Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 59 (Part 2)
Rate this Novel
Tadbeer Episode 59 (Part 2)
Tadbeer by Umme Hani
رات کو مشعل مسلسل روئے جا آ رہی تھی مہک کے بہلانے پر بھی رو رہی تھی
“مہک پلیز اسے چپ کرواں مجھے صبح آفس بھی جانا ہے ۔۔۔۔اب اتنے شور میں میں سو نہیں سکتا “
“ہاں تو تھوڑاساوقت مشعل کو بھی دیدیا کرو ۔۔۔۔یا تمہارے سارے پیار کا حقدار صرف عمر ہے “۔۔۔مہک کی بات پر میں جو اپنا بازو آنکھوں پر رکھ کر سونے کی کوشش کر رہا تھا میں نے بازو ہٹایا اور مہک کر بگڑے تاثرات دیکھنے لگا ۔۔۔
“مہک تم اتنے سے بچے سے جیلس ہو رہی ہو۔۔۔حیرت ہے مجھے
” میں کیوں جیلس ہونے لگی خدا نخواستہ ۔۔۔کامران بات کو غلط طرز پر مت لے کر جاؤں ۔۔۔تمہیں بیٹے کی خواہش تھی ۔۔۔اس لیے مشعل تمہارے لئے اتنی اہمیت نہیں رکھتی جتنا کہ عمر “۔۔۔۔مہک کی بات مجھے بے معنی سی لگی عمر سے محبت کی وجہ مشعل تو ہر گز نہیں۔ تھی ۔۔۔جس طرح میں ماہم کے لئے خود کو بے بس سا پاتا تھا عمر کے لئے بھی دل کے ہاتھوں مجبور تھا ۔۔۔۔
“شٹ ۔۔۔۔اپ مہک “۔۔۔۔۔میں اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔
“لاو دو اسے مجھے ۔۔۔۔اور جا کر فیڈر بناؤ اس کا بھوک لگی ہو گی اسے” ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے مہک کی گود سے مشعل کو لیااوراسے بہلانے لگا ۔۔۔۔ مہک باہر چلی گئ ۔۔۔۔میرے ذراسے ہلانے جلانے پر مشعل چپ ہو گئ ۔۔۔۔میری طرف غور سے دیکھنے لگی لیکن میں کوفت زدہ شکل بنائے بیزار سا اسے پکڑ کر مہک کے اندر آنے منتظر تھا ۔۔۔کچھ ہی دیر بعد وہ میرے یوں ہلانے جلانے پر کھلکھلا کر ہسنے لگی میں جو دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا کہ کب مہک اندر آئے اور میں لیٹوں اب مشعل کی طرف متوجہ ہو گیا وہ مجھے دیکھ کر پھر سے ہسنے لگی ۔۔۔۔شاید وہ مجھ سے باتیں کرنے کے موڈ میں تھی ۔۔۔۔اپنی ہلکی ہلکی اؤں آں سے مجھے متوجہ کر رہی تھی ۔۔۔۔۔میں نے اسکی پیشانی پر بوسہ دیا ۔۔۔۔اس سے باتیں کرنے لگا
“مشعل کو پاپا سے باتیں کرنی تھیں ۔۔۔۔کیوں مشعل ۔۔۔”۔میری بات پر وہ قلقاریوں سے ہسنے لگی ۔۔۔۔۔۔جیسے میری بات وہ سمجھ رہی ہے ۔۔۔۔بچے بھی بچے ہی ہوتے ہیں ۔۔۔جب چاہتے ہیں اپنی طرف مائل کر ہی لیتے ہیں ۔۔۔۔مہک جب اندر آئی تو مجھے مشعل سے باتیں کرتا دیکھ کر اپنا ساراغصہ بھول گئ ۔۔۔مشعل کے ہسنے پر میں خود بھی ہسنے لگتا اور مجھے ہنستا دیکھ کر وہ اور کھلکھلانے لگتی ۔۔۔۔۔۔
“باپ کی گود میں کیسے ہنسی آ رہی ہے اسے اور مجھے تنگ کر رکھا تھا ۔”۔۔۔۔مہک مصنوعی غصے سے بولی
“میری بیٹی سمجھدار ہے ۔۔۔اسے معلوم ہے کون کس رویے کا حقدار ہے” ۔۔۔۔میری بات پر مہک منہ کھولے خفگی سے بولی
“کامران تم نا۔۔۔۔” میں نے مہک کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے مزید بولنے نہیں دیا
