458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 5

Tadbeer by Umme Hani

اوپر کمرے میں آکر بھی میں کافی دیر اپنے رائٹنگ ٹیبل پر بیٹھا رہا مگر کچھ بھی پڑھ نہیں پا رہا تھا تنگ آکر اپنی کتابوں کو بند کیا ۔۔۔۔اور ٹیرس میں آکر کھڑا ہو گیا اپنے ٹراوزر کی جیب میں دونوں ہاتھ پھنسا کر نیچے لان میں نظر ڈالی مما پاپا وہیں کرسیوں میں بیٹھے باتوں میں مصروف تھے ۔۔۔۔ارد گرد سے بے خبر مما پاپا کی کسی بات پر کھلکھلا کر ہسنے لگیں ۔۔۔۔اس عمر میں بھی مما کے چہرے پر نئ نویلی دلہنوں والی چمک تھی اور اسکی وجہ پاپا کی محبت اور کیر تھیں جو انہیں بوڑھا نہیں ہونے دیتی تھی ۔۔۔۔میں کبھی اپنے مما پاپا کی شادی شدہ زندگی کو پرانے ہوتے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔اب بھی پاپا اپنی اینورسری بڑے اہتمام سے مناتے تھے ۔۔۔مما دیکھنے میں بہت گریس فل قسم کی ہے خاتون تھی چہرے پر ہمہ وقت مسکراہٹ سجائے رکھنے والی ۔۔۔۔۔انکی لہجے میں نرمی اور میٹھاس گھلی رہتی تھی ۔۔۔۔۔

۔اور پاپا ۔۔۔۔بے شک وہ ایک پروقار اور بارعب شخصیت کے مالک تھے چہرے پر متانت اور سنجیدگی کا بہترین امتزاج تھا لیکن پھر بھی انہوں نے ہم سے دوستانہ تعلق استوار رکھے تھے ہم سے ہماری تعلیم سے لیکر کیریر تک کو ڈسکس کرتے تھے ۔۔۔۔۔اور گھر پر پاپا کا ہی آرڈر چلتا تھا ۔۔۔۔۔میں نے آج تک کبھی مما کو پاپا کی بات ٹالتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔پاپا کی بات گھر میں حرف آخر کا درجہ رکھتی تھی مما کو اس وقت مداخلت کی قطعی اجازت نہیں ہوتی جب پاپا ہم تینوں سے کسی کی باز پرس کرتے اسوقت مما کا کردار بس ایک خاموش سامعی کا ہی بی ہوتا تھا پاپا کا کہنا تھا کہ پاپا کی ڈانٹ کے دوران ماں کی مداخلت بچوں میں بگاڑ پیدا کرتی ہے ۔۔۔۔اور پاپا مما کے گھریلوں معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتے تھے ۔۔۔۔۔مگر آپس میں جب وہ مل بیٹھتے تو اپنی گزری زندگی کے حسین لمحات کو ہی یاد کرتے تھے ۔۔۔۔ایسی ہی خوبصورت زندگی کے

خواب میں بھی دیکھنے لگا تھا ماہم مما کی پرتو ہی تو تھی ۔۔۔۔۔۔۔ہر بات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے والی اسے سب کو خوش رکھ کر خوشی حاصل ہوتی تھی ۔۔۔۔۔۔گاڑی کے ہارن نے میری سوچوں کے جمود کو توڑ دیا میں نے چونک کر دیکھا تو کامران اور ماہم واپس آ چکے تھے ۔۔۔۔۔۔چوکیدار مین گیٹ کھول رہا تھا میں واپس اپنے کمرے میں آگیا ۔۔۔۔

شام لاونج میں بیٹھے میں اور ماہم ٹی وی پر اپنے پسند کا ٹاک شاک دیکھ رہے تھے سامنے رکھی سینٹرل ٹیبل کے قریب رکھے کشن پر بیٹھے ساتھ ساتھ ماہم کے بنائے ہوئے چوکلیٹ کیک اور چائے سے بھی لطف اندوز ہی و رہے تھے آج کل ماہم پر بیکنگ کا جنون سوار تھا ۔۔۔۔مما پیچھے صوفے پر بیٹھیں صرف چائے ہی پی رہیں تھیں ۔۔۔۔ٹی وی پر چلنے والا ٹاک شو ایک سیاسی بحث پر مشتمل تھا مگر اس میں طنز و مزاح کا بھی عنصر شامل تھا ۔۔۔۔مزاق مزاق میں جس طرح سے اینکر ایک سیاسی مشیر کو ادھیڑ رہا تھا ۔۔۔۔ہم دونوں کی دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔انکی باتوں پر جب بھی ماہم اپنا کوئی تبصرہ دیتی میں اسے آنکھیں دیکھانے لگتا ۔۔۔۔۔میں وہ پروگرام خاموشی سے دیکھنا چاہتا تھا مگر ماہم کا بولنا تو جیسے فرض تھا

