Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Last Episode Part 2 Remaining
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Part 2 Remaining
مگر کیا شان نور ایک دم بول.پڑی…
ماما یہ رہے گی کہاں.اکیلے تو اسکو کہی چھوڑ نہی سکتے.. ؟؟
شان یہ.ہمارے فلیٹ میں رہ.لے گی میں ایک.ملازمہ کل.اسکے ساتح بھیج دونگی کل اسکو چھٹی دینگے ہاسپٹل والے تب تک مین وہاں کی صفائ کروالونگی…
ٹھیک ہے ماما.
…چلے بھابھی ویسے بھی اپکے ہسبنڈ ابھی
دیوداس کا رول.بہت اچھی طرح پلے کر رہے ہیں مین ناصر کو سب بتا چکا مگر سختی سے اسے منا کیا ہے لہ ابھی شاہ.کو کچھ نہی بتائے…یہ بول.کے شان نے نازنین کو دیکھا جو کسی گہری سوچ میں گم.تھی..نور نے نازنین کو یو گہری سوچ میں دیکھا تو پہلے نور نے شان کی طرف دیکھا اور پھر حنا کی طرف… اور نازنین کے کندھے ہہ.ہاتھ رکھ کے پوچھا…
کیا بات ہے نازنین کیا سوچ رہی ہو….؟؟
کچھ نہی آنٹی بس یہ سوچ رہی ہواس ٹھرکی سے اس ایک مہینے ک بدلہ کیسے لو… جو میں نے رو رو کے گزرا…
نازنین کی بات پہ جہاں نور اور حنا کے لبوں پہ مسکراہٹ آئ وہی شان کا قہقہ.پور کمرے مین گونجا.. شان نے نور سے کہا. .
ماما اب شاہ.کا الللہ.ہی حافظ ہے…. یہ بول کے شان نے ایک موبائل حنا کی طرف بڑھایا اور کہا…
حنا یہ.موبائل رکھ لو اس میں.میرا اور ماما کا نمبر سیو ہے کوی بھی ہریشانی ہو تو کال.کر لینا.. ویسے کل.تمہاری چھٹی ہوجائے گی تو کل میں تمہیں لینے اونگا..
ماما چلے اپکی بہو اچکی ہے گھر میں اور بار بار پری سے سوالات ہو رہے ہیں کے ماما کہاں گئ ہیں… ؟؟؟
تو شان تم.نے بتایا نہی ماہ.کو حنا.کا ؟
نور نے ایک دم شاہ سے سوال کیا…..
نہی اور نہ.ہی کوئ.اسے بتائے گا..جن کو ہر بات کا اعتبار دلانا پڑے انکے اگے انسان خاموش ہی رہے….
اجائے اپ لوگ میں گاڑی میں ویٹ کر رہا..
ہو….
¤¤¤¤¤
شام.میں مہندی کا فنکش بہت پر رونق رہا سب کے چہرے پہ .ہی خوشی تھی سوائے شاہ کے ناصر نے بہت بات شان سے کہا اسسے سب بتا دے…
مگر شان نے کہا. ابھی نہی ولیمہ والے دن…
پورے فنکش میں شان کے اوپر ماہ کی نظریں تھی اور یہ بات شان اچھے سے جانتا تھا مگر چاہتا تھا کہ ماہ خود اسکے پاس آئے اور ماہ جن کے پاس شان.کے پاس جانے کی.ہمت ہہ نہی..
تو ادھر اگلے ویک اینڈ پہ ناصر اور پری کی برات تھی..پری ہمیشہ ناصر سے شکوہ کرتی کہ اپ نے کبھی مجھ سے محبت کا اظہار نہی کرا.. اور ناصر اسے بڑے پیار سے سمجھاتا جس دن ہم.پاک رشتہ میں بندھینگے اس دم تم بھاگو کی.مجھ سے میرے روز محبت کے اظہار کرنے کی پہ…
اج نازنین کی برات تھی ماہ تھوڑی اداس تھی کیونکہ شان نے اس کی طرف ایک نگاہ بھی نہی اٹھائ تھی …ریڈ اور گولڈن کلر کے شراراے میں نازنین پہ توٹھ کے روپ ایا تھا جبکہ.گولڈن شیروانی پہ شاہ بھی کسی سے کم.نہی.لگ رہا تھا.. ماہ نازنین کیساتھ حال میں ہی موجود تھی جبکہ شان شاہ کیساتھ تھا… شاہ.کو دولہا ناصر اور شان نے بنایا مگر شان نے اس سے کوئ بات نہہی کی جبکہ شاہ نے اس سے معافی بھی مانگی مگر شاہ نے اسے یہ.کہہ کے چپ.کرادیا کہ.اس بارے میں ہم.کل بات کرینگے..