“اب پکڑو اسے مجھے نیند آ رہی ہے “۔۔۔میں نے مشعل کو مہک کو پکڑایا اور لیٹ گیا ۔۔۔۔اسکی بات پوری سنی ہی نہیں۔
*******……….*******
کچھ دنوں بعد عفان اسلام آباد چلا گیا ۔۔۔۔میرے پاس یہ اچھا موقع تھا مگر ماہم شاید اب کافی محتاط ہو گئ تھی اس لئے رانی کو اپنے ساتھ ہی سلاتی تھی جس رات عفان گیا عمر کافی دیر تک روتا رہا۔۔۔رات کی خاموشی میں اسکی آواز میرے کمرے تک آ رہی تھی ۔۔۔۔مشعل سو چکی تھی اور مہک بھی سونے کی تیاریوں میں تھی مگر مجھے چین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔۔عمر کارونا مجھے ایک پل کا چین نہیں لینے دے رہا تھا ۔۔۔میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ بھاگ کر عمر کو اپنی گود میں بھر لوں
“مہک عمر بہت رو رہا ہے” ۔۔۔میں نے متفکر بھرے لہجے سے مہک سے کہا
“ہاں۔۔۔۔ تم دونوں بھائیوں کی اولادوں کو اپنے باپ سے زیادہ ہی پیار ہے ۔۔۔یقینا عفان کو مس کر رہا ہو گا ۔۔۔”۔مہک کی بات کی پروا کیے بغیر میں نے مہک سے کہا
“ماہم تو پریشان ہو جائے گی ۔۔۔ایسا کرو جاؤں تم عمر کو لے آؤ ۔۔۔بہت رو رہا ہے وہ “۔۔۔میں کافی فکر مند سا ہو گیا تھا
“ماہم کبھی نہیں دے گی اسے اور اس وقت توبلکل بھی نہیں اور کامران مشعل بھی سو رہی ہے ۔۔۔عمر کے شور سے اٹھ گئ تو پوری رات میری برباد ہو جائے گی۔۔۔”۔مہک بیزراسی شکل بنائے بولی ۔۔۔مجھے اس پر غصہ آنے لگا
“مت جاؤں تم ۔۔۔میں لینے جا رہا ہوں اسے” ۔۔۔۔میں اٹھ کر اوپر ماہم کے کمرے میں آ گیا ۔۔۔۔۔دروازے پر دستک دینے لگا کافی دیر بعد ماہم نے دروازہ کھولا
رانی عمر کو گود میں لئے کمرے کےچکرکاٹ رہی تھی ساتھ ہی ساتھ نیند سے بے حال جمائیاں لے رہی تھی ماہم بھی خاصی پریشان دیکھائی دے رہی تھی اور تھکی ہوئی بھی عمر اب بھی رو رہا تھا
میں نے اس کہا کہ وہ عمر کو مجھے دیدے مگر وہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھی مگر نے بھی ہار نہیں مانی
“ضد مت کرو ماہم مجھے مجھے دیدو ۔۔۔۔۔میں سنبھال لوں گا اسے
“آپ کو شاید سمجھ نہیں آتا ہے جائیں یہاں سے “ماہم کڑے تیوروں سے بدلہ
“رانی لاؤ پکڑو عمر مجھے “رانی نے جلدی سے عمر مجھے پکڑا دیا ۔۔۔۔
“ماہم بی بی جی دیدیں نا کامران صاحب کو کب سے رو رہا ہے شاید انکے پاس ہی چپ ہو جائے ۔۔۔۔اپ بھی کچھ دیر آرام کر لیں”رانی کے سامنے ماہم نے
زید بحث نہیں کی
