Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40

شاہ کے ایک دم ایسے اٹھ کے بیڈ پہ.بیٹھنے سے نازنیںن کو تھوڑی حیرت ہوئ مگر وہ بولی کچھ نہی اور چپ چاپ سیدھی ہوکے بیڈ پہ اسکے برابر میں بیٹھ گئ اور غور سے شاہ کے جھکے سر کو دیکھنے.لگی…..
“چپ ہو کیوں.تم
بولوں زرا..
کیا مجھ سے
چھپا رہے ہو..
مل کے.بھی ملتے نہی.تم ..
کیوں دور جا رہے ہو”
شاہ تھوڑی دیر چپ رہنے کے بعد بول پڑا…
نازنیںن تم مجھ سے محبت کرتی ہو..؟؟
نازنیںن جو چپ چاپ شاہ کو گھور رہی تھی.. شاہ کے ایک دم سوال پہ بوکھلا گئ …
شاہ جس نے گردن جھکی میں ہی نازنین سے سوال کیا تھا..اب اپنی جھکی.گردن اٹھا کے نازنین کو دیکھنے لگا….
جو اپنے گلے پہ.پڑی لاکٹ کو خاماخائ میں ادھر ادھر کررہی.تھی….
شاہ نے ایک دم اسے کندھے سے پکڑ کے اسکا رخ اپنا طرف موڑا. اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیہ اور کہا…
ادھر دیکھو اوپر نازنین میری طرف….
شاہ کے بولنے.پہ.نازنیںن نگاہ.اٹھا کے شاہ.کی طرف دیکھا جسکی انکھوں میں ایک امید تھی…
شاہ نے اپنا سوال ایک بار پھر دھرایا اور کہا….
نازنین کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو….؟؟؟؟
نازنین.نے بہت ہی.ہلکی آواز میں کہا…
تھوڑی تھوڑی…..
نازنیںن کا ایسا بولنا تھا کہ شاہ نے اسکے گال پہ کس کی اور مسکراکے کہا…
اور اعتبار کتنا کرتی ہو مجھ پہ ؟؟
اعتبار ہی ہے تم پہ شاہ کے تم.یو اسطرح میرے ساتھ میرے کمرے میں میرے شوہر کہ.حیثیت سے ہو…جس دن یہ.اعتبار توٹا شاہ اس دن نازنیںن بھی توٹھ جائے گی…
..
نازنین کے جواب پہ شاہ نے کرب سے اپنی.آنکھیں بند کی…
اس سے پہلے شاہ.کچھ اور بولتا اس کے موبائل پہ.نیلم.کی.کال اگئ جو اسے گھر انے کا بول رپی تھی…شاہ نے نازنین کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے.اور چلا گیا..شاہ.کے جاتے ہی نازنین کے لبوں کو مسکان نے چھو لیا….اور وہ سونے کے.لیہ.لیٹ گئ…
¤¤¤¤¤¤¤¤
حنا نے رائیڈ ایئرپورٹ جانے کے لیہ نہی بلکہ.حسن سے ملنے کے لیہ.منگؤائ تھی جو کراچی کے پورٹ گارڈ پہ اسکا ویٹ کررہا تھا… حسن اسے لے کہ اپنے فلیٹ پہ اگیا جو فلحال اس نے حنا کو رکھنے کے لیہ لیا تھا شاہ.کی نظر میں تو وہ لندن چلی.گئ تھی اور اپنے ماں باپ کی نظر میں وہ پاکستان میں شاہ.کے ساتھ خوشخرم.رہ رہی ہے..شاہ سے نکاح کرنے کا حنا نے اپنے ماں باپ کو یہ ہی بہانہ بتایا…کہ شاہ کی امی.کی.خواہش تھی کہ.تم.حنا سے نکاح کرکے اس کو یہہی لے او..وہ.اپنے ماں باپ.کی نظر میں شاہ کیساتھ پاکستان ائ تھی مگر دراصل وہ حسن کیساتھ ہی پاکستان پہنچی تھی کیونکہ.حسن کا بھی لندن کا ویزا ختم ہوچکا تھا اور حنا نے اسے اکیلے جانے نہی دی رہی تھی اور خود اسکے ساتھ چلی.ائ.مگر جب حنا کو پتہ چلا کہ شاہ نکاح کرچکا ہے اور اس لڑکی سے محبت بھی کرتا ہے تو حسن کے پلین کے مطآبق وہ شاہ کو بلیک میل کرکے اسے یہاں رہنا کا خرچہ اٹھوانا چاہتا تھا کیونکہ حسن کے مالی حالت اس قابل نہی تھے کہ وہ یہ فلٹ کا کرایہ افورڈ کر سکے …اور بلیک میل کرنے کا ذریعہ کوئ اور نہی بلکہ حنا کے پیٹ میں پلنے والا شاہ کا بچہ نہی بلکے حنا اور حسن کی ناجائزہ اولاد تھی.. جو حنا نے شاہ کے سامنے اسکے بچے کے طور پہ پیش کیا تھا جو حسن اور حنا کی سو کالڈ جسمانی محبت کی نشانی…..
