Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 58
Rate this Novel
Tadbeer Episode 58
Tadbeer by Umme Hani
مجبورا ہی صحیح مگر مجھے مہک سمیت سب گھر والوں سے اپنا رویہ درست کرنا پڑا ۔۔۔۔ اس میں چپ چاپ مہک کا بنایا ہوا ناشتہ کر لیتا تھا ۔۔۔۔اسکے نکالے ہوئے کپڑوں کو بھی بلا تامل پہن لیتا ثھا۔۔۔۔کبھی کبھی مہک کو ہوٹلنگ بھی کروا دیتا ۔۔۔۔۔ماہم کو میں نے بلکل نظر انداز کرنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔جیسے وہ گھر میں موجود ہی نا ہو ۔۔۔۔۔ایک دن میں عفان کو باہر لان میں لے گیا ۔۔۔۔اس سے اپنے گزشتہ رویے کی معافی مانگی ۔۔۔اوریہ بھی کہاں کہ اب میں اسکی زندگی میں کبھی دخل اندازی نہیں کرو گا اور یہ بھی کہ ہم سب کو اب مل جل کر رہنا چاہیے ۔۔۔..عفان میری بات بہت خاموشی اور حیرت سے سن رہا تھا ۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ اب وہ مجھے نوٹ ضرور کرے گااس لئے میں بہت محتاط رہنے لگا تھا ۔۔۔۔سب کے سامنے مہک کو اہمیت دینے لگا تھا ۔۔۔۔آہستہ آہستہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو ر ہا تھا ۔۔۔۔ایک دن میں آفس سے آیا تو لاونج میں عفان اور ماہم کی آوازیں سنائی دینے لگی وہ ماہم کو بال بڑے رکھنے کی فرمائش کر رہا تھا یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے دونوں کو یوں آپس میں بیٹھے بات کرتے سنا تھا ۔۔۔۔۔ماہم بلکل نہیں بدلی تھی اب بھی اس میں بچپنا کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا تھا ۔۔۔۔مگر عفان۔۔۔۔ عفان کا لہجہ اور انداز وہ میرے لئے ضرور حیرت انگیز تھا ۔۔۔۔وہ ماہم سے اسی انداز سے بات کرتا تھا جیسے خود بھی بچہ یا بیوقوف سا ہو اس سے اپنی بات بھی اسکی منت کرتے ہوئے اسکی شرائط پر مانتے ہوئے پوری کرنے کا کہہ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ بیوی سے مخاطب ہے ۔۔۔۔عفان یوں بات کر رہاجیسے دو دوست بیٹھے محوگفتگوں ہوں میں نظریں جھکائے تیزی سے وہاں سے گزر گیا ۔۔۔۔۔کمرے میں آ کر عفان کے بارے میں سوچتا رہا ۔۔۔۔رات سونے سے پہلے ماہم کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے آگیا اسکے بال ۔۔۔۔۔۔ماہم کے بالوں کے بارے میں سوچتے ہی میں نے مہک کو دیکھا ۔۔۔۔۔۔وہ بالوں کو ہی سلجھا رہی تھی مہک کے بال ذیادہ لمبے نہیں تھے
“مہک تمہارے بالوں کا اسٹائل کون سا ہے ۔”۔۔۔میں نے مہک کے بال بغور سے دیکھتے ہوئے پوچھا مہک میری بات پر مسکرانے لگی
“یہ آج میرے بالوں کا خیال تمہیں کیسے آ گیا ۔۔۔۔ویسے میرے بال اسٹپ میں ہیں”
“تم بیوی ہو میری مہک۔۔۔ میں تمہیں غور سے نہیں دیکھوں گا تو اور کون دیکھے گا ۔۔۔۔بس میں چاہ رہا ہوں تم اپنے اندر کچھ چینج لے کر آوں”
“کیا مطلب کیا چینج “مہک کچھ حیرت لئے بولی
“دیکھوں نا مہک ۔۔۔۔تمہارے بال لمبے ہونے چاہیے اور اس بار ایسا کرو اپنے بال لیرز میں کٹوا لو۔۔۔۔”
“نہیں کامران وہ میرے فیس پر سوٹ نہیں کریں گئے “
“کم آن مہک بہت اچھے لگیں گئے ۔۔۔۔اب تم میری اتنی سی فرمائش پوری نہیں کر سکتی تمہاری خاطر۔۔۔۔ میں نے خود کو بلکل بدل کے رکھ دیا ہے ۔۔۔۔اب دیکھوں نا تمہارا بنایاہوا ناشتہ بھی چپ چاپ کرلیتا ہوں ۔۔۔تم جو بھی ڈریس نکالتی ہو میں پہن لیتا ہوں ۔۔۔تمہیں بھی میری خواہش کا احترام کرنا چاہیے اب پلیز تم بال لیرز میں ہی کٹواں “۔۔۔۔مہک میری بات پر کھلکھلا کر ہسنے لگی میں اسکے اس طرح بے ساختہ ہسنے پرحیران تھا پھر میرے پاس بیڈ پر بیٹھ کر مجھے مسکراتے ہوئے دیکھ کر بولی
“کامران تم یہ بات عام انداز سے بھی کہہ سکتے ہو ۔۔۔اس کے لئے اتنی حجتیں اور منتیں کیوں کر رہے ہو ۔۔۔او کے ۔۔بابا ۔۔۔اس بار لیرز میں کٹوا لوں گی “۔۔۔۔یہ کہہ کر مہک پھر سے ہسنے لگی
“تم بھی نا کامران “۔۔۔۔مہک ہنسے جا رہی اور میں اپنی اس انجانے میں کی جانے والی حرکت پر مہک کےسامنے خجل سا ہو گیا تھا۔۔۔۔میں شاید بھول گیا کہ میرے سامنے ماہم نہیں مہک ہے اور میں عفان نہیں کامران ہوں۔۔۔۔۔یہ کیا ہوگیا تھا مجھے ۔۔۔۔میں نے تو ماہم کی بھی کبھی یوں منت نہیں کی تھی ۔اور مہک ۔۔۔۔۔