میں عمر کو لیکر لاونج میں بیٹھ گیا کمرے میں مشعل سو رہی تھی س لئے میں کمرے میں نہیں گیا ۔۔۔۔۔میرے ذرا سے بلانے پر عمر چپ ہو گیا ۔۔۔۔۔۔اسے شاید نیند نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔اور ماہم اسے سلانے کی کوشش کر رہی تھی اس لئے وہ رونے لگا تھا ۔۔۔بچے اپنی مرضی کے مالک ہوتے ہیں زبردستی کہاں برداشت کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کافی دیر میں عمر سے باتیں کرتا رہا ۔۔۔صبح کے پانچ بج چکے تھے ۔۔۔نیند کے مارے میری آنکھیں کھل نہیں رہیں تھیں مگر میں ماہم کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔اب عمر بھی تھکنے لگا تھا ۔۔۔میں نے اسے اپنے سینے سے لگایا تو کچھ ہی دیر میں سو گیا ۔۔۔میں دبے پاؤں کمرے آ کر لیٹ گیا ۔۔۔۔عمر میرے بازو پر سو رہا تھا ۔۔۔۔میں بھی چند لمحوں میں گہری نیند میں چلا گیا ۔۔۔۔۔
********…….*******
۔ماہم کو دیکھ دیکھ کر اسکو پانے خواہش میرے اندر شدت پکڑتی جا رہی تھی ۔۔۔۔روز میں اسی نہج پر سوچنے لگا تھا ۔۔۔۔پہلے میرا مقصد عفان کو تکلیف پہچانا تھا مگر اب ۔۔۔اب ماہم کو حاصل کرنا ۔۔۔۔بہت سوچنے کے بعد مجھے یہی حل نظر آیا کہ عفان کا ماہم کی زندگی سے جانا ہی مسلے کا حل ہے مگر کیسے ۔۔۔۔نا وہ ماہم پر شک کرتا ہے نا ہی اسے ماہم سے کوئی شکوہ شکایت ہے میں کچھ دنوں سے اسی بات پر پریشان تھا ۔۔۔اس لئے میں نے اپنے دوست سے یہ بات کی وہ کسی بیوکریٹ کی بگڑی ہوئی اولاد تھا ہر چیز کو چھین لینے کا عادی کچھ کچھ میرا ہم مزاج بھی ۔۔۔۔۔اسوقت بھی نشے میں تھا سامنے شیشے کے گلاس میں وسکی ڈالے پینے کے ساتھ میری بات سن رہا تھا میری بات سن کر ہسنے لگا
“تو مسلہ کیا ہے کامران ۔۔۔مار ڈالو اسے ۔۔۔۔محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے “اسکی بات پر مجھے روز کا دھچکا لگا
“کیا بکواس کر رہے ہو عفان بھائی ہے میرا اور میں لاکھ برا سہی مگر ۔۔۔بہرحال قتل نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔اور وہ بھی اپنے بھائی کا ۔۔۔۔کون مارتا ہے اپنے بھائی کو ۔۔۔۔”میں بے قابو سا ہو گیا جو تجویز خرم نے میرے سامنے رکھی تھی اس نہج پر میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا
“کیوں نہیں۔ ہو سکتا ۔۔۔۔تم شاید بھول رہے ہو ۔۔۔دنیا می۔ پہلا قتل بھائی نے ہی بھائی کا کیا تھا ۔۔۔۔(اس بات کا تعلق ہابیل اور قابیل کے اصل واقع سے ہر گز نہیں ہے یہ ایک انسانی شیطانی سوچ کو بیان کیا گیا ہے۔۔۔۔خدا نخواستہ واقع کو غلط انداز میں بیان کرنے کی کوشش نہیں۔ کی گئ ۔۔۔۔بس ایک مثال دی گی ہے۔۔۔آگے چل کر اس بات کی ترید بھی کر دی جائے گی )
۔اور اب ایسے واقعات سے اخباریں ۔ بھری پڑی۔ ہیں۔۔۔تم کون سا انوکھا کام کروگئے ۔۔۔۔
“لیکن پھر بھی “گھبراہٹ کے مارے میرے پسینے چھوٹنے لگے تھے ۔۔۔۔
“میری جان ساری زندگی دیکھ دیکھ کر تڑپنے سے تو بہتر ہے ۔۔۔کیا کرے گی وہ چار دن رو دھو کر سنبھل جائے گی ۔۔۔۔۔وقت بہت بڑا مرھم ہے اور میں کون سا کہہ رہا ہوں کہ تم پستول تان اپنے بھائی پر بس جب ارادہ ہو مجھ سے کہہ دینا کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہو گی اور تیرا کام بھی ہوجائے گا ۔۔۔۔اب chill کر ۔۔۔۔وہ پھر سے گلاس اٹھائے پینے لگا مجھے ایک نئ سوچ دے گیا تھا ۔۔۔چند دن میرے بہت بے چینی سے گزرے
