Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 35
Rate this Novel
Tadbeer Episode 35
Tadbeer by Umme Hani
کھانے کے بعد جب ہم گھر پہنچے سب سو چکے تھے۔۔۔ماہم نا جانے کیوں چپ چپ سی تھی پورے راستے بھی خاموش ہی رہی ۔۔۔۔مجھے لگا وہ کچھ کہنا چاہتی ہے مجھ سے ۔۔مگر کہہ نہیں پا رہی ۔۔۔۔۔کمرے میں آ کر وہ اپنی جیولری اترتے ہوئے مجھے آفس میں مزید کچھ اور ڈیکورشن کے بارے میں بتانے لگی میں ڈرسنگ کے قریب آ گیا ۔۔۔۔ماہم کا ہاتھ پکڑے اسے وہاں سے کھڑا کیا اور بیڈ پر بیٹھا کر خود بھی اسکے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔۔
“ماہی آفس میں مزید کسی ڈیکورشن کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔البتہ ہمارے کمرے کو ہے ۔۔۔یہ کہیں سے بھی نیو وڈنگ روم نہیں لگتا “۔۔۔۔میری نظریں ماہم پر تھی تھیں ۔۔۔۔میرے پسندیدہ ساڑھی میں وہ آج کتنی حسین لگ رہی ۔۔۔ مجھے اسے یہ بھی تو بتانا تھا ماہم نے ایک نظر کمرے پر ڈالی
“واقع عفان میں نے تو پہلے غور ہی نہیں کیا ۔۔۔۔ یہ فرنیچر بھی کافی پرانہ ہو چکا ہے ۔۔۔۔اور یہ کرٹن اسکا ڈائزائن بھی کتنا عجیب ہے ۔۔۔۔یہ رائٹنگ ٹیبل بھی یہاں سے ہٹ جانا چاہیے تم کون سا اب کتابیں پڑھتے ہو ۔۔۔۔ میں یہ کتابیں بھی “۔۔۔۔۔میں نے ماہم کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔
“جو جی میں آئے کر لینا یہ کمرہ اب تمہارا ہے ۔۔۔۔جیسے چاہو ایسے سجاو”۔۔۔۔اس وقت مجھے کمرے سے زیادہ کمرے میں موجود اپنی بیوی میں دلچسپی تھی ۔۔۔۔میرے ہاتھ ہٹاتے ہی ماہم بھی چپ ہو گئ ۔۔۔۔
“ماہی ۔۔۔۔صرف ۔۔۔۔۔کمرے کو نہیں ۔۔۔۔۔میری زندگی کو تم ہی نے سجانا ہے ۔۔۔۔۔اسکے بارے میں کیا خیال ہے “۔۔۔۔۔۔میری بات پر وہ نظریں جھکانے لگی نظروں کو دائیں بائیں گھمانے لگی میری بات کا مفہوم سمجھ کر نروس ہو رہی تھی
کچھ ثانیے وہ خاموش ہی رہی
“تمہیں معلوم ہے کتنی پیاری لگ رہی تم آج ۔۔۔۔میں نہیں جانتا کہ تمہیں ساڑھی اتنی کیوں پسند ہے ۔۔۔مگر سچ یہ ہے ماہی کہ مجھے بھی تم ساڑھی میں سب سے ذیادہ خوبصورت لگتی ہو ۔۔۔۔۔”
“کتنی خوبصورت۔۔۔۔مثلا” وہ نظریں جھکائے دلفریب سی مسکراہٹ سجائے بولی
“مثلا”۔۔۔۔میرے ذہن ۔میں کوئی بھی مثال نہیں آ رہی تھی۔۔
“جیسے ۔۔۔۔جیسے ۔۔۔ نیو برئنڈ بلڈنگ “میری ۔مثال پر ماہم کے تیور بدلنے لگے
“تمہیں جب تعریف آتی ہی نہیں ہے تو مت کیا کرو۔۔۔۔وہ اٹھنے لگی تو میں نے برجستہ اس سے پوچھا
“ڈو یو لو می “۔۔۔۔میں فورا سے بات کو نیا رخ دیا تھا
“عفان کل گروسری کے لئے مجھے صبح جلدی اٹھ کر خالہ کے ساتھ بازار جانا ہے” ۔۔۔۔وہ بہانے بنانے لگی تھی
“یہ میری بات کا جواب نہیں ہے ۔”۔۔۔میں نے ماہم کے بیڈ پر دھرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔
“فی الحال میرا مسلہ میرا دل ہے ماہی ۔۔۔۔جو اب تم سے دور رہنے پر راضی نہیں ہے”۔۔۔۔میری نظروں کا والہانہ پن تھا کہ ماہم گھبرانے لگی تھی شرم سے اسکے چہرے پر آنے والے رنگ اسکی دلکشی کو بڑھا رہے تھے ۔۔۔۔ایک انوکھا سا روپ لئے وہ ۔میرے سامنے تھی …. کب وہ یوں مجھ سے شرماتی تھی ۔۔۔یہ رنگ تو پہلی بار میں اسکے چہرے پر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
“ماہی میرے نزدیک تمہاری خوشی اور رضا مندی بہت اہمیت رکھتی ہے” ۔۔۔۔میں چاہتا تھا وہ کچھ کہے مجھ سے مگر وہ کچھ نہیں بولی ۔۔۔۔
“کچھ کہو گئ نہیں۔۔۔۔۔ تم سے بہت کچھ سننا چاہتا ہوں یار” ۔۔۔۔۔مجھے ماہم کی چپ بری لگ رہی تھی ۔۔۔”ٹھیک ہے میں تعریف کرنے میں اناڑی ضرور تھا مگر محبت کا اظہار تو ٹھیک ہی کر رہا تھا ۔۔۔۔کم از کم یہ تو اسے تسلیم کرنا چاہیے تھا
“تمہیں خود سمجھنا چاہیے نا عفان لڑکیان اتنی بھی بولڈ نہیں ہوتیں” ۔۔۔۔اسکی بات سمجھ کر میری ہنسی بے اختیار تھی واقع یہ تو میں نےسوچا ہی نہیں تھا کہ وہ شرم سے بھی خاموش ہو سکتی ہے ۔۔۔۔حالانکہ اس کا چہرہ اور انداز میں شرم و حیا واضع طور پر محسوس ہو رہی تھی
“تم ہنس کیوں رہے ہو” ٫وہ خفگی دیکھانے لگی ۔۔۔میں فورا سے سنبھل کر بولا
“اوہ۔۔۔۔۔۔اٹس مائے مسٹیک ۔۔۔۔۔۔مجھے سمجھنا چاہیے تھا کہ سامنے بیٹھی لڑکی کو ایسے موقع پر شرم بھی آ سکتی ہے۔۔۔۔ لیکن تم مجھ سے شرماؤ گی ۔۔۔۔۔۔۔ماہی میں تم سے کچھ بھی اکسپکٹ کر سکتا ہوں ۔مگر تم مجھ سے یوں شرما۔ بھی سکتی ہو۔یہ یقین کرنا مشکل ہے۔۔۔۔۔۔۔” ۔۔۔۔ماہم نے نظریں نہیں اٹھائی تھیں ۔۔۔۔۔ ماہم کا ہاتھ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا ۔۔۔۔۔وہ نظریں چرانے لگی
“تمہارے ہاتھ بہت نازک اور خوبصورت ہیں ۔۔۔
مجھے معلوم ہے تم منہ سے کچھ نہیں کہو گی لیکن اگر اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں رہنے دو تو سمجھ جاؤں گا کہ تمہیں میرا ساتھ پسند ہے اور اگر تم نے اپنا ہاتھ کھنچ لیا تو بھی کوئی بات نہیں تمہارا انتظار کر سکتا ہوں میں” ۔۔۔۔۔ماہم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہی رہنے دیا تھا ۔۔۔جسے میں نے اپنے لبوں سے لگا لیا تھا
******………*******………*******…….********
صبح میں ماہم کے اٹھنے سے پہلے ہی اٹھ چکا تھا ۔۔۔۔وہ بے خبر سو رہی تھی ۔۔۔۔محبت کرنا اور اسے پا لینا کتنا حسین اور دلفریب احساس ہے یہ میں نے آج جانا تھا ۔۔۔زبردستی سے انسان غلامی تو کروا سکتا ہے پر محبت نہیں اور آج میں نے اپنی محبت کو پایا تھا ۔۔۔۔میں نے گہری سانس لی ۔۔۔۔ماہم کا لحاف ٹھیک سے اسے اٹھایا ۔۔۔۔کچھ دیر اسکے صبیح چہرے کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔۔جو مجھے آج اس خوبصورت صبح سے ذیادہ حسین لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔مجھے قاسم کے والد کے آفس نہیں جانا تھا ۔۔۔۔کیونکہ کل سے ہمہیں اپنا آفس اسٹاٹ کرنا تھا اور اگلہ پورا مہینہ ہمارا مصروف ہی گزرنا تھا اس لئے آج کا دن میں ماہم کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا ۔۔۔میں کمرے سے نکل کر نیچے لان میں۔ آ گیا ۔۔۔