*******………..********
مہک نے دوسرے دن اپنے بال لیرز میں ہی کٹوائے ۔۔۔۔جوواقع اسپر اتنے سوٹ نہیں کر رہے مگر بادل نخواستہ مجھے تعریف کرنی پڑی ۔۔۔۔۔۔۔مجھے خود پر غصہ آنے لگا مجھے کیا ضرورت تھی مہک سے ایسی فرمائش کرنے کی ۔۔۔۔بالوں کے ہیر اسٹائل سے وہ کونسا ماہم جیسی دیکھنے لگے گی ۔۔۔۔میں نے اپنی طرف کا لیمپ بند کیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا
رات کے تین بجے کا وقت تھا ۔۔۔۔۔مجھے لگا گاڑی میں کوئی باہر جا رہا ہے ۔۔۔۔مہک سوئی نہیں تھی ۔۔۔اس لئے کمرے کی کھڑی کا پردہ ہٹا کردیکھنے لگی ہمارے کمرے کی کھڑکی باہر لان میں کھلتی تھی ۔۔۔۔
“کون ہے مہک ۔۔۔۔۔میں اٹھ کر بیٹھ گیا”
عفان ہے گاڑی باہر نکال رہا ہے ۔۔۔ماہم بھی باہر ہی کھڑی ہے شاید دونوں کہیں جا رہے ہیں
,”اس وقت رات کے تین بجے “۔۔۔۔میں نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے آنکھیں مسل کر نیند کو بھگانے کی کوشش کی
“نہیں کامران ماہم نہیں صرف عفان جا رہا ہے ۔۔۔مہک ابھی بھی باہر ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔میں نے اتنی توجہ نہیں دی اب اٹھ بیٹھا تھا تو نیند تو دوبارہ نا جانے کب آتی
مہک ایک کپ کافی بنا دو ۔۔۔ںہت تھکن ہو رہی ہے ۔۔۔۔میں نے ہاتھ سے جمائی روکتے ہوئے کہا
“اسوقت کامران ۔۔”۔۔مہک کاشاید موڈ نہیں تھا
“ہاں ۔۔۔کیوں اسوقت کیا ہے ۔”۔۔مہک منہ بسورے ہوئے باہر چلی گئ میں کھڑی کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔پردہ کھڑکی سے پیچھے کر دیا کمرے میں صرف نائٹ بلب کی روشنی تھی اس لئے باہر کھڑاشخص مجھے نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔۔۔ماہم لان میں ٹہل رہی تھی اور نظر مین گیٹ کی طرف لگیں ہوئیں تھیں ۔۔۔۔بڑی سی شال اپنے ارد گرد لپیٹے ہوئے بال اسکے کیچر میں مقید تھے مگر چہرے پر بالوں کی لٹیں ابھی بھی اسے تنگ کر رہیں تھیں ۔۔۔مگر آج ماہم نے انہیں آزاد چھوڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔میری نظر آسمان پر پڑی تو چاند پورے آب وتاب سے چمک رہا تھا آج شاید پورے چاند کی رات تھی آسمان چاند کی روشنی سے اجلا نکھرا اور شفاف سا لگ رہا تھا ۔۔۔پھر میری نظر ماہم کے چہرے پر پڑی ۔۔۔۔مجھے لگا ماہم کے چہرے پر چاند اتر آیا ہے ۔۔۔۔ماہم کا چہرہ مجھے اتنا روشن لگنے لگا جیسے اسکے چہرے سے روشنی کی شعاعیں کرنوں کی صورت نکل کر میرے سینے سے ٹکرا کر اندر جذب ہونے لگی ہوں ۔۔۔۔۔مجھے اپنے اندر کسی ٹھنڈک کا احساس سا اترنے لگا ۔۔۔مجھے لگا ماہم کوئی رات کا پورا چودویں کا چاند ہے اور میں زمین …جو اسکی روشنی سے منور سا ہونے لگا ہوں یا وہ کوئی ٹھنڈا میٹھا سا چشمہ یا جھرنا ہے اور میں اس سے سیراب ہونے لگا ہوں ۔۔۔۔ماہم کی شہد رنگ آنکھیں جگنوں کی طرح چمکتی ہوئی لگ رہیں تھیں مجھے لگ رہا تھا جیسے ان جگنوں سے میرے دل کا اندھیرا چھٹنے لگا ہوں کتنا خوبصورت اور دلفریب منظر تھا ۔۔۔۔۔میں بہت محویت سے ماہم کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔دیکھ نہیں رہا تھا اسے اپنے اندر کہیں نہال خانوں میں چھپانے کی کوشش کر رہا تھا وہ میرے اندر روح کی طرح پرواز کر رہی تھی
“کافی “۔۔۔۔مہک کی آواز پر میں بری طرح چونک گیا اور یوں گھبرا گیا جیسے میری چوری پکڑی گئی ہو
“کیا ہوا اتنے بدحواس کیوں ہو گئے ہو “۔۔۔۔مہک میری حالت دیکھ کر بولی
“نن نہیں تو۔۔۔”۔۔ میں نے خود کو سنبھالا اور مہک کے ہاتھ سے کافی کا کپ پکڑ لیا ۔۔۔ایک کپ مہک کے ہاتھ میں تھا وہ میرے ساتھ ہی کھڑکی پر کھڑی ہوگی ۔۔۔۔موسم کافی سرد تھا ۔۔۔۔اور صبح سنڈے بھی تھا اس لئے میراسونے کا موڈ بھی نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔مہک نے میرے کندھے پر سر رکھ دیا ۔۔۔۔
“کامران اگر ہمارا بیٹا ہوا تو تم اس کا کیا نام رکھو گئے “۔۔۔۔مہک کی بات پر میں مسکرانے لگا مگر باہر کھڑی ماہم اب میری نظروں کے حصار میں تھی
“عمر ۔۔۔۔عمر کامران “۔۔۔۔میں نے بس یونہی ایک نام لے لیا تھا۔۔۔۔
“اور اگر بیٹی ہوئی تو” ۔۔۔۔مہک کی بات پر میں نے چونک کر مہک کو دیکھا
“نہیں مہک بیٹی نہیں “۔۔۔۔میری بات پر مہک سیدھی کھڑی ہو گئ اور مجھے خفگی سے دیکھنے لگی
“کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔۔بیٹی بھی ہو ہی سکتی ہے “
