ کھڑی کیوں ہو گئی۔ بیٹھیں پلیز میں آپکا باس نہیں ہوں اس لئے ایسے التفات میرے سامنے برتنے کی ضرورت نہیں ہے آپکو۔۔۔۔۔ٹیک از ایزی ۔۔۔۔”۔میں نے مہک کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا اب وہ کافی حد تک ریلیکس لگ رہی تھی ۔۔۔۔میں اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا چند ایک فائل ری چیک کیں ۔۔۔۔مہک خاموشی سے بیٹھی رہی میں نے ہمدانی صاحب کا کال کر کے اپنے کمرے میں بلایا ۔۔۔۔وہ آرکٹیکس میں سب سے سینیر تھے آرکیٹکچرل ڈرافنگ کے ماسٹر تھے میں اور قاسم بھی انہیں کے زیر نگرانی کام کر چکے تھے اور اب تو ہم خود بھی بہت اچھا ڈراف کر لیتے تھے اس لئے میں نے مہک کو وہیں بھیجنا
مناسب سمجھا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ میرے کمرے میں موجود تھے ۔۔۔۔۔
“ہمدانی صاحب یہ مہک ہیں قاسم کی کزن ہیں ۔۔۔۔آپ انہیں اپنے ساتھ لے جائیے اور انکی ڈرافنگ بھی چیک کر لیجیے گا “۔۔۔۔ہمدانی صاحب سے مہک کا تعارف کروا کر میں نے مہک کو انکے ساتھ بھجوا دیا ۔۔۔۔۔مجھےقاسم کے ساتھ سائٹ پر جانا تھا ہم دونوں کچھ ہی دیر میں سائٹ پر چلے گئے ۔۔۔۔وہاں پر ساراوقت مصروف ہی گزرا تھا وہ ایک رہائشی علاقہ تھا اور زیر تعمیر بلڈنگ بھی آخری مراحل پر تھی قاسم کے ڈیڈ کے جانے بعد تقریبا ذمہ داری ہم دونوں کی تھی اسلئے سائٹ انجئنر سے طویل گفتگوں کے بعد مزدورں کے کام کو بھی بہت تنقیدی نظر سے دیکھنا ایک اور مشکل مرحلہ تھا پہلے یہ سب قاسم کے ڈیڈ ہی دیکھتے تھے ۔۔۔ جب تک ہم واپس آئے مہک جا چکی تھی ۔۔۔۔۔
اگلے روز جب مہک نے اپنا بنایا ہوا ڈراف میرے سامنے رکھا ۔۔۔۔پہلی بار میں بنایا گیا ڈراف اس قدر پرفیکٹ تھا ذرا سی بھی تکنیکی غلطی تک نہیں تھی ۔۔۔۔میں نے کئ بار ڈراف کو تنقیدی انداز سے دیکھا ۔۔۔۔پہلی کار کردگی بہرحال اسکی بہت بہترین تھی میں نے اسکی تعریف بھی کی جس کی وہ حقدار تھی ۔۔۔۔پھر تو جیسے مہک مجھ سے بہت بے تکلف سی ہو گئ تھی ۔۔۔جتنی دیر وہ میرے کیبن میں ہوتی مسلسل کچھ نا کچھ بولتی رہتی ۔۔۔۔۔۔۔مگر اسکی ذیادہ تر باتیں غیر پرفشنل سی ہوتیں ۔۔۔۔وہ شاپنگ کہاں سے کرتی ہے ۔۔۔کون سا فیشن ان ہے ۔۔۔۔اسے گلوکار اور اداکار کون سے اچھے لگتے ہیں ۔۔۔۔میوزک کیسا پسند ہے ۔۔۔۔۔
مجھے اٹالین فوڈ بہت پسند ہے ۔۔۔۔ یو ڈفینٹلی لائک چائنیز فوڈ ہے نا ۔۔۔۔مہک اپنی پسند بتا کر میرے بارے میں اندازے لگاتے ہوئے مجھ سے پوچھنے لگی
“آئی ڈونٹ لائک نون سنسز ان دا آفس ۔۔۔۔ میرے
خیال سے آپ یہاں صرف اپنا ٹائم اچھا سپنڈ کرنے آتی ہیں ۔۔۔۔۔میں اسکے روز روز کی بے تکی باتوں سے تنگ آ چکا تھا ۔۔۔۔۔۔میری بات اسے بری لگی تھی ۔۔۔”۔اس لئے وہ دوبارہ اپنی سیٹ پر بیٹھ کر کمپوٹر پر ڈیزائنگ نکال کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔عجیب لڑکی تھی میں جتنا اسکے بارے میں سوچتا تھا میری الجھن میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔۔اتنا پرفیکٹ ڈراف اور اتنی غیر پروفیشنل گفتگوں اسکی باتیں اور اسکے بنائے ڈراف میں بہت تضاد پایا جاتا تھا ۔۔۔۔۔جب بھی میں مہک سے کوئی بات ڈسکس کرتا وہ ایسے مجھے تکنے لگتی جیسے وہ ان سب کے بارے میں لا علم ہو ۔۔۔۔اور کوئی جواب نا بنتا تو موسم کے بارے میں تبصرے شروع کر دیتی ۔۔۔۔اس کا مجھے یہی حل نظر آتا کے اسے ہمدانی صاحب کے حوالے کر دیتا ۔۔۔۔ اور ڈرائنگ سکشن میں بھیج دیتا ۔۔۔۔
