Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 32
No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
[ ] قسط نمبر32#
[ ] نازنین کی کل کائنات اسکی ماں اور اسکا بھائ ہیں . ..نازنین کی.پاپا کی ڈیٹھ دس سال پہلے لیور کینسر میں ہوگئ.تھی..جس کے بعد .نازنین کے بھائ حامد نے اپنی بہن اور ماں کی ذمیداری بہت اچھی طریقہ سے نبھائ نازنین کے والد کا تعلق ایک میڈل کلاس سے تھا. ڈبل اسٹوری کا یہ گھر جو
[ ] نہایت ہی خوبصورت انداز میں سجایا گیا تھا جس کا کریڈیٹ نازنین کے ذمہ تھا…
[ ] نازنین اپنے بھائ.کی.ایک اکلوتی اور چہیتی بہن تھی.پاپا کے جانے کے بعد حامد نے اپنے بھائ ہونے کا پورا فرض ادا کیا نازنین کی.اور اپنی امی کی چھوٹی سی چھوٹی خواہش کا احترام کیا.. نعمان صاحب کی.کمپنی میں حامد پچھلے 8 سال سے کام کررہے تھے پوری ایمانداری اور محنت سے کام کرنے پہ نعمان صاحب کی.نظر میں حامد کی.نہ صرف عزت تھی بلکہ انہوں نے حامد کو اپنی کمپنی.کا مینجر بھی بنایا..تھا….نازنین کی.ایک ہی خالہ تھی جسکے دو بچے تھے نازنین کی.خالہ.انتہائ کوئ لالچی عورت تھی جسکی.نظر نازنین کے اوپر اور حامد کے اوپر تھی اپنی بد تمیز پوہر بیٹی کے لیہ ان کی نظر حامد پہ تھی..مگر حامد جو پچھلے 5 سالوں سے کسی.کی ایک جھلک کا دیوانہ تھا اس کے بعد اسے کوئ اور چہرہ بھایا ہی.نہی اور رہا سوال نازنین کا جو اپنی خالہ.کی.رگ رگ سے واقف تھی اور اسکے بیٹے کی اوچھی حرکتوں سے بھی واقف تھی اپنی ماں کی روز روز کے بولنے پہ آخر کار ہار مان کے اس نے خالہ.کے بیٹے سے شادی کے لیہ حامی بڑھ لی تھی مگر شاہ ایسا ہونے نہی دے گا¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤ہلکی سی نوک کے ساتھ حامد اندر ایا.. 6 فٹ سے نکلتا قد ہلکی ہلکی.برید گہری براؤن انکھیں
[ ] چھوٹی ناک ہلکی ہلکی بریڈ شیو کے ساتھ وہ39 سال لڑکا ابے شک وہ ایک.خوش شکل.انسان تھا…حامد نے ناصر اور شاہ سے ہاتھ ملایا اور نعمان سے ہوچھا..
[ ] اپنے بولایا سر….؟؟
[x]
[ ] ہاں حامد بیٹھو. ..
[ ] یہ.میرا بیٹا ہے سرور شاہ لندن سے اکاؤنٹنگ میں گولڈ میڈل ہیں اور بہت جلد بزنس بھی سنبھالنے والے ہیں.. میری وائف اور میرے نیچر سے تو اپ واقف پیں..حامد نعمان کے اتنا سب بتانے پہ تھوڑا حیران ہوا اور پوچھ بیٹھا…
[ ] سر اپ یہ سب مجھے کیوں بتا رہے ہیں میں کچھ سمجھا نہی..اپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں اس سے پہلے نعمان کچھ کہتا…شاہ بول.پڑا…
[ ] ایکچولی حامد بھائ میں اپکی بہن نازنین کو پسند کرتا ہو اور شادی کرنا چاہتا ہو…
[ ] شاہ کی بات سن کے حامد کے ماتھے پہ تیوریاں ابھری جو وہاں بیٹھے کسی بھی نفوس سے چھپ نہ سکی.
