Tadbeer by Umme Hani NovelR50414

Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 57 (Part 2)

458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 57 (Part 2)

Tadbeer by Umme Hani

مہک اگلے روز گھر آ گئ تھی۔۔۔۔ماہم اور مما اس کا بہت خیال رکھتی تھیں ۔۔۔۔۔ جب میں آفس سے لوٹتاتواکثر ماہم میرے

کمرے میں ہی موجود ہوتی کبھی مہک کو سوپ پلا رہی ہوتی ۔۔۔۔کبھی فروٹس کاٹ کر زبردستی کھلاتی ۔۔۔۔۔۔اکثر ماہم کی ہسنے اور کھلکھلانے کی آواز سن کر میں کچھ دیر اپنے کمرے میں نہیں جاتا تھا ۔۔ مجھے دیکھتے ہی وہ خاموشی سے باہر آ جاتی تھی ۔۔۔۔اسوقت مجھے اپنے کمرے میں اسکی ہنسی کی آواز سن کر لگا کہ جیسے منظر ایک دم بدل سا گیا ہو ۔۔۔۔میں کمرے میں جاؤں گا ماہم بھاگ کر میرے پاس آئے گی

“آپ آ گئے کامی ۔۔۔۔اتنی دیر کیوں لگادی ۔۔۔۔۔پھر میرے قریب آ کر میرا کوٹ اتارے گئ ۔۔۔ میری ہر چیز مجھے سلیقے سے پڑی اپنے کمرے میں ملے گی

“میں نے آج آپ کے لئے آپکے پسند کاڈنر بنایا ہے چلیں جلدی سے فریش ہو جائیں “عفان کے کھنکھارنے پر میں چونک سا گیا میرا خواب پل میں جیسے چکنا چور ہو گیا تھا ۔۔۔۔

“وہ بھابی کیسی ہیں اب ٫۔”۔۔۔عفان نے مجھ سے مہک کے بارے میں پوچھا

“بہتر ہے ۔۔۔۔”میں نے مختصر جواب دیا

“وہ ماہی شاید اندر ہے “عفان نے مجھ سے کہا ۔۔۔وہ ماہم کو ہی ڈھونڈتا ہوا ادھر آیا تھا

“ہاں شاید اندر ہی ہے آ جاؤ اندر۔ ۔۔ میں نے عفان سے کہا اور ہم دونوں بیک وقت ہی کمرے میں داخل ہوئے تھے…ماہم دیکھتے ہی کھل اٹھی تھی

“تم آ گے عفان ۔۔۔۔آج اتنی دیر لگا دی تم نے ۔۔۔پتہ ہے میں نے تمہاری پسند کا پاستا بنایا ہے ۔۔۔۔کب سے تمہارا انتظار کررہی ہوں۔”۔۔۔وہ اٹھ کر اب عفان کے پاس آگئ ۔۔۔۔۔

“یہ تو بہت اچھا کیا تم نے مجھے بہت بھوک لگی ہے تم گرم کرو میں فریش ہو کر آتا ہوں “عفان نے ماہم سے کہااور ماہم کمرے سے باہر چلی گئ ۔۔۔عفان مہک سے اسکی خیریت دریافت کرنے لگا کچھ دیر مہک سےبات چیت کے بعد وہ بھی چلا گیا ۔۔۔۔۔ میں بس عفان کو ہی دیکھتا رہا کیسے میرا ہر خواب یہ اپنے نام کر لیتا ہے یہ میری زندگی ہی تو تھی جو عفان جی رہا تھا۔۔۔۔۔مگر کیوں ۔۔۔۔یہ ایک ایسی تلخ سوچ تھی کہ میں اس کے اندر خود کو جلتا ہوا محسوس کرتا تھا ۔۔۔۔

مہک میری طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔میں نے بیگ ایک سائیڈ پر رکھا اور اپنا کوٹ اتار کربیڈ پر ہی پھنک دیا اور اپنی ٹائی کی نٹ ڈھیلی کرنے لگا

“کیا بات ہے کامران بہت تھکے تھکے لگ رہے ہو “

“ہاں آج مصروفیت کچھ زیادہ تھی ۔۔۔۔تم بتاؤں طبیعت کیسی ہے تمہاری” ۔۔۔۔٫میں نے بس مرواتا ہی مہک سے پوچھا