نازنین کافی دیر سے ماہ کی بیچینی نوٹ کر رہی تھی بلیک اور ریڈ کلر کی ساڑھی میں وہ غضب ڈھا رہی تھی مگر افسوس جس کیلیے وہ سجی تھی اس نے کل اسے دیکھا نہ اج…
نازنین نے ماہ کو دیکھتے ہوئے طنز کیا…..
جب دل میں جزبہ محبت کا جنون بڑھ جائے تو اسکا اظہار سامنے والے سے کر لینا چاہیے…اپنی انا کو سائیڈ میں رکھ کے
نازنین کی.بات ماہ.نے ایک نظر اس پہ.ڈالی اور کہا..
بے فکر رہو اج میری انا میری محبت کے درمیان مین نہی آی گی میرا شوہر صرف میرا ہوگا ..
ماہ کی بات پہ نازنین مسکرائ اور کہا..
واللہ لڑکی.تو اج رومینٹک.موڈ میں ہے…
ماہ کی بات پہ نازنین اور اسکا ایک ساتھ قہقہ گونجا….
برات کا پر تپاک استقبال.ہوا .جہاں شاہ نازنین کو دیکھ کے مہبوت رہ گیا وہی شان کی حالت بھی کچھ ایسی تھی ماہ کا سراپہ ایک بار پھر اسکا دل بے ایمان کرگیا..مگر ایک دم ماہ کے لفظ اسکے کانوں.میں گونجے تو اسنے اپنے جزبات پہ قابو پالیا…
مگر جیسی ہی اسکی نظر ماہ کے گلے میں موجو اس لاکٹ پہ.گئ جو اس نے ماہ.کو شادی کی پہلی رات کو دیا تھا.. اور جب اسے پہنے کو بولا تھا جب وہ اسے اور اسکی محبت کو سچے دل سے اپنائے.
..تو کیا. یہ مجھ سے محبت کرنے لگی…؟؟
یہ سوچ کے شان کی خوشی کی.انتہا نہی رہی.مگر وہ صرف ماہ کی پیش قدمی کی راہ تک رہا.تھا…
رخصتی.کا شور اٹھا تو حامد بھی اپنی بہن کے گلے لگ کے رو پٰڑا…قرآن کے سائے میں نازنین رخصت ہوکے شاہ کے سنگ چلی گئ….
سب رسموں کے بعد. نازنین کو شاہ.کے کمرے میں بیٹھایا گیا.تھوڑی دیر گزری تھی کہ شاہ کمرے کے اندر آیا اور مجرموں کی طرح سر جھکا کے نازنین کے سامنے بیٹھ گیا..
شاہ.کو ایسا بیٹھا دیکھ کے نازنین کو اپنی.ہنسی کنٹرول کرنا بہت مشکل ہوگیا…..
کہ جبھی شاہ نے اس سے کہا..
نازنین میں گناہنگار ہو تمہارا اعتبار توڑا ہے تمہارا جو چاہے سزا دو مجھے منظور ہے مگر مجھے کبھی چھوڑ کے مت جانا ورنہ.م..اخری ک جملہ بولتے ہوئے شاہ.کا گلا رندھ گیا….
تھوری دیر کی خاموشی کے بعد نازنین بولی….
میرا لاکٹ کہاں ہے نکاح والا…؟؟
نازنین کی بات ہہ شاہ نے اسے حیران نظروں سے دیکھا اور کہا…
لاتا ہو الماری میں ہے تم نے اتارا تھا تو توٹھ گیا اس لیہ صحیح کروایا اسے.. شاہ نے خاموشی سے لاکٹ نازنین کو لاکے دیا اور دوبارہ گردن جھکا بیٹھ گیا..
نازنین پھر بولی…
اب ایسے پہناوگے یہ.پھر کوئ باہر سے پکڑ کے لاؤ…
نازنین کی. بات پہ شاہ نے ایک دم اسے دیکھا تو نازنین رخ موڑ کے بیٹھی شاہ نے اسے لاکٹ پہنایا…
کہ جبھی نازنین دوبارہ اپنی فوم.میں آی اور کہا…
سزا تو تمہیں ملے گی بھگتے کے لیہ تیار ہوجاو…
نازنین کی بات پہ شاہ نے اسے دیکھا اور کہا…
میں ہر سزا کیلیے تیار ہو…
ہممم تو پھر تمہاری سزا یہ ہے کہ تم.پہلے سے بھی زیادہ اور اپنی اخری سانس تک.مجھے ایسے ہی محبت کرتے رہوگے اور کبھی مجھ سے دور نہی جاوگے….