“ویسے نا عفان اس اینکر کو یہ بھی پوچھنا چاہیے باہر کے ممالک کے بنکوں میں عوام کے کتنے اثاثے انکے اکاونٹس میں جمع ہیں ۔۔۔”۔

“ماہی “۔۔۔۔۔میں اسے آنکھیں دیکھاتے ہوئے چپ رہنے کا اشارہ کیا تو وہ سر ہلا کر خاموش ہو گئ ۔۔۔۔مگر پھر کوئی ایسی بات چھڑ جاتی کے ماہم سے کہے بنا نہیں رہا جاتا تھا ایک میرے سامنے ہی اسکی زبان کو بریک نہیں لگتی تھی ۔۔۔۔۔

“ماہی تم “۔۔۔۔میں نے گردن اسکی طرف گھما کر دانت کچکچا کر کہا اور بری طرح اسے گھورا مگر وہ کہاں مجھ سے ڈرتی تھی

“اچھا نا ۔۔۔نہیں بولتی اب” ۔۔۔۔۔ ماہم نے اپنے ہاتھ سے میرا چہرا پکڑ کر ٹی کی طرف گھما دیا

“ادھر دیکھوں اتنی ڈرونی شکلیں بنا بنا کر مجھے مت دیکھا کرو” ۔۔۔۔۔وہ معصومیت سے بولی کہ میرا غصہ اسے دیکھ کر ہی غائب ہو گیا میں مسکرا کر اسے دیکھنے لگا کتنی معصومیت تھی اسکے صبیح

چہرے پر اور اسکی ہنسی بلکل بچوں جیسی ہر بناوٹ سے پاک اور اسکی شفاف سی آنکھیں کتنی روشن اور شرارت سے چمکتی ہوئیں جیسے کوئی قندلیں سے جل رہی ہوں کچھ پل تو میں سارا ٹاک شاک بھول بھال کر اسکی کے چہرے پر مبہوت سا ہو گیا ۔۔۔۔۔ ماہم کی نظریں اب ٹی وی پر ہی مرکوز تھیں باہر کی بیل ہونے پر میں ذرا سا چونک گیا پھر اپنی ہی حرکت پر سبکی سی محسوس ہونے لگی میں نے فورا نظروں کا زاویہ بدل لیا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں راشد کندھے پر رومال ڈالے لہک لہک کر گنگناتے ہوئے لاونج کے بیرونی دروازے سے داخل ہوا۔۔۔۔

بڑی بیگم صاحبہ ۔۔۔۔۔وہ جو سامنے والے بنگلے میں نئے لوگ شفٹ ہوئے ہیں انکی خواتین آپ سے ملنے آئیں جی ۔۔۔۔۔راشد نے مما سے مخاطب ہو کر پوچھا مما جو میری اور ماہم کہ نوک جھوک پر مسکرارہی تھیں راشد کی طرف متوجہ ہو گئیں

اچھا ۔۔۔۔ایسا کروں انہیں ڈرائنگ روم میں بیٹھاوں اور رانی سے کہو کی چائے پانی کا انتظام کرے میں آتی ہوں ۔۔۔۔مما نے ہاتھ میں پکڑا چائے کا خالی کپ سینٹرل ٹیبل پر رکھا اور ڈرائنگ روم میں چلی گئیں

تقریبا بیس منٹ بعد مما عجلت بھرے انداز سے ماہم کے پاس آئیں اور مسکرا کر بولیں

“ماہم ذرا اپنا حلیہ درست کر کے اندر چلو میرے ساتھ “

“کیوں خالہ” ۔۔۔۔ابھی رک جائیں بس یہ ٹاک شاک ختم ہی ہونے والا ہے ۔۔۔۔ماہم بے زار سی ہو کر بولی

“ارے چھوڑو اسے وہ خواتین خاص طور پر تم سے ملنا چاہتی ہیں ۔۔۔۔کپڑے تو تمہارے ٹھیک ہی ہیں بس ذرا یہ کیچر اتارو بال وال ٹھیک کر لو” ۔۔۔۔مما ماہم کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے بولیں ۔۔۔