حسن ابھی تک شاہ کے سامنے نہی آیا تھا نہ اسے یہ پتہ تھا کہ حسن سے حنا کا افئیر ہے.. حنا کے والدین بہت جلد حنا کی جائیداد اسکے نام کرنے والے تھے اس لیہ حنا کو شاہ کیساتھ یہ نکاح کا کھیل کچھ ہفتہ اور جاری رکھنا تھا…کیونکہ اگر یہ بچہ کا کھیل حسن حنا سے کھیلنے کا نہی بولتا تو یقینن شاہ اسے پاکستان اتے ہی طلاق دے دیتا.. مگر شاہ نے حسن سے ایسی چیز انجانے میں چھینی تھی جسکو حاصل کرنے کے لیہ اس نے حنا کو مہرہ بنایا.. پہلے بھی حنا حسن کا ایک بچہ ابوٹ کروا چکی تھی مگر یہ بچہ شاید الللہ کو دنیا میں لانا تھا اس ایک بچہ کے زریعہ کسی کا اعتبار توٹنا تھا تو کوئ شاید منہ کے بل گرتا اور کس کیساتھ یہ سب ہوتا . یہ تو الللہ ہی بہتر جانتا تھا…
¤¤¤¤¤¤¤
حامد راجدہ(امی).کی میڈیسن لینے نکلا تھا ..ابھی وہ میڈیسن لے کے نکل ہی رہا تھا کہ وہی ہیجارو اکے روکی جس میں اسکی پہلی نظر کی محبت موجود تھی بلیک شیشوں کے پیچھے کا راز حامد کبھی جان نہی پایا.کیونکہ حامد کو ہمیشہ لگتا تھا کہ اس گاڑی میں اس کی محبت کے علاوہ اور کوئ بھی ہے….گاڑی روکتے ہی وہی ظالم حسینا اپنا ادھا چہرہ ڈھانپے گاڑی میں سے نکلی اور ادھر ادھر نظر دوڑا کے حامد کے پاس سے گزرتی ہوئ.. میڈیسن کی شاپ پہ پہنچی اپنی مطلوبہ چیز خریدنے کے. بعد وہ جیسے ہی حامد کے پاس سے گزرنے لگی… حامد نے اسے روکا….
“بات سنے پلیز “
چادر میں چھپے نفوس کے قدم حامد کی اواز پہ روکے اور اسنے پلٹ کے حامد کو سوالیاں نظروں سے دیکھا…
اس سے پہلے حامد کچھ پوچھتا گاڑی کا تیز ہارن سنتے ہی چادر میں چھپے نفوس نے گاڑی کی طرف ڈور لگا دی.
اس نفوس کے گاڑی میں بیٹھتے ہی گاڑی زن سے اگے بڑھ گئ جبکہ دکان پہ کھڑا حامد ایک بار پھر شکست زدہ حالت میں اپنے گھر کی طرف چل پڑا..
گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے اپنا چہرہ چادر سے ہٹایا تو اس کے برابر میں بیٹھے نفوس نے مسکرا کے کہا..
“لگتا ہے اس بار محبت نےتمہیں چن لیا ہر بار یہ یہاں تمہارے لیہ آتا ہے….. “
چادر والی نفوس پہلے تو مسکرائ اور پھر کہا..
پتہ ہے مجھے یہ بات مگر جس گلی جانا ہی نہی وہاں کا نظارا ہی کیوں کرنا…
دوسرے بیٹھے نفوس نے کہا…
تم چاہوں تو ہمیں چھوڑ کے اس قید سے ازادی حاصل کرسکتی. ہو….؟؟
چادر والی حسینہ نے جب یہ بات سنی تواسکا قہقہ پوری گاڑی میں گونجا اور اس نے صرف اتنا ہی کہا..