[ ] حامد کا چہرہ دیکھ کےشاہ نے پھر سے کہنا شروع کیا…
[ ] دیکھے حامد بھائ اپ مجھے غلط نہی سمجھیے گا.میں نازنین کی یونی میں پاپا کی جگہ پچھلے ایک ہفتہ سے اکاوئنٹنگ کی.کلاس لے رہا ہو ..میں شان ناصر اور ماہ.کو تو اپ جانتے ہونگے ہم سب کا ایک.گروپ ہے. ہم اچھت دوست ہے اپس میں سوائے میںرے اور نازنین کے اپکی.بہن کو میری شکل دیکھتے ہی غصہ اتا یہ
[ ] بات شان نے اتنے معصومہ انداز میں کہی کہ سب کے لبوں پہ.مسکراہٹ اگئ سوائے…حامد کے. میں اپکی بہن سے محبت کرتا ہو اور اسس لیہ ڈائریکٹ پاپا کے پاس ایا تھا تاکہ نازنین کے گھر شادی کا پیغام لیہ جا سکو مجھے بلکل بھی نہی پتہ تھا کہ نازنین کا کوئ بھائ ہے.. اور وہ ہماری کمپنی میں ہی مینجیر ہے…حامد بھائ میں شاید اتنی جلدی شادی کا پیغام پاپا کے پاس نہی لاتا اگر کل نازنین کو ماہ کو کہتے نہی سنتا کہ اس نے اپنی ماما کے کہنے پہ خالہ سے بیٹے سے شادی کرنے کے لیہ ہاں بول دیا….اتنا بول کہ شاہ چپ ہوا تو حامد بول پڑا..
[ ] کیا نازنین بھی جانتی ہے کہ تم اس سے محبت کرتے ہو……حامد کا ایسا بولنا تھا کہ شاہ بول.پڑا..
[ ] توبہ توبہ حامد بھائ اللہ.کو مانے اس بلبٹوڑی ….بلبٹوڑی کہنے پہ جہاں ناصر نے اپنے سر پہ.ہاتھ مارا وہی نعمان نے بھی نفی میں گردن یلائ..
[ ] میں جانتا ہو اپکو برا لگا ہوگا میرا اپکی بہن کو بلبٹوڑی کہنا…
[ ] مگر حامد.. she is a big bilbatory…..اپکو اندازہ نہی مجھے تو ایسے دیکھتی ہے جیسسے کوئ چیز اٹھا کہ مار ریے گی
[ ] پھر شاہ نے اسے اپنی اور نازنین کی پہلی ملاقات کا بتایا تو حامد کے لبوں پہ.بھی مسکراہٹ اگئ….
[ ] مگر حامد بھائ میں پھر بھی نازنین کو بہت چاہتا ہو اگر میں اس سے ڈائیریکٹ بات کرتا تو یقین جانے میں دوسرے دن یونی انے کے قابل نہی ہوتا.. پلیز حامد بھائ مجھ پہ.اعتبار کرے میں نازنین کو بہت خوش رکھونگا.. اتنا بول کے شاہ چپ.ہوا تو ناصر بول پڑا حامد بھائ میں اپنے دوست کی گاڑنٹی لیتا ہو… اور میں ڈبل گاڑنٹی دروازے سے اتی شان کی اواز پہ سب چونکے جو ماہ.اور نازنین کو ماہ کے گھر کے گیٹ کے پاس ہی اتار کےایک ضروری کام کا بہانا کرکے یہاں اگیا تھا ….
[ ] حامد نازنین میری بیٹی کی طرح ہے تم.یقین کرو اسکو وہاں کوئ تکلیف نہی.ہوگی…..نعمان نے حامد کو تسلی دی…
[ ] حامد کی خاموشی ہر کسی کی جان ہلکان کرہی تھی….
[ ] کہ جبھی حامد اٹھ کے جانا لگا تو شاہ نے مایوسی سے اپنا سر جھکا لیا…
[ ] حامد گیٹ تک پہنچا اور پلٹ کر کہا…
[ ] کیا خیال ہے نعمان سر کل کا لانچ اپ اگر ہمارے گھر ہمارے ساتھ کرے اپنی فیملی کیساتھ…حامد کی بات پہ سب کے لبوں پہ مسکراہٹ دور گئ اور شاہ تو اٹھ کے حامد کے گلے لگ گیا..تو حامد نے کہا…
[ ] شاہ میںری بہن کو کبھی کوئ تکلیف مت دینا..
[ ] حامد بھائ اپ مجھ پہ اعتبار کرکے دیکھے انشاءاللہ مایوسی نہی ہوگی..
