Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 34 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 34 Part 1
[ ] قسط نمبر 34 (پارٹ ون)#
[ ] نازنین کے جانے کے بعد ماہ رونے لگی…ناصر اور شاہ نے شان.کو اشارہ کیا… تو اس نے ماہ کے.کندھے پہ.ہاتھ رکھا ہی تھا..کہ ماہ نے جھٹکے سے اسکا.ہاتھ ہتایا……
[ ] شان نے شرمندگی سے اپنے لب کاٹے اور کہا..
[ ] ماہ سب ٹھیک ہوجائے گا..شان کا ایسا بولنا تھا..کہ ماہ پھٹ پڑی
[ ] shut up.just shut up
[ ] صحیح کہہ کے گئ ہے وہ میں اسکی دوستی کے قابل نہی کسی کل کی دوستی کے پیچھے میں نے اسکا اعتبار توڑا ہے..میں نے کہا تھا تم لوگوں سے نازنین کو میں تم لوگوں سے زیادہ بہتر جانتی ہو اسکو دھوکہ
[ ] برداشت نہی.مجھے تم لوگوں کی بات ماننی ہی نہی چاہیے تھی…
[ ] یہ بول.کے ماہ جانے لگی مگر شاہ کے پاس رک کے اسکو کہا…
[ ] نیت بھلے تمہاری صاف ہو شاہ مگر انداز تمہارا غلط تھا… تم نازنین سے اگر محبت کرتے ہو تو اسکے چہرے پہ مسکراہٹ لاو اسے اپنی محبت کا اعتبار دلاؤ اسکا یہ شک دور کرو کہ تم نے اسکے دوست اس سے نہی چھینے. یہ بول کہ ماہ ایک دم شان کی طرف پلٹی اور کہا…اگر مجھ سے میری دوست دور ہوئ نہ شان تو بھول جانا ہماری دوستی کو بھی..کیونکہ نازنین پہ ایسے ہزاروں دوست قربان….
[ ] یہ بول کے ماہ کلاس سے ہی نہی یونی سے ہی نکل گئ…..
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ماہ کے جاتے ہی ناصر نے کہا… شاہ کچھ کر یار ایسا نہ ہو تو محبت کے چکر میں سب ہار جائے… شاہ نے ان دونوں کو دیکھا اور کہا….
[ ] اب تم دیکھتے جاؤ اگر اس بلبٹوڑی کے ہوش ٹھکانے نہ لگائے تو کہنا بس نکاح ہونے دو یار جہاں اب تک تم دونوں میرا ساتھ دیتے ائے ہو پلیز نکاح تک بھی دے دو…شاہ نے اتنا بول کہ اپنا سر جھکایا..تو شان اور ناصر دونوں نے اگے بڑھ کے اس کے گلے لگ گئے….. ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ماہ گھر پہنچی تو نازو اور زلیخا لانج میں ہی بیٹھی تھی ماہ کے جلدی انے پہ دونوں ہی پریشان ہوئئ..ماہ لانج میں اکے صوفے پہ بیٹھتے ہی رونے لگی. اور اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرا لیا…
[ ] نازو اور زلیخا نے جب ماہ کو یو روتے دیکھا تو دونوں گھبراتی ہوئ ماہ تک پہنچی..
[ ] زلیخا نے اگے بڑھ کر ماہ کو گلے سے لگایا اور کہا…
[ ] ماہ میںری جان کیا ہوا کیوں رو رہی ہو خدا کے لیہ بتاؤ تو صحیح ہوا کیا ہے…؟؟؟؟؟؟
[ ] زلیخا کے پوچھتے ہی ماہ کے رونے میں اور روانگی اگئ…ماہ کو یو روتا دیکھ کہ نازو تو بہت گھبرا گئ جبکہ زلیخا تو باقاعدہ رونے لگی…
[ ] نازو نے ماہ سے کہا….
[ ] ماہ بیٹا ہوا کیا ہے کچھ تو بولو دیکھو بھابھی بھی رورہی ہہیں..
[ ] نازو کی بات پہ ماہ زلیخا سے الگ ہوئ تو دیکھا وہ بھی رو رہی تھی ماہ نے اگے بڑھ کے زلیخا کے انسو صاف کیہ اور کہا..
[ ] مما اج سب کچھ ختم ہوگیا..!!!!!!!!!!
