Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Last Episode Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Part 1
مریم عمران #
قسط نمبر 47#(لاسٹ 1)
ہیلو ہیلو…..
ہاں پاپا کیسے ہیں آپ؟؟؟
میں ٹھیک ہو میری بیٹی کیسی ہے.؟؟
میں بھی بلکل ٹھیک…
اچھا حنا شاہ سے بات کرواو جب سے گیا ہے. بات ہی نہیں ہوئ اس سے.
یہ بات سن کے جہاں حنا کے ماتھے پہ پسینے کے قطرے چمکے وہی حسن کو بھی گھبراہٹ ہوئ…
حنا نے بات بناتے ہوئے اپنے پاپا سے کہا….
پاپا وہ اصل میں انکے کسی قریبی دوست کی شادی ہے ان میں لگے ہیں وہ….
اوہ.اچھا…..
وہ پاپا مجھے اپ سے بات کرنی تھی..
ہاں بیٹا بولو….
وہ پاپا شاہ کا بزنس بہت کرائسسس میں چل رہا ہے. اگر اپ میرا حصہ دے دیتے تو…..
حنا کی بات سن اسکے پاپا تھوڑی دیر کے لیہ چپ ہوئے اور کہا….
بیٹا اپکا اماوئنٹ بہت بڑا ہے.. کم ازکم بھی 5 مہینے لگینگے..
پیسے ٹرانسفر کرنے میں….
حنا کے پاپا کی بات سن کے جہاں حسن کو اپنا پلین فلاپ ہوتا دیکھائ دیا وہی حنا کی حالت بھی کچھ ایسی تھی کیونکہ چہرہ شاخت کردیتا ہے کہ انے والی اولاد کس کی ہے بس یہی سوچ کے حنا کو پریشانی ہو رہی تھی..اس لیہ وہ جلد از جلد اپنا حصہ لے کے شاہ سے طلاق لینے کا اراداہ رکھتی تھی مگر اب لگتا ہے یہ سب بہت مشکل ہونے والا تھا….
ادھر ادھر کی بات کرکے حنا نے کال کٹ کی تو دونوں کے ہی چہروں پہ پریشانی عیاں تھی…
¤¤¤¤¤¤¤…
ماہ کہ آنکھ کھلی تو اسکے جسم میں درد کی ایک لہر ڈور گئ مگر اسے شدید جھٹکا تب لگا جب اس نے اپکو شان کی باہنوں میں پایا ماہ نے اس بات کو کچھ خاص نوٹس نہیں لیا اور اٹھ کے جیسی کھڑی ہوئ تو لڑ کھڑا گئ ماہ نے بروقت بیڈ کی سائییڈ ٹیبل کا سہارا لیا مگر جیسی اس نے اپنا عکس سامنے شیشے میں دیکھا تو اسے شدید جھٹکا لگا کیونکہ نہ تو اس کے بدن پہ کل والے کپڑے تھے بلکہ الٹا اسکی گردن پہ جگاجگا نشان بھی تھی ماہ نے سکتہ کی حالت میں ڈریسنگ کے پاس پہنچی اور اگے جھک کے اپنے گلے کا نشان دیکھے دو منٹ کے لیہ ماہ کی پوری دنیا گھوم گئ اس نے پرفیوم کی شیشہ پورہ طاقت سے ڈریسنگ کے شیشہ پہ دے ماری….
شان جو اج پرسکون کی نیند سو رہا تھا ایک دم شور سے اٹھ بیٹھا مگر جب اس نے اپنے سامنے ماہ کو دیکھا اور اسکی آنکھوں میں اپنے لیہ بے اعتباری دیکھی تو وہ سمجھ گیا..
کہ ماہ سب جان چکی ہے وہ دھیرے دھیرے سے ماہ کے پاس اگے بڑھنے لگا کہ جبھی ماہ نے چیخ کے کہا…
وہی روک جاو گھٹیا شخص تم بھی شاہمیر جیسے نکلے کل کیا کیا تم نے میرے ساتھ بتاو. ..؟؟؟؟
فلحال ماہ کی حالت ایسی تھی کہ شان نے اسکی یہ بات برداشت کی اور وہی کھڑے کھڑے کہا….