“کافی بہتر ہوں ۔۔۔۔مما اور ماہم بہت خیال رکھتی ہیں میرا ۔۔۔”مجھے مہک کی باتوں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رہی تھی میں چینج کر کے ڈنر کے لئے چلا گیا ۔۔۔۔۔عفان پہلے سے وہاں موجود تھا اور بڑی رغبت سے پاستا کھانے میں مشغول تھا ۔۔۔۔پاپا مہک کی پوری روٹین ماہم سے پوچھ رہے تھے کہ اسنے کب کیا کھایا اور کیا نہیں ۔۔۔۔مماخاموشی سے کھانا کھا رہیں تھیں میں نے پلیٹ اپنےسامنے رکھی۔۔۔مگر کھانے سے دل اچاٹ ہو گیا ۔۔۔۔میں نے پاستے کاباول لیا اور وہی اپنی پلیٹ میں ڈال لیا حالانکہ مجھے پاستاایسا کچھ خاص پسند نہیں تھا ۔۔۔۔مگر بس ناجانے کیوں میں کھانے لگا۔۔۔۔باقی کا سارا پاستا میں نے ہی ختم کیا ۔۔۔۔عفان نے مجھے یوں اوور بھری پلیٹ سے پاستا کھاتے دیکھ کر خالی باول دیکھا تو اپنی پلیٹ میں سالن ڈال کر روٹی کھانے لگا البتہ ماہم مجھے کینہ توز نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔آخر عفان کے لئے کی گئ اسکی محنت پر میں جو ہاتھ صاف کر رہا تھا

رات کو کافی دیر بنا کسی مقصد کے لان میں ٹہلتا رہا ۔۔۔۔۔رات کو کمرے میں گیا تو مہک جاگ رہی تھی سائیڈ ٹیبل پردودھ کا گلاس پڑا تھا مما رات کو روز کمرے میں دودھ رکھتی اور مہک سے خاص تاکید کرتی کہ وہ پی کرسوئے ۔۔۔ مگر وہ وہیں رہنے دیتی مماجب دوبارہ آتی مہک کو ڈانٹتیں اور کبھی اپنے سامنے تو کبھی اپنے ہاتھ سے دودھ پلاتی تب وہ پیتی ۔۔۔۔اب بھی شاید اسے مماکی ڈانٹ کا انتظار تھا

“یہ دودھ ابھی تک کیوں نہیں پیا تم نے ۔۔۔۔میں نے مہک سے پوچھا

“ابھی نہیں کامران کچھ دیر بعد پیوں گی “نا جانے مہک کو کس کا انتظار تھا نظریں دروازے پر ہی ٹکی ہوئیں تھیں ۔۔میں خاموشی سے آکر لیٹ گیا کچھ دیر میں ہی مما دروازہ نوک کر کے اندر آگئ دودھ کا گلاس دیکھ کر مہک کو ڈانٹنے

“یہ تم نے ابھی تک کیوں نہیں پیا

“بس ابھی پینے کی لگی تھی مما

“یہ بہانے تم میرے سامنے مت بنایا کرو ۔۔۔۔چلو پیو میرے سامنے ۔۔۔نا جانے آج کل کی لڑکیوں کو ہوا کیا ۔۔۔۔۔۔کھانے پینے کے معاملے میں اتنا تنگ تو مجھے کبھی کامران اور عفان نے نہیں کیا جتنا تم دونوں کرتی ہو ۔۔۔۔۔۔مما کی اچھی خاصی جھاڑ سننے کے بعد مہک نے دودھ پیا پھر مما باہر گئیں

“یہ تم روز مما کو کیوں تنگ کرتی ہو پہلے ہی وہ تم سے خائف رہتی ہیں “میں نے شاکی نظروں سے مہک کو دیکھا مگر وہ مسکرانے لگیں

“پھر بھی میری پروا کرتی ہیں ۔۔۔۔کامران تمہیں اندازہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔جب وہ مجھے اس طرح سے ڈانٹتی ہی۔ ۔۔۔کتنا اپنا اپنا سا لگتا ہے ۔۔۔۔پتہ ہے میری ممی نے کبھی مجھے یوں نہیں ڈانٹا ۔۔۔کبھی اپنے ہاتھوں سے دودھ بھی نہیں پلایا ۔۔۔۔میں نے کھانا کھایا ہے ۔۔۔۔نہیں کھایاانہیں کبھی اس بات کی فکر نہیں تھی ۔۔۔۔بس ایک آیا تھی جن کے رحم وکرم پر میں نے پرورش پائی ۔۔۔۔میری بہت خواہش تھی کہ ممی میرے ناز نخرے اٹھائیں اگر میں کبھی نا کھاوں تو وہ مجھے یوں ڈانٹ کر پیار سے اپنے ہاتھوں سے کھلایا کریں مگر ایسا کبھی نہیں ہوا ” ۔۔۔۔مہک نے آنکھوں میں آنے والی نمی کو صاف کیا

