458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 16

Tadbeer by Umme Hani

نیچے لاونج میں ہی پاپا اپنی ایس ایچ او دوست کے ساتھ بیٹھے ح فٹ اور سمارٹ نہیں تھے بھری جسامت اور نکلی ہوئی توند سر کے بال بھی صرف کنپٹیوں کے ۔۔۔۔مجھے دیکھ کر ان کی آنکھوں میں وہی پولیس والوں والی تشویش سی اتر آئی ٹانگ دوسری ٹانگ رکھے وہ اپنا سر ہلانے میں مصروف تھے ۔۔۔۔میں نے انہیں سلام کیا اور انکے سامنے والے صوفے پر پاپا کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔۔مما بھی وہیں بیٹھیں تھیں مگر خاموش تھیں ٹیبل پر موجود خالی کپ دیکھ کر میں سمجھ گیا تھا کہ چائے وہ نوش فرما چکے ہیں ۔۔۔اب وہ صرف تشویش ہی کریں گئے

“ہاں بھئ ۔۔۔کل کی ساری روداد تو میرے گوش گزار کرو نا ذرا” ۔۔۔۔۔وہ موچھوں کے آخری سرے کو گھماتے ہوئے بڑی زریک نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے بولے ۔۔۔۔میں نے ساری کتھا من وعن انہیں سنا دی جو میں جانتا تھا کامران کا نمبر اسکے دوستوں کے نمبر ۔۔۔۔وہ میری بات بڑے غور سے سن رہے تھے ۔۔۔۔

“ہمم” ۔۔۔۔میری بات سن کر انہوں نے گہری سانس لی ۔۔۔۔

“بات یہ ہے رضا کہ ۔۔۔۔۔ہاسپٹل تو میں نے سارے چھان مارے ہیں ۔۔۔۔۔اور تمہارے کہنے پر حادثاتی مریض بھی دیکھ چکا ہوں ۔مگر مجھے قصہ کچھ اور ہی لگتا ہے ۔۔۔۔”وہ گہری سوچ لئے مونچھوں کو ہی گھماتے ہوئے بولے

“کیا مطلب” ۔۔۔۔پاپا سنبھل کر بیٹھ گئے

“او اس کا کوئی لپھڑا تو نہیں چل رہا تھا کسی لڑکی کے ساتھ ۔”۔۔۔وہ کچھ آگے کو جھک کر رازدارانہ انداز سے بولا

“نہیں یار شادی اسی کی پسند سے ہو رہی تھی ۔۔۔۔”پاپا نے تسلی دیتے ہوئے کہا

“اچھا خیر نمبر میں ٹریس کروا لیتا ہوں مگر فون اس کا بند ہے تو کل کی آخری لوکیشن ہی مل پائے گی” ۔۔۔۔ایس ایچ او کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔اپنے سر پر ہاتھ پھیر کر باہر چلا گیا ۔۔۔۔۔۔

اسکے جانے کے بعد پاپا مجھ سے مخاطب ہوئے

“عفان بیٹا یہ موقع تو نہیں ہے ان باتوں کا مگر کیا کریں ہم اس معاشرے کا ہی حصہ ہیں ان سے کٹ کر نہیں رہ سکتے ۔۔۔دنیا داری کے لئے ہی سہی مگر اب ہمیں رسم ولیمہ تو نبھانی ہی پڑے گی مجبورا ہی سہی رات کو ولیمے کا فنگشن ہے ذیادہ مہمان تو آئیں گئے بھی نہیں مگر “۔۔۔۔۔۔پاپا خاموش ہو گئے شاید میرے جواب کے منتظر تھے لیکن میں کیا جواب دیتا عجیب سی الجھن کا شکار تھا ایک طرف ماہم اب بھی کامرام کی محبت کا دم بھر رہی تھی اور ایک طرف یہ نیا جڑ جانے والا رشتہ جیسے فی الحال میں نبھانے کی کنڈیشن میں خود کو تیار نہیں۔ کر پا رہا تھا میری خاموشی کچھ طویل ہوئی تو پاپا بھی تذبذب کا شکار ہونے لگے

“میرے خیال سے عفان تم میری پوزیشن سمجھ سکتے ہو “۔۔۔۔پاپا کی نظریں جھک سی گئیں تھیں ۔۔۔۔میں نے اپنا سر دونوں ہتھیلیوں سے جکڑ لیا ۔۔۔ذہنی انتشار بڑھنے لگا تھا لوگوں کی طرح طرح کی باتیں طنزیہ جمعلے بازیاں کیا کچھ تھا جو آج سہنا باقی تھا پھر ماہم کی نا ساز طبیعت ۔۔۔۔وہ شاید کبھی نا مانے ۔۔۔۔مگر میری یہ سب سے بڑی مجبوری تھی کہ میں رشتوں کا پاس ہر بار ہی رکھ لیتا تھا ۔۔۔۔چاہے دل کتنا بھی احتجاج کیوں نا کرے

