Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 34 Part 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 34 Part 3
[ ] جمال کو سامنے دیکھ کے زلیخا کا ماضی ایک بار پھر اسکے سامنے چلنے لگا..تو ادھر جمال نے زلیخا کو اوپر سے نیچے تک خبیث نظروں سے دیکھا اور کہا….
[ ] “تم تو پہلے سے زیادہ حسسسین ہوگئ ہو ویسے کہاں ہے تمہارا وہ عاشق چھوڑ تو نہی دیا اس نے تمہں تم سے مزہ لے کہ جمال نے کمال بیغیرتی سے آنکھ مار کے کہا…
[ ] تو ادھر جہانگیر جو سالوں بعد جمال کو دیکھ کے چونکا تھا…مگر اسکو پریشانی تب ہوئ جب وہ زلیخا سے تکرایا…………
[ ] تم اپنی بکواس بند کرو اور راستہ چھوڑو میرا زلیخا کے لہجہ میں گھبراہٹ صاف محسوس کرکے جمال کے لبوں پہ ایک جاندار مسکراہٹ اگئ…
[ ] اس سے پہلے وہ زلیخا سے اور کوئ الٹی سیدھی بکواس کرتا اپنے کندھے پہ کسی کا ہاتھ محسوس کرکے جب زلیخا نے اپنے برابر میں جہانگیر کو دیکھا تو اسکی انکھوں میں تشکر کے انسو آگئے….
[ ] جمال نے جب جہانگیر کو دیکھا تو ایک غصہ کہ.لہر اسکے پورے وجود میں ڈور گئ..اس سے پہلے جمال جہانگیر کو دیکھ کے کچھ کہتا.. جہانگیر بول پڑا….
[ ] تم جیسے لوگوں کی فطرت کتے کی دم جیسی ہوتئ ہے جو سالوں بعد بھی ٹیھڑی کی ٹیھڑی رہتی ہے….اور رہی بات چھوڑنے کی جع تم ابھی زلیخا سے بول رہے تھے تو کان کھول کے سن.لو…
[ ] زلیخا سے محبت نہی عشق کیا اسکا ہاتھ چھوڑ نے کے لیہ.نہی تھاما تھا..
[ ] تم کیا جانو ساتھ نبھانا کیسے کہتے ہیں جو اسی لڑکی.کی عزت سے کھیلنے والا تھا جو ایک دن بعد اسکی بیوی بننے والی تھی مگر وہ.کہتے ہیں نہ کتے کو گھی ہضم نہی.کچھ ایسی ہی مثال ہے تمہاری……
[ ] جاہنگیر کہ بات سن کے جمال کا پاڑہ ہائ ہوا اس سے پہلے جمال جہانگیر کی بات ک جواب دیتا……
[ ] ماہ.اور ناصر وہاں آا پہنچے…
[ ] ناصر نے جب حال سے اینٹر ہوتے جمال کو دیکھا تو اسے خوشی ہو کیونکہ اس نے اج صبح ہی اسے شاہ.کے نکاح میں چلنے کو کہا تھا جسکو جمال نے یہ کہہ کے ٹالا تھا کہ.تم اپنی مام کیساتھ چلے جانا میں بعد میں اجاؤنگا…..
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤Φ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ناصر جمال کے برابر میں اکے کھڑا ہوا تو ماہ جہانگیر کے برابر میں.کہ جبھی ناصر نے جہانگیر سے کہا…انکل یہ میںرے پاپا ہیں اور پاپا یہ جہانگیر انکل ہے اور یہ میری دوست ماہ.جہانگیر انکل کی بیٹی…
[ ] ناصر نے ماہ کی طرف اشارہ کیا تو ماہ نے جمال کو سلام کیا..
[ ] .اسلام وعلیکم انکل.. ..
[ ] اور یہ زلیخا انٹی انکی وائف….
