Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 25
No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
[ ] پاپا انکا نام.اس سے پہلے ماہ شان کے پاپا کا نام بتاتی جہانگیر کے نمبر پہ.بلال(مینیجر) کی کال اگئ..جہانگیر نے کال پک کرکے کان سے لگائ تو ماہ بھی چپ ہوگئ..
[ ] گاڑی ماہ.کی یونی کے اگے روکی تو جاہنگیر کی بھی کال کٹ ہوئ..
[ ] سو سوری بیٹا افس سے کال اگئ.تھی..
[ ] کوئ بات نہی پاپا..
[ ] چلے اپکی.تو یونی.اگئ.اور ہماری بات بیچ میں ہی رہ گئ کوئ بات نہی.بعد میں انشاءاللہ یہہی سےکنٹینیو کرینگے…
[ ] اوکے پاپا یہ بول.کے ماہ.جیسی ہی.گاڑی سے اترنے لگی.تو جہانگیر نے اسے روکا…
[ ] ماہ…
[ ] جی پاپا…
[ ] پیسٹ اف لک….
[ ] شکریہ پاپا.یہ بول کی.ماہ.جہانگیر کے گلے لگ کے کار سے اتر گئ تو جہانگیر نے گاڑی اگے بڑ ھادی…
[x] نگیر نے گاڑی اگے بڑھادی…
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ردا کا تو اسکول.اوف تھا تو وہ.اپنی.کسی فرینڈ کے ہاں چلی گئ جبک.عدنان کا کالج.تھا تو وہ کالج کے لیہ.نکل.گیا..اماں جان.ایک بار جب اپنے روم چلی جاتی تو کمرے سے بہت کم نکلتی تھی رات کا.کھانا تو اکثر اماں جان بہت کم سب کے ساتھ کھاتی…
[ ] سب کے جانے کے بعد زلیخا اور نازو ملازمہ کے ساتھ سب نبٹارہی تو زلیخا نے نوٹ کیا کہ نازو کچھ پریشان ہے…
[ ] نازو ؟؟
[ ] زلیخا نے نازو کو اواز دی…
[ ] جی بھابھی…
[ ] کیا ہوا تم.مجھے پریشان لگ رہی ہو..
[ ] زلیخا اور نازو کو کوئ دیکھتا تو گیس نہی کرپاتا تھا کہ وہ دیورانی جیٹھانی ہیں یا بہنیں.. دونوں ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ کے ایک دوسرے کی پریشانی بھانپ لیتی تھی……
[ ] ہاں بھابھی..میں ازلان اور فائزہ کے صبح کے رویہ سے ہریشان ہو…
[ ] ارے فائزہ تم پریشان مت ہو میں ابھی جاکہ فائزہ سے بات کرونگی تم.پریشان مت ہو.اچانک شادی کی بات پہ ہر لڑکی کا ریکشن کچھ ایسا ہی ہوتا ہے .. زلیخا نے پیار سے اسکے گال پہ ہاتھ رکھا..اور اسے سمجھایا…
[x]
[ ] شکریہ بھابھی اپ ہمیشہ میںری ہریشانی دور کرتی ہیں..
[ ] شکریہ کس کو بولا زلیخا نے لڑاکا عورتوں کی طرح اپنے دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کہ بولا…
[ ] اور نازو نے ہنستے ہوئے پیار سے زلیخا کو گلے لگا لیا..
[ ] زلیخا بھی نازو کے گلے.لگ کے ہنس پڑی.. زلیخا دھیرے سے نازو سے الگ ہوئ اور کہا تم پریشان مت ہو. تم تھوڑی دیر میں چائِے اوپر لے انا.فائزہ کے کمرے میں آجانا یہ بول.کے زلیخا فائزہ کے کمرے میں چلی گئ..
[ ] فائزہ اپنی سوچوں میں گم کھڑکی کے پاس کھڑی تھی جبھی زلیخا کی اواز پہ پلٹی..
[ ] کیا.میں اپنی بیٹی کے کمرے میں اسکتی ہو..؟؟؟؟
[ ] زلیخا کے پوچھنے پہ فائزہ ایک دم شرمندہ.ہوئ..
[ ] بڑی امی اپ مجھے شرمندہ.کررہی ہیں اپ جب چاہے جس وقت چاہںے اپنی.بیٹی کے کمرے میں اسکتی ہیں. فائزہ نے زلیخا کو ہنس کر جواب دیا اور پیار سے زلیخا کے گلے.لگی .زلیخا اسے لیہ بیڈ پہ بیٹھ گئ…اور اس سے کہا.
