Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1


امی امی قسم سے سمجھا لیں اپنے بیٹے کو اپنی زبان میں اگر اب اس نے میرا چارجر لیا تو!!!
اتا ماجی ستک لی.
وہ غصے میں کچن میں اکے اپنی امی سے بولنے لگی, اگے وہ کوئ اور بات بولتی اسکی دادی کی گرج دار اواز أئ.
اے لڑکی بڑا بھائ ہے تیرا کوئ شرم نام کی چیز ہے کے نہیں
دادی کون سا بڑا بھائ صرف 5 منت تو بڑا ہے!!!
لو دیکھ لو زلیخا بیگم یہ ہے تمھاری تربیت کیسے زبان چل رہی ہے اسکی سسرال جاکے باپ دادا کا نام ڈوبئے گی۔۔۔۔

یہ منظر ہے کراچی کے علاقے ڈیفنس کے آفریدی ہاوس کا آفریدی صاحب اور بانو بیگم کی چار اولادیں ہیں !!!
بڑے بیٹے عالم۔۔۔ دوسرے بیٹے جہانگیر۔۔۔ .تیسرے نمبر پر نور جہاں اور سب سے آخری دلاور…۔۔۔۔
عالم آفریدی کی شادی بانو بیگم نے اپنی بھانجی صبا سے کروادی
جن سے عالم آفریدی کی دو اولادیں ہیں عبداللہ اور عارف دونوں ہی بیٹے شادی شدہ تھے اور اپنے والد کے ساتھ کاروبار بڑھانے میں مصروف ہیں ۔
اسکے بعد جہانگیر آفریدی انکی 3 اولادیں ماہ رخ اور ازلان جڑواں تھے اور ایک بیٹی ردا جانگیر آفریدی نے شادی اپنی مرضی سے ذلیخا بیگم سے کی تھی…
اس شادی کی وجہ سے بانو بیگم کی چہیتی بیٹی ان سے جدا ہوگی جو کہاں ہے کس حال میں ہے کوئ نہیں جانتا!!!
اخری دلاور آفریدی جنکی شادی افریدی صاحب نے اپنے دوست کی بیٹی نازو سے کی جنکی دو اولادیں ہیں۔۔۔
فاعزہ اور عدنان .
..
سب کی ہی زندگی سکون میں تھا سوائے جہانگیر صاحب اور زلیخا بیگم کے جنکی محبت نے دو گھروں کے درمیان دشمنی پیدا کردی!!!
..
دادی اپکو مجھ سے کیوں خار ہے آج اپ بتادو بھائ کو باقی سب سے اپ پیار سے بات کرتی ہو مجھ سے کیوں نہیں کیوں نہیں کرتی اپ۔۔۔۔؟؟؟
ماہ رخ چپ کر جاؤ!!!
کس انداز میں تم بات کر رہی ہو اپنی دادی سے؟؟؟؟
,اے بہن بس میری سامنے زیادہ ڈرامے نہیں کرو مجھے پتا ہے یے سب تمہارا ہی سیکھایا ہوا ہے پہلے تمھاری وجہ سے میرا شوہر اس دنیا سے چلے گیا۔۔۔
پھر میری بیٹی مجھ سے دور ہو گی!!!!
.دو خاندانوں میں دشمنی ہو گی تمہاری وجہ سے تم کیا سمجھتی ہو میں تمہیں معاف کردونگی ایسا کبھی نہں ہوگا!!!!
آفریدی صاحب تمہیں معاف کرسکتے ہیں میں نہیں..!!!!
یہ بول کے بانو بیگم اپنے کمرے کی طرف چل دی سیڑھیوں سے اترتے ہوے ازلان نے اپنی دادی کی باتیں سنی اور ہر بار وہ یہ ہی سوچتا تھا کے کیوں اسکی بہن کی اسکی ماں کی عزت نہیں جیسے اس گھر کے باقی مکینوں کی ہے!!!
امی کیوں کیوں دادی کو ہم پسند نہیں کیوں وہ مجھے اور ردا کو کمتر سمجھتی ہیں ؟؟؟؟
خدا کے واسطے امی بتائیں کیوں اپ سب کچھ برداشت کرتی ہیں.؟؟؟؟
. کیوں.؟؟؟؟
.