“ہاں میں نے کب انکار کیا ہے لیکن اگر بیٹی ہوئی تو میں نام نہیں رکھو گا ۔۔۔تمہیں اختیار ہے ۔۔۔۔۔جوچاہوں رکھ دینا ۔”۔۔۔میں نے کافی کا سپ لیتے ہوئےکہا اب میں اس سے یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ مجھے تم سے بیٹی نہیں چاہیے ۔۔۔۔اب یہ نہیں تھا کہ مجھے پرانے جاہل گوار مردو کی طرح بیٹی ہونے پر کوئی اعتراض تھا مگر مہک سے مجھے بیٹی نہیں چاہیے تھی ۔۔۔۔اگر بیٹی ہو گئ تو ضرور مہک جیسی ہی ہوگی لڑکیوں کو صرف ماہم جیسا ہونا چاہیے معصوم اور با کردار ۔۔۔۔اور میں نہیں چاہتا تھا میری بیٹی مہک جیسی ہو ۔۔۔اور یہ بات تو فیکٹ ہے کہ بیٹی ماں کو ہی فالو کرتی ہے ۔۔۔۔
مہک کو شاید میری بات پسند نہیں آئی تھی اس لیے ناگواری سے باہر دیکھنے لگی عفان کی گاڑی کے ہلکے سے ہارن پر ماہم تیز چلتی ہوئی مین گیٹ کھولنے لگی ۔۔۔۔جیسے ہی گاڑی عفان نے پورچ میں پارک کی ماہم نے گیٹ بند کیا اور عفان کے پاس آگئ ۔۔۔۔
“میری آئسکریم ملی عفان “
“ہاں ماہی مل گئ یہ لو “۔۔۔۔عفان نے ایک آئسکریم کا لیٹر بکس ماہم کو پکڑوادیا مہک دیکھکرمسکرانے لگی عفان اور ماہم ہماری کھڑکی کے پاس ہی رکھی کرسیوں پر بیٹھ گئے ۔۔۔ماہم مزے سے آئسکریم کھا رہی تھی۔۔۔۔جب تک وہ دونوں وہاں بیٹھے رہے میں اور مہک خاموشی سے انکی باتیں ہی سنتے رہے ۔۔۔۔میرے دل کو زور کا جھٹکا اسوقت لگاجب عفان ماہم سے اظہار محبت کی خواہش ظاہرکر رہا تھا۔۔۔۔ماہم اٹھ کر چلی گئ تھی
میری کافی ہاتھ میں پکڑی ہی ٹھنڈک ہوچکی مگردل سے ضرور گرم بھاپ اٹھ رہی تھی ۔۔۔دل کی کیفیت میرے بیان سے باہر تھی ۔۔۔
عفان کے جمعلے میرے دماغ میں ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے
“وہ ہوتا کون ہے میری ماہم کو”” آئی لو یو””” کہنے والا ۔۔۔۔۔”
مگر مہک اب مسکرارہی تھی
“ویسے مجھے نہیں معلوم تھاعفان اسقدر رومنٹک ٹائپ کا بندہ ہے۔۔۔۔آفس میں بہت مغروراور اکڑو ٹائپ کا ہوتا تھا سیدھے منہ بات تک نہیں کرتا تھا کسی سے ۔۔۔۔اور یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ماہم سے اسکی پہلے سے کوئی دلی وابستگی تھی ماہم تو تمہاری منگتر تھی نا اور دیکھنے میں اتنی خوبصورت بھی نہیں ہے کہ وہ ماہم کے حسن کا دیوانہ ہو جائے ۔۔۔۔لیکن وہ ماہم کے آگے پیچھے کسی پروانے کی طرح گھومتا ہے جیسے اس کا دیوانہ ہو “۔۔۔۔۔مہک بول رہی اور میں غائب دماغی سے سن رہا تھا
“کافی کیوں نہیں پی رہے کامران ۔”۔۔۔مجھے سوچوں میں گم دیکھ کر مہک نے ذرا سا مجھے ہلا کر کہا
بس دل نہیں چاہ رہا میں نے کپ مہک کو پکڑا دیا اور خود بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔۔
“کامران اگر میں تم سے فرمائش کرتی کہ رات کے اس پہر تم مجھے آئسکریم لا کر دو تو کیا تم جاتے” ۔۔۔۔مہک کے سوال پر میں نے نے کچھ دیر اسے خاموشی سے دیکھا
“نہیں اتنا بیوقوف نہیں ہوں جو اس قسم کی بے تکی فرمائشیں پوری کرتا پھروں” ۔۔۔۔مجھے پہلے سے ہی عفان پر بے تحاشہ غصہ آ رہا تھا اس لئے میرے جواب میں غصے کی آمیزش تھی
“اور اگر نائلہ تم سے یہ فرمائش کرتی تو”
“یہ نائلہ بیچ میں کہاں سے آ گئ ۔۔”۔۔میں نے سخت لہجے میں کہا
“بس ایسے ہی بتاؤں نا کامران “
“ظاہر ہے تب بھی نہیں جاتا وہ کون سی آسمان سے اتری کوئی پری تھی تمہارے جیسی ہی تھی ۔۔۔۔”
“اور اگر ماہم تم سے کہتی تو” ۔۔۔۔۔مہک کی بات پر کچھ پل تو میں بول ہی نہیں پایا بس چپ چاپ اسے دیکھتا رہا ۔۔۔۔اور سوچنے لگا کیا ماہم مجھ سے اسوقت یہ فرمائش کرتی تو کیا میں ٹال دیتااسے ۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔نہیں شاید ماہم کو منع نہیں کر سکتا تھا میں اسی شش وپنج میں مبتلہ تھا کہ مہک کی آواز پر چونک گیا
“اتنا کیا سوچ رہے رہے ہو کامران بتاؤں ماہم اگر یہ فرمائش کرتی تو تم کیا کرتے ۔۔”۔۔اس بار میں انکار نہیں کر پایا کوئی میرے اندر سے چیخ چیخ کر یہ کہہ رہا تھا کہ تم ماہم کو منع کر ہی نہیں سکتے تھے “کامران ۔۔۔۔۔بولو بھی “
“پتہ نہیں مہک ۔۔۔مجھے نیند آ رہی ہے سو جاؤں “۔۔۔۔میں نے جان چھڑوانے کے انداز سے کہا مہک ہسنے لگی
“میری اور نائلہ کی باری میں توتم نے فورا سے انکار کر دیا تھا ماہم کی باری میں اتنا سوچنے کے بعد بھی پتہ نہیں ۔۔۔۔جانتے ہو کامران اس پتہ نہیں کا مطلب کیا ہوتا ہے” ۔۔۔۔۔مہک کی بات پر میں خاموش ہی رہا وہ پھر سے ہسنے لگی
