Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 61 (Part 2)
Rate this Novel
Tadbeer Episode 61 (Part 2)
Tadbeer by Umme Hani
ماہم کامران بات سن کر الٹے قدم گھر کے گیٹ سے نکل گئ ۔۔۔۔کیپ سے ہاسپٹل پہنچی ۔۔۔۔اور سیدھا ڈاکٹر رمشہ کے کمرے میں بنا دستک کے داخل ہو گئ اس وقت اسکی حالت غیر ہو رہی تھی ڈاکٹر رمشہ اسوقت ایک مریضہ کو چیک کر رہی تھی ۔۔۔
“ڈاکٹر مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔”ماہم فورا سے ڈاکٹر رمشہ کے قریب پہنچ کر بولی آنکھوں میں آنسوں ہونٹوں پر کپکپاہٹ لیے با مشکل بول رہی تھی
“‘مسز عفان آپ پلیز باہر ویٹ کریں میں پیشنٹ دیکھ کر آپ سے بات کرتی ہوں “ڈاکٹر رمشہ کے سامنے ایک ادھیڑ عمر کی خاتون بیٹھی تھیں
“نہیں مجھے ابھی بات کرنی ہے ڈاکٹر پلیز “ماہم کے ملتجی لہجے پر وہ خاتون اپنی کرسی سے کھڑی ہو گئیں
“ڈاکٹر رمشہ آپ پلیز ان کی بات سن لیں ۔۔۔میں باہر ویٹ کر لیتی ہوں “وہ خاتون کمرے سے باہر چلی گئ ۔۔۔ماہم بری طرح سے بد حواس تھی آنکھوں سے آنسوں جاری تھے
“ماہم پلیز ٹیک یور سیٹ “ڈاکٹرنے سامنے کرسی کی طرف اشاراہ کرتے ہوئے ماہم سے کہا
“نہیں ۔۔۔بیٹھنا نہیں ہے مجھے ۔۔۔۔کیا کرنا چاہ رہیں ہیں آپ عفان کے ساتھ ۔۔۔۔”
“کسی نے نے کچھ کیا ہے آپ سے ‘”ڈاکٹر رمشہ نے تشویشی انداز سے کہا
“کامران سے کیا کہا ہے آپ نے ۔۔۔۔”
“اوہ تو انہوں نے بتا دیا آپکو ۔۔۔۔۔دیکھیں ماہم ۔۔۔۔عفان میں کوئی پروگریس نہیں ہو رہی ۔۔۔۔اس لئے سینر ڈاکٹر نے یہی بہتر سمجھا ہے ۔۔۔ہاں اگر وہ چند دنوں میں کوئی اور رسپونس دیتے ہیں تو سوچا جا سکتا ہے ورنہ ۔۔۔۔ایم سوری “
“لیکن آپ نے تو کہا تھا کہ وہ ٹھیک ہو رہا ہے “
“نہیں ماہم ایم سوری “
“میں بات کر سکتی ہوں اس سے “
“جی شیور ٫ماہم روتے ہوئے عفان کے ک۔رے میں داخل ہوئی تھی اسکی منت۔ کرتی رہی روتی رہی ڈاکٹر رمشہ کی بات بھی بتانے لگی ۔۔۔۔لیکن سب کچھ بے اثر تھا “گھر آ کر بھی وہ سیدھا کمرے میں جا کر کافی دیر روتی رہی ۔۔۔پھر اٹھ کر وضو کر کے جائے نماز پر نفل ادا کر کے دعاؤں میں روتی رہی عفان کی لمبی عمر کی دعائیں کرنے لگی ۔۔۔۔
*/******/……….
رات ڈنر پر ماہم کی روئی روئی آنکھیں اس بات کی تصحیح کر رہی۔ تھیں کہ ڈاکٹر رمشہ اسے وہ سب کہہ چکی ہے جو میں چاہتا تھا ۔۔۔۔اس لئے پاپا سے بات میں نے خود شروع کی ۔۔۔۔کہ اب ڈاکٹرز کو عفان سے کچھ خاص امید نہیں ہے ۔۔۔۔ مما پاپا تواس خبر پر پریشان تھے مگر ماہم میری ہر بات پر بس یہی کہتی رہی کہ اسے اپنے رب پر یقین ہے کہ عفان۔ کو کچھ نہیں ہوا گا اسکا مضبوط لہجہ اور اطمینان میرا سکون تہ و بالا کرنے کے لئے کافی تھا ۔۔۔۔رات کو مشعل کی طبیعت نا ساز تھی وہ بلا وجہ روئے جا رہی تھی اس لئے مہک جلد ہی اسے کمرے میں سلانے لے گئ میں عمر کے ساتھ لاونج میں کھیلنے لگا ۔۔۔۔ماہم کچن میں مصروف تھی جب باہر عمر کو لینے آئی ۔۔۔تو میں نے کافی کی فرمائش کر دی ۔۔۔۔وہ واپس کچن میں جانے لگی تو میں نے جان بوجھ کر اسے دو کپ کافی بنانے کے لئے کہا ۔۔۔۔میں پھر سے انہیں دنوں کو دوہرانہ چاہتا تھا ۔۔۔جو ہم نے کبھی ساتھ گزارے تھے ۔۔۔۔میری شدت سے خواہش تھی کہ ماہم کے ساتھ کافی پیتے ہوئے ڈھیروں باتیں کروں ۔۔۔۔۔وہ میری باتوں پر ویسے ہی خوبصورت سے شرم و حیا کے رنگ بکھیرے ۔۔۔۔۔میری سوچوں کا تسلسل اس وقت ٹوٹا جب کافی کا ایک کپ ماہم نے بے دلی سے ٹیبل پر پٹخنے کے انداز سے رکھا ۔۔۔۔اور عمر کو گود میں۔ لئے جانے لگی۔
