458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 7

Tadbeer by Umme Hani

۔۔۔۔۔پاپا کی خاموشی جب طویل ہوئی تو میری بے چینی بڑھنے لگی کیا پاپا ماہم کو بہو کی حیثیت سے قبول نہیں کرنا چاہتے۔۔۔نا جانے کون کون سے وہمہ مجھے ستانے لگے تھے ۔۔۔پاپا نے گہری سانس لی گلا کھنکھار کر مجھے دوبارہ غور سے دیکھا میری جان اندر سے نکل رہی تھی میرے پورے جسم کے مسام سے پسینہ بہنے لگا ۔۔۔۔ وہ مجھ سے مخاطب ہوئے

“خواہش تو میری اور تمہاری امی کی بھی یہی تھی کہ ماہم ہماری بہو بنے ۔۔۔۔۔ماہم ذاتی طور پر ہم دونوں کو بیحد پسند ہے۔۔۔اور سب سے بڑی بات کہ گھر کی بچی ہے”…. پاپا کی بات سن کر میرا اٹکا ہوا سانس بحال ہوا تھا

“مگر یہ خواہش تمہارے حوالے سے نہیں تھی عفان ۔۔۔۔”پاپا کی بات پر بے ساختہ میں نے تڑپ کر انکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔۔

“۔ہم چاہتے تھے کی کامران کی شادی ماہم سے ہو جائے ۔۔۔۔مگر میں رشتوں کو زبردستی مسلط کرنے کے حق میں نہیں ہوں اس لئے چاہتا تھا کہ کامران خود سے اس خواہش کا اظہار کرے ۔۔۔ماہم کے ہر آنے والے رشتے کا تذکرہ میں اس لئے کامران کے سامنے کرتا تھا کہ اسکے دل میں اگر ایسی کوئی آرزو ہے تو وہ کہہ دے مگر جس طرح سے وہ ہر رشتے کو لیکر اتنی دلچسپی ظاہر کرتا تھا میرااور تمہاری ماں کا دل بجھ سا گیا تھا تم عمر میں ماہم سے چھوٹے ہو اس لئے تمہارے بارے میں ایسا سوچا ہی نہیں” ۔۔۔۔پاپا کی صاف گوئی پر میں نے بھی دل کی بات واضع کر دی

” پاپا یہ کوئی اتنا بڑاایشو تو نہیں ہے۔۔۔مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں۔ پڑتا اور سال کا فرق کوئی ذیادہ بھی نہیں ہوتا مجھے شادی کی جلدی بھی نہیں ہے فی الحال تو میں خود کر اسٹیبلش کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔یہ بات بھی میں آپ سے ابھی نہیں کرنا چاہتا تھا مگر آپ کو ماہی کی شادی کی جلدی ہے

شاید ۔۔۔میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا رشتہ کہیں غیر لوگوں میں ہو ۔۔۔۔وہ بس ایسے ہی گھل مل کر ساری زندگی یہیں رہے جیسے رہتی ہے ۔۔۔۔”

“میری تو دلی خواہش بھی یہی ہے کہ میری بچی ہمشہ میرے سامنے رہے ۔۔۔۔کامران ہو یا تم کیا فرق پڑتا ہے” ۔۔۔مما کےچہرے پر انکی دلی مسرت عیاں تھی

“ٹھیک ہے ہمیں تمہارے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں مگر ماہم کی رضامندی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی تمہاری ۔۔۔۔۔ماہم سے تمہاری مما پوچھ لیں تو آگے کے بارے میں بھی سوچتے ہیں ” ۔۔۔۔پاپا اب بہت سنجیدگی اور متانت سے بات کر رہے تھے

“ابھی نہیں پاپا ماہم سے ابھی یہ بات مت کریں ۔۔۔میں نے یہ بات آپ سے اس لئے کہی ہے کہ آپ ماہم کے رشتے دیکھنا بند کر دیں ۔۔۔۔آپ بھائی کے لئے رشتے دیکھنے شروع کریں انکی شادی اب ہو جانی

چائیے ۔۔۔۔ہاں اگر ماہم کی رضامندی ہوئی تو بھائی کی شادی پر آپ میری منگنی کر دیجئے گا” ۔۔۔۔میری بات مما پاپا دونوں کو ہی پسند آئی تھی مما تو بہت خوش تھیں ۔۔۔۔میرادل بھی اب کچھ مطمئن سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔سب سے اہم مرحلہ اتنی آسانی گزر جائے گا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔۔ماہم کی رضامندی پر مجھے کوئی شبہ ہی نہیں تھا ۔۔۔۔میں اس کا بہترین دوست ہوں اور ہماری ذہنی ہم آہنگی بھی بہت ہے ۔۔۔۔وہ انکار کر ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔میرادل اسوقت جھومنے کو چاہ رہا تھا لگ رہا پورا آسمان میری خوشی میں جشن کا سما باندھے بیٹھا ہو ٹیرس میں کھڑا میں آسمان پر بکھرے جگمگ ستاروں کو دیکھ رہا تھا چاند شاید سچ مچ آج اتنا روشن تھا یا میرے دل کی شادمانی سے مجھے منور لگ رہا تھا ۔۔۔۔ہوا۔ سے ادھر ادھر جھومتے لان میں لگے درخت مجھے لگا میری خوشی میں رقص کر رہے ہیں دل کی دنیا بھی عجیب سے رنگ دکھاتی ہے یہاں

سب کچھ دل سے مشروط ہوتا ہے دل اگر خوش ہے تو ساری دنیا جشن مناتی نظر آتی ہے۔میں بھی اسوقت اسی خوشی کی محویت میں کھو گیا تھا ۔۔۔۔۔لگتا تھا چاروں طرف کوئی دھیمی سی دھن بج رہی ہو ۔۔۔۔دل کو چھو جانے والی ۔۔۔۔میں اتنا خوش تھا کہ شاید اپنی خوشی کے اظہار کے لئے مجھے لفظ ہی نہیں مل رہے تھے ۔۔۔۔۔صبح آفس میں قاسم میرے خوشگوار موڈ دیکھ کر مجھے شاکی نظروں سے دیکھنے لگا

“کیا بات ہے عفان ۔۔۔۔کیا کوئی لاٹری نکل آئی ہے تمہاری یا کوئی پرائز بانڈ نکل آیا ہے چہرے پر مسکراہٹ ہی ہٹ نہیں رہی ۔۔۔۔۔خوشی کی کیسی چمک ہے “

“ایسی بات نہیں ہے قاسم بس یونہی “میں کچھ گڑبڑا گیا ۔۔۔۔کیا واقع میرے اندر کی خوشی چہرے پر واقع تھی ۔۔۔قاسم مجھے دیکھ کر معنی خیز لہجے میں کہنے لگا

“یو۔۔۔۔۔۔نہی ۔۔۔۔۔نہیں میری جان ۔۔۔۔۔۔یہ چہرے کا گلابی پن یہ خوامخواہ کی مسکراہٹ یہ ہونٹوں کی دلفریب مسکان یہ شرمیلا شرمیلا انداز ہائے صدقے جاؤں تمہارے کسی انہونی خبر کی نوید سنا رہا ہے ۔مجھے “۔۔۔۔۔قاسم کی چہرہ شناسی اور بیان بازی پر میں ہسنے لگا

“بکواس بند کرو اپنی ۔۔۔۔تمہیں تو شاعر ہونا چاہیے تھا قاسم ۔”۔۔۔میں نے ہنستے ہوئے موضوع بدلنا چاہا اسوقت کوئی خاص میٹنگ نہیں تھی اس لئے میں بھی بڑی فرصت سے اپنی ریوالونگ چیر پر ڈھیلے ڈھالے انداز سے بیٹھا تھا اور قاسم اب اپنی کرسی سے اٹھ کر ٹیبل پر میرے سامنے پڑی فائلیں ہٹا کر پینٹ کوٹ سمیت دھڑلے سے ٹیبل پر بیٹھ گیا

