Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 31
Rate this Novel
Tadbeer Episode 31
Tadbeer by Umme Hani
صبح میری آنکھ موبائل کے الام سے کھلی تھی۔۔۔۔میں نے بند آنکھوں سے موبائل سائیڈ ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہوئے ٹٹولا ۔۔۔ موبائل اٹھا کر میں نے نیم وا آنکھوں سے اس کا الارم بند کیا۔۔۔۔۔
کروٹ بدل کر آنکھیں کھولیں برابر میں ماہم سو رہی تھی۔۔۔۔۔۔رات بھر رونے کی وجہ اسکی آنکھوں کے پپوٹے سرخی مائل ہو رہے تھے ۔۔۔آنکھیں بھی کافی متورم تھیں ۔۔۔۔۔۔ناک بھی لال ہو رہی تھی ۔۔۔۔اسکے چہرے کو کافی دیر میں غور سے دیکھتا رہا۔۔۔۔نا جانے کب سوئی تھی ۔۔۔۔بے تحاشہ رونے کے باعث اب بھی وہ سوئے ہوئے وقفے وقفے سے سسک رہی تھی تکیہ بھی آنسوں سے بھیگا ہوا تھا ۔۔۔میرے دل سے ایک ٹیس سی اٹھی کچھ پل کے لئے ندامت اور شرمندگی نے مجھے آن گھیرا تھا رات کو غصے میں پاگل ہی ہو چکا تھا ۔۔۔میرے اسقدر سخت ردعمل کی امید ماہم کو مجھ سے تو ہر گز نہیں تھی ۔۔۔۔مگر کامران کی باتوں نے سچ مجھے پاگل کر دیا تھا ۔۔۔اور پھر جس قسم کے وہ آگے ارادے رکھتا تھا ماہم کو اس سے بچانے کے لئے ضروری تھا کہ میں اسے اپنا لیتا ۔۔۔۔۔۔اپنی شادی شدہ زندگی کا آغاز میں ویسے نہیں چاہتا تھا جیسے رات کو ہوا تھا مجھے ماہم کی رضامندی کا انتظار تھا جب میں بھی اسکے لئے اتنی ہی اہمیت رکھتا جتنا وہ میرے لئے رکھتی ہے ۔۔۔۔پھر اسکے وہ سارے خواب پورے کرتا جو اس نے اپنی شادی کے حوالے سے دیکھے تھے مگر کل کے واقع نےمجھے ہلا کے رکھ دیا تھا باقی کی رہی سہی کسر کامران کی باتوں نے پوری کر دی تھی اس لئے میں اب ماہم کے لئے کسی بھی قسم کا رسک نہیں لے سکتا تھا کہ کامران اسے دوبارہ سے چیٹ کرنے کی کوشش کر سکے کامران کی یہ بات تو درست ہی تھی جب ماہم شادی جیسے سانحہ کو بھلا کر کامران کی طرف بڑھ سکتی تھی تو اب بھی وہ اسے اپنی باتوں سے بہلا سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔اور میں اسے اب ایسا کوئی موقع دینا ہی نہیں چاہتا تھا ۔۔۔گو کہ میرے لئے بھی یہ کوئی آسان تو نہیں تھا ۔۔۔۔سو قسم کے وسوسے مجھے پریشان کیے ہوئے تھے کامران نے جس انداز سے مجھے شک میں مبتلہ کیا تھا ۔۔۔کسی بات کا جواب مجھے ماہم سے نہیں ملا تھا ۔۔۔۔۔۔مگر پھر بھی یہ سچ تھا کہ میں ماہم کو کبھی بھی بے آسرا نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔۔۔۔کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔۔میں نے اپنے ذہن کو جھٹکا لحاف پیچھے ہٹا کر بیڈ سے اٹھ کر آفس کے لئے تیار ہونے لگا ۔۔۔۔۔۔میں کافی لیٹ ہو چکا تھا پھر ناشتے کی طلب بھی محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔اس لئے سیڑیاں اترتے ہی لاونج سے سیدھا باہر نکلنے لگا مگر مما کی پکار پر رکنا پڑا ۔۔۔وہ صوفے پر بیٹھیں تھیں ۔۔۔۔فوراسے کھڑی ہو کر میرے پاس آ گئیں ۔۔۔
“کہاں جا رہے ہو۔۔۔۔ آج رک جاتے عفان ۔۔۔۔کل اتنے پریشان رہے ہو ۔۔۔۔۔کچھ دیر آرام کر لیتے بیٹا ” مما فکر مند نظر آ رہیں تھیں
” مما کچھ ضروری کام ہے آفس میں کوشش کروں گا جلدی آ جاؤں ۔۔۔۔رک نہیں ۔ سکتا “
“ناشتہ تو کرتے جاؤں بیٹا ۔۔۔میں بنا دیتی ہوں “
“نہیں مما پہلے ہی لیٹ ہو چکا ہوں ۔۔۔۔آفس میں کر لوں گا ۔۔۔۔”
“عفان …ماہم ۔۔۔ٹھیک ہے نا ۔۔۔؟”مما نے کچھ جھجک کر پوچھا
“جی ٹھیک ہے ۔۔۔۔آپ اسے ابھی جگائے گا مت ۔۔۔اسے آرام کرنے دیں ۔۔۔اور ہاں رانی سے کہہ دیجیے گا کہ ماہی کے ساتھ ملکر اس کا ضرورت کا سامان میرے کمرے میں رکھوادے ” ۔۔۔۔یہ کہہ کر میں پورج کی طرف چلا گیا ۔۔۔۔۔
آفس میں پہنچ کر بھی میری طبیعت میں بوجھل پن تھا کسی کام میں دل و دماغ نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔میں نے اپنی ریوالونگ چیر کے ساتھ ٹیک لگائی اور اپنی آنکھیں بند کر لیں پہلا خیال مجھے ماہم کا ہی آنے لگا ۔۔۔۔کچھ دن تو بہت ناراض رہے گی مجھ سے ۔۔۔۔ٹھیک سے بات بھی نہیں کرے گی ۔۔۔۔میری طرف دیکھے گی بھی نہیں ۔۔۔۔۔مگر کم از کم اب مجھ سے طلاق کا مطالبہ نہیں کرے گی ۔۔۔ کب تک ناراض رہے گی مجھ سے ۔۔۔وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہو ہی جائے گی ۔۔۔۔میں خود کو بہلانے میں مصروف تھا نا جانے قاسم کب میرے کیبن میں داخل ہوا کب میرے سامنے کرسی پر بیٹھا میں اپنی سوچوں میں اسقدر منہمک تھا کہ کسی بات کا ہوش نہیں تھا ۔۔۔قاسم نے ٹیبل پر کسی چیز سے آواز پیدا کی تو میں نے ایک آنکھ کھول کر دیکھا قاسم مجھے ہی غوراورسنجیدہ نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔میں فورا سے ٹھیک ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔قاسم بھی کافی سنجیدہ اور خاموش لگ رہا تھا ۔۔۔۔