[ ] ناصر کے تعارف کے بعد جہانگیر کو بہت حیرت ہوئ کے ناصر جمال.کا بیٹا ہے کیونکہ ناصر کی فطرت میں اور جمال کی فطرت میں زمین اسمان کا فرق ہے تو ادھر ہی.کچھ ایسا حال زلیخا کا تھا…….
[ ] کہ جبھی ماہ.ایکسکیوز کر کے شاہ کی طرف گئ جو اپنے کسی دوست سے باتیں کررہا تھا..
[ ] ماہ نے شاہ کو اواز دی تو وہ اپنے دوست سے ایکسکیوز کر کے ماہ کی طرف ایا اور کہا…
[ ] ہاں ماہ بولو کیا کام ہے؟؟؟؟؟
[ ] کہ جبھی ماہ.نے اپنے دانت پیس کے مگر لبوں پہ مسکان رکھ کہ شاہ سے کہا..
[ ]
[ ] عزت سے مجھے میری دوست لوٹاؤ جو تمہارے ساتھ دینے کے چکر میں مجھ سے روٹھ گئ ہے اگر ایسا نہی ہوا شاہ تو سمجھ لینا میںری اور تمہاری ورلڈ وار شروع یہ جو اتنی ڑومینٹک ہوکے تم ڈانس کررہے تھے..
[ ] یہ صرف ہماری بادولت ہے ایسا نہ ہو ساری زندگی بلبٹؤڑی کے لیہ ترسنا پڑے ائ سمجھ شاہ کے بچے یہ بول ماہ لبوں پہ مسکان سجا کہ چلی گئ…
[ ] مگر شاہ جو منہ کھولے حیران نظروں سے صرف ماہ کو ہی دیکھ رہ تھا کہ.اچانک اپنے ہیچھے کسی کہ.قہقہوں کی اواز پہ ایک دم پلٹا تو ازلان فائزہ اور شان اپنی قہقہ روکنے.کی بھر ہور کوشش کرہے تھے…شاہ.کی معصوم شکل دیکھ کہ وہ تینوں شاہ کے قریب ائے تو ازلان نے کہا…
[ ] شاہ پریشان نہ ہو تو بس اپنے نکاح کی خوشی منا باقی میں سب سنبھال لونگا..ٹیینشن نہی لے.. اخر میں بھی تو تمہارا دوست ہو یہ بول کہ ازلان نے شاہ.کو گلے.لگایا تو شاہ کو بھی تھوڑی تسلی ہوئ…
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ناصر نے جمال کو نعمان سے ملایا اہستہ اہستہ وہ سب سے ملا اور لائبہ جسکے چہرے سے اج مسکراۃٹ جدا ہی نہی.ہورہی تھی. جمال لائبہ کو یو مسکراتا دیکھ کہ ایک عجیب ہی.احساس سے دوچار ہوا…
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] اہستہ اہستہ سارے مہمان جانے لگے اخر میں خالی فیملی میمبر رہ گئے نعمان نے جمال سے اجازت لے کہ لائبہ اور ناصر کو اپنے ساتھ ہی چلنے کو کہا…………….
[ ] حامد نازنین اور اسکی امی جیسی ہی اپنے گھر جانے.لگے..کہ شاہ نے ان سے کہا…..
[ ] حامد بھائ اگر اپکو برا نہی لگے تو کیا میں تھوڑی دیر کے لیہ نازنین کو اپنے گھر لے جاو؟؟؟؟؟
[ ] شاہ کے سوال پہ جہاں سب حیران ہوئے وہی اسکے دوستوں نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی روکی جبکہ ازلان اور ناصر نے ایک ساتھ اس کے کان میں کہا..
[ ] بلبٹؤری اج تیرا خون پہ جائے گی. عینک والے جن….ان دونوں کے ایسے بولنے پہ.شاہ نے ان دونوں.کو گھورا.
