Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

[ ] ازلان تو نام.لیہ کے چلا گیا..مگر جہانگیر کا اگلے پل.کا سانس لینا مشکل ہوگیا. اس نے جیسے تیسے اپنا کام سمیٹا اور گاڑی کی چابی اٹھا کے تیزی سے آفس سے نکلا.وہ ابھی کچھ بھی سوچنا نہی چاہتا تھا جب تک وہ NJ group of company ka owner کو اپنی انکھوں سے نہ دیکھ لیہ ..وہ اپنی انکھوں سے دیکھ کے تسلی کرنا چاہتا
[ ] تھا.کہ کیاں واقعی اس کمپنی کا اونر
[ ] اسکا جگر اسکی جان حیدر تھا یہ پھر وہ.کوئ اور حیدر تھا کیونکہ ایک خالی.نام سے تو وہ نہی بول سکتا تھا کہ وہ.اسکا.حیدر ہے مگر اسکا دل اج گواہی دے رہا تھا کہ اسکے رب نے اج اس پہ رحم کردیا..مگر دماغ کہی نہ.کہی.دگمگا رہا تھا…وہ پورے راستے بس یہ دعا کرتا رہا کہ.اج اسکی تلاش ختم ہوجائے اس کمپنی کا اونر حیدر ہی ہو اور کوئ نہی بلکہ اسی کشمکش وہ کمپنی پہنچ گیا..کمپنی میں اینٹر ہوکے اسنے ریسیپشن پہ.بیٹھی لڑکی.سے اپنے اپکو انٹرودیوس کروایا….. لڑکی نے جہانگیر کو ویٹ کرنے کو کہا..
[ ] لڑکی نے جہانگیر کے سامنے حیدر کے کیبن.میں کال.کی…hellow sir ..JD copmy owner agye ہیں ..میٹنگ کے لیہ… اگے سے حیدر کی بات سن کر لڑکی نے.کہا..ok sir.اور کال کٹ کرکے. جہنگیر کو کہا….
[ ] سر اپ سامنے چلے جایئے حیدر سر کا کیبن سامنےہے .. جہانگیر لڑکی.کی بات سن کے اسکے بتائے ہوئے حیدر کے کیبن کی طرف چل پڑا وہ.کیبن کے پاس پہنچا تو شیشے کے اس پار لیپ ٹوپ پہ.مصروف کام.کرتے کمپنی.کے اونر کو دیکھ کہ.اسکی.انکھوں میں.انسو اگئے.اور ایک دلکش مسکراہٹ بھی کیونکہ وہ.کوئ اور نہی.بلکہ.اسکا یار حیدر تھا. جہناگیر نے بنا ڈھرک اپنے رب.کا شکریہ ادا کیا.اور آفس کا گیٹ خاموشی سے کھول کے اندر داخل ہوگیاجہانگیر نے اپنے دونوں ہاتھ
[ ] سینے پہ.باندھ کے دروازہ سے ٹیک لگا کہ صرف اتنا کہا..
[ ] “سالے میری بہن کا دیھان رکھا یہ نہی.
[ ] اور حیدر جو لیپ ٹوپ پہ اتنا مصروف تھا اس کو پتہ.ہی نہی چلا کہ.کوئ کب سے اسے دیکھ رہا ہے چونکاہ.وہ جب. جب برسوں بعد اسنے اپنے جگر اپنے یار کی اواز سنی..ایک منٹ کے لیہ اسکا پورا جسم.کانپا….
[ ] ااس نے.نگاہ اٹھا کے جب سامنے دیکھا
[ ] تو اسے لگا اج اسکا رب اس پہ.مہربان ہوگیا.جہانگیر ہونٹوں پی دلکش مسکراہٹ لیہ انکھوں میں انسو لیہ اسی.کو دیکھ رہا..