،”تمہاری کافی کہاں ہے “
“کافی تو کب کی پینی چھوڑ دی میں نے اب تو یہ یاد نہیں کہ آخری بار پی کب تھی” ۔۔۔۔۔ماہم نے بنا پلٹے ہی جواب دیا
“کیوں چھوڑ دی ۔۔”۔۔میں نے اپنا کپ ہونٹوں سے لگاتے ہوئے پوچھا
“اس لئے کہ عفان کو پسند نہیں تھی ۔۔۔۔پھر مجھے کیسے اچھی لگ سکتی تھی” ۔۔۔۔یہ کہہ کر ماہم تو چلی گئ مگر ماہم کی بات پر مجھے لگا کہ۔ کافی نہیں ایک گرم اور ثقیل سا سیال اندر نگل رہا ہوں۔۔۔۔میں نے کپ ٹیبل پر پٹخ دیا ۔۔۔۔
“عفان عفان عفان ۔۔۔۔۔جیسے عفان کے علاؤہ سب ختم ہو گیا ہو کس بات کا زعم ہے اس لڑکی کو ۔۔۔۔۔نا جانے کس بات پر تم اتنا اکڑنے لگی ہے ۔۔۔۔۔شاید قاسم کی بے جا حمایت کا نتیجہ ہے ۔۔۔۔جبھی ماہم اتنی خود سر ہو گئ ہے ورنہ یہ ڈرپوک سی لڑکی مجھے یوں زچ نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔اب مجھے کیا کرنا تھا میں سوچ چکا تھا کل میں آفس کے کام کی ساری انسٹرکشن اپنی سیکٹری کو دے کر قاسم کے والد کے آفس میں پہنچ گیا ۔۔۔۔۔وہ مجھے مہک کے حوالے اچھی طرح جانتے تھے اس لئے بہت خوش دلی سے میرا استقبال کیا ۔۔۔۔
“ارے بیٹھو کامران ۔۔۔۔مہک کیسی ہے اور سب ٹھیک ٹھاک ہیں گھر پر۔”۔۔۔۔وہ اپنی ریوالونگ چیر پر بیٹھے “مجھے سامنے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگے
جی انکل ۔۔۔۔سب ٹھیک ہیں” ۔۔۔۔
“اچھا پہلے بتاؤں چائے منگوانے یا کافی” ۔۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے اپنا کالڈیس اٹھاتے ہوئے مجھ سے پوچھنے لگے ۔۔۔۔
“کافی “
“انہوں نے دو کافی کا آڈر دیا “
“اب سناؤں بیٹا کام وام تو سب ٹھیک چل رہا ہے نا ۔۔۔۔”
“جی انکل فرسٹ کلاس “۔۔۔۔میں سامنے ٹیبل پر رکھے پیپر ویٹ کو گول گول گھمانے لگا اور سوچنے لگا کہ بات کو شروع کیسے کرو
“عفان کی وجہ سے تمہارے والد تو ٹوٹ کر رہ گئے ہیں ۔۔۔قاسم نے ذکر کیا تھا مجھ سے ۔۔”۔۔وہ اپنی ریواونگ چیر سے ٹیک لگائے پر سکون انداز سے پوچھنے لگے
“بس اب کیا کہا جا سکتا ہے “
“عفان کی کنڈیشن کیسی ہے “
“ویسی ہی ہے ۔۔۔۔کچھ خاص فرق نہیں۔ پڑا” ۔۔۔۔میری بات پر کچھ بے یقینی سے بولے
“اچھا مگر قاسم تو کہہ رہا تھا کہ اب اسکی آنکھوں کی پتلیاں۔ موو کرنے لگیں ہیں “
“ایساشاید اتفاق سے ایک بار ہی ہوا تھا ۔۔۔۔ڈاکٹر تو یہاں تک کہہ رہے کہ اگر یہی حال رہا تو شاید وینٹیلیٹر بھی اتار دیں گئے” ۔۔۔۔۔
“اوہ”۔۔۔۔فکر مندی سے وہ ہونٹ گول کر کے بولے
“بیٹا اگر کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجک کہنا ویسے قاسم تو ہر ماہ تمہاری بھابی کو عفان کے حصے کے پرافٹ باقاعدگی سے دے رہا ہے “
“پرافٹ ۔۔۔۔مگر کیوں اسکی ضرورت کیا ہے ۔”۔۔۔میں نے حیرت سے کہا اور پیر ویٹ سائیڈ ہر رکھ دیا اور بلکل سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تو اس بل بوتے پر ہاسپٹل کے بل بھر رہی ہے یہ
“کیا مطلب ظاہر ہے ہاسپٹل کے اخراجات ہیں پھر سارابرڈن تو تم پر آ چکا ہے ۔۔۔۔مشکل تو ہوتی ہو گی تمہیں “