رب جدا کرسکتا ہے اپ سے بس اور کوئ نہی…
دوسرے نفوس نے ایک لمبی سانس لی اور کھڑکی.طرف منہ کرلیا¤¤¤¤¤¤¤¤¤
صبح ماہ.کی آنکھ کھلی تو صبح کے 8 بج رہے تھے یعنی یونی جانے میں ایک گھنٹہ تھا مگر اچانک ماہ کو یاد آیا کہ وہ تو کل شاہمیر سے ملنے گئ تو اور پھر جوس پیتے ہی بیہوش ہوگئ تھی تو پھر میں یہاں کیسے اس نے اپنے سر کو دباتے ہوئے سوچا کہ تبھی دروازہ پہ ستک ہوئ…
اس نے اٹھ کے گیٹ کھولا تو جہانگیر شامنے کھڑا تھا…
جہانگیر کو دیکھتے ہی.ماہ نے جلدی سے اپنا دوپٹہ درست کیا.. اور کہا پاپا اپ آییے اندر آیے.
جہانگیر نے اس سے کہا.بیٹا اب کیسی طبیعت ہے اپکی..؟؟
ارے پاپا باہر کیوں کھڑے ہیں اندر آئے نہ…
ارے نہی پیٹا جاگنگ کرکے آیا توسوچا اپنی بیٹی کی طبیعت پوچھ لو.. زلیخا نے بتایا کہ کل شاہ اور نازنین اپکو گھر چھوڑ کے گئے.تھے ..کل اپ نازنین کیساتھ مارکیٹ میں ہی بییوش ہوگئ تھی وہ تو بھلا ہو شان کاجو وقت پہ پہنچ گیا…اپ جلدی سے ریڈی ہوکے نیچے آجاؤ اج میں اپنی بیٹی کو یونی چھوڑونگا….
جہانگیر نے مسکرا کے ماہ کے گال پہ.ہاتھ رکھا اور دروازے سے ہی.لوٹ گیا جبکہ ماہ کے پیروں سے تو زمین یہ سن کے ہی نکل گئ کہ شان اور نازنین اسکے بیہوش وجود کو گھر لائے اور ماما کو کیا بولا.. ماہ جتنا سوچ رہی تھی اتنا ہی اسکا سر درد کررہا تھا…ماہ نے سوچا یونی جا کے ساری تفصیل ان دونوں سے پوچھے گی… اور فریش ہونے چلی گئ…..
ماہ تیار ہوکے نیچے ٹیبل پہ آئ تو سب ہی نے اسکی خیریت پوچھی جبکہ اماں جان نے تو اسکا صدقہ تک دیا مگر ماہ کی نظر اپنی ماہ.پہ تھی جس نے نہ تواسکی.خیر خیریت پوچھی نہ تو اسکے اگے ناشتہ لگایا اور نہ ہی اسکی طرف دیکھا جہانگیر ناشتہ کرچکا تو ماہ سے کہا…
بیٹا اپ ناشتہ کرچکی ہوتو فٹافٹ اجاو. میں کار میں ویٹ کررہا ہو….
جہانگیر کے جاتے ہی 5 منٹ میں ماہ بھی جانے کے لیہ کھڑی ہوگئ.. جیسی ہی وہ روز کیطرح یونی جانے سے پہلے زلیخا کے گلے لگ کے خدا حافظ بولنے کے لیہ اگے بڑھی زلیخا نے اسے فورا اپنے ہاتھ سے روکا اور اپنے ہاتھ میں پکڑا ماہ کا موبائل اسکے اگے کیا.اور کہا..
یہ لو اپنا موبائل کل یہی بھول گئ تھی تم.مارکیٹ جانے سے پہلے…
زلیخا کی.حرکت اور ماہ سے بات کرتے ہوئے طنز کسی اور نے محسوس کیا ہو یہ نہ.کیا ہو..نازو محسوس کر چکی تھی وہ صبح سے ہی. زلیخا کے چہرے پہ ویرانیت دیکھ رہی مگر وجہ جاننے سے قاصر تھی….