“جی پاپا میں سمجھ سکتا ہوں مگر آپ جانتے ہیں ماہم کی پوزیشن ایسی نہیں ہے کہ وہ” ۔۔۔۔۔۔۔

“تم بٹیا کی فکر مت کرو ۔۔۔۔۔اسے میں اور تمہاری مما سمجھا لیں گئے منا بھی لیں گئے ۔۔۔۔بس تم تیار رہنا ۔۔۔۔ایک بات اور عفان تمہیں بہت مضبوط اور حوصلے سے ہر بات کا مقابلہ کرنا ہے ۔۔۔۔کسی کو یہ احساس تک نہیں ہونا چاہیے کہ تم اس فیصلے سے نا خوش ہو ۔۔۔۔”

“جی ۔۔”۔۔۔

“جیتے رہو بیٹا ۔۔۔۔۔تم نے جس طرح سے مجھے کل رسوا ہونے سے بچایا ہے میری بیٹی کو عزت دی ہے ۔۔۔۔مجھے فخر ہوتا ہے تم پر “۔۔۔۔پاپا نے میرا کندھا تھپتھپایا میرا ماتھا چوما ۔۔۔۔انکی آنکھوں میں میرے لئے جو محبت تھی ۔۔۔۔میرا حوصلہ بڑھانے کے لئے کافی تھی

“پاپا ماہم اس گھر کی عزت ہے ۔۔۔۔۔اور یہ میرا فرض تھا کہ اسکی عزت پر آنچ بھی نا آنے دوں میں نے وہی کیا جو مجھے ایسے حالات میں کرنا چائیے تھا ۔۔۔۔ میں نے کسی پر کوئی احسان نہیں کیا نا آپ پر نا ماہی پر ۔۔۔۔۔”

مما میرا ہاتھ تھامے چومنے لگیں ۔۔۔۔۔

“بس اب تمہیں ہی ماہم کو سنبھالنا ہے عفان ۔۔۔۔۔”

“جی مما ۔۔۔۔”۔

*******۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رانی نے زبردستی ماہم کو تھوڑا سا سوپ پلایا تھا تھا ۔۔۔وہ کچھ نہیں کھا رہی تھیں۔۔۔۔جب صفیہ بیگم اور رضا صاحب ماہم کے کمرے میں داخل ہوئے ۔۔۔وہ بیڈ پر گھٹنوں میں منہ چھپائے بیٹھی رو رہی تھی ۔۔۔۔۔صفیہ بیگم تڑپ کر ماہم کے پاس بیٹھ گئی۔ اسے سینے سے لگائے روتے ہوئے تسلی دینے لگیں ۔۔۔۔رضا صاحب ہاتھ باندھے کچھ دیر سنجیدگی سے انہیں دیکھتے رہے پھر ایک کرسی کھنچ کر ماہم کے بیڈ کے پاس رکھ کر بیٹھ گئے ۔۔۔۔ماہم کو انکی موجودگی کی وجہ سے اپنے آنسوں پر ضبط کرنا پڑا۔۔۔۔۔ دونوں کے کچھ آنسوں تھمے تو رضا صاحب نے بڑی محبت اور شفقت سے ماہم کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا ۔۔۔۔۔

“ماہم بٹیا ۔۔۔۔۔جتنا رونا تھا ۔۔۔وہ تم رو چکی ۔۔۔مجھے تمہارری آنکھوں میں اب آنسوں نہیں چاہیے ۔۔۔۔۔۔میری پیاری سی بٹیا ۔۔۔۔مانے گی نا اپنے رضا انکل کی بات ۔۔۔۔”

ماہم نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔۔رضاصاحب نے اپنے ہاتھ سے اسکے۔ چہرے پر آنے والے آنسوں صاف کیے ۔۔۔۔۔

“بٹیا ۔۔۔۔میں جانتا ہوں تم جس کرب سے گزر رہی ہو ۔۔۔تمہیں اس تکلیف میں دیکھ کر ۔۔۔مجھے یہ کہنا تو نہیں چاہیے مگر میں بھی بہت مجبوری سے کہہ رہا ہوں ۔۔۔اس مان سے کہ تم مجھے اب بھی مایوس نہیں لوٹاوں گی “

۔”۔۔ماہم نے نظریں اٹھا کر رضاصاحب کو دیکھا ۔۔۔۔ اور بھی کچھ رہ گیا ہے جو مجھے اب دیکھنا ہے ۔۔۔۔ماہم نے دل میں سوچا۔۔۔ مگر لب سے کچھ نہیں بولی

