Tadbeer by Umme Hani NovelR50414

Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 43 (Part 2)

458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 43 (Part 2)

Tadbeer by Umme Hani

میری آنکھ قرآن پاک کی تلاوت پر کھلی ۔۔۔۔میرے سرہانے ایک نورانی صورت میں بیٹھیا یک خاتون دل موہ لینے والی آواز سے قرآن پڑھ رہی تھیں ۔۔۔۔میں کچھ دیر انہیں دیکھتا رہا ۔۔۔وہ اپنی تلاوت میں مگن تھیں ۔۔۔۔۔۔اور میں انہیں دیکھنے میں ۔۔۔۔وہ اتنی لگن اور خوش الحانی سے پڑھ رہیں تھیں ارد گرد سے بلکل بے خبر تھیں ۔۔۔۔۔نا جانے کون سی سورۃ تھی مگر اسکی آواز اور طرز تلاوت سے میرے اندر تک سکون سا اترنے لگا ۔۔۔۔۔۔قرآن کی تلاوت ختم کرنے کے۔ بعد جب انکی مجھ پر نظر پڑی تو پہلے توانکی آنکھوں میں۔ حیرت تھی پھر وہ مبہم سا مسکرائیں وہ لگ بھگ مما کی عمر کی تھیں ۔۔۔۔

“ماشااللہ ۔۔۔ماشاللہ ۔۔۔۔مبارک ہو بیٹا تمہیں اللہ نے بڑا کرم کیا ہے تم پر ۔۔۔۔۔میرے رب کی نوازشیں ایسی ہی ہوتی ہیں اپنےبندوں پر ۔۔۔۔انشااللہ تم بھی مکمل صحت یاب ہو جاؤں گئے اللہ کے کلام میں بڑی طاقت ہے ۔۔۔۔۔قران کے لفظ زبان پر بہت میٹھے ہوتے ہیں بیٹا اسکی حلاوت اندر تک محسوس ہوتی ہے تم جتنا اسے غور سے سنو گئے تمہیں اپنے اندر اترتے ہوئے محسوس ہوں گئے ۔۔۔۔۔۔قرآن پاک شفا ہے ۔۔۔۔اور شفا یاب کرنے کی طاقت رکھتا ہے ۔۔۔۔تم بھی ایک دن اس کا اعتراف اپنی زبان سے کروگئے ۔۔۔۔اللہ تمہارا ہامی و ناصر ہو ۔۔۔۔انکی باتیں بہت گہری تھی بے حد سچی تھیں ان میں کوئی شبہ نہیں تھا ۔۔۔۔میں نے انہیں ۔مشکور نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔بس انکا شکریہ میں بس اپنی نظروں سے ہی ادا کر سکتا تھا وہ کمرے سے چلیں گئیں کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر رمشہ میرے کمرے میں ایک فائل کے ہمراہ داخل ہوئیں میری ہارٹ بیٹ چیک کرنے لگی میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔۔مجھے اسے دیکھتے ہی غصہ آنے لگتا تھا

“مسٹر عفان۔۔۔۔ڈاکٹر رمشہ نے مجھے پکارا ۔۔۔۔مگر میں بدستور آنکھیں بند کیے ہی رہا ۔۔۔

“مجھے معلوم ہے آپ مجھے سن رہے ہی۔ ۔۔میری بات کو اگنور کیوں کر رہے ہیں ۔۔۔مجھے دیکھتے ہی یا توآپ اپنی نظریں بدل لیتے ہیں۔ یا سرے سے آنکھیں ہی بند کر لیتے ہیں۔۔۔اس کا میں کیا مطلب سمجھو۔۔۔ٹھیک ہے کہ میں ایک سائیکڑریس بھی ہوں آنکھوں سے دیکھ کر دل کا حال جاننے کی کوشش بھی کر سکتی ہوں مگر آپکی بند آنکھوں کی زباں سے آپ مجھے کیا سمجھانا چاہ رہے ہیں میں قطعی سمجھ نہیں پا رہی ۔۔۔۔میں آپکے اپنوں تک آپ کا پیغام پہنچانے میں آپکے لئے معاون بھی ثابت ہو سکتی ہوں اگر آپ میرے ساتھ تعاون کریں تو ۔۔۔۔مسٹر عفان ۔۔۔۔ہیلو “۔۔۔۔۔اسکے نرم گفتار اور میٹھے لہجے کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا اس کا اصل روپ میں جان چکا تھا ۔۔۔بند آنکھوں سے اسکی مکاری اور عیاری سمجھ چکا تھا ۔۔۔اس لئے بدستور آنکھیں بند کیے لیٹا رہا ۔۔۔کافی دیر وہ مجھے پکارتی رہی ۔۔۔جب میری طرف سے کوئی رسپونس نہیں ملا تو وہ چلی گئ دروازے کی بند ہونے کی آواز سے میں سمجھ گیا تھا کہ وہ جا چکی ہے ۔۔۔میں۔ نے آنکھیں کھولیں کمرے میں اب