موسم بہت خوشگوار تھا یا میرے اندر کی سر شاری تھی کہ مجھے ہر سو بہاروں کا سماں لگ رہا تھا ۔۔۔۔لان میں لگے رنگ برنگے پھولوں کو دیکھ کر میں نے پھولوں کو توڑا پہلے انکے کانٹے پھولوں کی ٹہنیوں سے جدا کیے پھر ایک خوبصورت سا گلدستہ بنا کر اوپر کمرے میں آگیا ۔۔۔اپنے رائٹنگ ٹیبل کا دراز دھیرے سے کھولا کہ کہیں ماہم کی آنکھ نا کھل جائے ۔۔۔۔اس میں سے سم ون اسپیشل کا کارڈ نکال کر ۔۔۔۔۔آئی لو یو لکھ کر کارڈ اور پھول ماہم کے تکیے کے برابر رکھ کر نیچے اتر گیا ۔۔۔اس وقت تک مما اور پاپا بھی اٹھ چکے تھے لاونج میں ہی ٹی وی لگائے بیٹھے خبریں سن رہے تھے ۔۔۔۔میں۔ بھی پاپا کے برابر میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔
“پاپا آپ آج آفس نہیں گئے “
“نہیں آج موڈ نہیں تھا اور کام بھی کچھ خاص نہیں تھا پھر میں چاہتا ہوں کہ کامران پر کچھ زمہ داریوں کا بوجھ بڑھا دوں تا کہ وہ صرف مجھ پر ڈیپنڈڈ نا رہے ۔۔۔۔”
“یعنی کہ آپ آج فری ہیں۔ “
“بلکل فری ہوں تم بتاؤ ۔۔۔تم بھی آفس کے لئے تیار نہیں ہوئے
“نہیں اب اپنے آفس میں ہی جاؤں گا لیکن کل سے ۔۔”۔
“ارے واہ مبارک ہو بھئ ۔۔۔یہ تو اچھی خبر سنائی تم نے ۔۔۔۔”پاپا خوش ہو کر بولے
“پاپا میں سوچ رہا تھا کیوں نا مل کر پکنک پر چلتے ہیں ۔۔۔آپ اور مما بھی فری ہیں ساتھ مل کر اچھا وقت گزرے گا ۔۔۔۔اسکے بعد تو مجھے فرصت کی نہیں ملے گی نیا اسٹاف رکھنا ہے ۔۔۔پھر بہت سے نئے پروجیکٹ شروع کرنے ہیں ایک مہنیہ تو بہت بزی گزرے گا” ۔۔۔۔میں نے ہلکے پھلکے انداز سے بات کی تھی
“ہاں تو بیٹا تم اور ماہم چلے جاؤں “
پاپا نے ہاتھ میں پکڑا اخبار سامنے ٹیبل پر رکھ دیا اور ریموڈ پکڑے چینل چینج کرنے لگے
“میں چاہتا تھا آپ اور مما بھی ساتھ چلیں اور بھی مزہ آئے گا ۔۔۔”
“میں تو تمہارے سامنے دیکھوں بلکل فٹ فاٹ ہوں۔۔۔بس تمہاری بوڑھی ماں کچھ بیمار شمار رہتی ہے ۔۔۔۔” مما نے ٹی وی چھوڑ کے حیرت سے پاپا کی طرف دیکھا تھا
“کبھی گھٹنوں میں درد کبھی کندھوں میں ۔۔۔ویک بھی بہت ہو چکی ہے ۔۔۔اگر سمندر کی تیز اور تند ہوا سے اڑ اڑا گی تو میرا تو سارا بڑھاپا ہی خراب ہو جائے گا۔۔۔اس لئے ہمہیں تم گھر پر ہی رہنے دو” ۔۔۔۔پاپا کی بات پر مما انہیں مسلسل گھور رہیں تھی اور پاپا کی دبی مسکراہٹ پرمیں ہسنے لگا وہ ہمیشہ ایسی ہی باتوں سے مما کو تنگ کرتے تھے
“اسٹک کے بغیر تو چل نہیں سکتے ۔۔۔بڑے فٹ فاٹ ہیں آپ” ۔۔۔۔مما چڑ کر بولیں
“ارے یہ تو میں اپنی شخصیت کچھ اور جاذب نظر بنانے کے لئے رکھتا ہوں ۔۔۔اس اسٹک سے میری شخصیت اور بھی با رعب ہو جاتی ہے تمہیں کیا معلوم اولڈ وومن “۔۔۔پاپا نے اسٹک پر ہاتھ جما کر کہا تو مما اٹھ کر کھڑی ہو گئیں ۔۔۔۔
“میں کامران کو اٹھا دوں ۔۔۔خود سے اٹھنے کی تو زحمت ہی نہیں ہوتی اسے “۔۔۔۔مما کامران کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں اور میں اوپر اپنے کمرے میں آگیا ماہم اٹھ چکی تھی اور کپڑے پہنے تیار تھی بس اپنے گیلے بالوں پر برش کر رہی تھی اسے یوں تیار دیکھ کر مجھے کچھ تعجب سا ہوا کیونکہ میں نے تو اسے ابھی اپنے پلان کے بارے میں کچھ بتایا ہی نہیں تھا