*********……….***********…………..
چھٹی کا دن تھا میں مما اور پاپا کے ساتھ بیٹھا ٹی وی پر ٹاک شاک دیکھ رہا تھا کبھی یہ پروگرام میں اور ماہم مل کر دیکھا کرتے تھے ۔۔۔۔ہنستے تھے تبصرے کرتے تھے ۔۔۔۔مگر اب وہ لمحںیں میرے لئے خوبصورت خواب سے بن کر رہ گئے تھے ۔۔۔میں صوفے پر آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا اور صوفے کے کشن کو بازوں میں دبائے بظاہر ٹاک شو بڑے انہماک سے دیکھ رہا تھا مگر اصل میں انہیں لمحوں کو جی رہا تھا جب ماہم میرے ساتھ یہ سب دیکھتی تھی ۔۔۔بلا وجہ بولتی تھی ۔۔۔میرے گھورنے کر ہنستی تھی ۔۔۔۔اب تو وہ بھی کافی بدل چکی تھی ۔۔۔۔۔جب سے میں نے اس سے دوری اختیار کی تھی ماہم کافی چپ چپ رہنےگی تھی ۔۔۔۔۔لانج میں وہ بیٹھی بھی ہوتی تو لگتا تھا کہ ماہم موجود ہی نہیں ہے ۔۔۔۔کامران کا وہی رویہ تھا جو اول روز سے تھا منگنی کے بعد بھی میں اس رویے میں تبدیلی محسوس نہیں کی تھی ۔۔۔۔۔میں اسی نہج پر سوچ رہا تھا جب کامران سیڑیاں اتر کر نیچے لانج میں آ کر مما کے
برابر میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔پاپابھی وہ ٹاک شو دیکھنے میں مگن تھے ۔۔۔۔
ماہم شاید کچن میں ڈنر بنانے میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔جب کامران نے اسے پکارا
“ماہم کہاں ہو بھئ ادھرآوں” ۔۔۔۔۔ماہم فورا سے کچن سے نکل کر کامران کے سامنے کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔چہرا پسینے سے شرابور ہو رہا تھا ۔۔۔جسے وہ ڈوپٹے سے صاف کرنے لگی ۔۔۔۔
یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے تم نے
“کامی وہ آپ کو کوفتے بیحد پسند ہیں نا وہی بنا رہی تھی ۔۔۔۔وہ تیار ہو جائیں تو۔۔۔۔۔۔۔”
” ایک گلاس پانی پلاو مجھے ۔۔”
“جی ابھی لائی “۔۔۔۔۔ماہم کے لئے کامران کی ہر بات حکم کا درجہ رکھتی تھی ۔۔۔۔میں نے کبھی کامران کو ماہم کے ساتھ دوستانہ رویہ استوار رکھتے نہیں دیکھا تھا لگتا تھا جیسے ماہم اسکے ہر حکم کی غلام ہے ۔۔۔۔میرا دل سلگنے لگتا تھا یہ سب دیکھکر مگر
ماہم کو شاید ایسی ہی زندگی کی چاہ تھی ۔۔۔۔میرے ہاتھ میں ریموٹ تھا جیسے میں سختی سے پکڑے ہوئے اپنے غصے پر قابو پانےگا۔۔۔۔۔
“پاپا میں ماہم کو ڈنر پر لے جانا چاہتا ہوں اگر آپ کی اجازت ہو تو” ۔۔۔۔۔کامران کی بات ہم تینوں کے لئے ہی غیر متوقع تھی ۔۔۔۔
“واقع یہ تو اچھی بات ہے” ۔۔۔مما خوشی سے چہک کر بولیں
“ضرور لیکر جاؤں ۔۔۔۔ویسے بھی وہ کافی دونوں سے نا جانے کیوں چپ چپ ہے ۔”۔۔۔پاپا نے بھی خوشی کا اظہار کیا ماہم پانی لیکر آئی تو