میرے علاؤہ کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔میں کمرے کا جائزہ لینے لگا ۔۔۔مجھے بس شام ہونے کا انتظار رہنے لگا تھا جب میری ماہی میرے پاس ہوتی تھی اس انتظار کے علاؤہ میں کر بھی کیا سکتا تھا ۔۔۔۔۔

میرے کمرے کی کھڑکی بائیں جانب تھی ۔۔۔۔اور اتفاق سے کھلی ہوئی تھی ۔۔۔میراسر بلکل سیدھا رکھا تھا مگر میں اپنی آنکھوں کو آخری حد تک بائیں جانب موڑ کر کھلی کھڑی سے باہر دیکھنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔آسمان سفید بالوں سے بھرا ہوا تھا اور بہت روشن تھا ۔۔ شاید دوپہر اور شام کے بیچ کا وقت تھا ۔۔۔پرندوں کی آوازیں اور روڈ پر ٹریفک کی ملی آوازیں زندگی کا احساس دلا رہیں ۔ تھیں۔۔۔۔کان خدا کی کتنی بڑی نعمت ہیں آنکھیں اس قدرت کائنات کی عطا کی ہوئی انمول نعمت ہے ۔۔۔یہ میں نے بستر پر لیٹ کر جانا تھا ۔۔۔۔ایک سال میں نے اندھیرے میں گزارا تھا ۔۔۔۔۔۔سامنے دیوار پر لگی گھڑی دن کے چار بجا رہی تھی ۔۔۔۔کافی دیر میں نے۔ گھومتی سوئیوں دیکھ کر گزار دی ایک وقت ایسا تھا کہ میں گھڑی دیکھ کر اپنے کام نمٹاتا تھا کہ وقت بہت قیمتی ہے

مجھے اسے برباد نہیں کرنا ۔۔۔ایک سے بڑھ کر ایک پروجیکٹ کمپلیٹ کرنا میراا مقصد زندگی بن چکا تھا۔۔۔۔میری کمپنی کا نام تیزی سے ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنے لگا تھا ۔۔۔۔مجھے لگتا تھا کہ میں نے اپنے وقت کا صحیح استعمال کر رہا ہوں ۔۔۔کچھ دیر میں عصر کی آذان کی آوازیں آنے لگیں میں

موزن کے کہے لفظوں اپنے دل میں ادا کرنے لگا ۔۔۔۔۔

حی علی الفلاح ۔۔۔۔ پر میرے جسم میں ایک تیز بجلی سے لہر اٹھی کہ میرا دل تک کانپ گیا ۔۔۔۔۔کیاسچ میں نے وقت کا صحیح استعمال کیا تھا ۔۔۔۔میرے دل نے اندر سے میری بات کی تردید کی ۔۔۔بے شک میں نے لوگوں کی مدد کی تھی کبھی اونچ نیچ کافرق بھی نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔مگر کیا یہ سب کافی تھا ۔۔۔۔۔کیا صرف یہ سب کافی تھا اللہ کے ان سب احسانات کے بدلے میں جو اس نے مجھ پر کیے تھے اور میری پہلی سانس سے اب تک مجھ پر کر رہا تھا ۔۔۔۔میں نے کب نمازوں کو پابندی سے پڑھا تھا ۔۔۔۔کب شکر کے لمبے سجدے ادا کیے تھے ۔۔۔۔جو کچھ کمایا وہ صرف دنیا تھی ۔۔۔۔اگر آج میری سانسوں کی ڈور ٹوٹ جائے تو ۔۔۔۔۔میں۔ کہاں کھڑا ہوں ۔۔۔میرے پاس اپنے رب کو دیکھانے کے لئے کونسا ایسا عمل ہے ۔۔۔۔ٹھیک ہے میں اچھا بیٹا تھا ایک اچھا شوہر بھی ۔۔۔مگر کیا میں اللہ کی نظر میں بھی کچھ تھا ۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔میں کس منہ سے خود کو اپنے رب کے دربار میں پیش کروں گا ۔۔۔۔انسان سو سال کی عبادت کے بعد بھی اسکی نعمتوں کے سامنے تہی دامن رہ جاتا ہے میں تو سچ میں تہی دامن۔ تھا ۔۔۔۔۔دنیا کی بھاگ دوڑ میں میں نے کب ان باتوں کو سوچا تھا ۔۔۔۔بس مجھے ایک کامیاب بزنس مین بننا تھا اپنی بیوی بچوں کو آسائشیں دینی تھی ۔۔۔اپنے ماں بات کی خواہشات کو پورا کرنا تھا ۔۔۔مگر میں نے اپنے رب کو کیا دینا تھا یہ میں کبھی سوچا ہی نہیں ۔۔۔۔۔

