Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 46 Remaining Part 3

قسط نمبر 46#(سیکنڈ لاسٹ پارٹ 3 کا بقیہ حصہ)
حیدر ناشتہ کرچکا تو اپنے کمرے کی طرف چل پڑا حیدر کے جانے کے بعد نور نے نازنین سے کہا..
نازنین ؟
جی آنٹی…
یاد ہے نہ ڈیئر میں شرت جیتی ہو…
چائے پیتی نازنین کے چہرے پہ نور کی بات سن کے مسکراہٹ اگئ..
نازنین نے سر ہاں میں ہلاتے ہلاتے شائے کا کپ نیچے رکھا اور کہا..
جی آنٹی یاد ہے اب جب حکم.کرینگی بندی اپکا حکم پہ اپنا سر جھکائے گی… .
نازنین کی.بات سن کے نور کے لبوں پہ مسکرائٹ اگئ اور وہ مسکراتی ہوئ حیدر کے پیچھے چل دی مگر مڑ کے شان کو کہا…
بیٹا ناشتہ کرلو تو میرے روم میں آنا کام.ہے
….
نور کے جانے کے بعد نازنین جو کافی دیر سے ماہ کو گھور رہی تھی پوچھ بیٹھی….
ماہ شان نے منہ دیکھائ میں کیا دیا؟؟؟؟؟
ماہ جو بڑے ارام سے جوس پی رہی تھی. نازنین کے ایک دم ایسے سوال پہ.بوکھلا گئ اور کہا….
..
رنگ دی ہے…….
ماہ.کے جواب پہ.نازنین نے ماہ سے کہا..
بس رنگ دی ہے.. ؟؟
ماہ.نے گھور کے نازنین کو دیکھا اور ناشتہ کرنے لگی.. کہ جبھی شان اٹھ کے نور کے کمرے کی طرف چل پڑا ..ماہ نے اسکی پشت کو گھورا اور اٹھ کے وہ بھی اپنے کمرے کی طرف چل پڑی..
ان دونوں.کے اٹھتے ہی.پری کی انکھوں میں انسو آنے لگے…جو ناصر سے نہ چھپ سکے…
ناصر نے پری سے روبرو پوچھا…
کیا بات ہے.کیوں رو رہی ہو پری؟؟؟
پری نے روتے روتے ہی جواب دیا…..
ماہ اپی کو نظر نہی آتی شان بھائ کی انکھوں میں محبت جو ہوا ان کیساتھ ہم سب کو دکھ ہے اسکا.. شاہمیر بھائ بھی تو سن بھول کے اگے بڑھ چکے تو ماہ اپی کیوں نہی….
مجھ سے شان بھائ کا اداس چہرہ نہی دیکھا جاتا اپ لوگوں نے دیکھا نہی کل وہ.کتنے خوش تھے اور اج انکے لبوں پہ.بس بناوٹی مسکراہٹ ہے…..
یہ بول کے پری چپ ہوئ تو نازنین بول پڑی…..
پری جو محبت میں بے اعتباری برداشت کرتا ہے.. جسکا دل اسی شخص نے توڑا ہو جیسے وہ اپنی دنیا سمجھ بیٹھے.. ایسے شخص کو سنبھالنے میں بہت ٹائم لگتا ہے….
نازنین کی باتوں سے شاہ.کی.حالت خراب ہونے لگی.کیونکہ ماہ نے تو شاید برداشت کرلیآ شاہمیر کا دھوکہ کیوں شاہمیر کیساتھ خود دھوکا ہوا تھا…مگر نازنین کیا یہ سب برداشت کرسکے گی..؟؟؟
اسکا اعتبار توٹے گا تو پھر کیا ہوگا …یہ ہی سوچ کے شاہ کی حالت خراب ہونے لگی
پری اپ خود سوچو جو انسان کسی اور کے لیہ سجے سنورے مگر نام اسے کسی اور کے کر دیا جائے تو وہ.کیسے سنبھلے گا….مانا شاہمیر کو ماہ سے محبت نہی تھی مگر ماہ.کو تھی.نہ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہوجائے گا گڑیا اپ اپنی ماہ.اپی.کی طرف سے بد گمان مت ہو…یہ کہہ کہ نازنین چپ.ہوئ تو پری نے بھی ہاں میں سر ہلایا.. جبکہ ناصر نے پری کو دیکھ کے اسمائل دی….