“عفان تم ناشتے میں کیا لو گئے ۔۔”۔۔ماہم اب ٹوپس پہنتے ہوئے مجھ سے پوچھنے لگی
“وہی جو روٹین میں لیتا ہوں “
“ٹھیک ہے” ۔۔۔۔اب وہ عجلت میں الماری کھول کر اپنا پرس نکال رہی تھی ۔۔اور اسکی یہ افراتفری میری سمجھ سے باہر تھی
“یہ تمہیں اتنی جلدی کس بات کی ہے ۔۔۔کہاں جا رہی ہو یوں تیار ہو کر ۔۔۔”
“تمہیں بتایا تو تھا کہ خالہ کے ساتھ جانا ہے پہلے گروسری کرنی ہے اسکے بعد شاپنگ ۔۔۔۔ناشتہ میں بنا دیتی ہوں کباب فریزر میں رکھے ہیں دوپہر میں رانی سے کہنا وہ برگر بنا دے گئ۔۔۔۔یا پھر راشد سے کہنا کہ بازار سے کچھ لا دے ۔۔۔ہمہیں تو واپسی پر شام ہو جائے گی” ۔۔۔۔وہ سینڈل پہنتے ہوئے ساری ہدایتیں دے چکی تھی اب کھڑی ہو کر بیڈ سے اپنا پرس اٹھانے لگی جب تک میں اسکے سامنے کھڑا ہو چکا تھا
“تم مما کے ساتھ کہیں نہیں جا رہی ۔۔۔آج کاپوردن تمہارے میرے ساتھ بک ہے” ۔۔۔میری اطلاع پر وہ بوکھلا سی گئ ۔۔۔
“مگر “
“نو مور آرگیو ۔۔۔۔تم جلدی سے بریک فاسٹ ریڈی کرو میں بس دس منٹ میں تیار ہو کر آ رہا ہوں’ ۔۔۔میں نے ماہم کے دونوں شانے پکڑ کر کہا
“عفان مجھے خالہ کے ساتھ جانا ہے” ۔۔ وہ نروٹھے لہجے سے بولی اور میرے ہاتھ بھی پیچھے کر دیے ۔۔۔۔۔
“کل چلی جانا مما کے ساتھ ۔۔۔آج کے بعد میرا پورا مہینہ بزی گزرے گا ۔۔۔بلکل ٹائم نہیں ہو گا میرےپاس”۔۔۔میں نے سمجھانا چاہا
“مجھے پھر بھی خالہ کے ساتھ جانا ہے “وہ اپنے موقف پر قائم تھی
“مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے مگر اس دل کو ہے ۔۔۔اب میری تو نہیں مانتا یہ ۔۔۔۔تم اسے سمجھا دو” ۔۔۔۔۔۔میری معنی خیز مسکراہٹ پر وہ گھبرا سی گئ ۔۔۔۔دل کا نام لیکر میں اسکی ایک نہیں سنتا تھا اس کا اندازہ اسے بھی ہو چکا تھا میری شوخ نظروں سے بچنے کے لئے وہ اب کمرے سے جا چکی تھی ۔۔۔ میں جب تیار ہو کر ڈائنگ پر آیا تو وہ مما کے ساتھ ناشتہ کر رہی تھی ۔۔۔۔مما نے خود ہی ماہم کو شاپنگ سے منع کر دیا کہ وہ کل چلی جائیں گی اب ماہم کے پاس کوئی انکار کی کوئی حجت نہیں رہی تھی ۔۔۔۔شام تک ہم سمندر پر گھومتے رہے اپنی بچپن کی باتوں اور شرارتیں یاد کر کے ہنستے رہے ۔۔۔۔ گیلی ریت پر چلتے ہوئے ماہم کے پاؤں کے نیچے ایک بند سیپی آ گئ اس نے اپنا پیر ہٹا کر جھک کر فورا اٹھا لی
“عفان اسے کھولو ۔۔۔۔شاید اس میں قیمتی موتی نکل آئے “۔۔۔۔میں نے سیپی ماہم کے ہاتھ سے لے لی وہ اشتیاق سے دیکھنے لگی
ہو سکتا ہے اس میں کوئی بھی موتی نا ہو “۔۔۔۔میں اس سیپی کا معائنہ کرنے لگا
“اکثر بند سیپیوں سے قیمتی موتی نکلتے ہیں ۔۔”۔میرے ہاتھ سے وہ سیپی لیکر خود کھولنے کی کوشش کرتی رہی