“پاگل ہو گئے تم کوئی آگیا تو کیا سوچے گا” ۔۔۔۔۔میں سیدھا کر بیٹھ کر بولا

“کوئی نہیں آتا ۔۔۔ڈیڈ تو ویسے بھی سائیڈ پر گئے ہیں اس لیے روای بس امن ہی امن سنا رہا ہے” ۔۔۔۔۔قاسم اپنی آنکھیں بند کیے جھومتے ہوئے بولا ۔۔۔۔وہ اپنے ڈیڈ سے بہت ڈرتا تھا ۔۔۔جب وہ آفس میں نہیں ہوتے تو وہ بڑا پر سکون سا ہوتا ۔۔۔ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ کرتا رہتا تھا مگر ان کے سامنے یوں اٹنشن ہوتا کہ کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ یہ وہی قاسم ہے ۔۔۔۔۔بس جی جی کرتا ان کے آگے پیچھے پھرتااور جیسے ہی وہ کہیں جاتے قاسم اپنے منہ پر ایسے ہاتھ پھرتا جیسے کوئی بہت بڑی بلا ٹل گئ ہو ۔۔۔۔قاسم کے ڈیڈ غصے کے بہت تیز اور مزاج کے سخت تھے کچھ قاسم سے غلطیاں بھی بہت ہوتی تھیں ۔۔۔۔۔وہ تو میں کافی کچھ سنبھال لیتا تھا ورنہ ان کا کہنا تھا یہ لڑکا کسی قابل ہے ہی نہیں ۔۔۔۔۔اب بھی اسکی بچکانہ حرکتیں جاری تھیں

“اب بتا میرے یار چکر کیا ہے ۔۔۔۔”

“کوئی چکر نہیں ہے اور تم تمیز سے کرسی پر بیٹھو۔۔۔۔کوئی اندر یوں اچانک آ گیا تو کیاسوچے گا آفس کے مالک میں خود ہی مینر نام کی چیز نہیں ہے ۔۔۔۔ “

“ابے بس کردے میرے باپ ۔۔۔۔ایک ہی باپ کافی ہے عزت افزائی کرنے کے لئے “۔۔۔۔۔قاسم میرے سامنے ہاتھ جوڑ کر بولا

“کم از کم مجھے ڈیڈ کے باہر جانے کی خوشی تو خوش ہو کر منانے دیا کرو “۔۔۔۔۔قاسم ٹیبل پر بیٹھا تھا اور میں اپنی چیر پر میرے کیبن کا دروازہ بلکل سامنے تھا دروازہ بہت آہستگی سے کھلا اور سامنے قاسم کے والد کھڑے تھے میرے تو حواس ہی کھونے لگے میں فورا سے اپنی کرسی سے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔چونکہ قاسم کی ان کی طرف پشت تھی اس لئے وہ اپنی دھن میں بولے جا رہا تھا

“عفان مجھے لگتا ہے میرے باپ کا شجرہ نسب ہلاکو خان کے خاندان سے جا کر ملتا ہے ۔۔۔۔۔یا پھر ہٹلر نے انہیں پیدا ہوتے ہی اپنی گھٹی دی تھی بغیر کلف کے کپڑوں کے بھی ایسے اکڑے اکڑے رہتے ہیں جیسے صبح صبح اراروڈ کے پانی سے غسل فرما کر آئے ہوں ۔”۔۔۔۔۔۔میرے اشارے کنارے بھی قاسم کی زبان پر بریک لگانے سے قاصر تھے قاسم کے ڈیڈ دبے قدموں اور کڑے تیوروں سے قاسم کے عقب میں کھڑے ایک ہاتھ اپنی کمر پر رکھے اور دوسرے سے مجھے چپ رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے بیٹھنے اشارہ بھی کر چکے تھے ۔۔۔۔اب وہ خاموشی سے قاسم کے نادر خیالات اپنے بارے میں سن رہے تھے

“تم کیوں کھڑے ہو عفان میرے یار سکون سے بیٹھو بلکہ میں تو کہتا ہوں کرسی پر بیٹھ کر دونوں ٹانگیں ٹیبل پر پھیلا دو تمہارے اندر آذادی کا ایک عجیب سا احساس بیدار ہو گا ۔۔۔تمہیں نہیں لگتا جب میرے کھڑوس اور اکڑو ڈیڈ آفس میں نہیں ہوتے پورا

اسٹاف کیسے سکون کا سانس لیتا ہے” ۔۔۔۔۔میں مارے خجالت کے سر پکڑ کے بیٹھ گیا قاسم میرے کسی اشارے کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں تھا ۔۔اور۔قاسم کی بکواس پر اس کے ڈیڈ کے چہرے پر آنے والے جارحانہ تیور دیکھ کر مجھے خوف آنے لگا تھا مگر قاسم ۔۔۔وہ تو اپنی دھن میں بولے جا رہا تھا ۔۔۔۔

“قاسم” ۔۔۔۔۔اپنے ڈیڈ کی گرجدار دھاڑ پر وہ اچھل گیا ہڑبڑا کر پیچھے دیکھا تو حواس باختہ ہو گیا

“ڈ۔۔۔۔ڈیڈ ۔۔۔۔۔”

“نہیں کھڑوس بولو ۔۔۔۔۔میرا شجرہ نسب ہلاکو خان سے ملتا ہو یا نہیں۔۔۔ مگر تمہارا شجرہ نسب کسی لوفر خاندان سے ضرور ملتا ہے ۔۔۔۔”

“ڈ۔۔یڈ ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔”

“شٹ اپ ۔۔۔۔بدتمیزی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے اترو نیچے ٹیبل سے “….قاسم ہڑبونگ طریقے سے ٹیبل اترا تو ساری فائل بھی زمین پر گر گئیں ۔۔۔۔

“قاسم ۔۔۔۔۔”

وہ غصے سے دانت کچکچا کر ایسے بولے جیسے قاسم کو کچا کھا جائیں گئے ۔۔۔۔قاسم فوار سے فائلیں اٹھانے لگا ۔۔۔۔کچھ فائل میں نے اٹھا کر اوپر رکھیں ۔۔۔۔۔اب وہ بلکل تمیز سے نظریں جھکائے بڑے با ادب انداز میں ہاتھ باندھے اپنے والد کے سامنے کھڑا انکی لعن طعن سن رہا تھا اور اسکے ڈیڈ میرے چھوٹے سے کیبن میرے ادھر ادھر چکر کاٹتے ہوئے اپنا غصہ اس پر اتار رہے تھے

“آلو کا پٹھا ۔۔۔۔۔خبیث۔۔۔۔ناہنجان ۔۔۔۔۔۔نالائق۔۔۔۔۔بیہودہ ۔۔۔گدھا ۔۔۔۔۔سو نکمے مرے ہوں گئے تو تم پیدا ہوئے ہوئے ہو گئے قاسم ۔۔۔۔ابھی اگر میں تمہیں ڈیفنس کے نئے پروجیکٹ کے بارے میں پوچھ لوں گا تم نے ابھی بھی فائنل رپورٹ تیار نہیں کی ہوگئ ۔۔۔۔۔۔اب اپنی یہ منحوس شکل لے کر اپنے کیبن میں جاؤں “

“جی ۔۔۔۔جی ڈیڈ ۔۔۔”

“ڈیڈ کا بچہ” ۔۔۔۔۔قاسم کے ڈیڈ نے غرا کر کہا تو وہ فورا سے باہر چلا گیا ۔۔۔۔اب وہ میرے سامنے کرسی پر بیٹھ کر سگار سلگانے لگے میں بلکل خاموش کھڑا تھا جیسے سارا قصور میرا ہی ہو

