Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 43 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 43 Part 1
اس سے پہلے شاہمیر کچھ بولتا لان کی تمام لائٹ ایک دم بند ہوگئ اور مووی میکر نے جو بڑی اسکرین سیٹ کی تھی تاکہ مہمانوں اون اسکرین دیکھا جا سکے….
اس پہ ماہ اور شان کی پکس چلنے لگی ان میں کافی پکس ماہ اور شان کی ڈانس ہریکٹس کی تھی جن میں وہ کافی کلوز تھے جنہیں کوئ اور رنگ دے کے سب کے سامنے پیش کیا گیا…..
ایک پکس ان سب میں وہ تھی جس میں شان ماہ.کو گلے لگائے اس کی بیک کی زپ بند کر رہا تھا….
ان پکس کو بار بار گھما گھما کے چلایا جارہا تھا..جہانگیر نے جب یہ پکس دیکھی تو وہ لڑ کھڑا گیا..برابر میں کھڑا اگر حیدر اسے نہی تھامتا.تو یقینن وہ زمین بوس ہوجاتا…..
زلیخا کی بھی حالت کچھ ایسی ہی تھی جبکہ نازنین تیزی سے ڈریسنگ روم.کے اندر جاکے ماہ کو گھسیٹے ہوئے باہر لائ بار بار چلنے والی پک جب ماہ.اور شان نے دیکھی تو ان دونوں کو لگا کہ انہہیں سارے عام.برہینہ کردی گیا ہو….
نور اور پری کی حالت بھی.کچھ ایسی ہی تھی پری نے مظبوطی سے نور کے کندھا تھاما ہوتھا ا تو شاہ اور ناصر کی زبان بھی گنگ تھی جبکہ جمال کونے میں بیٹھ کے جہانگیر کی عزت کا تماشہ دیکھنے لگا…..
اسکرین بند ہوتے ہی.لائٹ اون ہوئ تو سب کی نظریں ماہ کی طرف اٹھی…..
آفندی صاحب جو کے اج صحیح حالت میں اپنے پوتے کے نکاح میں موجود تھے…
گرج کر کہا….
یہ کیا بے غیرتی ہے جہانگیر. ؟؟؟
آفندی صاحب کی للکار پہ بھی جاہنگیر نے اہنی جھکی.گردن نہ اٹھائ جبکہ زلیخا تو سکتہ حالت میں کھڑی تھی…
کہ جبھی بی جان اٹھی ایک.مغرونہ چال چلتی ہوئ شاہمیر کے برابر میں آکے کھڑی ہوئ اور….
یہ اپکے بھتیجے کی تربیت ہے جب ماں نے ایسی حرکتیں کی تو بیٹی تو کرے گی..نہ ..
توبہ.توبہ کیا زمانہ آگیا…مجمع سے ایک عورت کے الفاظ ماہ.کے کانوں میں گونجے تبھی ایک.اور عورت بولی….
ایسسی لڑکیوں کو تو پیدا ہوتے ہی مار دینا چاہئے. جو نکاح کیسی اور کے ساتھ کرے اور عیاشی کسی اور کے ساتھ…
الفاظ تھے یہ.کچھ اور ماہ کو لگا کسی نے گرم سیسہ پگھلا کے اس کے کانوں میں انڈیل دیا ہو.. بی جان پھر ماہ کے پاس آئ اور کہا
کیا سمجھا تونے لڑکی کے اپنی ماں کی طرح جیسے اس نے میری بیٹی کا حق چھینا اسی طرح تو بھی یہ اپنی گندگی کا ڈھیر لے کے میرے پوتے کی زندگی میں شامل ہوگئ جس کے پتہ نہی اور کتنے یار ہونگے…
بس کردے آنٹی زبان سنبھال کے بات کرے میری بہن ایسی نہی ازلان کی آواز پورے لان.میں گونجی تو شاہ اور ناصر نے بھی کہا
ہمیں بھروسہ ہے اپنے دونوں دوستوں پہ.یہ پکس جو یہاں ںشو کی گئ یہ انکے ڈانس کی تھی جن میں کچھ ردبدل کرکے یہاں پیش کیا گیا….