ماہ کل تم بیہوش ہوگئ تھی ٹھنڈ کی وجہ سے لاکھ کوششوں کے باوجود تمہیں ہوش نہی آیا ..برف باری اور بارش کی وجہ سے کال نہیں لگ رہی تھی ڈاکٹر کو اور تمہارے نیلا پڑتےجسم کو دیکھ کہ مجبورا مجھے تمہیں اپنے جسم سے گرمائش… اگے کی بات شان سے بولی نہیں گئ ایسا لگ رہا تھا وہ کوئ مجرم ہو اس نے اپنی گردن جھکالی..
ماہ نے بے یقینی سے شان کو دیکھ اور اگے بڑھ کے اسے کے سینے پہ دونوں ہاتھ رکھ کے اسے دھکا دیا…
دیکھا دی تم نے اپنی اوقات.. کیا بولا تھا تم نے کے شاہمیر میں اور مجھ میں بہت فرق یے تم پہلے میری دوست ہو…
تم نے کل مجبوری میں نہیں موقع سے فائدہ اٹھایا میری بیہوشی کا.
اتنے ہی اپنے حقوق لینے کی آگ تھی تو کیوں دلایا تھا شادی کی پہلی رات خود پی اعتبار..
اسے مجبوری نہیں ہوس کہتے ہیں جو تم نےدوستی کا گلا گھوٹ کے پوری کی.
. لعنت ہے تم پہ تمہارے شوہر ہونے پہ جو پہلے دعوا کرے دوستی کا اور پھر ہوس کے زریعہ اپنے شوہر ہونے کا حق لے..
.یہ بول کے ماہ کمرے سے جانے لگی…
اور شان کی بھی برداشت یہی تک تھی اس نے جاتی ہو ماہ کو پیٹ سے پکڑ کر اٹھا کے بیڈ پہ پھینکا اور اسکے شڑت کو پھارا ماہ جو اس کی ہزیل گرین انکھوں میں اج اپنے لیہ صرف نفرت دیکھ رہی تھی ڈر گئ اور چیخ کے روتے روتے کہنے لگی…
شان یہ کیا کر رہے ہو چھوڑے مجھے..
ماہ کے ایسے بولنے پہ شان نے الٹے ہاتھ کا گھماتا ہوا تھپڑ ماہ کے منہ مارا..
تپھڑ لگتے ہی ماہ سکتے میں اگئ..اس نے پوری شدت سے اپنے اپ کو شان سے چھڑوانے کی کوشش کی مگر ناکام رہی…
شان نے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جکڑے اور دونوں ٹانگے اپنی ٹانگوں میں پھسا کے اس پہ جھکا تو ماہ نے فورا اپنی منہ دوسری طرف کرلیا…
جب دو منٹ تک شان نے کوئ حرکت نہیں کی تو ماہ نے گردن موڑ کے جب اپنے اوپر جھکے شان کو دیکھا تو ڈنگ رہ گئ…
شان کی آنکھوں سے تیزی سے انسو جاری تھے اس نے ایک ہاتھ سے اپنے انسو صاف کیہ اور اور غصہ بھڑی اواز میں کہا….
کیوں کیا ہوا ماہ بی بی ابھی تو تم نے مجھے ہوس پوری کرنے والا شوہر کہا ابھی تو ہوس خور کہا تو اتنا چیخنا چلانا کس لیہ آخری کی بات شان نے چیخ کے کہی. چیخنی کی وجہ سے اسکی ہزیل گرین آنکھیں اور لال ہوگی..
ہوس لفظ کے معنی شاید تمہیں اچھی طرح سے سمجھ اگئے ہونگے پوچھو ان لڑکیوں سے جو اس لفظ کے نشانہ بنتی ہے نہ زندہ لوگوں میں شمار ہوتی ہے نہ مردو میں .
شانے ایک جھٹکے سے اسکے اوپر سے اٹھا ۔۔
تو ماہ نے کمبل سے فورا اپنا نیم برہنے جسم کو ڈھنپا… اور زور زور سے رونے لگی
شان نے غصہ میں اپنا مکا الماری کے آئینہ میں دیے مارا اور پھر ایک بار ماہ کے پاس غصہ میں پہنچا اور اسکا منہ اپنے ہاتھ میں دبوچا اور کہا…
“کوئ بھی شوہر اپنی بیوی سے اپنی ہوس پوری نہیں کرتا بلکہ بہت مان سے اپنا حق مانگتا ہے…کیونکہ یہ حق اللّٰہ نے اسے دیا ہوتا ہے..