“تم بیٹھو بیٹا ۔”۔۔۔۔اب انکا لہجہ قدرے متوازن تھا منہ سے دھواں اڑاتے ہوئے پر شکن ماتھے سے مجھے دیکھنے لگے

“تم دوست ہو اسکے سمجھاتے کیوں نہیں ہو اسکو ۔۔۔۔کام کو ذرا بھی سنجیدگی سے نہیں لیتا ۔۔۔۔”

“جی میں سمجھاؤں گا” ۔۔۔۔میں بس انہیں تسلی دینے لگا ۔۔۔۔

“وہ ڈیفنس والے پروجیکٹ کا کیا ہوا “

“سر وہ میں نے اور قاسم نے فائنل رپورٹ تیار کر لی ہے آپ جائیں میں وہیں آپ کے روم میں ڈسکس کرتا ہوں “میں نے قاسم کا نام بھی لگا دیا تا کہ اسکے ڈیڈ کا غصہ کم ہو سکے ۔۔۔ورنہ رپورٹ ساری میں نے ہی تیار کی تھی

“شاباش مجھے معلوم تھا کہ تم کر چکے ہو گئے ۔۔۔۔اپنا کام تم بہت ذمےداری سے کرتے ہو عفان بہت آگے بڑھو گئے تم ۔۔۔۔تمہارے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ اور جنون دیکھتا ہوں میں ۔۔۔۔تمہارے پیرنٹس بہت لکی ہیں ۔۔۔۔”

“تھنکس سر لیکن میں خود کو لکی سمجھتا ہوں ۔۔۔”۔میں نے مسکرا کر کہا وہ اٹھ کر میرے کیبن سے باہر چلے گئے اور میں اپنی فائل ڈھونڈنے لگا۔۔۔۔

صبح ناشتے کے دوران ہی پاپا نے گھر پر ایک گیٹ ٹو گیدر کا اعلان کیا ۔۔۔سب سے ذیادہ ماہم خوش تھی

“سچی انکل ۔۔۔۔”

“بلکل”

“انکل اس بار لان کا ارینجمنٹ میں اپنی نگرانی میں کرواں گی “

“بلکل میری بٹیا کروائے گئ ۔۔۔۔میں تو سوچ رہا تھا کہ کھانے کا مینو بھی تم سے پوچھ کر رکھو” ۔۔۔۔پاپا چائے پیتے ہوئے بہت لگاوٹ سے ماہم سے بات کر رہے تھے

“انکل اس بار ہم گلاب اور گیندے کے بجائے وائٹ روز سے لان کو سجائیں گے اور ساری سیٹنگ بھی وائٹ اور لائٹ براؤن کلر سے کروائیں گئے یہ ذیادہ ڈفرنٹ لگے گئ اور انٹرس کے لئے انکل ۔”۔۔۔

“۔بس بس بٹیا یہ سب میں نے نہیں کرنا ۔۔۔۔یہ سب تم ان سے کروانا جو کل ان کو سجانے آئیں گئے” ۔۔۔۔ ماہم نا جانے اور کون کون سے پلان بتانے کو بے تاب تھی مگر پاپا کی پیار بھری سرزش پرچپ ہو گئ پاپا نے جیب سے والٹ

نکال کر چند ہزار کے نوٹ ماہم کی طرف بڑھائے

“اب جلدی سے تیار ہو جاؤں ۔۔۔اور عفان کے ساتھ جا کر خوب ساری شاپنگ کر کے آؤں پاڑی میں سب سے اچھی مجھے میری بٹیا لگنی چاہیے “۔۔۔۔پاپا کی ملائمت بھرے لہجے پر ماہم مسکرانے لگی

“پیسے رہنے دیں پاپا ماہی کو شاپنگ میں کروادوں گا” ۔۔۔۔میری بات پر پاپا معنی خیز ہنسی ہسنے لگے

“ٹھیک ہے برخودار تم کروا دو ۔۔۔۔چلو بٹیا جاؤں اب” ۔۔۔ماہم جلدی سے چائے ختم کرنے لگی کامران بس خاموش بیٹھا سنجیدہ نگاہوں سے مجھے اور ماہم کو دیکھ رہا تھا

“کامران میں نے پاڑی میں رشتے داروں کے علاؤہ اپنے دوست احباب کو بھی مدعو کیا ہے ۔۔۔۔اس لئے اپنی تیاری بھی کچھ اچھی رکھنا ‘”پاپا اب کامران سے مخاطب تھے

“وہ تو میں ویسے بھی رکھتا ہوں مگر اتنے لوگوں کو بلانے کی ضرورت کیا ہے پاپا ۔۔۔”۔

“بس ہے ضرورت ۔۔۔۔تم بس ٹائم کا خیال رکھنا دوستوں کے ساتھ مت نکل جانا “۔۔۔۔پاپا کے متنبہ کرنے پر وہ سر ہلا کر اٹھ کر باہر نکل گیا

***********………**************

میں اور ماہم شاپنگ پر چلے گئے ۔۔۔۔لائٹ پیچ کلر پر ہم رنگ کڑھائی والا بہت خوبصورت کا انارکلی فراک ماہم نے پسند کیا تھا اسکی ہر چیز میں میری پسند شامل تھی ۔۔۔۔پھر اسکی عادت بھی ایسی تھی ۔۔۔۔وہ مجھ سے ہر چیز میں مشورہ لیتی تھی اور میرے مشورے کو اہمیت بھی دیتی تھی ۔۔۔۔عفان اس کے ساتھ جھمکے اچھے لگیں گئے یا ٹاپس خرید لوں ۔۔۔۔کانچ کی چوڑیاں پہنوں یا صرف دو کنگن اچھے لگیں گئے ۔۔۔۔گو اسکی پوری شاپنگ میری پسند کی تھی ۔۔۔۔شاپنگ میں کافی وقت لگ گیا تھا واپسی پر ماہم نے بھوک کا شور مچانا شروع کر دیا میں نے گاڑی ایک سمندر کے قریب بنے ایک ڈھابے کے سامنے کھڑی کر دی ماہم نے ایک نظر اس ڈھابے پر ڈالی پھر شکایتی نظروں سے مجھے دیکھنے لگی

“مجھے بھوک لگ رہی ہے عفان اور تمہیں مزاق سوج رہا ہے یہ کہاں گاڑی کھڑی کی ہے تم نے “

“سیرسیلی ماہی یہاں کی چکن کڑاہی فائیو اسٹار ہوٹل سے ذیادہ مزے کی ہے اترو نیچے” ۔۔۔۔میں نے اپنا فرنٹ ڈور کھولتے ہوئے کہا مگر ماہم مجھے بری طرح گھور رہی تھی

‘عفان گندے برتنوں میں بناتے ہیں یہ لوگ میں قطعی نہیں کھاؤں گئ یہاں ۔”۔۔۔وہ بگڑے ہوئے منہ بنا کر بولی

“ماہی بڑے بڑے ہوٹلز پر بھی کھانے ایسے ہی برتنوں میں پکتا ہے یا شاید اس سے بھی گندے طریقے سے فرق صرف اتنا ہے کہ وہ ہمارے سامنے پیش اچھے انداز سے کرتے ہیں انکے کرنے اور دیکھانے میں فرق ہوتا ہے اور یہ سادہ دل لوگ ہیں جیسا بناتے ہیں ویسا پیش کر دیتے ہیں ۔۔۔۔تم باہر تو آؤں میں خود اپنے سامنے سب بناؤں گا کچھ گندا نہیں ہو گا ۔”۔۔۔ماہم خاموشی سے باہر آ گئ وہ ایک اوپن قسم کا ڈھابہ تھا بڑے بڑے تختوں پر لال رنگ کے قالین بچھے تھے