[ ] جبکہ شان نے ہنستے ہوئے اپنی گردن نفی میں ہلائ….
[ ] حامد نے نازنین کی.طرف دیکھا تو اس نے نفی میں گردن ہلائ اس سے پہلے حامد بولتا حیدر بول پڑا….
[ ] ارے حامد جانے دو اب تو بیوی ہے اسکی اپ اور انٹی بلکہ سب اج ہمارے گھر چلو اچھی سی چائے پیینگے….
[ ] حیدر کی ترکیب سب کو پسند ائ حامد کے پاس انکار کی کوئ وجہ نہی تھی… اس لیہ اس نے حیدر کی بات مان لی..
[ ] شاہ نازنین.کو لیہ کے اپنے گھر کی طرف نکلا.. تو باقی سب حیدر کے گھر کی طرف نکل پڑے…….جمال تو پہلے ہی اپنے گھر کی طرف چل پڑا تھا کیونکہ لائبہ اور ناصر نعمان کے گھر جا رہے تھے تو اسکے روکنے کا سوال ہہ پیدا نہی ہوتا…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤..
[ ] شاہ نے گاڑی چلاتے ہوئے کئ بار نازنین کو دیکھا جو دولہن کے روپ میں اسکے جزبات کو جھنجھور رہی تھی…اسنے نکاح میں بھی اج کچھ نہی کھایا تھا شاہ کو بہت افسوس ہورہا تھا نازنین کو ایسے دیکھ کے کہ.جبھی اس نے گاڑی ایک ڑیسٹورینٹ کے اگے روکی …
[ ] گاڑی روکنے پہ نازنین نے سوالیاں نظروں سے شاہ کو دیکھا تو اس نے کہا..
[ ] یار بہت بھوک لگی پتہ ہے میری بیوی کو بھی بہت بھوک.لگی ہوگی اس نے نے بھی کچھ نہی کھایا ہوا…
[ ] یہ بول کے شاہ گاڑی سے اترا اور اپنے اور نازنین کے لیہ.ایک ایک برگر لیا…
[ ] اور گاڑی میں آآ بیٹھا اور ایک برگر نازنین کی طرف بڑھایا.. جسکو نازنین نے چھونا تو دور دیکھنا بھی گوارا نہی کیا شاہ نے ایک لمبی سانس لی اور گاڑی فل اسپیڈ میں اگے بڑھادی…
[ ] گاڑی کی اسپیڈ سے نازنین کو اندازہ ہو رہا تھا کہ شاہ بہت غصہ میں ہے.. مگر اس نے اپنا منہ کھڑکی طرف ہی موڑے رکھا……
[ ]
[ ] تھوڑی دیر میں گاڑی نعمان ہاوس کے اندر داخل ہوئ.. گاڑی روکتے ہی شاہ نے گاڑی سے اتر کے نازنین کی طرف کا دروازہ کھولا اور اپنا ہاتھ بڑھا کہ.اسے اترنے کو کہا.. مگر نازنین ٹس سے مس نہہی ہوئ اور کہا بھی تو صرف اتنا….
[ ] مجھے تم پہ اعتبار نہی اور نہ ہی میں تمہارے ساتھ اندر اکیلے جاونگی مجھے گھر چھوڑو پلیز…..
[ ] نازنین کا ایسا بولنا تھا کہ شاہ تو بلکل بھنوٹ ہوگیا..
[ ] اس نے جھک کے نازنین کو اپنی باہنوں میں اٹھایا اور اپنے پاؤں سے گاڑی کا دروازہ بند کیا.. نازنین نے اپنے.اپکو اس سے چھوڑوانے کی ہزار کوشش کی مگر ناکام رہی.. ..