“نہیں۔ انکل ۔۔۔۔میں اکیلابھی اچھا خاصا کما رہا ہوں ۔۔۔۔گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے اور ہاسپٹل کے بل تو میں خود ہے کررہا ہوں ۔۔۔۔مجھے احساس ہے اس بات کا کہ قاسم کے کام کی اب وہ پوزیشن نہیں رہی جو عفان کی موجودگی میں تھی پھر اس کے اپنے بیوی بچے ہیں ۔۔۔۔مہنگائی تو انکل آسمان سے باتیں کر رہی ہے ۔۔۔۔قاسم کو ماہم اور عمر کی فکر نہیں کرنی چاہیے ۔۔۔ وہ میری زمہ داری ہیں ۔۔۔۔مجھے تو سمجھ نہیں آتا آپ روکتے کیوں نہیں ہیں قاسم کو ۔۔۔۔۔اور دیکھا جائے تو جب عفان نے محنت کی نہیں ہے تو پروفٹ کیسا ۔۔۔۔اور اگروہ ہمدردی کے طور پر یہ سب کر رہا ہے تو ۔۔۔۔ماہم اور عمر اسکے حقدار نہیں ہیں ۔۔۔۔۔میں انکی ساری ضرورتیں بنا کہے پوری کردیتا ہوں” ۔۔۔۔میں نے انہیں پوری تسلی دی
“تو پھر تمہاری بھابی میرج ارینجمنٹ کیوں کر رہی ہے “
“ایسے ہی ٹائم پاس کے لئے ۔۔۔۔انکل آپ سمجھائیں قاسم کو ۔۔۔۔اپنے بارے میں سوچے ۔۔۔۔”
“بات تو تمہاری ٹھیک ہے کچھ دن پہلے فاریہ بھی مجھ سے کہہ رہی تھی کہ کچھ ماہ سے قاسم اسے پاکٹ منی بھی نہیں دے رہا ۔۔۔۔۔نا ہی اپنی ماں کو خرچہ دے رہا ہے ۔۔۔۔۔لیکن بہرحال اسکے پیسے نا دینے سے اتنا فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔مجھے تو یہ لگا کہ شاید “۔۔۔۔وہ سوچ میں پڑ گئے
“ایسا کچھ نہیں ہے انکل ۔۔۔۔میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ قاسم کو سختی سےمنع کریں۔۔۔۔۔اگر یہ بات ہمارے خاندان والوں کے کان میں پڑ گئ تو کیا عزت رہے گی ہماری کہ میں بیمار بھائی اور اسکی بیوی بچے کی کفالت بھی نہیں کر سکتا “۔۔۔۔۔میں نے بات کچھ اس انداز سے کی کہ وہ مجھے دیکھ کر دوبارہ سوچ میں پڑ گئے ۔۔۔۔مگر میرے چہرے پر سجی بناوٹی مظلومیت اور احساس مندی سے وہ کافی حد تک متاثر نظر آ رہے تھے ۔۔۔۔کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد میں وہاں سے چلا گیا گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے میں بہت پر سکون تھا ۔۔۔ماہم ڈیر اب میں دیکھتا ہوں عفان کے بل تم کیسے پے کرتی ہو ۔۔۔۔میری جان۔۔۔۔ کب تک تم مجھ سے بچنے کی تگ ودو میں لگی رہوں گی ہرر موڑ پر میں ہی ملونگا تمہیں ۔۔۔۔اپنی چال کی کامیابی پر میں بہت خوش تھا
“””””****/*
ماہم ایک ضروری کام سے اپنے آفس سے نیچے اتر کر قاسم کے آفس میں داخل ہوئی تھی ۔۔۔۔مگر اسکے کمرے میں جانے سے پہلے ہی قاسم کی بلند آواز پر وہیں رک گئ پلٹ کر واپس جانے لگی لیکن جب اسکے منہ سے اپنا اور عفان کا نام سنا تو وہیں کھڑی ہو کر سننے لگی ۔۔۔دوسرا شخص شاید قاسم کے والد تھے جو اسے ڈانٹ رہے تھے
“میں پوچھتا ہوں ۔۔۔۔تم کب تک دوسروں کو پالتے رہوں گئے ۔۔۔۔۔”
“جب تک عفان ٹھیک نہیں ہو جاتا ۔۔۔اور یہ میرا ذاتی مسلہ ہے “قاسم دو با دو جواب دے رہا تھا
“بکو مت قاسم ۔۔۔۔تمہارے کام کی پوزیشن مجھ سے چھپی ہوئی نہیں ہے ۔۔۔۔فاریہ اور نائل کی بھی تمہیں کوئی پروا نہیں ہے ۔۔۔۔کتنے مہنے سے تم اسے خرچے کے نام پر ایک پائی نہیں دی اور جس کو اپنے حصے کا پروفٹ بھی دے رہے ہو وہ ضرورت مند ہے بھی نہیں ۔۔۔۔کامران ہر ذمہ داری بہت خوش اسلوبی سے نبھا رہا ہے “
“اوہ تو اس کمینے کا بھرا ہوا زہر اگل رہے ہیں آپ ۔۔۔۔پاپا فاریہ اور نائل میری زمہ داری ہیں ۔۔۔۔جب فاریہ کو کوئی اعتراض نہیں تو آپ کو بھی نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔اور میں اس معاملے میں کسی کی بات نہیں سنو گا ۔۔۔۔۔اپ کی بھی نہیں ۔۔۔شاید آپ عفان کے احسانات بھول گئے ہیں جب اس نے آپ کی فارم پر دن رات محنت کر کے آپکی ساخت مضبوط کی تھی ان دنوں آپ ڈبل پروفٹ کما کر دیے تھے ۔۔۔لیکن میں مشکل وقت میں اپنے دوست کو نہیں چھوڑ سکتا “
“تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے ۔۔۔۔”کمرے دروازہ اچانک کھلا تھا ۔۔۔ماہم بوکھلا کر پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔۔قاسم کے والد نے ایک غصیلی نظر ماہم پر ڈالی اور باہر نکل گئے ۔۔۔ماہم بھی واپس پلٹ کر اپنے آفس میں آ گئ ۔۔۔۔اکر اپنی کرسی پر بیٹھ کر رونے لگی ۔۔۔اسکی ہر راہ کامران بند کرنے پر تلا ہوا تھا ۔۔۔ماہم کو ایک بڑے ارنجمنٹ کا آڈر مل تھا لیکن وہ پارٹی فنگشن اپنے فام ہاؤس میں کرنا چاہتے تھے جو شہر سے باہر تھا ۔۔۔اس لئے ماہم قاسم سے کہنے آئی تھی کہ اگر وہ اپنا ڈرائیور اسکے ساتھ بھیج دے تو وہ آسانی سے چلی جائے گی ۔۔۔گاڑی تو کافی حد تک وہ چلانا سیکھ چکی تھی لیکن اتنی لمبی ڈرائیو نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔لیکن جو کچھ وہ سن کر آ رہی تھی اب قاسم سے پیسے نہیں لینا چاہتی تھی۔۔۔۔کچھ دیر میں کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی ۔۔۔قاسم اندر آنے کی اجازت مانگ رہا تھا ۔۔۔۔ماہم نے اپنے آنسوں صاف کیے
“جی آئیں قاسم بھائی “قاسم اندر داخل ہوا ماہم کو غور سے دیکھتے ہوئے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔
“کچھ کام تھا ۔۔۔قاسم بھائی “
“جی “قاسم نے ایک چیک ماہم کی طرف بڑھا دیا “
“نہیں قاسم بھائی اس کی ضرورت نہیں۔ رہی ۔۔۔میرا کام اب بہت اچھا چل رہا ہے “ماہم نے نظریں چراتے ہوئے کہا
“مجھے معلوم کے کتنا اچھا چل رہا ہے ۔۔۔اور یہ بھی معلوم ہے کہ آپ ڈیڈ کی باتیں سن چکی ہیں اور میرا جواب بھی ۔۔۔اس لئے ۔۔۔یہ بہانے میرے سامنے مت بنائیں “قاسم نے چیک اسکے سامنے رکھ دیا
“قاسم بھائی اگر آپ اگر مجھے اپنی بہن سمجھتے ہیں تو یہ رکھ لیں ۔۔۔۔میں وہ اپاٹمنٹ بیچ دونگی ۔۔۔۔عفان نے ہی خریدا تھا ۔۔۔اگر اسی کے کام ا جائے تو کیا حرج ہے “ماہم ے نئ راہ نکالی
” جب تک آپکا بھائی زندہ ہے ۔۔۔ایسی نوبت نہیں آئے گی “قاسم کھڑا ہو گیا
“قاسم بھائی پلیز میں یہ نہیں رکھ سکتی “
“آپ کو عفان کی قسم ہے آپ انکار نہیں کریں گی “یہ کہہ کر قاسم کمرے سے باہر چلا گیا
******…….
۔۔۔۔۔عمر کو میں رات دیر تم اپنے پاس رکھنے لگا تھا رات مہک نے بھی مجھ سے کہا اب بہت دیر ہو گئ ہے ۔۔۔۔۔عمر کو اب ماہم کو دیدیں مگر میں نے منع کر دیا
“عمر کو ابھی نیند نہیں آ رہی ۔۔۔۔اور میرا بھی ابھی اس سے کھیلنے کا موڈ ہے ۔۔۔۔چھوڑ آنا جب عمر کو نیند آئے گی “۔۔۔۔مہک مشعل کو سلاتے ہوئے خود بھی کچھ ہی دیر میں سو گئ اور عمر بھی نیند میں جانے لگا مجھے ایسے ہی موقع کی تلاش تھی عمر کو میں خود چھوڑنے ماہم کے کمرے میں گیا ۔۔۔۔۔میری ایک ہی دستک پر ماہم نے دروازہ کھول دیا شاید اسے لگا مہک ہے ۔۔۔۔مجھے دیکھ کر ناگواری سے اسکے ماتھے پر کئ سلوٹیں پڑ گئیں میں نے عمر کو بیڈ پر لیٹایا اور ماہم کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔میری مسکراہٹ پر اسکے ماتھے کے بل میں مزید اضافہ ہو گیا
“ہائے سوئٹ ہارٹ ۔۔۔۔آج تو مزاج بہت برہم لگ رہے ہیں جناب کے ۔”۔۔۔۔میں اسکی طرف ذرا جھک کر مسکرا کر بولا
“جب تک آپ جیسے گھٹیا لوگ سازشوں کے جال بھنتے رہتے ہیں ۔۔۔۔وہاں کوئی بھی خوش کیسے رہ سکتا ہے ” ۔۔۔۔ماہم کی نظروں تاسف اور لہجہ کٹیلا تھا
