Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

اذ قلم مریم عمران ✍️
قسط نمبر# 5
اپ بیٹھے ذلیخاں!!!
میں صدیقی صاحب کو بولتا ہو وہ اپکو کام سمجھا دینگے!!!
جہانگیر نے انٹر کام سے صدیقی صاحب کو کال کی !!!
صدیقی صاحب زرا میرے کیبن میں آئے!!!
پانج منٹ بعد ہی صدیقی صاحب جہانگیر کے کیبن کے باہر کھڑے ہوکے دروازہ نوک کرکے کہا۔۔۔
میں آئ کمن سر؟؟؟
جی جی آئیے!!!
ہیلو میم !!!
صدیقی صاحب نے اندر اکے زلیخاں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
ذلیخاں نے بھی نرم مسکراہٹ لیے صدیقی صاحب کو جواب دیا۔۔
یہ آج سے میری پرسنل سیکریٹری ہیں آپ انہیں میری ساری ڈیٹیلز دیں دے۔۔
اوکے سر !!!!
جہانگیر نے مسکرا کے ذلیخاں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔
جائے ذلیخاں صدیقی صاحب اپکو سارا کام سمجھا دینگے!!!
اوکے س !!!!!
ابھی وہ پورا سر بولتی !!!!
جہانگیر نے اسے گھورا !!
ذلیخاں نے فورا دانتوں میں زبان دبائ اور کہا۔۔۔
مطلب جہانگیر!!!!
ہمم اب اپ جائے!!!
ذلیخاں کے نکلتے ہی جہانگیر کی نظروں نے اسکا دور تک پیچھا کیا ایک لمبی سانس اسنے ہوا میں چھوڑی اور آنکھیں موند کے پیچھے کرسی سے ٹیک لگا کے ایک ہی بات بولی!!!!
“شمع ہوئ ہے روشن جلنے لگے پروانے
آغاز تو اچھا ہے انجام خدا جانے”

#

زندگی اور وقت کا کام ہے گزر جانا اور وہ گزر جاتا ہے!!!
زلیخاں کو یہاں کام کرتے ہوئے تین مہینے ہوگئے تھے۔
اپنے آپ میں مگن اپنے آپ سے کام رکھنے والی یہ لڑکی جہانگیر کو اپنی اپنی سی لگنے لگی تھی۔۔
ان تین مہینوں میں ایک طوفان زلیخاں کی زندگی سے اکے گزرا تھا ۔۔
اسکے تایا اسکو بھری دنیا میں اکیلے چھوڑ کے چلے گئے تھے۔۔
جہانگیر بھی اسکے تایا کی میت میں آیا تھا کھانے سے لے کے تدفین تک کا سارا خرچہ اسی نے اٹھایا تھا۔
ذلیخاں کی تائ کا رویہ دیکھ کے جہانگیر کو اندازہ ہوگیا تھا کے ذلیخاں کی زندگی کتنی مشکل ہے۔۔
اسنے فیصلہ کر لیا تھا کہ ذلیخاں کو آب وہ یہاں زیادہ عرصہ نہں رہنے دے گا!!
لیکن کہتے ہیں جب تک اللّٰہ اپکی محبت پہ کن نہیں بولتا اپکی محبت اپکی نہیں ہوتی۔۔
حویلی سے آئ کال کے بعد جہانگیر کو اپنا فیصلہ کمزور ہوتا دیکھائ دیا۔۔
ابھی کل ہی اماں جان نے اسے کال کرکے یہ اطلاع کے وہ اسکی بچپن کی مانگ اسکی خالہ کی بیٹی شاہین کے گھر جارہے ہیں شادی کی تاریخ لینے۔۔
اب تو اسکے پاس کوئ جواز ہی نہیں تھا انکار کا اسکی شادی تو کب کی تین سال پہلے اسکے بڑے بھائی کے ساتھ ہوجاتی مگر اسکی ڈگری کی وجہ سے اگے بڑھا دی تھی۔۔
مگر اب تو اماں جان کو انکار نہ ممکن تھا اور کس بنیاد پہ وہ انکار کرتا ۔۔
اسکا ایک انکار دو خاندانوں کو برباد کر سکتا تھا.!!!
اب تو اسکے سجدہ اور لمبے ہونے لگے تھے۔
وہ زور اپنے رب سے اپنے لیے سکون مانگتا تھا۔۔
ادھر تایا جان کے جانے کے بعد جمال اور شیر ہوگیا تھا آدھی آدھی رات کو زلیخاں کا کمرہ بجاتا اسے تنگ کرتا۔۔