“اور پتہ جب مما مجھ پر ڈانٹ ڈپٹ کرتی ہیں مجھے کتنا اچھا لگتا ہے میں دودھ پینے کے لئے روز انکی ڈانٹ کا انتظار کرتی ہوں ۔۔۔۔۔یعنی انہیں میری فکر ہوتی جبھی تو روز سونے سے پہلے آ کر مجھ سے ضرور پوچھتی ہیں ۔۔۔۔”مہک کے چہرے پر آنے والی خوشی اور اسکی باتیں مجھے تو ایک احمقانہ سی حرکت لگی ۔۔۔۔۔بھلا ڈانٹ کھانا بھی کسی کو اچھا لگ سکتا ہے ۔

“ویسے تم کچھ عجیب نہیں ہو مہک ۔۔۔۔عجیب ہی خواہش ہے تمہاری بھلا ڈانٹ کھانا بھی کسی کو بھاتا ہے ۔۔۔سو جاؤں اب ۔۔۔”

“تم نے میری طرح زندگی نہیں جی کامران اس لئے تم نہیں جان سکتے ۔۔۔۔میرے پاس دنیا کی ہر آسائش تھی ہر وہ چیز جسکا میں نام اپنی زبان پر لاتی اگلے ہی روز مجھے اپنے کمرے میں ملتی سوائے محبت کے ۔۔۔۔۔ مجھ سے محبت کرنے کا وقت نا ڈیڈی کے پاس تھا نا ممی کے پاس ۔۔۔۔ڈیڈی کی میٹنگ اہم تھی اور مما کی سوشل ورکنگ ۔۔۔۔جانتے ہو کامران مما جب بھی کسی خیراتی ادارے سے آتیں سب سے پہلے اچھی طرح باتھ لیتی تھی ۔۔۔۔۔کیونکہ وہاں انہیں مجبورا چھوٹے بچوں سے پیار جتانا پڑتا تھا ۔۔۔۔۔۔انہیں یہ وہم ہونے لگتا کہیں بچوں کے گندے ہاتھوں سے انہیں جمس نا لگ جائیں ۔۔۔۔مجھے حیرت نہیں ہوتی تھی جانتے ہو کیوں “

“کیوں “نا چاہتے ہوئے بھی میں مہک بات دلچسپی سے سننے لگا

“اس لئے کہ مما نے کبھی میرے گندے ہاتھ پکڑے ہی نہیں تھے ۔۔۔۔نا کبھی مجھے چینج کیا نا کبھی میرا ہاتھ منہ دھلایا۔۔۔۔۔کامران میں اپنے بچے کے ساتھ ایسا ہر گز نہیں کرو گی ۔۔۔۔میں بہت پیار دونگی اسے ۔۔۔۔۔اسکے کپڑے خود چینج کروایا کرو گی ۔۔۔۔۔اسے کبھی وہ محرومی نہیں دونگی جو مجھے ملی “وہ جذباتی ہو رہی تھی اور میں نیند کے مارے بیزار

“اچھا ۔۔۔۔یہ سب کیسے کرو گی ۔۔۔۔میرے کام تو ڈھنگ سے تم سے ہوتے نہیں ہے ۔۔۔۔جانتی ہو چھوٹے بچوں کے کتنے کام ہوتے ہیں “۔۔۔۔میں نے جتاتے ہوئے مہک سے کہا

“تمہارے تو نخرے ہی بہت ہیں ۔۔۔۔۔کچھ بھی کر لو تمہیں اس میں صرف برائی نظر آتی ہے میرا بچہ ایسا نہیں ہو گا ۔”۔۔۔وہ بے پروا انداز سے بولی

“لیکن میرابچہ تو بلکل میرے جیسا ہوگا ۔۔۔۔ سمجھی۔۔۔۔اسے ہی نقص نکالے گاوہ بھی ۔۔۔سو جاؤں اب” ۔۔۔۔میں نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا

۔ مہک بھی سو گئ اور میں مہک کے بارے میں سوچنے لگا ۔۔۔۔اتنی بھی بری نہیں ہے وہ ۔۔۔۔بس محبت اور توجہ کی بھوکی ہے۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں نیند میں جا چکا تھا۔۔۔۔ میں سو رہا تھا رات کوآہٹ سے میری آنکھ کھل گئی ۔۔۔۔۔مہک کو شاید پیاس لگی تھی پانی پینے کے لئے وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی

“رکو مہک میں دے دیتا ہوں ۔۔۔۔”میں نے مہک کو سہارا دے کر اٹھایا پھر پانی بھی پلا دیا ۔۔۔۔۔پھر واپس اپنی جگہ پر لیٹ گیا ۔۔۔۔۔مہک کچھ دیر تو مجھے یونہی دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔پھر میرے بازو پر سر رکھ کر لیٹ گئ ۔۔۔۔مجھے کچھ حیرت سی ہوئی جب سے ہماری شادی ہوئی تھی میری خواہش کے بر خلاف نا تو وہ میرے قریب آئی نا مجھے آنے دیا تھا ۔۔۔۔اور آج

“ایم سوری کامران ۔۔۔۔٫”

٫سوری فار واٹ “

“تم اتنے بھی برے نہیں ہو جتنا میں سمجھتی تھی “

“یعنی تم مجھے برا ابھی بھی سمجھتی ہو “میری بات پر وہ ہسنے لگی

“نہیں اچھے ہو تم ۔۔۔۔۔بلکہ بہت اچھے ہو میرا بہت خیال رکھتے ہو۔۔۔ ۔۔۔۔۔ویسے تو میں نے کبھی کسی کام کو ہاتھ نہیں لگایا ۔۔۔مگر اب تمہارے سب کام کرنے کی کوشش کروں گئ ۔۔۔۔تمہاری پسند کی سب ڈشز بھی بنانے کی کوشش کروں گی “

“اور یہ سب عنایتیں کس خوشی میں “میں نے تعجب کا اظہار کیا

“تم میرا خیال جو رکھنے لگ گئے ہو ۔۔۔۔۔”میری ذرا سی توجہ پا کر مہک پھر سے ویسی ہی ہو گی تھی ۔۔۔۔۔شاید ساری عورتیں اتنی ہی بیوقوف ہوتی ہیں ۔۔۔۔میراماہم اور مہک کے بارے میں تو یہی خیال تھا

“کامران تمہیں بیٹے کی خواہش ہے یا بیٹی کی “مہک اب میرے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھنے لگی

“بیٹے کی ۔۔۔۔اور تمہیں “میں بھی اسکے بالوں کو سہلاتے ہوئے اپنی خواہش بتانے لگا

“خواہش تو میری بھی یہی ہے ۔۔۔۔پتہ ہے میں نے جب یہ سوال ماہم سے کیا کہ اسے کس کی خواہش ہے تو اس نے کیا کہا “ماہم کے ذکر پر میری متحرک انگلیاں جامد سی ہو گئیں میں نے دانستہ اپنا ہاتھ مہک کے بالوں سے پیچھے کر لیا

“کیا “ماہم کا نام سن ہو میرے سارے کے سارے حساس بیدار ہو جاتے تھے

“کہنے لگی اس نے یہ سوال عفان سے کیا تھا ۔۔۔۔عفان نے کہا اسے دونوں کی خواہش ہے ۔۔۔۔اور جب میں نے کہا تمہاری اپنی کیا آرزو ہے ۔۔۔۔تو جانتے ہو اس نے کیا جواب دیا “

“کیا “

“مجھے کیا معلوم مہک جبھی تو میں نے عفان سے پوچھا تھا ۔”۔۔۔عجیب ہے نا ماہم ۔۔۔۔بس عفان کی ہر بات پر راضی ہو جاتی ہے اپنی تو اسکی کوئی رائے ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔”مہک ہسنے لگی