“بٹیا رات کو ولیمے کی تقریب ہے ۔۔۔۔اور وہاں کی شمولیت ہماری مجبوری ہے ۔۔ “

“نہیں انکل میں نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔پلیز آپ منع کر دیں ۔۔۔کوئی بھی بہانہ بنا دیں “۔۔۔ماہم نے اپنا ہاتھ رضاصاحب کے ہاتھوں سے کھنچ لیا ۔۔۔۔اپنا مزید تماشہ وہ نہیں بنا سکتی تھی ۔۔۔

“بٹیا اگر بہانے چل سکتے تو کبھی تمہیں پریشان نہیں کرتا ۔۔۔۔بس آج ایک دفعہ یہ سب برداشت کر لو ۔۔۔۔میری خاطر ۔”۔۔۔رضاصاحب کی آنکھوں میں نمی اور گلوگیر لہجے سن کر ماہم خاموش ہو گئ ۔۔۔۔۔وہ بھی بے بس تھے ۔۔۔۔

“بٹیا “

“ٹھیک ہے انکل ۔۔۔۔۔۔”

ماہم نے با مشکل کہا ۔۔۔۔

صفیہ بیگم ماہم کا ماتھا چومنے لگیں۔۔۔۔۔

*******……..

ماہم خود تو پارلر نہیں گئ تھی ۔۔۔صفیہ بیگم کے بے حد اصرار پر وہ بیوٹیشن ماہم کو تیار کرنے خود گھر آ چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔آج ماہم بلکل خاموش تھی ۔۔۔۔بیوٹیشن نے بیس لگانے کے بعد ماہم سے خود بات شروع کی

“کیا بات ہے آج اتنی چپ کیوں ہو ۔۔۔۔بتاوں گی نہیں تمہارے کامران نے آج تمہیں کیسے تیار ہونے کی ڈیمانڈ کی ہے “۔۔۔۔ بالوں کی چٹیا بنا دوں یا کھلے رہنے دوں ۔۔۔۔وہ ہنستے ہوئے ماہم کو چھیڑنے لگی

“چپ چاپ جو چاہے وہی بنا دو میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے “۔۔۔۔ماہم نے ناگواری سے جواب دیا اسوقت اسے یہ باتیں زہر لگ رہیں تھیں۔۔مگر وہ لڑکی تو ہر بات سے انجان تھی ۔۔۔۔

“تمہارا چہرا آج۔۔۔ کل کی طرح فریش نہیں لگ رہا ۔۔۔انکھیں بھی بہت سوجی ہوئی ہیں لگتا ہے رخصتی پر بہت روئی ہو ۔”۔۔وہ ماہم کے آنکھوں کے گرد پڑے ہلکے بیس سے چھپاتے ہوئے پوچھنے لگی مگر ماہم چپ ہی رہی کیا بتاتی اسے کہ کیسی رات گزری ہے اسکی ۔۔۔۔

“ارے ہاں یاد آیا تم نے بتایا تھا کہ تم خالہ کے گھر ہی رہتی ہو اور شادی بھی خالہ زاد سے ہوئی ہے ۔رونے کی کوئی وجہ تو تھی نہیں ۔۔پھر آنکھیں کیوں سوجی ہوئی ہیں ۔۔۔”

“میں نے کہا نا میرے سر میں درد ہے ۔۔۔اگر تمہیں بک بک کرنی ہے تو رہنے دو یہ سب ۔۔۔۔ میں یونہی ٹھیک ہوں” ۔۔۔ماہم کے سخت لہجے پر وہ خاموش ہو کر سے تیار کرنے لگی ۔۔۔۔ماہم نے ایک بار خود سامنے آئنے میں نظر اٹھا کر نہیں دیکھا ۔۔۔۔۔ماہم کا ڈوپٹہ سیٹ کرنے کے بعد بیٹشن چلی گئ ۔۔۔۔ماہم نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔۔خود میں اتنا حوصلہ پیدا کرنے لگی ۔۔۔۔۔ہال میں سے سب کو فیس کرنا تھا ۔۔۔۔۔ لوگوں کی ترس کھاتی نظروں کا مرکز بننا تھا۔۔۔۔۔ہمدردانہ جمعلوں میں چھپا طنز سننا تھا ۔۔۔ہال میں موجود مجمع مجھے دیکھ کر یہی کہے گا کہ “دیکھوں یہ وہ لڑکی ہے جس کا ہونے والا شوہر عین وقت پر غائب ہو گیا ۔اور اپنی عزت بچانے کے لئے زبردستی کسی کے ساتھ باندھ دی گئ ۔۔۔۔۔۔ کتنا مشکل ہوتا ہے خود کو ایسے لوگوں کے سامنے پیش کرنا جہاں ہونے والے ہر واقعے کی خبر آپکو پہلے ہی ذلت کا احساس دلا رہی ہو۔۔۔۔۔۔ ماہم کے کمرے کا دروازہ کھٹکا ماہم نے دروازہ کھولا اور ٹشو سے اپنے آنسوں صاف کرنے لگی ۔۔۔۔سامنے عفان کھڑا تھا ۔۔۔۔عفان نے بھی اسے دیکھ کر نظریں جھک لیں ۔۔۔ماہم نے بھی اس سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ کیسی لگ رہی ہے