یہ بول کے شان نے اسکا منہ چھوڑا تو ماہ کی انکھیں اور بھیگنے لگی..
شان جا کے اس سامنے کھڑا ہوا اور روتی آنکھوں سے کہنے لگا….
اگر کوئ مرد کسی عورت سے اپنی ہوس پوری کرتا ہے تو اسے اپنے نکاح میں نہیں لیتا اور جیسے نکاح میں لے لے اس سے کبھی بھی اپنی ہوس پوری نہی کرتا.. کل تمہیں بچانے کیلیے میں نے یہ قدم اٹھایا ہے اور کس مجبوری میں اٹھایا ہے یہ میرا اللّٰہ جانتا ہے…ا
گر ہوس ہی ہوتی تو جب تم اپنے یار سے ملنے گئ تھی نہ اس کے فلیٹ پہ جب تمہاری حالت ایسی تھی کہ میں ارام سے اپنی ہوس پوری کرسکتا تھا… مگر کیا ہے نہ شان حیدر اتنا گھٹیا نہیں
..ابھی اسی وقت ایک آواز پہ تم۔سے کروڑ درجہ خوبصورت لڑکیاں شان حیدر کی ایک ہاں کی منتظر ہیں نکاح کرنے کے لیہ ایک رات گزارنے کیلیے مگر میری تربیت یہ گوارا نہیں کرتی….
اگر کل دوستی نبھاتا تو اج تم زندہ نہیں ہوتی.. اپنے بڈی اور ازلان سے وعدہ کیا تھا کہ تمہارا خیال رکھونگا…. مگر غلطی ہوگئ جو کل تمہیں بچایا…. تم قابل نہیں شان حیدر کی محبت کے میں تمہارا دوست تھا تو شوہر بھی تھا…
تھا کے لفظ پہ ماہ نے سکتے کی حالت میں اسے دیکھا…
شان نے بھی اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑ کے کہاں …
مگر اج کے بات تمہارے وجود کے ہونے یہ نہ ہونے سے شان حیدر کو کوئ فرق نہیں پڑتا….
اج سے صرف تم میری نام کی بیوی ہو وہ بھی دنیاوی.
یہ بول کے شان نے الماری سے اپنے کپڑے نکالےاور فریش ہوکے گھر سے باہر نکل گیا….
شان کے جانے کے بعد ماہ کے دماغ میں شان کی باتین گونجنے لگی اسے احساس ہوا کے واقعی وہ بہت غلط کر گئ شان کیساتھ اس نے شان کے نمبر پہ کال کی مگر اس نے پک نہیں کی صبح سے شام ہوگئ مگر شان نہیں آیا…
شام کے قریب شان آیا تو اس کے چہرے پہ صرف سنجیدگی تھی وہ مسکراہٹ جو ماہ کو دیکھتے ہی شان کے چہرے پہ آتی تھی وہ ماہ کو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملی…
شان نے ماہ سے صرف اتنا کہا…
دو گھنٹے بعد پاکستان کی فلائٹ ہے تیاری کرلو…
یہ بول کے شان نے نوکروں کو باقی کمروں کو لاک کرنے کو کہا اور خود اپنا سامان سمیتنے لگا ماہ نے بھی چپ چاپ اپنا سامان سمیٹا شروع کردیا….
پوری فلائٹ میں نہ تو شان نے اسکی طرف دیکھا نہ اس سے بات کی…
. پاکستان پہنچ کے اس نے حیدر کو کال کر کے ڈرائیور کو بھیجنے کو کہا…
حیدر شان اور ماہ۔کا یوں پاکستان انے کا سن کے تھوڑا حیران ہوا مگر بولا کچھ نہیں.