اس کی بات پر بجائے غصہ کرنے میں میں ہسنے لگا قاسم کے والد سے کی گئ بات کی ماہم کو خبر ہو چکی تھی یہ سوچ میں مجھے بہت سکون ملا تھا اب نا تو قاسم ماہم کی مدد کرنے کی کوشش کرے گا اور ماہم بھی احتیاط ہی برتے گئ
“کیا کروں ماہم ۔۔۔۔با حالت مجبوری مجھے یہ سب کرنا پڑا ۔۔۔۔تم میری باتوں سے اتنا اختلاف کرو گئ میری جان تو مجھے تمہاری راہیں بند کرنی ہی پڑیں گی نا ۔”۔۔۔ میں تھوڑا اور جھک کر اپنی آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے تمسخر اڑانے کی کی کوشش کرتے ہوئے بولا ماہم کی نا گواری پر میں مسکرا رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم پیچھے ہٹ گئ
“ماہم کتنا دور بھاگو گی مجھ سے ۔۔۔۔ چھوڑ دو یہ کوشش کرنا یار تمہاری منزل صرف میں ہوں” ۔۔۔۔۔میری بات پر ماہم غصے سے بپھر گئ
“نکلو میرے کمرے سے باہر اور ہاں ہر کوئی تمہاری طرح کم ظرف نہیں ہے تمہارا داؤ اس بار بھی خالی ہی گیا ہے کامران ۔۔۔۔” ۔۔۔۔۔وہ بہت غصے سے بولی ۔۔۔۔۔
میں بھی اس وقت اس سے الجھنا نہیں چاہتا تھا اس لئے خاموشی سے باہر نکل گیا
******…….
اگلے سنڈے ماہم صبح سے ہی گھر سے غائب تھی میں نے ناشتے کے دوران پاپا سے ماہم کے متعلق پوچھا
پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ماہم اپنے ارینجمنٹ کے سلسلے میں قاسم کے ساتھ کسی کے فارم ہاؤس گئ ہے رات کو لیٹ ہی آئے گی پاپا کی بات سن کر میں بھڑک اٹھا
“پاپا آپ نے اجازت بھی کیسے دیدی اسے قاسم کے ساتھ جانے کی۔۔۔۔یہ کیا طریقہ ہے کام کا”
“کیا بات ہے کامران ۔۔۔۔قاسم کوئی غیر نہیں ہے ۔۔۔تمہارا ماہم کے لئے یوں ریایکٹ کرنا مجھے ویسے بھی پسند نہیں ہے ۔۔۔۔تمہاری انہیں حرکتوں کی وجہ سے ماہم نے یہ قدم اٹھایا ہے ۔۔۔۔ ‘”
“او پلیز پاپا ۔۔۔۔ مجھے فکر ہے ماہم کی اسے ضرورت کیا تھی اتنی دور جانے کی کس چیز کی کمی ہے اسے یہاں اور اگر جانا بھی تھا تو میرے ساتھ بھی جا سکتی تھی ۔۔۔۔۔قاسم کے ساتھ جانے کیا ضرورت تھی ۔۔۔”۔
“تمہارے ساتھ ماہم جانا نہیں چاہتی تھی” ۔۔۔۔۔پاپا نے اسپاٹ لہجے میں کہا
“کیوں ۔۔۔۔”۔
‘یہ تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے نا کامران ۔۔۔۔وہ خود کو تمہارے ساتھ محفوظ نہیں سمجھتی ۔”۔۔۔۔پاپا کی بات سن کر میں شرمندگی سے نظریں نہیں اٹھا پایا ۔۔۔۔۔مجھے اپنا آپ بہت چھوٹا اور گرا ہوا لگنے لگا ۔۔۔۔اپنی اتنی ہتھک اور تضحیک مجھ سے برداشت نہیں ہوئی میں ناشتہ چھوڑ کر اٹھ کر چلا گیا ۔۔۔۔۔پورا دن میرا بے چینی سے ہی گزرا ۔۔۔۔مجھے لگا وقت ٹہر گیا ہے ۔۔۔ جیسے جیسے دن گزر رہا تھا میراغصہ بھی بڑھتا جا رہا تھا رات کو پاپا کی ماہم سے بات ہوئی کہ اسے دیر ہو جائے گی ۔۔۔۔۔پاپا مما مہک سب ہی سو چکے تھے بس ایک میں جلے پاؤں کی بلی کی طرح پورے لاونج کے چکر لگا رہا تھا ۔۔۔۔ایک آگ سی تھی جو مجھے اندر ہی اندر جھلسارہی تھی ۔۔۔۔ماہم کی ہمت بھی کیسے ہوئی کہ وہ قاسم کو مجھ پر اہمیت دے ۔۔۔۔۔میں اپنے کمرے میں گیا اور مہک کے موبائل لیکر فاریہ کا نمبر ڈھونڈنے لگا کچھ ہی دیر میں مجھے فاریہ کا نمبر مل گیا ۔۔۔۔میں نے اپنے فون سے فاریہ کو کال کی اور واپس لاونج میں ا گیا ۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں فاریہ نے فون اٹھا لیا
“ہیلو جج کون …..”