وہ ایک دوسرے کے لئے اجنبی تو نہیں تھے مگر زبردستی جس رشتے میں بندھ گئے تھے اس کی وجہ سے ایک دوسرے سے کترا ضرور رہے تھے ۔۔۔۔ کم از کم ماہم اس،وقت یہی سوچ رہی تھی ۔۔۔۔عفان کے جذبات سے وہ انجان تھی

******………..

رات تک مجھے یہ خبر مما سے مل چکی تھی کہ ماہم ولیمے پر جانے کے لئے رضامند ہے ۔۔۔۔ماہم آج پارلر نہیں گئ تھی بلکہ وہ پارلر والی خود آ کر اسے تیار کر کے جا چکی تھی ۔۔۔۔ماہم کو میرے ساتھ ہی ہال میں جانا تھا ۔۔۔۔۔۔میں نے وہی بلیک کلر ٹو پیس سوٹ پہنا جو کامران کے ولیمے کے لئے سلوایا تھا ۔۔۔۔مجھے کوئی خاص تیاری کیا کرنی بس تیار ہو کر ماہم کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔۔۔۔دروازہ ماہم نے ہی کھول تھا بس ایک نظر ہی میں نے ماہم کی جانب دیکھا ۔۔۔۔وہ اپنے آنسوں ٹشو سے صاف کر رہی تھی ۔۔۔اتنی سج دھج کے باوجود اسکا چہرا بے رونق اور بجھا بجھا سا تھا۔۔۔۔میں اسکے کمرے میں داخل نہیں ہوا بس سے اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہنے لگا

“عفان مجھے کچھ کہنا ہے تم سے ۔”۔۔۔وہ بے تاثر سی کھڑی بولی

“ابھی وقت نہیں ہے ۔۔۔تمہیں جو کچھ کہنا ہے وہ تم واپس آ کر بھی کہہ سکتی ہو اس وقت ہم لیٹ ہو رہے ہیں ۔۔۔۔اب چلو ۔۔۔”۔یہ کہہ کر میں آگے بڑھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاپا نے مجھے خاص تاکید کی تھی کہ سب کچھ مجھے ہی فیس کرنا ہے تا کہ ماہم پر کوئی انگلی نا اٹھا سکے

ہال کے اندر جاتے ہوئے میں نے ماہم کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔۔وہ گھبرا سی گئ تھی ۔۔۔۔

“ع۔۔۔۔فان “۔۔۔۔۔وہ کپکپاتی آواز سے گویا ہوئی

“پلیز ماہی اسے میری مجبوری سمجھ لو اس وقت سب کی نظریں ہم پر ہیں” ۔۔۔۔۔میں نے دھیرے سے اسے وضاحت دی پھر وہ خاموشی سے میرے ساتھ چلتی ہوئی اسٹیج پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔میں نے بیٹھتے ہی ماہم کا ہاتھ چھوڑ دیا جو اس وقت برف کی مانند سرد تھے ۔۔۔۔اس وقت ہم دونوں کے چہرے پر بس افسردگی کے علاؤہ کوئی دوسرا تاثر نہیں تھا ۔۔۔۔سب کے سامنے اپنا آپ تماشائی سا لگنے لگا تھا۔۔۔۔۔نا جانے ممانی کہاں سے نکل کر آ کر ماہم کے برابر میں جم کر بیٹھ گئیں ۔۔۔۔اسے غور سے دیکھنے لگیں