سب نے ہی ان دونوں سے جلدی انے کی وجہ پوچھی جس پہ شان نے تو اپنے لب سی لیہ مگر ماہ کو سبکو یہ بولنا پڑا کے وہاں ٹھنڈ بہت زیادہ تھی اس لیہ واپس اگے…
سب نے ہی ماہ کے اس بہانے پہ یقین کرلیا…
¤¤¤¤¤
شادی کے ہنگاموں سے نبٹ کے جہاں سب اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے تھے وہی ماہ شان اور ناصر نازنین اپنے ایک مہینے کے بعد ہونے والی پیپروں کی تیاریوں میں…
سب کے سامنے شان پھر بھی ماہ سے تھوڑی بہت بات کر لیتا تھا
.مگر بند کمرے میں اکے وہ ماہ کی طرف ایک نگاہ بھی نہی ڈالتا…
ماہ نے بہت بار کوشش کی شان سے بات کرنے کی مگر شان اسے موقع ہی نہیں دیتا..
¤¤¤¤
اج شان اور ماہ کی شادی کو دو مہینے ہوگئے تھے جہاں ماہ کو پھپو بنے کی خوشخبری ملی.
.وہی نازنین کو بھی…
سب پیپروں سے فارغ ہوئے تو نیلم اور نعمان نے نازنین کی فیملی پہ شادی کا زور دینا شروع کردیا….
جہان نیلم اور نعمان نے ضد پکڑ لی شاہ اور نازنین کی.
شادی کی وہی جمال اور لائبہ نے بھی ناصر کے کہنے پہ حیدر اور نور کو راضی کرلیا نازنین کی شادی کے ایک مہینے بعد ناصر اور پری کی شادی کیلیے..
حماد اور نعمان نے ایک مہینے بعد کی شاہ اور نازنین کی شادی کی ڈیٹ فکس کردی .
دونوں فیملی ہی جوش وخروش سے شادی کی تیارے کرنے میں لگے تھے…¤¤¤
¤¤¤¤
اج نیلم اور نعمان شہر سے باہر اپنے کسی عزیز کی عیادت کو گئے ہوئے تھے…
نازنین نے سب کو انفارم کردیا کہ اج شاہ کی سالگرہ ہے اسے سرپرائز دینے کیلیے اسکے گھر جا رہی ہے سب نے بھی اسکے ساتھ چلنے کی ہاں میں بھر لی…
ناصر تیار ہوکے نازنین کو لیتا ہوا شان کے گھر پہنچ چکا تھا اور اب وہاں بیٹھ کے ماہ اور شان کا ویٹ کرنے لگا ایک ہفتہ میں پری ک پہلا سمسڑ ہے اس لیہ اس نے جانے سے معزرت کرلی تھی جسکو سب نے ہنس کے قبول کرلیا تھا…
شان نے بیلک پینٹ شرٹ پہنی تھی ماہ نے اج بلیک چوڑی دار پاجامہ اور گئر دار فراک پہنی تھی.
اونچی ہیل سلور بالیاں ریڈ لپسٹک لگائے وہ آئینہ کے سامنے اپنے بالوں کو سیٹ کرکے وہ جیسی ہی پلٹی ہیل کی وجہ سے لڑکھڑا گئ مگر پیچھا کھڑا شان جو اپنے ہاتھ میں گھڑی باندھ رہا تھا..
بروقت اس نے ماہ کو کمر سے تھام کے گرنے سے بچالیا ماہ بھی بے دیھانی میں اسکے کندھوں کو تھام چکی تھی
..کمر سے تھامنے پہ ماہ کی بیک کی زپ کھل گئ..
شان کے ہاتھ جب ماہ کی کمر پہ پڑے تو وہ فورا پیچھے ہوا .
ماہ.نے اپنے ہاتھ پیچھے لے جاکے بہت کوشش کی زپ بند کرنے کی مگر نہیں ہوئ .
.ماہ نے مدد طلب نظروں سے شان کو دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا….ہزیل گین انکھوں میں دیکھ کے ماہ کا شدت سے دل کیا انہیں چومنے کا مگر جو وہ کرچکی شان کیساتھ اس کے بعد وہ چاہ کے بھی اپنی یہ خواہش پوری نہی کر سکی….
.شان ارام سے چلتا ہوا ماہ کے پاس آیا تو ماہ اسکی طرف پشت کرکے کھڑی ہوگئ…
ماہ نے آہستہ سے اپنے بال اگے کیے تو شان نے اس کی زب بند کرنے لگا اخری مقام گردن کے پاس جاکے جب زپ رکی تو اس کی نظر پھر ماہ کے تل پہ جاکے رک گئ مگر شان نے اپنی آنکھیں بند کی اور گاڑی کی چابی اور موبائل اٹھا کے نیچے چلا گیا..