“کامران “۔۔۔۔میرانام سن کر فاریہ کا لہجہ ترش سا ہو گیا
“جی فرمائیے ۔۔”۔۔
“کیسی بیوی ہو تم ۔۔۔۔۔اپنے شوہر کی خبر گیری تو رکھا کرو ۔۔۔۔۔۔رات کا ایک بج رہا ہے کہاں ہے قاسم۔۔”۔میں تو پہلے ہی غصے سے بھرا بڑا تھا ظاہر ہے لہجہ بھی اسی کی عکاسی کر رہا تھا
“مجھے معلوم ہے قاسم کہاں ہے ۔۔۔۔۔اور بائے دا وئے آپ کون ہوتے ہیں مجھے مشورہ دینے والے ۔۔۔۔۔”
“فی الحال تمہارا خیر خواں “
“آپ کی باتوں میں آ کر بیوقوف میں تو نہیں بنو گی کامران بھائی مجھے قاسم پر بھی بھروسہ ہے اور ماہم پر بھی ۔۔۔۔۔لہذا آپکی کی کوشش بے کار ہے ۔۔”۔فاریہ کی بات پر میں بے ساختہ ہسنے لگا
“اف یہ اندھا اعتماد ۔۔۔۔۔وہ بھی مرد پر ۔۔۔۔۔کرو ۔۔۔۔شوق سے کرو اپنے قاسم پر بھروسہ اور ماہم سے بھی ہمدردی یونہی جتاتی رہنا ۔۔۔۔۔۔بلکہ میرا مشورہ مانو تو دوستی اور گہری کر لو ماہم سے ۔۔۔۔کیونکہ کل جب وہ تمہاری سوت بن کر آئے گئ تو اتفاق رہے گا دونوں میں” ۔۔۔۔میرا مزاق اڑانے والے انداز پر وہ غصے سے بھپر گئ
“شٹ اپ ۔۔۔۔زبان سنبھال کر بات کریں آپ “۔۔۔۔۔وہ چلا کر بولی اور میں بے ساختہ ہسنے لگا
“اب تو یہ افسانے تمہیں ہر ایک کی زبان سے سننے کو ملیں گئے ۔۔۔۔کس کس کا منہ بند کرواں گی ۔۔۔۔مجھ پر یقین نہیں ہے مت کرو مگر ذرا اپنے تایا جی سے تصدیق کر لو کیسے آج کل قاسم ماہم پر مہربانیوں کی بارش کر رہا ہے ماہم کی خاطر اپنے سگے باپ کی بھی بات سننے کو تیار نہیں ہے تمہاری کیا سنے گا ۔۔۔۔۔ذراسوچو فاریہ ۔۔۔۔آج کل قاسم تمہیں کتناوقت دیتا ہے یا نائل کا کتنا خیال رکھتا ہے ۔۔۔۔ذرا اسکی باتوں پر غور کرو ۔۔۔۔اسکی ہر بات میں ماہم اور عمر کا ذکر تمہیں ضرور سننے کو ملے گا ۔۔۔۔۔تم کیا سمجھتی ہو ماہم کوئی مجبور اور بے بس گھرانے کی لا چار عورت ہے ۔۔۔۔۔نہیں فاریہ ۔۔۔۔ایسا نہیں ہے میں نے اور مہک نے کبھی ان دونوں کو اتنا بھی موقع نہیں دیا کہ انہیں منہ سے بھی کچھ مانگنا پڑے ۔۔۔۔میری بات پر بھروسہ مت کرو مہک سے پوچھ لو ۔۔۔۔۔کیا کمی ہے یہاں ماہم اور عمر کو ۔۔۔۔مگر پھر بھی قاسم ہر مہینے تمہارا اور نائل کے اخراجات کی رقم بھی ماہم کو دیدیتا ہے ۔۔۔۔کیوں ۔۔۔۔۔کیا وجہ ہے” ۔۔۔۔ میں نے فاریہ کے دل میں شک ڈالنے کی بھر پور کوشش کی
“یہ سب وہ عفان کی وجہ سے کر رہا ہے ۔”۔۔۔فاریہ کی آواز اب حلق سے پھنس پھنس کر نکل رہی تھی یعنی میری باتوں کا اثر اس پر ہونے لگا تھا میں نے اگلا داؤ چلا
“جھوٹ ۔۔۔۔بلکل جھوٹ ۔۔۔۔۔قاسم نے تو تمہیں یہ بھی نہیں بتایا ہو گا کہ عفان اب چند دن کا مہمان ہے پھر اسکی کہانی ختم اور قاسم اور ماہم کی کہانی شروع ۔۔۔۔”
“نہیں آپ جھوٹ بول رہیں ہی”ں ۔۔۔۔فاریہ کی گھبرائی اور بھرائی ہوئی آواز سے بول رہی تھی یقینا رورہی تھی میں اپنی ہنسی دبا کر بولا
“مت مانو ۔۔۔۔مگر بہت جلد تم یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گی۔۔۔۔میرا کام تمہیں آ گاہ کرنا تھا ۔۔۔باقی تم خود سمجھدار ہو ۔”۔۔۔میں نے فاریہ کو شش و پنج میں مبتلہ کر کے فون بند کر دیا ۔۔۔۔۔اور خود کو مطمئن کرنے لگا کہ اب فاریہ ضرور قاسم کو روکنے کی کوشش کرے گی ۔۔۔۔پھر تو ماہم کے پاس میرے پاس آنے کے دوسرا کوئی راستہ نہیں بچے گا ۔۔۔۔لیکن میرااطمینان بھی وقتی ثابت ہوا ۔۔۔۔رات کا ڈھیر بج چکا تھا میری بے چینی پھر سے بڑھ گئں۔۔۔۔رات کے دو بجے جب ماہم گھر لوٹی میرا غصے سے برا حال تھا ۔۔