“ہائے میری بچی رو رو کے کیسے آنکھیں سوج گئیں ہیں ہائے کامران تجھے اللہ ہی سمجھے کیا حال کر دیا میری نازک سی بچی کا ۔۔۔۔۔ارے مجھے تو لگ تھا آج کا فنگشن تو آپاں کریں گی ہی نہیں ۔۔۔۔۔مگر رضا بھائی نے خاص تاکید کر کے بلایا کہ کامران کی غلطی پر ہم کیوں اپنی خوشیاں چھوڑیں ۔۔۔ورنہ سچ میں ماہم میرا تو کل سے کلیجہ پھٹا جا رہا تھا ۔۔۔۔جب جب تمہارا خیال آتا میرے تو آنسوں خشک نہیں ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔آج بھی کس دل سے یہاں آئی ہوں میں ہی جانتی ہوں” ۔۔۔۔۔ممانی کی زبان پر شاید بریک کا کوئی بٹن ہی نہیں تھا ایک۔بار جو شروع ہوتیں تو پھر چپ ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں انکے چہرے سے کہیں سے یہ نہیں لگ رہا تھا کہ انہیں ماہم کا غم ہے ۔۔۔۔ماہم چپ چاپ ممانی کی باتیں سن رہی تھی ۔۔۔۔

“ممانی آپ جائیں … مما کے ساتھ جا کر بیٹھیں ۔۔”۔میں نے بگڑتے ہوئے کہا

“۔آئے ہائے یہ کیا بات کی تم نے ارے میں تو اپنی بچی کی خاطر آئی ہوں ۔۔۔۔ماہم بیٹا اگر دل میں کوئی بات ہے تو مجھ سے کہو ۔۔۔مجھے اپنی ماں سمجھو بیٹا ۔۔تمہارا تو صدمہ ہی بہت بڑا ہے” ۔۔۔۔ممانی ہمدردی کی آڑ میں جس طرح سے ماہم کے زخم کرید رہیں تھیں وہ شاید دلبرداشتہ ہو گئ تھی

“ممانی میرے سر میں درد ہے ۔۔۔آپ برا مت منائیے گا میں کچھ دیر اکیلا بیٹھنا چاہتی ہوں” ۔۔۔۔بلا آخر ماہم نے لب کشائی کی

“ہائے میری بچی رو رو کے سر ہی درد کرے گا ۔۔۔۔عفان بھئ کیسے شوہر ہو تم ۔۔۔۔تمہیں تسلی دینی چاہیے تھی ماہم کو ۔۔۔۔اچھا چھوڑو ان باتوں کو یہ بتاؤں عفان نے تمہیں منہ دیکھائی کیا دی “۔۔۔۔۔ممانی کی بے محل بات پر میرا خون کھولنے لگا ۔۔۔۔ماہم نظریں نیچے کیے بیٹھ گئ ۔۔۔۔ اسکے چہرے کی تمتماہٹ سے اس کے غصے اور ضبط کا اندازہ ہو رہا تھا مجھے ۔۔۔مگر میری شاید برداشت جواب دے گئ تھی

“ممانی ماہی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اگر آپ کی باتوں کی وجہ سے ماہم کو کچھ بھی ہوا تو میں سارے لحاظ بھول جاؤں گا بہتر ہو گا کہ آپ یہاں سے چلی جائیں” ۔۔۔۔میرے کرخت لہجے پر ممانی کھسیا کر اٹھ کر چلی گئیں ۔۔۔۔

“تم پریشان مت ہو انہیں تو عادت ہے بکواس کرنے کی” ۔۔۔۔میں نے ماہم کو ریلیکس کرنا چاہا ۔۔۔۔

قاسم آج اکیلا ہی آیا ۔۔۔۔۔کچھ دیر میرے پاس بیٹھ کر کامران کے بارے میں ہی پوچھتا رہا پھر ایک مخملی چکور سا ڈبہ ماہم کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا

“بھابی یہ آپکے لئے تحفہ “۔۔۔۔۔ماہم کے چہرے پر ناگواری کی لکیریں اور گہری ہونے لگیں ۔۔۔۔مگر اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر وہ مخملی ڈبہ پکڑ لیا ۔۔۔

“اس میں کیا ہے قاسم ۔۔۔۔۔ “

“بس ایک چھوٹا سا ڈائمنڈ سیٹ ہے ۔۔۔۔۔”

“لیکن تم نے گولڈ کی رنگ کی تھی ۔۔۔۔میرے ساتھ ہی تو گئے تم پھر یہ ۔۔۔۔”

“تب بات اور تھی عفان ۔۔۔۔اب یہ تمہاری وائف ہیں اور تم میرے بہترین دوست ہو تمہاری وائف کا گفٹ اس سے کم نہیں ہو سکتا تھا ۔۔۔۔ویسے یہ فاریہ کی پسند کا ہے ۔۔۔۔بھابی کو اچھا لگے گا” ۔۔۔۔۔قاسم کچھ دیر بعد ہی اٹھ کر چلا گیا ۔۔۔۔ماہم اپنا رخ موڑے ہی بیٹھی رہی ۔لوگوں میں کیا کچھڑی پک رہی تھی کیا نہیں مگر بظاہر سب نارمل ہی تھا ۔۔۔۔فنگشن اپنے اختتام پزیر بھی ہو گیا ماہم نے ایک گھونٹ پانی بھی نہیں پیا تھا کھانا تو بہت دور کی بات تھی رات کو واپسی پر وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔۔اس نے دوپہر کو بھی ٹھیک سے کچھ نہیں کھایا تھا اس لیے کھانا ٹرے میں رکھے جب میں نے اسکے کمرے کی دستک دی مگر نا دروازہ کھلا نا ہی اندر آنے کی اجازت ملی میں نے دو تین بار دستک دینے کے بعد خود ہی کمرے کے نیب گھمایا تو دروازہ کھل گیا ماہم کپڑے تبدیل کیے بیڈ پر ہی بیٹھی تھی ۔۔۔۔بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ ۔۔