“اے میرے میں نے خسارے کا سودا کر لیا ۔۔۔اپنی گزری ہوئی عمر میں میں نے تجھے راضی رکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی ۔۔۔۔تیرے قرآن کو سمجھناایک طرف میں نے پابندی سے پڑھا بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔اور آج میں اسی قرآن کے معجزے کا منتظر ہوں ۔۔۔۔۔۔۔کہ میں تیری آیتیں سنو اور آٹھ بیٹھو۔۔۔کیسے سوچ لیا میں نے کہ مجھ پر یہ سب اثر کر سکتا ہے ۔۔۔۔میں نے کب قرآن کا حق ادا کیا ۔۔۔۔کب نماز کی فکر کو خود پر مسلط کیا ۔۔۔۔کبھی بھی تو نہیں ۔۔۔۔۔۔شاید اس لئے آج میں یوں بے جان وجود کے ساتھ لیٹا ہوں ۔۔۔۔آج مجھے پر اگر کچھ حقیقت آشکار ہو بھی گئ ہے تو کتنا بدقسمت ہوں میں کہ چاہ کر بھی اسے سجدہ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔۔گڑ گڑا کر رو نہیں سکتا ۔۔۔۔۔دعا کے لئے ہاتھ بھی نہیں اٹھا سکتا ۔۔۔۔۔اففف میرے اللہ میں نے اپنی عمر ضائع کر دی ۔۔۔۔تیری قسم میں نے اپنی عمر کو گوا دیا۔”۔۔۔۔میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔آج مجھے اس بات کا جواب مل گی تھا کہ میں نے ایک سال مردہ حالت میں کیوں گزارا ۔۔۔۔۔ یہ اللہ کی تدبیر تھی مجھے جینے کا ڈھنگ سیکھانے کے لئے ۔۔۔۔۔اب مجھے قرآن کی تلاوت سننے کا بے صبری سے انتظار رہنے لگا تھا میں بہت غور سے آیات سنتا تھا دل سے ان آیات کے سچے ہونے کی گواہی دیتا تھا ۔۔۔۔اللہ سے دعا کرتا تھا کہ مجھے وہ ایک موقع دیدے تو اپنی اس کوتاہی کو بھی دور کر لوں ۔۔۔۔۔انسان اگر یہ کہے کہ اسے زندگی میں اللہ نے سدھرنے کا موقع نہیں دیا یا کسی نے راہ راست نہیں دیکھائی تو یہ سب سے بڑا جھوٹ ہو گا وہ اللہ تو قدم قدم پر اپنی قدرت کے نظارے دیکھاتا ہے ۔۔۔قرآن میں بار بار فرماتا ہے ۔۔۔۔