“کہاں سے آ رہی ہو اس وقت “میں نے غصے سے پوچھا مگر ماہم جواب دیے بغیر اوپر کا زینہ چڑھنے لگی میں نےبازو سے پکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچا ۔۔۔اگر وہ نا سنبھلتی تو ۔یرے سینے سے ٹکرا جاتی ے اختیار ہی ماہم نے میرے منہ پر تھپڑ مار ڈالا ہے”کیا بدتمیزی ہے یہ “
اس کے تھپڑ نے میرے حواس گم کر دیے تھے ۔۔۔میں نے اسکا بازو زور سے دبوچا اور دوسرا ہاتھ ماہم کے منہ پر رکھ کر اسے کھسٹتا ہوا اسکے کمرے تک لے گیا ۔۔۔۔اسے کمرے میں لے جا کر بیڈ پر پھنک کر میں۔نے کمرہ بند کیا
اور پلٹ کر ماہم کو دیکھا جو بہت دنوں بعد آج مجھے خوفف زدہ سی لگ رہی تھی ۔۔۔فورا سے میرے سامنے آ گئ ۔۔۔دروازہ کھولنے کے لئے آگے بڑھی لیکن میں نے اسکی کوشش نا کام کرتے ہوئے اسے پیچھے دھکیلا ۔۔۔
“اب بتاؤں ماہم کون بچا سکتا ہے تمہیں مجھ سے ۔۔ عفان تو ہے نہیں اب یہاں پر “
میرے اس جمعلے پر ماہم کے چہرے کا خوف یک دم ہی غائب س ہونے لگا حالانکہ اسے مجھ سے ڈرنا چاہیے تھا
“وہی جس نے پہلے بچایا تھا ۔۔۔۔تب بھی عفان نہیں تھا وہاں پر ۔۔۔میں نے تو کب کا خود کو اسی کے سپرد کر دیا ہے ۔۔۔۔اور وہ اپنے بندوں کی حفاظت کرنا خوب جانتا ہے ۔۔۔۔۔مجھے تم سے ڈر نہیں لگتا کامران ۔۔۔نا تم سے خوف آتا ہے ۔۔۔۔میرا محافظ میرا اللہ ہے ۔۔۔۔جس نے اب تک میری حفاظت کی وہ آگے بھی کرے گا ۔اپنے بندوں سے وہ انکی بساط سے بڑھ کر آزمائش نہیں لیتا ۔۔۔۔”اسکی بات سن کر میری حالت غیر ہونے لگی ۔۔۔۔۔خوف سے اب میں گھبرانے لگا تھا ۔۔۔۔
بڑی مشکل سے میں نے خود کو سنبھالا تھا خود با خود ہی میرے قدم پیچھے کو ہٹنے لگے مجھے لگا واقع میرے اور ماہم کے درمیان کوئی غیر مرئی طاقت ہے جو مجھے اس کے قریب نہیں آنے دیتی
” جلد ہی نکاح کر لوں گا تم سے ۔۔۔۔۔”یہ وہ راستہ تھا جو میرے اور ماہم کے بیچ میں۔ کوئی فاصلہ نہیں رہنے دیتا
“میری مرضی کے بغیر یہ ممکن نہیں “
“ماہم میں محبت کرتا ہوں تم سے ۔۔۔۔اور تم بھی مجھ سےمحبت کرتی ہو ۔۔۔۔تم ہی نے کہا تھا کہ عورت اپنی پہلی محبت کبھی نہیں بھولتی ۔۔۔۔”میں اسے پبلک باتیں یاد کروانے لگا اسے قائل کرنا چاہتا تھا
“سب غلط ہے ۔۔۔جھوٹ ہے ۔۔۔۔دنیا کی کہی گئ جھوٹی باتیں ہیں ۔۔۔محبت صرف وہ ہوتی ہے جس میرے رب کی رضا بھی شامل ہو ۔۔۔۔اور وہ میں صرف عفان سے کرتی ہوں ۔۔۔۔تمہارے لئے مہک ہے کامران لوٹ جاؤں اسکے پاس “
“نہیں تم ہو میری ۔۔۔تمہارے لئے چھوڑ دونگا میں مہک کو ۔۔۔۔بس ایک بار میری ہو جاؤں جو کہوں گی وہی کرو گا ۔۔۔۔اعتبار کرو ماہم ۔۔۔۔”میں لجاجت پر اتر آیا
“اعتبار کرو۔ ۔۔۔وہ بھی تمہارا ۔۔۔۔چلو ٹھیک ہے ۔۔۔ اعتبار کر بھی لوں تو وہ دل کہاں سے لاؤ جو تمہاری محبت کا یقین کرے ۔۔۔۔میرے دل میں صرف عفان ہے ۔۔۔دل میں ہی نہیں میری روح میں بستا ہو وہ۔۔۔۔جب تک وہ میرے اندر دھڑکتا ہے تم آ ہی نہیں۔ سکتے۔۔۔اور اسے اگر مجھ میں سے نکالنے کی کوشش کروں گئے تو میں بھی نہیں بچوں گی ۔۔۔جاوں اپنی مہک کے پاس ۔۔۔اس سے تو شاید تمہیں محبت مل جائے مجھ سے تو بھیک میں بھی نہیں ملے گئ “میرا چہرہ متغیر ہونے لگا پسینہ میری کنپٹیوں سے بہنے لگا