۔۔میں نے کھانے کی ٹرے بیڈ پر اسکے سامنے رکھ دی

“جلدی سے کھانا کھا لو پھر میڈسن بھی دینی ہے تمہیں ۔”۔۔۔۔میرے متوازن لہجے پر بھی وہ بھپر سی گئ جیسے پہلے ہی موقع کی تلاش میں ہو

“چھوٹی بچی نہیں ہوں میں جو تم مجھے یوں ٹریٹ کرو گئے میں کھا لوں گئ جاؤ تم یہاں سے اور کسی کام کی ضرورت ہو تو رانی کو بھجوا دیا کرو تمہیں میرے کمرے میں آنے کی ضرورت نہیں ہے” ۔۔۔۔وہ بے مروتی سے تن بولی میرا ارادہ وہاں رکنے کا تھا بھی نہیں میں ویسے بھی بہت تھک چکا تھا آرام کرنا چاہتا تھا مگر اپنی اتنی بے وقتی میں کیوں برداشت کرتا ۔۔۔۔میرا قصور کہاں تھا ۔۔۔۔کیا میں ایسے رویے کا حق دار تھا جو ماہم مجھ سے برت رہی تھی ۔۔۔اور کامران جو بیچ رہ میں اسے لوگوں کی ٹھوکروں اور طعنوں کے لئے چھوڑ گیا وہ اب بھی اہم تھا ۔۔۔۔ماہم بی بی اب تم صرف میری کزن اور محبت ہی نہیں بیوی بھی ہو ۔۔۔۔میں بھی دیکھتا ہوں تم کیسے مجھ پر رعب جما سکتی ہو میں جان بوجھ کر بیڈ پر اس کے سامنے بیٹھ گیا ماہم مجھے متحیر ہو کر گھورنے لگی

“تم جا سکتے ہو ۔۔۔۔”

” تم کھانا کھا لو میں چلا جاؤں گا ماہی ۔۔۔۔۔’

“ایک بار کی کہی بات سمجھ نہیں آتی ہے تمہیں ۔۔۔۔ماہم کہا کرو مجھے” ۔۔۔۔وہ تن کر بات کر رہی تھی

“نہیں ۔۔۔نہیں کہو ماہم …مجھے تمہارا نام بلکل بھی پسند نہیں ہے ۔۔۔۔میرے لئے تم ہمیشہ سے میری ماہی تھی اب بھی ماہی ہی ہو ۔۔۔۔۔اور میں بھی وہی عفان ہوں جس سے تم اپنی ہر بات بے دھڑک کہہ دیا کرتی تھی ۔۔۔۔۔ہو کیا گیا تمہیں ۔۔۔۔۔”میں نے بہت نرم لہجے سے اسے بات کی اسکے بیڈ پر دھرے ہاتھ پر اپنایت سے اپنا ہاتھ رکھنا چاہا مگر ماہم نے میری کوشش نا کام کرتے ہوئے پہلے ہی اپنا ہاتھ ہٹا لیا

“دیکھوں یہ مت سمجھنا کہ جو کچھ کل ہوا ہے تو تم مجھ سے بے تکلف ہونے کی کوشش کرو گئے ۔۔۔۔”۔ماہم کچھ کھسک کر پیچھے ہٹنے لگی اسکی بے مروتی اور بے زاری میں اب سمجھا تھا

۔۔۔۔وہ شاید گھبرا رہی تھی مجھ سے ۔۔۔۔۔خوفزدہ بھی تھی

“کل جو کچھ بھی ہوا ہے میرے لئے بھی اتنا ہی شاکڈ تھا جتنا تمہارے لئے ۔۔۔۔میں بھی اتنا ہی ڈسٹرب ہوں جتنی تم ہو ۔۔۔۔۔کامران بھائی پر مجھے بھی اتنا ہی غصہ ہے جتنا تمہیں ۔۔۔۔۔جیسے پاپا کی محبت کے ہاتھوں تم مجبور تھی ویسے میں بھی تھا ۔۔۔۔اسکے علاوہ کوئی راستہ نہیں چھوڑا تھا کامران نے ہمارے لئے ۔۔۔۔پھر تم مجھ سے کیوں لڑ رہی ہو میرا کیا قصور ہے ۔۔”۔۔۔۔میں بہت رسانیت اور نرمی سے اسے سمجھانے لگا تا کہ اسکے دل میں میرے لئے کچھ خدشات ہیں بھی تو دور ہو جائیں