کامران نے گلاس پکڑتے ہی ماہم کو تیار ہونے کا الٹمیٹ آڈر سنا دیا
“جاؤں جلدی سے تیار ہوکر آؤں ۔۔۔۔”
“لیکن کامی۔۔۔۔۔”
“ہاں ہاں بیٹا جاؤں تیار ہو کر آؤں کامران کے ساتھ تمہیں ڈنر پر جانا ہے” ۔۔۔۔مما نے کہا تو ماہم کے چہرے پر کئ رنگ بکھر گئے ۔۔۔۔۔
بس اتنی سی بات پر یہ لڑکی کتنی خوش ہو جاتی ہے ۔۔۔۔شاید محبت چیز ہی ایسی ہے ۔۔۔۔۔محبوب کاذرا سا التفات ساری بے اعتنائیوں کو دھو دیتا ہے ۔۔۔۔کامران کے عام سے جمعلے ماہم کے لئے گویا کسی انرجی ٹانک کی طرح تھے ۔۔۔۔کچھ دیر میں بس کامران کو دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔بہت غور سے اس کے ایک ایک نقش کو ۔دیکھنے لگا۔۔۔۔۔مجھے کامران آج سے پہلے اتنا دلچسپ کبھی نہیں لگا تھا ۔۔۔۔مگر میری ماہی اس سے محبت کرتی تھی یقینا کچھ تو خاص تھا اس میں ۔۔۔۔شاید وہی خاص تھا ۔اسکے لئے ۔۔۔نا جانے ماہی کو کامران کے چہرے پر کس چیز نے متاثر کیا تھا اسکی آنکھیں ۔۔۔۔۔یا اسکے چہرے کے نقوش یا شاید اسکی مسکراہٹ یا وہ ڈمپل جو کامران کے مسکرانے سے پڑتا تھا ۔۔۔۔۔میں کچھ پل کے لئے کامران کو ماہم کی نظر سے دیکھنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔کامران کی نظر مجھ پر پڑی تو میں گڑ بڑا سا گیا فورا سے اپنی نظریں ٹی وی پر مرکوز کر دیں ۔۔۔۔ماہم تیار ہو کر نیچے آئی تو کامران نے ٹیبل سے گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے مجھے مخاطب کیا
“عفان تم بھی چلو ہمارے ساتھ ۔۔۔ذرا گپ شپ رہے گی”۔۔۔کامران کی بات سن کر میں اچھنبے میں آ گیا ۔۔۔۔آج سے پہلے تو اس نے ایسی آفر کبھی نہیں کی تھی ۔۔۔
“نہیں بھائی آپ جائیں میرا موڈ نہیں ہے ۔۔۔گھر پر ہی رسٹ کرنے کا ارادہ ہے” ۔۔۔میں نے منع کر دیا میرا بھلا وہاں کیا کام تھا ۔۔۔۔۔
“چلے جاؤں عفان ذرافریش ہو جاؤں گئے ۔۔۔”
ممانےمجھ سے کہا ویسے بھی وہ میری حد درجہ مصروفیت اور سنجیدگی فکر مند رہنے لگیں تھیں کامران اور ماہم کی منگنی کے بعد میرا ماہم سے بلکل کٹ کر رہ جانا ماہم کے ساتھ ساتھ مما نے بھی محسوس کیا تھا
“نہیں مما ویسے بھی یہ پروگرام میرا پسندیدہ ہے ۔۔۔بہت دنوں بعد دیکھنے کا موقع ملا ہے میں اسے مس نہیں کرنا چاہتا “۔۔۔۔۔میں نے آنکھوں کے اشارے سے ٹی وی پر لگے ٹاک شاک کی طرف دیکھ کر مما کو مطمئن کرنا چاہا
“ماہم تم کہہ دو عفان کو تمہاری بات تو ویسے بھی نہیں ٹالتا ۔”۔۔۔۔کامران کے منعی خیز جواب بازی میں سمجھ نہیں پا رہا تھا مگر مشتعل ضرور ہو گیا تھا
“ایسی بات نہیں ہے مجھے جانا ہوتا تو
میں مما کے کہنے پر بھی چلا جاتا ۔۔”””۔۔میں نے سنجیدگی سے کہا