ماہ نے کانپتے ہاتھوں سے زلیخا سے موبائل لیا اور یونی.کے لیہ نکل.گئ…
¤¤¤¤¤¤
سب کے جاتے ہی زلیخا اپنے کمرے میں گئ کی پیچھے نازو بھی اسکے کمرے کا دروازہ ناکک کرکے اسکے کمرے میں داخل ہوئ اور زلیخا کے سامنے جو کھڑکی پاس کھڑی ہوکے کسی گہری سوچ میں گم تھی. جاکے اپنے دونوں اپنے سینے پہ باندھ کے کھڑی ہوگئ.اور کہا…
اب اپ بتانا پسند کرینگی کہ.ایسی کونسی بات ہے جو اکیلے اکیلے ہی.ہضم کررہی ہیں ایسی.کونسی بات ہے جس نے ہمارے رشتہ.میں دوری قائم کردی جو اپ مجھ سےشیئر نہی.کرسکتی……..؟؟؟؟؟
نازو کا ایسا بولنا تھا کہ زلیخا دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپا کے رو پڑی.. زلیخا کے ایسے رونے پہ نازو ایک دم گھبراگئ اور زلیخا کو بیڈ پہ.بیٹھا کہ اسے پانئ پلانے لگی.. اور ساتھ میں بولنے لگی…
بھابھی خدا کے واسطے بتائے کی بات ہے ؟؟
پلیز مجھے بہت گھبراہٹ ہو رہی.ہے…
زلیخا نے پانی کا گلاس اپنے.لبوں سے ہٹا کے نیچے رکھا اور کہا…
نازو میں بلکل بھی اچھی ماں نہی میں نے بلکل بھی اپنی.اولاد کی صحیح تربیت نہی کی.صحیح بولتی ہیں اماں جان میں نے جہانگیر کو پھسایا تھا تو میری.بیٹی بھی کسیی کے ساتھ افئیر چلائے گی….
ارے بھابھی کس نے کہا اپ سے کہ اپ اچھی ماں نہی ہوا کیا ہے بھا بھی سچ سچ بتائے اپکو جہانگیر بھائ کی قسم….
اور پھر زلیخا نے کل.ماہ.کے جھوٹ سے لے فون کال کی.ایک.ایک بات نازو کو بتا دی…
زلیخا کی بات سن کے نازو بھی اپنا سر تھام کے بیٹھ گئ اور کہا…
بھابھی اپکو پک یقین ہے کل.ماہ نازنین کیساتھ نہی تھی..؟؟؟
ہاں.نازو مجھے پکا یقین ہے اور کل کا سچ جاننے کے لیہ میں اج نازنین اور شان دونوں سے ملوگی….
ٹھیک ہے بھابھی میں بھی اپکے ساتھ چلونگی.. یہ بول کے نازو نے زلیخا کے انسو پونچے اور اسکے گلے لگ گئ..

“کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو چہرے سے ہی دل.کا حال سمجھ جاتے ہیں نازو اور زلیخا کا رشتہ بھی ایسا تھا…
ان دونوں.کا ایک دوسرے پہ اعتبار ہی ان دونوں کے رشتے کی.مظبوطی تھی”
¤¤¤¤¤¤
ماہ.یونی پہنچی تو اسے نہ شان دیکھا نہ نازنین اور نہ ہی ناصر اس نے ان تینوں سے ٹیکس کرکے پوچھا تو کوئ ریپلائے نہی آیا…
ماہ.اپنی کلاس میں پہنچی تو وہ دونوں اسے وہی بیٹھے دیکھ گئے جبکہ ماہ کے ٹیکس کرنے پہ ناصر کا اسکو ریپلائے اگیا تھا کہ وہ اج یونی نہی آیا…
ماہ کے کلاس میں اینٹر ہوتے ہی شان نے تو اسکی طرف مسکرا کے دیکھا جبکہ نازنین نے اسکی طرف دیکھنا بھی گوارا نہی کیا..ماہ نازنین کے برابر جا کے بیٹھی. اس سے پہلے ماہ اس سے کچھ پوچھتی کلاس میں سر کے انے سے ماہ کو چپ ہونا پڑا..لیکچر ختم.ہوتے ہی نازنین نے جلدی جلدی اپنا سامان سمیٹا اور کلاس سے باہر نکل گئ ماہ اس کو اواز دیتی رہ گئ مگر نازنین نے اسے نہ مڑ کے دیکھا اور نہ.ہی.رکی ..شان بھی خاموشی سے ان دونوں کے پیچھے چل پڑا..
لان میں پہنچ کے نازنین گھاس پہ بیٹھی تو ماہ بھی ہانپتی کانپتی اسکے برابر میں اکے بیٹھ گئ شان بھی انہی کے پاس اکے بیٹھ گیا.
کہ جبھی ماہ نے بولنا اسٹارٹ کیا..