“تو کس لڑو عفان ۔۔۔۔۔کس سے شکایت کرو ۔۔۔۔کس سے پوچھوں کہ وہ کہاں چلا گیا ۔۔۔۔کیوں چلا گیا مجھے یوں چھوڑ کر ۔۔۔۔۔۔میرا کیا قصور تھا میں کہاں غلط تھی ۔۔۔۔۔۔بتاوں مجھے کامران نے کیوں کیا میرے ساتھ ایسے ۔۔۔۔۔ماہم پھر سے رونے لگی بلکل ٹوٹ چکی تھی

“اچھا پلیز چپ ہو جاؤ تمہیں پتہ ہے کتنی تکلیف ہوتی ہے مجھے تمہیں یوں روتا دیکھ کر ۔۔۔۔۔”

“اسے میری پروا کیوں نہیں ہے ۔۔۔۔۔اسے میرے آنسوں نظر کیوں نہیں آتے” ۔۔۔۔وہ اپنے آنسوں پونچتے ہوئے بولی

“اچھا اب کھانا کھاؤ باقی باتیں ہم کھانے کے بعد بھی کر سکتے ہیں “۔۔۔۔میں نے نوالہ بنا کر اسکے منہ کے قریب کیا وہ پیچھے ہٹ گئ

“میں خود کھا لوں گئ عفان” ۔۔۔۔وہ منمنا کر بولی

“نہیں تم خود ٹھیک سے نہیں کھاؤں اس لئے چلو اب منہ کھولو اپنا ۔۔۔۔۔”

“عفان میں نے کہا نا “

“ماہی کچھ دیر کے لئے بھول جاؤں سب کچھ بس یہ یاد رکھو کہ میں وہی عفان ہوں تمہارا سب سے اچھا دوست جو تمہاری آئسکریم زبردستی تم سے چھین کر کھاتا تھا اور تمہیں بھی زبردستی کھلا دیا کرتا تھا “۔۔۔۔میں نے نوالہ اسکے منہ میں ڈالتے ہوئے کہا ۔۔وہ پھیکی سی مسکراہٹ ہی دے سکی اسکےبعد ماہم نے کوئی اعتراض نہیں کیا کچھ کہے بغیر کھانا کھا لیا۔۔۔۔۔میڈسن بھی کھا لیں ۔۔۔۔

“اچھا اب تم سو جاؤں اور کچھ بھی سوچنے کی ضرورت نہیں ہے “۔۔۔۔۔میں کھانے کی ٹرے اٹھائے کھڑا ہو گیا

“نہیں عفان تم بیٹھوں مجھے بات کرنی ہے تم سے “۔۔۔۔ماہم کچھ پریشان تھی میں دوبارہ بیٹھ گیا استفہامیہ نظروں سے سے دیکھنے لگا کچھ ثانیے وہ بول ہی نہیں پائی شاید بہت کنفوژ تھی تبھی اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی ۔۔۔۔

“عفان کامی واپس تو آ جائے گا نا۔”۔۔۔۔ماہم کے سوال پر میرا خون کھول کر رہ گیا ۔ ۔۔۔۔بس کامران ۔۔۔۔۔۔کامران کا ہی خیال ہے اسے میں تو جیسے آلو کا پٹھا ہوں جو کب سے دلجوئی کر رہا ہوں اسکی ۔۔۔۔میرا اندر تک سلگ کر رہ گیا تھا

“تمہیں اب بھی کامران کا انتظار ہے “۔۔۔۔۔میری آنکھوں میں بے یقینی سی تھی

“ہاں “۔۔۔۔وہ پورے تیقن سے بولی

“مجھے تم سے یہی کہنا تھا عفان ۔۔۔۔کل کیے جانے والے جذباتی فیصلے کو وقت کی نزاکت سمجھ کر بھول جاؤں ۔۔۔۔نا تم اس رشتے پر دل سے راضی تھے نا میں ۔۔۔۔۔پھر کیوں اس زبردستی کے بندھن کو نبھائیں ۔۔۔۔کامی جب آ جائیں گئے تو تم مجھے ڈرائیواز دیدینا”۔۔۔۔۔ماہم کے اس لفظ پر مجھے جھٹکا سا لگا تھا وہ بھی چار سو چالیس ووٹ کا ۔۔۔۔۔دل تو چاہا ایک زور دار تھپڑ اسکے منہ پر دے مارو مگر میں ضبط کر گیا ۔۔۔۔۔لیکن ماہم کی بات جاری ہی رہی