“اس مطلب ہاں ہوتا ہے “۔۔۔۔۔مہک یہ کہہ کر اپنی جگہ پر لیٹ گئ کچھ دیر میں سو بھی گئ مگر میں ۔۔۔۔۔ میں ایک پل سو نہیں پایا ۔۔۔۔آج میں نے اپنے اندر سے ماہم کے بارے میں اٹھنے والے ہر کیوں کو فراموش نہیں کیا بلکہ آج ہر چیز میرے سامنے کھل کر آنے لگی ۔۔۔۔۔مہک سچ کہہ رہی تھی میں ماہم کو انکار کر ہی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔۔نا عفان کو ماہم کے ساتھ برداشت کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔کیوں مجھے مہک اپنے تمام تر حسن کے باوجود متاثر نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔۔حالانکہ میں حسن پرست تھا ۔۔۔۔۔میں کیوں چاہتا تھا کہ مہک ماہم کی طرح ہیر اسٹائل بنوائے ۔۔۔مہک کا بنایا ہوا کھانا اتنا بھی بد ذائقہ نہیں ہوتا تھا جتنا مجھے لگتا تھا ۔۔۔۔کیونکہ میں اس کے ہر کام کا موازنہ ماہم کے کاموں سے کرتا تھا ۔۔۔۔مگر کیوں ۔۔۔۔نائلہ سے منگنی کے موقع پر میری نظر ماہم کی متلاشی کیوں تھی عروسی لباس میں بھی میں مہک کے اندر کہیں ماہم کو ہی ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔۔۔عفان کا ماہم سے نکاح پر میرا پھوٹ پھوٹ کر رونا میرے دل کا یک دم خالی پن صرف عفان سے بدلہ لینا نہیں تھا ۔۔۔۔ ماہم کا عفان سے قریب ہونا مجھے کیوں تڑپنے پر مجبور کر دیتا تھا ۔۔۔۔میں کیوں اتنا بے چین ہوں ۔۔۔۔ماہم کی مجھ پر اٹھنے والی سرسری سی نظر بھی مجھے مسرور کیوں کر دیتی ہے ۔۔۔۔آج شاید آگہی کی رات تھی ۔۔۔۔نہیں ۔ میرے دل قیامت کی رات تھی ۔۔۔۔۔
کیا ماہم صرف میرے لئے عفان کو تکلیف پہنچانے کا ایک مہرہ تھی ۔۔۔۔یا وہ کھوٹا سکہ جیسے ضرورت کے وقت کام لایا جاسکے ۔۔۔۔کوئی میرے اندر چلا چلا کر میری بات کی تردید کر رہا تھا ۔۔۔۔تو سچ میں۔۔۔۔۔۔سچ میں۔۔۔ میں محبت کرتا ہوں ماہم سے ۔۔۔۔مگر وہ تو کبھی میری چوائس نہیں تھی ۔۔۔۔ہاں میری چوائس نہیں تھی ۔۔۔۔وہ بے حد حسین بھی نہیں تھی ۔۔۔۔۔بیوقوف تھی میری خواہش کے برخلاف بھی تھی ۔۔۔۔میری کبھی ہو بھی نہیں سکتی ۔۔۔۔مگر اسکی باوجود میں اس سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔ بہت محبت ۔۔۔۔اپنے دل کی پوری شدتوں سے ۔۔۔۔ماہم میرے لئے آسمان پر چمکتا وہ چاند ہے جو مجھے روشنی تو دے سکتا ہے پر میرے چاہنے پر میرے دامن میں آ نہیں سکتا ۔۔۔۔مجھے نہیں معلوم میرا تکیہ میرے آنسوں سے بھیک چکا تھا ۔۔۔۔یہ آگہی میرے لئے دوہرا عذاب تھی ۔۔۔۔۔۔مجھے کمرے میں گھٹن سی ہونے لگی ۔۔۔۔حالانکہ سرد موسم تھا کمرہ بھی کافی ٹھنڈا تھا ۔۔۔۔مگر میرے وجود میں انگارے دھک رہے تھے ۔۔۔۔۔ میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔میں نے سائیڈ ٹیبل کے دراز سے سگریٹ نکالی اور ہونٹوں پر لگا کر لائٹر سے اسے سلگا کر اس کے لمبے لمبے کش لینے لگا کھڑی کے پاس سے پردہ ہٹا کر کھڑکی کھول دی ۔۔۔سرد ہوا کے جھونکوں نے میرے وجود میں سنسنی سے پیدا کر دی ۔۔۔مگر میرے اندر کا الاوہ ذرابھی کم نہیں۔ ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔کچھ دیر پہلے عفان اور ماہم یہیں بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔۔۔۔ مجھے لگا ابھی بھی وہ یہیں موجود ہیں عفان ماہم سے محبت بھری باتیں کر رہا ہے ۔۔۔۔اور ماہم بھی اس کا ہاتھ تھامے اس کی باتیں کو سن رہی ہے
“کہو نا ماہی کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو” ۔۔۔عفان کا اصرار اور ماہم کا اظہار
“عفان آئی لو یو ۔۔۔۔آئی لو یو سو مچ”ماہم کے اظہار پر میں تڑپ اٹھا
‘نہیں ۔۔۔۔نہیں ماہم ۔۔۔۔۔تم ۔۔۔تم عفان سے یہ سب نہیں کہہ سکتی ۔۔۔۔تم اس سے محبت بھی نہیں کر سکتی میں ۔۔۔ہوں تمہاری محبت ۔۔۔۔تمہاری پہلی چاہت “۔۔۔مجھے نہیں معلوم میری اندر کی آوازیں کب میرے ہونٹوں سے ادا ہونے لگیں مہک نے جب مجھے ذراسا جھنجھوڑا تو میں اپنے حواسوں میں آ گیا
“کیا بڑبڑارہے کامران “۔۔۔مہک شاید نیند سے اٹھ کر آئی تھی ۔۔۔۔میرے ہاتھ میں سگریٹ دیکھ کر فورا سے اسے میرے ہاتھ سے چھین لیا اور بےچینی سے بولی
“ہاتھ جل گیا تمہارا ہوش کہاں ہیں تمہارے “۔۔۔۔۔اب وہ سگریٹ کو بجھا کر ڈسٹ بن میں پھنک کر میرا ہاتھ پکڑے میری جلی ہوئی انگلی پکڑے فکر مندی سے مجھ سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔۔مگر میرے اندر کی دھکتی ہوئی آگ کے آگے وہ جلی ہوئی انگلی کا مجھے بھلا کیا احساس ہونا تھا۔۔۔۔۔۔۔مہک نے جلدی سے کھڑکی بند کی پردے ٹھیک کیےمجھے بیڈ پر بیٹھا کر میرے ہاتھ پر دوا لگانے لگی ۔۔۔۔۔اتنی ٹھنڈ میں تم کھڑکی کھولے کیوں کھڑے تھے وہاں ۔۔۔۔تمہاری طبعیت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی ۔۔۔۔تم رو رہے ہو کامران ۔۔۔۔مہک باغور مجھے دیکھ کر بولی