“کیا تم شعور نہیں رکھتے ۔۔۔۔”کیا تم میں سمجھ نہیں ۔۔۔کیا تم عقل نہیں رکھتے ۔۔۔۔”جا بجا پورے قرآن میں یہ آیات لکھیں گئیں ہیں ۔۔۔۔ایک ایک بات کو کھول کر بیان کیا گیا ہے دنیا کی ہر چیز کی طرف توجہ کروائی ہے کبھی آسمان وزمین کی پیدائش پر ۔۔۔کبھی انسان کی پیدائش کی حقیقت پر کبھی سورچ اور چاند کے آنے جانے پر مشرق سے مغرب تک کیا ہے جو قرآن میں نہیں ۔۔۔۔۔بے شک قرآن سے معجزے ہوتے ہیں ۔۔۔اللہ کا کن کافی ہے ۔۔۔مگر کیا ہمارے اعمال ایسے ہیں کہ وہ کن کہہ دے ۔۔۔۔کیا ہمارے سجدے اتنے طویل ہیں کہ میرا رب خوش ہو جائے ۔۔۔۔وہ ایک آنسوں کا طلبگار ہے۔۔۔۔۔جو اسکی محبت میں بہایا جائے ۔۔۔۔وہ اسی کو سمندر بنا کر ہمارے اعمال کو بڑھانے کی قدرت رکھتا ہے ۔۔۔۔لیکن کیا ہم نے آنسوں بہائے ہیں اسکی محبت میں ۔۔۔۔صرف اللہ کی رضا کے لئے بنا اپنی کسی ذاتی خواہش کو لائے ہوئے ۔۔۔اسے وہ خالص آنسوں دیا ہے ۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔کیونکہ جو دیتے ہیں ۔۔اللہ انکی زندگی کو بدل دیتا ہے ۔۔۔۔۔بس ایک آنسوں کہ بوند کافی ہے ۔۔۔۔۔کاش وہ ایک آنسوں میری آنکھ سے بہہ جائے

آج میں رونا چاہتا تھا مگر ماہم کے لئے نہیں ۔۔۔نا اپنے بچے کے لئے ۔۔۔نا ہی اپنے ماں باپ کے لئے ۔۔۔۔آج میرا رو رہا تھا مگر میرے ناقص اعمال پر ۔۔۔اور اللہ کی محبت پر ۔۔۔۔میرے رب کی محبت پر ۔۔۔۔۔مجھے لگا ایک بجلی کی تیز لہر میرے جسم میں سرایت کر گئی ہوں مجھے لگا میرا پورا وجود لرزا ہو ۔۔۔۔۔کانپا ہوا میرے ہاتھ پاؤں تھر تھرائے ہوں ۔۔۔مجھے اپنے اندر کپکپی سی محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔شاید میرا وہم تھا ۔۔۔۔۔۔لیکن نہیں کچھ تو ہوا تھا ۔۔۔۔مجھے لگا ایک آنسوں کا قطرہ میری آنکھ سے بہہ کر گرا ہے ۔۔۔میں نے اپنی آنکھیں چھپکنی شروع کیں ۔۔۔۔وہم نہیں تھا ۔۔۔۔سچ میں میری آنکھوں سے آنسوں نکل رہے تھے ۔۔۔۔اور بہہ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔

“اوہ میرے اللہ ۔۔۔۔”آنکھ سے آنسوں کا بہہ جانا دل کا کتنا بڑا بوجھ اتارتا ہے یہ میں نے آج جانا تھا ۔۔۔۔۔”میری آنکھ سے آنسوں بہہ رہے تھے اسکی رحمانیت کے ۔۔۔۔شکر کے ۔۔۔۔وہ پھر بندوں پر رحم کا معاملہ ہی کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔میں اپنے ماں باپ اور بیوی بچے کے لئے رونا چاہتا مگر میری پتھر آنکھوں سے ایک بوند نہیں گر سکی ۔۔۔۔۔آج اسکی محبت اور اپنی ندامت کے لئے آنسوں بہانے چاہے تو میرے دل پر ٹہرا سمندر سرکنے لگا ۔۔۔۔۔اس نے میری آنکھوں کو ایک اورنعمت سے نوازہ تھا ۔۔۔میں روسکتا تھا ۔۔۔۔۔میں رو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر رمشہ ایک نرس کے ساتھ اندر آئی تھی ۔۔۔مجھے دیکھ کر حیران ہوئی ۔۔۔۔پھر مسکرائی ۔۔۔۔

“آپ ٹھیک ہو رہے ہیں مسٹر عفان ۔۔۔۔۔بسٹ آف لک ۔۔۔”