اچھا تو ڈانس کرتے ہوئے کپڑے اتارے جاتے ہیں؟؟
بی جان کی بھی گرجدار آواز لان مین گونجی…
کی جبھی نازنین جو کب سے خاموش کھڑی تھی بول.پڑی….
بس کردے آنٹی اپ کو شرم آنی چاہیے یہ جو پکس جسکو کوئ اور رنگ دے کے اپ سب کے سامنے لائ ہیں اپ بھی جانتی ہیں اور میں بھی کے اپ کے پوتے کے ہی کرتوت ہیں جسکی تربیت کی گواہی یونی.کی.ہر لڑکی آکے دے گی مگر کیاں.ہے.نہ.میری دوست آندھی تھی اپکے پوتے کے پیار میں جب ہی اپکے گھٹیا پوتے پہ اعتبار کر بیٹھی…
زبان کو لگام دو لڑکی. ہہ بول کے جیسی ہی بی جان نے نازنین کو تھپڑ مارنے کے لیہ ہاتھ اٹھایا شاہ نے وہی بی جان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا….
یہ غلطی مت کریےگا آنٹی یہ بیوی ہے میری اپنے غصہ کنٹرول مین رکھے کیونکہ میں افریدی مینشن کا فرد نہی جو اپکا لحاظ کرونگا….
شاہ کو ایسا بولنا تھا کہ نازنین کی.خوشی سے آنکھیں جھلک پڑی تو حامد کو بھی اپنے فیصلہ پہ فخر ہوا جو اس نے نازنین سے شاہ کا نکاح کرکے کیا….
ان سب میں موجود دو لوگ جو تماشہ بنے ہوئے تھے..شان جو گردن جھکا کےزمین کو گھور رہا تو ماہ بھی سکتے کی حالت میں شاہمیر کو گھور رہی تھی جس نے بھرے مجمع میں ماہ.کی طرف اتھنے والی آوازیں.. نہ روکی..
ماہ نے نازنین کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے ہٹایا ااور اسٹیج پہ چڑھ کے شاہمیر کے سامنے جاکے کھڑی ہوگی…
روئ روئ آنکھیں مٹا مٹا سا میک اپ.
اس نے شاہمیر کا ہاتھ تھاما اور کہا…
شاہمیر تم.مزاق کررہے ہو نہ ناراض ہو نہ مجھ سے اچھا چلو میں کان پکڑتی.ہو ماہ.کی حالت دیکھ کےافریدی مینشن کے لوگوں کی انکھیں بھیگ گئ مگر شاہمیر بس اس کے چہرے کوتکے جا رہا تھا…ماہ نے پھر روتے روتے شاہمیر سے کہا. شاہمیر میں ایسی نہی ہو تم جانتے ہونا. میں نے بس تم سے محبت کی ہے ہے نہ شاہمیر…ماہ نے ایک.امید سے شاہمیر کو دیکھتے ہوئے پوچھا..
“او میرے صنم
تجھے ہے قسم
نہ توڑ میرا
تو آج بھڑم”
شاہمیر نےایک جھٹکے سے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ سے ہٹایا اور کہا…
تم ایک بدکردار لڑکی ہو اچھا ہوا میری آنکھیں کھل گئ ورنہ ساری زندگی اس بدنامی.کو جھیلنا پڑتا…جو لڑکی اپنے.ماں باپ کو دھوکہ دے کے مجھ سے اکیلے میرے فلیٹ پہ.ملنے آسکتی ہے وہ.کسی اور کیساتھ بھی تعلق رکھ سکتی ہے. ارے جو اپنے ماں باپ کی نہی.ہوئ وہ.میری.کیا ہوگی.. تم.جیسی لڑکی سے نکاح کرکے میں اپنی زندگی خراب نہی.کر سکتا…. ..