[ ] مگر حامد بھائ ابھی اپ نازنین سے کوئ بات مت کریگا کہ میں کل اسکے گھر رشتہ لا رہا ہو….
[ ] شاہ کی بات سن حامد نے کہا.. تم.پریشان مت ہو میں جانتا ہو اپنی.بہن کو ہینڈل کرنا…یہ بول کے حامد نعمان کے کیبن سے نکل گیا..تو باقی سب نے خوشی سے اس کو مبارک دی..تھوڑی دیر نعمان کے آفس بیٹھ کے وہ لوگ ماہ کے گھر کے لیہ نکل.پڑے…
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ازلان شام میں گھر ایا تو وہاں الگ ہی رونق لگی تھی بانو بیگم.. سارے بڑے..حیدر اور نور اور ساری ینگ جینریشن اور ان سب کے درمیان بیٹھی ازلان کی چشمش شیرنی جو شاہ کی کسی بات پہ.ہنس رہی تھی مگر جیسے ہی فائزہ کی. نظر ازلان پہ.پڑی وہ وہی خاموش ہوگئ اور اسکی خاموشی.کو وہاں بیٹھے سب ننفس نے نوٹ کیا….
[ ] زالان اند ایا تو زلیخا سے کہا ماما جلدی سے چائے پلوادیں.
[ ] . اور انٹی ساتھ میں کچھ کھانے کو بھی قسم سے بہت بھوک لگی ہے نازنین کی بات پہ سب ہی ہنس پڑے سب کو پتہ تھا کہ نازنین کھانے کی.کتنی شوقین ہے. ابھی زلیخا اٹھتی کہ ساتھ میں نازو اور نور بھی کھڑی ہوگئ…نور کے اٹھتے ہی ازلان اسکی جگہ پہ.اکے بیٹھ گیا. جو فائزہ کے برابر میں ہی تھی.. ازلان نے دیکھا
[ ] کہ سب ہی اپنی.اپنی باتوں میں مصروف ہے تو ازلان نے دھیرے سے فائزہ کے کان میں سرگوشی کی..
[ ] اوپر میںرے کمرے میں اؤ مجھے بات کرنی.ہے تم سے….
[ ] یہ بول کے ازلان چپ ہوا تو فائزہ نے ازلان کو گھورا جس پہ.ازلان نے اسے ایک انکھ ماری اور اوپر جیسی ہی جانے لگا.تو شان نے پوچھ لیا..
[ ] ارے یار ازلان تم.کہاں جا رہے ہو ممانی چائے لا رہی ہیں….
[ ] ارے شان زرا فریش ہوکے اتا ہو جب تک چائے بھی بن جائے گی… یہ بول کہ ازلان اوپر اپنے کمرے کہ طرف چل.پڑا مگر پلٹ کہ.فائزہ کو دیکھنا نہ.بھولا….جو اسی.کی پشت کو گھور رہی.تھی..
[ ] فائزہ نے جب دیکھا کہ اسے کوئ نہی دیکھ رہا تو وہ اٹھ کے ازلان کے کمرے کی طرف چل پڑی. مگر فائزہ کو جاتا دیکھ کے ماہ کے چہرہ پہ.مسکراہٹ اگئ…
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤؟
[ ] ازلان کے کمرے کے.پاس پہنچ کے فائزہ نے اسکے کمرہ کا دروازہ.ہلکا سا ناکک کرکے دروازہ.کا لاک گھمایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا فائزہ اندر کمرے میں ائ تو اپنے پیچھے دروازہ بند ہوتی اواذ پہ ایک دم چونکی.. مگر اس کی نظر ازلان پہ پڑی….
[ ] جو دروازہ سے ٹیک لگا کہ.اپنے دونوں ہاتھ سینے پہ.باندھ کے اسی کو دیکھ رہا تھا…
[ ] ازلان نے غور سے فائزہ کا اوپر سے نیچے تک معائنہ کیا..