“ضروری تو نہیں ماہی ۔۔۔۔کبھی کبھی جسے ہم قیمتی موتی سمجھتے ہیں پرکھنے پر پتہ چلتا ہے کہ وہ صرف آنکھوں کا دھوکہ تھا ۔۔۔وہ بے قیمت سا پتھر تھا اور پتھر کے ساتھ کیساتھ جتنا چاہے ماتھا ٹیک لو ۔۔وہ ہمیشہ زخم ہی دے کر جاتا ہے ۔۔۔۔چھوڑو اسے ۔۔۔قیمتی موتی یوں بند سیپیوں سے ہر ایک کو نہیں مل جاتے ۔۔آو تمہیں چاٹ کھلاؤ بہت مزے کی ملتی ہے یہاں سے “۔۔۔۔میں نے وہ سیپی ماہم سے لیکر دور پانی میں پھنک دی ۔۔۔۔ چاٹ کھانے کے بعد ہم ساحل سمندر کے سامنے پتھر کی بنی لمبی سی بینچ پر بیٹھ گئے ۔۔۔ماہم کو سمندر میں ڈوبتے سورج کو دیکھنا اچھا لگتا تھا اس لئے اس نے مجھے پہلے ہی ٹوک دیا کہ وہ یہ خوبصورت نظارہ خاموشی سے دیکھنا چاہتی ہے ۔۔۔ میں بھی چپ ہو گیا ۔۔۔ماہم کی پوری توجہ ڈوبتے سورج کی طرف تھی اور میری ماہم کے چہرے کی طرف۔۔۔۔ سورج کی مدھم ہوتی روشنی سے اس کا چہرہ سورج کی طرح دھمکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔چہرے کو دیکھتے ہوئے میری نظریں اسکی آنکھوں پر جا کر رک گئیں جہاں اس وقت میں سورج کو غروب ہوتے با آسانی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ماہم کی آنکھوں سے یہ سب دیکھنا اور بھی دلفریب لگ رہا تھا عجیب سی چمک تھی اسکی آنکھوں میں ۔۔۔۔ماہم کی آنکھیں بے حد حسین تھیں کھلتی ہوئی براؤن رنگ کی ۔۔۔۔ماہم کی نظر جب مجھ پر پڑی مجھے اپنی طرف متوجہ پا کر بولی
“عفان تم سامنے نہیں دیکھ رہے ہو کس قدر دلفریب منظر ہے لگتا ہر سورج سمندر میں ڈوب رہا ہے ۔۔۔۔چاروں طرف پھیلی سورج کی مدھم سی روشنی میں سمندر کے پانی رنگت کیسی سونے کی مانند لگ رہی ہے دیکھو۔”۔۔۔وہ جس منظر جس دیکھنے کا کہہ رہی تھی وہ میں اسکی آنکھوں میں واضع دیکھ رہا تھا
“یہ سب تو میں تمہاری آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں ماہی واقع بہت دلفریب منظر ہے۔۔۔۔سورج آج سے پہلے اتنے خوبصورت انداز سے کبھی غروب نہیں ہوا ہو گا جیسے آج ہوا ہے” ۔۔۔اپنی طرف سے میں بہت کوشش کی تھی کہ ماہم کو میری یہ تعریف پسند آ جائے ۔۔۔۔ وہ بڑے غور سے مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
“تمہاری طعبیت تو ٹھیک ہے نا ۔۔۔۔کیا بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو ۔”۔۔۔۔میری ساری شوخی ماہم بات سن کر ہی جھٹ سے ختم ہو گئ
“بہکی بہکی باتیں ۔۔۔۔اسٹوپٹ لڑکی اسے بہکی نہیں۔ رومنٹک باتیں کہتے ہیں” ۔۔۔۔میں نے ایک تھپکی اسکے سر پر لگائی
“ان باتوں پر بیویاں شرماتے ہوئے نظریں جھکا لیتی ہیں یوں دیدے پھاڑ پھاڑ کر نہیں دیکھتیں
جیسے تم دیکھ رہی ہو” ۔۔۔۔میری بات پر وہ بے ساختہ ہسنتی چلی گئ ۔۔۔۔۔
“رومنٹک باتیں” ۔۔۔۔۔وہ پھر سے کھلکھلا کر ہسنے لگی ۔۔۔۔۔
“ماہی” ۔۔۔نا جانے مجھے یہ کیوں لگا کہ وہ میرا تمسخر اڑا رہی ہے
“یہ اٹھارویں صدی نہیں ہے عفان ۔۔۔۔اور نا مجھ سے اس دور کی مشرقی ٹائپ کی خواتین جیسی توقع رکھو ۔۔۔مجھے تو ایسی کوئی شرم نہیں آ رہی ۔تمہاری اس قسم کی تعریف پر۔۔۔۔۔ایسی کوشش تم رہنے ہی دیا کرو یہ تمہارے بس کی بات نہیں ہے ۔۔۔۔”