۔۔۔۔بہت سوچ ویچار کے بعد مجھے ایک ہی حل نظر آیا کہ عفان کو مارڈالو ۔۔۔۔مگر میرادل اندر سے یہ سوچتے ہی گھبرانے لگتا ۔۔۔۔۔ہولنے لگتا۔۔۔۔کچھ بھی تھا عفان میرا بھائی تھا ۔۔۔۔اسے تکلیف دینے کی حد تک تو ٹھیک تھا مگر جان ہی سے مار دینا ۔۔۔۔۔نہیں نہیں ۔۔۔۔مگر ماہم ۔۔۔۔اسے بھول جانا یا چھوڑ دینا یہ بھی ممکن نہیں تھا۔میں ان دنوں اپنی ضمیر سے روز جنگ کرتا ۔۔۔میرے اندر کا شر مجھے ہر گناہ پر اکساتا تھا محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے ۔۔۔۔۔خود کو روز بہلاتا کہ چند دن سب رویں گئے پریشان بھی ہوں گئے مگر پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا معمول پر آ جائے گا ۔۔۔۔۔پھر میں ماہم کو سہارا دونگا ۔۔۔۔اور مما پاپا بھی میراساتھ دیں گئے مہک سے پیچھا چھڑانا میرے لئے بہت آسان ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔میں روز ایک پلان بناتا مگر جب اس پر عمل کرنے کا وقت آتا میرا دل کانپنے لگتا لرزنے لگتا ۔۔۔۔۔میں یہ سوچتا کہ کیسے کرونگا یہ سب آخر کسی انسان کی جان لینا اتنا آسان تو نہیں ہے اور وہ بھی اپنے سگے بھائی کی ۔۔۔۔میری راتوں کی نیندیں اڑ گئیں تھیں ڈنر کے دوران جب میں عفان کو دیکھتا میرے اندر کوئی چیخنے چلانے لگتا کہ آخر عفان نے تمہارا بگاڑا کیا ہے ۔۔۔۔مگر جب اس کے برابر بیٹھی ماہم کو دیکھتا تو دل بے قابو ہونے لگتا دل کہتا کہ ماہم کو پانے کے لئے ہر سرتابی کر گزروں ۔۔۔۔۔۔ماہم عمر کو گود میں لئے کھانا کھاتے ہوئے بہت مشکل پیش آتی تھی۔۔۔۔عفان غیر محسوس طریقے سے ماہم کی کھانے میں مدد کرتا رہتا کبھی روٹی اسکی پلیٹ میں رکھ دیتا کبھی سالن اسکی پلیٹ میں ڈال دیتا یا پانی کا گلاس بھر کے اسکے پاس رکھ دیتا تاکہ اسے مشکل پیش نا آئے ۔۔۔۔مشعل ویسے بھی پاپا کی گود میں ہوتی تھی ۔۔۔۔پاپا روٹی کے بلکل چھوٹے چھوٹے ٹکڑے مشعل کے منہ میں ڈالتے رہتے اور خود بھی کھانا کھاتے رہتے ۔۔۔۔
“مہک بٹیا ۔۔۔جب ماہم ہمارے گھر آئی تھی ۔۔۔کچھ بھی کھاتی پیتی نہیں تھی اور مجھے تو دیکھتے ہی اپنی خالہ کے پیچھے چھپ جاتی تھی ۔۔۔۔۔۔اور تمہاری مما اسکی منتیں کرتی رہ جاتیں مگر مجال ہے کہ یہ کھانا کھا لے ۔۔۔پھر ایک دن میں نے ماہم کو اپنی گود میں بیٹھا کر ایسے ہی کھانا کھلایا تھا جیسے مشعل کو کھلا رہا ہوں ۔۔۔اسوقت ماہم نے نا کوئی ضد کی نا تنگ کیا چپ چاپ میری گود میں بیٹھی کھاتی رہی ۔۔۔۔۔۔اور پھر روز میں ماہم کوایسے ہی کھانا کھلانے لگا ۔۔۔۔آہستہ آہستہ اسکو میری اتنی عادت ہو گئ کہ جب کبھی میں فیکٹری سے لیٹ ہو جاتا عفان اور کامران توکھانا کھا کر سوجاتے مگر ماہم میرے انتظار میں بھوکی بیٹھی رہتی ۔۔۔۔اب تک ماہم کی یہی عادت ہے جب تک ڈائنگ ٹیبل پر میں موجود نا ہوں یہ کھانا نہیں کھاتی” ۔۔۔۔پاپا نے مسکرا کر ماہم کو دیکھا ۔۔۔۔