¤¤¤¤¤¤¤
شان نے نور کے کمرے باہر رک کے ناکک کرا. تو نور نے اسکو اندر انے کی.اجازت دی…
جی ماما اپ کو کچھ کام تھا. ؟؟؟
شان کے بولنے پہ.نور نے اس کے پاس آی اور اسے کہا…
شان ماہ بہت زیادہ ڈسٹرب ہے جتنا ہوسکے اسکو خوش رکھنے کی.کوشش کرنا… بیٹا. …
اور شان اگر کچھ دن اگر وہاں اور رکو تو کوئ مسئلہ نہی مجھے کال کر دینا میں ویزا اور بڑھوا دونا مگر بیٹا ماہ.کو خوش خوش لانا وہاں سے…
حیدر نے پیچھے سے اکے شان کے کندھے پہ.ہاتھ رکھ کے کہا..تو شان نے کہا…
پاپا میں اپنی پوری کوشش کرونگا کہ.ماہ.جلداز جلد اپنے اس کرائسس سے باہر اجائے یہ بول کے شان کمرے سے باہر نکلا جبکہ نور اور حیدر نے ایک دوسرے کو دیکھا تو حیدر نے نور کو گلے سے لگا کے کہا…
نور ہمارے بیٹا ماہ کو بہت چاہتا ہے اور سچی محبت ہمیشہ جیتی ہے تم.پریشان نہ ہو سب ٹھیک.ہوجائے گا….
¤¤¤¤¤¤
شان کمرے سے باہر نکلا تو وہ تینوں بھی جانے کے لیہ ریڈی تھے ان سب کو سی اوف کرکے شان اپنے.کمرے میں آیا تو ماہ.کو کھڑکی کے پاس کھڑا پایا…
.شان نے گلا.کھنکآر کے اپنی موجودگی کا احساس دلایا.تو ماہ ایک دم.چونکی..
شان کو دیکھ کے اس نے اپنے منہ کا زاویہ کو درست کیا اور اس سے کہا….
شان وہ پیکنگ سمجھ نہی آرہی کبھی آسٹریلیا گئ نہی تو وہاں کے موسم کا کچھ علم نہی…
ماہ کے اس معصومہ نہ سوال پہ شان مسکرایا اور ماہ کے قریب آکے کہا…
تم بس تین چار ڈریسس رکھ لو باقی ہم وہی سے شاپنگ کرینگے…
شان کی.بات پہ.ماہ نے اسے دیکھا اور پوچھا…
شان ایک بات پوچھو….
..ہاں پوچھو….
تم.نے کہاں تھا تم.کسی سے محبت کرتے ہو..؟؟؟تو کیا اسے علم.نہی تمہاری شادی کا؟؟
ماہ کی بات پہ شان کے لبوں پہ.ایک طنزیہ مسکراہٹ ائ اور اس نے کہا…
میری محبت ابھی ہمارے رشتہ سے انجان ہے میری محبت سے انجان ہے جس دن اسے ان دونوں چیزوں کی پہچان ہوگئ سب سے پہلے تمہیں ملواونگا اس سے.. .
اب تھوڑی دیر سوجاو شام میں پھر فنکشن ہے یہ.بول کے شان بیڈ پہ نیم دراز ہوگیا جبکہ ماہ بھی بیڈ پہ کروٹ لے.کے لیت گئ…
شان نے اپنے دل میںں سوچا….
کیا ماہ کو اندازہ نہی میں کس سے محبت کرتا ہو کیا اسے نظر نہی آتا میری محبت میں اپنا عکس..یہ پھر وہ جان کے بھی انجان بن رہی ہے… یہ سوچ کے شان نے اپنی انکھیں بند کرلی
¤¤¤¤¤
ولیمہ کا فنکش بھی شاندار رہا…شاہمیر اور نوشین نے بھی ولمیہ کی تقریب مین شرکت کی…اور شان اور ماہ سے دوستوں کی طرح ملے….
اگلے دن جہاں شان اور.ماہ.کی آسٹڑیلیا کی فلائٹ تھی وہی.. علی شاہین شاہمیر اور نوشین بھی پاکستان سے جا رہے تھے لاکھ کوششوں کے بعد بھی شاہمیر کی جنید سے ملاقات نہ ہوسکی اور وہ یہ ملک چھوڑ کے چلا گیا….
¤¤¤¤¤
آسٹریلیا پہنچ کے ماہ.کو احساس ہوا یہاں بہت ٹھنڈ ہے جو صرف ماہ.کو ہی لگ رہی تھی…..
شان نے جب اسے آسٹریلیا میں اتے ہی یو کپکپاتے دیکھا تو پوچھا….