“چلو پھر ہم بھی نہیں جاتے ۔۔۔میں نے تو سوچا تھا عام دنوں میں تو بیٹھ کر گپ شپ کا
موقع ہی نہیں ملتا اب مل کر بیٹھیں گئے ۔۔۔۔خیر کوئی بات نہیں” ۔۔۔کامران دوبارہ صوفے پر دراز ہو گیا میں اسکی اس حرکت سے پزل سا ہو گیا
“آپ میرے لئے اپنا پروگرام کیوں خراب کر رہے ہیں بھائی”
“تمہارے بغیر مزہ نہیں آئے گا عفان سیریسلی چلو نا ہمارے ساتھ آئی پرومس ہم دونوں تمہیں بور ہونے نہیں دیں گئے” ۔۔۔۔۔کامران کی باتیں میری عقل کو حیران پریشان کر رہیں تھیں اتنی محبت تو اس نے کبھی پچھلے تیئس سال میں نہیں دیکھائی تھی جتنی پچھلے دس منٹ سے دیکھا رہا تھا پتہ نہیں۔ محبت تھی یامیرے دل کو جلانے کی نئ سازش ۔۔۔۔۔
“چلے جاو عفان اتنی محبت سے اگر اس نے مجھ سے کہا ہوتا تو میں بھی انکار نہیں کرتا ۔”۔۔پاپا نے بھی شاید وہی بات محسوس کی تھی جو میں ابھی تک سمجھ نہیں پا رہا تھا
“آپ چلیں میں ذراچینج کر کے آ رہا ہوں”۔۔۔۔۔ میں بادل نخواستہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا گھر میں ذیادہ تر ٹاوزر اور ٹی شرٹ پہنے ہی رہتا تھا ۔۔۔۔اس لئے کپڑے چینج کر کے جب میں لاونج میں آیا تو وہ دونوں بھی ریڈی تھے ۔۔۔۔ہم تینوں ایک مشہور
نامور ریسٹورنٹ میں بیٹھ گئے کامران نے کھانے کا آڈر دیا مجھے ویسے بھی کچھ خاص بھوک نہیں تھی ۔۔۔۔اس لئے میں نے خود سے کوئی فرمائش نہیں کی
کامران مجھ سے میری جاب کے متعلق پوچھنے لگا ۔۔۔۔میں بھی اسے بس فارمل سے جواب دے رہا تھا۔۔۔ماہم بس خاموشی سے ہماری باتیں سنتی رہی ۔۔۔۔
“میرے خیال سے تو تم خود کو کافی اسٹبلش کر چکے ہو عفان اب تمہیں بھی اپنی شادی کے بارے میں سیریسلی سوچنا چاہیے ۔۔””۔۔۔کامران کا انداز نارمل سا تھا
“”میرا ابھی ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے کم از کم تین چار سال تو بلکل نہیں “”۔۔۔۔۔میں نے بھی اپنا لہجہ ہموار ہی رکھا
“چلو پھر اپنے آئیڈیل کے بارے میں ہی بتا دو ۔۔۔۔کیسی لڑکی پسند ہے تمہیں” ۔۔۔۔کامران کے استفسار پر میری نظر بے ساختہ ماہم کر جا کر رک گئ ۔۔۔۔لیکن اگلے ہی لمحے میں سنبھل کر بیٹھ گیا
“آپ میرا انٹرویو لینے کے لئے مجھے یہاں لائیں ہیں “۔۔۔۔کامران کے ہے در پے سوالوں سے میں زچ ہونے لگا تھا
“ناٹ ۔۔۔ناٹ ایٹ آل یار میں تو یونہی تمہاری پسند جاننا چاہتا تھا ۔۔۔۔آخر بڑے بھائی ہونے کے ناطے تمہاری پسند کی لڑکی ڈھونڈا اب ہماری زمہ داری ہے کیوں ماہم۔۔”۔مجھ سے بات کرتے کرتے کامران ماہم سے پوچھنے لگا
“ہاں تو اور کیا ۔۔۔بتاوں عفان کیسی لڑکی پسند ہے تمہیں”