“ہاں لیکن پاپا اب مجھے لگتا ہے میری جگہ مشعل نے لے لی ہے ۔۔۔۔دیکھیں نا کیسے جم پر بیٹھی ہے آپ کی گود میں “۔۔۔۔ماہم نے مصنوعی خفگی دیکھائی
“ارے مشعل تو جان ہے میری جب تک اسے صبح دیکھ نا لوں مجھے لگتا ہے صبح ہوئی ہی نہیں ہے ۔۔۔۔اور تم بیٹی ہو میری تمہاری جگہ اب بھی میرے دل میں ویسی ہی ہے ۔۔۔۔اور رہ گیا عمر وہ بلکل اپنے باپ کی طرح نالائق ہے “۔۔۔۔۔عفان کا نوالہ ہاتھ میں ہی رہ گیا
“جی جی بلکل ۔رات کو آپ کا یہی نالائق بیٹا آپکےپوتے کو سنبھالنے میں آپکی لاڈلی بیٹی کا ساتھ دیتا ہے “۔۔۔۔۔۔عفان نے ہنستے ہوئے کہا
“پاپا عمر عفان جیسا نہیں ہے ۔۔۔ بلکل مجھ پر ہے” ۔۔۔۔نا جانے کیوں میں اس بات پر چپ نہیں رہ سکا ماہم کے چہرے کی مسکراہٹ پل میں ہی ختم ہوئی تھی ۔۔۔۔مگر عفان نے میری بات کو عام طور پر ہی لیاتھا ہسنے لگا
“بلکل بھائی ۔۔۔۔عمر آپ پر ہی ہے “۔۔۔۔نا جانے ماہم کو کیا ہوا عفان کو تیوری چڑھا کر دیکھتی ہوئی ..کھانا وہیں چھوڑ کر اٹھ کر چلی گئ ۔۔۔۔اسکا یہ انداز مجھے اندر تک سلگا گیا تھا میرے اندر آگ بھڑک اٹھی میرے دماغ کا کھچاؤ۔ بڑھنے لگا ۔۔۔کیوں کرتی ہے وہ مجھ سے اتنی نفرت اسکی آنکھوں میں اپنے لئے اتنی بیزاریت کوفت اور نفرت مجھ سے برداشت ہی نہیں ہو رہی تھی اپنے اندر کی کھولن کو میں نے ٹھنڈا پانی پی کر ٹھنڈا کرنا چاہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو فیصلہ میں کتنے مہنوں سے نہیں کر پا رہا تھا ماہم کے رویے سے میرے لئے کرنا آسان ہوگیا سچ ہی کہتے ہیں کہ غصہ انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کر دیتا ہے میں بھی اس وقت غصے میں اندھا ہوچکا تھا ۔۔۔۔کچھ ہی دن بعد ایک گیٹ ٹو گیدر گھر پر ارینج ہونا تھا ۔۔بچوں کہ خوشی میں ۔۔میں نے سوچا یہی موقع اچھا ہے ۔۔۔۔۔بس سب کچھ میرے پلان کے مطابق ہی ہوا ۔۔۔۔۔ماہم لان میں تیار ہو کر آئی تو میں نظریں ہٹانا ہی بھول گیا ۔۔۔۔میری نظریں اسی کا طواف کر رہیں تھیں ۔۔۔۔ایک تو بلیک کلر جو ویسے ہی میری کمزوری تھی پھر ساڑھی بالوں پر کلیوں کےگجرے ۔۔۔ہاتھوں میں کانچ کی چند چوڑیاں دوسرے ہاتھ میں سونے کنگن وہ اتنی مکمل لگ رہی تھی کہ میرادل چاہا بس اسے دیکھتا ہی رہوں ۔۔۔۔۔عمر اسکی گود میں تھا پھر دل بے تاب نے مجھے مجبور کردیا ۔۔۔۔میں فورا ماہم کے پاس آگیا ۔۔۔۔عین اسکے سامنے کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔ماہم مجھے استفہامیہ نظروں سے دیکھنے لگی
“عمر کو مجھے دیدو “۔۔۔۔میں نے بہت نرمی سے ماہم سے کہا
“نہیں وہ میری گود میں ہی ٹھیک ہے “
