Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
[ ] شاہین کے ساتھ ایک اور زندگی جر گی تھی .جس کا گواہ اللہ اور لاڈو تھی..
[ ] لاڈو نے شاہین کو سختی سے منع کردیا تھا کہ جتنا ہو سکے وہ بی جان کے سامنے جانے سے گریز کرے..لاڈو ہر طرح سے شاہین کا دیھان رکھتی.شاہین بھی پوری کوشش کرتی کہ بہ جان کہ سامنے نہ جاۂےاور کبھی بی جان سے سامنا ہو بھی جاتا تو رخ موڑ جاتی….
[ ] جیسے جیسے جہانگیر کے انے کاوقت قریب ارہا تھا شاہین کی بے چینی بڑھتی جارہی وہ اپنے رب کے اگے رو روکے کسی معجزہ کا کہتی کہ بس کسی طرح سے یہ شادی رک جاے اور اسکے بچہ اس دنیا میں ساتھ خییریت سے اجاۂے اور ایک دعا تو اسکی کچھ دنوں بعد پوری ہوگی تھی..کیونکہ جہانگیر شادی سے کچھ دن پہلے زلیخا سے شادی کرکہ اگیا تھا..اور شاہین یہ سنتے ہی سجدہ میں گر گی تھی مگر ابھی ایک امتحان اسکا باقی تھا..کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسکا اپنے ہونے والے بچہ کو چھپانا اور مشکل لگ رہا تھا…………
[ ] ایسی ہی ایک رات جب بی جان. اور باقی گھر والے سواۂے تنویر صاحب کو ہٹا کے جو اپنی فیملی کے ساتھ دوسرے ملک شفٹ ہوگے تھے..اماں جان کے گھر جہانگیر سے پوچھ گچھ کرنے گۂے تھے کیوں انہوں نے ایسا کیا…
[ ] لاڈو شاہین کے کمرے میں ای کھانا لے کہ تو شاہین کو پریشان دیکھا..تو پوچھ بیٹھی کہ شاہین بی بی کیا ہوا اپ پریشان ہیں…
[ ] ہاں لاڈو اب میں کیسے ایسے چھپاو گی کچھ دنوں بعد تو یہ واضح ہونے لگے گا.اسکا اشارہ اپنے پیٹ کی طرف تھا..وہ دونوں باتوں میں اتنا مگن تھی کہ گیٹ پہ کھڑی بی جان کو نہ دیکھ سکی..مگر جیسے ہی شاہین کی نظر بی جان پہ گی اسکو اپنی دنیا ہلتی ہوئ محسوس ہوئ اور لاڈو جسنے شاہین کے تعاقب میں دیکھ تو اسکا حال بھی شاہین جیس تھا بی جان اندر ائ اور کمرے کا دروازہ بند کیا اس سے پہلے شاہین انہی کچھ کہتی انہوں پوری طاقت سے لاڈو کے منہ پہ تھپڑ مارا.. لاڈو اس افت کے لیہ تیار نہی تھی اسلے زمین پہ گر پڑی شاہین کی طرف جیسےبہی وہ بڑھنے لگی.شاہین اسی وقت انکے قدموں میں بیٹھ گی اور انکے پاؤں پکڑ کر کہنے لگی..
[ ] امی.اپکو خدا کا واسطہ میری اولاد کو کچھ نہی.کریےگا اپ بھی تو ایک ماں ہے خدا کے.لیہ مجھ پہ رحم.کرے ایک بار خالی.ایک بار میرے علی کی نشانی کو دنیا میں.انے دیں اپ جو کہنگی جیسا کہنگی میں ویس کرونگی روتے روتے شاہین کی ہچکیاں بند گی…
[ ] بی جان نے اسے کندھوں سے تھام کے اٹھایا اور بیڈ پہ ارام سے بیٹھایا.اور کہا شاہین اب ہم اتنے بھی پتھر دل نہیں کہ ایک.ماں سے اسکی اولاد الگ کرے
[ ] .تھیک ہے ہم تمہیں اور تمہاری اولاد کو کچھ نہیں کرینگے اور شاہہن یہ سنتے ہی بی جان کے گلے لگ گی. مگر بی جان نے اسے اہستہ سے الگ کیا اور کہا.
[ ] لیکن ہماری چند باتیں ہیں جو تمہیں ماننی پڑھینگی..
[ ] اور شاہین نے نے جلدی جلدی اپنے انسو صاف کیہ.اور بی جان کو کہا….
[ ] امی.اپ جو کہنگی جیسا کہینگی میں کرونگی
[ ] اور شاہین جیسے جیسے بی جان کی باتیں سنتی گی ویسے ویسے اسے لگا کہ وہ لڑکھڑا کہ گر جاے گی اور بی جان کی.اخری بات پہ وہ سچ میں گر جاتی اگر لاڈو اسے نہیں تھامتی…
[ ] یہ باتیں اگر تمہیں ہماری منظور ہیں شاہین تو کل تک ہمیں سوچ کے جواب دے دو..یہ بول بی جان چلی گی..