نازنین کی بات پہ شاہ نے اسے حیران.کن نظروں سے دیکھا تو نازنین بھی اسے دیکھ کے مسکرائ…
اور کہا. نازنین اگر شاہ سے الگ ہوئ تو مر جائے گی کیونکہ شاہ اسکی جسم.میں روح کی طرح ہے…یہ بول.کے جہاں نازنین کی آنکھیں بھیگی وہی شاہ.کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا..
شاہ نے کھینچ کے اسے اپنے سینے سے لگالیا اور دیوانہ وار اسے چومنے لگ نازنین نے بھی اج اسے نہی روکا کہ جبھی نازنین کی نتھ اتکی شاہ کی شیروانی میں… تکلیف سے نازنین کی سی اواز نکلی تو شاہ اس سے فورا الگ ہوا اور پوچھا..
کیا ہوا…
شاہ ناک نازنین نے اپنی ناک کی طرف اشارہ کیا.تو شاہ نے دیکھا اسکی ناک کافی ریڈ ہوگئ تھی نتھ کی وجہ شاہ نے اسکی نتھ اتاری اور اسکی ناک کو اپنے لبوں سے چھوا…
اور کہا..
تم.نے مجھے معاف کردیا نہ نازنین ..؟؟
ہاں شاہ کردیا اگر حنا مجھے وہ سب نہی بتاتی تو شاید اج ہم ایسے نہی.ہوتے….
حنا مطلب وہ تمہیں کہاں ملی….؟؟
اور پھر نازنین نے سب بتا دیا جو اسے ہاسپٹل میں پتہ چلا.. شاہ.کو تھوڑا افسوس ہوا مگر جب اسے یہ.پتہ چلا کے شان نے سب کو منع کیا تھا مجھے بتانے کا تو اسے غصہ تو بہت ایا شان پہ اور اس نے کہا…
دیکھ نہ نازنین اس شان کے بچے کا میں کل چھورونگا نہی سالا بہت ہٹلر بنا پھر رہ تھا…..
.
ویسے میڈم اپ بھی بہت اترا رہی تھی…اپکو بھی سزا ملے گی.
شان کے ارادہ بھانپ.کے نازنین نے فورا کہا..
وہ شاہ.میں چینج کرکے آتی ہو یہ بول کے نازنین جیسے ہی بیڈ سے اترنے لگی شاہ نے جھٹکے اسے اسے بیڈ پہ گرایا اور اسکے لبوں ہہ جھکتے ہوئے کہا…
پتہ نہی کیسی اب تو میں تمہیں کہی جانے نہی دونگا…
¤¤¤¤¤¤¤
شان سب کچھ نبٹا کے اپنے کمرے میں آیا تو پورا کمرہ اسکا گلاب کی پتیوں سے سجا تھا اور کمرے کے بییڈ پہ بڑا بڑا
“سوری ” لکھا تھا.
یہ سب دیکھ کے شان کے لبوں پہ دلفریب مسکراہٹ گئ.. مگر شان کی نظر اس دشمن جان کو ڈھونڈ رہی تھی جس نے یہ سب کیا تھا….
کہ جبھی وہ شان کو ٹیرس جو کے کمرے کے اندر تھا آتے ہوئ دیکھائ دی.. مگر شان کو حیرت تب ہوئ جب اس نے اسے اپنی برات والے شرارے میں دیکھا….
وہ آہستہ آہستہ سے شان کے پاس آی تو شان نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور اسکی نظر اسکے دیے لاکٹ پہ ٹک گئ..کہ جبھی ماہ نے کہا….
شان میں بہت شرمندہ ہو اپنے اس رات کے رویہ پہ.
.تمہیں دل سے اپنا شوہر بھی بلکہ ہ…
بلکہ.کیا…؟
شان نے اسے اپنی گودھ میں اٹھاتے ہوئے کہا….
وہ.می..ی.. ک..
ماہ.کی.ہکلاہٹ شان اچھے سے سمجھ رہا تھا.. شان ے اسے بیڈ پہ لیٹایا اور اس پہ.جھکتے ہوئے کہا..
تمہیں کچھ بولنے کی ضرورت نہی ماہ.میں کل ہی یہ.لاکٹ تمہارے گلے میں دیکھ چکا تھا…
یہ بول کے شان نے جھک کے اسکے گلے پہ اور لاکٹ پہ.اپنے.لب رکھے.. ..
میں بھی ماہ تم.سے اپنی اس رات کیلے معافی مانگت..ابھی شان کے الفاظ منہ میں ہی تھے کہ ماہ نے اسکے لبوں پہ.اپنا ہاتھ رکھ دیا…اور نفی میں گردن ہلائ.. شان نے نرمی سے اسکے ہاتھ کی انگلیاں چومی اور اسکے لبوں پہ جھک گیا اور پوری رات اپنی سالوں سے چھی محبت اس پہ نچھاور کرنے لگا..
جاری ہے.