[ ] شاہ گھر میں داخل ہوا. اور سیدھا نازنین کو اپنے.کمرے میں لے گیا بڑی مشکل سے اپنے ایک ہاتھ سے اپنے کمرے کادروازہ کھولا..نازنین کو اندر لے کہ گیا اور اسے بیڈ پہ لے جاکے بیٹھایا..اور فورا جاکہ دروازے کی کندی لگائ…. نازنین نے فورا اٹھ کے جب دروازہ کھولنا چاہا تو شاہ نے اسے پیٹ سے تھام کے اپنے سینے لگایا اور کہا…
[ ] نازنین میرے غصہ کو اور مت ازماؤ…
[ ] صرف دو منٹ میری بات سنو…. یہ بول کے شاہ نے اسے اہستہ سے چھوڑا اور اسکا رخ جب اپنی طرف موڑا تو دیکھ کہ نازنین کی انکھوں سے انسو جارہی.ہیں شاہ اسے کندھے سے تھام کر بیڈ تک.لایا اسے بیٹھایا اور خود اسکے پیروں میں بیٹھ کے کہا…..
[ ] نازنین پلیز خدا کا واسطہ ہے بس کردو یار ایسا میں نے کیا کر دیا تم سے محبت کی اور جائز طریقے سے تمہیں اپنے نام کیا ہاں یہ میری غلطی ہے کہ میں نے تم سے اس کا ذکر نہی کیا مگر نازنین مجھے یقین ہے کہ اگر میں تم سے اپنی فیلنگ کا اظہار کرتا
[ ] تو تم میرا سر یقینن پھاڑ دیتی…. یار شان ناصر اور ماہ نے میرا ساتھ میری بہت منتیں کرنے پہ دیا ہے یار پلیز ان تینوں کی.کوئ غلطی نہی.. تم.نےجو سزا دینی ہے مجھے دو تم جو بولوگی میں کرونگا مگر خدا کے واسطہ کچھ بولو تو پلیز میں ترس گیا ہو تمہیں تمہارے پرانے والے روپ میں دیکھنے کے لیہ………
[ ] نازنین نے اسے نگاہ اٹھا دیکھا تو شاہ کو لگا اس نے اتنی حسسین انکھیں اج تک نہی دیکھی….
[ ] نازنین نے دومنٹ اس کو دیکھا اور کہا…..
[ ] تھیک ہے میں جو کہونگی وہ.کروگے تم…..
[ ] نازنے کے ایسا بولنے پہ شاہ کے لبوں پہ ایک دلفریب مسکراہٹ اگئ… اور اس نے کہا…
[ ] ہاں تم جو بولوگی میں کرونگا…….
[ ] تو ٹھیک ہے سرور شاہ ابھی کہ ابھی مجھے طلاق دو…..
[ ] نازنین کا ایسا بولنا تھا کہ شاہ جھٹکے سے کھڑا اور چیخ کے کہا..
[ ] زبام کو لگام دو نازنین تم.ہوش میں
[ ] تو ہوں کیا بکواس کرہی ہو..؟؟؟؟
[ ] کیوں ابھی تو بہت بڑی بڑی باتیں کرہے تھے ابھی کیا ہوا….بولو شاہ. تمہں مجھ سے محبت تمہارے دوستوں کو بھی تم صحیح لگے.. دو دن کے اندر اندر نکاح بھی تمہاری مرضی سے ہوا اپنے مرضی سے تم میرے گھر رشتہ لائے میںری دوست کو بھی اپنی طرف کرلیا…تو ان سب میں میں کہاں ہو سرور شاہ بتانا پسند کروگے..