[ ] بوتل گرین سوٹ کیساتھ بلیک دوپٹہ سر پہ اوڑھے لمبے بال جو ازلان کے وارن کرنے سے اجکل چوٹیا میں ہی دیکھتے تھے سرمی انکھیں جو چشمہ کے پیچھے قید تھی اپنے دونوں ہاتھوں کو اپس میں ڑگرتی.. گھبرائ گبھرائ سی وہ سیدھا ازلان کے دل میں اتر رہی تھی.. ازلان نے لاکھ کوشش کی فائزہ سے نفرت کرنے کی مگر اسکی محبت ہمیشہ اس نفرت کے سامنے دیوار بن کے ڈٹ جاتی. ..
[ ] ازلان نے ایک.لمبی سانس ہوا میں چھوڑی اور اہستہ سے چلتا ہوا فائزہ تک ایا اسکو.کندھے سے تھام کے بیڈ پہ بیٹھایا اور خود نیچے اسکے پیروں کے پاس بیٹھ گیا ازلان کو اپنے پیروں میں ایسا بیٹھا دیکھ کہ فائزہ کو پریشانی
[ ] ہوئ اسکا دل معمول سے زیادہ زور زور سے ڈھرکنے لگا کہ ایک دم ازلان نے بولنا شروع کیا..
[ ] فائزہ میں تم سے اپنے ہر رویہ کی معافی مانگتا ہو مجھے نہی پتہ میں اتنا جنونی کیسے ہوگیا. شاہد تمہیں کھونے کا خوف تھا اس لیہ. میں نے تم سے جب سے محبت کی ہے فائزہ جب میں محبت لفظ سے بھی انجان تھا. تمہارے منہ سے کسی اور کا نام سننا ہی میرے لیہ سوہان روح تھا تم میری نہی ہو یہ سوچ کے ہی میرا دل پھٹنے لگا میری محبت کی جگہ ضد نے.لے لی تھی جبھی میں تمہارے ساتھ وہ سب کر گیا جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہی کیا مجھے معاف کردو فائزہ مجھے بہت دکھ ہوتا ہے جب تم مجھے نظر انداز کرتی ہو سب کے ساتھ ہنستی مسکراتی ہو اور
[ ] میرے سامنے اتے ہی تم.بلکل سنجیدہ ہوجاتی ہے..مجھے اپنی وہی چشمش شیرنی چاہیے.. مجھے نہی پتا عامر کون ہے کیسا ہے تمہیں کتنا چاہتا ہے یہ تم اسے کتنا چاہتی ہو مجھے کچھ لینا دیینا نہی بس میں یہ جانتا ہو کہ میں اپنی فائزہ سے بے انتہا محبت کرتا ہو.. بس تم.میری ہو تمہیں مجھ سے محبت نہی فائزہ کوئ مسئلہ نہی مگر میں تمہیں اتنی محبت دونگا کہ ایک دن تم بھی مجھے چاہنے لگوگی.
[ ] ایک بار خالی پلیز مجھے معاف کردو میرے ہر رویہ کے لیہ…
[ ] ازلان کی باتیں سن کے فائزہ کی انکھوں سے انسو جاری ہوگئے سچ کہا تھا شمائلہ نے کے میں نے بہت بڑی غلطی کی ہے ایسے شخص کو ازما کے جو مجھے بے پناہ چاہتا ہے…فائزہ کے نکلتے انسو میں اورروانگی اگئ اور اسکی ہچکی بندھ گئ رونے کی اواز پہ جب ازلان نے فائزہ کو دیکھا تو وہ زوروشور سے رونے میں مصروف تھی ازلان تیزی سے اٹھ کے اس پاس بیٹھا اور اسکا رخ اپنی طرف موڑا.. اور کہا فائزہ اخری چانس دے دو اب کبھی تمہیں میں رونے نہی دونگا یہ بول کہ.ازلان نے فائزہ کا چشمہ اتارا اور اسکے انسو صاف کیہ اور پھر پتہ نہی کس یقین کے تحت اسنے فائزہ کے ماتھے پہ.اپنے لب رکھ دیے اور اسکو اپنے سینے سے لگالیا..اور ازلان کا سینے سے لگانا تھا کی فائزہ کے رونے میں اور شدت اگئ اس ازلان کی شرٹ زور سے اپنی مٹھی میں جکڑ لی..جب اسے اپنی پوزیشن کا احساس ہوا تو وہ دھیرے سے ازلان سے الگ ہوئ فائزہ کے چہرے پہ شرم وحیا کے رنگ دیکھ کے ازلان کے لبوں پہ ایک دلفریب مسکراہٹ اگئ..اور اس نے جھک کے اسکے لبوں کو چھولیا فائزہ نے اسے جھٹکے سے اپنے اپ سے اگ کیا اور ایک پرشکوہ نگاہ ازلان پہ ڈالی تو اسنے ہنستے ہوئے اپنے کان پکڑ لیہ تو فائزہ کے لبوں پہ
[ ] مسکراہٹ اگئ. فائزہ نے بھی سوچا اس سے اچھا موقع نہی ملےگا ازلان سے عامر والے واقعے کو کلیر کرنے کا اس سے پہلے فائزہ اپنی بات کرتی دروازہ پہ.ہونی والی دستک سے دونوں چونکے اور اپنی اپنی.پوزیشن سنبھالی….