میں سامنے رکھی فائنل کھول کر پڑھنے لگا ۔۔۔۔
“عفان چاہو تو گھر چلے جاؤں مجھے معلوم ہے تم کافی ڈسٹرب ہو ۔۔۔۔کوئی خاص کام ہوا بھی تو میں دیکھ لوں گا یار ۔۔۔”۔
“نہیں ۔۔۔۔سب ٹھیک ہے بس سر میں ذرا درد ہے چائے پیو گا تو ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔میں بات ٹال کر دوبارہ سے فائل کے صفحات کو بے مقصد پلٹ کر دیکھنے لگا ۔۔۔ میں قاسم سے بات کرنے سے کترا رہا تھا ۔۔۔اس لئے خود کو مصروف ظاہر کرنے لگا تا کہ قاسم اٹھ کر چلا جائے۔۔۔اصل میں میں قاسم سے شرمندہ ہورہا تھا اور اس بات سے گھبرا بھی رہا تھا کہ کہیں قاسم مجھ سے رات والے واقع کی تفصیل ہی نا پوچھ لے ۔۔۔کیا جواب دوں گا اسے ۔۔۔۔
“میں ذرا ہمدانی صاحب کو دیکھ لوں ڈراف اب تک تو کمپلیٹ ہو چکا ہو گا” ۔۔۔۔قاسم کی نظروں کو اپنی طرف مرکوز دیکھ کر میں نے خود ہی اٹھ کر واک آؤٹ ہو جانے کا ارادہ کرتے ہوئے ہمدانی صاحب کا بہانہ بنایا ۔اور کھڑا ہو گیا
“بیٹھوں عفان ۔”۔۔۔قاسم کی زریک نظریں مجھ ہی پر تھی شاید میری کیفیت کو جان چکا تھا مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اب وہ مجھے بخشنے کے موڈ میں نہیں ہے اس لئے باہر جانے کا ارادہ ترک کر کے دوبارہ بیٹھ گیا
“اب بتاؤں کیا پریشانی ہے تمہیں” ۔۔۔۔قاسم کا پر تشویش لہجہ مجھے کلف میں مبتلہ کر گیا تھا
“کچھ بھی تو نہیں قاسم۔”۔۔۔۔میں اس سے نظریں نہیں اٹھا پا رہا تھا۔۔۔۔۔
“اچھا تو کوئی ٹینشن نہیں ہے تمہیں ۔۔۔۔تم بس یونہی بے وجہ ہی پریشان نظر آ رہے ہو ۔۔۔ سچ سچ کہو کہ مجھ سے شیر نہیں کرنا چاہتے ۔۔۔۔ایک میں ہی بیوقوف ہوں جو تم سے اپنی ہر بات شیر کرتا ہوں ۔۔۔تم تو مجھے اس قابل ہی نہیں سمجھتے۔۔۔۔”۔اسکے شکوے سے گویا میں پھٹ پڑا تھا
“کیا بتاؤں تمہیں کیا سننا چاہتے ہو تم ۔۔۔۔یہی کہ کل جس حال میں میری بیوی گھر آئی تھی میں تمہارے سامنے شرمندگی کے مارے اپنی نظریں نہیں اٹھا پا رہا۔۔۔۔۔یا یہ سننا چاہتے ہو کہ میرے بھائی کے اندر رشتوں کا احترام ختم ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔کیا بتاؤں تمہیں” ۔۔۔میں اضطرابی کیفت میں مبتلہ تھا۔۔۔۔۔
“ہر فیملی میں کوئی نا کوئی ایشو ہوتے ہیں ۔۔۔۔اور رہ گیا تمہارا بھائی وہ شروع ہی مجھے زہر لگتا ہے ۔۔۔میں سچ نہیں جانتا عفان مگر ۔۔۔لیکن جتنا میں بھابی کو جان پایا ہوں وہ بہت انوسینٹ سی ہیں ضرور اس میں تمہارے بھائی ہی کوئی سازش ہو گئ ۔”۔۔۔قاسم کی شخصیت شناسی کافی حد تک درست ثابت ہوئی تھی
“ٹھیک کہہ رہے ہو تم اس کا کوئی قصور نہیں ہے وہ تو میرے جرم کی سزا بھکت رہی ہے ۔۔۔میں ہوں قصور وار۔۔”۔۔مجھے خود پر سے غصہ آنے لگا تھا
‘اب تم خود کو کس بات کا زمہ دار ہے ٹہرا رہے ہو۔۔۔’۔قاسم مجھ پر بگڑنے لگا ۔۔۔میں کامران سے ہونے والی ساری گفتگوں حرف با حرف قاسم کو بتا دی وہ بھی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا
“یار بچپن میں ہونے والی معمولی سی باتوں کا وہ تم سے اسطرح سے بدلہ لے گا ۔۔۔۔اور بھابی ۔۔۔۔وہ بلکل بے قصور ہیں” ۔۔۔۔قاسم کو کامران کی سوچ پر افسوس ہو رہا تھا
“ویسے جو ہوتا ہے اچھا ہی ہوتا ہے ۔۔۔شکر کرو کہ ماہم بھابی کی شادی تم سے ہوئی ہے ۔۔۔ورنہ وہ بدلے گی کی آڑ میں نا جانے کیا سلوک کرتا انکے ساتھ۔”۔۔۔۔میں نے اسکی بات کا کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔۔ہمدانی صاحب کے کی آمد پر میں نے موضوع ہی بدل دیا