ماہم بھی مسکرا کر مجھ سے پوچھنے لگی ۔۔۔ میں بس خاموشی سے اسے دیکھنے لگا اب ماہم سے کیا کہتا کہ مجھے تمہارے علاؤہ کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے کامران برجستہ بول پڑا
“ارے مجھے اندازہ ہے عفان کو کیسی لڑکی پسند ہے ۔۔۔۔ماہم اسے تم بہت پسند ہو” ۔۔۔۔کامران کی بات پر مجھے دھچکا سا لگا متعجب تو ماہم بھی ہو گئ
“میرا مطلب ہے تم جیسی لڑکیاں۔ اسکے لئے بلکل اپنے جیسی لڑکی ڈھونڈنا ۔۔”۔۔کامران کی ذو معنی باتیں مجھے بری طرح زچ کر رہیں تھیں
“یہ آپ سے کس نے کہا ایسا کچھ نہیں ہے ۔”۔۔۔میں نے اکھڑتے ہوئے جواب دیا
“میں نے تو یونہی جنرل سی بات کی ہے تم تو یار برا ہی منا گئے ۔۔۔او کے میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں ۔۔۔بھئ ماہم عفان کو تم بلکل پسند نہیں ہو غلطی سے بھی اپنے جیسی لڑکی نا پسند کر لینا” ۔۔۔۔۔
کامران بات کو نیا رخ دے رہا تھا اسکی آنکھوں میں شرارت چھلک رہی تھی ۔۔۔۔۔اور ماہم خاموش سی ہو گئ اور میں اندر ہی اندر جزبز سا ہوا کر رہ گیا ۔۔۔۔مجھے یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا میں آ کر پچھتا رہا تھا
ماہم دونوں ہاتھ ٹیبل کے اوپر رکھے بیٹھی تھی۔۔۔۔چونکہ وہ اب کامران کے برابر میں بیٹھی تھی کچھ توقف کے بعد کامران نے ماہم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا ماہم ایک دم سے بوکھلا گئ اور اندر سے ہل تو
میں بھی گیا تھا ۔۔۔۔مگر جلد ہی سنبھل کر ادھر ادھر دیکھنے لگا اور یہ ظاہر کرنے لگا کہ میں نے کامران کی حرکت کو نوٹس ہی نہیں کیا ۔۔مگر ماہم بری طرح نروس ہو رہی تھی ۔۔۔۔
“کامی میرا چھوڑیں پلیز ۔”۔۔۔ماہم گھبرا کر بولی
“کیوں ماہم ۔۔۔۔۔ارے منگنی ہو چکی ہے ہماری ۔۔۔کیوں بھول جاتی ہو تم “۔۔۔۔کامران ایسے مسکرا رہا تھا جیسے ماہم کی پریشانی کو انجوائے کر رہا ہو
“لیکن کامی مجھے اچھا نہیں لگ رہا ۔۔۔آپ ۔۔۔آپ میرا ہاتھ چھوڑ دیں” ۔۔۔۔ماہم اپنا ہاتھ چھڑوانے لگی
“او کم آن یار تم کیا چیپ قسم کی مشرقی عورتوں کی طرح ری ایکٹ کر رہی ہو ۔۔۔آج کے دور میں جینا سیکھو مجھے بولڈ قسم کی لڑکیاں پسند ہیں یوں شرمانے اور گھبرانے والی لڑکیوں سے سخت چڑ ہے مجھے ۔”۔۔۔۔کامران کی بات پر میرا خون کھول اٹھا اگر کامران کو ماہم جیسی لڑکیاں پسند ہی نہیں تھیں تو پھر یہ رشتہ ہی قائم کیوں کیا
ماہم سخت بوکھلاہٹ کا شکار تھی اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی مگر کامران بہت مطمئن بیٹھا تھا اسکی گرفت اتنی مضبوط تو تھی کہ ماہم اپنا ہاتھ چھڑوا نہیں پا رہی تھی میرا جی چاہاسامنے ٹیبل پر رکھا گلاس کامران کے منہ پر دے مارو ۔