“بات عفان کی نہیں ہے مہک ۔۔۔ماہم کا مزاج ہی ایسا ہے ۔۔۔۔۔” دل میں آیا کہ مہک سے کہہ دوں اگر عفان کی جگہ میں ہوتا تب بھی وہ ایسا ہی کرتی یا اس سےکئ گناہ ذیادہ میری پروا کرتی ۔۔۔۔مجھے یہ بات بلکل اچھی نہیں لگی ۔۔۔۔۔ماہم کیوں پروا کرتی ہے عفان کی ہر خواہش کی ۔۔۔۔۔میرے اندر کی کھولن پھر سے جاگ اٹھی تھی۔۔۔۔

*******…….

میں آفس سے تھکا ہی ہوا آیا تو اپنے کمرے میں جانے لگا مہک اور ماہم کی باتوں سے وہیں رک گیا

“کھاؤں نا بھابی ۔۔۔بہت مزے کی ہے “ماہم مہک سے جانے کیا کھانے کا اصرار کر رہی تھی

“مما نے دیکھ لیا نا ماہم تو بہت ڈانٹیں گی “مہک رازداری سے بولی

“ارے نہیں پتہ چلے گا انہیں میں نے ویسے بھی دروازہ لوک کردیا ہے “

“لیکن اتنی املی تم نے منگوائی کہاں سے “

“عفان سے اور کس سے “وہ شاید کھاتے ہوئے بول رہی تھی

٫اس نے لا دی “

“ہاں۔۔۔ نا کر کے اس نے جاناکہاں تھا ۔۔۔۔ “ماہم اترا کربولی تھی

“لیکن تمہیں کھٹی چیزوں سے الرجی ہے تم نے بتایا تھا مجھے ۔۔۔۔”

“ہاں تو کوئی نہیں کبھی کبھار کھانے سے کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔پتہ ہے بھابی بچپن میں جب بھی میں نے خالہ سے چھپ کر کچھ کھانا ہوتا تھا میں عفان سے ہی منگواتی تھی پھر ہم دونوں چھپ چھپا کر کھا لیتے تھے اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی تھی”ماہم ہنستے ہوئے بتا رہی تھی

“تم لوگ چھپتے کہاں تھے “مہک دلچسپی سے پوچھنے لگی

“کچن کے ٹیبل کے نیچے ٫

” کچن کے ٹیبل کے نیچے ۔۔۔۔وہاں کیوں “مہک نے حیرت سے چیخ کر کہا

“عفان کہتا تھاوہ جگہ سب سے ذیادہ سیو ہے “

“تمہیں عفان کی ہر بات پر یقین ہے ماہم “

“ہاں تو اور کیا وہ کبھی غلط نہیں کہتا اس کا کہا ہمیشہ ٹھیک ہی ہوتا ہے ۔۔اچھا اب میں چلتی ہوں آپ یہ کھا لینا ۔۔۔۔”کچھ دیر میں ہی دروازہ کھولا مجھے سامنے یوں اچانک دیکھ کر ماہم بوکھلا گئ ۔۔۔۔میں بھی پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔وہ تیزی سے وہاں سے نکل گئ میں اندر گیا تو مہک مسکرارہی تھی سائیڈ ٹیبل ہر املی رکھی تھی ۔۔۔۔۔میں چینج کر کے ڈنر کے لئے جانے لگا تو مہک بھی میرے ساتھ ڈائنگ روم میں جانے کو تیار تھی

“مہک تمہارا کھانا میں یہیں بھجوا دیتا ہوں “

“نہیں کامران اب کافی بہتر ہوں ۔۔۔۔سب کے ساتھ ہی ڈنر کروں گی ۔۔۔۔اکیلے کمرے میں بیٹھ بیٹھ کر تنگ آ گئ ہوں “اسکے بعد مہک چھوٹے موٹے کام کرنے لگی تھی ۔۔۔۔۔میرے آتے ہی میرا کوٹ اتار تودیتی مگر لپیٹ کر وارڈروب میں رکھنے لگی تو میں نے مہک کے ہاتھ سے لے لیا پھر ایک ہینگر نکالا اور کوٹ اس میں ہینگ کر کے رکھ دیا ۔۔۔

“اسے اس طرح سے رکھتے ہیں ” میری بات پر وہ کچھ شرمندہ سی ہو گئ

“او کے کل سے ایسے ہی رکھ دوں گی ۔۔۔۔۔”اگلے روز

ناشتے کے وقت میں نے مما سے کہاکہ مجھے فرائی ایگ بنا دیں مگر مما کے اٹھنے سے پہلے پاپا نے منع کر دیا