ماہ ابھی تو اتنی ٹھنڈ بھی نہی تم.تو ابھی سے کپکپارہی ہو…
ماہ نے اپنے ہاتھ اپس میں زور زور سے رگڑ کے شان سے کہا…
شان مجھے کولنگ فوبیا ہے مجھے زرا بھی ٹھنڈ برداشت نہی اس لیہ میرے کمرے میں اے سی نہی ہے اور جب کبھی کراچی میں سردی پڑتی تھی تو میں بہت کم گھر سے باہر نکلتی تھی…..
ماہ کی بات سن کے شان کو کافی حیرت ہوئ اس نے ماہ.کو فورا اپنے جیکٹ دی اور اسے لیکے اپنے گھر کی طرف چل پڑا…
شان کا آسٹریلیا والا گھر دیکھ کے ماہ بہت ایمپریس ہوئ کیونکہ یہ گھر کراچی والے گھر سے بھی زیادہ خوبصورت تھا. .
تھوڑی دیر ارام.کرکے ماہ.اور شان شاپنگ پہ چلے گئے شان نے کافی ہیوی سوٹ ماہ کیلے یہ تاکہ اسے ٹھنڈ نہ لگے…
یہاں اکے ماہ کو موڈ تھوڑا بہتر ہوا تھا…شان نے اسے اپنی کافی فرینڈ سے ملوایا تھا اور سب ہی وہاں شان کے نیچر کی تعریف کر رہے تھے جس نے یہاں رہ کے بھی کوئ بھی مغربی حرکت نہی اپنائ…..
یہاں اکے ماہ کافی حد تک شان سے فرینک ہوگئ تھی…
شان نے اسے کافی جگہوں کی سیر کروای تھی… جو بھی ان دونوں.کو کسی تفریح جگہ پہ ایک ساتھ دیکھتا تو نائس کپل کاٹائٹل ضرور دیتا…
ماہ اور شان جنکو یہاں ائے ہوئے ایک ہفتہ ہوگیا.. تھا اج وہ کسی قریبی شاپنگ مال سے شاپنگ کرکے ارہے تھے کہ اچانک بارش شروع ہوگی اور شومئ قسمت گھر کے زرا فاصلہ پہ گاڑی بھی بند ہوگئ جب کافی دیر تک بارش نہ روکی اور بارش کیساتھ ساتھ برف بھی گرنا شروع ہوئ تو ماہ اور شان گاڑی میں سامان رکھا اور تیز تیز قدم اٹھاتے ہوے گھر کی طرف بڑھنے لگے..شدید برف باری اور بارش کے سسبب گھر پہنچتے ہی ماہ.کی حالت کافی خراب ہوگئ اور وہ بیہوش ہوگئ…..
.شان نے ماہ کے بیہوش وجود کو باہہنوں میں اٹھا کے تیزی سے کمرے میں پہنچا فورا اس نے اپنی پراوہ کیہ بغیر ماہ کو ہوش میں لانے کی.کوشش کری مگر ماہ.کے بیہوش وجود میں کوئ حرکت نہی ہوئ شان نے کمرے کی.لائٹ بند کی ہیٹر اون کیا اور رشتہ کا جائز حق اسعتمال کرتے ہوئے ماہ.کے گیلے کپڑے بدل کے اس نے ماہ.کے اوپر دو تین کمبل ڈآلے اور ڈاکٹر کو کال کرنے لگا مگر موسم خراب ہونے کی وجہ سے کال نہی.لگی…شان کی اپنی.حالت بھی کافی خراب تھی…شان جب واش روم سے کپڑے چینج کرکے نکلا تو ماہ کا جسم جھٹکے کھا رہا تھا شان نے تیزی سے ماہ کے پاس پہنچا مگر ماہ کے وجود کو نیلا پڑھتا دیکھ کے اسکی انکھیں بھیگنے لگی اس نے ماہ ہاتھ پاوں سہلانا شروع کردے اور ساتھ میں بولنا بھی…
ماہ.یار ہوش میں او پلیز یار جان نکل رہی ہے میری ماہ شان نے ہر طرح سے.کوشش کرلی ماہ کو ہوش میں.لانے کی.مگر اسکا بیہوش وجود اور نیلا ہوتا گیا…
بس پھر شان کو ایک ہی حل دیکھا اور اس میں کوئ مسئلہ بھی نہی تھا کیونکہ وہ بیوی تھی اسکی شان نے اپنی شرٹ اتاری.اور ماہ کے اوپر جھک کے کمبل اورھ لیا اور اپنی جسم سے ماہ.کو گرمائش پہچانے سے پہلے اس نے بے دردی سے اپنے انسو رگڑے اور ڈھیرے سے ماہ کے کان کے پاس کہا…
سوری ماہ مگر میرا وعدہ کی اہمیت تمہاری جان سے بڑھ کے نہی اور ماہ پہ جھک گیا…
جاری ہے