*********……..*********………******……*****
ماہم کی جب آنکھ کھلی ۔۔۔۔اس نے کسلمندی سے کروٹ لے کر دوبارہ آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔جب اسے احساس ہوا کہ وہ اپنے کمرے میں نہیں ہیں وہ کسی کرنٹ کی مانند آٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔۔اس نے ایک نظر پورے کمرے پر ڈالی اسکے علاوہ کمرے میں کوئی نہیں تھا۔۔۔اپنے بھاری ہوتے سر کو دونوں ہاتھوں میں لئے گزری ہوئی رات کسی کہانی کی طرح اسکے دماغ میں گھومنے لگی ۔۔
پچھلی رات کا گزرا ہوا واقع یاد آتے ہی ماہم کو جھجھری سی آ گئ ۔۔۔۔۔آنسوں پھر سے بہنے لگے کامران کا یہ روپ اور بے حسی ہی اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی اس پر عفان کے رویے سے وہ دلبرداشتہ ہونے لگی تھی ۔۔۔۔عفان کو اتنے غصے میں اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔پہلی بار ماہم کو عفان کے غصے سے خوف محسوس ہوا تھا پہلی بار وہ چاہ کر بھی اسکے سامنے اپنی بے گناہی میں ایک لفظ نہیں بول پائی تھی رات عفان کی آنکھوں ۔میں وحشت ۔غصہ کرب جنون کیا کچھ نہیں تھا عفان کے کامران کے لئے کہے گئے جمعلے ماہم کو کسی پھانس کی طرح چبھے تھے ۔۔۔۔۔مگر وہ خاموش رہی نا عفان سے کچھ کہا نا کوئی احتجاج کیا ۔۔۔۔اگر کرتی بھی تو وہ کہاں سنتا اسکی ۔۔۔۔پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ عفان کو اسکے بہتے ہوئے آنسوں کی پروا نہیں تھی ۔۔۔۔جو کچھ کامران نے کیا تھا ماہم کے دل میں اسکے لئے صرف ایک ہی جذبہ بچا تھا اور وہ تھا نفرت کا وہ کبھی بھی اب کامران کے بارے میں اپنی رائے ہر گز نہیں بدل سکتی تھی وہ اسکی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی مگر عفان اس نے ایسا کیوں کیا۔۔ماہم کو لگا تھا عفان اسکی بات سنے گا اسے تسلی اور دلاسہ دے گا اسکی دلجوئی کرے گا مگر عفان کے رویے نے اسے متحیر اور پریشان کر کے رکھ دیا تھا ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ماہم نے اپنے ہاتھوں کی پشت سے آنسوں صاف کیے ۔۔۔بیڈ سے نیچے اتر کر ادھر ادھر اپنی شال ڈھونڈنے لگی ۔۔۔۔۔۔سامنے صوفے پر نظر پڑنے پر اسے اپنی شال نظر آ گئ ۔۔۔ماہم نے خود کو شال میں لپیٹا اور اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔شاور لینے کے بعد بھی اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی ۔۔۔۔۔گھڑی کی طرف نگاہ ڈالی تو دوپہر کے دو بج رہے تھے ۔۔۔۔۔رات بھر رونے کی وجہ سے سر بھاری ہو رہا تھا ۔۔۔بھوک بھی لگ رہی تھی ۔۔۔۔بازوں ہر لگی کھرونچیں اب تکلیف دے رہیں تھیں پاؤں میں چھوٹے چھوٹے کئ زخم آ چکے تھے ۔۔۔۔
“کتنا بے حس ہے عفان ۔۔۔۔میں کبھی بھی اس سے بات نہیں کروں گی ۔۔۔اسے میری ذرا پرو نہیں ہے ۔۔۔۔۔مگر جو کچھ میرے اور کامران کے درمیان ہوا اس کا علم عفان کو کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔یقینا کامران نے ہی بتایا ہو گا ۔۔۔۔اگر بتایا بھی تھا تب بھی ۔۔۔۔۔تب بھی عفان کو مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔بلکہ پیار اور نرمی سے پوچھنا چاہیے تھا “۔۔۔۔۔آنسوں پھر سے بہنے لگے تھے ۔۔۔۔۔
“بہت اچھا دوست تھا وہ میرا ۔۔۔میری باتوں کو غور سے سننے والا ۔۔۔۔مجھے پیار سے سمجھانے والا ۔۔۔۔میرے آنسوں پونچھنے والا ۔۔۔۔۔اس سے بات کرنے سے پہلے کب میں نے سوچا تھا کہ اس سے کیا کہہ رہی ہوں کیوں کہہ رہی ہوں کب سوچا تھا کہ مجھے عفان کے سامنے بھی احتیاط برتنی ہے ۔۔۔۔مگر رات کو اس نے بھی اچھی طرح سمجھا دیا کہ وہ اب بس میرا شوہر ہے دوست نہیں ۔۔۔۔۔یہ سارامسلہ ہی اس نکاح کی وجہ سے ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔ایک ہی تو دوست تھا میرا جس میں بے دھڑک سب کہہ دیتی تھی ۔۔۔وہ بھی کہیں کھو گیا ۔۔۔اور اسکے بدلے ملا کیا ایک اکڑو اور سخت گیر شوہر ۔۔۔۔اب تو اسے بس ایک یہی رشتہ یاد رہے گا کہ وہ میرا شوہر ہے ۔۔۔بس اسی رشتے کو مجھ پر جتایا کرے گا ۔۔۔۔آئی ہیٹ یو عفان ۔۔۔۔آئی ریلی ہیٹ یو “۔۔۔۔۔وہ گھٹنوں میں منہ چھپائے رونے لگی ۔۔۔۔۔دروازے کی دستک کے ساتھ ہی دروازہ کھل گیا ۔۔۔۔رانی کھانے کی ٹرے کے ساتھ اندر داخل ہوئی رانی کو دیکھ کر ماہم نے اپنے آنسوں صاف کیے اور غصے سے بولی
“کل کس سے پوچھ کر گئ تھی تم” ۔۔۔۔ماہم کے تیکھے تیوروں پر رانی گھبرا سی گئ۔۔۔ٹرے بیڈ پر رکھ کر وہ وہیں بیٹھ گئ
“وہ نا بی بی جی ۔۔۔۔وہ جی ۔۔۔۔کامرن صاحب جی نے۔۔۔۔”