یہ بول کے شاہمیر نے ماہ کو دھکا دیا اس سے پہلے وہ گرتی شان نے اسے تھام لیا ماہ نے جب اپنے تھامنے والے کو دیکھا تو فورا پاگلوں کیطرح شان کا کالر پکڑ کر کہنے لگی….
شان اس سے بولو نہ ہمارے درمیان کچھ نہی بولو اسے میں اس سے بہت محبت.کرتی ہو پلیز شان تم.جانتے ہو نہ یہ پکس جھوٹ ہیے بولو شانن.ایک دم ماہ کی چیخ پورے لان مین گونجی….
شان نے خاموشی سے ماہ.کا ہاتھ تھاما اور اسے شاہمیر کے سامنے لے جاکے کھڑا کیا ماہ.کا ہاتھ چھوڑ کے اس نے کہا..
شاہمیر نہی کرو ایسا تم جانتے ہو ہم دونوں بے قصور ہیں پلیز تمہیں خدا کا واسطہ تمہاری دشمنی مجھ سے نہ جو چاہے مجھے سزا دینا مگر ماہ کیساتھ ایسا نہی.کرو…..
ایک دم بی جان شاہمیر کے برابر میں اکے کھڑی ہوئ اور کہا…
اے لڑکے تو بھی اپنے باپ کیطرح نکلا اس نے بھی کسی کی ہونے والی بیوی پہ.ہاتھ ڈالا تھا تو نے بھی اج کیا.اب یہ ڈرامے بازی بند کر……بی جان کی بات سن کے
حیدر نے کرب سے آنکھیں بند کی تو نور کی نظر پری پہ.پری جو اسے ہی دیکھ رہی تھی
..
شان نے بی جان کو اگنور کیا اور شاہمیر سے کہا پلیز شاہمیر تم ماہ.کو اچھی طرح جانتے ہو یہ سب کسی.کی چال ہے پلیز…
شاہمیر نے شان سے کہا….
تو سارے مزے تو اس سے لے چکا تو ہی سنبھال اس گندگی کے ڈھیر کو تجھے خوش کرنے کیساتھ ساتھ نجانے کتنو…
ابھی شاہمیر کے الفاظ اس کے منہ پہ ہی تھے شان کا ایک زور دار مکا اسکے منہ پہ پڑا اور اس نے شاہمیر کا کالر پکڑ کا جھٹکا دیا اور کہا…
زبان سنبھال اپنی محبت ہے میری اگر اسے تیرے حولے کیا تھا تو اسکی خوشی کے لیہ مگر اب بہت ہو گیا تماشہ اب دیکھتا ہو اس محفل میں کون ایسا موجود ہے جو اسکو میری ہونے سے روکتا ہے….
شان کے الفاظ سن کے جہان جہانگیر نے اپنی گردن اٹھا کے شان.کو دیکھا وہی نور اور حیدر شان کو دیکھ کے فخر سے کھڑے ہوئے….
ناصر اور شاہ.کے لبوں پہ بھی مسکراہٹ اگئ جبکہ ازلان اور عدنان بھی مسکرا اٹھے ردا تو زلیخا سے چپکے کھڑی رو رہی ..
زمیںن پہ سسکتی ماہ کا ہاتھ شان نے تھاما اور ایک نظر جہانگیر اور زلیخا پہ ڈالی دونوں کی چہرے پہ مسکراہٹ دیکھ کے شان نے بھی مسکرا کے انہیں دیکھا تو شان نے قاضی صاحب سے کہا نکاح شروع کرے…
شاہ اور ناصر نے شاہمیر کو پکڑ کے اسٹیج سے نیچے اتارا تو رادا فائزہ پری اور نازنین بھی اسٹیج پہ چڑھ گئ. شاہ اور ناصر بھی شان کے پیچھے کھڑر ہوگئے…
نکاح خواہ بھی وہی سب کچھ وہی مگر دولہا چینج قدرت کے اس فیصلے پہ سب کی ہی آنکھیں خوشی سے چھلک پڑی….