[ ] فائزہ میں اپکی بڑی امی بعد میں ہو پہہلے اپکی دوست ہو اپ جانتی ہو یہ بات…
[ ] جی بڑی امی مگر اپ یہ سب کیوں پوچھ رہی.ہیں؟؟
[ ] فائزہ کیا تم.اس رشتہ سے خوش نہی.بیٹا کوئ زبردستی نہی تمہں انکار کا پور حق ہے یہ مت سمجھنا کہ تمہارے انکار سے میںرے اور نازو کے رشتہ.میں کوئ مسئلہ ہوگا…اگر تم.کسی کو پسند کرتی ہو تو مجھے بتاو میں تمہارا ساتھ دونگی…
[ ] اور زلیخا کے اس سوال پہ جہاں فائزہ پریشان ہوئ وہی کمرے کہ گیٹ پہ کھڑے ازلان کو بھی فائزہ کے جواب کا بیچینی سے انتظار تھا……
[x]
[ ] اور فائزہ سمجھ گئ کہ بڑی امی کا یہ سب پوچھنےکا کیاطلب ہے..
[ ] فائزہ نے دھیرے سے زلیخا کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیہ اور کہا…
[ ] بڑی امی سب سے پہلے تو میں اپ سے اپنے صبح کے رویہ کے لی معافی مانگتی ہو ایک دم.مجھے غصہ اگیا تھا ایک تو لینس کی وجہ سے میںری.پڑھائ بہت ڈسٹرب ہورہی ہے دو مہینے بعد میرا سیکنڈ سیمسٹر ہے
[ ] اوپر سے دادو نے اچانک نکاح کی جگہ شادی کا بول دیا بس اس لیہ میں تھؤڑی ہائیپر ہوگئ تھی اور رہا سوال کسی کو پسند کرنے کا تو ایسی کوئ بات نہی بڑی امی اپ میںرے طرف سے بیفکر ہوجائے. مگر اپ ازلان سے پوچھ لیں ایک بار..
[ ] ,,,,,,,,,اور باہر کھڑا ازلان فائزہ کے اس جواب میں پریشان ہوگیا اور تیزی سے سیڑھیاں اترتا ہوا باہر نکل گیا..
[ ] فائزہ میں نے ازلان کی انکھوں میں بچپن سے تمہارا عکس دیکھا ہے ..مجھے پتہ.ہے وہ منہ سے کبھی کچھ نہی بولے گا مگر میں تو ماں ہو نہ.کیسے اسکی دل.کی بات نہی سمجھتی.. مگر کچھ دونوں سے وہ.بہت بدلہ بدلہ سا ہے پہلے تو تمہیں تنگ کرتا تھا ہنستہ تھا مسکراتا تھا اجکل تو مسکراتا بھی نہی بلکہ گھر بھی دیر سے انے لگا ہے تمہاری کوئ لڑائ تو نہی ہوئ اس سے..
[ ] اور فائزہ چاہ.کے بھی زلیخا کو بتا نہی پائ کہ ان کے بیٹے کی مسکراہٹ چھینے والی وہ خود ہے….
[ ] نہہی بڑی.امی ..شاید افس ورک زیادہ ہوتا ہے اس وجہ سے پریشان ہو..
[ ] ہمم.ہو سکتا ہے..
[ ] اگر اپ دونوں کے پرسنل میٹنگ ختم ہوگئ ہو تو کیا میں اندر اجاؤ.نازو کی اواز پہ وہ دونوں پلٹی. اور دونوں نے ہنس کے نازو کو کہا.