[ ] ماہ ہوا کیا ہے بتاؤ تو صحیح نازو کے تھوڑے روب سے بولنے پہ ماہ نےنازو اور زلیخا کو نازنین کے گھر سے لے کے یونی تک اور کل رات اپنے گھر میں ہوئ ساری بات بتا گئ….
[ ] اور پھر رونے لگی…
[ ] نازو نے ایک گہری سانس لی اور کہا….
[ ] ماہ شاہ کا طریقہ غلط ہے مگر نیت ٹھیک ہے ایک طریقہ سے دیکھا جائے تو نہ شاہ غلط ہے نہ نازنین تم کچھ وقت کے لیہ نازنین کو اسکے حال پہ.چھوڑ دو مجھے پتہ ہے مشکل ہے مگر اس کا اب یہی حل ہے…
[ ] ماہ نازو ٹھیک کہہ رہی ہے زلیخا نے بھی نازو کی بات کو سراہا…..
[ ] ماہ.کچھ سوچتی ہوئ وہآں سے اٹھی اور اپنے کمرے کی طرف چل پڑی……
[ ] نازو اور زلیخا کی نگاہوں نے دورتک اسکا پیچھا کیا ……..
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤ شان گھر ایا تو گھر میں جہانگیر کو دیکھ خوش ہوا اور سلام کرکے اس کے گلے لگ گیا…جہانگیر سے ملنے کے بعد شان پھر کسی گہری سوچ میں گم.ہوگیا..شان کو یو سوچتا دیکھ.. کے حیدر اور جہانگیر جو کسی بزنس کے ٹوپک پہ بات کررہے تھے.. دونوں نے شان کی خاموشی نوٹ کی..
[ ] کہ جبھی جہانگیر پوچھ بیٹھا…..
[ ] کیا بات ہے شان کیا کوئ مسئلہ ہے بہت پریشان لگ رہے…؟؟؟
[ ] جہانگیر کے پوچھنے پہ شان نے سب کچھ جہانگیر اور حیدر کو بتا دیا.اس دوران پری اور نور بھی اگئ تھی انہوں نے بھی شان کی پوری بات سنی…پوری بات سننے کے بعد جہانگیر نے کہا..
[ ] ….
[ ] شان اگر دیکھا جائے تو غلط کوئ بھی نہی ہاں میں نازنین کہ حمایت میں یو بولنگا کہ میں نے نازنین اور ماہ.کہ دوستی دیکھی ہے نازنین کو اتنا دکھ تمہیں اور ناصر کو شاہ کے ساتھ دیکھ کے نہی ہوا ہوگا جتنا ماہ.کے سب چھپانے پہ ہوا ہوگا اور اسکا ایسا ریکٹ کرنا بنتا ہے کیونکہ اسکا اعتبار ماہ نے توڑا ہے تو اتنا تو غصہ کرنے کا حق ہے اسکو ..اور رہا سوال نازنین کا یہ.کہنا کہ وہ دوست نہی تم لوگوں کی تو ایسا کچھ نہی ہے ابھی ازلان کی شادی کے ہنگامے اسٹارٹ ہونگے تو دیکھنا جب تم لوگ سب ایک ساتھ ہوگے تو زیادہ دیر وہ تم لوگوں سے دور نہی رہ پائِے گی….
[ ] جہانگیر کی بات پہ شان کو تھوڑا سکون ہوا…ابھی وہ.لوگ بیٹھے بات کرہے تھے کہ نعمان اور نیلم شاہ کے نکاح کا دعوت نامہ لے کے اگئے…
[ ] سب نے نعمان.کو مبارک باد دی تو جہانگیر بول پڑا..اس خوش فہمی میں مت رہنا کہ میں تیری دعوت یہی حیدر کے گھر قبول کرلونگا..!!!!
[ ] جہانگیر کی بات پہ سب ہنس پڑے کے جبھی نیلم بول پڑی…..
[ ] ارے جہانگیر بھائ اپ بے فکر ہوجائے.ابھی تو نعمان مجھے یہاں سے گھر ڈراپ کرینگے تو پھر میں شاہ.کے ساتھ ناصر اور اپکے گھر اؤنگی…
[ ] نیلم کی بات پہ جہانگیر نے مسکرا کے کہا..
[ ] کوئ بھی.کام ہو نعمان تو بلاجھجھک کہنا..