ماہ ابھی تک شان کے قربت کو محسوس کر رہی تھی مگر اس نے ایک لمبی سانس لی اور ڈوپٹہ اٹھا کے نیچے آگئ
سب ہی ناصر کی گاڑی میں ہی شاہ کے گھر کی طرف نکلے شان اور ماہ فرنٹ پہ تھے نازنین اور ناصر پیچھے..
جبھی بیک مرر سے شان نے مسکراتی نظروں سے نازنین کو دیکھا اور پوچھا…
ویسے بھابھی کیا یے اس گفٹ پیک میں…؟؟
نازنین نے گھور کے شان کو دیکھا اور شرمانے کی فل ایکٹنگ کر کے ڈوپٹہ منہ میں لے کے کہا….
ارے دیور جی یہ انکے لیہ ہیں اپکو کیوں بتائے…
نازنین کے ایسے رویہ پہ سب کا قہقہ گاڑی میں گونجا…
¤¤¤¤¤
گاڑی نعمان ولا میں داخل ہوئ..
نازنین سب سے پہلے گاڑی سے نکلی تو سب ہی اسکی جلد بازی پہ مسکرا گئے…
وہ سارے دبے پاوں شاہ کے کمرے کے پاس پہنچے تو انہین اندر سے کسی کی باتوں کی آواز اائ..
.نازنین نے جب دروازہ کھول کے اندر کا نظارہ دیکھا تو جہاں سب ہی سکتے کی کیفیت میں تھے وہی نازنین کے ہاتھ سے گفٹ چھوٹ کے نیچے گرا.. جسکی اواز سے حنا اور شاہ دونوں چونکے…
¤¤¤
دو مہینے سے شاہ حنا کے اکاونٹ میں نہ تو پیسے بھیج رہا تھا نہ اس سے رابطہ میں تھا اور جب حسن نے اسے بتایا کے شاہ اور حنا کی شادی فکس ہوگئ ہے تو وہ اج شاہ سے روبر ملنے پہنچ گئ کیوں کے حسن اسے یہ معلومات دے چکا تھا کہ اج گھر پہ اس کے والدین نہیں
….
حنا شاہ کے گھر پہنچی تو نوکر جو اس کو گھور گھور کے دیکھ رہےتھے پوچھنے پہ انہوں نے شاہ کے کمرہ دیکھایا حنا کمرے میں پہنچی تو شاہ فریش ہوکے نکلا تھا اور بنا شڑت کے تھا..
شاہ حنا کو اپنے کمرے میں دیکھ ایک دم سٹپٹا گیا جو مزے سے اسکے بیڈ پہ برجمان تھی شاہ غصہ میں اس تک پہنچا اور کہا..
تم یہاں کیسی ائ؟؟؟
شاہ کی بات پہ حنا ایک دم مسکرا کے اسے اپنے طرف کھینچا تو شاہ اسکے اوپر گرنے کے بجائے سائیڈ میں گر..ا.. جیسی ہی وہ اٹھنے لگا حنا نے اسکے گلے میں اپنا ہاتھ ڈال کر کہا.
. ارے سوئیٹ ہزبینڈ
اپ تو نقشہ سے ہی غائب ہوگئے اور چپکے چپکے شادی بھی کر رہے ہیں دوسری تو میں نے سوچا کیوں نہ اپکو یاد دلادو کہ میں بھی ہوراہوں میں اور ا اپکا ہونے والا بچہ بھی
..اس سے پہلے شاہ اسکی کسی بات کا جواب دیتا…کانچ توٹنے کی اواز پہ دونوں نے گیٹ کی طرف دیکھا تو جہاں نازنین سکتے کی حالت میں کھڑی تھی..
وہی ماہ اور شان کی حالت بھی کچھ ایسی تھی.. ایک ناصر تھا جو صرف گردن جھکا کے کھڑا تھا…
حنا نے جب نازنین کو دیکھا تو شاہ سے کہا…
اوہ شاہ ڈرالنگ میری سوتن تو بہت پیاری ہے..
یہ بول کے حنا فل اٹیٹیوڈ سے چلتی ہوئ نازنین کے پاس آی اور کہا..