کب نکاح ہو کب ماہ کچھ دیر پہلےماہ شاہمیر بنے والی تھی اب ماہ شان بن کے بیٹھی تھی ایک طوفان تھا جو چند گھنٹوں میں ماہ کی زندگی میں اکے گزر تھا…
نکاح ہوتے ہی شان نے ماہ ہاتھ پکڑ کے کھڑا ہوا اور ڈھار کے کہا…
اب اگر کسی نے میری بیوی کے کردار پہ انگلی اٹھائ تو یہی ابھی اسی وقت اسے زندہ گاڑ دونگا. ….
شان کی آواز تھی یہ جہانگیر کا ماضی جہانگیر کو اس وقت شان میں اپنے ماضی کی جھلک دیکھی….
شان کا ہاتھ چھڑوا کے ماہ تیزی سے اندر بھاگ گئ نازنین جیسی ہی اسکے پیچھے جانے لگی شاہ نے اسے روک دیا اور کہا ابھی اسے رونے دو یہی اسکے لیہ بہتر ہے. ..شان اسٹیج سے اتر کے سب سے پہلے جہانگیر کے گلے ملا اس سے گلے ملتے ہی جہانگیر کے کب سے روکے آنسو بہہ نکلے..
شان نے جہانگیر کے انسو صاف کیہ اور کہا..بس بڈی میں ہونا اب نہہی
حیدر نے اگے بڑھ کے اپنے شیر کو گلے لگایا تو دلاور نے بھی شان کو اپنے سینے میں بھینچ لیا..سب ہی خوش تھی کہ جبھی بی جان جنکا مقصد یہ پکس بھری محفل میں غلط طریقے سے دیکھا کہ جہانگیر کی عزت نیلام کرکے اسکو اپنے پیروں میں جھکانا تھا تاکہ وہ ماہ.کے لیہ ان.کے اگے گرگرائے…
بی جان نے جب دیکھا کہ انکی بازی انہی پہ الٹی پڑھ گئ
انہوں نے اماں جان سے کہا..
دیکھا تم نے امنہ اپنی پوتی کے کرتوت پہلے تو اسکی ماں نے میری بیٹی کی زندگی برباد اب اسکی بیٹی نے سرےعام میرے پوتے کی عزت اسکی محبت نیلام کردی..
ٹھیک کہہ رہی ہیں اپ امی کب سے خاموش کھڑی صبا جو کب سے خوش ہوکے تماشہ دیکھنے میں مگن تھی بازی الٹی ہونے پہ اپنی ماں کے ساتھ اکے کھڑی ہوگئ…
اماں جان سکتے کی حالت میں یہ سب سن رہی کہ تبھی بی جان نے کہا…
چلو شاہمیر اپ ان بے غیرتوں میں ہمارا کیا.کام…
بس بی جان کی بات سن کے نور کی برداشت ختم ہوگئ اور وہ ڈھاری…
ابھی کہاں خالہ جان ایک تماشہ اپنے لگایا تھا اب ایک تماشہ اپکی بھانجی یعنی میں لگاونگی….
اپ بھول گئ خالہ
“جسکی عزت الللہ رکھنا چاہے اگر اسکی عزت اپ سرے بازار بھی نیلام.کرو تو بھی اسکی عزت پہ ایک حرف نہی آتا….
کیا کہا اپ نے خالہ کے اپکی بیٹی کی زندگی زلیخا بھابھی کی وجہ سے خراب ہوئ اسکی موت کی وجہ زلیخا بھابھی ہیں..
تو کیوں نہ یہ بات خود شاہین ہی یہاں اکے بتائے کہ اسے کس نے برباد کیا اسکی جھوٹی موت کا تماشہ کس نے لگایا….
جاری ہے..