[ ] اجائے ازلان نے جیسی کہا تو ماہ کمرے کے اندر ائ اور کہا اگر میل ملاپ.کرلیا ہو میری ہونے والی بھابھی سے تو اجاؤ نیچے سب ویٹ کررہے ہیں. ماہ کے ایسے بولنے پہ.دونوں چونکے.. مگر ازلان نے ماہ سے پوچھا..تمہیں کیسے پتہ کے ہم دونوں کے درمیان کچھ گڑبڑ ہے..ماہ مسکرا کے ازلان کے پاس ائ اور کہا..پارٹنڑ ایک ہی ساتھ ہم دونوں اس دنیا میں ائے ہیں تمہارے دل کا حال تم سے پہلے میں جان جاتی ہو تمہارے روتی شکل سب بتا رہی تھی.. ماہ.کا ایسا بولنا تھا کہ ازلان اور فائزہ دونوں ہنس پڑے.. فائزہ ماہ کیساتھ ہی نیچے ائ تو پیچھے پیچھے ازلان بھی چلا ایا. زلیخا اور نازو نے اپنے پچوں کی شکل پہ وہی پہلے والی مسکراہٹ دیکھی تو فورا اپنے رب کا شکریہ ادا کیا..
[ ] ناصر سے ملکر سب کو ہی اچھا لگا ناصر اور شاہ کے انے سے ایک الگ ہی محفل افریدی مینشن میں سج گئ تھی ڈنر سے فارغ ہونے کے بعد نازنین تو ڈرائیور کے ساتھ چلی گئ تھی. جبکہ بڑے سارے اندر حال میں تھے تو چھوٹے سارے باہر لان میں اکے بیٹھ گئے. کہ جبھی ماہ نے شاہ سے پوچھا.
[ ] شاہ تمہیں کیا کام تھا اپنے پاپا کے افس سے…؟؟؟
[ ] ماہ کے پوچھنے پہ.شاہ نے حامد سر سے ہونے والی ساری ملاقات کا حال اسے سنا دیا اور یہ بھی بتایا کہ وہ کل نازنین کے گھر رشتہ لیہ کے جاِئے گا…
[ ] شاہ کا ایسا بولنا تھا کہ ماہ ایک دم چیخ پڑی…
[ ] شاہ تم پاگل ہو نازنین کے علم میں لائے بغیر تم نے خود سے اتنا بڑا فیصلہ کیسے لے لیا..
[ ] ماہ کی بات پہ ازلان اور فائزہ بھی بول پڑے..
[ ] ہاں شاہ تمیں نازنین کو پہلے بتانا چاہیے تھا..جبکہ عدنان اور ردا خاموشی سے بیٹھے بات سمجھنے کی کوشش کرنے.لگے…
[ ] ماہ کی بولنے کے بعد شاہ بول پڑا…
[ ] ماہ تمہیں پتا نہی نازنین کا اگر میں ایسے بتاتا تو وہ میرا کیا حال کرتی یہ تم بھی جانتی ہو وہ کبھی راضی
[ ] نہی ہوتئ.
[ ] پلیز یار ماہ بس تم.ابھی نازنین کو کچھ مت بتانا میں سب کچھ سنبھال لونگا..
[ ] شاہ کی بات سن کے ماہ نے اپنا سر پکڑ لیا اور صرف اتنا کہا..
[ ] ایسا نہ ہو شاہ ایسا کرنے سے تم سچ میں نازنین کو کھو دو…
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] جاری ہے..