“جاؤں مہک بٹیا کامران کے لئے فرائی ایگ تم بناؤ”

“میں “مہک نے حیرت کا اظہار کیا

“ہاں میرے خیال سے اب تمہیں یہ سب سیکھنا چاہیے ۔۔۔۔کچن میں رانی ہو گی اس سے پوچھ لو وہ تمہاری ہیلپ کر دےگی ۔۔۔۔مہک چپ چاپ اٹھ کر چلی گئ ۔۔۔مگر جیساوہ فرائی ایگ بنا کر لائی تھی ۔۔۔۔میں نے بے بسی سے مہک کی طرف دیکھا

“اسے ہاف فرائی ایگ کہتے ہیں ۔۔۔۔یہ تم خود کھا لینا مجھے تم توس پر مکھن ہی لگا دو “میں نے جل کر پلٹ پیچھے کھسکا کر کہا

“کیوں کیا ہوا کامران ۔۔۔۔ بس ذراسا ٹوٹ گیا ہے لیکن کچا بلکل نہیں ہے “مہک اپنی صفائی پیش کرنے لگی

“نہیں کچا تو بلکل نہیں ہے بلکہ ضرورت سے زیادہ ہی پک چکا ہے ۔۔۔۔میں نے خود سلائس اٹھایا اور مکھن لگا کر کھانے لگا ۔۔۔مہک خاموشی سے بیٹھ گئ

“کوئی بات نہیں اگر کچھ زیادہ پک گیا ہے ۔۔۔۔لاو مجھے دو میری بیٹی نے پہلی بار فرائی ایگ بنایا ہے ۔۔۔میں توضرورکھاوں گا ۔۔۔۔پاپا میرے ہی برابر میں بیٹھے تھے پلیٹ اٹھا کر اپنے سامنے رکھی اور کھانے لگے ۔۔۔ میں نے چائے کے تین چار گھونٹ جلے ہوئے دل کے ساتھ پیے اور آفس چلا گیا ۔۔۔۔صبح میرے کپڑے مہک نے ہی نکالے تھے ۔۔۔۔جب میں نے اس کی میچنگ دیکھی اور سارے ضبط کھو بیٹھا ۔۔۔۔غصے سے کچن میں آگیا مہک اور ماہم وہیں ناشتہ بنا رہیں تھیں ۔۔۔۔

“مہک ۔۔۔”میرے چلا کر پکارنے پر مہک کے ساتھ ماہم بھی میری طرف متوجہ ہو گئ ۔۔۔۔

“تمہیں ذراسینس نہیں ہے ۔۔۔مجھے یہ بتاؤں براؤن شرٹ کے ساتھ اورنج ٹائی کون پہنتا ہے ۔۔۔۔ “میں غصے سے پھنکار کر بولا

“میں نے رکھ کردیکھی تھی ۔۔۔۔اتنی بری بھی نہیں لگ رہی تھی جتنا تم چلارہے ہو ۔۔۔۔ “

“میں تم سے بحث نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔پلیز اپنی عقل میرے معاملے میں مت لڑایا کرو۔۔۔۔۔تم اگر میری مرضی سے کام نہیں کر سکتی تو پلیز زحمت بھی مت کیا کرو “مہک سے کہہ کر میں نے ایک نظر ماہم پر ڈالی وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی میری نظریں ملتے ہی گڑبڑا گئ ۔۔۔جلدی سے پلٹ کر ناشتہ بنانے لگی میں غصے سے اپنے کمرے آیا ساری کی ساری ٹائیاں نکال کر شرٹ کے اوپر رکھ کر دیکھنے لگا ۔۔۔۔اتنے میں مہک اندر آئی اور ایک آف وائٹ کلر کی ٹائی میری شرٹ کے ساتھ رکھ دی ۔۔۔۔جو شرٹ کے ساتھ سوٹ کر رہی تھی

“یہ تم پہلے نہیں کر سکتی تھی “میراغصہ قدرے کم ہو گیا

“ماہم نے بتایا ہی اب ہے ۔۔۔تو پہلے کیسے کرتی ۔۔۔”مہک بے نیازی سے کہتے ہوئے چلی گئ ۔۔۔۔۔حالانکہ یہ ایک معمولی سی بات تھی مگر مجھے اندر سے مسرور کر گئ ۔۔۔۔ماہم کو اب بھی میری فکر ہے ۔۔۔۔میری پسند کا اسے اب بھی پتہ ہے ۔۔۔۔ میں کیسے مان لوں کہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی ۔۔۔۔۔