“نہیں ۔۔۔۔میں بھلا کیوں رونگا “…میں نے اپنا ہاتھ مہک کے ہاتھ سے چھینا اور واش روم میں چلا گیا آئنے کے سامنے خود کو غور سے دیکھنے لگا میرے آنسوں تواتر سے بہہ رہے تھے ۔۔۔۔میں شاید خود پر اختیار ہی کھو بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔اس ٹھنڈ میں بھی میں نے اپنے اندر کی آگ بجھانے کے لئے شاور کھولا اور اسکے نیچے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔مگر مجھے چین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔۔ماہم ۔۔۔۔میں نے کیوں کھو دیا تمہیں تم میری دسترس میں تھی ۔۔۔۔۔مگر دیکھو میری قسمت میں نے تمہیں پا کر بھی کھو دیا ۔۔۔۔۔ آج یہ آگہی ہوئی ہے مجھ پر کہ میں کتنا ادھورا ہوں تمہارے بغیر ۔۔۔۔میں نہیں رہ پاوں گا تمہارے بغیر ۔۔۔۔کیسے سمجھاؤں تمہیں ۔۔۔۔۔کیسے دور کر دوں تمہیں عفان سے ۔۔۔۔۔افففف کیا کر دیا میں نے ۔۔۔۔کیا ہو گیا مجھ سے
کافی دیر شاور کے بہتے پانی میں میں اپنے آنسوں بھی بہاتا رہا ۔۔۔۔ میں چینج کر کے باہر آیا مہک سو چکی تھی ۔۔۔میں بھی کافی نڈھال اور مضمحل سا ہو کر لیٹ گیا صبح میری آنکھ کافی دیر سے کھلی ۔۔۔۔۔۔
جب میں فریش ہو کر باہر آیا ۔۔۔۔تو لاونج بلکل خالی تھا میں کچن میں آ گیا مجھے لگا مہک وہیں ہوگی مجھے بھوک لگ رہی تھی ۔۔۔۔مگر وہاں مہک کے بجائے ماہم کھڑی تھی رانی سبزی بنا رہی تھی اور ماہم ککنگ رینج کے پاس کھڑی کھانا بنانے کے ساتھ ساتھ رانی کو جلدی ہاتھ چلانے کی ہدایت بھی دے رہی تھی
“رانی مہک کہاں ہے” ۔۔۔۔میں نے دانستہ ماہم کو نہیں پکارا ۔۔۔
“صاب جی وہ بڑی بی بی کے ساتھ بازار گئیں ہیں “
“ٹھیک ہے ایک کپ چائے بنا کر مجھے لاونج میں ہی دیدو ۔”۔۔۔میں نے رانی سے کہا اور باہر آ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔کچھ دیر بعد رانی خالی ہاتھ ہی باہر میرے سامنے کھڑی ہوگئی
“صاب جی چائے کے ساتھ ناشتہ کیا لیں گئے “۔۔۔۔رانی مہدب انداز میں پوچھنے لگی
“کس نے کہا تم سے کہ مجھ سے ناشتے کا پوچھو “۔۔۔۔میری بات پر وہ کجھ تذبذب سی ہوگئ
“میں خود پوچھ رہی ہوں ۔۔۔۔آپ نے صبح ……”
“میں نے پوچھا رانی تم سے کس نے کہا کہ مجھ سے ناشتے کا پوچھو” ۔۔۔۔۔میرے غصے پر وہ گھبراسی گئ
“جاؤں جس نے پوچھا ہے اس کہو ۔۔۔۔میری فکر مت کیا کرے ۔۔۔۔۔اب جاؤں اور صرف چائے کا ایک کپ لا کر دو مجھے “۔۔۔۔رانی فورا کچن میں چلی گئ میرے اندر کی آگ پھر سے سلگنے لگی ۔۔۔۔۔میری اتنی ہی فکر ہے ماہم تو خود آ کر مجھ سے پوچھ لیتی ۔۔۔۔۔کیا چھپا رہی مجھ سے ۔۔۔۔میں جانتا ہوں تم کبھی عفان سے محبت نہیں۔ کرسکتی ۔۔۔۔میں نے غصے سے ریموڈ پکڑا اور ایل ای ڈی آن کر کے مختلف چیلنج دیکھنے لگا ۔۔۔۔کچھ دیر بعد رانی نے ایک کپ چائے میرے سامنے رکھ دی ۔۔۔۔پہلا گھونٹ بھرتے ہی میں سمجھ گیا کہ چائے رانی نے بنائی ہے ۔۔۔۔۔
“رانی ۔۔۔رانی ۔۔۔” میں نے چلا کر اسے پکارا رانی اڑے ہوئے رنگ کے ساتھ دوبارہ میرے سامنے کھڑی تھی
“چائے بنانے کی تمیز نہیں ہے تمہیں اٹھاؤ یہ کپ ورنہ زمین پر پٹخ دونگا ۔۔۔۔جاہل لڑکی” ۔۔۔میں ابھی رانی پر ہی برس رہا تھاجب مہک اور ممااندر داخل ہوئیں مہک کو دیکھ کر میں اب اس پر شروع ہو گیا
“کہاں گئ تھی تم ۔۔۔۔تمہیں ذرابھی میرااحساس ہے” ۔۔۔۔
“کیا ہوگیا کامران ۔۔۔۔تم سو رہے تھے ۔۔۔۔اس لیے “
“اس لئے تم نے سوچا کہ جان چھڑا کر چلی جاؤں ۔۔۔تا کہ میرے کام نا کرنے پڑیں” ۔۔۔۔میں نے مہک کی بات اچک لی اور اپنی ہی کہنے لگا
“کیا ہوگیا ہے تمہیں کامران “۔۔۔۔مما بھی میرے بلاوجہ کے غصے پر سختی سے بولیں مگر میں نے کوئی جواب نہیں دیا بس مہک پر ہی آڈر جھاڑتا رہا
“جاؤں جا کر ناشتہ بناؤں میرے لئے “
مہک جو صوفے پر تھک کر بیٹھی تھی ۔۔فورا سے کھڑی ہو گئ
“میں نے رانی اور ماہم سے کہا تھا کہ تم سے پوچھ کر ناشتہ بنا دیں ۔۔۔۔” مہک نے میرے غصےکوبھانپتے ہوئے وضاحت کی