“نام مت لو اس کا ۔۔۔۔تمہیں میرا انتظار کرنا چائیے تھا ۔۔۔اب جاؤں یہاں سے اور یہ بھی لے جاؤں “۔۔۔۔ماہم نے کھانے کی ٹرے کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔
“ماہم بی بی جی بڑی بیگم صاحبہ کہہ رہی ہیں کہ آپ نے صبح ناشتہ بھی نہیں کیا ۔۔۔۔کھانا کھا لیں ۔۔۔۔اور اسکے بعد ۔۔۔جی مجھے بتا دیں آپ کا کونسا سامان جی عفان صاب جی کے کمرے میں رکھنا ہے” ۔۔۔رانی کی بات پر وہ تلملا کر رہ گئ یہ حکم نامہ بھی یقینا عفان نے ہی دیا ہو گا ماہم نے تپے ہوئے لہجے میں رانی سے کہا
“نہیں کھانا مجھے کچھ بھی ۔۔۔۔اور نا ہی کچھ یہاں سے وہاں رکھنا ہے ۔۔۔سمجھتا کیا وہ خود کو ۔۔۔میں ڈرتی ہوں اس سے “۔۔۔۔ماہم کو عفان پر رہ رہ کر غصہ ا رہا تھا ۔۔۔۔
“جی بی بی جی “۔۔۔۔رانی سر ہلاتی ہوئی ٹرے اٹھائے جانے لگی ابھی وہ دروازے کی چوکھٹ پر ہی پہنچی تھی کہ ماہم نے دوبارہ سے رانی کو پکارا
“سنو رانی ۔۔”۔۔اس بار آواز میں دھیمہ پن تھا
“ایساکرو یہ ٹرے کچن میں۔ رکھ کر میرے وارڈرب سے میرے سارے کپڑے نکال کر عفان کے بیڈ پر رکھ دینا میں خود سے رکھ لوں گئ ۔”۔۔۔رانی پھر سے سرہلا کر چلی گئ ۔۔۔۔خود کو لاکھ مضبوط ثابت کرنے کے باوجود اسے عفان کے غصے کا خیال آتے ہی دل دھک سے رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔اس لئے آج ایسا کچھ نہیں چاہتی تھی جس پر عفان کا پچھلی رات کا رویہ دیکھنا پڑے ۔۔۔۔۔حقیقتا ماہم کو عفان کے غصے کی پروا تھی ۔۔۔کچھ ہی دیر میں رانی کے ساتھ مل کر ماہم نے اپنے کپڑے اور ضرورت کی ہر چیز عفان کے کمرے میں رکھ دی اسی کام میں اسے پانچ بج چکے تھے ابھی تھک کر بیٹھی ہی تھی کہ صفیہ بیگم اندر داخل ہوئیں دودھ کی گلاس ہاتھ میں لئے ۔۔۔۔انہیں گھنٹوں میں درد کی تکلیف تھی اس لئے اوپر کے پورشن میں کم ہی آتی جاتی تھیں مگر ماہم کی وجہ سے آنا پڑا صفیہ بیگم کو دیکھ کر ماہم کے رکے تھمے آنسوں پھر سے بہنے لگے ۔۔۔وہ انکے سینے سے لگ کر رونے لگی
“خالہ آپ کیوں گئ تھیں رات کو نیچے ۔۔۔۔آپ کو میرے پاس رکنا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔”
“اچھا میری جان ۔۔۔اب چپ تو کرو ۔۔۔۔تمہیں تو معلوم ہے مجھ سے بار بار سیڑیاں کہاں چڑھی جاتی ہیں ۔۔۔بس نیچے جا کر اوپر آنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی ۔۔۔تم بیٹھو ادھر بیڈ پر ۔۔۔پتہ ہے اب بھی کتنی مشکل سے چڑھ کر آئی ہوں صرف تمہاری خاطر ۔۔۔تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا “۔۔۔۔صفیہ بیگم ماہم کو ساتھ لئے بیڈ پر بیٹھ گئیں ۔۔۔۔دودھ کا گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا ماہم وہیں انکے پاس بیٹھ گئ ۔۔۔۔ماہم کے آنسوں صفیہ بیگم نے اپنے ہاتھوں سے صاف کیے ۔۔۔۔۔
“پھر عفان نے کہا تھا مجھ سے کہ وہ تمہارا خیال رکھے گا ۔۔۔۔وہ تھا نا تمہارے پاس “۔۔۔۔صفیہ بیگم کی بات پر ماہم نے حیرت اور خفگی سے صفیہ بیگم کی طرف دیکھا
“میرا خیال ۔۔۔۔۔عفان نے ۔۔۔۔ایک نمبر کا جھوٹا ہے وہ ۔خالہ آپ کو نہیں پتہ کتنا برا ہے وہ” ۔۔۔۔۔ماہم کو پھر سے غصہ آنے لگا ۔۔۔
“اچھا ابھی عفان کو چھوڑو اس سے میں خود پوچھ لوں گی پہلے یہ بتاؤں میری جان ۔۔۔جب میں رانی کو تمہارے پاس چھوڑ کر گئ تھی۔۔۔۔تم کامران کے ساتھ بنا مجھے بتائے کیوں گئ تھی ۔۔۔۔پھر بارش میں گاڑی کی خرابی پر اگر کامران کسی مکینک کو لینے گیا تھا تو کیا ضرورت تھی بنا بتائے قاسم کی گاڑی میں بیٹھنے کی ۔۔۔۔خالہ کی زبان سے ایک جھوٹی کہانی سن کر ماہم سمجھ گئ یہ کہانی بھی کامران نے ہی سنائی ہو گئ ۔۔۔۔ایک پل کو اسے کامران کی بات ذہن میں گھومنے لگی ۔۔۔کہ اگر اس نے کچھ بھی کسی کو بتایا تو وہ اس کے ساتھ کیسے پیش آ سکتا ہے ۔۔۔مگر وہ چپ نہیں ہوئی روتے ہوئے کامران کی ساری بات صفیہ بیگم کے گوش گزار کر دی ۔۔۔۔۔۔۔۔
“تو یہ سب کیا تھا اس نے ۔۔۔۔صفیہ بیگم حیران بھی تھی اور ماہم سے شرمندہ بھی ۔۔۔۔”
“جی خالہ ۔۔۔۔اگر وہاں قاسم بھائی اور فاریہ نا پہنچتے تو میں تو شاید کبھی واپس ہی نا آپاتی۔۔۔۔”۔ماہم کی بات پر صفیہ بیگم کا دل تڑپ سا گیا فورا سے اسے اپنے سینے سے لگا لیا
“اللہ نا کرے ۔۔۔۔میری جان ۔۔۔اللہ تمہاری ہمیشہ حفاظت کرے ۔۔۔۔”
