Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 39 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 39 Part 1
شان ….؟؟؟؟
نازنیںن نے شان کو اواز دی جو کسی گہری سوچ میں گم ہوکے ڈرائیو کر رہا.تھا…..
نازنیین کے پکارنے پہ.ایک دم.چونکا اور کہا…
ہاں بولو…..
شان ماہ.کو اس حالت میں اگر اس کے گھر لے کے گئے تو سب کو کیا جواب دینگے…؟؟؟
نازنین میں بھی کب سے یہی سوچ رہا.ہو….شان نے بھی پریشان لہجے میں کہا..
ایک.آئیڈیا ہے میرے پاس …..
شان نے ایک دم نازنیںن کی.بات پہ.کہا….
کیااااا؟؟
ہم ماہ.کو اسی.حالت میں آفریدی مینشن لے کے چلتے ہیں اور میں بولونگی…
کہ ماہ.کا کوئ پرس چھین کے لے گیا تھا اس وجہ یہ بیہوش ہوگئ میری کچھ سمجھ نہی آیا تو میں نے شان کو کال کرکے بولا لیا…….
کیونکہ کہ.ماہ.ہر جگہ اپنا بیگ لے کے جاتی ہے اور ابھی اسکے پاس وہ نہی ہے شاید وہ اس الو کے پٹھے کمینے کے گھر ہی رہ گیا…..بات کرتے کرتے نازنیںن ایک دم شاہمیر کو سوچتے ہی غصہ میں اگئ…
شان پہلے تو چپ رہا اور پھر بول پڑا…
ہاں یہ ٹھیک ہے مگر نازنین میں ایسے ماہ کو اٹھا کے لے گھر کے اندر میرا مطلب. ….تم سمجھ رہی ہونا میری بات…
ہاں شان میں سمجھ سکتی ہو مگر تم ماہ کی.حالت دیکھو مجھے نہی لگتا کہ یہ صبح تک ہوش میں آئے گی…؟؟؟
ہمم چلو نازنیںن یہ کرتے ہیں پھر جو تم.نے آئیڈیا دیا ہے …
..
مگر اگر زلیخا ممانی نے ڈاکٹر کو کال کردی ماہ.کی طبیعت دیکھ کے تو ڈاکٹڑ تو چیک کرتے ہی بتادیگا کہ ماہ.کی بیہوشی کی وجہ شاک نہی ہیوی ڈوس ہے…؟؟؟؟
ہاں شان یہ تو میں نے سوچا نہی…شان کی بات سن کے نازنیںن ایک دم پریشان ہوگئ..
مگر پھر بولی تم چلو تو ماہ.کے گھر اب جو بھی ہوگا الللہ مالک ہے ہنڈل کرلینگے……
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ویسی ایک ہفتہ سے شاہ نازنین سے نہہی ملا تھا جب سے ازلان کی شادی.ہوئ تھی اوپر سے حنا نے الگ اسکا دماغ خراب کردی تھا …
سنگنل پہ.شاہ.کی.گاڑی روکی تو برابر میں ناصر جو اپنے.کسی دوست کو ڈارپ کرکےآا رہا تھا ..ایک دم شاہ کو دیکھا تو اس نے اسے کال کی .تاکہ وہ ایسے بتائے کہ وہ اسکی برابر والی گاڑی میں ہے ….
شاہ نے کال اٹھائ اور بنہ ناصر کی بات سنے بولنا شروع ہوگیا…..
ارے ناصر میری طبیعت بہت خراب ہے بعد میں بات کرتا ہو…
یہ.کہہ شاہ نے کال کٹ کہ اور سگنل گرین ہوتے ہی.گاڑی اگے بڑھادی ..جبکہ ناصر بے یقینی سی کیفیت میں گم شاہ.کی گاڑی کو جاتے ہوئے دیکھنے لگا ایک دم گاڑیوں کے ہارن سے وہ ہوش میں ایا اور گاڑی شاہ کی گاڑی کے پیچھے لگا دی..
¤¤¤¤¤¤
شاہمیر نے بی جن کو کال کرکے جب یہ بتایا کہ.شان اور ماہ.کی.دوست کے انے کی وجہ سے کام پورا نہ ہوسکا…یہ سنتے ہی بی جان کے کام پورا نہی ہوا یہ لڑکی پھر ہمارے ہاتھ بچ کے نکل گئ بی جان نے شاہمیر کو بہت سنائ…
مگر جو کچھ کیمرے میں ریکاڑد ہوا اس کی ڈیٹیل جب شاہمیر نے بی جان کو دی تو ان کا قہقہ شاہمیر کو موبائل سے باہر تک سنائ دیا……
بی.جان سے کال.کٹ کرکے شاہمیر باہر لانج پہ ایا اور صوفے پہ.دھم کرکے گرا کے جب اسکی نظر صوفے سے اگے رکھی ٹیبل پہ.رکھے ماہ.کے پرس پہ پڑی…
اس نے ماہ کا پرس اٹھایا اور کھول کے چیک کرنے لگا مگر جب اسکو ماہ کو موبائل.نہی.ملا تو وہ سمجھ گیا کہ.ماہ اپنا موبائل گھر چھوڑ کے ائ تھی ..یہ سوچتے ہی اس کے لبوں پہ ایک شیطانی مسکراہٹ اگئ کیونکہ جو بیہوشی کی دوا شاہمیر نے ماہ کو جوس میں ڈال.کے دی تھی اس وجہ سے ماہ.کو صبح تک.ہوش نہی. اناتھا اور ظاہر ہے بجتا ہوا فون گھر کا کوئ تو اٹھاتا اس لیہ اس نے اپنے موبائل سے ماہ.کے نمبر پہ.کال.کی
جو تین چار بیل کے بعد پک کرلی گئ….