“تم جانتی ہو اچھی طرح مجھے رانی کے ہاتھ کی چائے نہیں پسند اور میں ماہم کی زمہ داری نہیں ہوں ۔۔۔۔اب جاؤں جلدی سے” ۔۔۔۔میرے چلانے پر وہ کچن میں چلی گئ ۔۔۔مگر میرا غصہ ٹھنڈا ہی نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔مما مجھے ڈانٹنے لگیں
“کیا ہو گیا ہے تمہیں کامران ۔۔۔۔۔تمہیں اگر رانی کے ہاتھ کا ناشتہ نہیں پسند تو ماہم سے کہہ دیتے ۔۔۔۔غیر تو نہیں ہے وہ بہن ہی ہے تمہاری” ماہم کے لیے یہ لفظ تو میں کبھی سن ہی نہیں سکتا تھا
“مما پلیز ۔۔۔۔۔جب مہک ہے تو اس کا فرض بنتا ہے کہ میرے سارے کام وہ کرے اگر اسے آپ کے ساتھ جانا تھا تو مجھ سے پوچھ کر بھی جاسکتی تھی” ۔۔۔۔
ماہم پانی کا گلاس مما کو دینے لگی ۔۔۔۔لاکھ خود پر بندھ باندھے کے باوجود میں خود کو روک نہیں پایا میری نظر ماہم پر پڑی ریڈ کلر کے سوٹ میں مجھے وہ بہت دلکش سی لگ رہی تھی ۔۔۔۔رات تک میرا موڈ کافی بہتر ہو چکا تھا میں مہک کو بازار لے گیا ۔۔۔اسے شاپنگ کروائی سامنے ریک پر ایک ریڈ کلر کے ہلکی سی ایمبرڈی والی شرٹ کو دیکھتے ہی پہلا خیال مجھے ماہم کا ہی آیا میں نے وہ خرید لیا ۔۔۔۔۔۔باقی سب ڈریسزمہک نے اپنی پسند سے لئے تھے ۔۔۔۔۔گھر آ کر میری شدت سے یہ خواہش ہوئی کہ اس رنگ میں ماہم کو دیکھوں ۔۔۔۔مگر یہ ابھی میرے لئے ممکن نہیں تھا اس لئے کچھ دن گزرنے کے بعد میں نے پورے پلان کے ساتھ یہ کھیل کھیلا مجھے معلوم تھا کہ کافی حد تک میں سب گھر والوں کا اعتماد جیت چکا ہوں ۔۔۔۔۔میں نے رات کو مہک سے کہا کہ اسکی ماہم سے اب اچھی دوستی ہوچکی ہے اسے چاہیے کہ وہ ماہم کو گفٹ دے مہک کو بھی میری بات پر بات پسند آئی تھی اس لئے میں نے اس کے لائے ہوئے ڈرسز میں سے ریڈ والا نکال کر مہک سے کہا یہ ماہم کودیدے ۔۔
“مگر کامران یہ تو تم نے میرے لئے اپنی پسند سے لیا تھا “
“پسند …..کیا ہوگیا تمہیں مہک مجھے لگا تمہیں اچھا لگا ہے اور تمہارے سارے ڈرسز میں۔ میری پسند ہی شامل تھی ۔۔۔تمہاری مرضی ہے میں نے اس لئے اس ڈریس کا کہا کہ تمہارے پاس آل ریڈی اس کلر کی۔ بہت سے ڈریسز ہیں “۔۔۔۔۔میری بات پر مہک مان گئ اور ریڈ کلر کاڈریس ماہم کے لئے الگ رکھ دیا ۔۔۔صبح آفس جانے سے پہلے میں نے ماہم کو لان میں پائپ سے پانی دیتے دیکھ لیا تھا ۔۔۔۔میں نے ایک گھر کے قریب مارکیٹ سے فلاور بکے لیا ایک مائے فرسٹ لو کا کارڈ لیا اور ایک اپنی پسند کا کلون۔۔۔۔اس پر وصی شاہ کی غزل مجھے صندل کر دو لکھی ۔۔۔۔اپنی محبت کا اظہار مجھے ان لفظوں سے بہتر سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔۔پھر اپنی خواہش لکھنے لگا
“مائے لو اگر تم آج ریڈ کلر پہن لو تو میری دلی خواہش پوری ہو جائے گی ۔۔۔۔تم پر یہ رنگ بہت پیارا لگتا ہے ۔۔۔۔لگتا ہے جیسے چاروں طرف گلاب کے پھول سے بکھر گئے ہوں اور اگر اس کے ساتھ میرا بھیجا ہوا کلون تم لگا لوں تو سچ میں تمہاری مہک میرے پورے وجود کو مہکا دے گی ۔۔۔۔مائے ڈیر ایم کے نام “۔۔۔۔۔میں نے یہ سب لکھ کر وہیں گفٹ شاپ پراپنے گھر کا ایڈریس دیا اور کہاکہ چوکیدار کو دیتے ہوئے کہے کہ جو لڑکی لان میں ہے اسے پکڑادے ۔۔۔۔پھر مہک کو کال کر کے یہ یاد دلانے لگا کہ آج وہ یاد سے ماہم کووہ ریڈ ڈریس دیدے مجھے اچھی طرح اندازہ تھا کہ ماہم سمجھے گی کہ یہ سب عفان نے بھیجا ہے ۔۔۔۔کیونکہ آج کل وہ اس سے محبت بھرے لفظوں سے تو نواز ہی رہا تھا ۔۔۔پھر یہ مجھے اندازہ تھا کہ وہ مہک سے ان سب کاتذکرہ بھی ضرور کرے گی پھر مہک اسے وہ ریڈ سوٹ دینے کے ساتھ ساتھ پہنے کی بھی تاکید کر دےگی ۔۔۔۔یہ سب سوچ کر مجھے لگا میرے اندر کی جلتی ہوئی آگ پر جیسے ٹھنڈی ٹھنڈی پھوارسی پڑنے لگی ہو ۔۔۔کچھ آج موسم بھی بہت خوشگوار تھایاشاید میرے اندر کی سر شاری اتنی تھی کہ سب کچھ حسین لگ رہا تھا ۔۔۔۔مجھے رات کا بے چینی سے انتظار تھا ۔۔۔۔گھر پہنچتے ہی میری نظر ماہم کو ڈھونڈ رہی تھی وہ کچن اور لاونج میں موجود نہیں تھی میں لاونج میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔مہک بھی میرے سامنے صوفے پر بیٹھ گی شاید اس نے بھی نئے خریدے ڈریسز میں ہی ایک پہنا تھا مگر میری اسپر توجہ ہی کب تھی
“کیسی لگ رہی ہوں میں کامران” ۔۔۔۔۔میری بے توجہی پا کر مہک نے خود ہی مجھ سے پوچھ لیا ۔۔۔۔میں نے سرسری سا مہک کو دیکھا اسکے عقب سے ہی ماہم میرے لایے ہوئے ریڈ سوٹ میں آج تو واقع غصب ڈھا رہی تھی کھلے لمبے بال ریڈ ہی لپ اسٹک سیڑیاں اتر کر نیچے آ رہی تھی اسی کلون کی خوشبوں پورے لاونج کو معطر کر رہی تھی جو میں نے بھیجا تھا