[ ] تم مجھ سے محبت کے دویدار ہونا تو میری کوئ اہمیت نہی تمہاری نظر میں تم اب تک وہی کرتے ائے ہو جو تم نے چاہا ایک بار بھی تم نے یہ نہی سوچا کہ نازنین کیا چاہتی ہے کسی کھلونے کی طرح تم تین دن سے مجھے چلا رہے ہو. تو پھر کیسی محبت کہاں کی محبت معاف کرنا مسٹر سرور شاہ ایسے مجبت نہی ضد کہتے ہیں ائ سمجھ مجھے نہ تو تم سے محبت ہے اور نہ ہی تم پہ اعتبار اگر میں نے تم سے نکاح کیا ہے تو بس اپنے بھائ کی.خوشی کے لیہ میںری اس میں کوئ خوشی شامل نہی اور اب برائے مہربانی مجھے گھر چھوڑ او.. یہ بول کہ نازنین اگے کو جیسی ہی چلی کہ اپنے سامنے زمیین پہ کسی کو دیکھ کہ نازنین کا اوپر کاسانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا وہ فورا مڑی اور بھاگتی ہوئ بیڈ پہ چڑھ گی.. اور چیخنے لگی کاکروچ……
[ ] شاہ جو نازنین کی ساری باتیں گردن جھکا کے سن رہا تھا ایک دم نازنین کے چیخنے پہ اس نے جب نازنین کو دیکھا تو وہ کسی بچی کیطرح بیڈ پی چڑہی ہوئ تو اور خوف سے زمین کی طرف دیکھ رہی تھی شاہ نے جب نازنین کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو اس کے لبوں پہ ایک شرارتی مسکراہٹ اگی اور اس نے سوچا اب دیکھو بلبٹوڑی تم خود ابھی میری باہنوں میں اوگی…….
[ ]
[ ] ارے نازنین کیا.ہوا تم چیخ کیوں رہی ہو اور تم تو جانے کے لیہ مڑی تھی تو بیڈ پہ کیا کرہی ہو شاہ نے کمال کی معصومیت سے نازنین سے پوچھا.مگر نازنین کی شکل دیکھ کے بہت مشکل سے اپنی ہنسی روک رہا تھا……
[ ]
[ ] ش..ششااہ…وہ دیکھو نیچے زمین پہ کاکروچ شاہ مجھے کاکروچ سے بہت ڈر لگتا….. پلیز انہیں بھگاؤ…
[ ] نازنین کہ کہنے پہ شاہ نےکمال کی ایکٹنگ کرتے ہویئے نازنین کو کہا…
[ ] نازنین یہ تو بہت بڑے ہیں میں تو نہی بھگا رہا…….
[ ] شش..شاہ اب ہم.گھر کیسے جاہینگے.. نازنین نے جب یہ بول کے نیچے دیکھ تو وہ دونوں کاکروچ اہستہ اہستہ اگے بڑھنے لگے..کاکروچ کو اگے بڑھتا دیکھ کہ نازنے ایک بار پھر چیخ پٰڑی اور زور زور سے بیڈ پہ ادھر ادھر بھاگنے لگی….
[ ] کہ جبھی شاہ نے کہا….
[ ] نازنے ایک حل ہے ہم اس کمرے سے نکل سکتیے ہیں…
[ ] شاہ کی بات سن کے نازنین نے شاہ.کی طرف دیکھا اور کہا…
[ ] کیسے شاہ جلدی بتاو پلیز مجھے گھر جانا ہے….
[ ] تم.میری گودھ میں اجاو تمارے لیہ میں ان کاکروچوں سے لڑکے تمہیں کمرے سے باہر لے جاونگا…
[ ] شاہ کی بات سن کےپہلے تو نازنین نے منع کیا مگر پھر جب شاہ ریلکس ہو کے بیڈ پہ بیٹھنے لگا تو نازنین بول پڑی…تھیک ہے اٹھاؤ مجھ گودھ میں مگر کمرے کے باہر نکلتے ہی.مجھے نیچے اتار دینا…اور جو ابھی کچھ دیر پہلے شاہ پہ بے اعتبار تھی اب اس پہ اعتبار کرکے اسکی گودھ میں انے کو تیار تھی شاہ نے اسے کمر سے تھام کے اپنی باہنوں میں اٹھایا تو نازنین نے بھی اسکی واسکٹ اپنی مٹھی میں جکر لی اور اپنی انکھیں بند کرلی…
[ ] نازنین اسکی باہوں میں کوئ معصوم سے گڑیا لگ رہی تھی…
[ ] شاہ کے دل میں پتا نہی کیا سمائ شاید رشتہ کی کششش تھی.کہ شاہ نے نازنین کو تھوڑا اوپر کرکے صحیح سے اٹھایا اور جھک کہ اسکے لبوں کو چھولیا..