اس وقت وہاں کھانے والے ذیادہ تر مرد حضرات ہی تھے ماہم کو میں ایک کونے میں رکھے تخت پر بیٹھا کر میں اپنا آڈر دینے چلا۔ گیا جہاں میں کھڑا تھا مجھے ماہم سامنے نظر آ رہی تھی۔۔۔وہ کافی بیزار سی بیٹھی تھی اپنے بلیک گلاسز اتار کر اس نے سائیڈ پر رکھ دیے

ایک بارہ سالہ لڑکا گندے سلنے کپڑے پہنے جس پر جگہ جگہ سالن کے داغ لگے ہوئے تھے اپنے کندھے پر رکھے رومال کو اتار کر تخت پر بچھے دسترخوان اپنے رومال سے صاف کرتے ہوئے اونچی آواز سے انڈین گانا گانے لگا۔۔۔۔ماہم اسے دیکھ کر ناک سکڑنے لگی۔ اب وہ اسٹیل کی پلیٹس اور گلاس رکھتے ہوئے فل والیم میں بمہ سر تال لگائے انڈین گانا گانے لگا اسوقت ماہم دل ہی دل میں مجھے جی بھر کے برا بھلا کہہ رہی ہو گی جس طرح سے وہ بار بار خشمگین نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی مجھے یہی لگ رہا تھا

“”کڑیوں کا نشہ پیارے نشہ سب سے نشیلا ہے ۔۔۔میں کرو تو سالہ کریکٹر ڈھیلا ہے ہو۔۔ہو ۔۔۔میں کرو تو۔۔۔۔۔”

“اے چپ۔شرم نہیں آتی اتنے بہودہ گانے اتنی اونچی آواز سے گاتے ہوئے” ۔۔۔۔ماہم کے ڈپٹنے پر اس بچے کی سر تال آواز سب بند ہو گئ وہ اپنے کام میں مگن تھا ماہم کی ڈانٹ پر یک دم سٹپٹا گیا ماہم کی کھا جانے والی نظروں کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ باجی غصے کی تیز ہے اب وہ خاموشی اپنے کام سر انجام دینے لگا ۔۔۔۔ پانی کا جگ سلاد چٹنی ۔۔۔ میں ذرا دور سے ہی یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔کڑاہی تقریبا بن چکی تھی اس لئے میں واپس ماہم کے پاس آ کر بیٹھ گیا ماہم کی پیشانی پر پڑی شکنیں اور غصے سے بھری نظریں دیکھ کر میں کھلکھلا کر ہنس پڑا

“کیا بات ہے ماہی اتنی محبت پاش نظروں سے کیوں دیکھ رہی ہو خدا کی قسم اگر تم کچھ دیر اور ایسے دیکھتی رہی تو میں پاش پاش ہو جاؤں گا “

“Don’t be rabbish”

“اس سے بہتر تھا کہ میں گھر پر ہی کچھ کھا لیتی۔۔”۔۔ ماہم کے چہرے پر برہمی چھلکنے لگی تھی

“یہ تو تم مجھے کھانا کھانے کے بعد بتانا کہ کھانا تمہیں کہاں کھانا چاہیے تھا ۔”۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ لڑکا اسٹیل کی ڈش میں کھانے کا باول اور روٹیاں لے ایا۔۔۔نگاہیں جھکائے رکھنے لگا

” کیا بات ہے بھئ شرفو آج تمہارا ٹیپ ریکارڈر بج نہیں رہا” ۔۔۔میری بات پر ایک سہمی سی نظر اس نے ماہم پرڈالی جو اب بھی اسے گھور رہی تھی

“آپ کی بیوی کو پسند جو نہیں ہے” ۔۔۔۔شرفو کی بات پر ماہم اسے حیرت سے آنکھیں پھلائے دیکھنے لگی اور میں زور سے ہسنے لگا

“چلو اگر میری بیوی کو نہیں پسند تو مت گاؤ مگر کھانا میرے ساتھ کھاؤ تمہارے مالک سے میں اجازت لے چکا ہوں وہ تمہیں ڈانٹے گا نہیں “

‘سچی صاب جی” ۔۔۔۔شرفوں کے چہرے پر خوشی کی چمک تھی وہ سامنے رکھے بڑے سے ڈم سے پانی نکال کر ہاتھ دھونے لگا مگر ماہم مجھے اشتعال انگیز لہجے سے بولی

“بجائے اس بچے کو ڈانٹنے اور غصہ کرنے کے تم اس میلے کچیلے بچے کو اپنے ساتھ بیٹھا کر اپنی پلیٹ میں کھانا کھلاو گئے تمہیں اگر نیکی کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو اسے پیسے دے دیتے ۔”۔۔ ماہم جزبز سی ہو کر بولی

“کیا ہو گیا تمہیں ماہی ۔۔۔۔۔۔شرفوں ادھر ہی آرہا ہے پلیز اسکے سامنے ایسا کچھ مت کہنا جس سے اسے تکلیف ہو “۔۔۔میں نے سامنے شرفوں کو آتے دیکھا تو ماہم کو ٹوک دیا ۔۔۔۔۔ماہم نے بے دلی سے اپنی پلیٹ میں کھانا ڈالا ۔۔۔۔اور کھانے لگے پہلے ہی نوالے پر اس کے چہرے کا تناو کم ہونے لگا ۔۔۔۔کھانا بیحد مزیدار تھا اور بھوک بھی بہت شدت سے لگی تھی صبح کا

ہلکا پھلکا ناشتہ بازار میں شاپنگ کے دوران ہی ہضم ہو چکا تھا ۔۔۔۔میں پہلی بار اس ڈھابے پر قاسم کے ساتھ ہی آیا تھا ہم یہیں قریب سائیڈ پر آئے تھے اپنے پروجیکٹ کے چکر میں تب ہی ہم دونوں نے کھانا بھی یہیں کھایا اور شرفوں کے گانے بھی سنے تھے ۔۔۔ قاسم نے تو سر تال کھنچنے میں باقاعدہ شرفو کا پورا پورا ساتھ بھی دیا تھا ۔۔۔۔۔واپسی پر ماہم پورے راستےمیراسر کھاتی رہی کہ میں نے شرفو کو ڈانٹا کیوں نہیں اس نے ماہم کو میری بیوی کیوں کہا

“ماہی کیا اس کے کہنے سے تم میری بیوی بن گئ ہو ۔۔۔نہیں نا تو پھر غصہ کیوں کر رہی ہو ۔۔۔۔”

“لیکن پھر بھی تمہیں ڈانٹنا چاہیے تھا ۔۔۔۔اور تم نے اسکے ساتھ کھانا کیوں کھایا عفان ۔۔۔۔کتنا عجیب لگ رہا تھا سب لوگوں کی نظر تم پر تھیں ۔۔۔۔”

“وہ بھی ہمارے جیسا انسان ہے ماہی ۔۔۔پیسے ذیادہ ہونے سے ہمارا رتبہ ان سے بڑھ نہیں جاتا اور نا انکا غریب ہونا عیب دار ہے کہ وہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتے” ۔۔۔۔۔میری بات نا جانے ماہم کی سمجھ میں آئی تھی یا نہیں مگر خاموش ہو کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی

*********

۔۔۔۔۔پاڑی پر ساری ارینجمنٹ ماہم کی خواہش کے مطابق ہی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔پاپا نے یہ سارا اہتمام کامران کے لئے کیا تھا تا کہ اگر اسے کوئی لڑکی پسند آ جائے تو کامران کی شادی کر دیں ۔۔۔۔۔کیونکہ جتنی اونچی ناک وہ رکھنے لگا تھا کم ہی کسی کو لفٹ کرواتا تھا اور منور ماموں کی فیملی کوتو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا کیونکہ وہ حیثیت میں ہمارے برابر جو نہیں تھے ۔۔۔۔۔اسے ہر چیز پرفیکٹ ہی اچھی لگتی۔۔۔۔چاہے وہ کھانے یا پہنے کی چیز ہو یا انسان ۔۔۔۔۔اسکی نظر اونچے معیار پر ہی جا کر رکتی تھی ۔۔۔۔۔۔لڑکی کے معاملے میں بھی اس کے ایسے ہی خیالات تھے ۔۔۔

۔خوبصورتی کے ساتھ ساتھ لڑکی کا اونچا خاندان ہونا بھی لازمی تھا ۔۔۔۔۔اس لئے پاپا کے دوست واحباب کا بڑا حلقہ اس دعوت میں موجود تھا ۔۔۔۔پاپا چونکہ اکلوتے تھے اس لئے دادی کے بعد ددیال تو ختم ہی تھا اور ننھیال میں ایک خالہ اور ایک ماموں تھے خالہ ماہم کی والدہ تھیں جو حادثے کا شکار ہو چکیں تھیں اب تو صرف منور ماموں ہی تھے ۔۔۔۔لیکن مما پاپا نے انہیں کبھی انکی کم مائیگی کا احساس نہیں ہونے دیا تھا ۔۔۔۔سب ممانی ذرا زبان کی کڑوی تھیں ۔۔۔۔یا شاید مما سے کچھ جیلس تھیں اگر مما کی کوئی بات انکے ہاتھ لگ جاتی تو وہ بنا لحاظ کیے انہیں کہہ جاتیں اور یہ مما کا ظرف تھا کہ وہ پلٹ کر جواب نہیں دیتیں تھیں ۔۔۔۔۔۔ماہم جب لان میں آئی تو بلیک کلر کے ڈریس میں ملبوس تھی۔۔۔۔۔اور وہ بھی جو اس نے سال بھر پہلے میری ماموں زاد شفق کی شادی پر پہنا تھا ۔۔۔۔لیکن کیوں یہ میری سمجھ سے باہر تھا ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ میں اسے کچھ

پوچھتا وہ مما کے پاس جا کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔ممانی اور بہت سی پاپا کے دوستوں کی بیویاں بھی وہیں بیٹھی تھیں اس لئے میں ماہم کے پاس نہیں گیا مما نے ایک سمپل اور نفیس سی ساڑھی پہنی تھی ۔۔۔۔میں اتنے فاصلے پر کھڑا تھا کہ وہاں ہونے والی گفتگوں با آسانی سن سکتا تھا ۔۔۔۔ممانی کو توویسے ہی موقع چاہیے تھا اپنی جلن نکالنے کا مما نے ماہم کو دیکھ کر لب سے تو کچھ نہیں کہا مگر نظروں میں ناگواری سی سمٹ آئی ۔۔۔۔پھر وہ ماہم کو سب سے متعارف کروانے لگیں ۔۔۔۔ممانی نے باغور ماہم کو دیکھتے ہی فورا سے با آواز بلند کہنے لگیں

“ارے ماہم یہ تو وہی ڈریس ہے نا جو تم نے میری شفق کی شادی پر پہنا تھا ۔۔۔غالبا ولیمے پر۔۔”۔۔ وہ سوچتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔مما کی پیشانی شکنیں اور گہری ہوگئیں ماہم شاید یہ بات نوٹ کر چکی تھی اس لئے بات سنبھالنے لگی

“نہیں ممانی یہ وہ نہیں ہے ۔”۔۔۔ماہم بات سنبھالنے لگی

“ارے وہی تو ہے ۔۔۔۔ابھی کل ہی میں شفق کی شادی مووی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔جبھی تو مجھے یاد رہ گیا اور ڈائزائن بھی یہ آجکل کا نہیں ہے سال پرانہ ہے “۔۔۔۔وہ ماہم کے ڈوپٹے کا کونہ پکڑ کر منہ بنا کر بولیں ۔۔۔۔

ماہم خاموش سی ہو کر نظریں چرانے لگی ۔۔۔مجھے اسوقت ماہم پر جی بھر کے غصہ آنے لگا تھا جب اپنی پسند کی ہر چیز وہ خود لے کر لائی تھی تو پہنی کیوں نہیں ۔۔۔۔سب لوگ تو یہیں سمجھے گئے کہ شاید ہمارا رویہ ماہم سے ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔مما مہمانوں کو ملنے کا بہانہ کر کے وہاں سے اٹھ کر چلی گئیں

“اری ماہم آپاں بتا رہیں تھیں کہ یہ ساراارینجمنٹ تم نے کروایا ہے “۔۔۔۔ممانی نے چاروں طرف ستائشی نظریں ڈالتے ہوئے کہا ماہم نے واقع بہت خوبصورتی سے لان کا نقشہ ہی بدل دیا تھا ۔۔۔۔

“جی بس ایسے ہی” ۔۔۔۔ماہم کی نظریں مما کا تعاقب ہی کر رہیں تھیں شاید وہ مما کے بگڑے موڈ سے پریشان ہونے لگی تھی

“آپاں کو تو تمہارے روپ میں مفت کی نوکرانی مل گئ ہے ۔۔۔ساراگھر تو تم نے سنبھال رکھا ہے ۔۔۔۔اور وہ ۔۔۔۔وہ تو تمہارے سر پر عیش کر رہیں ہیں ۔۔۔سچ ہی کہا ہے کسی سیانے نے یتیم کو روٹی اسکی بوٹی نوچ کر دی جاتی ہے “۔۔۔۔ممانی کاتاسف بھرا لہجہ اور دلبرداشتہ قسم کی باتیں میرادل چاہا جا کر ماہم کو اچھی خاصی سنا دوں

“ایسی بات نہیں ہے ممانی خالہ میرا بہت خیال رکھتی ہیں مجھے کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی۔”۔۔۔ ماہم نے فورا وضاحت دی

“ہاں وہ دیکھ ہی لیا ہے کہ کتنا خیال رکھتی ہیں سال گزر گیا میری شفق کی شادی کو ارے کیا تھا جو ایک نیا جوڑا ہی تمہیں دلوا دیتیں ” ۔۔۔۔ممانی اسے سر سے پیر دیکھ استزائیہ انداز سے دیکھ کر بولیں

“ممانی خالہ نے نیاجوڑا دلوایا تھا مجھے ۔۔۔بس وہ پہنے کے بعد مجھے خود پر جچا نہیں اس لئے تبدیل کر لیا ۔۔۔۔اور کیا کشف اور کرن آپ کا ہاتھ نہیں بٹاتیں گھر کے کاموں میں ۔۔۔۔اگر میں بھی خالہ کے ساتھ کچھ کام کر دیتیں ہوں تو اس کا مطلب یہ تو نہیں مجھے سب نوکرانی سمجھتے ہیں ۔۔۔۔۔اور خالہ کی اپنی بیٹی ہوتی تو اتنا کام تو وہ بھی کرتی بس اب ختم کریں اس ٹاپک کو “۔۔۔۔ماہم نے ناگواری سے ممانی کو جواب دیے اور اٹھ کر وہاں سے چلی گئ کچھ ہی دیر میں ۔۔۔میں نے اسے گھیر لیا ممانی کی کڑوی کسیلی سن کر میرا دماغ پہلے ہی کھول رہا تھا اس لیے میرے لہجے میں سختی کی آمیزش تھی