“تم چیلنج کر رہی ہو مجھے ۔۔۔۔”میں نے تن کر کہا
“کر بھی لوں تو ۔۔۔تم کون سا جیت جاؤں گئے تم بس گھر اور بلڈنگ کے نقشے بنا سکتے ہو یا پھر بڑے بڑے مالز کو جدید طریقے سے بنانے کے مشورے دے سکتے ہو ۔۔۔۔ایک عورت کے دل کو جتنا تمہارے بس کی بات نہیں ہے “ماہم نے تیقن سے کہا
“ایسی بات نہیں ہے ماہم ۔۔۔۔میں کر سکتا تمہاری تعریف ۔۔۔”
“اچھا ۔۔۔۔چلو تم “میری” تعریف چھوڑو صرف میری آنکھوں کی تعریف کر دو ۔۔۔۔ماہم نے میری پر زور دے کر کہا جیسے میری بڑی مشکل آسان کر رہی ہو
“ہاں تو یہ کونسا مشکل ہے ۔۔۔۔”میں ذرا سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔گلے کو صاف کیا اور ذہن پرزور دینے لگا ۔۔۔۔ماہم کی آنکھوں میں دیکھنے لگا جن میں شرارت جھلملا رہی تھی
“تمہاری آنکھیں بہت خوبصورت ہیں ۔۔۔۔۔”
“اور ان کا رنگ براؤن ہے ۔۔۔۔۔”میں انگلیوں پر گنتے ہوئے بتانے لگا
“اور ۔۔۔۔اور” ۔۔۔۔میرے ذہن میں کا ورق آگے بلکل صاف سا ہونے لگا لفظ گم سے ہونے لگے
“اور ۔”۔۔۔ماہم نے اپنے ابرو چڑھا کر کچھ جتاتے ہوئے مجھ سے پوچھا جیسے مجھ پر میری ہار جتا رہی ہو
“اور”۔۔۔۔میں سوچنے لگا اب کیا کہو
‘”۔تمہاری آنکھیں جیسے ۔۔۔۔۔جیسے کسی غریب کی کھٹیا میں جلتا ہوا لال ٹین ۔۔۔۔”
“واٹ” ۔۔۔۔’عفان تمہیں میری آنکھیں لال ٹین جیسی لگتی ہیں” ۔۔۔۔وہ خطر ناک تیوروں سے مجھے دیکھنے لگی
‘ہاں وہ غریب میں ہوں ماہی ۔۔۔تمہاری آنکھیں میرے دل کو روشن کرتی ہیں “۔۔۔۔میں۔ نے بات کو کور کرنے کی کوشش کی
“لال ٹین کی طرح” ۔۔۔۔ وہ بگڑتے ہوئے خفگی سے پوچھنے لگی ۔۔۔۔
“کم آن یار کبھی تو میری تعریف پر خوش بھی ہو جایا کرو ۔۔جیسی بھی کرتا ہوں ۔۔۔۔اسی پر گزارا کر لیا کرو ۔”۔۔۔میں کوفت میں مبتلہ ہونے لگا تھا ۔۔۔بھلا یہ کوئی بات ہے محبت پر صرف شاعروں کا حق تو نہیں ہے ۔۔۔۔اب اگر کسی سیدھے سادے شخص کو محبت ہو جائے تو بھلا وہ لفظوں کی ڈکشنری کہاں سے لائے اپنے محبوب کی تسلی کے لئے ۔۔۔خاص طور پر محبوب بھی ماہم جیسا اناڑی ہو تو۔۔۔جیسے صرف تعریفی چند اچھے جمعلوں سے محبت کا پیمانہ بھرنے کی عادت تھی ۔۔۔۔
“میں نے تو کہاں تھا تم سے کہ یہ تمہارے بس کی بات ہی نہیں ہے ۔۔۔۔تم صرف اپنے پروفشن کی بات کر سکتے ہو ایک موڈرن گھر میں روشن ہونے والے فانوس کے بجائے غریب کی کھٹیا کا لال ٹین کی مثال تم ہی دے سکتے ہو ۔۔۔۔بات تو وہی ہوگی ۔۔۔۔”ماہم ناراض سی ہو کر بولنے لگی ۔۔۔۔میں جیسےماہم کے سامنے ہار مانتے ہوئے پوچھنے لگا
“چلو تم کوئی اچھی مثال دے دو پھر ۔۔۔۔تم بتا دو کیسی تعریف ہو سکتی ہے تمہاری آنکھوں کی ۔۔۔۔”ماہم مدھم سا مسکرائی ۔۔۔۔