۔اپنے آنے پر میں خود کو جی بھر کر ملامت کر رہا تھا
“ہیلو عفان ۔۔۔تم یہاں” ۔۔۔۔میرے عقب سے ایک نسوانی آواز ابھری میرے ساتھ ساتھ ماہم اور کامران کی نظریں بھی اس خوبصورت حسینہ پر جا کر رک گئیں۔۔۔کامران نے ماہم کا ہاتھ چھوڑ دیا
“ارے مہک تم ۔”۔۔۔مہک کو سامنے دیکھ کر میں نے حیرت کا اظہار کیا
“کین آئی سٹ ہیر ۔۔۔عفان ۔”۔۔۔مہک نے پر تکلف انداز سے پوچھا
“یا شیو وائے ناٹ “۔۔۔۔میں نے اپنے برابر کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا مہک کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔ کامران اور ماہم کو ہائے ہیلو کرنے کے بعد میری جانب دیکھنے لگی تا کہ میں اس کا تعارف کروا
“مہک یہ میرے بڑے بھائی ہیں کامران اور یہ ان کی فیانسی ماہم ۔۔۔میری کزن بھی ہے ۔۔۔۔۔اور بھائی یہ مہک ہے قاسم کی کزن انہوں نے کچھ دن پہلے ہی آفس جوائن کیا ہے “۔۔۔۔کامران تو گویا نظریں ہٹانا ہی بھول گیا تھا کچھ وہ تھی بھی خوبصورت پھر ڈریس آپ بھی آجکل کے انداز سے ہو کر آئی تھی۔۔۔اسٹیپ میں کٹے ڈائی شدہ بال ریڈ کلر کی اسکن فٹ شوٹ شرٹ اور اس پر بلیک جینز کے ساتھ ہمرنگ اس کا چھوٹا سا پرس ۔۔۔۔ہائی ہیل اور نفاست سے کیا میک اپ میں وہ کسی ماڈل سے کم نہیں لگ رہی تھی کامران اور ماہم سے سرسری سی نظر ڈال کر وہ میری طرف متوجہ ہو گئ مجھ سے باتیں کرنے لگی
“ایکچلی میری ایک دوست نے فول بنا دیا مجھے ۔۔۔۔مجھے یہاں ڈنر پر انوایٹ بھی کیااور خود ابھی تک آئی بھی نہیں اور اب تو فون بھی اس کا آف ہے میں کب سے اسکا ویٹ کررہی ہوں ۔۔۔۔۔اکیلے کھانا کھانا مجھے کچھ اکوڈ سا لگ رہا ہے آف یو ڈونٹ ماینڈ عفان اگر تم مجھے جوائن کر لو تو ۔۔۔تمہارے بھائی اور بھابی کو بھی پرسنلی بات کرنےکا موقع مل جائے گا ۔”۔۔۔مہک نے مسکرا کر ماہم کی طرف دیکھا تو وہ نظریں جھکا گئ
“شیور میں بھی خود کو یہاں ان فیٹ فیل کر رہا تھا ۔۔۔چلیں….” میں فوراسے کھڑا ہوگیا۔۔۔۔میں مہک کے ساتھ دوسرے ٹیبل پر بیٹھ گیا کوئی اور موقع ہوتا تو میں کبھی مہک کہ آفر قبول نا کرتا لیکن کامران کی عجیب وغریب باتوں اور حرکتوں سے میں تنگ آ چکا تھا اس لئے مجھے مہک کا ساتھ ہی ٹھیک لگا ۔۔۔۔مہک کی بے تکی باتوں پر میں کبھی ہنس پڑتا تو کبھی بس مسکرانے پر اکتفا کرتا کھانے کا آڈر تو مہک نے کیا تھا مگر بل میں نے ہے کیا
حالانکہ وہ اصرار کرتی رہ گئ مگر میں یہی کیا کہ ایک مرد کے ہوتے ہوئے بل ایک عورت ہے کرے یہ بہت نا مناسب سی بات ہے واپسی تک میں مہک کے ساتھ ہی رہا