میری نظر بھی مما کی طرف ہی تھی

“خالہ مجھ سے کیوں ملنا چاہتی ہیں میں کونسا جانتی ہوں انہیں” ۔۔۔۔ ماہم نے کوفت بھرے انداز سے کہا مما زچ ہونے لگیں

“کیا بچپنا ہے ماہم ۔۔۔چلو اٹھو جلدی ۔۔۔۔۔دیکھ لیا ہو گا تمہیں کالج آتے جاتے اتنے اصرار اور چاہت سے تم سے ملنے پر با ضد ہیں کہ تم سے ملاقات کیے بغیر نہیں جائیں گئیں ۔۔۔۔اور تم ہو کہ نخرے ہی ختم نہیں ہو رہے تمہارے ۔۔”۔۔مما کی معنی خیز مسکراہٹ شاید ماہم کی سمجھ سے بالا تر تھی مگر میں ضرور ٹھنک گیا تھا ۔۔۔۔ماہم نے گود میں لیا ہوا کوشن صوفے پر رکھا اور کھڑی ہو کر اپنی قمیض درست کرنے کے بعد کیچر اتار کر ہاتھوں سے اپنے لیز میں کٹے سلکی بات سیٹ کرنے لگی ۔۔۔۔میں نے فورا سے پیشتر کھڑا ہو گیا

“مما ماہی سے کیوں ملنا چاہتی ہیں وہ ۔۔ مقصد کیا ہے ان کا “۔۔۔۔میں دو ٹوک انداز سے پوچھنے لگا

“بعد میں بتا دونگی عفان ۔۔۔تم چلو ماہم “۔۔۔مما کو نا جانے کس بات کی جلدی تھی میں مما اور ماہم کے بیچ میں کھڑا ہو گیا

“مما یہ نہیں جائے گی ۔۔۔۔ماہی بیٹھو تم ادھر ۔۔۔۔ آپ پہلے مجھے انکی آمد کا مقصد واضع کریں “۔۔۔۔میرے سرخ ہوتے چہرے اور اشتعال آمیز لہجے پر مما کچھ متحیر سی تھی پھر گہری سانس لیکر بولیں

“اصل میں وہ آجکل اپنے بیٹے کے لئے رشتہ ڈھونڈ رہیں تھیں ۔۔۔۔۔ماہم کو کالج آتے جاتے دیکھ لیا ۔۔۔۔انہیں ماہم اچھی لگی اس لئے ملنا چاہتی ہیں ۔۔۔”

“کیا ہو گیا مما آپ کو وہ لوگ کون ہیں کون نہیں کیا جانتی ہیں آپ انکے بارے میں جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے انہیں یہاں شفٹ ہوئے اور انہوں نے رشتے کی پشکش بھی کر دی اور آپ بھی ماہی کو انکے سامنے لے جانے پر راضی ۔”۔۔۔میرے تو تلوں پر لگی تو سر پر جا کے بجھی تھی ہو کیا گیا تھا مما کو

“ہم کون سا رشتہ طے کر رہے ہیں ماہم کا کچھ دیر ماہم کے بیٹھ جانے میں ایسا کوئی حرج بھی نہیں ہے ۔۔۔۔”

“ماہی نہیں جائے گی مما ۔۔۔۔کوئی بھی ایرا غیرا ماہم کا طلبگار بن کر آئے گا تو کیا آپ ہر ایک کے سامنے ماہم کو بیٹھا دیں گی ہر گز نہیں ۔۔۔۔چائے شربت پلا کر چلتا پھرتا کریں انکو ۔۔۔ورنہ میں انکا بنا لحاظ کیے انہیں یہاں سے بھیج دونگا ۔”۔۔۔۔میرے غصے سے بھبک کر بولا تو مما واپس ڈرائنگ روم

میں چلی گئیں ۔۔۔۔میرا دماغ کھول رہا تھا اپنے کمرے میں آ کر میں بے چینی سے اسی نہج پر سوچنے لگا یہ تو میرے گمان میں نہیں تھا کہ میری ماہی مجھ سے چھن بھی سکتی ہے ۔۔۔۔۔ میں تو یہ سب بھولے بیٹھا تھا ۔۔۔۔یہ سوچ سوچ کر میرا غصہ کم ہونے پر نہیں آ رہا تھا