“ماہی اندر چل کر ذرا میری بات سنو ۔۔”۔یہ کہہ کر میں نے اندر لاونج کی طرف اپنے قدم بڑھا دیے ماہم بھی میرے پیچھے آنے لگی لاونج میں اس وقت میرے اور ماہم کے علاؤہ اور کوئی نہیں تھا

“یہ سب کیا ہے ماہی تمہارا ڈریس کہاں ہے کیوں نہیں پہنا تم نے” ۔۔۔۔۔میرے ترش لہجے پر اسکے آنسوں بہنے لگے

“وہ ۔۔۔عفان ۔۔۔۔۔عفان وہ ۔”۔۔۔۔اسکے اس طرح رونے نے مجھے مزید تپا کر رکھ دیا

“ماہی میں نے تم سے بہت آرام سے پوچھا ہے ڈانٹا نہیں ہے تمہیں ۔۔۔جو تم اس طرح سے رونے لگو۔۔۔۔۔جانتی ہو نا ممانی کی عادت کو دس مہمانوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتیں وہ” ۔۔۔ میں با مشکل اپنا لہجہ متوازن کر کے کہا

“عفان وہ پہنے کے بعد مجھ پر سوٹ نہیں کر رہا تھا اس لئے ۔۔۔۔۔مجھے کیا معلوم تھا کہ ممانی بات کا بتنگڑ بنا دیں گئ” ۔۔۔۔اب وہ ہچکیوں سے رونے لگی

اف میرے خدایا پلیز تم پہلے یہ رونا تو بند کرو ۔۔۔۔میں نے جیب سے رومال نکال کر اسکے آنسوں صاف کیے ۔۔۔اور پھر رومال اسی کے ہاتھ میں پکڑا کر قدرے نرمی سے اسے سمجھانے لگا

“اگر ڈریس اچھا نہیں لگا تھا میرے ساتھ چل کر چینج کروا لیتی ۔۔۔۔چلو شاباش اب چپ کرو اور اپنا حلیہ درست کر کے باہر آنا ورنہ ممانی سمجھیں گئ کہ ہم مار پیٹ کرتے ہیں تم پر ۔۔۔اس لئے ہنستی مسکراتی ہوئی باہر آنا ۔۔۔۔”

“ٹھیک ہے” ۔۔۔۔وہ منہ بسورے ہوئے اوپر اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔۔میں دوبارہ سے لان میں واپس آ گیا ۔۔۔۔پاپا کامران کو سب سے بطور خاص ملوا رہے تھے ۔۔۔۔مگر کامران کافی کھنچا کھنچا سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔سب سے لیے دیے انداز سے مل رہا تھا ۔۔۔۔۔

******………*********………******…….******

ماہم کو پاڑی میں ہونے والی بد مزگی کا بری طرح سے قلق تھا ۔۔۔۔۔ماہم کے ڈریس کو لیکر کیا کچھ نہیں سنایا تھا نزہت بیگم نے صفیہ بیگم کو ۔۔۔ ماہم کو لگا صفیہ بیگم اس سے ناراض ہوں گی ۔۔۔۔یا ڈانٹیں گی وہ شرمندگی کے مارے صفیہ بیگم سے نظریں نہیں ملا رہی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔مگر ان کا رویہ ویسا ہی تھا جیسا روز ہوتا تھا انکے چہرے پر خفگی یا ناراضگی کا ذرا سا تاثر بھی نہیں تھا ۔۔۔ماہم سے وہ بیٹھی دعوت میں آنے والی عورتوں پر ویسے ہی تبصرے کر رہیں تھیں جیسے ہر بار کرتی تھی ۔۔۔۔ماہم بس یک ٹک انہیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔صفیہ بیگم کے عام سے رویے پر اسے تکلیف ہونے لگی ۔۔۔۔۔اسے لگا خالہ اسے اپنا نہیں سمجھتیں ورنہ ذکر تو ضرور کرتیں ۔۔۔۔مگر اسے صفیہ بیگم کے چہرے پر ایسے کوئی تاثرات ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہے تھے یا تو انہیں اپنے ضبط پر کمال حاصل تھا یا معاف کرنے کی صفت

بہت ذیادہ تھی ۔۔۔۔یا پھر وہ ماہم کو غیر سمجھتی تھی ۔۔۔ماہم کو انکے نارمل رویے سے یہی لگا ۔۔۔۔صفیہ بیگم ہنس ہنس کر پاڑی میں آنے والی خواتین کے قصے ماہم کو سنا رہیں تھیں جسے وہ غائب دماغی سے سن رہی تھی ماہم کو لگاوہ اپنی ہی نظروں سے گرتی چلی جا رہی ہو ۔۔۔جب ماہم سے رہا نہیں گیا تو وہ صفیہ بیگم کے برابر آ کر بیٹھ گئ انکے گلے میں اپنی بانہیں ڈال کر اپنا سر انکے سینے پر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔عین اسی وقت عفان لاونج میں داخل ہوا تھا ۔۔یونیورسٹی سے تھکا ہوا آیا تھا ۔۔۔۔ماہم کو یوں صفیہ بیگم کے ساتھ لگے روتا دیکھ کر سامنے صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔صفیہ بیگم خود بھی ماہم کے اس طرح بلا وجہ کے رونے بوکھلا سی گئیں تھیں

“کیا ہوا ہے ماہم ۔۔۔کیوں رو رہی ہو ۔۔۔کسی نے کچھ کہہ دیا تم سے “۔۔۔۔صفیہ بیگم نے ماہم کو اپنے ساتھ لگا کر نرمی سے پوچھا

“نہیں خالہ کسی نے کچھ نہیں کہا ۔۔۔۔مجھے بس آپ سے شکایت ہے ۔۔۔۔۔آپ مجھے اپنی بیٹی نہیں سمجھتی “۔۔۔۔۔ماہم روتے ہوئے بولی

“یہ کس نے کہہ دیا تم سے ۔”۔۔۔۔صفیہ بیگم نے پیار سے پوچھا

“ممانی نے آگ لگائی ہو گئ ۔۔۔۔وہی لیکر بیٹھی ہوئیں تھیں اسے ۔۔۔۔بڑے رازوں نیاز چل رہے تھے دونوں کے درمیان” ۔۔۔۔۔عفان نے اپنے جوگرز اتارتے ہوئے اپنی پیشن گوئی کی ماہم نے بے ساختہ سر اٹھا کر عفان کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ماہم اسکی آ مد سے بے خبر صفیہ بیگم کے گلے لگی اپنے شکوے کر رہی تھی ۔۔۔۔اب سیدھی ہو کر بیٹھ کر اپنے آنسوں صاف کرنے لگی عفان بھی موزے جوگرز میں ٹھونسنے کے بعد صوفے پر سیدھا بیٹھ کر ماہم کو دیکھنے لگا ۔

“نزہت نے کچھ کہا ہے تم سے “۔۔۔۔صفیہ بیگم کے لہجے میں۔ تشویش تھی مگر ماہم نفی میں سر ہلا گئ

“ہاں ۔۔۔ہاں ۔۔۔مما ممانی نے ہی کہا ہے ۔۔۔کہہ رہی۔ تھیں کہ ہم نے ماہم کو نوکر بنا کر ساری گھر کی زمہ داری اسکے ناتواں کندھوں پر ڈال دی ہیں ۔۔۔۔آپاں تو بیٹھ کر بس ماہم پر آرڈر جھارتی ہیں ۔۔۔۔سارے گھر کا کام جھاڑو پوچا کھانا سب ماہم کرتی ہے ۔۔۔۔بڑا ظلم کرتے ہیں ہم اس پر ۔۔۔۔اور تو اور ہم اسے اچھے کپڑے بھی بنوا کر نہیں دیتے” ۔۔۔۔عفان نے ایک کی دس کر کے صفیہ بیگم کو بتائیں تھیں ماہم عفان کو گھورنے لگی پھر صفیہ بیگم کو وضاحتیں دینے لگی