[ ] حیدر تیزی سے اٹھ کے اسکے پاس ایا اہستہ اہستہ اپنا ہاتھ بڑھایا جہانگیر کو چھونے کے لیہ یہ یقین کرنے کے لیہ کی سچ میں کیا یہ جہانگیر ہے تو جہانگیر نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے کھینچ کے اپنے سینے سے لگ لیا…
[ ] جہانگیر تو. تو مل گیا.. حیدر نے اسکے سینے سے روتے ہوئے کہا..بے یقینی سی کیفیت میں کہا
[ ] حیدر تو…. تو …کیسا ہے جہانگیر نے بھی روتے روتے حیدر سے پوچھا…….
[ ] دونوں ہی کتنی ہی دیر ایک دوسرے سے لگے رہے…
[ ] جہانگیر حیدر سے الگ ہوا اور کہا..
[ ] حیدر میری نور کیسی ہے.. تو کیسا ہی نعمان تو کہہہ رہا تھا ک ایکسڈنٹ
[ ] میں گاڑی پوری طرح تباہ.ہوگئ تھی اور تم دونوں بھی اسی میں اگے کی بات جہانگیر سے بولی نہی گئ.مگر اسٹریلیا میں ملے میرے دوست نے بتایا.کہ تو زندہ ہے اور دو سال پہلے کراچی شفٹ ہوگیا ہے.جب سے میں تیری تلاش میں ہوں…
[ ] حیدر نے اس کی کسی بات کا جواب نہی دیا بلکہ خاموشی سے اسے تکتا گیا…
[ ] بول نہ.ایسے گھور کیا رہا ہے..
[ ] اور حیدر نے سڑے ہوا منہ بنا کے بولا..
[ ] سالے تو اج بھی پہلے کی طرح ہینڈسم ہے..
[ ] حیدر کی بات سن کے جہاں جہنگیر کا قہقہ گونجا.وہی حیدر کرے لبوں پہ بھی مسکراہٹ اگئ..
[ ] بلکل.. تیرا شان بھی تو مجھ پہ گیا ہے..
[ ] مطلب نور اور میرا جو دل.کہہ رہا تھا
[ ] بلکل صحیح کہ رہ تھا کہ ازلان تیرا ہی بیٹا ہے.. حیدر نے بے یقینی سے کہا..
[ ] ہاں اور ماہ بھی.میری بیٹی ہے.. جہانگیر نے اسکی بات کا جواب دیا.
[ ] ہاں جب پہلی بار میں نے ماہ کو دیکھا تو ایک منٹ کے لیہ میں چونکا تھا کیونکہ ماہ بلکل زلیخا بھابھی کا عکس ہے..جہانگیر زلیخا بھابھی کیسی ہے..؟؟؟
[ ] ہمارے چلے جانے کے بعد حویلی میں کیا ہوا تھا.؟؟؟؟؟…
[ ] حیدر یہ ساری بات بعد میں پہلے مجھے نور سے ملوانے لیہ چل تجھے نہی پتہ میں کتنا بیچین رہا ہو.. اپنی گڑیا کے لیہ…
[ ] اچھا یعنی میں کبھی بھی یاد نہی ایا.حیدر نے روٹھتے ہوئے کہا..
[ ] تیری عورتوں کی طرح روٹھنے کی.عادت ابھی تک گئ نہی سالے
[ ] تجھے بھولتا تو یاد کرتا نہ …تجھے اندازہ نہہی حیدر تیری اور نور کی موت کی خبر جب نعمان نے مجھے دی تو دو دن تک.تو مجھے کچھ بھی ہوش نہی تھا….
[ ] اب بس کوئ سوال.نہی بس مجھے لیہ چل نور کے پاس….
[ ] ہاں چل اجا…
[ ] حیدر اور جہانگیر ایک ساتھ افس سے نکلے جہانگیر نے ڈرائیور کو کال کرکے گاڑی لیجانے کو کہہ دیا اور خود حیدر کی گاڑی میں اسکے گھر کے لیہ نکلا..
[ ] حیدر کا آفس اسکے گھر سے زیادہ دور نہی تھا اس لیہ وہ.لوگ تھوڑی دیر میں ہی حیدر کے گھر پہنچ گئے..گاڑی جب گیٹ کے اندر داخل ہوئ تو حیدر کا گھر دیکھ کے بنا جیجھک اسکے منہ سے ماشاءاللہ نکلا..