“ایز یویل وری پرٹی “۔۔۔۔۔میں نے کہا تو ماہم کے لئے تھا مگر مہک میرا جواب سن کر مسکرانے لگی ۔۔۔۔میرا دل چاہا ماہم کے اتنے قریب آ جاؤں کے کوئی بھی فاصلہ بیچ میں نا رہے ۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ ماہم کی نظر مجھ پر پڑے اور میری نظروں کی لو کو محسوس کرتے ہوئے وہ مجھ پر شک کرتی میں نے مہک کی طرف اپنی نظریں مرکوز کر دیں ۔۔۔۔۔
“مہک بہت خوبصورت لگ رہی ہو یار دل تو لگتا ہے آج تمہیں دیکھ کر دھڑکنا ہی بھول چکا ہو ” ۔۔۔لاونج میں اسوقت میں اور مہک ہی تھے یا ماہم اس لئے میں نے جان بوجھ کر ذرابلند آواز میں مہک سے کہا اصل مقصد تو میرا ماہم کو متوجہ کرنا تھا ۔۔۔اور وہ ہو بھی گئ تھی ۔۔۔۔
“کونسا کلون لگایا ہے تم نے ہر طرف تمہاری ہی خوشبوں پھیلی ہوئی ہے “۔۔۔۔میری بات ماہم بھی سن چکی تھی مگر وہ لاونج میں رکی نہیں کچن میں چلی گئ مہک میری بات پر ہسنے لگی
ڈنر پر میں نے اپنے بنائے ہوئے پلان کے مطابق ڈرامہ شروع کر دیا ۔۔۔۔۔جس انداز سے ماہم عفان کو دیکھ کر مسکرارہی تھی ۔۔۔۔مجھے لگا یہ میرے ساتھ ذیادتی ہے ۔۔۔وہ آج جتنی بھی حسین لگ رہی تھی اسکے چہرے پر جتنے بھی خوشی کے رنگ تھے وہ سب میرے لفظوں کی وجہ سے تھے اس لیے میرا حق بنتا تھا کہ ماہم کواپنی نظروں اور باتوں سے خیراں کروں پھر عفان وہ سب کیوں دیکھے ۔۔۔۔سب کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے میں نے سر درد کا بہانہ بنایا اور وہاں سے اٹھ کر کمرے میں آگیا جب تک مہک کافی بنا کر لائی میں بیڈ پر آنکھیں بند کیے لیٹ گیا
“کامران کافی تو پی لو پھر سو جانا ۔”۔۔۔مہک سائیڈ ٹیبل پر کافی کا کپ رکھتے ہوئے بولی
“نہیں یار سر درد اور نیند کی ٹیبلٹ کھا چکا ہوں بہت نیند آ رہی ہے “۔۔۔۔میں نیند سے بوجھل آواز سے بولا ۔۔۔
“ٹھیک ہے سو جاؤں”…. مہک کمرے سے باہر جانے لگی تو میں نے مہک کو منع کر دیا اگر مہک باہر جاتی تو کافی دیر جاگتی رہتی اور میں چاہتا تھا کہ مہک سو جائے
“مہک پلیز ذرامیراسر دبادو ۔۔۔۔مہک میرے پاس آ کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔میراسر بھی دبانے لگی ۔۔۔۔
“یہیں میرے پاس لیٹ جاؤں مہک ۔”۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ وہ لیٹتے ہی کچھ ہی دیر میں سو جاتی ہے اور یہی ہوا مہک میرے برابر میں لیٹ گئ اور سر دباتے ہوئے جلد ہی گہری نیند میں سو گئ ۔۔۔۔جب مجھے مہک کے سو جانے کا یقین ہو گیا ۔۔۔میں احتیاط سے دبے پاؤں کمرے سے باہر آگیا رات کاایک بج چکا تھا ۔۔۔۔کریم بابا اسوقت تک اپنے کواٹر میں جا چکے تھے میں خاموشی سے لان میں آیا ۔۔۔اور مین سوئچ سے ایک تار کھنچ کر توڑ دی ۔۔۔۔۔یک دم ہی گھر کی لائٹ آف ہو گئ ۔۔۔میں فورا سے لاونج میں آکر سیٹیوں کے عقبی سائیڈ پر چھپ گیا ۔۔۔۔مجھے پوری امید تھی کہ اسوقت عفان اور ماہم سوئے نہیں ہوں گئے ۔۔۔وہی ہوا عفان کے کمرے کا دروازہ کھلا وہ سیڑیاں اترتے ہی باہر لان میں چلا گیا ۔۔۔میں اسی وقت اوپر کی سیڑیاں چڑھ کر عفان کے کمرے میں داخل ہوا اور فورا دروازہ بند کر کے لوک کر دیا کمرے میں گپ اندھیرا تھا ماہم مجھے عفان سمجھ کر لائٹ بند ہونے کی وجہ پوچھنے لگی ۔۔۔میں اسکی آواز سنتے ہی اس کے قریب آ گیا ۔۔۔۔اتنا قریب اسکے بال میرے چہرے کو چھو رہے تھے ۔۔۔میں اس کے عقب میں کھڑا تھا ۔۔۔اس کے دونوں بازو پکڑ کر ۔۔۔مجھے آگ سی لگ گئ جب ماہم نے مجھے عفان سمجھ کر پکارا ۔۔۔۔۔
“نہیں ماہم ڈیر کامران تمہارا کامران” ۔۔۔۔میری بات سن کر ماہم فورا سے پیچھے ہٹ گئ ۔۔۔۔۔
میں نے لائٹرجلایا مجھے ماہم کوجی بھر کر دیکھنا تھا کتنے دونوں سے اسے اگنور کرنا پڑ رہا تھا۔۔۔۔اپنے بے چین دل کو مجھے کچھ تو سکون بخشنا تھا ۔۔۔۔۔ماہم اب مجھے دیکھ کر خوفزدہ سی ہونے لگی ۔۔۔۔لائٹر کی مدھم سے روشنی میں اسکا آتش جاں سوز حسن مجھے بے خود سا کرنے لگا ۔
“کہا تھا نا تم سے ۔۔۔تمیہں نہیں۔ چھوڑو گا ۔۔۔آج بھی تم میری ہو ماہم ۔۔۔۔میں جب چاہوں تمہیں اپنی مرضی کا پہنا سکتا ہوں ۔۔۔۔۔اپنی مرضی کی خوشبو سے تمہیں مہکا سکتا ہوں۔۔۔۔بہت خوبصورت لگ رہی ہو سویٹی ۔۔۔۔۔”
“ت تم جاؤں یہاں سے” ۔۔۔۔ماہم بری طرح کپکپا رہی تھی خوف کے مارے پسینے سے شرابور آنسوں بہا رہی تھی ۔۔۔