[ ] اجائے میٹنگ تو برخاست ہوچکی ہے یہ.بول کہ جہاں فائزہ ہنسی وہی نازو کو بھی اپنی بیٹی کو ہنستا ہوا دیکھ کے سکون ملا اس نے انکھوں ہی انکھوں میں زلیخا سے پوچھا تو اس نے بھی انکھوں کے اشارے سے ہی سب تھیک ہونے ک سگنل دیا…. .¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ازلان جب گھر سے نکلا تو ادھے راستہ میں اسے یاد ایا.کہ اج کی.میٹنگ کی فائل.وہ.اپنے روم میں ہی.بھول.ایا وہ واپس گھر ایا فائل
[ ] لیکے جب وہ اپنے کمرے سے جیسے ہی نکلا تو فائزہ.کے روم.کا.ہلکا سا دروازہ کھلا ہوا تھا کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے زلیخا اور فائزہ کی باتوں کی.اوازیں ائ وہ کمرے کے باہر رک کے انکی.باتیں سن نے.لگا..مگر زلیخا کے سوال پہ فائزہ نے جو جواب دیا وہ اسکی سوچ کے برعکس تھا وہ جس تیزی سے ایا تھا ایسی ہی تیزی سے کار میں بیٹھ کے افس کی طرف نکل.پڑا مگر پورے راستے وہ سوچے بنا نہی.رہ.سکا..کہ فائزہ اسانی سے ماما سے اپنی پسند ظاہر کر سکتی تھی مگر اس نے ایسا کیوں نہی.کیا ..یہ ہی سوچ کے اسنے زور سے مکا.اسٹرینگ پہ.مارا اور کہا.
[ ] اب یہ شیرنی کہا وار کرنے والی ہے دل تو زخمی کر ہی چکی ہے.. ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ماہ یونی.پہنچی تو ہربرا کے رہ گئ ہر طرف افرا تفری کا عالم.تھا اج دو تین اور یونی کے پارٹیسیپٹ کے میمبر یہاں موجود تھےوہ فورا تیزی سے ریہرسل روم.میں پہنچی تو ناصر اور نازنین اسسے اپنی جگہ پہ اسکا ویٹ کرتے دیکھے وہ تیزی سے انکی طرف پہنچی..نازنین تو ماہ کو دیکھ کہ پھٹ پڑی..
[ ] بہت جلدی نہی اگئ ماہ بی بی؟؟؟
[ ] یار ٹریفک کی وجہ سے لیٹ ہوگئے اج تو ڈرائیور بھی چھٹی پہ تھا پاپا کے ساتھ ائ ہو…یہ بول.کے جب اسنے ناصر کو دیکھا تو وہ بھی پریشانی سے ادھر ادھر چکر لگا رہا تھا…
[ ] ناصر ناصر……
[ ] ماہ نے ناصر کو اواز دیہ کے اپنی طرف بلایا جو نازنین اور ماہ سے تھوڑی دور کھڑا بیچینی سے شان کا ویٹ کرہا تھا..ماہ.کو کم ازکم ایسا ہی لگا…
[ ] ہاں ماہ کیا ہوا…
[ ] ناصر شان اجائے گا ریللکس مجھے تیکس ایا تھا اسکا.. اسکی گاڑی خراب ہوگئ تھی وہ گاڑی بدل کہ ارہا ہے..
[ ] ارے ماہ یہ ویٹ شان کا تھوڑی کرہا ہے. یہ تو ویٹ شان کے ساتھ انے والی ہماری بھابھی کا کراہا ہے نازنین نے لہجہ میں شرارت سموتے ہوئے کہا..
[ ] نازنین کی بات پہ جہاں ناصر نے گھور کے نازنین کو دیکھا..وہی ماہ لفظ بھابھی پہ.اٹک گئ..
[ ] نازنین شان کے ساتھ بھابھی میں کچھ سمجھی نہی..
[ ] ارے ماہ تم بھی کس کی باتوں میں اراہی ہو یہ تو بولتی ہی الٹا سیدھا ہے..ناصر نے نازنین کو ایک بار پھر گھور کے ماہ کو جواب دیا.جبکہ ماہ ناصر کو نازنین کو گھورتے ہوئے دیکھ لیا تھا اس لیہ وہ سمجھ گئ کہ.معملہ کچھ گڑبڑ ہے..
[ ] تھیک ہے ناصر اگر تم.مجھے اس قابل نہی سمجھتے کہ اپنی کوئ بات مجھ سے شئیر کرسکو تو کوئ بات نہی میں ہو ہی کون صرف تمہاری ایک دوست ماہ نے کمال کی ایکٹنگ کرکے. ناصر کو ایموشنل بلیک میل کرکے نازنین کو انکھ ماری جبکہ نازنین کا دل کیا ماہ.کو اس ایکٹنگ پہ ااوسکر آوورڈ سے نواز دے..