[ ] اور اسنے حیدر کو کہا..
[ ] سالے کافی پیسہ کمالیا تونے….جہانگیر کی بات پہ حیدر کا قہقہ گونجا.اور جب وہ.لوگ اندر داخل ہوئے تو اسے اندازہ ہوا کہ.واقعی وہ کوئ گھر نہی محل ہے..گھر کو اندر سے دیکھ کے ایک بار پھر حیدر نے ماشاءاللہ کہا..
[ ] حیدر میں بہت خوش ہو تجھے اس مقام پہ دیکھ کہ..
[ ] مگر جہانگیر تو اج میری خوشی کا اندازہ نہی لگاسکتا جو تجھ سے مل کے ہوئ یہ بول کی ایک بار پھر حیدر کی انکھیں بھیگ گئ..
[ ] تو روک میں نور کو بلاتا ہو یقیناً کچن میں ہوگی…
[ ] نہی حیدر تو مجھے بتا کچن کہا ہے میں خود ملونگا..
[ ] جہانگیر کی بات سن کے حیدر مسکرایا اورا سے کچن کا راستہ بتایا.
[ ] اور حیدر نے صحیح کہاتھا نور کچن میں ہی تھی ملازمہ کے ساتھ کچھ کام کروا رہی تھی.جاہنگیر نے جب نور کو دیکھا تو ایک بار پھر اسکی انکھوں سے انسو جاری ہوگئے..
[ ] جہانگیر کچن میں داخل.ہو اور کہا..
[ ] کیسی.ہے میری گڑیا…
[ ] اور نور جو کانچ کی پلیٹیں کیبنٹ میں رکھ رہی.تھی .برسوں بعد اپنے بھائ کی اواز سن کے ایک ساتھ اسکے ہاتھ سے پلیٹین چھوٹی اس کا ہاتھ بے ڈھڑک اسکے دل پہ گیا اسنے ڈھڑکتے دل کیساتھ جب پلٹ کے دیکھا تو جہانگیر کو سامنے دیکھ کےاسکی انکھوں سے انسو جاری ہوگئے اسنے اپنی اواز روکنے کے لیہ اپنے منہ پہ ہاتھ رکھا اور ڈورتی ہوئ اپنے بھائ کے سینے سے لگ گئ جہانگیر نے بھی اسے اہنے سینے میں بھیچ لیا. اور دروازہ پہ.کھڑے حیدر کی انکھوں سے ایک بار پھر انسو جاری ہوگئے..
[ ] نور دھیرے سے جہہانگیر سے الگ ہوئ..
[ ] اور کہا…
[ ] بھائ کیسے ہیں اپ بھابھی کیسی پیں گھر میں سب کیسے ہیں
[ ] اور نور کے سوالوں پہ جہانگیر کی ہنسی نکل گئ….ارے ارے نور پہلے مجھے تو اپنی بہن سے تھیک سے ملنے دو….
[ ] اس سے پہلے جہانگیر کچھ بولتا..
[ ] ارے انکل.اپ یہاں….
[ ] ہیچھے سے اتی شان کی اواز پہ وہ تینوں پلٹے جبکہ پری خاموشی سے جہانگیر کو دیکھنے لگی جو اسکے بھائ کی کاپی تھا.یہ اسکا بھائ جہانگیر..کا یہ بات وہ سمجھ نہی سکی.¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] پری اور شان یونی سے ائے تو بہت دیر تک.نور کے ساتھ بیٹھے رہے پری تو ماہ.اور شان کی تعریف کرکے نہی.تھک رہی تھی..شان کی انکھوں میں ماہ.کی تعریف پہ جو چمک تھی وہ نور سے چھپی نہی..