وہ میرے پاس ا کر اپنے ہاتھ جوڑنے لگی گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
“خدا کے لئے میرا پیچھا چھوڑ دو کامران ۔۔۔۔نہیں۔ کرتی میں تم سے محبت ۔۔۔۔۔ہاتھ جوڑتی ہوں تمہارے آگے ۔۔۔۔تمہارے بھائی بیوی ہوں میں کچھ تو رشتوں کا پاس رکھوں ۔۔۔اللہ نے محبت کو نکاح سے منسوب کیا ہے محبت کی پاکیزگی کا بہترین راستہ دیکھایا ہے اسی خیر ہے۔۔۔باقی سب شر ہے۔۔۔ گناہ ہے۔۔۔ شیطان کا بچھایا ہوا جال ہے ۔۔۔جاوں یہاں سے ۔۔چھوڑ دو مجھے ۔۔۔تمہارا میرارشتہ صرف عزت اور احترام کا ہے میں بیوی ہوں عفان کی ۔۔۔تمہارا بھائی ہے وہ ۔۔۔۔”اسکے آنسوں مجھے تکلیف دینے لگےتھے ۔۔۔۔
میں بھی گھٹنوں کے بل اسکے مقابل بیٹھ گیا
“کل تک نہیں رہوں گی بھائی کی بیوی ۔۔۔کل ماسک آتار دیں دیں گئے عفان کا ۔۔۔ماہم میں بہت محبت دونگا تمہیں ۔ بھول جاؤں گی عفان کو “ماہم میری بات سن نہیں رہی تھی۔۔۔مجھء نفرت سے دیکھنے لگی
“نہیں کچھ نہیں ہو گا اسے ۔۔۔۔میرا اللہ مجھ سے اتنا بڑا امتحان نہیں لے سکتا ۔۔۔۔کچھ نہیں ہو گا میرے عفان کو ٹھیک ہو جائے گا وہ ۔۔۔”وہ رونے لگی تھی میں اسے وہیں چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا اسکے آنسوں نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔۔۔خود ہی سنبھل جائے گی ۔
۔۔۔۔میرے یقین دلانے پر بھی اسے میری محبت پر یقین نہیں تھا ۔۔۔۔وہ بے بسی سے میرے سامنے ہاتھ جوڑے رونے لگی ۔۔۔۔میں اسکے آنسوں پوچنا چاہتا تھا اسے اپنے حصار میں لیکر سارے اسکے آنسوں اپنے سینے میں جذب کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔ا اس وقت وہاں میرے اور ماہم کے علاؤہ دوسرا کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔۔مگر کچھ تو تھا کوئی غیر مرئی طاقت کوئی آڑ کوئی فاصلہ ۔۔۔۔کچھ ایسا تھا کہ میں چاہ کر بھی ماہم کے قریب نہیں آ سکتا تھا حالانکہ بظاہر ایسا کچھ نہیں تھا مگر کچھ تو تھا جو مجھے ماہم کے قریب ہونے سے روک دیا تھا ۔۔۔لیکن ہمیشہ کی طرح میں نے کبھی غور نہیں کیا کہ میرے اور ماہم کے بیچ کون ہے جو مجھے اپنے نا پاک ارادو سے روکے ہوئے ہے ۔۔۔۔۔شاید ماہم کا عفان کے لئے بے کل سا ہو کر اظہار کرنا ۔۔۔۔۔نا جانے کیا تھا کہ میں چاہ کر بھی ماہم کو خود سے قریب نہیں کر پایا ۔۔۔۔میرے لئے نا یہ مشکل تھا نا ہی نا ممکن مگر مجھے لگا ماہم اور میرے بیچ چند قدم نہیں کئی گناہ میلوں کا فاصلہ ہے جسے شاید میں کبھی پار نہیں کر پاؤں گا ۔۔۔۔وہ زمین پر گھٹنوں کے بل منہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے مجھ سے اپنی جان بخشی کی التجا کر رہی تھی ۔۔۔۔میں وہاں ایک پل ٹہر نہیں پایافورا سے کمرے سے نکل گیا پوری رات سو بھی نہیں سکا بس لان میں بے چینی سے ٹہلتا رہا ۔۔۔۔۔سگریٹ سے اپنے اندر کی آگ کو سلگاتا رہا ۔۔۔۔۔
جھوٹ بولتی ہے ماہم ۔۔۔۔میں ہوں اسکی محبت ۔۔۔۔صرف میں ۔۔۔۔۔ہو سکتا ہے عفان کے مرنے کے بعد ماہم کو میری محبت نظر آئے ۔۔۔۔ہاں شاید تب ہی ماہم کو احساس ہو گا ۔۔۔۔۔بہت خیال رکھوں گا میں اس کا ۔۔۔۔۔اس کا ہر غم بھلا دوں گا ۔۔۔۔عورت محبت پا کر اپنا ماضی بھول جاتی ہے ماہم بھی بھول جائے گئ ۔۔۔۔ نا جانے کس بات کا خوف تھا مجھے ۔۔۔۔جو میں خود کو تسلیوں بہلاوے سے بہلانے کی کوشش کر رہا تھا