“ماہم ۔۔۔۔میں کوئی غیر تو نہیں ہوں ۔۔۔مجھے احساس ہے کہ تم اس وقت ساڑی اور عمر کو ایک ساتھ نہیں سنبھال سکتی ۔۔۔۔اور بھول جاؤں پچھلی باتوں کو ۔۔۔۔میری تودعا ہے کہ تم اپنی آنے والی زندگی میں بہت خوش رہو “۔۔۔۔۔دعا تو واقع میں نے ماہم کو دل سےدی تھی کیونکہ اسکی آنے والی زندگی یقینا میرے ساتھ گزرنی تھی ۔۔۔۔پھر میں نے خود ہی آگے بڑھ کر عمر کو ماہم کی گود سے لے لیا ۔۔۔۔۔ساڑھی توآج مہک نے بھی پہنی تھی ۔۔۔۔مگر میں نے اسے ٹھیک سے دیکھا ہی نہیں ۔۔۔۔جب بھی میری نظر ماہم پر پڑتی وہ داخلی دروازے پر نظریں جمائے نظر آتی ۔۔۔۔میں گہری سانس خارج کرتے ہوئے خود سے ہمکلام ہوا
“ہائے ۔۔۔ماہم ڈیر جسکا تم انتظار کررہی ہو ۔میری جان ۔۔۔۔وہ کچھ ہی دیر میں تمہارا ماضی ہو جائے گا ۔۔۔۔۔اور میں ہوں تمہارا مستقبل ایک تابناک مستقبل ۔”۔۔۔۔۔ماہم اب عفان کا انتظار کر کر کے تھک گئ تھی کبھی اپنی ریسٹ واچ دیکھتی کبھی فون پر کال کرنے لگتی میں گھر کے ایک خاموش گوشے میں آ گیا میں نے منہ پر رومال رکھا اور ایک نئے نمبر سے عفان کو کال کی اپنے دل میں آنے والی بات میں نے آواز کو بدل کرعفان سے کی اور فون بند کردیا ۔۔۔۔۔ کال کے چند ثانیے گزرنے کے بعد ہی مجھے کال آئی میں نے بڑی بے تابی سے فون اٹھایا
“آپ کا کام ہو گیا ہے سر “
“او کے باقی کے پیسے تمہیں مل جائیں گئے “۔۔۔میں نے فون بند کیا اور میرادل زور زور سے دھڑکنے لگا ۔۔۔۔میں ماہم کے عقب میں کھڑا ہو گیا ۔۔
“عفان پلیز پک اپ دا فون” ۔۔۔۔وہ اب بھی فون پر مصروف تھی ۔۔۔۔پھر مجھے دیکھ کر پیچھے ہٹ گئ
اور فاریہ کے پاس چلی گئ
******………
فنگشن پر سب مہمان آچکے تھے ماہم کی نظریں بیرونی گیٹ پر ہی ٹکی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔عفان اپنا فون بھی نہیں اٹھا رہا تھا ۔۔۔کچھ ہی دیر میں عفان کے نمبر سے کال آئی مگر بات کوئی اور کر رہا تھا
دیکھیں آپ جو کوئی بھی ہیں فورا سے نیشنل ہاسپٹل پہنچیں جن کا یہ فون ہے ان کا ایکسڈینٹ ہو چکا ہے اور وہ بہت کرٹیکل کنڈشنر میں ہیں ۔۔۔۔”
“عفان ۔۔۔۔۔ایکسڈینٹ ۔۔۔۔۔”نہیں ۔۔۔۔۔”ماہم بد حواس سی ہونے لگی اسے لگا اسکا اغ معاوف ہو چکا ہے فون فاریہ نے پکڑ لیا ۔۔۔۔ان ہی ان سب کو خبر ہو چکی تھی ۔۔۔قاسم کامران رضا صاحب تینوں ہاسپٹل جانے کے لئے بھاگے ۔۔۔ماہم بھی انکے پیچھے گاڑی تک پہنچ گئ ۔۔۔۔
“پاپا میں ساتھ جاؤں گی “ماہم نے پھولے ہوئے سانس کے ساتھ کہا صفیہ بیگم اور مہک بھی وہیں پہنچ گئیں صفیہ بیگم رونے لگیں
“پہلے ہمہیں جانے دو ۔۔۔۔دیلھ لینے دو آپ لوگ بعد میں آ جانا ۔۔۔”رضا صاحب کے منع کرنے پر بھی ماہم نہیں رکی تھی فورا گاڑی کا پیچھلا ڈور کھول کر بیٹھ گئ
“میں ضرور جاؤں گئ پاپا ۔۔۔۔”رضا صاحب بھی پیچھے بیٹھ گئے قاسم اور کامران فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے رش ڈرائیو کرتے ہوئے ہاسپٹل پہنچے تھے