[ ] وہ دونوں نور کو کچھ کھانے کا بول کہ فریش ہونے اپنے کمرے میں گئے ہی تھے کہ ایک دم کچھ توٹنے کی.اواز پہ جہاں شان کمرے کے دروازے سے ہی کچن کی طرف بھاگا وہی پری بھی بھاگی..دونوں جب وہاں پہنچے تو اپنی ماما کو کسی ادمی کے گلے لگ کے روتے ہوئے دیکھ کے دونوں نے گھبرا کے ایک دوسرے کو دیکھا جبکہ پیچھے کھڑا حیدر بھی ان دونوں کو اتے دیکھ چکا.تھا.اس سے پہلے شان حیدر سے پوچھتا جہانگیر کے بارے میں اگے نور جہانگیر سے الگ ہوئ اور جب شان نے
[ ] جہانگیر کو دیکھ کہ اچانک اس کے منہ سے نکلا…..
[ ] ارے انکل اپ مگر ا…شان کے دل میں ابھرتے ہوئے سوال کو جہان جہانگیر سمجھا تھا وہی نور اور حیدر بھی سمجھ چکے تھے حیدر نے شان کو اگے کرکے جہانگیر کے سامنے کیا اور شان کو کہا..
[ ] تم نے پوچھا تھا نہ شان کے جب ازلان کے پاپا ہمارے ریلیٹف نہی تو میری شکل.اتنی ان سے کیسی مل سکتی ہے اس وقت تو بیٹا میںرے پاس اپکے سوال کا جواب نہی تھا مگر اج ہے..
[ ] یہ اپ کے ماموں ہیں سگے اپکی.ماما کے سگے بھائ. حیدر کے بولنے پہ.جہاں شان اور پری کو حیرانی ہوئ تھی وہی جہانگیر اور نور نے مسکرا کے حیدر کو دیکھا تھا..
[ ] اور ہاں شان یہ اپکے پاپا کے جگر جان سب کچھ ہیں یعنی اپکے پاپا.کے جگری.یار ہیں ایک.طریقے سے ان سے اپکا دوہرا رشتہ ہے ماما کی.طرف سے ماموں اور پاپا.کی طرف سے چاچو کا رشتہ ہے..
[ ] شان نے فلحال اپنے دل میں بہت سے ابھرتے ہوئے سوال کو دبایا اور جہانگیر کے گلے لگ گیا.. کہ جبھی جہانگیر نے شان کے پیچھے کھڑی پری کو دیکھا جو جہانگیر کو بہت دیر سے دیکھ رہی تھی..جہانگیر دھیرے سے شان سے الگ ہوا اور اہستہ سے چلتا ہوا پری کے پاس ایا اور پری کو غور سے دیکھنے لگا پھر کہا.اپ اپنے.ماموں +چاچو کے گلے نہی لگوگی…
[ ] پری نے پہلے گھبرا کے اپنی ماما کی طرف دیکھا تو نور نے مسکرا کے پری کو ہاں میں گردن ہلائ اور پری جیجھکتے ہوئے جہانگیر کے گلے لگ گئ..
[ ] جہانگیر نے دھیرے سے پری کو الگ کیا. جہانگیر نے. ایک ہاتھ پری.کے کندھے پہ.رکھا تو دوسرا شان کے کندھے پہ اور حیدر سے کہا…
[ ] دیکھ لیہ حیدر تیرے بچِے تیرے کم.میرے زیادہ لگتے ہیں….
[ ] اور جہانگیر کی بات پہ سب ک قہقہ گونجا….
[ ] وہ.لوگ سب لانج میں اکے بیٹھے جب نور نے جہانگیر سے پوچھا…
[ ] بھائ بابا جان اماں جان کیسے ہیں..
[x] ا
[x] ا
[ ] اور ذکوٹاجن کیسا ہے..(ڈوڈی)
[ ] بابا جان کی بات پہ جہانگیر ایک دم سنجیدہ ہوا اور کہا…
[ ] نور بابا جان اب ہم.میں نہی رہیے میرے حویلی پہنچنے سے پہلے ہی وہ منوں مٹی تلے جا سوئے تھے..
[ ] جہانگیر کی بات پہ نور کو سکتا طاری ہوگیا اور پھر نور کی چیخیں حیدر مینشن کی دیواریں ہلا گئ..