ہائے میں اپکی سوتن یعنی شاہ کی پہلی بیوی اور اسکے ہونے والے بچے کی ماں…
حنا کے بولنے پہ جہاں ماہ کو ہاتھ اپنے منہ پہ گیا وہی نازنین نے دیوار کا سہارا لیا…
شان کو تو سمجھ ہی نہیں ارہا تھا کے یہ ہو کیا رہا ہے..حنا یہ بول کے چلی گئ ..
نازنین اسکے جاتے ہی فورا جانے کے لیہ پلٹی تو شاہ نے اسکا ہاتھ پکڑ کے کہا..
ناز.نی..نی ین.میں سمجھاتا ہو…اس سے پہلے شاہ کچھ بولتا نازنین کا زناٹے دار ٹھپر شاہ کے بولتی بند کر گیا…
ہاتھ مت لگانا مجھے مسڑ سرور دور رہو مجھ سے نازنین کی اواز پورے نعمان ولا میں گونجی…
نازنین کا ہاتھ اپنے گلے میں پڑے لاکٹ کی طرف گیا.. اس نے کھینچ کے لاکٹ اپنے گلے سے اتارا اور شاہ کے منہ پہ مار کے کہا…
“سالگرہ مبارک ہو “
یہ بول کے نازنین تیزی سے نیچے اتری تو ماہ بھی اسکے ہیچھے بھاگی جبکہ شاہ بے یقینی کی کیفیت میں اس لاکٹ کو دیکھنے لگا جو اس نے نازنین کو نکاح پہ دیا تھا اور یہ کہہ کے دیا تھا کہ جس دن تم نے اسے گلے سے اتارا تو سمجھ لینا کہ شاہ اس دنیا میں نہیں.
شاہ کی انکھوں سے تیزی سے انسو جاری ہونے لگے…
شاہ کو روتا دیکھ کے شان تیزی سے اسکی طرف بڑھا مگر ناصر نے اسکو بیچ میں ہی روک لیا….
ناصر کے پکڑتے ہی شان نے شاہ سے کہا…
سالے کمینے کیا کیا تونے برباد کردی اسکی زندگی
.. ابے محبت کرنے لگی تھی تجھ سے اعتبار کرنے لگی تھی تیرا.
.اج تیری برتھ ڈے منانے کیلے کتنے خوش تھی
. کیا کیا تونے شاہ کیا کیا…
یہ وہی ہیں نہ جیسے اس دن تو آئیڑپورٹ لینے گیا تھا.
…شان کے کہنے پہ شاہ نے کوئ جواب نہی دیا وہ سکتے کی حالت میں بس اس لاکٹ کو ہی گھورے جا رہا تھا ایک جھٹکے سے شان نے ناصر سے خود کو چھروایا اور. کہا…
چابی دے مجھے گاڑی کی..
.ناصر نے شان سے کوئ بہس نہیں کی اور خاموشی سے چابی شان کو دیتے ہوئے کہا..
تو جا شان نازنین کو لے کے میں شاہ کے پاس ہو….
ناصر کی بات پہ شان نے حیران نظروں سے ناصر کو دیکھا اور کہا…
تو اب بھی اسکے ساتھ ہے… ؟؟
شان کے بات پہ ناصر نے کہا…
شان تو جاکے نازنین کو سنبھال میں تجھے سب بتاتا ہو…
سب بتاتا ہو کا کیا مطلب تو جانتا تھا یہ سب؟؟؟
شان تو جا میں اتا ہو بعد میں…
شان نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا اور باہر نکل گیا . گاڑی کے پاس پہنچ کے شان نے دیکھا تو نازنین خاموشی سے پیچھے گردن جھکا کے بیٹھی رو رہی تھی اور اپنی ہاتھوں کی لکیروں کو گھور رہی تھی…شان نے گاڑی میں بیٹھ کے نازنین کو آواز دی…
تو نازنین شان کی آواز پہ صرف اتنا کہا….
شان گھر چلو دیر ہو رہی ہے….
شان نے ایک نظر ماہ کو دیکھا وہ بھی رونے میں مصرف تھی اور ایک نظر پیچھے بیٹھی نازنین کو دیکھا اور گاڑی اگے بڑھادی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شاہ کی نظر نیچے گرے فریم پہ پڑی جو الٹا ہوکے اپنی بے قدری پہ رو رہا تھا…..شاہ نے نیچے جھک کے جب اسے اٹھا کے پلٹا..