[ ] جبکہ شاہین نے بے یقینی سے اس دروازہ کو دیکھا جہاں سے ابھی بی جان گی تھی اور لاڈو بی جان کی.باتیں سن کے شاہین سے یہ پوچھنے پہ.مجبور ہوگی..
[ ] شاہین بی بی کیا ماں ایسی بھی ہوتی ہے..
[ ] اور شاہین نے کہا.
[ ] ہاں لاڈو جن ماؤں کو اپنی جیت اپنی غرور کے اگے کچھ نہیں دیکھتا وہ ماں ایسی ہی ہوتی ہے…
[x]
[x]
[ ] شاہین بی بی اب اپ کیا کرینگی..
[ ] شاہین تھوڑی دیر تک تو کچھ نہین بولی.مگر اس نے سوچ لیا تھا اسے کیا کرنا ہے..
[ ] لاڈو ایک کاغذ اور پین لاؤ..
[ ] لاڈو نے جیسے ہی پین اور کاغز لاکےشاہین کو دیاشاہین نے اس پہ اپنا اور علی.کا تعلق اسکی.موت کا واقعہ بی جان اور اپنے درمیان ہونے والی باتیں او کچھ دن پہلے جب وہ.بی جان کے کمرے کے اگے سے گزر رہی تھی تو بی جان اور جنید کے درمیان ہونے والی باتیں جو اسنے کان لگا کے سنے تھی سب اس کاغز پہ.لکھی.اور لاڈو کو دیا اور کہا.
[ ] لاڈو کسی طرح بھی یہ خط جہانگیر کو کل ہر حال.میں دے او….
[ ] لاڈو نے وہ خط لے کہ اپنے پاس رکھ لیا…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] صبح جب بی جان اپنے کام سے نکلی تو لاڈو نے موقع دیکھ کہ خط لے کہ.افریدی حویلی کی طرف نکل گی ابھی وہ حویلی کے اندر ہی گھسی تھی کہ اسے زلیخا اسے باغیچے میں ہی دیکھ گی.. وہ تیزی سے زلیخا کے پاس ای اور جاہنگیر کا پوچھنے.لگی..
[ ] لاڈو جہانگیر تو بابا کے ساتھ گے ہیں کیا ہوا تم اتنی گھبرائ.ہوی کیوں ہو..
[ ] بی بی جی اپ یہ خط جہانگیر صاحب کو دے دجیے گا. اور بولیے گاکہ شاہین بی بی نے دیا ہےیہ بول.کہ.لاڈو فورا وہاں سے نکل گی…
[ ] زلیخا خط لے کہ کمرے میں ای اور اسنے احتیاط سے خط الماری میں رکھ دیا……..
[ ] صبح شاہین نے اپنا فیصلہ بی جان کو سنا دیا تو انہوں نے خوش ہوکے اسے گلے سے لگا لیا..
[ ] مگر اگلے دن پوری حویلی میں کہرام مچ گیا کہ شاہین بی بی نے خودکشی کرلی اور جل کے مر گی…اور شاہین نے اپنا فیصلہ.اپنے رب پہ.چھوڑ دیا
[ ] بی جان نے پہت وویلہ.کیا شاہین کی موت کا زمہ دار زلیخا اور جہانگیر کو ٹھرایا شاہین کی موت پہ ہر انکھ اشک بار تھی…دونوں حویلیوں میں موت کا سماں تھا..
[ ] شاہین کا اج سوئم تھا دونوں حویلیاں تعزیت کرنے والے لوگوں سے بھری تھی. زلیخا اپنے.کمرے میں ای اور کسی کام سے الماری میں گھسی وہ.کچھ دھونڈ رہی تھی کہ جب لاڈو کا خط اسکے پیروں میں اکے گرا زلیخا نے وہ خط اٹھایا اور پتہ نہی اس کے دل.میں کیا ائ کہ.اسنے وہ خط پڑھنا شروع کردیا..جیسے جیسے وہ خط پڑھتی گی اسکا سانس لینا بھی مشکل ہوتا گیا اور وہ سوچ بھی نہی سکتی کہ کوی اتنا بھی ظالم ہوتا ہے.اچانک نور کی اواز پہ.اسنے خط جلدی سے لپہٹ کہ اند رکھا اور اپنا چہرہ صاف کیا اور دل.میں یہ سوچ کہ وہ باہر نور کہ پاس اگی کہ.یہ راض وہ ساری زندگی کسی کو نہی بتاے گی مگر نور کی حفاظت ضرو کرے گی مگر زلیخا یہ نہی جانتی تھی کہ بہت جلد کوئ اور بھی اس راز کا حصہ دار بنے والا تھا….?¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] شاہین کی موت کے تین مہینے تک تو
[ ] سب تھیک رہا اس دوران دلاور اور نازو کی شادی بھی ہوچکی تھی سب کی زندگی ہی معمول پہ اگی تھی ..کہ ایک بار پھر افندی اور بی جان افریدی.حویلی اے اور دھمکی دی کہ.اگر ان کو رشتہ قاۂم رکھنا ہے تو جنید کی شادی نور سے کرنی.پڑے گی جبکہ افریدی صاحب نے صاف لفظوں میں یہ.کہ.کہ.انککار کردیا کہ جنید کی شادی اپ کرچکی ہین.. اس بات پہ بی جاں اور افندی صاحب نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیہ تعلق توڑ دیا..