******……..
میں جب گھر میں داخل ہوا لاونج بلکل خالی تھا ۔۔۔۔ورنہ مما اور ماہم اسوقت ٹی وی دیکھنےمیں مصروف ہوتی تھیں ۔۔۔۔۔رانی کچن میں برتن دھو رہی تھی میں مما کو ڈھونڈتا ہوا کچن میں داخل ہوا
“رانی مما کہاں ہیں ۔”۔۔۔۔رانی نے پیچھے پلٹ کر مجھے دیکھا
“بھائی جی وہ اوپر ماہم بی بی جی کے پاس آپکے کمرے میں ہیں ۔”۔۔۔رانی یہ کہہ کر دوبارہ سے برتن دھونے لگی میں زینہ چڑھ کے اپنے کمرے کے پاس پہچا تو ماہم کی آواز پر وہی ٹھٹھک گیا
“خالہ بہت برا ہے عفان مجھے نہیں رہنا اس کے کمرے میں” ۔۔۔۔وہ روتے ہوئے مما سے کہہ رہی تھی
“کیا کہا اس نے تمہیں بتاؤں مجھے ۔۔۔۔دیکھوں کیسے کان کھنچتی ہوں میں اسکے” ۔۔۔مما بہت شفقت سے بول رہی۔ تھیں ۔۔۔۔یقینا وہ مما کی گود میں سر رکھے میری شکایتیں لگا رہی ہو گئ یہ باتیں بنا دیکھے بھی وثوق سے کہہ سکتا تھا
“اس نے ۔۔۔۔۔اس نے ۔۔”۔۔ماہم اس سے آگے کچھ بول ہی نہیں پائی
“بہت ڈانٹا ہے تمہیں” ۔۔۔مما نے اسکی مشکل آسان کر دی تھی
“جی خالہ ۔۔۔۔بہت ڈانٹا ہے مجھے ۔۔۔۔آپ کو نہیں پتہ رات کو کتنے غصے میں تھا وہ۔۔۔”
“ماہم تمہیں بھی ساری بات بتانی چاہیے تھی عفان کو ۔۔۔۔۔رات گئے تیز بارش میں نا جانے کہاں کہاں ڈھونڈتا رہا ہے تمہیں ۔۔۔۔”
“کیسے بتاتی خالہ وہ کچھ سننا ہی نہیں چاہتا تھا ۔۔۔نا جانے کون سا بھوت سوار تھا اس پر ۔۔۔مجھے ڈر لگ رہا اس کے غصے سے ۔۔۔۔میں کچھ بول ہی پائی ۔۔۔۔”
“اچھا چلو صبح سے کچھ نہیں کھایا تم نے ۔۔۔یہ دودھ پیو اب “۔۔۔۔مما کی اپنایت بھرے لہجے میں کہہ رہیں تھیں
“نہیں پیو گئ ۔۔۔۔پہلے آپ پرومس کریں خالہ آپ بہت زورسےاسکے کان کھنچیں گی” ۔۔۔۔ماہم کی شرط سن کر میں مسکرائے بنا نا رہ سکا ۔۔۔۔
“اچھا بابا پرومس میں بہت زور سے عفان کے کان کھنچوں گی اور اسے ڈانٹوں گی بھی ۔۔۔وہ ہوتا ہے میری ماہم پر غصہ کرنے والا “۔۔۔۔مما کی بات پر اسے تسلی ہوئی ہو گی اور اب اس نے دودھ کا گلاس انکے ہاتھ سے لیکر پیا ہو گا ۔۔۔۔جب مجھے اس بات کا یقین ہو گیا کہ ماہم دودھ پی چکی ہو گئ تب ہی میں نے چہرے پر مصنوعی غصہ سجایا اور دروازہ کھولا کچھ دن میرا ایسا رویہ ہی ماہم کے لئے بہتر تھا ۔۔۔۔تا کہ آئندہ وہ کامران کے معاملے میں محتاط رہے ۔۔۔۔میرے قیاس ماہم کے معاملے میں ٹھیک ہی تھے ماہم نے خالی گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا وہ میرے سامنے ہی بیٹھی تھی اور مما کی میری طرف پشت تھی مجھ سے نظریں ملتے ہی ماہم بوکھلا اور گھبرا سی گئ ۔۔۔۔فورا مما کے قریب ہو کر بیٹھ گئ ۔۔میں نے بھی اسے نظریں ہٹا کر دروازہ بند کیا اور مما کو سلام کر کے بیڈ کی دوسری جانب اپنا لیپ ٹاپ والا بیگ رکھا ڈرسنگ کے پاس جا کر اپنی ٹائی کی نٹ ڈھیلی کرنے لگا ۔۔۔۔۔مما نے سلام کا روکھا سا جواب دیا
“ادھر میرے پاس آؤں ذرا” ۔۔۔مما کی با رعب آواز سے میں سمجھ گیا کہ اب ماہم کو منانے کے لئے مجھے اپنے کان کی قربانی دینی پڑے گئ مگر ابھی نہیں ابھی تو ماہم کا میرے رعب میں رہنا اشد ضروری تھا ۔۔۔۔میں نے ٹائی اتار کر بیڈ پر رکھی اور پوری سنجیدگی کے ساتھ مما کے نزدیک جا کر رک گیا ۔۔۔
۔”بیٹھوں ادھر “۔۔۔۔مما نے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا میں خاموشی سے بیٹھ گیا ۔۔۔۔
ماہم کچھ اور مما کے قریب ہو گئ
“کیوں ڈانٹ تم نے میری بیٹی کو ۔”۔۔۔مما نے میرا کان زور سے پکڑ کر کہا
“مما پلیز کان چھوڑیں میرا “۔میرے ذرا غصے اور بلند لہجے پر مما نے میرا کان چھوڑ دیا ماہم نے ترچھی نظر مجھ پر ڈالی میں اسی کو دیکھ رہا تھا مجھے اپنی طرف متوجہ پا کر اس نے فورا سے اپنی نظریں جھکا لیں ۔۔۔اور مما کے ساتھ لگ گئ
“تم نے ڈانٹا ہے ماہم کو” ۔۔۔مما کے دوبارہ کے استفسار پر میں نے انکار نہیں کیا
“ہاں ڈانٹا ہے اسے ۔۔۔۔اگر آئندہ بھی یہ بنا میری اجازت کے کسی کے ساتھ بھی منہ اٹھا کر گئ تو ایسے ہی ڈانٹ کھائے گی مجھ سے…. سمجھا دیجیے گا اسے “۔۔۔۔میں غصے سے کہتا ہوا اٹھ کر اپنے واڈروب سے کپڑے نکال کر ڈرسنگ روم میں چلا گیا دروازہ بھی زور سے بند کیا ۔۔۔تا کہ ماہم میری بات کی خلاف ورزی نا کر سکے ۔۔۔۔۔
“دیکھا خالہ آپ نے “۔۔۔۔وہ منمناتے ہوئے بولی
“ہاں یہ تو واقع بہت غصے میں ہے ۔۔۔مگر تم فکر مت کرو جتنی جلدی اسےغصہ آتا ہے اتنی جلدی ختم بھی ہو جاتا ہے ۔۔۔۔ کچھ دن بعد میں خود پوچھوں گی اسے ۔۔۔ذیادہ دن غصے میں رہنے کا عادی نہیں ہے وہ ۔۔۔بس کچھ دن تم بھی اسکی بات مان کر چلنا ۔۔۔۔لیکن میں کان ضرور کھنچو گی اس کے “۔۔۔۔مما ماہم۔ کو تسلیاں دینے لگیں میں کپڑے چینج کر باہر آیا سیدھا کمرے کے دروازے پر جا کر رک گیا