اب مجھے باقاعدگی سے ورزش کروائی جانے لگی ۔۔۔۔میرے ہاتھوں پیروں کو ہلایا جاتا تھا ۔۔۔۔کبھی مجھے محسوس ہوتا کہ میرا ہاتھ کی انگلیوں میں جنبش ہوئی ہو ۔۔۔ڈاکٹر رمشہ اب میرا ماسک اتار کر گھڑی سے نظریں جما کر دیکھتی رہی کہ میں بنا ماسک کے کتنی دیر سانس لے پاتا ہوں مگر نہیں کچھ پل میں ہی میرا دم گھٹنے لگتا ۔۔۔۔وہ واپس سے ماسک پہنا دیتی ۔۔۔۔

*******/…….

ماہم مجھ سے تقریبا روز آئسکریم کی فرمائش کرتی تھی ۔۔۔۔کبھی تو میں اسے کھلانے لے جاتا ۔۔۔لیکن اب میں ایک کپ آئسکریم کا کر فریز میں رکھ دیتا تھا رات جب بھی اسے بھوک لگتی میں اسے آئسکریم لا کر دےدیتا ۔۔۔۔۔

آج بھی رات تین بجے مجھے ماہم نے جگایا تھا ۔میں گہری میں اٹھ کر نیچے کچن میں آیا پاپا فریج کھولے جانے کیا کر رہے تھے ۔۔۔سخت نیند کے باعث میری آنکھیں ٹھیک سے کھل بھی نہیں رہیں تھی میں نے پاپا کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا کہ وہ پیچھے ہوں تو میں ماہم کے لئے آئسکریم نکالو ۔۔۔مگر آئسکریم کا کپ انکے ہاتھ میں تھا ۔۔۔۔آئسکرئم کا کپ دیکھ کر میری پوری آنکھیں کھل گئیں ۔۔۔۔وہ مجھے دیکھ کر پاپا کی آنکھیں بھی پھیل گئیں

“شکر ہے تم ہو ۔۔۔میں سمجھا تمہاری ماں ہے ” وہ دوبارہ سے آئسکریم کھانے لگے ۔۔۔۔میں نے فورا سے ان سے کپ کھنچ لیا ۔۔۔۔

“آپ کو ذرا بھی اپنی پروا ہے کہ نہیں۔۔۔اگر شوگر ہائی ہو گئ تو “مجھے پاپا پر غصہ آنے لگا

“ارے کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔بڑے عرصے بعد تو کھائی ہے ۔”۔۔۔میں نے کپ دیکھا جو تقریبا خالی تھا ۔۔۔

“اگر آپ کو اپنا خیال نہیں تھا تو میرا رکھ لیتے ۔۔۔یہ میں ماہی کے لئے لایا تھا ۔۔۔۔اور اب اس نے کھانا ہے ۔۔۔بتائیں مجھے کی دوں اسے میں”میں زچ سا ہونے لگا ۔۔۔۔ایک گہری نیند سے جاگا تھا پھر ماہم کو کیا جواب دیتا ۔۔۔جو آجکل ویسے بھی اپنی فرمائشیں ڈنڈے کے زور پر پوری کروا رہی تھی میری بات ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ ماہم کچن میں داخل ہوئی پاپا بھی اسے دیکھ چکے تھے

“تمہیں پہلے بتانا چاہیے تھا کہ بٹیا کے لئے لائے ہو ۔۔۔۔عجیب نامعقول قسم کے انسان ہو “پاپا خود کو معصوم ثابت کرتے ہوئے وہاں سے کھسک گئے ماہم نے میرے قریب آ کر سب سے پہلے آئسکریم کا کپ دیکھا جو خالی تھا ۔۔۔۔پھر رونی صورت بنا کر مجھے دیکھنے لگی

“عفان مجھے آئسکریم کھانی ہے ۔۔۔۔وہ بھی ابھی”

“میں لایا تھا نا ماہی ۔۔۔۔اب اگر پاپا نے

“عفان مجھے ابھی کھانی ہے ۔۔۔۔”وہ روہانسی سی ہو گئ میں سمجھ گیا کہ اب نہیں مانے گئ