[ ] مگر بی جان کی شرت پہ حویلی کہ اندر اتے ہوے حیدر کے قدم ضرو لڑکھڑاے تھے……
[ ] رات کے پہر جب نور اپنی کھڑکھی میں کھڑی شاہین کو یاد کرہی تھی اسے شاہین کے ساتھ اپنے کافی لمحہ یاد اۂے باغوں سے امرود توڑنا.,جھولہ جھولنا,, کھیتوں میں جانا اگر شاہین اس کی بچپن کی ساتھی مگر کچھ سالوں سے وہ بہت الگ تھلگ ہوگی تھی اور شاید نور وجہ جانتی تھی اسکی.الگ تھلگ کی..نور نے ہوا میں ایک لمبی سانس چھوڑی اور کھڑکی بند کرکے جیسی ہی موڑنے لگی کسی خیال کے تحت اس نے کھڑکی دوبارہ کھولی اور اسکا شک یقین میں بدل.گیا.لاہور کا موسم تھوڑا سرد تھا اس لیہ اس نے شال کو اپنے گرد لپیٹا اور باہر کی طرف چل دی..
[ ] باغیچے میں پہنچ کے اس نے حیدر کو دیکھا جو بنا کچھ اوڑھے باغیچے کی کرسی پہ بیٹھا…تھا.
[ ] نور نے اپنا گلا کھنکارا تو حیدر نے چونک کے پیچھے دیکھا تو نور اسی کو دیکھ رہی تھی..نور ارام سے اس کے پاس اکے بیٹھ گی اور اپنے دونوں ہاتھ اپس میں رگرنے لگی..اور حیدر کو کہا..
[ ] اپ کو نہی لگتا کہ اج ٹھنڑ ہے ..نور نہ اس پہ.تنز کیا..اپ اج کھانے.پہ.بھی نہی اے حیدر خاموش رہا اس نے کچھ نہی کہا..نور نے ایک دو باتیں اور کی جسکا حیدر نے کوئ جواب نہی کیا..نور اس سے زیادہ اس کی خاموشی برداشت نہی ہو ی اور وہ جیسی ہی کھڑے ہوکے جانے لگی حیدر نے اسکی کلائ پکڑ کی.نور نے جب پلٹ کے دیکھا تو حیدر کی انکھوں میں انسو تھے نور تڑپ کے اس کے پاس ائ اسکے انسو صاف کیہ حیدر کیا ہوا اپ رو کیوں رہے ہیں کیا ہوا بتاے نہ. نور کا اتنا کہنا تھا.کہ حیدر نے زور سے اسے اپنے سینے سے لگا لیا.اور روتےروتے بولا.
[ ] نور اگر اج بابا ہاں کردیتے تمہاری اور جنید کی شادی کے لیہ تو میں اپنی جان دیتا تم سے محبت نہی ان تین سالوں میں میں عشق کرنے لگا ہوں تم سے دوری میرے لیہ سوحان روح ہے تم خون بن کے دوڑتی ہو میںری رگوں میں …اور روتے روتے حیدر کی ہچکی بن گی ادھر نور بھی اتنی محبت پہ.اپنے انسو روک نہی پائ اور دھیرے سے حیدر سےالگ ہوی لیکن اسکے ہاتھ نہی چھوڑے.اسکے انسو صاف کیہ اور کہا..
[ ] حیدر پہلے. کا نہی پتہ مگر میں بھی اپ سے عشق کرنے لگی ہو ہر روز سجدہ میں اپنے رب سے اپکی سلامتی اور اپکا ساتھ مانگا ہے اور سچی محبت کرنے والوں کا اللہ بھی ساتھ دیتا ہے اپ کیوں پریشان ہیں ہمارا اللہ ہمارے ساتھ ہے.اور جہانگیر بھی حیدر نے کہا حیدر کے کہنے پہ نور چونکی کیا بھائ کو سب پتہ ہے..