“کیسے چلا جاؤں سویٹی میرے لئے اتنا سجی سنوری ہو تم ذرا اپنی آنکھوں کو تمہارے حسن سے خیراں تو کر لوں ۔۔۔۔تمہیں اپنے حصار میں لیکر تمہیں کندن تو کر دوں “۔۔۔۔میری وارفتگی سے بڑھتے قدم پر وہ بری طرح بوکھلائی ہوئی تھی
“دور رہو مجھ سے” ۔۔۔۔
“یہ کہاں ممکن ہے ۔۔”۔۔۔
۔۔۔۔میں نے ماہم کواچھی طرح باورا کروادیا کہ میں کبھی اسے چھوڑ نہیں سکتا ۔۔۔میرادل میرے قابو سے باہر تھا میں سارے فاصلے ختم کرنا چاہتا تھا ۔۔۔مگر وہ چلانے لگی ۔۔۔عفان کو بلانے لگی ۔۔۔۔میں بہت پھرتی سے باہر نکل کر اوپر اپنے کمرے میں چلا گیا عفان دوڑتا ہوا کمرے میں چلا گیا ۔۔۔اسکے کمرے میں جاتے ہی میں تیزی سے نیچے اترا اور ساتھ ہی ساتھ اپنی رٹ کے بٹن کھولنے لگا اپنے کمرے میں آ کر اپنی شرٹ اتار کر لیٹ گیا ۔۔۔ماہم کی بتدریج چلانے کی آواز پر مہک ہڑبڑا کر اٹھ گئ مگر میں ایسے ہی لیٹا رہا کچھ دیر میں کمرے کا دروازہ بڑی زور سے بجنے لگا ۔۔۔۔مہک اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئ لائٹ بھی آ چکی تھی ۔۔۔باہر عفان کی آوازیں میں صاف سن رہا تھا ۔۔۔۔اور مہک کے جواب بھی ۔۔۔۔میں بہت مطمئن سا ہوگیا ۔۔۔۔رات بھر میں چین کی نیند سویا تھا
*******…….********……..********……*******
اور صبح اٹھا بھی لیٹ تھا میں بس تیار ہی تھا اپنی ٹائی باندھ رہا تھا جب دروازے پر دستک ہوئی مہک نے دروازہ کھولا تو سامنے ماہم تھی اسوقت میرے دل کی یہی خواہش تھی کہ میں ماہم کو دیکھوں ۔۔۔۔۔جیسے ہی وہ اندر آئی مجھے دیکھ کرٹھٹک گی اور میں مسکرانے لگا ۔۔۔۔وہ واپس جانے لگی تو میں نے زمانے بھر کی مظلومیت چہرے پر سجائی اور اسے اندر بیٹھنے کا کہنے لگا ۔
“اندر آ جاؤں ماہم ۔۔مہک کمرے میں ہی ہے “میری بات سن کر مہک نے بھی ماہم کو اندر بلا لیا
“بھابی میں سمجھی تم اکیلی ہو ۔۔۔۔میں بعد میں آ جاؤں گی “ماہم کے ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ بھی تھا ماہم پلٹنے لگی تو میں برجستہ بولا
“ماہم اگر میری وجہ سے جانا چاہ رہی تو پلیز بیٹھ جاؤ میں بس جا ہی رہا ہوں”میں ڈرسنگ کے سامنے کھڑے ہوئے بڑی معصوم سی شکل بنا کر کہا اور بندھی ہوئی ٹائی کو جان بوجھ کر یونہی دوبارہ سیٹ کرنے لگا مقصد تو میرا ماہم کی موجودگی میں وہاں رکنا تھا ماہم نے ایک قہر بھری نظر مجھ پر ڈالی نا چارہ اسے مہک کے پاس جانا ہی پڑا ۔۔۔ وہ مہک کے پاس بیڈ پر چلی گئ اور شاپنگ بیگ بھی بیڈ پر رکھ دیا ور ۔مہک سے مخاطب ہوئی
“بھابی یہ ڈریس آپ واپس رکھ لیں۔۔۔۔عفان کو یہ مجھ پر ذرا بھی اچھا نہیں لگا ۔۔ایم سوری مگر میں تو اسے دوبارہ پہنے کا سوچ بھی نہیں سکتی ” اس نے یہ بات یقینا مجھے اذیت دینے کے لئے کی تھی مگر میں تو اتنا سر شار تھا کہ ماہم کی بات۔بری نہیں لگی
“اچھا چلو کوئی بات نہیں تم یہ مت پہنوں ۔۔۔جب ہم مارکیٹ جائیں گئے تو تم میری طرف سے اپنی پسند کا ڈریس لے لینا جو عفان کو پسند ہو ۔۔”مہک ہر بات سے انجان خوش اسلوبی سے بات ختم کرنے لگی ۔۔۔ماہم وہاں رکی نہیں جلدی سے کمرے سے باہر نکلنے لگی مگر میری پکار کر اسے رکنا پڑا
“ماہم رات کو کیا ہوا تھا ۔۔۔۔تمہارے۔ چیخنے چلانے کی آوازیں آ رہیں تھیں۔۔۔۔۔میں سلپنگ پلز کی وجہ سے بہت گہری نیند میں تھا اٹھ نہیں پایا ۔۔۔ورنہ چیخنے کی آوازیں تو صاف مجھے سنائی دے رہیں تھی ۔۔۔۔کیا ڈر گئ تھی ماہم “میرے چہرے پر سجی مصنوعی حیرت میری آنکھوں مضحکہ خیز ہنسی ماہم نے قہر بھری نظروں سےمجھے دیکھا اور باہر چلی گئ ۔۔۔پھر مہک مجھے رات کی رو داد سنانے لگی ۔۔۔جو میں پہلے سے ہی جانتا تھا اور مہک کی باتوں کو غائب دماغی سے سن رہا تھا میرا سارا دھیان تو ماہم کی طرف تھا
۔۔۔مجھے اب اس بات کی ذرا بھی پروا نہیں تھی ماہم نے ڈریس واپس کردیا ہے کیونکہ ۔۔۔ میں تواسےاپنی پسند میں ڈھلے دیکھ چکا تھا اور وہ بھی بہت قریب سے۔۔۔۔ا ۔۔۔۔جب میں آفس جانے کے لئے گاڑی نکالنے لگا تو کلون کی کرچیاں پورچ میں بکھری پڑیں تھیں فلاور بکے بھی وہیں زمین پر گرا ہوا تھا اسکے پھول اب بکے سے نکل کر زمین پر بکھرے ہوئے تھے ۔۔۔۔مگر میرادل بہت خوش تھا۔۔۔۔۔جو میں چاہتا تھا وہ میں کر ہی چکا تھا۔۔۔۔۔۔ماہم کے اس طرح کے ریاکشن سے مجھے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا تھا