“مما مجھے بھوک لگی ہے کھانا دیں مجھے” ۔۔۔۔یہ کہہ کر میں رکا نہیں ۔۔۔۔صبح بھی میں نے آفس میں بس چائے ہی پی تھی دوپہر میں بھی کچھ نہیں کھایا تھا ۔۔۔۔۔اور اب تو بھوک سے برا حال تھا جب تک مما نے کھانا کھایا پاپا اور کامران بھی آ چکے تھے ۔۔۔۔ڈائنگ روم میں کامران کو دیکھ کر میرا خون کھولنے لگا مما پاپا بھی ماتھے پر بل ڈالے نا گواری سے بیٹھے تھے میں کامران کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
“کیا لو گئے عفان ۔۔۔۔بٹیاں کہاں ہے کھانا نہیں کھائے گئ وہ “۔۔۔۔پاپا نے سالن کا باول میری طرف بڑھاتے ہوئے جھجک کر کہا میں نے انکے ہاتھ سے باول لیکر اپنی پلیٹ میں سالن ڈالا اور باول سامنے رکھ دیا
“وہ نہیں آئےگی اسکا کھانا راشد کے ہاتھ اوپر بھجوا دیں ۔۔۔اگر یہ یہاں کھانا کھائے گا تو کل سے میں اور میری بیوی اپنے کمرے میں کھانا کھایا کریں گئے” ۔۔۔۔میں۔ نے کامران کی طرف تیکھی نظر ڈال کر نہایت غصے سے کہا کچھ پل تو کامران مجھے دیکھنے لگا میں اسی کو گھور رہا تھا مگر اسے تو ڈھٹائی اور بے شرمی پر عبور حاصل تھا ۔۔۔بڑے مدافعانہ انداز سے باول ٹیبل سے اٹھا کر سالن اپنی پلیٹ میں ڈالتے ہوئے بولا
“میں تو یہیں کھاؤں گا جیسے تکلیف ہے وہ جا سکتا ہے”
پاپا نے کن اکھیوں کے ساتھ کامران کو دیکھا
پھر میری طرف متوجہ ہو کر بولے
“بٹیاں کو آج کھانا اوپر ہی بھجوا دیتے ہیں ۔۔کل سے کامران کھانا اپنے کمرے میں کھایا کرے گا “
پاپا کی بات سن کر کامران تلملا گیا
“میں کیوں کھاؤں گا کمرے میں ۔۔۔۔کیا کیا ہے میں نے “۔۔۔۔وہ یوں معصوم اور انجان تھا جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو یا اسے کسی بات کا علم ہی نا ہو۔۔۔۔۔
“ذیادہ معصوم مت بنو کامران ۔۔۔۔جو حرکت تم نے ماہم کے ساتھ کی ہے ۔۔۔وہ بتا چکی ہے مجھے ۔۔۔۔ڈرا دھمکا کر تم زبردستی اسے اپنے ساتھ لیکر گئے تھے وہ بھی ان کپڑوں میں جو آج تک اس نے کبھی نہیں پہنے ۔۔۔شرم نہیں آئی تمہیں شہر سے دور ویران جگہ پر اسے تنہا لے جاتے ہوئے اور بیگانوں کی طرح چھوڑا کر آتے ہوئے” ۔۔۔مما کی بات کامران کا رنگ متغیر ہونے لگا ہاتھ میں پکڑا نوالہ ہاتھ ہی میں رہ گیا ۔۔۔۔مما اسے تاسف سے دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔۔پاپا نے بھی کھا جانے والی نظروں سے کامران کو دیکھا ۔۔۔
“رضا اگر اسے اپنی ہی من مانیاں کرنی ہیں تو بے شک اسے پولیس کے حوالے کر دیں ۔۔۔نہیں چاہیے مجھے ایسی بد بخت اولاد ۔۔۔۔رضا نا جانے کون سی نیکی ہماری کام آئی ہے جو میری بچی صحیح سلامت با عزت حفاظت سے ہمارے پاس پہنچ گئ ورنہ اس نے تو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ” ۔۔۔۔مما کے لہجے میں آنسوں کی آمیزش گھل گئ تھی آنکھوں میں آنے والے آنسوں انہوں نے اپنے ڈوپٹے کے پلو سے صاف کیے کامران اپنے پسینے اپنے نیپ کن سے پونچ رہا تھا
“کیا کیا تھا اس نے بٹیا کے ساتھ” ۔۔۔۔پاپا غصہ ضبط کرتے ہوئے مما سے پوچھنے لگے ۔۔۔اس سے پہلے کہ مما جواب دیتیں کامران بول پڑا
“کچھ بھی نہیں کیا میں نے ۔۔۔۔خدا کی قسم کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔۔آپ پلیز پولیس کو بیچ میں نا لائیں۔۔۔۔آپ لوگ جیسا کہیں گئے میں ویسا ہی کروں گا” ۔۔۔۔ یہ کہہ کر وہ فورا کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔بد حواسی اسے چہرے پر چھائی ہوئی تھی ۔۔۔۔
“میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں میرا کھانا وہیں بھج دیں” ۔۔۔۔وہ اوپر چلا گیا مگر ایسے کشیدگی کےماحول میں کتنا کھایا جا سکتا تھا ۔۔۔۔میرا دل کھانے سے بلکل اچاٹ ہو چکا تھا مگر زہر مار کر کے چند نوالے پانی سے ساتھ اندر اتارے اور ٹیبل سے اٹھ گیا
جب میں اوپر اپنے کمرے میں جانے لگا تو سامنے ماہم کے کمرے کی لائٹ آن تھی ۔۔۔۔مجھے لگا ماہم اپنی کمرے میں ہے ۔۔۔۔غصہ تو مجھے پہلے ہی کامران کی حرکتوں کی وجہ سے آ رہا تھا پھر ماہم کی ڈیوٹی دینا مجھے کوفت میں مبتلہ کرنے لگا ۔۔۔میں ماہم کے کمرے میں جانے ہی والا تھا کہ کامران کو باہر نکلتا دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ وہ ماہم سے بات کرنے اس کے کمرے میں گیا ہو گا ۔۔۔۔مجھے دیکھ کر کامران وہیں ٹھٹک کر رک گیا میں اپنے ہاتھ باندھے اس کے سامنے کھڑا ہو گیا
“کیا کر رہے تم یہاں ۔”۔۔۔میرے سوال پر وہ نروس سا ہونے لگا ۔۔۔۔