“جھوٹ بول رہا ہے خالہ یہ ۔۔۔۔ممانی نے ایسا کچھ نہیں کہا ۔”۔۔۔ماہم نے فورا ترید کر دی ۔۔۔۔

“پھر تم کیوں رہی ہو “۔۔۔۔عفان نے وجہ دریافت کی

“ہاں بولو بیٹا کیوں رو رہی ہو ۔۔۔۔میری کس بات سے لگا کہ میں تمہیں بیٹی نہیں سمجھتی “۔۔۔۔۔۔۔صفیہ بیگم بھی پوچھنے لگی

“میں نے کل نیا ڈریس جو نہیں پہنا تھا ۔۔۔۔ ممانی نے سب کے سامنے یہ جتانا چاہا کہ آپ میرا خیال نہیں رکھتیں ۔۔۔۔”

“مجھے بتایا تھا عفان نے کہ تمہیں وہ کلر پہنے کے بعد خود پر اچھا نہیں لگا تھا ۔۔۔۔۔اور نزہت کی تو عادت ہے لگائی بجھائی کرنے کی ۔۔۔۔۔یہ کوئی نئ بات تو نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔”

“لیکن آپ کو مجھے ڈانٹنا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔مجھ سے غصے سے پوچھتی کہ میں نے ایسا کیوں کیا ۔۔۔۔مجھے سختی سے کہتی کہ میں آئندہ ایسا نا کروں ۔۔۔۔اگر میں آپ کی سگی۔بیٹی ہوتی تو پھر آپ مجھے ضرور ڈانتیں خالہ” ۔۔۔۔۔ماہم کی بات پر صفیہ مسکرانے لگیں

“مجھے معلوم ہے کہ تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہو چکا ہے اور تم اسے دوہراو گی بھی نہیں ۔۔۔پھر بلا وجہ کیوں دانٹوں تمہیں” ۔۔۔۔صفیہ بیگم نے اسکے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

“نہیں مما اگر اسے اتنا ہی شوق ہے تو ڈانٹ دیں اسے ۔۔۔ورنہ میں اسکی یہ آرزو پوری کر دیتا ہوں ۔۔۔”۔عفان اٹھ کر ماہم کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔

“اب بتاوں کان کھنچوں تمہارے یا تھپڑ سے کام چل جائے گا “۔۔۔عفان نے اپنی ہتھیلی دیکھاتے ہوئے کہا

“تم چھوٹے ہو مجھ سے اس لئے ذیادہ بڑے بننے کی کوشش مت کرو “۔۔۔۔ماہم نے جتاتے ہوئے کہا ۔۔۔عفان نے اس کا کان پکڑ لیا

“بہت بڑی ہو مجھ سے بتاؤں تمہیں میں۔۔۔۔”

“عفان کے بچے کان چھوڑو میرا خالہ دیکھے اسے”۔۔۔۔

عفان نے اسکا کام چھوڑ دیا

“عفان مت تنگ کرو میری بیٹی کو” ۔۔۔صفیہ بیگم کی سرزش بھی پیار بھری تھی

“مما آج آپ مجھے بتا ہی دیں ۔۔۔۔کس اینگل سے یہ مجھ سے بڑی لگتی ہے” ۔۔۔۔۔عفان نے ماہم کے قریب کھڑے ہوتے ہوئے صفیہ بیگم سے پوچھا

“ایسے کوئی خاص فرق بھی نہیں ہے ۔۔۔یہیں کوئی آٹھ دس ماہ کا فرق ہو گا ۔۔۔ لڑکے تو ویسے بھی بڑے لگتے ہیں ۔۔۔۔”

“سن لیا تم نے….ہو گئ تسلی ۔۔۔اب مجھے چھوٹے ہونے کا طعنہ مت دینا دوبارہ ۔۔۔۔”

“کیوں نا دوں ۔۔۔۔ وہ تو میں ضرور دونگی ۔۔۔۔۔تم چھوٹے ہو مجھ سے” ۔۔۔۔ماہم یہ کہہ کر ایک تھپکی اسکی کمر پر لگا کر بھاگ گئ۔۔۔۔۔۔صفیہ بیگم انکی نوک جھونک پر مسکرانے لگیں

کچھ دن یونہی گزر گئے آفس میں نئے پرجیک کی وجہ سے کام کافی بڑھ گیا تھا اس لئے میں کچھ دیر سے گھر پہنچا تھا ۔۔۔اور تھکان بھی بہت محسوس ہو رہی تھی سامنے لاونج میں صوفے پرمما بیٹھی تھی کسی گہری سوچ میں گم ورنہ تو اسوقت ماہم اور مما ٹی وی میں مصروف ہوتی تھیں یا باتوں میں گھر کی خاموشی مجھے کچھ عجیب سی لگ رہی تھی ۔۔۔۔میں نے مما کو سلام کیا تووہ چونک سی گئیں

“آگئے تم عفان۔”

“جی مما آپ کس خیال میں کھوئی ہوئی ہیں۔”۔۔۔میں مما کے پاس ہی صوفے پر بیٹھ گیا اور اپنا بیگ سائیڈ پر رکھ کر اپنی ٹائی کی نٹ ڈھیلی کرنے لگا

“کچھ بھی نہیں بس یونہی “

“ہمم ۔۔۔۔۔یونہی تو آپ کبھی ایسی اداس اداس نہیں لگتیں” ۔۔۔۔۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھ سرکے پیچھے رکھ کر صوفے کی پشت پر ٹیک لگا کر کہا میری بات سن پر بھی وہ مسکرا نا سکیں

“ماہی کہاں ہے مما نظر نہیں آ رہی” ۔۔۔۔۔میں چاروں طرف نظریں گھما کر دیکھنے لگا

“اپنے کمرے میں ہو گئ ۔”۔۔۔مما کے بے لچک انداز پر میں سیدھا کر بیٹھ گیا

“کمرے میں ۔۔۔۔۔اس وقت ۔۔۔۔ٹھیک تو ہے وہ ۔۔۔۔اس وقت تو وہ کبھی کمرے میں نہیں ہوتی ۔۔۔۔اچھا خیر میں اسے بلا کر لاتا ہوں اور پھر ملکر چائے پیتے ہیں”۔۔۔۔۔میں نے لاپروائی سے کہتے ہوئے اپنا بیگ اٹھایا اور کھڑا ہونے لگا

“نہیں عفان تم ماہم کو رہنے دو چائے میں تمہیں بنا دیتی ہوں” ۔۔۔مما نے فورا مجھےمنع کر دیا ۔۔۔۔مما کے چہرے پر پھیلے آزردگی کے سائے دیکھ کر میرے ذہن میں خلفشاری سی امڈنے لگی

“کیا بات ہے مما کچھ ہوا ہے آپ اتنی اپ سیٹ کیوں لگ رہیں ہیں” ۔۔۔۔میں مما کو جانچنے کی کوشش کرنے لگا میرادل عجیب سی کشمش کا شکار ہونے لگا

” سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔تم تھکے تھکے لگ رہے ہو ۔۔۔میں

چائے لاتی ہوں” ۔۔۔۔مما کے مغموم چہرے اور ضبط کو دیکھ کر مجھے کسی گڑبڑ کا احساس ہونے لگا تھا تھا

“مما میں یہ تو مان ہی نہیں سکتا کہ آپکی اور ماہی کی کونی ان بن ہوئی ہے ۔۔۔۔بات کیا ہے آپ بہت پریشان لگ رہیں ہیں مجھے ۔۔۔کیا ہوا ہے “۔۔۔۔میرادل وسوسوں کی زد میں گھرا ہوا تھا