[ ] ہاں یار یہ بھی کوئ بولنے کی بات ہے…
[ ] ابھی وہ.لوگ چپ.ہی ہوئے تھے کہ نور نے نیلم سے کہا…
[ ] بھابھی نازنین کا ڈریس لے لیا اپنے نکاح کا..؟؟؟؟؟
[ ] نہی نور میں نے کال کی تھی نازنین کو کہا تھا کے ساتھ چلے مگر اس نے کہا انٹی جو اپکو اچھا لگے اپ لے ائیےگا…..
[ ] چلو بھابھی یہ بھی اچھا ہے مگر نازنین ہے بہت پیاری بچی عادت بھی اسکی بہت اچھی ہے سب میں بہت جلدی گھل مل جاتی ہے……
[ ] ہاں نور یہ تو تم ٹھیک کہ رہی ہو….
[ ] تھوڑی دیر وہ.لوگ بیٹھ کے چلے گئے تو جہانگیر بھی جانے کو کھڑا ہوا کہ جبھی پری بول پڑی…
[ ] ماموں ازلان بھائ کی شادی کی ساری شاپنگ اپ ہی مجھے کرائنگے..
[ ] پری کی بات پہ.جاہنگیر کھل کے مسکرایا اور اگے بھر کے پری کے سر پہ پیار کیا..اور کہا….
[ ] ہاں میری گڑیا کیوں نہی جو میری گڑیا بولے گی وہی.ہوگا خوش جہانگیر کے بولنے.پہ پری مسکرا گئ اور اٹھ کے جہانگیر کے گلے لگ گئ. ..
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ناصر گھر ایا تو جمال اسے لان میں ہی مل گئے.. جو فون پہ کسی سے بات کررہے تھے ناصر نے انہیں سلام کیا اور جیسی ہی اندر بڑھنے لگا تو جمال نے اسے اواز دے کہ روکا اور کہا..
[ ] کبھی باپ کے پاس بھی بیٹھ جایا کرو دو گھڑی اسکے ساتھ بھی وقت گزار لیا کرو…جمال کی بات پہ ناصر انکے قریب ایا اور کہا..
[ ] بابا جس دن اپ کے.پاس میںرے لیہ وقت ہوگا اس دن میںرا سارا وقت اپکا….یہ بول کہ ناصر اندر بڑھ گیا جمال نے ایک بھر پور نظر اسکی پشت پہ ڈالی اور اسکے ہیچھے اندر بڑھ گیا….
[ ] ناصر ابھی اپنے کمرے میں جاکے بیٹھا ہی تھا کہ پیچھے سے لائبہ اگئ..لائبہ کے اتے ہی ناصر ایک جھٹکے سے اٹھا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر ارام ارام سے اسے چلا کے بیڈ تک لایا..
[ ] اور کہا……
[ ] ماما اپکو کوئ کام تھا مجھے اواز دے لیتی اپکو اوپر چڑھنے میں پروبلم ہوتی….
[ ] لائبہ نے پیار سے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرا اور کہا..
[ ] میں اپنے بیٹے کے لیہ اتنا کرسکتی ہو ایک تم ہی تو میرے جینے کی وجہ ہو ورنہ….. یہ بول کہ.لائبہ.کی.انکھیں بھیگنے لگی تو ناصر نے انکی انکھیں صاف کی اور اسکی گودھ میں سر رکھ کے لیٹ گیا..
[ ] لائبہ نے مسکرا کے اسکے سر پی ہاتھ پھیرا اور کہا.
[ ] ناصر اب تم.بھی شادی کرلو بیٹا میری بیٹی اجائے گی نہ تو میری ساری تنہایاں ختم ہوجائے گی.. ناصر تمہیں کوئ پسند ہے تو بتاؤ ورنہ.میں ڈھونڈو کوئ…..
[ ] لائبہ کی بات پہ ناصر کے سامنے چھن سے پری کا چہرہ ایا تو اسکے لبوں پہ.ایک دلفریب مسکراہٹ اگئ…
[ ] ناصر کو مسکراتا دیکھ کہ لایبہ نے پوچھا…
[ ] تو کب مل وارہے ہو مجھے میری.بہو سے لائبہ.کے بولنے پہ ناصر نے چونک کے لائبہ کو دیکھا اور کہا..