[ ] ناصر بھی فورا ماہ کے اہیموشنل بلیک میلنگ میں اگیا اور کہا…
[ ] نہی ماہ.ایسی بات نہی وہ اصل میں نہ…
[ ] وہ اصل میں ماہ ناصر جی شان کی بہن پری پہ دل وجان سے مرمٹے ہیں اور یہ بات ابھی تک انہوں نے کسی کو نہی بتائ یہاں تک کے شان کو بھی نہی انہیں لگتا ہے جس دن یہ بات یہ شاں کو بولینگے اسی دن شان کا ان پہ سے اعتبار اٹھ جائے گا…….
[ ] ناصر کے اگی کی بات نازنین نے مکمل کرکے ماہ کے بتائ..
[ ] اور مجھے یہ بات کے یہ پری.کے عشق میں فنا ہے مجھے پری کے گھر ہی بتہ چلی جب ہم انکے گھر گئے تھے…
[ ] ناصر نےنازنین کی بات سن کے شرمندگی کے باعث اپنا چہرہ جھکا لیا جیسے بہت بڑا گناہ کیا ہو…
[ ] ماہ ناصر کے پاس ائ اور کہا.
[ ] ناصر شان بہت خوش قسمت ہے کہ اس کے پاس تم جیسا دوست ہے مگر ناصر تمہاری نیت صاف ہے تم اگر واقعی سیریس ہو تو شان کو بولو وہ سمجھے گا بات تمہاری…
[ ] یہہی یہی بات میں ان حضرات کو کتنے دنوں سے سمجھا رہی ہوں
[ ] نازنین ایک دم بول پڑی..
[ ] کون.کس کو کیا سمجھا رہا ہے کوئ ہمیں بھی بتائے..
[ ] پیچھے سے انے والی شان کی اواز پہ وہ تینوں چونکے..
[ ] ارے شان کچھ نہی یہ ناصر تھوڑا نروس ہورہا تھا تو بس یہ سمجھا رہا تھے..ا..
[ ] اسلام وعلیکم..ایوری ون..
[ ] شان کے پیچھے سے اتی پری کہ اواز پہ سب نے پری کی طرف کہا..
[ ] بلیک اور ریڈ کنٹراس کے پلازو اور شرٹ میں ہم رنگ ڈبل شیڈ دوپٹہ لیا کانوں بلیک اور ریڈ کنٹراس کی بالیاں پہنے چوڑیوں سے لبریز ہاتھ بالوں کی ڈھیلی سی چٹیا بناے اور اپنی گرین انکھوں میں کاجل.لگائے وہ ناصر کی دنیا.ہلا گئ..
[ ] ارے وعلیکم سلام پری.کیسی یو سب سے پہلے ماہ پری کے گلے لگی ناصر جو پری کو دیکھنے میں مصروف تھا نازنین کی کہنی مارنے میں وہ ہوش میں ایا.ناصر انکھوں سے نگلوں گے کیا اسے اور ناصر نے نازنین کی اس بات پہ اسے صرف اتنا کہآ.نازنین موٹی چپ رہو…
[ ] شان ماہ اور پری کی طرف متوجہ تھا اس لیہ ناصر اور نازنین کی طرف اسکا دیھان نہی تھا..
[ ] نازنین نے ناصر کی اس بات پہ اسے غصہ سے گھورا اور کہا…
[ ] ایک دوست انکھوں کی عاشقی نبھا رہا ہے
[ ] تو دوسرا خاموش رہ کے محبت کی نئ مثال قائم.کر رہا ہے…
[ ] نازنین کی دوسری بات پہ ناصر نے سوالایاں نظروں سے دیکھا..اور کہا..
[ ] دوسرا کون.؟؟؟
[ ] اوہ پلیز ننھے منھے نہہی بنو میرےسامنے شان کی بات کرہی ہو مجھے پتا ہے وہ ماہ سے بہت محبت کرتا ہے..
[ ] نازنین کی.اس بات پہ ناصر نے حیران ہوکے اسے دیکھا..اور نازنین ناصر کے اتنے حیران ہونے پہ.خالی.اتنا بولی..
[ ] کوئ دیکھے یہ نہ دیکھے نازنین تو دیکھے گی…
[ ] اور نازنین کی اس بات پہ ان دونوں کی.ہنسی نکل گئ..
[ ] ناصر اور نازنین بھی ان لوگوں کی طرف ائِے تو نازنین نے پری سے کہا.