“بات تو مجھے تم سے کرنی ہے عفان ۔۔۔۔تم میرے کمرے میں جا کر بیٹھو ۔۔۔پہلے چائے پی لو ۔۔۔بلکہ کھانا گرم کر دیتی ہوں ۔۔۔”

“مجھے کچھ نہیں کھانا ۔۔۔۔پلیز آپ بتائیں کیا ہوا۔۔۔۔”

میں نے مما کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی

“اچھا آؤں میرے کمرے میں یہاں بات کرنا مناسب نہیں تمہارے پاپا اور کامران بھی پہچنے والے ہیں پھر ماہم بھی نیچے آ سکتی ہے ۔”۔۔۔۔مما کھڑی ہوئیں تو میں بھی انکے ساتھ انکے کمرے میں آ گیا مما کے ساتھ انکے بیڈ پر بیٹھ گیا

ا”ب بتائیں مما کیا پرابلم ہے” ۔۔۔۔مما مجھ سے نظریں چرانے لگیں پھر جیسے با مشکل میری طرف دیکھ کر بولیں

“پہلے مجھے یہ بتاؤں عفان ۔۔۔۔ماہم کے بارے میں تمہارے جو بھی خیالات ہیں کیا ماہم ان سے واقف ہے ۔۔۔۔۔”

“نہیں مما وہ نہیں جانتی ۔۔۔۔اور میں ابھی اسے بتانا بھی نہیں چاہتا لیکن وقت آنے پر بتا دوں گا اور مجھے یقین ہے کہ اسے اعتراض نہیں ہو گا ۔”۔۔۔ میرا لہجہ پر اعتماد تھا مگر مما نظریں چرانے لگیں

“دراصل بات یہ ہے عفان ۔۔۔۔کل میں نے اور رضا نے کامران سے اسکی پسند پوچھی تھی۔۔۔۔۔جانتے ہو اس نے کس کا نام لیا ہے “۔۔۔۔مما کے استفہام پر میں کندھے آچکا کر رہ گیا

“‘ماہم کا””

“واٹ” ۔۔۔۔مجھے بڑی زور کا دھچکا سا لگا

“کامران بھائی اور ماہی ۔۔۔۔نو ۔۔۔انپوسبل ۔۔۔۔میں مان ہی نہیں سکتا ۔”۔۔۔میں بے یقینی سے نفی میں سر ہلا کر کہا

“”کامران بھائی اور ماہی ۔۔۔نہیں ۔۔۔۔مما میں نہیں مانتا ۔۔۔انہوں نے کبھی ماہی سے سیدھے منہ بات تک نہیں کی ۔۔۔۔پھر شادی ۔۔۔۔۔نہیں آپ کو سننے میں غلطی لگی ہے ۔۔۔بھائی ۔۔۔اور ماہی نہیں” ۔۔۔میں بار بار نفی سر ہلنے لگا ۔۔۔۔۔میرا ذہن اس بات کو قبول کرنے سے انکاری تھا ۔۔۔۔۔بھائی کا رویہ کبھی ماہم کے لئے اچھا نہیں رہا تھا ۔۔۔اور پھر جس طرح کی ڈیمانڈ بھائی رکھتے تھے ماہم اس پر پوری نہیں اترتی تھی انکی نظر میں ماہی ایک بے آسرا اور یتیم سی کزن تھی جو انکے ٹکڑوں پر پل رہی تھی ۔۔۔ایسی لڑکی سے شادی ۔۔۔۔نہیں جھوٹ تھا یہ سب ۔۔۔میرے دماغ کی طنابیں کھنچنے لگیں تھیں مگر میرے لئے آج ایسے اور بھی بہت سے انکشافات ابھی باقی تھے۔۔۔مما خود بھی مضطرب تھیں

“ایسی ہی حیرت مجھے اور رضا کو بھی ہوئی تھی کیونکہ ماہم کے ہر آنے والے رشتے پر کامران کی بھرپور حمایت ہوتی تھی تب اس نے اپنی ایسی کسی خواہش کا اظہار نہیں کیا بلکہ اسکی تو پوری کوشش تھی کہ ہم ماہم۔ کی بات ان رشتوں کے لئے آگے بڑھائیں ۔۔۔۔۔مگر عفان اصل تعجب تو مجھے اسوقت ہوا جب ماہم نے بھی کامران کے لئے اپنی رضامندی با خوشی ظاہر کی” ۔۔۔۔۔مما کی بات میرے اعصاب پر بم پھوڑنے کے مترادف تھی

“ماہی” ۔۔۔۔۔۔میں مخبوط حواس سا ہو گیا ۔۔۔۔”میرادماغ چکرانے لگا تھا ۔۔۔۔میں نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر جکڑ لیا مجھے لگااسمان میرے سر پر آن گرا ہو یا پیروں سے زمیں کھسکنے لگی ہو ۔۔۔۔۔

“ماہم کیسے بھائی کے لئے مان سکتی ہے ۔۔۔۔شاید وہ ڈرتی ہے ان سے ۔۔۔خوف کھاتی ہے ۔۔۔۔۔۔

گھبرا گئ ہو گی کہ اس کے انکار پر کہیں کامران بھائی اسے ڈانٹیں نا غصہ نا کریں” ۔۔۔۔میں اپنے دل میں آنے والے خدشوں سے خود کو بہلانے لگا ۔۔۔مجھے اب ماہم سے ہر حال میں پوچھنا تھا وہ مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتی تھی۔۔۔۔میں کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔

“کہاں جا رہے ہو عفان “

“مجھے ماہی سے بات کرنی ہے “۔۔۔۔میں اپنے آنکھوں میں امڈنے والے آنسوں کو چھپاتے ہوئے بولا

“میری بات سنو ۔۔۔۔اگر ماہم کی یہی مرضی ہے عفان تو تمہیں بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے” ۔۔۔۔میں نے مما کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا میرے دماغ میں اس وقت چکر سے چلنے شروع ہو گئے تھے اپنا ہر قدم مجھے منوں بھاری لگ رہا تھا ۔۔۔۔

ماہم مجھ سے اپنی ہر بات شیر کرتی تھی اگر اسکے دل میں ایسا کوئی جذبہ تھا بھی تو مجھ سے کیسے چھپا سکتی تھی ۔۔۔۔اتنا بڑا فیصلہ مجھ سے پوچھے بغیر کیسے کر سکتی تھی ۔۔۔۔وہ تو مجھ سے ذرا ذرا سی بات بھی پوچھ کر کرتی تھی ۔۔۔۔

“عفان میرے کالج میں فنگشن ہے تم بتاؤ

کونسا ڈریس مجھ پر ذیادہ سوٹ کرے گا ۔۔۔۔۔۔اچھا یہ بتاؤں میں فرسٹ ائیر میں سبجیکٹ کون کون سے لوں ۔۔۔۔تمہیں توپتا ہے نا میں کیا اچھا پڑھ سکتی ہوں ۔۔۔۔۔عفان بتاؤں اس ڈریس کے ساتھ سینڈل اچھے لگیں گئے یا ہیل پہنو ۔۔۔۔بال کیسے رکھو ۔۔۔۔ایر رنگ کیسے پہنو ۔۔۔۔۔اپنی دوست کو گفٹ میں کیا دوں” ۔۔۔اوپر کا۔زینہ چڑھتے ہوئے مجھے اسکی مختلف موقعوں پر کہی گئ ماہم کی باتیں یاد آنے لگیں ۔۔۔۔جب وہ اپنے چھوٹے چھوٹے معاملات مجھ سے پوچھے بغیر نہیں کرتی تھی تو پھر اتنا بڑا فیصلہ کیسے کر سکتی تھی ۔۔۔۔میں با مشکل اسکے کمرے تک پہنچا تھا