“میری آنکھوں کو غور سے دیکھو۔ تمہیں یہ لال ٹین نہیں چمکتے ہوئے روشن جگنوں لگیں گی ۔۔۔۔یا پھر جلتی ہوئی روشن شمع جس کی روشنی سے پروانے خود ہی اس کے گرد گھومتے ہوئے اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں ۔۔۔۔میری آنکھیں شہد رنگ جیسی ہیں ۔۔۔۔غور سے دیکھوں گئے تو تمہیں اپنے دل میں میٹھاس کی طرح اترتی ہوئی محسوس ہوں گئیں ۔۔۔۔یا کسی گہرے ساگر جیسی جس میں ڈوب جانے کو جی چاہے ۔۔۔۔یا آسمان کے روشن تارے جیسی ” ۔۔۔وہ ماہم تو نہیں تھی ۔۔۔میری ماہی اتنی خود پسند کبھی نہیں تھی ۔۔۔نا یہ لفظ اسکے تھے وہ کسی ٹرانس بول رہی کسی اور کے لفظ مجھے سنا رہی تھی ۔۔۔۔یا کسی کے کہے گئے جمعلوں کو دوہرا رہی تھی ۔۔۔۔۔میں ایک ٹک اسکی آنکھیں دیکھتا رہا ۔۔۔۔اسکی آنکھوں میں وہ ہر رنگ مجھے دکھنے لگا جو ماہم مجھے بتا رہی تھی مگر وہاں کہیں میرے دل کی کھٹیا کا جلتا بجھتا دیا ۔۔۔کسی کے جمعلوں کی تند اور تیز ہوا سے معدوم کر بجھ سا گیا تھا ۔۔۔۔میں اب بھی وہیں کھڑا جہاں سے سفر شروع کیا تھا ۔۔۔۔اب بھی ساحل کے ایک کنارے پر اور بہت دور دوسرے کنارے پر ماہم تھی ۔۔۔ وہ میرے قریب ہو کر بھی بہت دور تھی ۔۔۔۔اسکی آنکھیں میری ہونے کے باوجود مجھے اجنبی لگنے لگیں تھیں ۔۔۔۔
“Shet up mahi …just keep quiet….I.Don’t hear any further “
۔۔ ” ۔۔۔میرے لہجے کی سختی سے وہ چونک سی گئ ۔۔۔مجھے سامنے دیکھ کر سٹپٹائی پھر فورا سے سنبھل گئ ۔۔۔۔
“عفان وہ ۔۔۔۔وہ فائزہ ہے نا میری دوست اس نے یہ سب کہا تھا “۔۔۔۔نا جانے کیوں مجھے اسکا یوں وضاحت دینا اور بھی کھلنے لگا اسکی ہچکچاہٹ اور نظروں کا چرانا اسکی بات کی چغلی کھا رہا تھا
“میں نے کب کہاں کہ کامران نے کہا ہے ۔۔۔۔فائزہ نے ہی کہا ہو گا ۔۔۔۔مگر مجھے اچھا نہیں لگا” ۔۔۔۔۔نا جانے میں اپنی جلن اور تلخی چھپا نہیں سکا۔۔۔۔۔ماہم نے سرعت سے نظریں اٹھائیں خوفزدہ اور سہمی ہوئی نظریں ۔۔۔۔
“چلو چلتے ہیں بہت لیٹ ہو چکے ہیں ہم ۔۔۔۔”میں وہاں اب مزید نہیں ٹہر سکتا تھا
“نہیں عفان کچھ دیر بیٹھتے ہیں نا پھر تمہیں نیا سٹ اپ کرنے میں وقت نہیں ملے گا “۔۔۔۔وہ شاید میرا موڈ بحال کرنا چاہ رہی تھی ۔۔۔۔
“میں تھک چکا ہوں بس اب گھر جاؤں گا “
“مجھے بھوک لگی ہے عفان “میرے بگڑے ہوئے موڈ پر وہ برجستہ بولی
“کیا کھاؤ گی “مجبورا مجھے پوچھنا پڑا ۔۔۔
” بہت کچھ کھاؤں گی ۔۔۔مگر آج صرف تمہاری پسند کا ۔”۔۔۔وہ مجھے باتوں سے بہلانے کی کوشش کرنے لگی
“مجھے تو بھوک ہی نہیں ہے ۔۔۔۔میں کچھ نہیں کھاؤں گا ۔۔۔۔ہاں اگر تمہیں کچھ کھانا ہے تو چلتے ہیں ۔۔۔”
“عفان ۔۔۔۔مجھے پاستا کھانا ہے ۔”۔۔۔ماہم نے میری پسند بتائی ۔۔۔۔میں خاموشی سے اٹھ گیا ۔۔۔گاڑی ایک ریسٹورنٹ کے سامنے کھڑی کی ٹیبل پر بیٹھ کر میں نے مینو کارڈ ماہم کی طرف بڑھا دیا ۔۔۔۔ماہم نے صرف پاستا ہی آڈر کیا ۔۔۔۔میں خاموش ہی بیٹھا رہا
“عفان تم ناراض ہو مجھ سے ۔۔۔۔”
“نہیں “
“پھر بات کیوں۔ نہیں کر رہے”
“بس یونہی سر میں درد ہے” ۔۔۔۔میں چاہ کر بھی ماہم سے یہ نہیں کہہ سکا کہ مجھے برا کیا لگا ہے ۔۔۔۔ویٹر پاستا کا باول اور پلیٹس رکھ کر چلا گیا ۔۔۔۔پاستا مجھے بہت پسند تھا بھوک نا بھی ہوتی تو میں پھر بھی پاستا کھا سکتا تھا اور اسوقت تو میرے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے پھر گرم گرم اٹھتے دھویں کے ساتھ پاستا کی اٹھتی ہوئی خوشبو سے میری بھوک بڑھنے لگی ۔۔۔ماہم نے ایک پلیٹ میں پاستا ڈالا اور میرے سامنے رکھ دیا ۔۔۔