¤¤¤¤¤
شاہ کی گاڑی ایک فلیٹ کے اگے روکی …شاہ کی گاڑی روکتے ہی ناصر نے شاہ سے تھوڑے فاصلے پہ.اپنی گاڑی روک دی …
شاہ تیزی سے گاڑی سے اترکے فلیٹ کے اندر داخل ہوا اور بد قسمتی سے فلیٹ کا دروازہ بند کرنا بھول گیا…..
ناصر کچھ دیر تک تو فلیٹ کے کھولے دروازے کو دیکھتا رہا مگر پھر یہ سوچ کے کہ ایسی کونسی وجہ ہے اس فلیٹ میں جسکی وجی سے شاہ.کو جھوٹ بولنا پڑا ناصر فلیٹ کے اندر داخل ہوگیا…..
¤¤¤¤¤¤¤
شان کی گاڑی آفریدی مینش کے اندر داخل ہوئ نازنیںن نے گاڑی سے اتر کے ماہ.کی طرف کا گیٹ کھول.کے اسکے بال اور ڈوپٹہ سیت کیا اور شان کو اشارہ.کیا تو..شان نے بہت ہچکچاہٹ کے ساتھ جھک کہ ماہ.کو باہنوں میں اٹھایا اور اندر داخل ہوگیا…
نازو اور زلیخا جو لانج میں ٹی وی دیکھ رہی تھے شان کو ایسے ماہ کو اٹھائے اندر اتا دیکھ دونوں اپنی جگہ سے کھڑی.ہوگئ ..ارے شان یہ ماہ.کو کیا ہوا ماہ کو اس حالت میں دیکھ کے زلیخا فورا رونے لگی …شان کا رخ ماہ.کے کمرے کی طرف تھا وہ سیدھا ماہ کے کمرے میں داخل ہوا تو پیچھے پیچھے وہ تینوں بھی داخل ہوئ…
اور زلیخا اور نازو دونوں نے ایک بار پھر شان سے پوچھا
..کیا ہوا ماہ کو اور یہ تو نازنین کے ساتھ مارکیٹ گئ تھی نہ تو اس حالت میں کیسے….؟؟؟؟
زلیخا اور نازو کے ایک دم سوال کرنےپہ جہاں شان پریشان ہوا وہی نازنین بول پڑی…
ارے آنٹی ہم لوگ جب مارکیٹ سے نکل کر کیب کرہے تھے تو دو موٹر سائیکل سوار نے ماہ سے پرس چھین لیا اور یہ اتنی معصوم کے فورا بیہوش ہوگئ مجھے کچھ سمجھ نہی ایا تو میں شان کو کال کرکے بولا لیا…
نازنین کے کمال کے جھوٹ پہ شان کا دل کیا اسے اوسکر سے نوازہ مگر افسوس وہ ایسا کر نہی پایا…
نازنین کی بات سن کے زلیخا ایک دم بول.پڑی..نازو جاؤ ڈاکٹر کو کال.کرو میری بچی کی حالت دیکھو …
ڈاکٹر کا سن کے شان اور نازنین دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا کہ جبھی نازنیںن بول پڑی…
ارے آنٹی ہم چیک اپ کراتے ہوئے لائے ہیں ماہ کا اپ بس ارام کرنے دیں اسے …
نازنیںن کے بولنے پہ نازو اور زلیخا دونوں نے ہاں میں گردن ہلائ اور کمرے سے باہر نکل گئ تو پیچھے پیچھے نازنین اور شان بھی کمرے سے نکلنے لگے کہ جبھی شان نے نازنیںن سے کہا…
good work mrs shah …
نازنیںن نے مسکرا کے انار کلی کے اسٹائل میں شان سے داد وصول کی .اور کمرے سے باہر نکل گئ لاسٹ میں شان نے جب دیکھا کہ نازنیںن کمرے سے تھوڑا دور چلی گئ…
تو شان دور کے ماہ.کے کمرے کہ اندر واپس ایا اور ماہ.کے ماتھے پہ.اپنے لب رکھے اور آہستہ سے اپنینگردن اوہر اٹھا کہ کہا…
thanks goodfor saving my life..
جاری.ہے…