[ ] ہاں سب پتہ ہے تم نے کیا سوچا تم اتنی بڑی ہوگی کہ اپنے دل.کا حال اپنے بھای سے چھپا سکتی ہو
[ ] جہانگیر کی اواز پہ دونوں پلٹے…مگر نور تم بھول گی کہ تمہارا بھای تمہارے بن بولے سب سمجھتا ہے تمہاری انکھیں بچپن سے تہمہاری بن بولی بات بھی مجھے بتا دیتی تھی تو تم کیوں بھول گی کہ اس بار تو تمہاری انکھوں میں کسی عکس ہے تو وہ مجھے کیوں نہی دیکھتا..جہانگیر کی بات پہ جہاں نور بے گردن جھکای وہاں حیدر کو بھی تھوڑی شرمندگی ہوئ جو اس ٹائم نور کے ساتھ تھا.جہانگیر کی بات سن کے نور بھاگتے ہوے جہانگیر کے گلے لگ گی اور رونے لگی..نور کوروتا دیکھ کہ جہانگیر نےاسے اپنےاپ سے الگ کیا اور کہا نور تم دونوں کو ملانے زمداری میںری ہے اوکے اب تم اپنے کمرے میں جاو رات بہت ہوگی..نور نے ہاں میں گردن ہلائ اور اند کو چلی گی….
[ ] جہانگیر نے جب یہ محسوس کیا کہ حیدر بہت ڈر گیا نور اور جنید والی بات پہ اور رات کو کھانے پہ بھی نہی ایا تو وہ اسکے کمرے میں گیا لیکن وہ اسے وہاں نہی ملا جب اس نے اسکے کمرے کی کھڑکی سے جھانکا تو وہ اسے باہر بیٹھے دیکھا تو وہی اگیا اور جب وہاں پہنچ کہ اسنے حیدر کو نور کے اگے روتے دیکھا تو اسنے پکا ارادہ کرلیا.بابا سے بات کرنے کا…
[ ] وہ اہستہ سے چلتا ہوا حیدر کے قریب ایا اور حیدر جو گردن جھکا کہ کھڑا تھ جہانگیر کی بات پہ نہ صرف ہنسا بلکے جہانگیر کے گلے بھی.لگ گیا…
[ ] سالے کچھ تو جگہ کا خیال کرلے کیا رومنٹک مووی دیکھنا شروع کردی کچھ تو شرم.کرلے میں نے بابا سے کہا ہے کہ اپکا ہونے والا داماد بہت شرمیلہ ہے..
[ ] اور حیدر کی.ہنسی چھوٹ گی…
[ ] اچھا حیدر میری بات سن دیھان سے میں کل اسٹریلیا جا رہا ہو وہاں کا اپنا سارا کم.وائنڈ اپ کرکے کراچی شفٹ ہوجاونگا.شاہین کی موت کے بعد مجھے بی جان اور جنید کا کوئ بھروسہ نہی وہ لوگ کچھ بھی کر سکتے ہیں..مگر حیدر جب تک میں وہاں سے واپس نہی اجاتا تم یہاں سے کہی نہی جانا کسی ایک کا یہاں ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ.عالم.بھای.کا تو تمہیں پتہ صبا بھابھی نے انہیں ہم سے الگ کردیا…
[ ] تھیک ہے جہانگیر تو فکر نہی کر میں یہاں ہو تیری فالئٹ کب کی ہے. ؟؟؟
[ ] بس دو گھنٹہ بعد کی..
[ ] کیا؟.حیدر چیخا اور تو مجھے اب بتا رہا ہے..
[ ] چیخ مت تو یہاں سب ک دیھان رکھنا میں ایک ہفتہ کے اندر اندر انے کی.کوشش کرنگا….
[ ] اچھا چل میں تجھے میں گاوں کے باہر تک تو چھوڑ او…
[ ] نہی تو یہاں رک بس اوکے جہانگیر ایک بار پھر حیدر کے گلے لگ گیا اور چلا گیا..¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] جہانگیر کے جانے کے بعد.زلیخا نور کے کمرے میں شفٹ ہوگی تھی یہ جہانگیر کے جانے کے دو دن بعد کی بات ہے کہ جب اماں جان اور بابا کسی کام سے گاوں سے باہر گے ہوے تھے اور دلاور اور نازو نازو کے گھر… بارش بہت زورو شور سے ہورہی تھی اور اچانک لائٹ چلی گی زلیخا نے کھڑے ہوکہ کھڑکی کھولی مگر باہر جو منظر دیکھا.زلیخا کو مانو اپنی جان جاتی ہو محسوس ہوئ..تین چار لوگ باغیچے میں کودے تھے زلیخا کی نظر جب گیٹ کے چوکیدار پہ پڑی تو وہ بیہوش تھا..زلیخا کو اپنی جان حلق میں محسوس ہوئ اس نے فورا نور کو اٹھایا…
[ ] نور.. نور..
[ ]
[ ] جاری ہے