“ماہی میں پہلے ہی کہہ چکا ہی کہ مجھے بھوک نہیں ہے “
“مجھے معلوم ہے تمہیں بھوک لگی ہے ۔۔۔۔چلو شاباش کھا لو نا عفان ۔۔۔ورنہ میں بھی نہیں۔ کھاؤں گی ۔۔۔”۔وہ بہت لجاجت سے میری منت کرنے لگی ۔۔۔۔میں نے بھی چمچ پکڑ لیا یہ بھی بہت بڑی کمزوری تھی کہ ماہم سے ناراض نہیں رہ سکتا تھا ۔۔۔۔واپسی تک وہ میرا موڈ بحال کر چکی تھی ۔۔۔۔
*******……….
ماہم کی صبح جب آنکھ پھولوں کی دلفریب بھنی بھنی خوشبوں سے کھلی ۔۔۔۔۔۔اس نے موندی موندی آنکھوں سے دیکھا اسکے تکیے کے برابر پھولوں کا گلدستہ رکھا تھا ۔۔۔۔ساتھ ایک کارڈ بھی تھا ۔۔۔۔۔ماہم اٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔پھولوں کو پکڑ کر سونگنے لگی اسکی تازہ مہک اندر تک مسرور کر گی تھی ۔۔۔۔پھت اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھے واش میں وہ گلدستہ سجا دیا ۔۔۔کارڈ پر سم ون اسپیشل لکھا تھا ماہم نے کارڈ کھول کر دیکھا تو اندر صرف تین انگیزی کے حروف تھے
I love u
مگر ماہم کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لئے کافی تھے ۔۔۔۔اسے عفان کا اس طرح سے اظہار کرنا اچھا لگا تھا ۔۔۔۔کارڈ اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا وہ کارڈ پہلی نظر میں اسے جانا پہچانا سا لگا ۔۔۔۔اپنے کھلے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے جب سامنے گھڑی کی طرف دیکھا تو یاد آیا کہ صفیہ بیگم کے ساتھ گروسری پر جانا ہے اس لئے اس نے جلدی سے واش روم کا رخ کیا ۔۔۔۔جب تک وہ تیار ہوئی تھی عفان نے ا کر اپنا ہی پلان سے اسے مطلع کیا پہلے تو وہ برا مان گئے مگر عفان کے ساتھ کر اس نے انجوائے ہی کیا تھا ۔۔۔۔سب کچھ ٹھیک ہی چل رہا ۔۔۔لیکن نا جانے کیوں عفان کی تعریف سنتے ہوئے اسے کامران کے کہے جمعلے یاد آگئے ۔۔۔۔۔۔حالانکہ انہیں یاد کر کے دہرانا ماہم کا دانستہ عمل نہیں تھا ۔۔۔ نا ہی وہ ایسا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔لیکن پھر بھی بے خود سی ہو کر کہہ ضرور گئ تھی جس کا احساس اسے عفان کے چلانے پر ہوا تھا ۔۔۔۔شاید وہ سمجھ گیا تھا ۔۔۔۔اس لئے کامران کا نام لینے لگا ۔۔۔۔۔بس مشکل ہی ماہم اس کا موڈ ٹھیک کر پائی تھی ۔۔۔۔۔یہ نہیں کہ اسے عفان کی ناراضگی کی فکر نہیں تھی ۔۔۔۔وہاسے نارض کرنا بھی نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔لیکن انجانے میں کر بیٹھی تھی ۔۔۔۔شاید کامران اسکی زندگی میں آنے والا وہ پہلا مرد تھا جس نے اسے الگ انداز سے اسکی خوبصورتی سے متعارف کروایا تھا ۔۔۔۔پھر وہ خود بھی اسے چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔کبھی اس کی ان دلفریب باتوں کا فسوں اسپر چل چکا تھا ۔۔۔۔۔گو کہ اب ایسا نہیں تھا مگر اسکے کچھ اثرات سب بھی باقی تھے