یار ائ ایم سو سوری میں کل تجھے بنا بتائے شاہمیر سے ملنے چلی گئ..
بنا بتائے نہی ماہ بی بی اپنا جملہ درست کرو اپنی ماں سے جھوٹ بول کے ایک غیر لڑکے سے ملنے گئ تھی.. تمہیں پتہ ہے کل جب آنٹی کا مجھے فون آیا اور انہوں نے کہا کہ تم دونوں مارکیٹ سے واپسی میں پرائیوٹ گاڑی سے اجانا… .یہ سنتے ہی میرے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئ…
وہ تو میرا دماغ چلا اور میں سمجھ گئ کہ تم وہاں ہو..
اور اس موٹی کے دماغ کو یہ سوچ میری کال.نے دی….
شاہمیر کی اواز پہ ایک دم وہ تہ تینوں پلٹے جبکہ نازنین تو شاہمیر کے اس کھلم کھلا جھوٹ پہ انکھیں پھاڑے اسے ہی دہکھ رہی تھی جبکہ شان کو ان سب سے اب کوئ فرق نہی پڑ رہا..تھا…..شاہمیر کی بات پہ ماہ.نے کہا…
مطلب شاہمیر میں کچھ سمجھی نہی…؟؟
ارے جان شاہمیر بہت بھولی ہو تم کل جو میں نے تمہیں جوس کا گلاس دیا تھا اصل میں وہ میرا گلاس تھا جسمیں وائن ملی تھی جوس کے ختم کرتے ہی جب تم.بیہوش ہوئ تو میں بہت ڈر گیا کہ تم.اچانک بیہوش کیسے ہوئ. مگر جب تمہارے گلاس میں تھوڑے سے بچے جوس کو پیا تو میں سمجھا تمہارے بیہوش ہونے کی وجہ. کہ میں نے تم.کو غلط گلاس دے دیا..میں پھر اس موٹی کو کال.کی اور اس سے کہا کہ تمہیں لے جاِئے یہ شان کیساتھ تمہیں لینے آی….
شاہمیر کی بات جیسی ہی ختم.ہوئ کہ نازنین نے حیران نظروں سے شاہمیر کو دیکھا اس سے پہلے نازنین.کچھ بولتی شان بول پڑا..
ہاں شاہمیر کی.کال.کے بعد ہی نازنیی نے.میرے ساتھ تمہیں لینے پہنچی اور جب ہم تمہیں بیہوشی کی حالت میں گھر لے کے پہنچے تو سب کو تمہارے بیہوشی کی یہ وجہ بتائ کہ تمہارے پرس چھینے کی وجہ سے تم بیہوش ہوگی…
شان کی بات پہ نازنین کا پارہ ایک دم ہائ ہوا اس سے اور وہ غصہ میں شان کو گھورنے لگی نازنین کچھ بولتی.کی نازنیںن کی توجہ اس کے موبائل پہ.میسج تون نے اپنی طرف کی
.
نازنین نے جب میسج اوپن کیا تو شان کا تھا…اس نے پہلے شام کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہ تھا اور پھر میسج پڑا..
نازنین ابھی چپ رہو پلیز. اور ہاں زلیخا ممانی ہم دونوں کا میرے گھر ویٹ کررہی ہے تم پارکنگ ایریا میں پہنچو میں وہی ویٹ کررہا ہو….
میسج پڑ ھ کے نازنین نے ایک لمبی سانس لی.اور کہا..
شان شاہ کو ٹیکس ہے ..نیلم آنٹی.نے مجھے گھر بولایا ہے کیا تم.چھؤر دوگے…
ہاں ہاں.نازنین تم آجاو میں پارکنگ سے اپنی.گاڑی نکلتا.ہو..شان بولتے ہی.پارکنگ کی طرف ک رخ کیا..
ماہ.ان دونوں کو حیران نظروں سے دیکھ رہی تھی جبکہ شاہمیر کے لبوں پہ ایک شیطانی. مسکراہٹ تھی..
نازنین نے ماہ سے. کہا..
ماہ میں بعد میں ملتی ہو اوکے یہ بول کہ نازنین بھی شان کے پیچھے چل دی جبکہ شاہمیر نے ماہ سے کہا…
آو ہم.کینٹین چلتے ہیں…
ہاں چلو…
ماہ.پریشان حال میں شاہمیر کیساتھ چل پڑی…
جاری ہے…
لو بھی لونگگگگگگگگگگ ایپیسوڈ پیارے میمبر
پ