[ ] بھائ میری وجہ سے بابا جان کی جان گئ بھائ میںری وجہ سے…
[ ] نور کی چیخیں اور رونا دیکھ کے وہ سب بہت پریشان ہوگئے جبکہ پری تو بقاعدہ رونے لگی…
[ ] جہانگیر نے نور کو سنبھالا….
[ ] نہی میںری گڑیا نہی میری جان تم وجہ نہی ہو بابا جان کی.موت کے میری جان تم نہی ہو. ….
[ ] نہی بھائ میرے بابا میری وجہ سے اس دنیا سے گئے نہ میں اس رات حویلی سے جاتی نہ میرے بابا اس دنیا سے جاتے..نور نے روتے روتے جہانگیر کو بولا….
[ ] جہانگیر نے.مدر کے لیہ حیدر کہ طرف دیکھا حیدر نے اکے نور کو جہانگیر سے الگ کیا اور دھیرے سے نور کے کان کے پاس کہا..
[ ] نور سنبھالو خود کو دیکھو بچوں کو وہ بہت پریشان ہیں تمہارے رویہ سے..
[ ] حیدر کی سرگوشی پہ جب نور نے شان اور پری کی طرف دیکھا تو اسے احساس ہوا کہ وہ بچوں کو تو بھول ہی گئ..
[ ] نور نے پری کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہ ڈور کے نور کے گلے لگ نور نے نوٹ کیا.کہ وہ ہلکے.ہلکے کانپ رہی ہے.. نور نے شان کی طرف دیکھا تو وہ بھی.مسکرا کے نور کے گلے لگ گیا…
[ ] جہہانگیر نے ماحول کو.تھوڑا سنجیدگی سے ہٹانے کے لیہ کہا….
[ ] چلو بھئ شان اور پری ریڈی ہوجاؤ اپ لوگ ابھی میرے ساتھ اپنی نانی کے گھر چل رہے ہو وہاں اپکے ایک.اور ماموں اور ہیں اور دو کزن سے تو اپ مل چکے ہو اور تین کزن سے ملنا ابھی باقی ہے…
[ ] شان ایک دم بول پڑا…
[ ] لیکن ماما اپ تو ہمیشہ کہتی تھی.کی ہمارے ننھیال میں کوئ نہی تو اچانک یہ سب.. ؟؟؟
[ ] شان کے ایک دم سوال.کرنے پہ.نور اور حیدر کو بہت شرمندگی ہوئ. حیدر ہمیشہ نور کو کہتا تھا کہ بچوں سے کچھ مت چھپاؤ کبھی نہ کبھی تو یہ بات انکے سامنے آہی جائے گی کہ انکا ایک بھرا پورا ننھیال ہے..
[ ] اس سے پہلے حیدر جواب دیتا ..
[ ] جہانگیر بول پڑا…
[ ] شان اپکے سارے سوالوں کے جواب اپکو میں دونگا….
[ ] اوکے بڈی
[ ] ..شان کے بڈی بولنے جہاں نور اور شان چونکے وہی جہانگیر بھی چونکا اور شان سے پوچھا…
[ ] شان بڈی مطلب ؟؟
[ ] بھئ دیکھے اب اپ چاچو بھی ہہیں اور ماموں بھی تو اب الگ الگ تو میں بلا نہی سکتا اپکو اس لیہ ان دونوں رشتوں کو ملا.کے میں نے ایک.کردیا.مطلب بڈی یعنی سب کچھ..
[ ] شان کی وضاحت پہ سب کا قہقہ گونجا…کہ اتنے میں پری کی اواز ائ..
[ ] اور میں کیا بولاؤں اپکو پری نے معصومیت سے اپنے گال پہ انگلی رکھتے ہوئے کہا..
[ ] جہانگیر کو پری کی اس ادا پے ٹوٹ کے پیار ایا..اس نے اٹھ کے پری کے کندھے پہ.ہاتھ رکھا اور نور کو کہا..