“اچھا لا دیتا ہوں تمہیں۔۔۔اب رونے مت بیٹھ جانا”رات کے ایک بجے تو کریم بابا بھی اپنے کواٹر میں چلے جاتے تھے ۔۔۔اس لئے میں پورچ میں جا کر خود ہی دروازہ کھولا گاڑی باہر نکالی ۔۔۔۔مین گیٹ ماہم نے بند کیا تھا اسوقت ائسکرئم پارلر تو بند تھے مگر پیڑول پمپ کے ساتھ بنے اسٹور ضرور کھلے تھے وہیں سے میں نے آئسکریم کا ڈبہ لیا۔۔۔واپسی پر دروزہ ماہم نے ہی کھولا تھا ۔۔۔۔نیند تو اب اڑ چکی تھی بھوک تو مجھے بھی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔موسم بھی کافی اچھا تھا لان میں ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی سردیوں کا موسم تھا ۔۔۔مگر سردی میں آئسکریم کھانے کا بھی اپنا ہی لطف ہے ۔۔۔۔ہم دونوں لان کے ایک سائیڈ پر بیٹھ گئے ماہم نے ڈبہ ان پیک کیااور چمچ سے کھانے لگی

“پتہ ہے عفان مجھے لگا تھا کہ تم اسوقت آئسکریم لینے نہیں جاؤں گئے ۔۔۔”وہ آئسکریم کھاتے ہوئے بولی

“ارادہ تو میرا بھی یہی تھا ۔۔مگر ایک تو مجھے تمہاری روتی صورت پر ترس آگیا تھا دوسرا دل کے ہاتھوں مجبور تھا ۔۔۔پھر تم سے وعدہ بھی تو کیا کہ تمہاری دو باتیں مانو گا سمجھو ایک پوری ہو گئ ۔۔۔میری بات پر ماہم کا چمچ وہیں رک گیا

“جی نہیں میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ آئسکریم اس میں شامل نہیں تھی ذیادہ اتراو مت ورنہ صبح ہی جا کر اپنے بال کٹوا لوں گی ۔۔ویسے بھی مجھ سے اتنے لمبے بال نہیں سنبھالے جاتے

“مزاق کر رہا تھا تم تو فورا سے برا مان جاتی ہو۔۔۔لاو ۔مجھےبھی کھلاو۔”۔۔پہلی بار میری یہ فرمائش ماہم نے بنا تکرار کے پوری کی تھی مجھے اپنے ہاتھ سے آئسکرئم کھلانے لگی تھی ۔۔۔۔۔

“ارے واہ آج تو بڑی شرافت دیکھائی ہے تم نے “میں حیران ہوا تھا

“ہاں تم بھی اسوقت میرے لئے آئسکریم لائے ہو ۔۔۔۔اتنا کرم تو میں بھی تم پر کر سکتی ہوں “”

“ایک کرم اور مجھ پر کر دو

آئی پرومس روز تمہیں اسی وقت آئسکرئم لاکردیا کرو گا۔”۔۔۔۔اسکی فراخدلی دیکھ کر میں شوخ ہونے لگا

“وہ کیا”میرے منہ میں آئسکریم کا چمچ ڈالتے ہوئے وہ پوچھنے لگی

“مجھے تم سے آئی لو یو سننا ہے ۔۔۔۔تم نے آج تک ایک بار بھی نہیں کہا اور میں تقریبا روز ہی کہتا ہوں “میری بات پر اس نے آئسکرئم پیچھے کر لی

“تم شاید بھول رہے ہو کہ میں کامپرومائیز کر رہی ہوں ۔۔۔ااور کاپرومائیز میں اظہار محبت نہیں ہوتا”وہ برا سا منہ بنا کر بولی

“دس از ناٹ فیر ماہی ۔۔۔۔میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تم مجھے چاہنے لگی ہو اس لئے ذیادہ بنو مت “میں نے پورے وثوق سے کہا

“آویں کہہ دو ۔۔۔۔خواہمخواہ میں تم خوش فہم ہو رہے ہو ۔۔۔یہ پکڑو اپنی بکواس آئسکریم ۔۔۔رکھ دینا فریج میں ۔۔۔میں سونے جا رہی ہوں “وہ بقیہ آئسکریم میرے ہاتھ میں رکھ کر چلی گئ اور میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔۔

*****………

فاریہ جب سے اپنا چیک اپ کروا کر گھر لوٹی تھی بے حد پریشان تھی ۔۔۔ہاسپٹل میں ڈیلوری کے آپریٹ کے دوران ایک عورت کی موت واقع ہو گئ تھی اور یہ سب فاریہ کی موجودگی میں ہوا تھا ۔۔۔۔اور ڈاکٹر نے فاریہ کو بھی آپریشن کا ہی بولا تھا تب سے اسکے ہوش اڑے ہوئے تھے گھر آ کر اپنی تائی اماں جو بھی وہ رو رو کر بتاتی رہی ۔۔۔حالانکہ کے قاسم پورے راستے اسے تسلی دیتا رہا کہ ہر کیس میں ایسا نہیں ہوتا ۔۔۔اسکی ساس نے بھی یہی سمجھایا مگر جیسے جیسے دن قریب ا رہے تھے وہ بہت ذیادہ ڈپریش لگ رہی تھی روز رات کو قاسم سے یہی تذکرہ کرتی رہتی اور روتی رہتی قاسم بھی بیزار ہو چکا تھا

“فاریہ تم کیا روز یہ قصہ لیکر بیٹھ جاتی ہو ۔۔۔۔”

“قاسم مجھے ڈر لگ رہا ہے اگر میں بھی مر گی تو” “فاریہ قاسم کے شانے پر سر رکھ کر آنسوں بہانے لگی قاسم نے اسکی کمر سہلاتے ہوئے کہا

“نہیں فاریہ میرے اعمال اتنے اچھے نہیں ہیں “قاسم کے بے تکے جواب پر فاریہ نے برجستہ کہا

“دیکھا تھا نا تم نے اس شخص کو جس کی بیوی کی ڈیتھ ہوئی ۔۔۔۔داڑھی بھی رکھی ہوئی تھی اور شکل سے پانچوں وقت کا نمازی بھی لگ رہا تھا ۔۔۔۔نا جانے کون سا نیک عمل کام آ گیا جو ایسی سعادت نصیب ہوئی ہے اسے “قاسم فاریہ کے روز روز کے اسی قصے سے تنگ آ چکا تھا اس لئے الٹے جواب دینے لگا ۔۔۔۔قاسم کی بات کا مفہوم کچھ کچھ سمجھ کر فاریہ نے اسکے کندھے سے سر ہٹا کر کینہ توز نظروں سے اسے دیکھا

“کیا مطلب ہے تمہارا “

“صاف سی بات ہے فاریہ میرے پاس ایسا کوئی نیک عمل ایسا نہیں کہ میری جان تم سے اتنی جلدی چھٹ جائے اس لئے تم بے فکر رہو کچھ نہیں ہو گا تمہیں۔ “”قاسم کی بات سمجھنے کے بعد فاریہ آگ بگولہ ہو گئ ۔۔۔۔۔پھر تو اس نے نا آؤ دیکھا نا تاؤ ۔۔۔مکے اور گھونسوں کی بارش قاسم کے بازو پر کر ساتھ ہی ساتھ خود بھی رونے لگی

“یعنی کہ میں تمہارے برے اعمال کا نتیجہ ہوں ۔۔۔اتنی بری لگتی ہوں تمہیں “قاسم نے بھی بڑے حوصلے کے اسکے مکے گھوسے کھائے ۔۔۔۔قاسم کو یہ تسلی ہو گئ تھی کہ اب فاریہ یہ قصہ دوہرائے گی نہیں ۔۔۔مگر صبح اٹھنے پر قاسم کے ہاتھ نہیں ہل رہا تھا جس پر فاریہ نے زور آزمائی کی تھی اوپر سے فاریہ نے اسکے کام سے بھی انکار کر دیا ۔۔۔۔جس وہ مزید تپ گیا ۔۔۔۔

“میرا کھا کھا کے جو انرجی تم ہر آ چکی ہے اب اسکا مظاہرہ بھی تم مجھ پر کرو گی جاہل لڑکی میرا ہاتھ ہلنے سے بھی انکاری ہے دیکھ لینا فاری سیدھی جہنم میں جاؤں گئ “فاریہ غصے سے رخ موڑ کر بیٹھ گئ ۔۔۔قاسم مشکل سے تیار ہو کر آفس چلا گیا ۔۔۔۔مگر جب آفس میں وہ بار بار اپنا بازو دبا رہا تھا تو عفان کے وجہ پوچھنے پر قسم نے ساری بات اسے بتا دی قاسم کو لگا عفان اس سے ہمدردی جتائے گا مگر اسکے بے تحاشہ ہسنے ہر وہ اب عفان کو ملامتی نظروں سے دیکھ رہا تھا