**********……………**********

مہک نے رات کے ڈنر پر چکن کڑاہی بنائی تھی ۔۔۔۔پہلی بار مما نے مہک کو بیٹی کہہ کر پکارا تھا ۔۔۔۔پھر اسکے کھانے تعریف بھی کی بلکہ سب نے ہی تعریف کی سوائے میرے ۔۔۔۔مجھے مہک کا بنایا ہوا کھانا بلکل بھی نہیں بھایا ۔۔۔۔نا ہی میں نے تعریف کی مجھے مہک کے ہر کام میں سوسوعیب نظر آتے تھے ۔۔۔۔مہک کا موڈ بھی کافی آف سا تھا رات بھی وہ مجھ سے ٹھیک سے بات نہیں کر رہی تھی

“یہ تم کس لہجے مجھ سے بات کر رہی ہو “

“تو کیا کروں کامران تمہیں میرے ہر کام میں عیب کے علاؤہ کچھ دیکھتا ہی نہیں ہے “

“تو تم کوشش کروں نا ہر کام میرے مطابق کرنے کی ۔۔۔۔ماہم کو ہی دیکھ لو ۔۔۔۔وہ سب کی پسند نا پسند کا خیال رکھتی ہے ۔۔۔۔۔جب وہ میرے ساتھ منسوب تھی ۔۔۔۔میرے پسند کی خاطر میرا کام کئ کئ بار کرتی تھی ۔۔۔تا کہ مجھے اچھا لگ سکے ۔۔۔مجھے اس سے شکایت نا ہو ۔۔۔وہ میرے معیار پر پورا اترنے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کرتی تھی “میری روانی میں بولتا ہی چلا گیا

“مگر پھر بھی تمہیں ماہم کبھی اچھی نہیں لگی کامران ۔۔۔۔۔۔۔تمہیں اس سے محبت بھی نہیں ہو سکی ۔۔۔۔۔کیونکہ وہ اتنی حسین نہیں تھی جتنی تم خواہش کرتے تھے ۔۔۔۔آخر تمہیں چاہیے کیا ۔۔۔۔سب خوبیاں اور سارے گن ہر لڑکی میں تمہیں نہیں مل سکتے ۔۔۔۔نا ماہم میری طرح حسین ہو سکتی ہے نا میں ماہم کی طرح ہر کام میں پرفیکٹ ۔۔۔۔۔اور اگر تمہیں یہ خوش فہمی ہے کہ میں مری جا رہیں ہوں تمہاری تعریف سننے کے لئے تو یہ بھی غلط ہے ۔۔۔۔مجھے تو تمہاری فیملی پر رشک آتا ہے ۔۔۔۔پاپا روز میرے ہاتھ کا بنا ہوا فرائی ایگ بڑے شوق سے کھا لیتے ہیں ۔۔۔۔حالانک وہ ہر بار خراب ہو جاتا ہے ۔۔۔۔مما میرے ہاتھ کی بدمزہ چائے بھی پی کر میرے تعریف کر دیتی ہیں ۔۔۔۔اور تمہارا بھائی جس نے کبھی مجھے اپنی دوستی کے قابل بھی نہیں سمجھا تھا ۔۔۔۔مجھے عزت اور احترام سے بھابی کہتے اسکی زبان نہیں تھکتی ۔۔۔۔اور ماہم اسکے ہوتے ہوئے مجھے نا کبھی بہن کی کمی محسوس ہوئی نا دوست کی ۔۔۔۔میرادل ان سب کی محبت سے ہی سیراب ہوچکا ہے ۔۔۔۔۔تھنک یو سو مچ مسٹر کامران کے ان سب کی بے پناہ محبت کا ذریعہ تم بنے ۔۔۔۔تمہاری بے اعتنائی کا کانٹا تو کب کا میرے دل سے نکل چکاہے ۔۔۔۔” میں بس خاموشی سے مہک کی باتیں سنتا رہا ۔۔۔۔۔کافی غور فکر کرنے بعد اس نتجے پر پہچا کہ مجھے اپنارویہ سب سے ٹھیک کر لینا چاہیے تا کہ سب کا مجھ پر اعتماد بحال ہو سکے