[ ] نور….پری بلکل تمہارا عکس ہے یاد ہے تم بھی جب کنفیوز ہوتی تھی ایسی ہہ سوچتی تھی..
[ ] جہانگیر کی باتوں پہ.پری سمیت سب کے.لبوں پہ مسکراہٹ اگئ…
[ ] جہانگیر نے پری سے کہا.
[ ] تم بھی مجھے ڈودی اوہ میرا مطلب ہے دلاور کے بچوں کی طرح بڑے پاپا کہنا تھیک ہے.
[ ] پری نے جہانگیر .سے پوچھا..
[ ] بڑے پاپا دلاور انکل کون ہیں؟؟
[ ] اور جہانگیر کے بجائے نور نے جواب دیا..
[ ] پری اپکے چھوٹے ماموں..
[ ] یاں یہ تھیک ہے بڑے پاپا..پری کے بولنے پہ سب مسکراگئے..
[ ] چلو اب اپ جلدی سے ریڈی ہوجاؤ اور ہاں دو تین ایکسٹڑا سوٹ بھی رکھ لینا کیونکہ اب اپ لوگوں کو اتنی جلدی وہاں سے کوئ انے نہی دیگا…
[ ] جہانگیر کے بولنے شان اور پری تو ریڈی ہونے چلے گئے.
[ ] جبکہ جہانگیر کے سامبے نور اور حیدر شرمندہ سے کھٰڑے تھے.
[ ] اور جہانگیر سمجھ گیا..کہ.یہ دونوں کیوں شرمندہ ہیں.
[ ] یار اب تم دونوں کو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہی میں سمجھ سکتا ہو بچوں سے یہ سب چھپانے کی وجہ..جہانگیر کے بولنے پہ نور تو ریلکس ہوگئ.جبکہ حیدر نے مشکور نظروں سے جہانگیر کو دیکھا جس نے مسکرا کے یہ ثابت کردیا..کہ بھلے دوستی میں دوریاں برسوں کی ہو.مگر جو دل.میں بستے ہیں وہ بن بولے بھی ایک دوسرے کا حال سمجھ جاتے ہیں..
[ ] وہ.لوگ بچوں.کا ویٹ کررہے تھے کہ نور بھی اندر اپنا کچھ سامان لینے چلی گئ..
[ ] جب اچانک کچھ یاد نے انے پہ جہانگیر نے زلیخا.کو کال کی
[ ] زلیخا.کی.کال اٹھاتے ہی جہانگیر نے حیدر کو انکھ مارتے ہوئے کہا..
[ ] کیا کررہی ہے میںری جان.
[ ] جہانگیر کی بات سن کے …
[ ] حیدر نے ہنستے ہوئے نفی میں سر ہلایا اور ہلکی سی اواز میں سرگوشی کی..
[ ] تو نہی سدھرےگا..
[ ] زلیخا نے جہانگیر کو کہا..
[ ] کچھ نہی جہانگیر شام میں اپنے ڈنر پہ جانے کو کہ تھا نہ اسی کے لیہ ڈریس دیکھ رہی تھی..
[ ] زلیخا نے مصروف سے انداز میں جوب دیا…
[ ] ارے جان اصل میں اج میرے ساتھ میرے کچھ گیسٹ اراہے ہیں تو اج کا ڈنر تو کینسل سمجھو. اور ہاں اج اچھے سے ڈنر کا اہتمام کرلو…
[ ] جہانگیر کی بات سن کے زلیخا نے اپنا ڈریس سلیکٹ کرنے کا کام.ترک کیا.. اور جہانگیر کو بولا…
[ ] جہانگیر کونسے گیسٹ اراہے ہیں..
[ ] بس جان ہیں کچھ اسپیشل اور ہاں تمہارے لیہ اج ایک بہت بڑا سرپرائز بھی ہے…
[ ] یہ بول کے جہانگیر نے بنا زلیخا کی بات سنے لائن کاٹ دی…
[ ] جبکہ ادھر زلیخا فورا نازو کے روم کی طرف گئ اس سے ڈنر کا بولنے…..
[ ] جاری ہے…