ذلیخاں پوری پوری رات اپنے رب کے اگے سجدہ میں رو رو کے گزار دیتی۔۔۔
ایک ایسی ہی صبح تھی جب موسم کافی آبر الودہ تھا وہ افس تو پہنچ گئ تھی مگر کام کرتے کرتے کب دیر ہوتی اسے پتہ نہیں چلا۔۔۔۔
ہوش اسے جب آیا جب جہانگیر نے اکے اسکے کیبن پہ نوک کیا۔۔
ارے ذلیخاں آپ گئ نہیں ابھی تک ؟
کافی ٹائم ہوگیا۔۔۔
بس جہانگیر میں نکلنے لگی تھی!!!
آئیے میں اپکو چھوڑ دیتا ہو!!!
ارے نہیں اپکو خاماخای میں زحمت ہوگی!!!
آجاؤ فٹافٹ میں ویٹ کررہا ہو.!!! جہانگیر نے اسکی بات کو اگنور کرکے کہا۔۔
زلیخا سمجھ گئی کہ اب تو جانا ہی پڑے گا۔
جیسے ہی انکی گاڑی مین روڈ پہ آئ بارش زور سے برس پڑی تھوڑی دور ہی انکی گاڈی ایک جھٹکے سے روک گئ۔۔
کیا ہوا جہانگیر ؟؟؟
زلیخاں نے پریشانی میں پوچھا!!!
پتہ نہیں میں دیکھتا ہوں..
یہ بول کے جہانگیر گاڑی سے نکلا مگر کچھ یاد انے پہ وہ دوبارہ گاڑی تک ایا اور جھک کے جیسی ہی زلیخاں کو کچھ کہنا چاہا زلیخاں گاڑی میں نہیں تھی۔۔
.جیسی ہی اسکی نظر گاڑی کے سامنے پڑی اسکے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے کیوں کے سامنے کا منظر دیکھ کے اسکے ہوش گم ہونے لگے!!
زلیخاں بارش میں آنکھیں بند کرکے اپنے ہاتھوں کو پھیلاے گول گول گھوم رہی تھی سڑک سنسان تھی اسلئے زیادہ گاڑیوں کا انا جانا نہیں تھا۔۔
یہ منظر دیکھ کے جہانگیر کے لب خودبخود مسکرانے لگانے لگے!!!
وہ مدہوشی کے عالم میں زلیخاں کے قریب بڑھتا گیا اسنے اسکو اواز دی ۔
زلیخاں!!!!!
ارے سر بارش دیکھے کافی ٹائم بعد ایسی بارش ہوئ ہے کراچی میں!!
یہ کہہ کے جیسی ہی وہ جہانگیر کی طرف پلٹی اسکا پاوں مڑا اور وہ سیدھا جہانگیر کے سینے سے تکرائ۔۔
.دونوں کو ایک دوسرے کی دھڑکن با اسانی سنائ دے رہی تھی زلیخاں نے نگاہ اٹھا کے جہانگیر کو دیکھا اسکی انکھوں میں ایک محبت کا جہاں آباد تھا۔
زلیخاں کے چہرے پہ گرتی بوندیں جہانگیر کے ہوش اڑا رہی تھی.۔
اسکی بھیگتی آنکھیں سرخ ناک گیلے لب اسکا ایمان خراب کر گئے اسنے بے خودی کے عالم میں زلیخاں کو کمر سے پکڑ کے خود کے قریب کیا اور اسکے بھیگتے لبوں پہ اپنے دہکتے لب رکھ دیئے۔۔
زلیخاں کی آنکھیں خوف سے پوری کھل گئ اسنے ایک جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا اور منہ پہ ہاتھ رکھ کے دائیں بائیں بے یقینی سی کیفیت میں اپنی گردن ہلائ ۔
جہانگیر کو جب اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ زلیخاں کی طرف بڑھا!!!
زلیخا نے جاتے ہوئے رکشے کو روکا اور اس میں سوار ہوگی!!!
جہانگیر نے دیوانہ وار اسکو روکا مگر وہ نہیں ر کی اور وہ وہی گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا…
زرا سی دور یہ منظر کسی اور نے بھی دیکھا اور اسکے لبوں پہ ایک شیطانی مسکراہٹ اگی۔۔
زلیخاں کے گھر نہ پہنچنے پہ ثمینہ نے جمال کو فون کرکے اسے لانے کو کہاں ابھی وی تھوڑی دور ہی آیا تھا جب اسے بارش میں بھیگتی ہوی زلیخاں کو دیکھا اور اسکے بعد جو اسنے دیکھا جمال کو اپنا کام اور اسان لگا……
جاری ہے