[ ] پری میں نے کیا کیا ہےجو مجھ سے نہی ملی تم نازنین نے اتنی سڑی ہوئ شکل بنا کہ کہا کہ سب کی ہنسی نکل گئ..نازنین نے اگے بڑھ کے پری کو گلے لگایا تو پری کی نظر ناصر پہ پڑی.
[ ] ناصر پہ نظر پڑتے ہی وہ نازنین سے الگ ہوکے ناصر کے پاس ائ.. ا ایم سو سوری ناصر بھائ.وہ میں ماہ اپی سے باتوں میں لگ گئ اس لیہ اپکو نہی دیکھا..
[ ] کوئ بات نہی پری…
[ ] ابھی وہ لوگ باتوں میں مصروف
[ ] تھے کہ ناصر کو پرفام کرنے کے لیہ نام اناؤنس ہوا تو وہ سب لوگ اڈیٹوریم کی طرف چل پڑے….
[ ] ناصر تو ااسٹیج پہ.چالا گیا جبکہ باقی سب اپنی.اپنی سیٹوں پہ بیٹھ گئے..
[ ] ناصر اسٹیج پہ ایا مائک سیٹ کیا اور سامنے دیکھا تو پور اڈیٹوریم اسٹودینٹ سے بھرا ہوا تھا.اس نے ایک نظر سب کو مسکرا کے دیکھا اور
[ ] گانے سے پہلے کہا…this song didecate for my all friend but specialy only for shan
[ ] جہاں سب چونکے وہی شان کو بھی حیرت ہوئ اور پھر ایک دم اڈیٹوریم میں سناٹا چھاگیا اور ناصر نے گانا شروع کیا.”””
[ ] “رہیے نہ.رہیے.یہ جیون کبھی پر بنی رہے اپنی یہ دوستی.. او تیری قسم.او یارا میرے جدا ہونگے ہم نہ کبھی.
[ ] ہمیشہ رہے تو ساتھی میرا. یہ بندھن رہے یو سدا.یہ طاقت تیری
[ ] یہ قوت تیری بڑھے ہے میری یہ دعاعاعا ا
[ ] او میرے یار تو میرا پیار سدا رہے تو سلامت تیری میری یہ دوستی یو ہی رہے تہ قیامت…
[ ] ناصر کی.اواز بہت خوبصورت تھی یہ.اندازہ اج اسکے دوستوں کو ہوا جیسے جیسے ناصر گانا گا رہا تھا شان کیا اس اڈیٹوڑیم میں ہر اس انسان کی انکھ نم تھی.جسکے پاس دوستی کا انمول رشتہ تھا..پری نے بھی اج پہلی بار ناصر کو یو گاتے سنا
[ ] تو پری کی.ہارٹ بیٹ مس ہوئ مگر اس نے فورا اپنا.خیال جھٹکا..
[ ] گانا ختم.ہوتے ہی.پور حال تالیوں کے شور سے گونج اٹھا..تو وہی اگر شان کی انکھوں سے انسو جاری تھے تو ناصر کا بھی کچھ
[ ] ایسا ہی حال تھا جیسی تالیوں کا شور تھاما تو شان بھاگتا ہوا ناصر کے گلے لگ گیا ناصر نے بھی اسے اپنے سینے میں بھیچ لیا..
[ ] شان بولا..
[ ] سالے اتنا عزیر ہو تجھے میں…؟؟
[ ] ناصر کی بھی روتے روتے ہچکی بند گئ تھی اس نے بھی کہا جان ہے تو میری کبھی تیرے لیہ اپنی جان بھی دینی پڑی تو ہنستے ہنستے دے دونگا..اور کون جانتا تھا کہ.واقعی میں کسی.ایک کو اپنی دوستی اپنی جان کی.بازی لگا کہ ثابت کرنی تھی کسی ایک.کا
[ ] اعتبار توٹے گا تو کوایک.اپنی جان گنوا کے اسکا اعتبار واپس لوٹائے گا..
[ ] ماہ نازنین اور پری کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا تینوں کی.انکھ سسے انسو جاری تھی ..ماہ.اور نازنین دونوں نے ایک دوسرےکو دیکھا اور دونوں ہی.ناصر کے اس گانے کے بعد سمجھ گئ تھی کہ کیوں ناصر نے اپنی محبت پہ اپنی دوستی کو ترجی دی..
[ ] جاری ہے…