تو وہ شاہ اور نازنین کی شان کی شادی کی پک تھی جس میں دونوں نے ایک جیسے ڈریس پہنے ہوئے تھے..
شان کی نظر تصویر کے کونے پہ لکھے میسج پہ.پڑھی
My husbnd shinning star in my life i also trust my husbnd and his love because i also love my husband..
میسج پڑھ کے شاہ نے تصویر کو اپنے سینے سے لگایا اور زور زور سے رونے لگا..ناصر نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا مگر کہا کچھ نہیں…
شاہ نے تیزی سے اپنے انسو صاف کیہ شرٹ پہن کے غصہ میں اپنے فلیٹ کی طرف نکلا..کیونکہ اسے اندازہ تھا کہ حنا وہی ہوگی
.ناصر بھی اسکے پیچھے لپکا..
رش ڈرائیونگ کرکے جب شاہ اپنے فلیٹ کے دروازے پہ پہنچا تو فلیٹ کا دروازہ کھلا تھا.
شاہ نے اندر قدم رکھا تو حنا کے ساتھ کسی اور کی بھی اواز سنائ دی….
ارے واہ حنا اج تو تم نے کمال کردیا..
.اب تو نازنین نہ صرف اس سے طلاق لے گی بلکہ شاہ کی فیملی بھی تمہیں ایکسپٹ کریگی اور پھر جب تمہارے فادر جائیداد تمہارے نام کردے تو ہم دونوں ااپنےاس ہونے والے بچے کے ساتھ حسن نے حنا کے پیٹ پہ ہاتھ رکھ کہا..
لندن بھاگ جائینگے اور جائیداد تو اپنی ہوگی ہی بس پھر تم وہاں جاکے شاہ سے طلاق لے لینا اور میں اور تم اور ہمارا بچہ…
یہ سب سن کے شاہ نے دیوار کا سہارا لیا تو ناصر کی بھی کچھ ایسی ہی کیفیت تھی…
شاہ دروازہ کھول کے کمرے کے اند داخل.ہوا .
شاہ کو دیکھ کے حسن اور حنا کے پیروں سے زمین نکل.
گئ ..
مگر جب ناصر کی نظر حسن پہ پڑی تو وہ حیران رہ گیا اور حسن کو دیکھتے ہوئے کہا…
تم تو نازنین کے خالہ کے بیٹے ہونا؟؟؟
ناصر کی بات سن کے شاہ کو ایک اور جھٹکا لگا اس نے ناصر کو کہا…
کیا بول رہا ہے ناصر یہ نازنین کا کیا خالہ کا بیٹا ہے..؟؟
ہاں شاہ میں دو تین بار اس سے نازنین کے گھر میں بھی چکا ہو…
شاہ نے اگے برھ کے حسن کو مکا مارا اور کالر سے پکڑ کر جھٹکا دے کے کہا…
بتا کیا رشتہ ہے تیرا حنا سے اور یہ سب کیا ماجرا ہے…ورنہ تو یہان سے اپنے پیروں پہ چل کے نہیں جائے گا…
شاہ کی دھمکی سے جہاں حسن ڈراا وہی حنا نے حسن کی ناک سے بہتے خون کو دیکھ کے ا پنا سار پلین شاہ کو بتا دیا اور یہ بھی بتایا کہ یہ بچہ حسن کا ہے…
شاہ پلین سن کے فورا سجدہ میں گر کے اپنے رب کا شکر ادا کرنے لگا تو ادھر ناصر کی آنکھوں میں بھی یہ سوچ کے کہ اسکا دوست بے گناہ ہے خوشی کے انسو انے لگے…
شاہ حنا کی طرف بڑھا اور کہا..
لعنت ہے تم پہ حنا کہ تم نے پیسوں کی خاطر نہ صرف ہماری دوستی کو گندا کیا بلکہ اپنی عزت کا بھی سودا کیا…
میں شاہ نعمان پورے ہوش حواس میں حنا تمیں طلاق دیتا ہو…
تین بار بول کے شاہ نے حنا کے فادر کو کال کرکے سب بتا دیا اور ان دونوں کا ہاتھ پکڑ کے اپنے فلیٹ سے نکال دیا…
جاری ہے…
.