آج پھر وہ روتے ہوۓ اپنی ماں سے شکوہ کررہی تھی… لیکن شاید اج بھی اسکی ماں کے پاس اسکے کسی سوال کا جواب نہیں تھا۔۔۔
زلیخا بیگم کی خاموشی اپنی اولاد کے آنسو دیکھ کے بھی نہیں ٹوٹی شاید ابھی زلیخا کے امتحان ختم نہیں ہوئے۔۔۔۔
لیکن شاید انکی ے خاموشی انکی بیٹی کے لیے غلط ثابت ہوتی۔۔
…ازلان نے اکے اپنی بہن کے آنسو صاف کئے اور کہا ماہ رخ تم کیوں اپنا خون جلاتی ہو ؟؟
یہ کچھ نہیں بتائیں گی ازلان نے اپنی ماں کی طرف اشارہ کرکے کہا۔۔
یونی چلو دیر ہو جائے گی!!!
.
ردا ردا گڑیا اجاو کالج کی دیر ہو جائے گی..۔۔
ردا فٹافٹ بھاگتی ہوی ای ۔۔۔
چلے بھائ!!
ارے ماہ اپی اپکو کیا ہوا…؟
اپ روئ ہیں۔۔؟
نہیں نہیں گڑیا کچھ نہیں چلو لیٹ ہو رہا ہے,!!!
ازلان نے اپنی ما ں کے آنسو صاف کیے اور بہت عقیدت اور احترام سے انکے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے انہیں اپنے گلے سے لگایا اور کہا۔۔
امی بسس کردے ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا میں چلتا ہو یونی بھی جانا ہے اور پھر آفس کا بھی چکر لگانا ہے پاپا کو انے میں ابھی دو دن لگ جائینگے اوکے !!!
اپنا خیال رکھیے گا رات کو لیٹ ہو جاؤنگا!!!
بلیک لونگ شرٹ بلیک پٹیالا شلوار کندھوں پہ بلیک دوپٹا لیے ہمرنگ اسکارف لے وہ سب سے بے نیاز ہوکر کسی گہری سوچ میں چلی جارہی تھی۔۔
اج پھر اسکی اداس کالی آنکھیں اسے پھر تڑپا رہی تھی۔۔
لکین وہ چاہ کر بھی اسکی اداسی کی وجہ جان نہیں سکتا تھا!!!! خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔
۔
ماہ رخ!!!
اپنے نام کی پکار پے اس نے پلٹ کے دیکھا تو نازنین جو اسکی بچپن کی دوست تھی بھاگتے ہوے اراہی تھی۔
آتے ہی نازنین ماہ رخ پہ چڑھ ڈوری۔۔
.. او بہن کان کیا آج گھر بھول!!!!!! باقی لفظ نازنین کے منہ میں ہی رہ گے کیوں کے نازنین کو ماہ رخ کی روتی آنکھیں سب بتا گئ۔۔
کیا ہوا یار ؟؟
اج پھر دادی سے لڑائ ہوی.؟؟؟کوئ اور بھی تھا نازنین کے علاوہ جو اسکی اداسی کی وجہ جاننا چاہتا تھا۔
۔
دیوار کی اوٹ سے وہ نا جانے کب سے اسے دیکھ رہا تھا
.اج پھر اسکی اداسی دیکھ کے اداس ہوگیا تھا۔۔
شاید یو ہی دیکھتا رہتا اگر اسکا دوست ناصر اسکو دیکھتا ہوا وہاں نہیں اتا!!!
ابے مجنوں کب سے تجھے ڈھونڈ رہا ہوں لیکچر کا ٹائم ہو رہا ہے اور تو یہاں اپنی لیلا کو دیکھ رہا ہے!!
یار جب بھی بولنا فضول بولنا!!
شان نے تپ کے کہا۔۔
. اچھا جی اب میں فضول بول رہا ہو..
دو سالوں سے دیکھتا اراہا ہو.. تو ایسے ہی اسے چھپ چھپ کے دیکھتا ہے اتنا ہی چاہتا ہے تو بول کیوں نہیں دیتا شان۔۔۔۔
یار تو جانتا ہے وہ کسی اور کو چاہتی ہے!!؟
یار شان تو یہ بھی جانتا ہے کے وہ اسکے قابل نہیں…
چھور یار چل کلاس میں !!
ناصر افسوس سے اپنے دوست کو دیکھنے لگا۔۔۔
گہری گرین آنکھیں 6فٹ سے نکلتا ہوا قد دودھیا رنگت
ہاف استین سے جھلکتے ہوے کسرتی بازو چہرے پے ہلکی ہلکی سی برڈ کوئ بھی لڑکی اسانی سے اسکا ساتھ قبول کر لیتی لیکن وہ خالی ماہ رخ کا دیوانہ تھا
اس ایک ملاقات نے اسکی شان حیدر کی زندگی بدل دی
جاری ہے