[ ] مما اپکو کیسے پتہ…. ؟؟؟؟
[ ] میرے بیٹے کی مسکراہٹ نے سب بتا دیا. مجھے اب بتاو کب مل وا رہے ہو.. ؟؟؟
[ ] امئ.بہت جلد.. بس دعا کرے میں اسے اپنے دل کی. بات اس تک پہنچا دو…
[ ] امین یہ تو بتاو ہے کون..؟؟؟
[ ] ماما شان کی بہن اور حیدر انکل.کی بیٹی پریشے…..
[ ] ناصر کی بات سن کے لائبہ دل.کھول کے مسکرائ جبکہ کے کمرے کے باہر کھڑے جمال کے لبوں پہ ناصر اور لائبہ کی بات سن کے ایک شیطانی مسکراہٹ اگئ…
[ ] !!!!!؟؟!!!!!!!!!!!!!!!!!¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] اج کا دن نیلم.اور شاہ کا دعوت دینے میں نکل گیا ..پہلے اپنے چند رشتہ داروں کے گھر نکاح کی دعوت دے کے اخر میں نیلم نے ناصر اور جہانگیر کے گھر..دعوت دی.¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] نکاح میں ایک دن بچا تھا شان اور ناصر نے نکاح کے ہر انتظام میں حامد اور نعمان.کا بھر پور ساتھ دیا تو ادھر ماہ نے بھی ہر ممکن کوشش کی نازنین سے بات کرنے کی مگر نازنین نے اپنی چپ نہی توڑی…
[x]
[ ] اللہ.اللہ.کرکے نکاح کا بھی دن ان پہنچا نازنین کو ماہ ہی پالر لے کے گئ مگر وہاں بھی نازنین نے اپنی خاموشی.نہی توڑی..
[ ] نازنین کے نکاح کا ڈریس شاہ کی پسند کا تھا..
[ ] ریڈ بلڈ کلر کے شرارے میں برائیڈل میک اپ کیساتھ اور ناک کی.نتھ پہنے اج نازنین کی.چھاپ ہہ نرالی تھی تو ادھر ماہ نے لائٹ اورنج کلر کے فش لہنگے کے کیساتھ ہلکا سا میک اپ کیہ وہ بھی بھی کسی سے کم نہی لگ رہی تھی..
[ ] شان نے ہی ان دونوں کو پالر سے پک کیا ماہ کو دیکھ کے شان کی ڈھرکنے جیسے تھم سی گئ مگر اسکے برابر میں بیٹھی نازنین کو دیکھ کہ ایک بار پھر شان کو افسوس ہوا جو گاڑی میں ایسی بیٹھی تھی جیسے کسی کو جانتی نہی ہو جبکہ شان نے اسے کئ بار مخاطب کیا مگر نازنین نے اسکی.کسی بات کا جواب نہی دیا..
[ ] وہ.لوگ حال پہنچے تو شاہ.کی فیملی اچکی تھی جبکی ناصر ابھی تک نہی ایا تھا.
[ ] شاہ نے اج وائٹ قمیز شلوار کے اوپر نازنین کے شرارے کے کلر کی ہم رنگ واسکٹ پہنی تھی..
[ ] جبکہ شان نے اج وائٹ چوری ڈار پاجامہ اور بلیک کوٹ پہنا تھا..
[ ] نازنین کو ڈریسنگ روم میں بیٹھایا گیا..
[ ] نازنین سے اکے باری باری سب ملے جبکہ پری شکوہ کیے بنا نہ رہ سکی…
[ ] نازنین اپی اپنے مہندی نہی لگوائ…
[ ] نازنین نے پری کی بات پہ صرف اتنا کہا..
[ ] نہی جان مجھے مہندی پسند نہی..جبکہ نازنین کے جواب پہ.ماہ نے کرب سے اپنی.انکھین بند کی کیونکہ ماہ.یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ نازنین کو مہندی بہت پسند یے.
[ ]
[ ] ناصر اپنی ماما کے ساتھ حال میں ایا تو اسے گیٹ پہ.ہی شاہ کی.ماما مل گئ ان سے ملنے کے بعد ناصر جب لائبہ کو لیہ کے اگِے بڑھا.. تو لائبہ نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور اسٹیج کی طرف کھڑے نعمان کی طرف دیوانہ وار بڑھتی چلی گئ…
[ ] ……
[ ] جاری ہے.