“عفان لوگ آہستہ آہستہ بھول جائیں گئے کہ کیا ہوا تھا کیا نہیں کون کب تک یاد رکھتا ہے ۔۔بعدمیں تم اس سے شادی کر لینا جہاں تم چاہتے ہو اور میں کامران کے علاؤہ کسی کی بیوی نہیں بنو گئ” ۔۔۔۔۔اس سے ذیادہ مجھ میں سننے کی تاب نہیں تھی میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا

“ماہی جو شخص اب تمہاری عزت کی پروا نہیں کر سکا تمہاری عزت کی دھجیاں بکھیر کر بنا کوئی وجہ بتائے تمہیں چھوڑ کر چلا گیا تمہیں اب بھی اس کا انتظار ہے” ۔۔۔۔میں نے تاسف سے اسے دیکھتے ہوئے کہا مجھے ماہم کی باتوں پر افسوس ہو رہا تھا انسان میں کچھ تو آنا ہونی چاہیے ۔۔۔۔اپنی سیلف رسپکٹ کا کچھ تو پاس ہونا چاہیے

“ہو سکتا ہے ۔۔۔۔اسکی کوئی مجبوری ہو۔۔۔ہو سکتا ہے خدا نا کرے کوئی حادثہ نا پیش آ گیا ہو “۔۔۔۔ماہم کے خدشات مجھے بے وقعت لگ رہے تھے ۔۔۔۔

“میری وجہ سے پریشان مت ہونا ماہی ۔۔۔جو تم چاہتی ہو وہی ہو گا ۔”۔۔۔میں یہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔مجھے اسقدر غصہ آرہا تھا کہ کل نکاح کرنے کے فیصلے پر میں پچھتانے لگا تھا ۔۔۔۔۔جس کی عزت رکھنے کے لئے میں نے نا اپنا مستقبل سوچا نا ہی اپنی خواہش کو اہمیت دی اسے میری فکر ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔بس کامران ہی اس کا سب کچھ ہے ۔۔۔۔میں نے ہاتھ میں پہنی گھڑی اتار کر سائیڈ ٹیبل پر پھنک دی غصے سے بیڈ پر لیٹ کر گیا

“یا اللہ یہ کس آزمائش میں ڈال دیا ہے مجھے تو نے ۔۔۔۔میں تو اپنی محبت سے دستبر دار ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔ماہم کی زندگی سے بھی دور جانا چاہتا تھا ۔۔۔۔اس لئے کہ میں اسے کامران کے ساتھ برداشت ہی نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔میں فرشتہ اور ولی تو ہر گز نہیں ہوں ایک عام ساانسان ہوں جس کے اندر سبھی اچھے برے جذبات موجود ہیں اور وقت کی مناسبت سے ہر جذبہ منہ زوری پکڑے ہر جائز ناجائز کرنے پر اکساتا بھی ہے ۔۔۔۔اسپر یہ ستم کہ اب وہ میری بیوی بھی بن چکی ہے ۔۔۔۔چاہے اس نے یہ رشتہ زبردستی مجبورا مجھ سے جوڑا ہے ۔۔۔۔وہ میرے لئے ایسے کوئی جذبات نہیں بھی رکھتی مگر ۔میں ۔۔۔۔۔میں تو دل و جان سے اسے چاہتا ہوں میرے مالک تو تو میرا واقف حال ہے ۔۔۔۔۔کیسے دیدوں اسے طلاق ۔۔۔۔۔اگر اس نکاح کا انجام طلاق ہی ہونا تھا تو یہ جڑا ہی کیوں کامران کیوں چلا گیا کیوں نہیں کی ماہم سے شادی ۔۔۔۔میں کیوں اس آزماہش کا حصہ بن گیا ہوں ۔۔۔۔میں کبھی ماہم اور کامران کے بیچ میں نہیں آنا چاہتا تھا پھر کیوں آ گیا ہوں ۔۔۔۔۔میں نے پڑھا اور سنا ہے کہ اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے ۔۔۔۔بھلا اس میں تیری کیا مصلحت میرے اللہ ۔۔۔۔ہر مشکل کے بعد تو آسانیاں پیدا کر دیتا ہے ۔۔۔۔مگر میں۔ تو تکلیف اٹھانے کے بعد بھی اذیت میں ہی پھنستا جارہا ہوں” ۔۔۔۔۔اپنے رب سے فریاد کرتے کرتے میں نا جانے کب نیند کی آغوش میں کھو گیا