[ ] پٹ کرکے نازنین نے اپنی انکھیں کھولی لگاتار اس نے شاہ کے کندھے پہ.مکے مارے مگر شاہ نے چھوڑا جب جب اسکی.مرضی ہوئ.. شاہ نے جب نازنین کے لبوں کو چھوڑا تو نازنین نے ایک خونخور نظر اس پہ ڈالی اور کہا…
[ ] تم ہو ہی نہی اعتبار کے قابل.. اتارو مجھے نیچے .
[ ] کیونکہ کاکروچ ابھی نیچے زمین پہ.ہی تھے جنکو شاہ دیکھ چکا تھا اس لیہ نازنین کو کہا..
[ ] تھیک ہے مجھے کیا میں تو اتار دیتا ہو میری بلا سے کاکروچ سے تم ہی ڈرتی ہو ا.دیکھ لو ابھی بھی نیچے ہیں شاہ کی بات پہ نازنین نے جب نیچے دیکھا تو وہ دونوں کاکروچ وہی تھے.. شاہ جیسے نازنین کو نیچھے کرنے لگا نازنین نے جھٹ اس کے گلے میں اپنے.ہاتھ ڈال دیے اور کہا…
[ ]
[ ] نہہی شاہ پلیز اچھا سوری بس میں نے تمہیں غلط کہا پلیز مجھے نیچے نہی اتارنا..پلیز…
[ ] نہی بھی نیکی کا تو زمانہ نہہی ایک.کس ہی تو کری وہ بھی اپبی بیوی کو تم نے اتنی سنا دیا.. نہ بابا نہ تم خو لڑو ان کاکروچ سے میں تو چلا..
[ ] یہ بول کے شاہ نے ایک بار پھر نازنین کو نیچے اترنے کی ایکٹینگ کی تو نازنین بول پڑی……
[ ] نہی نہ شاہ پلیز نہی کرو تم تو بہت اچھے ہو. پلیز……
[ ] نازنین کی.بات سن کے شاہ نے نازنین کو دیکھا جو نیچے کاکروچ جو ہی گھور رہی تھی..کہ جبھی شاہ بول.پڑا…
[ ] ٹھیک ہے میری ایک شرت ہے.؟؟؟؟
[ ] کیا شاہ جلدی بولو…..
[ ] تم مجھے خود سے ابھی کس کروگی……
[ ] شاہ.کا ایسا بولنا تھا کہ نازنین بول.پڑی کبھی نہی چھیچھوڑے انسان…..
[ ] کیا کہا.. تم نے نازنین مجھے چھیچھوڑا. تو پھر تھیک ہے اترو ابھی نیچے فورا.. یہ بول کہ شاہ جیسے ہی اسے اترنے لگا تو نازنین بول.پڑی ..
[ ] اچھااااااا میں کرتی ہو مگر گال.پہ.کرونگی.اور تم اپنی انکھیں بند کروگے….
[ ] تھیک ہے منظور یہ بول کے شاہ نے اپنی انکھیں بول کے اپنا گال نازنین کے اگے کیا تو نازنین نے انکھین بند کرے کے جیسے ہی اپنے لب اسکے گال کی طرف کیہ. تو شاہ جو ااے ہلکا ہلکا دیکھ رہا تھ جھٹ اپنا گال ہاتھا کے اسک لبوں پہ اپنے.لب رکھ دیے…..
[ ] …