“کک۔۔۔کچھ نہیں” ۔۔۔پہلی بار گھبراہٹ سے اسکی زبان میرے سامنے لڑکھڑائی تھی اور میں پر اعتماد کھڑا تھا
“ماہی سے بات کرنے گئے تھے ۔”۔۔۔میں نے ہی قیاس لگایا
“نن۔۔۔نہیں ۔۔۔۔وہ تو کمرے میں ہے بھی نہیں۔۔۔۔”۔کامران گھبرا کر بولا
“تمہیں اب وہ کبھی اس کمرے میں نہیں ملے گی ۔۔۔۔اس سے بات کرنے کی دوبارہ کوشش مت کرنا ۔۔۔۔دور رہو اس سے یہیں بہتر ہے تمہارے لئے “۔۔۔۔۔۔میں نے انگشت شہادت اٹھا کر اسے تنبیہی انداز سے کہا اور اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر کی جانے سے پہلے پلٹ کر کامران سے کہا ۔۔۔۔
“میری بیوی اسوقت میرے کمرے میں ہے ۔۔۔۔اب اس سے بات کرنے سے پہلے تمہیں ہمیشہ میری اجازت کی ضرورت پڑے گی” ۔۔۔۔یہ کہہ کر میں کامران کے چہرے کے تاثرات دیکھے بنا ہی اپنے کمرے میں آ گیا ۔۔۔۔۔ماہم سامنے رکھے ٹو سیٹر صوفے پر بیٹھی میری کتاب کھولے نا جانے کچھ پڑھ رہی تھی یا پھر وقت گزاری کے لئے صفحے پلٹ رہی تھی مجھے دیکھ کر اس نے کتاب صوفے کے ساتھ بنے میرے رائٹنگ ٹیبل پر رکھ دی ۔۔۔۔۔اور خود بھی سیدھی ہو کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔چہرے پر ہلکا سا خوف تھا اور باقی سب خفگی اور ناراضگی کے تاثرات لئے وہ بیٹھی تھی۔۔۔میں نے خود کو لا پروا ظاہر کیا اور بیڈ پر سے اپنا تکیہ ٹھیک کیا اور بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔میرے لئے بھی یہ سب کچھ نیا نیا سا تھا ۔۔۔۔سمجھ نہیں پا رہا تھا ماہم سے بات کیا کرو ۔۔۔پھر حالات کے پیش نظر مجھے کچھ با رعب بھی دیکھنا تھا ۔۔۔۔جو میرے مزاج کے بلکل برخلاف سی بات تھی ۔۔۔مگر پھر بھی میں نے اپنی پوری کوشش کرتے ہوئے پہلے تو اپنا گلہ کھنکھارا تا گلہ صاف کر کے کہ کچھ بھاری آواز میں بات کروں تا کہ ماہم پر میرا کچھ رعب ڈل سکے ۔۔۔۔
“ماہی میرے بیگ سے میری ہیلو والی فائل پکڑاو مجھے” ۔۔۔۔میں نے جان بوجھ کر اسے اپنے کام کہنے لگا ۔۔۔مگر وہ شاید میرے رعب سے اتنی بھی متاثر نہیں تھی جتنا میں سمجھ رہا تھا یا پھر خود کو بہادر کمپوز کرنا چاہ رہی تھی ۔۔۔۔اس لئے اپنی جگہ سے ہلی بھی نہیں وہیں بیٹھی اپنی انگلی کے ناخن سے صوفے کو کھروچنے لگی ۔۔۔۔اس کا مطلب میں اچھی طرح جانتا تھا کہ اندر ہی اندر وہ خوفزدہ ہے ۔۔۔۔مگر مجھ یہ باورا کروانا چاہ رہی ہے کہ اسے میری قطعی کوئی پروا نہیں میں نے خود ہی اپنا بیگ لیا مگر فائل کی بجائے لیپ ٹاپ نکال کر کھول کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔مجھے اسوقت فائل اور لیپ ٹاپ میں کوئی کام وام تھا بھی نہیں بس یونہی وقت گزاری کے لئے نکال لیا ۔۔۔۔اسی اثنا میں دروازے ہر ہلکی سی دستک ہوئی
“کون ہے آ جاؤ اندر” ۔۔۔۔۔میں نے با آواز بلند کہا دروازہ کھلا تو سامنے راشد کھانے کی ٹرے لئے کھڑا تھا ۔۔۔۔
“ماہم باجی آپ کا کھانا کہاں رکھوں” ۔۔۔۔راشد نے ماہم کو مخاطب کیا
“کہیں بھی نہیں واپس لے جاؤں ۔۔۔مجھے بھوک نہیں ہے “۔۔۔۔وہ تپے ہوئے لہجے سے بولی ۔۔۔۔
“کیوں بھوک نہیں ہے” ۔۔۔میں نے ماہم سے پوچھا مگر وہ راشد کو ہی دیکھ کر جواب دے رہی تھی
“کہا نا بھوک نہیں ہے ۔۔۔۔میں کچھ بھی نہیں کھاؤں گی” ۔۔۔۔وہ نا جانے مجھ پر کیا جتانا چاہتی تھی ۔۔۔مگر میں نے بھی اسی کے انداز سے راشد سے کہا
“اچھی بات ہے جاؤں راشد ۔۔۔لے جاؤں کھانا اور پاپا سے جا کر کہنا انکی چہتی نے کھانے سے انکار کر دیا یے۔”۔۔۔ماہم کے سارے ویک پوانٹ میں پہلے سے ہی جانتا تھا پاپا کی نظر میں اسے ہمیشہ اچھا بنے رہنے کا شوق تھا ایک سمجھدار اور فرما بردار بیٹی رہنے کا ۔۔۔بھلا وہ یہ کیسے برداشت کر سکتی تھی کہ راشد جا کہ یہ کہے کہ ماہم نے ان کا بھیجا کھانا کھایا نہیں ہے۔ماہم نے پہلے غصے سے میری جانب دیکھا پھر برجستہ راشد سے بولی
“نہیں راشد ۔۔۔تم انکل سے یہ نہیں کہو گئے ۔۔۔۔کھانا کچن میں رکھ دو اور ان سے کہنا میں نے کھانا کھا لیا ہے ۔۔۔۔”
“راشد ادھر میری طرف دیکھوں ۔۔۔جو میں نے کہا ہے تم وہ جا کر پاپا سے کہو “۔۔۔میں نے بھی غصے سے راشد کو اپنی طرف متوجہ کر کے کہا
“اگر تم نے میری بات نہیں مانی راشد تو دیکھوں کل کیا حال کرتی ہوں تمہارا “۔۔۔۔ماہم نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا وہ بیچارہ ہم دونوں کی طرف باری باری دیکھ کر ہماری باتوں پر بس سر ہی ہلائے جا رہا تھا ۔۔۔۔چپ چاپ ٹرے لیے واپس پلٹ گیا ۔۔۔میں نے ہاتھ میں پکڑا لیپ ٹاپ بیگ میں رکھا اور بیگ سائیڈ پر رکھ کر پہلے تو اٹھ کر دروازہ لاک کیا پھر صوفے پر ماہم کے برابر میں بیٹھ گیا وہ شاید میری اس جرت کے لئے تیار نہیں تھی اس لئے جلدی سے کھسک کر پیچھے ہٹ کر صوفے کے کنارے سے جا لگی میں اپنا رخ موڑ کر ماہم کی طرف کر لیا
“مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔یوں رو دھو کر ۔۔۔۔مما سے میری شکایتیں لگا کر ۔۔۔۔بھوکی رہ کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہو تم “۔۔۔۔۔ میں نے گھورتے ہوئے ماہم سے پوچھا ۔۔۔وہ منہ پھیر کر بولی
“یہی کہ تم بہت برے ہو ۔۔۔۔۔مجھے تم بلکل اچھے نہیں لگتے ۔۔۔۔مجھےتم سے شادی بھی نہیں کرنی تھی ۔۔۔اور نا ہی مجھے تمہارے کمرے میں رہنا ہے۔۔۔اور یہ بھی کہ میں تم سے محبت بھی نہیں کرتی” ۔۔۔۔۔روانی میں وہ کیا کچھ نہیں کہہ گی تھی ساتھ ہی ساتھ آنکھوں سے برسات بھی برسانے لگی تھی ۔۔۔۔۔غصہ تو میرا بھی بڑھنے لگا تھا ۔۔۔۔
“معلوم ہے مجھے یہ سب ۔۔۔بار بار دہرانے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں کہ تم مجھ سے محبت نہیں کرتی ۔۔۔۔میں بھی تم سے محبت نہیں کرتا “۔۔۔۔۔۔تھا تو یہ سراسر جھوٹ مگر میرے اندر کا مرد تھوڑا آنا پرست ہو گیا تھا ۔۔۔۔میں یوں اسکے آگے گر نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔اس لئے اپنا بھرم رکھتے ہوئے بولا
“شادی کے لئے رضا مندی تم نے خود دی تھی ۔۔۔۔اس لئے میری بھی مجبوری ہے اسے نبھانا ۔۔۔۔ویسے بھی جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں ۔۔۔وہاں سب کی شادیاں پسند سے نہیں ہوتیں ۔۔۔۔نا ہی سب کی لو میرج ہوتی ہے لیکن لوگ پھر بھی نبھاتے ہیں ۔۔۔رشتے نبھانے کے لئے کامپرو مائیز ضروری ہوتا ہے ۔۔۔۔تم بھی اسی سے شروعات کر لو ۔۔۔محبت بھی خود با خود کو جائے گی” ۔۔۔۔میں اپنا لہجہ بڑی حد تک ہموار رکھنے کی کوشش کی ۔۔۔
“اور اگر پھربھی محبت نا ہوئی تو۔”۔۔اسکے بیوقوفانہ سوال کے جواب دینے کا اسٹمنا فی الحال تو میرے پاس نہیں تھا اس لئے میں نے مدفعانہ انداز سے کہا
“تو نا ہو محبت ۔۔۔۔مگر زندگی اچھی گزر جائے گی” ۔۔۔۔میرا جواب ماہم کی سوچ کے بر خلاف تھا اس لئے گلو گیر لہجے سے بولی
“تمہیں فرق ہی کیا پڑتا ہے ۔۔۔۔تم کون سا میرے دوست ہو جو تمہیں میری تکلیف کا احساس ہو گا ۔۔۔۔۔بہت آسان ہے تمہارے لیے کامپومائیز کے مشورے دینا ۔۔۔مشکل تو خود عمل کرنا ہے” ۔۔۔۔۔وہ ہر جمعلے پر زور دے کر بول رہی تھی
“میں بھی کامپرومائیز ہی کر رہا ہوں ورنہ آسان نہیں ہوتا اپنی بیوی کے منہ سے کسی اور کی محبت کا اظہار سننا ۔۔۔۔یا یہ برداشت کرنا کہ اسکی بیوی کسی اور کے ہاتھ سے انگوٹھی پہنے ۔۔۔یا کوئی غیر اسکا ہاتھ ۔۔۔۔۔”۔
“انف از انف” ۔۔۔۔۔وہ چلا کر بولی میری بات سننے کی تاب نہیں تھی اس میں اس لئے بھپر سی گئ ۔۔۔۔لیکن پھر مجھ سے یہ امید ہی کیوں رکھ رہی تھی کہ میں وہ سب سنو جو میں بھی سننا نہیں چاہتا تھا مگر پھر بھی میں میں چپ رہا ۔۔۔۔اسکی آنکھوں میں نمی سی اترنے لگی
“آگے ایک لفظ نہیں عفان ۔۔۔۔۔میری غلطی سے بڑھ کر تم مجھے سزا دے چکے ہو” ۔۔۔۔ وہ میری طرف غصے سے دیکھ کر بولی ۔۔۔۔ماہم کی یہ بات میرے لئے نا قابل برداشت تھی ۔۔۔۔۔دل تو میرا چاہا ماہم کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کر دوں ۔۔۔۔۔جو کچھ بھی ہوا تھا کیا میرے لئے ممکن تھا کہ میں اسے اپناتا ۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔لیکن پھر بھی میں نے اسے بے آسرا نہیں چھوڑا تھا میرے کسی سوال کا اس نے جواب نہیں دیا تھا ۔۔۔۔۔لیکن بجائے میرا احسان مند ہونے کے اسے یہ سب سزا لگ رہا ہے ۔۔۔۔میرا غصہ آسمانوں کو چھونے لگا ۔۔۔۔۔
“میرا ساتھ سزا کے تمہارے لئے” ۔۔۔۔میں نے پھر بھی ضبط سے کام لیا وہ مجھے دیکھ نہیں رہی تھی خفگی سے رخ پھیرے بولی
“ہاں ہے سزا ۔۔۔۔۔بہت بری سزا ۔۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ میں غصے سے کچھ غلط کر بیٹھتا میں آٹھ کر اپنے بیڈ پر آگیا ۔۔۔۔تکیہ درست کیا اپنی سائیڈ کا لمپ آف کیا اور لیٹ کر بازو اپنی آنکھوں پر رکھ لیا مزید ماہم سے بات کرنا ہی بے کار تھا وہ بھی صوفے پر ٹانگیں سکیڑ کر لیٹ گئ ۔۔۔ ٹو سیٹر صوفے پر وہ سیدھی تو لیٹ نہیں سکتی تھی بیڈ پر شاید وہ میری وجہ سے لیٹنے سے کتر رہی تھی اگر اسے یہ زندگی سزا کے طور پر منظور تھی تو یونہی صحیح۔۔۔۔کچھ دیر میں اسکی باتوں سے اپنا دل جلاتا رہا پھر دن بھر کی تھکن بھی تھی اس لئے کچھ ہی دیر میں میں سو چکا تھا
